Kala Jadu | Last Episode

1501
کمینہ صفت بھوریا چرن جو یقیناً ان لوگوں کو ہماری راہ پر لے آیا تھا۔ اس نے ابھی تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ میں گاڑی سے نیچے اتر آیا اور میں نے سرگوشی کے انداز میں پورنی سے پوچھا۔
’’اس کے ساتھ جو افراد ہیں، کیا وہ اس کے جادو کے زیراثر ہیں؟‘‘
’’نہیں سوامی! نہیں پرم پردھانی… یہ سیدھے سادے دیہاتی لوگ ہیں جنہیں بھوریا چرن آپ کے سامنے لے آیا ہے۔‘‘
’’تو پھر ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کر جو تو نے دوسروں کے ساتھ کیا تھا۔‘‘
’’پرم پردھانی، شنکھا ان کا ساتھی ہے۔‘‘ پورنی نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’اسے میں دیکھے لیتا ہوں۔‘‘ میں نے ایک پتھر اٹھایا اور اس پر کلام الہیٰ کی آیات پڑھ کر اسے پوری قوت سے بھوریا چرن کے سر پر دے مارا۔ پتھر اس کی پیشانی پر پڑا اور اس کی پیشانی پھٹ گئی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر چکرانے لگا اور میں اس کی جانب جھپٹا۔ میں نے عقب سے اس کی بغلوں میں ہاتھ دے کر گردن پر جما دیئے اور اسے پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔ ادھر وہ جو بھوریا چرن کے ساتھ آئے تھے، اچانک ہی اپنی بینائی کھو بیٹھے تھے اور اس بات سے ہکابکا رہ گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے بھی آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یونہی اپنی جگہ کھڑے آنکھیں پھاڑتے رہے۔ میں نے بھوریا چرن کو بری طرح زمین سے رگڑ دیا تھا اور اس کے حلق سے غراہٹیں نکل رہی تھیں لیکن پھر اچانک ہی وہ میرے بازوئوں کی گرفت میں تحلیل ہوگیا۔ ایک دم سے اس کا بدن چھوٹا ہوا اور میری گرفت اس پر قائم نہ رہ سکی۔ پھر میں نے ایک پیلی مکڑی کو برق رفتاری سے ایک سمت بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ظاہری بات ہے بھوریا چرن تھا۔ میں نے چھوٹے چھوٹے پتھر اٹھائے اور مکڑی کا نشانہ لینے کی کوشش کی لیکن بھوریا چرن کو ایک جگہ چھپنے کا موقع مل گیا۔ ایک درز میں گھس کر وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تھا لیکن زمین پر میں نے ننھے ننھے خون کے دھبے دیکھے تھے۔ وہ زخمی ہوگیا تھا۔ وہ لوگ جو اندھے ہوگئے تھے، اب ایک دوسرے کو ٹٹول رہے تھے اور ان کے حلق سے ڈری ڈری آوازیں نکل رہی تھیں۔ میں نے فیضان کو اشارہ کیا۔ یہ انوکھی لڑائی فیضان کیلئے بھی باعث حیرت تھی۔ بہرحال وہ راستہ کاٹ کر گاڑی آگے نکال لے گیا اور ہم اس خطرے سے بھی دور ہوگئے۔ دن اور رات ایک عجیب زندگی تھی۔ خوف و دہشت میں ڈوبی ہوئی راتوں کو اگر آبادیوں کے قریب ہوتے تو آبادیوں سے چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیتیں، اللہ اکبر کے نعرے گونجتے۔ ہندو، مسلمان ایک دوسرے سے نبردآزما ہوتے۔ کہیں جے جے کار ہوتی اور کہیں اللہ کا نام لیا جاتا لیکن پورے ہندوستان میں پھیلی ہوئی فسادات کی آگ کو بھلا مجھ جیسا آدمی کیا روک سکتا تھا۔ ہم تو صرف اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ رہے تھے۔ راستے میں طرح طرح کے کام ہوتے رہے۔ کھانے پینے کی اشیاء بھی حاصل ہوگئیں اور تھوڑا بہت پیٹرول بھی جو گاڑی کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہورہا تھا اور اس کے بعد اچانک ہی جب میں نے صورت حال کا تجزیہ کیا تو پتا چلا کہ میں اپنے آبائی شہر سے بالکل قریب ہوں۔ قدم رک گئے تھے، بدن کی قوتیں ساتھ چھوڑ گئی تھیں۔ دل و دماغ میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ تھوڑے ہی فاصلے پر ہاں! تھوڑے ہی فاصلے پر پیر پھاگن کا مزار پاک تھا۔ میری بچپن کی کہانی پھر سے میری آنکھوں میں تازہ ہوگئی تھی۔
نجانے کتنے عرصے کے بعد اس سمت آیا تھا۔ یہ راستے حالانکہ کبھی اس طرح جانے پہچانے تھے کہ آنکھیں بند کرکے چھوڑ دیا جائے تو میں اپنی منزل پر پہنچ جائوں لیکن اب سیکڑوں تبدیلیاں ہوچکی تھیں۔ یہاں بھی فسادات ہو رہےتھے۔ پیر پھاگن سے بچپن سے عقیدت تھی۔ میں نے شمسہ سے کہا۔
’’شمسہ! پہچانیں اس جگہ کو…‘‘
’’نہیں بھیا! کون سی جگہ ہے؟‘‘
’’ہمارا گھر ہے۔ شمسہ ہمارا شہر ہے۔ وہ دیکھو بلندی پر تمہیں پیر پھاگن کا جھنڈا نظر آرہا ہے؟‘‘ شمسہ سکتے میں رہ گئی۔ آنسو تو اس کی آنکھوں سے نکل پڑنے کیلئے بے قرار رہتے تھے۔ میرے مل جانے کے بعد ماں، باپ اور بھائی کی یاد ایسی تازہ ہوئی تھی کہ جب بھی اس پر نظر پڑتی، اسے روتے ہوئے پاتا۔ شمسہ کا بدن ہولے ہولے کانپنے لگا۔ کہنے لگی۔
’’بھیا! اپنے گھر میں جھانک لیں، ہوسکتا ہے امی اور ابو وہیں رہتے ہوں۔‘‘
’’نہیں شمسہ… اب بھلا ان کے یہاں موجود رہنے کے کیا امکانات ہوسکتے ہیں۔ ہاں اگر تیرا جی چاہے تو آ پیر پھاگن کے مزار پر چلتے ہیں، فاتحہ خوانی کریں گے اور ان سے مدد کی درخواست کریں گے۔‘‘ شمسہ تیار ہوگئی۔ فیضان اور اکرام کو بھی میں نے یہ بتا دیا تھا کہ یہ میرا آبائی شہر ہے اور وہ لوگ بھی بہت متاثر ہوئے تھے۔ پیر پھاگن کا مزار پاک اسی طرح سبز رنگ، سینہ تانے پہاڑی پر ایستادہ تھا۔ ہم لوگ آگے بڑھنے لگے اور پھر اس وقت جب میں بڑی عقیدت کے عالم میں شمسہ کے ساتھ پیر پھاگن کے مزار کی سیڑھیوں کی جانب جارہا تھا کہ میں نے ایک سمت بھوریا چرن کو دھونی رمائے دیکھا۔ سامنے چھوٹی چھوٹی لکڑیاں سلگ رہی تھیں، ان میں کوئی خوشبو ڈال رہا تھا کمبخت جوگی۔ سرگھٹا ہوا تھا، پیشانی پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اپنی مکروہ شخصیت کو وہ پیر پھاگن سے زیادہ دور نہیں کرسکا تھا اور یقینی طور پر کسی ایسے عمل کے چکر میں تھا جس سے اسے کھنڈولا بننے کا موقع مل جائے۔ اسے دیکھ کر ایک بار پھر میرے بدن میں چنگاریاں دوڑ گئیں۔ میں نے خلوص دل سے اللہ سے دعا کی کہ اس موذی مخلوق کے خاتمے میں میری مدد کی جائے۔ پیر پھاگن سے کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں جس شخص نے میری زندگی کا رخ اس طرح تبدیل کیا ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا ہے، وہیں اس کا انجام بھی ہو۔ یہ تمام احساسات دل میں لئے میں آہستہ آہستہ بھوریا چرن کے سامنے پہنچ گیا۔ اسے شاید میری آمد کا علم نہیں ہوسکا تھا۔ پھر میں نے اس کے سامنے پڑی ہوئی لکڑیوں میں سے ایک جلتی ہوئی لکڑی اٹھائی اور اسی وقت وہ بری طرح چونک پڑا۔ مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف و دہشت سے پھیل چکی تھیں۔ وہ ایک دم سے پیچھے ہٹا تو چت گر پڑا لیکن پھر اس نے الٹی قلابازی کھائی اور میں نے جلتی ہوئی لکڑی اس کے چہرے پر دے ماری۔ بھوریا چرن کی دلدوز چیخ ابھری تھی۔ اس نے پیچھے ہٹ کر اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
’’تو آگئے تم میاں جی۔ یاد ہے یہ جگہ، یہیں سے ہماری تمہاری جنگ شروع ہوئی تھی اور آج یہیں تمہارے پیر پھگنوا کے چرنوں میں تمہارا انت ہوجائے گا۔ آج نہیں چھوڑوں گا میاں جی! آج نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ دفعتاً ہی مجھے اپنے سینے کے پاس ایک وزن سا محسوس ہوا اور یہ وزن اس خنجر کا تھا جو مجھے عطا کیا گیا تھا۔ میں نے خنجر نکال کر ہاتھ میں لے لیا تھا۔ بھوریا چرن نے گہری نگاہوں سے خنجر کو دیکھا اور دفعتاً ہی اس کے چہرے پر پھر تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ غالباً اسے کسی خطرے کا احساس ہوگیا تھا۔ اس نے ایک دم الٹی چھلانگ لگائی لیکن یہ چھلانگ پیر پھاگن کے مزار کی سیڑھیوں کی جانب تھی۔ راستہ بھول گیا تھا۔ وہ صحیح راستے کا انتخاب نہیں کرسکا تھا۔ میں دونوں ہاتھ پھیلائے اس پر جھپٹا، باقی لوگ حیران نگاہوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ بھوریا چرن زور سے چیخا۔
’’ارے بچائو… ارے بچائو۔ یہ مُسلّہ مجھے مار رہا ہے۔ ہندو ہوں، میں ہندو ہوں۔ ارے ہندو جاتی کے لوگو! بچائو مجھے، بچائو۔‘‘ لیکن شاید یہاں کوئی ہندو موجود نہیں تھا یا پھر اس کی آواز نہیں سنی جارہی تھی۔ وہ سیڑھیوں کے قریب پہنچ گیا اور دفعتاً ہی اسے عقب سے ٹھوکر لگی۔ سیڑھیاں اس کے راستے میں مزاحم ہوگئی تھیں۔ وہ نیچےگر پڑا اور اسی لمحے میں اس پر چھا گیا۔ میں نے خنجر بلند کرکے اس کے پہلو میں بھونک دیا اور اس کی زبان کوئی ڈیڑھ فٹ باہر نکل آئی۔ اس نے زبان سے میرے چہرے کو چاٹنے کی کوشش کی لیکن میں نے پیچھے ہٹ کر دوسرا وار پھر اس کے سینے پر کیا۔ اس بار اس کی آنکھیں اپنے حلقوں سے کوئی دو یا تین فٹ باہر نکلیں اور ربر کی طرح کھنچ کر واپس اپنی جگہ پہنچ گئیں۔ میں دیوانہ وار اس پر حملے کررہا تھا اور میرا خنجر باربار بلند ہوکر اس کے جسم کے مختلف حصوں میں پیوست ہورہا تھا۔ قرب و جوار میں کچھ لوگ موجود تھے جو دوڑ دوڑ کر ہمارے گرد جمع ہوگئے تھے لیکن میں سب سے بے خبر اپنے کام میں مصروف تھا اور میں نے بھوریا چرن کی گردن اس کے شانوں سے علیحدہ کردی۔ اس کی چوٹی پکڑ کر میں نے گردن کاٹی اور ایک طرف اچھال دی۔ پھر اس کی بغل کے پاس سے ایک بازو کاٹا۔ خنجر انتہائی شاندار طریقے سے اپنا کام سرانجام دے رہا تھا۔ کچھ لوگ تو یہ ہولناک منظر دیکھ کر وہاں سے فرار ہی ہوگئے تھے۔ بھوریاچرن کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے میں نے انہیں قرب و جوار میں پھینک دیا۔ پھر اچانک ہی ایک گڑگڑاہٹ سی محسوس ہوئی اور میں نے دیکھا کہ جہاں جہاں اس کے جسم کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، وہاں زمین میں گڑھا ہوتا جارہا تھا۔ پتھر چٹخ رہے تھے، اپنی جگہ چھوڑ رہے تھے۔ میں کئی قدم پیچھے ہٹ گیا۔ پھر ایک بڑا سا گڑھا وہاں نمودار ہوا اور بھوریا چرن کا مردود جسم اس گڑھے میں اُترتا چلا گیا تھا۔ میرے دانت بھنچے ہوئے تھے، آنکھیں شدت غضب سے سرخ ہورہی تھیں۔ میں نے اس گڑھے کے قریب پہنچ کر اس میں جھانکا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اتنا گہرا گڑھا ہوگیا تھا کہ زمین نظر نہیں آتی تھی، تاہم میں نے اپنی معلومات کیلئے پتھر کا ایک بڑا سا ٹکڑا اٹھا کر اس گڑھے میں اچھال دیا۔ پتھر کے زمین پر گرنے کی آواز تک نہیں آئی تھی۔ بھوریا چرن انتہائی گہرائیوں میں دفن ہوگیا تھا۔ میں نے خنجر صاف کرکے اپنے لباس میں واپس رکھا اور اس کے بعد میرے حواس کسی قدر کام کرنے لگے۔ فیضان، شامی، اکرام، شمسہ وغیرہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ قرب و جوار کے لوگ بھی حیران حیران سے کھڑے ہوئے تھے۔ میں اپنے اس کام سے فارغ ہوگیا۔ بظاہر تو بھوریا چرن کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ آگے اللہ جانتا تھا۔ پیرپھاگن کے مزار پر فاتحہ پڑھی۔ ماں، باپ کے مل جانے کی دعا مانگی۔ شہر جاکر اپنا گھر تلاش کیا۔ وہاں کا نقشہ ہی بدل چکا تھا۔ آنسو پی کر واپس چل پڑے اور اب عزم پاکستان تھا۔ ٹرین آگرہ سے روانہ ہوئی۔ چار ڈبے بارڈر کیلئے لگائے گئے تھے۔ سکھ رجمنٹ کے سولہ سپاہی ان کی حفاظت پر مقرر کئے گئے تھے لیکن میں نے ان کے چہروں کی خباثت دیکھی تھی۔ ایک نگاہ انہیں دیکھ کر یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اپنے فرض سے مخلص نہیں ہیں۔ کٹے پھٹے زخمی مسلمان مرد، عورتیں، بچے زندگی کی تلاش میں سرگرداں ٹرین کے ان ڈبوں میں کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ ان کے حلیے اور غم دیکھے نہیں جاتے تھے۔ اکرام، فیضان اور شامی بھی اب بالکل بدل گئے تھے۔ ہمارے پاس ہتھیار نہیں تھے مگر ہمارا عزم ہتھیار تھا اور ہم ہر لمحہ کسی واقعے کے منتظر تھے۔ شمسہ سہمی ہوئی ایک گوشے میں اپنے بچوں کے ساتھ سمٹی ہوئی تھی۔ اس وقت سارے خیالات سو گئے تھے۔ پورنی سے میں نے بڑے کارآمد کام لئے تھے اور حقیقتاً اس کی افادیت کا قائل ہوگیا تھا۔ ٹرین کے سفر کے چند گھنٹے کے بعد ہی میں نے اسے سرگوشی میں پکارا اور کہا۔
’’کیا تو ان لوگوں کی نیت کے بارے میں بتا سکتی ہے جو ہمارے محافظوں کی حیثیت سے ہمارے ساتھ ہیں؟‘‘
’’آپ آگیا دیں مہاراج! میں ان کے من کھول لوں گی، تھوڑا سمے لگے گا۔‘‘
’’مجھے معلوم کرکے بتا۔‘‘ کوئی دس منٹ کے بعد پورنی نے مجھے اطلاع دی۔
’’ہری سنگھ اس رجمنٹ کا سردار ہے، ہندوئوں کا پالا ہوا۔ اس نے انجن چلانے والے کو حکم دیا ہے کہ چھتناری اسٹیشن سے آگے نکل کر باندی پورہ اور چھتناری کے بیچ ریل روک دے۔ وہاں ہندو حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔‘‘
’’پورنی! ریل نہیں رکنی چاہئے۔‘‘
’’نہیں رکے گی مہاراج۔‘‘ پورنی نے جواب دیا۔ دن گزر گیا، رات ہوگئی۔ ریل کے ڈبوں میں روشنی اور ہوا کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ بچے ریں ریں کررہے تھے، مسافر عالم سکرات میں تھے۔ کوئی دس بجے چھتناری کا اسٹیشن آیا۔ ہر اسٹیشن پر ہم نے ہندو انتہا پسندوں کو دیکھا تھا مگر فوج کی وجہ سے کوئی عمل نہیں ہوا تھا البتہ چھتناری کے بعد جب ٹرین آگے بڑھی تو میں نے درود پاک کا ورد شروع کردیا تھا۔ میرا دم آنکھوں میں آگیا تھا۔ یک بیک میں نے ٹرین کی رفتار تیز ہوتی دیکھی۔ ہر ایک کو اس کا احساس ہوگیا تھا۔ مسافر چونک پڑے تھے۔ ٹرین تھی کہ گولی بن گئی تھی۔ اس طوفانی رفتار سے گزرتی ہوئی وہ باندی پورہ سے گزر گئی۔ باندی پورہ کے اسٹیشن سے گزرتے ہوئے بس روشنی کی لکیریں نظر آئی تھیں اور سائن بورڈ پر بس نام کا شائبہ ہوا تھا۔ مزید ایک گھنٹہ گزر گیا، پھر ٹرین کی رفتار سست ہونے لگی اور پھر بہت سست ہوگئی۔ پورنی نے میرے کان میں کہا۔
’’پرم پردھانی! گڑبڑ ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’سکھ افسر نے انجن چلانے والے کو گولی مار دی ہے۔ اس نے باندی پورہ کے ہندوئوں سے پیسے لئے ہوئے تھے۔ انجن چلانے والے نے گاڑی نہیں روکی اس لئے افسر نے اسے مار دیا۔ اب افسر بلادی اسٹیشن پر گاڑی رکوائے گا۔ آپ بلادی پر دوسری طرف سے اتر جایئے، وہاں خون خرابہ ضرور ہوگا۔‘‘
’’تو کچھ نہیں کرسکتی؟‘‘
’’جو بن پڑے گا، ضرور کروں گی مہاراج۔ مگر بہت بڑا جمائو ہے۔ آپ کو ہوشیار رہنا ہوگا۔‘‘
میں پریشان ہوگیا۔ میرے کمپارٹمنٹ میں جو لوگ نظر آرہے تھے، وہ بیچارے زخموں سے چور تھے، یہ کسی سے کیا مقابلہ کرسکتے تھے۔ تاہم کچھ دیر کے بعد میں نے انہیں ہوشیار کردیا۔
’’آگے حملے کا خدشہ ہے۔ آپ سب لوگ ہوشیار ہوجائیں۔‘‘ کہرام مچ گیا۔ سہمے ہوئے لوگ طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ میرے لئے جواب دینا مشکل ہوگیا۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے وقت سے پہلے انہیں موت کے خوف سے دوچار کردیا ہے لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوگیا تھا۔ کچھ لوگوں نے مجھے گالیاں بھی دیں اور کہا کہ میں خوف و ہراس پھیلا رہا ہوں۔ میں نے خاموشی سے سب کچھ سنا البتہ اپنے ساتھیوں کو میں نے ہوشیار کردیا اور پورنی کی ہدایت کے مطابق انہیں دونوں سمت کے دروازوں پر تعینات کردیا کہ جس سمت اسٹیشن آئے، اس کے دوسری سمت کا دروازہ کھول دیا جائے۔ بچوں کو میں نے فیضان اور اکرام کی گود میں دے دیا تھا۔ ٹرین کی رفتار سست ہونے لگی۔ بلادی کا اسٹیشن تاریکی میں ڈوبا پڑا ہوا تھا مگر دور ہی سے وہاں چہل پہل محسوس ہورہی تھی۔ ہمیں سمت کا اندازہ ہوگیا اور میں نے شمسہ وغیرہ کو اس طرف پہنچا کر درود پاک کا ورد شروع کردیا۔ ٹرین کو کئی جھٹکے لگے اور اس کے ساتھ ہی جے بھوانی، جے ہند اور ست سری اکال کے نعرے لگنے لگے۔
’’پوری…‘‘ میں نے پورنی کو پکارا مگر اس کی آواز سنائی نہیں دی۔ کئی آوازوں پر بھی میں نے اس کی آواز نہ سنی۔ اگلے ڈبوں پر حملہ ہوچکا تھا، چیخ و پکار کی دلدوز آوازوں سے کانوں کے پردے پھٹے جارہے تھے۔ دل رو رہا تھا ان سب کو مصیبت میں چھوڑتے ہوئے مگر کیا کرتا۔ انہیں سپرد خدا کرکے شمسہ، بچوں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ نیچے کود گیا۔ دوسری طرف گہرائیاں اور لمبے لمبے کھیت کھڑے تھے۔ سب کے سب لڑھکتے ہوئے نیچے جاگرے۔ بچے بری طرح رونے لگے، ان کے منہ بھینچ کر انہیں چپ کرایا اور سب سنبھل کر کھیتوں میں دوڑنے لگے۔ نعروں اور چیخوں کی مہیب آوازیں تعاقب کررہی تھیں۔ کھیتوں کا سلسلہ کچھ دور چل کر ختم ہوگیا۔ کچھ فاصلے پر روشنیاں سی دہکتی ہوئی نظر آئیں۔ عجیب سی روشنیاں تھیں جیسے بھٹیاں دہک رہی ہوں۔ رخ اسی سمت ہوگیا۔ چکنی مٹی سے بنی ہوئی ایک قلعے نما عمارت تھی جس کی فصیلوں پر یہ بھٹیاں روشن تھیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ ہم قلعے کے دروازے کے پاس پہنچ گئے۔ اچانک بڑے دروازے میں ایک ذیلی کھڑکی کھلی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ کسی نے کہا۔
’’وعلیکم السلام… آپ کون ہیں؟‘‘
’’اندر آجائو… جلدی کرو۔‘‘ ہم سے کہا گیا اور ہم عجلت میں اندر داخل ہوگئے۔ دس بارہ افراد تھے۔ ذیلی کھڑکی بند کرکے اس کے ساتھ بہت سا کاٹھ کباڑ لگا دیا گیا۔ پھر مشعل کی روشنی میں ہمیں دیکھا گیا اور کسی نے گونجدار آواز میں کہا۔
’’جو ریل کٹ گئی، اسی کے مسافر ہو؟‘‘
’’اندر آجائو۔ ہمیں ان کتوں کا منصوبہ معلوم تھا مگر افسوس وقت بدل گیا۔ مجبوری تھی، ہم کچھ نہیں کرسکے۔ آئو، اندر آجائو۔‘‘ وسیع عمارت تھی۔ ہمیں ایک کمرے میں پہنچا دیا گیا۔ بھینسوں کے ڈکرانے کی آوازیں ابھر رہی تھیں۔ لالٹین کی روشنی میں رائوتجمل حسین کو دیکھا۔ تعارف بعد میں ہوا تھا۔ ہمیں چائے پیش کی گئی۔ بہت تھکن سے نڈھال تھے۔ چائے کے بعد رائو صاحب نے کہا۔
’’آپ لوگ آرام کریں۔ ہاں! مرد ہوشیار رہیں۔ اگر حویلی پر حملہ ہوا تو آپ کو جگا دیا جائے گا۔‘‘
’’نہیں رائو صاحب! ہم آپ کے ساتھ جاگیں گے۔‘‘
’’ابھی ضرورت نہیں ہے۔ اچھا ہے کچھ دیر آرام کرکے چاق و چوبند ہوجائیں۔‘‘ رائو صاحب چلے گئے۔ کسی کے پاس بولنے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ ایک خوف سب پر طاری تھا۔ بچے البتہ سو گئے۔ میں نے سرگوشی میں پورنی کو پکارا۔
’’پرم پردھانی!‘‘ اس کا جواب ملا۔
’’پرم پردھانی کی بچی۔ کہاں مر گئی تھی؟‘‘
’’جے پرم پردھائی۔ آپ پوتر اشلوک پڑھ رہے تھے، ان کے سامنے گندی نہیں آسکتی تھی۔ میں مجبور تھی۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’کیا ریل کے سارے مسافر مارے گئے؟‘‘
’’کچھ جیتے ہیں دھنی، کچھ مارے گئے۔‘‘
اور کیا پوچھتا اس سے، خاموش ہوگیا۔ رات بھی بہت سی راتوں کا مجموعہ بن گئی تھی۔ نہ جانے کیسے صبح ہوئی، ناشتہ ملا، دوپہر کو رائو صاحب سے ملاقات ہوئی۔ بلادی کے مسلمان رئیس تھے۔ ہندوئوں میں گھرے ہوئے تھے مگر بڑے کلے ٹھلے کے آدمی تھے۔ ہندوئوں کا مسلسل مقابلہ کررہے تھے۔ بتانے لگے۔
’’بڑی مشکل سے بچائو کررکھا ہے۔ بستی کے سارے مسلمان بھاگ گئے، ہم پھنس گئے ہیں۔ دس بندوقیں ہیں، ہندو ملازموں کے سامنے انہیں سو بتا کر پیش کیا ہے۔ ان کے خوف سے ابھی حویلی پر حملہ نہیں ہوا ہے ورنہ کب کا ہوچکا ہوتا مگر کب تک… ہاں! اللہ کرے شمس اللہ آجائے۔ بھتیجا ہے ہمارا، انگریزی فوج کا افسر ہے۔ ایک منصوبہ بنا کر گیا ہے۔ دیکھو اللہ کرے ہماری موت سے پہلے پہنچ جائے۔‘‘ بعد میں شمس اللہ کے بارے میں معلوم ہوا وہ کچھ انتظامات کرنے گیا تھا اور یہاں اس کا انتظار ہورہا تھا تاکہ پاکستان کی طرف کوچ کیا جائے۔ رائو صاحب نے بعد میں فصیلوں پر جلتی ہوئی بھٹیاں دکھائیں جن پر بڑے بڑے کڑھائو چڑھے ہوئے تھے اور ان میں تیل ابل رہا تھا۔ قریب ہی لمبی لمبی سینکوں کی جھاڑوئیں انبار تھیں۔
’’یہ ہمارے ٹینک ہیں۔ سسرے ایک بار ہمت کرلیں، دوبارہ رخ نہیں کریں گے۔‘‘ رائو صاحب نے بتایا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’اسلحہ… تیل میں گڑ پک رہا ہے۔ حویلی پر حملہ ہوا تو ان جھاڑوئوں کو اس میں ڈبو کر تیل اچھالیں گے۔ کسی پر اس کی ایک بوند بھی پڑ گئی تو سمجھ لو، عمر بھر جلتا رہے گا۔ ساری تیاریاں پوری ہیں۔‘‘
میں اس تدبیر پر انگشت بدنداں رہ گیا۔ جوالا پور کے کنور ریاست علی یاد آگئے تھے۔ پھر اسی رات حملہ ہوگیا۔ کوئی ڈیڑھ دو سو ہندو رات کی تاریکی میں حویلی کے پاس آگئے۔ ہم لوگ جاگ رہے تھے، فوراً بلاوا آگیا۔ فصیلوں پر سب دم سادھے ہندوئوں کے زد پر آجانے کا انتظار کررہے تھے۔ حویلی کے مرد تیار تھے، پھر جونہی وہ لوگ زد میں آئے، اوپر سے ان پر تیل میں جلے ہوئے گڑ کی بارش ہوگئی۔ خدا کی پناہ… جس طرح وہ بلبلائے، جس طرح زمین پر لوٹیں لگائیں، دیکھنے کا منظر تھا۔ کئی دن کا پکتا ہوا گڑ تیل کے ساتھ مل کر جس کے جسم پر پڑا، اندر تک اترتا چلا گیا۔ تین منٹ بھی نہ لگے، صفایا ہوگیا۔ ایسے سر پر پائوں رکھ کر بھاگے کہ پلٹ کر نہیں دیکھا۔ حملہ ناکام ہوگیا۔ رائو صاحب پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنس رہے تھے۔ دوسری صبح دو جیپیں آئیں جن میں پولیس بھری ہوئی تھی۔ نیچے ہی سے مذاکرات ہوئے۔ رائو صاحب نے کہا۔
’’بھیا! گارڈ لے کر آجائو۔ مالک کی قسم ٹینکوں اور توپوں سے مارو گے تب بھی سو پچاس کو لے مریں گے۔ اب جلدی سے پیچھے ہٹ جائو، نہیں تو ہم شروع ہورہے ہیں۔‘‘
جیپیں مڑ کر واپس چلی گئی تھیں۔ رائو تجمل حسین بیشک عظیم انسان تھے۔ ان حالات میں بھی بات بات پر قہقہہ لگانے والے۔ دو دن تک خاموشی طاری رہی۔ تیسری رات کوئی نو بجے ہوں گے کہ تین گاڑیوں کی روشنیاں نظر آئیں۔ اطلاع مل گئی اور اسلحہ تیار ہوگیا۔ گاڑیاں بالکل نیچے آگئیں، پھر کسی نے چیخ کر کہا۔
’’چچا ابا… میں شمس اللہ ہوں۔ کوئی کارروائی نہ کریں۔‘‘ اس نام میں بڑا سحر تھا۔ حویلی کے دروازے کھل گئے۔ شمس اللہ اندر آگیا۔ ایک بس اور دو جیپیں تھیں۔ جیپوں میں مسلح فوجی بھرے ہوئے تھے۔ افراتفری مچ گئی۔ سامان کی گٹھڑیاں بس میں بھری گئیں۔ بارہ ملازم، پانچ عورتیں جن میں شمسہ بھی تھی اور بس شمسہ کے بچے۔ یہ سب بس میں بیٹھے اور بس چل پڑی۔ رائو صاحب بھی بس میں تھے۔ دونوں جیپیں بس کو حفاظت میں لے کر چل پڑیں۔ ایک بار پھر موت کا سفر شروع ہوگیا تھا۔ رات بھر میں نہ جانے کتنا فاصلہ طے کرلیا گیا۔ جوالا پور کے قریب ایک گروہ بس کی طرف لپکا مگر فوجیوں نے فائر کھول دیا۔ کچھ مرے، کچھ زخمی ہوئے باقی بھاگ گئے۔ پھر صبح ہوگئی۔
خوف و دہشت کا یہ عالم تھا کہ کوئی ایک دوسرے کی صورت بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔ سفر رکے بغیر جاری رہا۔ روشنی پوری طرح ہوگئی تو اچانک برقع میں لپٹی ایک عورت کے حلق سے عجیب سی چیخ نکلی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اکرام پر جھپٹی۔ اکرام ہونق ہوگیا تھا۔ عورت برقع میں چھپی چھپی اکرام سے لپٹ گئی۔ وہ اس کے سینے سے منہ رگڑ رہی تھی۔ میں خود ہکابکا ہوگیا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ سب ہی حیران تھے۔ اچانک رائو صاحب بولے۔
’’ارے اکرام میاں! اس کی صورت تو دیکھو۔ تمہاری کوئی نہ ہو، بیچاری گونگی ہے۔‘‘ اب اکرام کو ہوش آیا۔ اس نے عورت کے چہرے سے برقع ہٹایا۔ میری آنکھیں بھی اسی طرف نگراں تھیں اور پھر میرے دل کی حالت عجیب ہوگئی۔ میں اپنی اس وقت کی کیفیت کو الفاظ میں نہیں بیان کرسکتا۔ ثریا تھی۔ اکرام کی بہن… اور… اور…!
میں سکتے کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا۔ اکرام بھی اس کا چہرہ دیکھ کر چند لمحات کیلئے پتھرا گیا تھا۔ پھر اس نے ثریا کو اپنے سینے میں سمو لیا۔ اس کی مدھم مدھم سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔
’’شکر ہے مالک کا… کون ہے یہ اس کی؟‘‘ رائو صاحب نے پوچھا۔
’’بہن…‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ماری باندھی آگئی تھی۔ اکیلی تھی، سلام کیا تھا مجھے اشارے سے۔ آنکھوں میں شرم و حیا تھی۔ گو زبان نہیں تھی بیچاری کی مگر سمجھ میں آگیا کہ مسلمان ہے، ساتھ رکھ لیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کا بھائی مل گیا اور ایک فرض سے سبکدوشی ہوگئی۔‘‘
شمسہ مل گئی تھی، ثریا مل گئی تھی۔ اللہ کے احسان سے گردن جھکی ہوئی تھی۔ سارے وسوسے دل سے نکلتے جارہے تھے۔ کھیل کیسے شروع ہوگا، کیسے ختم، انسان کیا جانے۔ یہ سب کچھ کسی اور ہی کا کام ہے۔
ثریا، اکرام کے سینے سے لگی رہی۔ نڈھال ہوگئی تھی۔ مونا بائو پہنچ گئے۔ شمس اللہ کے ساتھ آئے ہوئے فوجی واپس چلے گئے۔ اللہ نے ہمیں سلامتی کے ساتھ پاک وطن پہنچا دیا تھا۔ پناہ گزینوں کے مجمع لگے ہوئے تھے۔ لٹے پٹے قافلے درد کی لاکھوں کہانیاں سمیٹے آہوں اور آنسوئوں کے ساتھ سجدئہ شکر ادا کررہے تھے۔ وطن نوزائیدہ تھا، وسائل ناکافی تھے۔ جس طرح بن پڑ رہا تھا، آنے والوں کو سہولتیں مہیا کی جارہی تھیں۔ ہم نے بھی ایک گوشہ اپنا لیا۔ بوریاں، ٹرنک، گٹھڑیاں دیوار بنے ہوئے تھے۔ بس انہی کی پردہ پوشی تھی، یہی چار دیواری تھی۔ رائو تجمل حسین پر بھی وہی بیت رہی تھی۔ جو کچھ چھوڑ دیا تھا پاکستان کیلئے، وہ اس عمر میں دوبارہ نہیں حاصل ہوسکتا تھا۔ ثریا نے مجھے بھی دیکھ لیا تھا اور ایک عجیب سا احساس جھلکنے لگا تھا اس کی آنکھوں سے۔
مخیر حضرات مصروف عمل تھے۔ جسے دیکھو دل کھولے دے رہا ہے۔ آنے والوں کیلئے اتنا کچھ کھانے پینے کو آرہا تھا کہ منع کرنا پڑتا تھا۔ معذرت کرنی پڑ رہی تھی کہ بھائی کھا چکے ہیں، اللہ کا دیا موجود ہے۔ دو دن یہاں گزر گئے۔ میرپورخاص کیلئے ریل چکر لگا رہی تھی۔ سب کی پرچیاں کٹ چکی تھیں۔ نمبر سے باری آرہی تھی۔ تیسرے دن کی بات ہے فجر کی
نماز سے فارغ ہوا تھا۔ یونہی سوچ میں بیٹھا ہوا تھا کہ نگاہ سامنے اٹھ گئی۔ صندوق رکھے ہوئے تھے، ان کے درمیان رخنے بھی بنے ہوئے تھے۔ میری نظر سامنے والے رخنے کے دوسری سمت اٹھ گئی۔ ایک پُرنور چہرہ نگاہوں کے سامنے تھا اور یہ چہرہ… بھلا آنکھیں دھوکا کھا سکتی ہیں بھلا؟ وہ لگن جس نے ایک طویل عرصے سے دل میں ہلچل مچا رکھی تھی، بینائی کو متاثر کرسکتی ہے۔ ماں تھی میری، امی تھیں میری، یقینی طور پر وہی تھیں۔ بدن میں بجلیاں بھر گئیں، دیوانوں کی مانند اپنی جگہ سے چھلانگ لگائی اور ٹین کی اس دیوار کے دوسری جانب پہنچ گیا۔ نماز پڑھ رہی تھیں، سر جھکا ہوا تھا، اللہ کے حضور سربسجود تھیں۔ جانتا تھا کہ ان کے دل میں کیا دعا ہوگی۔ ماموں ریاض اور ابو بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ لاغر، لاچار مفلوک الحال، بے بسی کا شکار… میرے کلیجے کا سارا خون سمٹ کر چہرے پر آگیا تھا، آواز نہیں نکل پا رہی تھی۔ بدن میں ایسا تشنج پیدا ہوگیا تھا کہ پیروں پر قابو نہیں پا سکا۔ ایک عجیب سا انداز طاری ہوگیا تھا مجھ پر۔ دو قدم آگے بڑھا اور دھڑام سے ان کے سامنے گر پڑا۔ قوت گویائی تو مفلوج تھی ہی، بدن نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ ابو اور ماموں ریاض چونک پڑے تھے۔
انہوں نے تاسف بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور آگے سہارا دینے کیلئے بڑھے لیکن باپ کی نگاہ تھی۔ وہی دل کے تار جنہیں کوئی شے غیر مرئی طور پر آپس میں جوڑے رکھتی ہے، بھلا ان تاروں میں لرزش کیوں نہ ہوتی۔ تار جھنجھنائے۔ ابو نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور پھر ایک دلدوز چیخ مار کر مجھ سے لپٹ گئے۔
’’مسعود! میرے بچے مسعود۔‘‘ اور یہ الفاظ ایسے تھے کہ امی بھی خود پر قابو نہ پاسکیں۔ ماموں ریاض پاگلوں کی طرح چیخے۔
’’ہاں مسعود، ہمارا مسعود ہی ہے، مسعود ہی ہے۔‘‘ ایسے مناظر یہاں عام تھے۔ ایسے واقعات گوشے گوشے میں ہورہے تھے۔ ہر لمحہ کہیں نہ کہیں سے آوازیں ابھر آتی تھیں، بھلا ان آوازوں کی جانب کون متوجہ ہوتا لیکن اس گوشے میں جو کچھ ہوا تھا، وہ عام واقعات میں سے نہیں تھا۔ یہاں تو کہانی ہی انوکھی تھی، یہ تو ملاپ ہی غیریقینی تھا۔ صدیوں کے بچھڑے ملے تھے، کسے یقین آتا۔ بس یوں لگ رہا تھا جیسے کٹھ پتلیاں نچانے والا کھیل ختم کرچکا ہو، سارے دھاگے قریب لائے جارہے ہوں۔ سب کو پتا چل گیا کہ میرے ماں، باپ مل گئے ہیں۔ شمسہ، ماں کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔ ابو نے مجھے کلیجے میں بھینچ رکھا تھا۔ محمود باقی رہ گیا تھا۔ میں نے انہیں خوشخبری سنائی کہ وہ زندہ سلامت ہے، وہ ضرور ہم سے آملے گا۔ مبارک ہے یہ وطن پاک جس نے صدیوں کا طلسم توڑ دیا۔ مبارک ہے پاکستان جس نے بچھڑوں کو ملا کر دل کے زخم سی دیئے۔
اکرام نے کہا۔ ’’مسعود بھائی! میں نہ کہتا تھا کہ اِن شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ گزرے وقت کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنائی گئیں۔ ماموں ریاض خوشی سے دیوانے ہورہے تھے۔ کہنے لگے۔
’’وطن پاک نے ہمیں نئی زندگی سے نوازا ہے… ہم باہمت ہیں، ایک بار پھر وہی گھر بنا لیں گے۔ ہم ایک بار پھر اسی زندگی کا آغاز کریں گے۔‘‘
ہماری روانگی کا وقت آگیا۔ میرپورخاص، حیدرآباد پھر کراچی۔ کراچی میں ہمیں پرانی نمائش کے کیمپ میں جگہ ملی تھی۔ رفتہ رفتہ زندگی آگے سفر کررہی تھی۔ یہاں کیمپ میں ہم نے اپنا انتظام کیا۔ امی کو بخار ہوگیا۔ شمسہ اور ثریا نے انہیں ہاتھوں میں سنبھالا ہوا تھا۔ میرے دل میں ایک خیال سر ابھارنے لگا۔ پورنی میرے قبضے میں ہے، سب کچھ حاصل کرسکتا ہوں۔ اس کے ذریعے ایک عالیشان رہائش گاہ، زروجواہر کے انبار۔ اتنے عرصے کے بعد یہ لوگ ملے ہیں، کیوں نہ فائدہ اٹھائوں۔
’’غلط…‘‘ عقب سے آواز آئی اور میری گردن گھوم گئی۔ دن کی روشنی میں بھی اس گدڑی پوش کو دیکھ چکا تھا جو پیوند لگی گدڑی میں سر سے پائوں تک چھپا بیٹھا تھا۔ اب شام کے دھندلکوں میں بھی وہ وہیں موجود تھا۔ اس نے یہ جملہ کہا تھا۔
’’تم نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں شاہ جی! غلط سوچ رہے ہو۔‘‘ گدڑی پوش نے چہرے سے گدڑی ہٹا کر کہا۔ میں اسے دیکھ کر اچھل پڑا۔ نادر حسین تھا۔ میرے کچھ کہنے سے قبل وہ بول اٹھا۔ ’’برے بھلے کی تمیز دی گئی ہے۔ رزق حلال ہر طرح افضل ہے۔ کالی طاقت زہر کا تریاق ہے تو ٹھیک ہے زہر کو زہر سے مارو، لوہے کو لوہے سے کاٹو… خلق خدا کی مدد کرنے میں ہرج نہیں مگر گندگی سر پر نہیں اوڑھنی چاہئے۔ بازو دیئے ہیں اللہ نے، محنت سے کمائو، ہمت سے جیو… دنیا داری، ترک دنیا سے بہتر ہے۔‘‘
اس نے دوبارہ گٹھری میں منہ چھپا لیا۔ میں لپک کر اس کے قریب پہنچ گیا۔ میں نے بے اختیار کہا۔ ’’نادر حسین! تم بھی یہاں آگئے؟‘‘ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ’’منہ تو کھولو نادر حسین! میں تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے اس کی گدڑی کھینچی لیکن گدڑی زمین پر پھسل گئی۔ نادر حسین اس میں نہیں تھا۔ میں سکتے میں رہ گیا لیکن مجھے علم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نادرحسین کو بہت کچھ دے دیا تھا۔ وہ فنافی اللہ ہوگیا تھا۔
میں اس کے الفاظ پر غور کرنے لگا۔مجھے پورنی کے بارے میں ہدایت دی گئی تھی۔ اس کی کالی قوت، کالے علم کے خلاف استعمال کرسکتا تھا۔ اس سے اپنے لئے کچھ نہیں لے سکتا تھا۔ اس ہدایت سے میں نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اب صرف محنت کی کمائی پر گزارہ کرنا ہے۔ وقت کا انتظار کروں تو سب سے بہتر ہے ورنہ سزا بھگت چکا تھا۔
اور صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ کیمپ میں محبت و اخوت، بھائی چارے کے ایسے مظاہرے ہورہے تھے کہ آنسو نکل آتے تھے۔ جسے دیکھو پناہ گزینوں کیلئے اپنا سب کچھ لٹانے پر آمادہ۔ امدادی اشیاء کے انبار چلے آرہے ہیں، حکومت الگ آسانیاں فراہم کررہی تھی۔ ایک سہ پہر ایک رئیس پھل اور مٹھائیاں لے کر آیا۔ چار ملازم یہ اشیاء تقسیم کررہے تھے۔ وہ خود نگرانی کررہا تھا۔ نوجوان اور خوبصورت آدمی تھا۔ ماموں ریاض نے اسے سب سے پہلے دیکھا۔ بے تابی سے اٹھ کھڑے ہوئے، قریب پہنچے اور آہستہ سے بولے۔
’’میاں! آپ کا نام محمود احمد تو نہیں ہے؟‘‘ نوجوان نے چونک کر انہیں دیکھا۔ پھلوں کا تھیلا اس کے ہاتھ سے گر پڑا۔ اس نے ایک چیخ ماری۔
’’ماموں ریاض…‘‘ اور ان سے لپٹ گیا۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ بساط کا آخری مہرہ بھی مل گیا تھا، آشیانے کا آخری پرندہ بھی واپس آشیانے میں آگیا۔ محمود نے تو صرف ماموں ریاض کو پایا تھا۔ سب کو دیکھ کر مسرت سے دیوانہ ہوگیا۔ امی کا بخار شاید اسی لئے تھا۔ ایسی خوش ہوئیں کہ بخار کا نام و نشان نہیں رہا۔ محمود کراچی میں رہتا تھا۔ جمشید روڈ پر اس کا بنگلہ تھا۔ اس بنگلے میں ہمیں لا کر اس نے اپنی کہانی سنائی۔ کئی سال وہ ملک سے باہر رہا اور اس نے خوب دولت کمائی۔ پھر ماں باپ کیلئے بے چین ہوکر واپس آگیا اور احتیاطاً اس نے کراچی میں رہائش اختیار کی۔ اس کا خیال تھا کہ اب وہ خفیہ طور پر ماں باپ کو تلاش کرے گا۔ اسی اثناء میں پاکستان بن گیا اور اسے یہاں رکنا پڑا۔ محمود کی اس حیثیت نے کایا ہی پلٹ دی۔ کوئی مشکل نہ رہی۔ اس نے اپنا کاروبار بھی تقسیم سے پہلے یہاں مستحکم کرلیا تھا۔ اکرام، فیضان اور شامی بھی اب غیر نہیں تھے۔ یہاں سب کی کھپت تھی۔ چنانچہ سب تعمیر وطن میں مصروف ہوگئے۔ ہم وطن ہی کے فرد تھے۔ نیک راہوں پر چل کر اپنے گھر کیلئے ہی باعزت روزی حاصل کرلی جائے تو خدمت وطن ہوتی ہے۔ اب اس بارے میں کیا عرض کروں، شرم محسوس ہوتی ہے کہ میری خواہش پر ثریا سے میرا نکاح کردیا گیا۔ یہ میری دلی آرزو تھی۔ معصوم و مظلوم ثریا میری زندگی میں شامل ہوگئی۔ پورنی سے میں نے بھوریا چرن کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا۔ ’’پرم پردھانی وہ شنکھا ہے۔ شنکھا تین بار کالے جنم لیتا ہے۔ ہاں اگر وہ کھنڈولا بن جائے تو پھر اسے امر شکتی حاصل ہوتی ہے۔ اسی سمے وہ مر گیا تھا مگر کون جانے وہ کب نیا جنم لے لے۔ ہر جنم میں وہ کھنڈولا بننے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اگر اس کے تینوں جنم ختم ہوجائیں تو وہ پھر نہیں جیتا۔‘‘ گویا بھوریا چرن کے دوبارہ سامنے آنے کے امکانات ہیں۔
لیکن چالیس سال گزر چکے ہیں، خدا کا احسان ہے کہ ان چالیس سالوں میں مجھے وہ کبھی نہیں نظر آیا۔ ہمارا باغ ہرابھرا ہے۔ میرے محمود کے شامی اور شمسہ کے بہت سے بچے ہیں۔ میں نے زندگی گزارنے کیلئے کاروبار کرلیا تھا۔ اللہ کا احسان ہے، دیانت سے خوب چل رہا ہے۔ خلق خدا کی جس طرح مدد ہوتی ہے، کرتا ہوں۔ پورنی میری غلام ہے۔ کالے جادو کا توڑ مجھ سے بہتر کوئی نہیں کر پاتا۔ اتنے پُراسرار اور پیچیدہ واقعات پیش آئے ہیں ان چالیس سالوں میں کہ سنانے بیٹھوں تو پھر اتنی ہی طویل ایک داستان کا آغاز ہوجائے۔ چلئے یار زندہ، صحبت باقی۔ ہاں! اگر کہیں گھر کی دیواروں پر یا کسی درخت پر کوئی پیلی مکڑی نظر آجاتی ہے تو اپنے بدن کی لرزشوں پر قابو نہیں پا سکتا۔ خدا سب کو محفوظ رکھے۔ آمین… آپ کا مسعود احمد۔
(ختم شد)