Kalay Jootey | Afsana

1028
Kalay Jootey | Afsana
میری توجہ سب سے پہلے بھڑکیلی نیلی روشنیوں پر مرکوز ہوئی تھی۔ یہ ضرور کوئی ایمبولینس یاپولیس کی گاڑی ہوگی! میں نے سوچا، لیکن بھر میں نے کار کو رودمانز روڈ پرڈال دیا تاکہ میں اپنے مہمان کوہوٹل برگریارل سے لے آؤں۔ مگر کوئی الجھن مجھے پریشان کرتی رہی۔ روشنیوں کی بہت سی برقیلی لہروں نے میرے ذہن اپنے عکس چھوڑ دئیے تھے!
مجھے ہوٹل کے باہر اپنا مہمان نہ ملا۔ بجائے اس کاانتظار کرنے کے میں نے گاڑی کوکنکستین روڈ پر گھما دیا جہاں پر چمکیلی روشنیوں کاسیلاب بہتا نظرآرہا تھا۔ جب میں تماشائیوں کے اس کاخاموش ہجوم کے پاس پہنچا جو زمین پرپڑے دوسڑیچروں کو گھور رہے تھے تو مجھے تین سپاہی، پولیس کی دو گاڑیاں اور ایک ایمبولینس بھی نظر آئی۔ قریب پہنچنے پ میں نے سپاہیوں اور ایمبولینس کے عملہ کی جانب پھردیکھا وہ کچھ بھی نہیں کر رہے تھے․․․․․․․․ صرف وہاں کھڑے خلامیں یوں تک رہے تھے گویا وہ وہاں موجود ہی نہ ہوں ان بھڑکیلی روشنیوں ، بے حس سپاہیواور بے جان ہجوم سے مسحور میں نے دھیرے سے گاڑی کو برگر یارل روڈ پر موڑ کرراستہ روکے ایس بس کے پیچھے کھڑا کردیا۔
تب میں نے پٹڑی پرکھڑی سائیکل اور پاس پڑے تھیلے، سڑک پرترچھی کھڑی سبزکار اور اس سے چند میٹر آگے ایک اور بس کو بھی دیکھا۔
بس کی پیلی بتیاں جل بجھ رہی تھیں پولیس کی گاڑیوں، ایمبولینس، سائیکل، سبزکار اور بس کے درمیان سڑک پر اس مجمع کو ساکن کردینے کا سبب موجود تھا۔ ویسے اب وہاں کوئی کچھ کر بھی کیا سکتا تھا! ایک سڑیچر تو خالی تھا مگر دوسرے پر ایک بھورے رنگ کا کمبل کسی ایسی شے کو ڈھانپے ہوا تھا جسے موت نے اب ایک نئی شناخت دے دی تھی” میں ہوں“ سے وہ اب ” وہ تھا“ بن چکا تھا، مجھے مکمل یقین تھا کہ وہ ایک لاش ہی تھی، گواس کا پورا جسم کمبل کے نیچے پنہاں تھا۔ سوائے ان دوکالے جوتوں کے جو آسمان کا رخ کئے ہوئے تھے۔ سڑیچر کی دوسری طرف جہاں سرہونا چاہئے تھا، ایک سرخ دھبہ سڑک کو رنگ دے رہاتھا، اور کچھ سینٹی میٹر پرے سرخ وسفید رنگ کا ایک مواد پڑا تھا، جسے پہلے تو میں نے قیاس کیا لیکن بعد میں مجھے سمجھ آئی کہ وہ خون سے لتھڑا ہوا بھیجا تھا۔
میں اس سائیکل یاتھیلے ددنوں ک وہی نہ پہچان پایا۔ اور ویسے بھی میرے واقف کاروں میں سے بہت کم افراد سائیکل کا شوق رکھتے ہیں، مگر پھر بھی کسی پھانس نے مجھے بے چین رکھا!میرا راستہ روکنے ولی بس اب جاچکی تھی، لیکن میری گاڑی اب تک صرف چند میٹر ہی رینگی ہوگی۔ آف میں کتنا خواہش مند تھا کہ کاش ہوا کاایک تندبگولاآئے اور اس کمبل کو صرف اک لمحے کے لئے اٹھا کر مجھے کوئی شناخت کرادے مجھے کسی ایک نشان کی ضرورت تھی اس کے چہرے کی جھلک، بالوں کارنگ․․․․․․․ کچھ بھی۔ کہ میں یقین کرسکوں کہ ہم دونوں غیر آشنا تھے۔ پھر مجھے اپنے ذہنی کرب کی وجہ سمجھ آئی، تقریباََ میرے ہر واقف کار کے پاس کالے جوتوں کا جوڑا ہے․․․․․․․ ویسے ہی دو جوتے جو سٹریچر پر بچھے ہوئے کمبل سے نکل کر اس امر کی نشان دہی کررہے تھے کہ ایک انسان اس کمبل کے نیچے لیٹاہوا تھا۔
معلوم نہیں میں کتنی دیر وہاں خیالات کی جھاڑیوں میں انکار رہا۔ کوئی طویل عرصہ تو ہو نہیں سکتا تھا، گولگ رہا تھا کہ صدیاں بیت گئی ہوں! وہ ایک سپاہی کی گھور تھی جس نے مجھے متحرک کیا، اس نے مجھے کہا کچھ نہیں تھا، میرا خیال ہے کہ میرے چہرے پر چھائے ہوئے جذبات نے اسے میرے اندورنی ہیجان سے مطلع کردیا ہوگا، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا اور پھر میں وہاں سے چل دیا تھا۔
وقت گزرتا رہا۔ ریڈیو ستاک ہولم اپنی، ہر آدھے گھنٹہ کے وقفہ بعد نشر ہونے والی ٹریفک رپورٹ میں لوگوں کو برگریارل روڈ پر ٹریفک رکنے کی اطلاع کرتارہا۔ دس بجے ریڈیو نے کہا کہ اب پولیس ٹریفک کو عارضی طور پر بالکل بندکررہی تھی تاکہ ایک حادثہ کے بعد سڑک صاف کی جاسکے․․․․․․․ وہ جو کچھ دیر پہلے اشراف المخلوقات سمجھا جاتا تھا اب مٹی کی چادر پرمحض ایک دھبہ بن چکا تھا جسے دھو کر زمین کی چھاتی کو پھر پاک کرنا ضروری تھا۔
تب اُس احساس نے مجھے آجکڑا تھا، سینے میں گھٹن والے ! کوئی درد میں تھا،نہ ہی کوئی اور تکلیف، صرف سینے کے پٹھوں میں اکڑن، اور احساس کی صبح کی لطیف ہوا اچانک دھند کی مانند بوجھل ہو گئی ہو۔ ظاہر ہے کہ آخرکار حقیقت نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ہوگا،میرے پیشہ میں مجھے مختلف قسم کی اذیتیں اور دکھ دیکھنے کوملتے ہیں، اور حادث کاسامنا کرنا پڑت ہے، لیکن کبھی کبھی حقیقت کادھچکا اتناشدید ہوتا ہے کہ وہ ذہن کی برداشت سے باہر ہوجاتا ہے اس دن بھی مجھے اسی احساس نے آپکڑا تھا جب ایسٹونیا غرق ہوئی تھی۔ صبح صبح میں نے مقامی اخبارداگنز نیہیتر، میں پڑھا تھا کہ ایک بڑی کشتی آٹھ سو مسافروں سمیت ڈوب گئی، اور میں نے اخبار کو ایک طرف یوں رکھ دیاتھا گویا کچھ ہو اہی نہ ہو۔ بالکل غیر قابل یقین بات تھی کہ ہمارے اپنے گھر کے پاس اتنا بڑا حادثہ ممکن ہو۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے اپنے تالاب، بالٹک سمندر، میں آٹھ سولوگ ڈوب جائیں! اس طرح کے واقعات تو صرف دور دراز جگہوں پرہوا کرتے ہیں جہاں یہ کافی ہوتا ہے کہ بلاخود کوئی نقصان محسوس کئے صرف انسانی ہمدردی دکھادی جائے مگر بعد میں بہت بعد میں، جب ریڈیوباربار دھراتا رہا کہ ایسٹونیا سچ مچ غرق ہوگئی، اور مجھ سے ملنے والے لوگ بجائے کچھ کہنے کے، نظریں چرائے ، گویا وہ آج اپنے زندہ ہونے پر شرمندہ ہوں، آکر چپ چاپ بیٹھے رہے ،تب بھی حقیقت نے جسے میں اپنے لاشعور میں کفن پہنانے کی کوشش کرتا رہاتھا،اچانک برہنہ ہوکر میرے دھیان پر پنجہ ماراتھا۔ اس روز بھی یہی گھٹن والا احساس درآیاتھا اور بہت دن میرے ساتھ رہاتھا۔
باقی دن میں نے اپنے کام پر متوجہ ہونا چاہا پر ذہن تعاون سے انکار کرتا رہا۔ میں سوچتا رہا کہ وہ کون کم بخت تھا جواب نہیں ہے کیا شہر میں کوئی ایسی بچی موجود ہے جس نے اپنے بابا سے صبح ہا ہوگا کہ وہ آج گھر لوٹتے ہوئے مٹھائی ساتھ لانی نہ بھولیں؟ کیا آج ایک بچہ صرف مایوسی کی خاطر اپنے باپکا انتظار کرے گا کہ وہ اسے بتاسکے کہ آج اس نے اپنے سکول میں کتنا اچھا پرچہ کیا؟ وہ کون سی سہاگن ہے جو آج کے بعد اپنے بال کھولے، سر پر غم کی کالی چادر پہنے اپنے آپ کو اب بیوہ کہے گی؟ شاید مرجانے والا ان لوگوں میں تھا جو کبھی اپنا گھر نہیں بساتے․․․․․․․․ محض سال میں ایک مرتبہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ کرسمس کی شام کو کھانا ہی ان کے لئے خاندانی فرائض کی حد ہوتی ہے!توکوئی ایسی بڑھیا ہوگی جو ایک میزکے پار بیٹھ کر ایک خالی کرسی کودیکھ دیکھ کر بلکتے دل اور یاد کی پرچھائیوں کے ساتھ وقت گزارے گی؟ یا․․․․․ یا․․․․․․․ دکھ کے کتنے روپ ہوسکتے ہیں؟ اوراپنے ہر روپ میں ہردکھ ہزاروں خوشیوں پر حاوی!
کل ہی میری ایک ہم سفر خاتون نے کس طرح یہ فقرہ کساتھا ارے․․․․․ ارے‘ شہر میں ایک فلیٹ خالی ہوتے ہوتے رہ گیا“
جب ایک بے فکرا سائیکل سوار اپنا راستہ اچانک بدل کر میری کار کے نیچے آتا آتا بچا۔ ہم دونوں نے اس جملے پر زبردست قہقہے لگائے تھے۔
اور اب جب ممکن ہے شہر میں ایک فلیٹ خالی ہو، ایک ایسا بستر جس میں کوئی سونے والا نہیں یا ایک ایسی کرسی جواب صحبت کو ترسے گی!تو اس جملے کا مزاح بھی مرچکاتھا ایک امکان کی لطافت کوحقیقت کے بھیانک تھپڑے فنا کر دیاتھا۔ رات کافی گزرچکی ہے، مگر نیند پاس آنے سے گریزاں ہے: اسے ڈر ہے کہ شاید مجھے خواب میں وہ نظر آئیں․․․․․․․ آسمان کی طرف منہ کئے دوکالے جوتے۔