Friday, July 12, 2024

Kamtar Aur Bartar

ہائے یہ کیا بات کی تم نے بہو ! اللہ معاف کرے کبھی اپنے بچے کی گندگی صاف کرتے ہوئے تو تمہیں برا نہیں لگا۔ اب کیسے منہ بھر کے کہہ دیا کہ قربانی کے جانور عید کی نماز کے بعد لائے جائیں گے۔ کیونکہ گند بہت ہوتا ہے ان کا۔ تابندہ بیگم نے اپنی بہو افروز کی کلاس لی جس نے اپنے شوہر نامدار کی اس تجویز پر کہ قربانی کے جانور اس مرتبہ عید سے، چار چھ دن پہلے ہی نہ خرید لیے جائیں، کا جواب انکار میں سر ہلاتے ہوئے دیا تھا کہ اور یہ ارشاد فرمایا تھا۔ ہاں بھئی نا میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے، ویسے بھی ان جانوروں کا گند سنبھالنا کوئی آسان کام ہے؟۔ میں بچوں کو سنبھالوں یا قربانی کے جانوروں کو، جن کے گند اور بدبو سے پانچ منٹ میں سر گھوم جاتا ہے ۔ ماسی کام سے چھٹی کرے تو کون ان کو چارہ کھلائے ان کی گندگی صاف کرے ؟ میری طرف سے تو معذرت ہے۔ ثواب کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ان پر عمل کر لیں گے۔ فرضی مکھی اڑاتے ہوئے افروز انجم نے ازلی بے نیازی سے جواب دیا۔ کیا کہا تم نے افروز؟ یہ سب تم نے کہا ہے، ایک مسلمان عورت ہوتے ہوئے اور اس سے بھی بڑھ کر ماں بن کر تم نے کتنی آسانی سے یہ سب کچھ کچھ دیا ؟ ایک لمبی سرد آہ سینے سے خارج کرتے ہوئے سترھویں گریڈ سے ریٹائرڈ ہونے والی سرکاری اسکول کی ہیڈ مسٹریس ، تابندہ امیر بیگم نے کہا ان کی آنکھوں میں کوئی بے یقینی سی بے یقینی تھی ۔

افروز نے یہ دیکھ کر ساس بیگم تو باقاعدہ مکالمے کے موڈ میں ہیں کام کاج کو سردست ایک طرف کیا اور ان کے سامنے صوفہ پر آ کر بیٹھی اور یہی اس کی اچھی بات تھی ، مقابلے کے آغاز ہی میں پسپا ہو جانا ، دوسروں کا نقطہ نظر سننے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا۔ جی تو آنٹی بتائیے ان ساری چیزوں کا قربانی سے کیا تعلق ہے جو آپ کو اتنا نا گوار گزرا ہے۔ بہو یہ تم پوچھ رہی ہو جس کے چوبیس گھنٹوں میں سے بیس گھنٹے سوشل میڈیا پر گزرتے ہیں وہاں کیا کرتی ہو؟ اگر یہی نہیں جانتیں ۔ تابندہ بیگم نے کہا ساس بہو دونوں میں استاد اور شاگرد کا بھی رشتہ تھا، تابندہ جیسی جہاں دیدہ اور مردم شناس نے اپنی شاگرد افروز انجم کے چار سالہ دور تعلیم میں، بہت سی صفات کے ساتھ ایک بڑی صفت یہ دیکھی تھی کہ وہ غلطی پر اڑ جانے والی نہیں تھی ، جہاں اور جب اسے پتا چلتا کہ اس کی غلطی ہے یا اس نقصان میں اس کا بھی حصہ ہے، وہ پلک جھپکنے میں غلطی تسلیم کر لیا کرتی تھی نا صرف تسلیم بلکہ کھلے دل سے اس پر ندامت کا اظہار کرتی ۔ تابندہ بیگم جانتی تھیں کہ کنوارپنے میں وہ بچیاں جو معصوم اور آئیڈیل لگتی ہیں اور اسی طرح وہ خواتین جو بیٹے کی شادی سے پہلے بردبار، سمجھ دار قرار دی جاتی ہیں ضروری نہیں کہ شادی کے بعد ہر دو اپنی پہچان پر قائم رہیں۔

اچھی بھلی معصوم بچیاں شادی کے بعد گھاگ قسم کی بہو اور سمجھ دار مائیں ساس بنتے ہی بےحسی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں اس لیے کہ یہ صفات ان رشتوں میں منسلک ہونے سے پہلے تھیں جیسے اچھی بیٹی کے لیے شرطیہ نہیں کہا جا سکتا وہ اچھی بہو ثابت ہو گی ویسے ہی اچھی ماں کے لیے دعوا نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کامیاب ساس ہو گی ، وہاں غلطی تسلیم کرنے کی عادت جس میں بھی ہو، وہ رشتوں کو برتنے کا ہنر بھی جانتی ہے یہی عادت افروز انجم میں تھی اور بھی بہت سی صفات کوٹ کوٹ کر بھری تھیں، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہونہار سپوت ، ایک کامیاب ڈاکٹر افتخار حسین کے لیے افروز انجم کا رشتہ منتخب کیا ۔ زندگی کے اگلے سالوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی وہ اس فیصلے پر نہیں پچھتائیں۔ بیٹے کی نو دس سالہ ازدواجی زندگی میں، ہزار مرتبہ اونچ نیچ ہوئی لیکن وہ افروز انجم کی غلطی مان لینے اور درگزر کی اپنی فطری عادت کی بدولت ہمیشہ سرخرو رہیں۔ اب بھی جب افروز کے منہ سے نکلے جملے تابندہ بیگم کے کانوں تک پہنچے، ان کا غیرمتوقع ردعمل دیکھ کر افروز کے کان کھڑے ہوئے۔ اس کے لیے بہتر یہی تھا مکالمے کی تھیلے میں جو بھی بلی ہے وہ نکل کر باہر آئے۔ اسے بھی پتا چلے کہاں اور کسی جگہ پر اس سے غلطی ہوئی۔

جی انٹی بتائیے مجھے کیوں نہیں کہنا چاہیے تھا یہ سب کچھ، جب کہ آپ بخوبی جانتی ہیں، آپ کے دونوں پوتے اور لاڈلی پوتی مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر کتنا مصروف رکھتے ہیں۔ آپ کو اچھی طرح علم بھی ہے میں نے سب سہیلیوں سے ان آفتوں کی وجہ سے کتنا کٹ آف کر لیا ہے، راتوں میں پوری نیند لیے کتنے سال بیت گئے تو جو سہولت ہمیں اللہ دے رہا ہے منڈی سے قربانی کا جانور خریدو اور قربان گاہ میں قربان کر دو جہاں اجتماعی قربانیاں ہوتی ہیں، وہ کیوں نہ حاصل کریں۔ ہاں بھئی ثواب ہی لینا ہے۔ کم یا زیادہ کا تو چکر ہی نہیں بلکہ کسی کو پرواہ ہی نہیں، بات یہ ہے جب تک یہ نہ جان لو قربانی کیوں فرض ہوئی ۔ ان سوالوں کا جواب مل بھی نہیں سکتا۔ پہلے تو سارا واقعہ ذہن میں تازہ کرلو جب فرشتوں کو میرے رب نے سجدے کا حکم دیا تھا تو انکار تو رب کی بارگاہ میں ابلیس لعین نے کیا لیکن کیا فرشتوں نے کچھ نہیں کہا تھا ؟ تابندہ بیگم نے پوچھا اور بات جاری رکھی۔ اعتراض کے طور پر تو مجال نہیں تھی لیکن علم میں اضافہ کے لیے ملائکہ کی جانب سے پوچھا گیا کہ آخر آدم کو پیدا ہی کیوں کیا جا رہا ہے ملائکہ ہر لمحہ تسبیحات اورحمد وثناء میں مصروف رہتے ہیں پھر ایک نئی مخلوق کی تک کیا بنتی ہے؟ تب اللہ رب العزت نے فرمایا تھا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ، اور سچ کہا میرے رب نے ۔ مالِ دولت، عہدہ، عزت، شہرت، گهر بار، اہل خانہ سے جدائی سب کچھ ہی تو ابراہیم سے لیا۔ آگ میں پھینکوایا۔ بے آب و گیا وادی میں شیرخوار بچہ اور بیوی کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ کیا کسی حکم پر چون چرا کی ؟ تابندہ بیگم نے نمناک پلکوں میں افروز کا انکار میں ہلتا سر دیکھا اور مثال دی۔ کیا تم نہیں جانتیں جب افتخار حسین کہیں جائے یا تمہارے انکل کہیں جائیں تو ہم ان کے جانے سے قبل سودا سلف کی بھی فہرست ان کے ہاتھ میں تھماتے ہیں اس میں وہ چیزیں بھی درج ہوتی ہیں۔ جن کی ضرورت کی صرف ایک فیصد امید ہوتی ہے لیکن حفظ ما تقدم کے طور پر ان کی عدم موجودگی میں جو جو مسائل پیش آسکتے ہیں ان کا پہلے سے حل ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ ہر واقف ڈاکٹر، پلمبر ، قصاب اور سترہ ان دوستوں کے رابطہ نمبر بھی دے کر جاتے ہیں جو ان کے جانے کے بعد ہنگامی حالات میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔ یہی نہیں سفر کے آغاز ہی میں، ان سے پل پل کا رابطہ ہوتا ہے پھر بھی دل میں سو طرح کے وہم ہوتے ہیں، خدشات راستہ روکتے ہیں اور دل پر پتھر رکھ کر انہیں ان کی دنیوی ترقی کے لیے جانے کی یہ چشم نم اجازت دیتے ہیں۔

کیا سیدہ ہاجرہ کو یہ خدشات لاحق نہیں ہوں گے جن کا وہاں ویرانے میں کوئی دنیوی آسرا نہ تھا، چھوڑ کر بھی جارہے ہیں تو کیا کھجوریں اور پانی! کوئی پاوڈر ملک، پیمپرز، سٹرالر نام کی سہولت نہیں تھی کوئی پھوپھو خالہ ، نانی دادی ۔ ساتھ نہیں تھی تو سیدہ ہاجرہ کیسے مان گئیں؟ وہ ماں ہوتے ہوئے اس ایثار کے لیے کیسے راضی ہو گئیں؟ تابندہ بیگم کی آواز رندھ گئی۔ کیا وہ ان کا مشکل ترین وقت نہیں تھا ؟ اصل میں یہ ساری تیاری اس آخری راؤنڈ میں کام آنا تھی جس کے لیے، ابراہیم علیہ السلام کو رب العزت نے اپنا دوست بنانا تھا۔ خلعت کا تاج پہنانا تھا۔ ان کا جوان، فرماں بردار جگر گوشہ اپنے راستے میں قربان کرنے کے لیے حوصلہ پیدا کرنا تھا جس کے لیے نور سے بنے ملائکہ نے کہا تھا کیوں آدم کو کیوں؟ اللہ رب العزت نے اس کا فخر سے جواب دینا تھا کہ دیکھو۔ اولاد آدم کسی درجہ پر فائز ہے۔ یہ قربانی نہیں تھی میرے رب کا مان تھا آدم کی اولاد پر بھروسا تھا کہ انسان اپنے خون، اپنی سب سے بڑی محبت کو اس کا ئنات کی سب سے بڑی محبت پر قربان کر دے گا۔ تابندہ بیگم سے بولنا دو بھر ہوا اور افروز کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ جیسے سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے۔ اس نے بمشکل اپنے اوپر قابو پایا تابندہ، پانی کا گلاس خالی کر کے میز پر رکھ چکی تھیں۔ اور یہ کوئی نہیں جانتا یہ کائنات بنی تو بنانے والے نے ایک فارمولا بھی بنایا اس کی ہر کم تر چیز اپنے سے برتر پر قربان ہوگی جیسے کائنات میں اللہ کی مخلوقات تو بے شمار ہیں لیکن سب سے کم احساس پتھر کو ہے شاید تمہاری نظر سے یہ حدیث مبارکہ گزری ہو کہ ہر پہاڑ دوسرے پہاڑ کو شام کے وقت آواز دے کر پوچھتا ہے تمہارے پاس سے کوئی تسبیح کرنے والا گزرا؟ پہلے پارے میں بھی پتھروں کے بارے میں یہ مفہوم پایا جاتا ہے، تم جانتی ہو پہاڑوں پتھروں کو جمادات کہتے ہیں اور جمادات نے اپنا سینہ نباتات کے لیے قربان کر دیا۔ پتھر سنتے ہیں لیکن پودے سننے کی جس کے ساتھ بڑھتے ہیں نمو پاتے ہیں اور یہ نباتات حیوانات پر قربان ہیں۔ لہلہاتا سبزہ جانوروں کا چارہ ہے، حیوان سنتا بھی ہے بڑھتا بھی ہے اور بولتا بھی یہ اس سے اعلا درجے کی مخلوق ہے اور اس کا بھی باقاعدہ فیملی سسٹم ہے، انسان میں بہت سی خوبیاں حیوانات کی موجود ہیں حیوان اپنے سے برتر پر قربان ہیں ابھی مرغا تھا دانہ چگ رہا تھا ابھی چھری تلے آکر ذبح ہوا اور تکے بن گیا بریانی کوفتے، پیزا، برگر، شوارما کی لذت بن گیا، ابھی چلتی پھرتی گائے تھی قصاب کی چھری پھری اور بیف تکے باربی کیو کی سلاخوں پر چڑھ کر گیا۔ ابھی بکرا تھا میں کر رہا تھا، منٹوں سیکنڈوں میں مٹن کڑاہی بن گیا یہ بھی سوچا یہ کسی پر قربان ہوا انسان پر کہ وہ حیوانات سے برتر مخلوق ہے۔ اور رہ گیا انسان اپنی مقصد تخلیق سے غافل اپنی عظمت سے لاعلم وہ کس پر قربان ہوا ؟ افروز کی ساری حسیات اکٹھی ہوئیں اور سمٹ کر اس کے چہرے پر قوس قزح کے سارے رنگ بن گئیں وہ مجسمہ سوال بن چکی تھی۔

انسان پیدا تو رحمان پر قربان ہونے کے لیے ہی ہوا ہے لیکن اسے قوت فیصلہ دی گئی ہے وہ چاہے تو رحمان پر قربان ہو یا چاہے تو شیطان پر چاہے تو جنت میں جاری انعام وصول کرے چاہے تو دوزخ کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا دے۔ تابندہ بیگم نے لمبی سانس لی، کئی سیکنڈ وہ اپنی بات کے حصار میں رہنے کے بعد بولیں ۔ جس مردود نے اللہ کو چیلینج کیا تھا۔ انسان کو تجھ تک پہنچتے نہیں دوں گا دنیا کی لذتوں میں غرق رکھوں گا تو رب العزت نے روزے فرض کر دیے سارا دن حلال چیزیں اور لذتیں اس کے بندوں پر حرام کر دی جاتی ہیں۔ اس بدبخت نے کہا۔ میں اسے دنیا کی مصروفیات میں اتنا پھنساؤں گا کہ وہ بنانے والے کو کیا اپنے آپ کو بھی اس پاپی پیٹ اور دنیا کی خاطر بھول جائے گا جسے امام غزالی نے کہا کہ شکم کو چوڑائی میں ناپو تو ایک بالشت لمبائی میں ناپو تو بھی ایک بالشت۔ وہ ایک بالشت کے پیٹ کو بھرنے کے لیے ہر رشتہ بھول جائے گا یہاں تک کہ خدا کو بھی تو پتا ہے کیا کہا میرے رب نے؟ میرے رب نے نیند میں ، دن کی بے پناہ مصروفیات کے پیک ٹائم میں عصر کے ستانے کے وقت شام ڈھلے، جب دن بھر کے دھندے سمیٹنے کا وقت آتا ہے اور رات گئے جب بندہ مزدور کا جوڑ جوڑ انگ انگ تھکا ہوا ہوتا ہے اس نے پانچوں اوقات میں اپنے دربار میں حاضری فرض کر دی۔ دنیا دارسستی سے کسمساتے ہوئے ٹھوکریں مارتے ہیں اور اس کے منتخب بندے منتظر رہتے ہیں کب حی علی الصلوہ کی صدا آئے وہ دیوانہ وار اپنی جبیں اس کے در پر جھکائیں۔ پھر ابلیس مردود نے مال دینار تخلیق کے ساتھ ہی چومے آنکھوں سے لگائے اور کہا درہم و دینار کا بندا میرا ہو گا میرے رب نے زکوۃ فرض کر دی نہ دینے والے فتوے لیتے ہیں دینے والے ساتھ میں صدقے خیرات کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ پھر اس نے گھر کاروبار کی محبت کے وہ اسباب بنائے کہ انسان کو اسے چھوڑنا جان قربان کرنا مشکل ہو جائے تو حج اور جہاد کے حکم جاری کیے، جس میں ہجرت مشقت بھی ہے یہ سب انسان کر سکتا ہے یہاں تک کہ مانگنے پر اپنی جان بھی دے سکتا ہے لیکن اولاد دینے کا ظرف کس میں ہو گا ؟ میرے ابا میاں سید نصیر الدین لکھنوی عالم فاضل جب بھی ذوالحج کا مہینہ شروع ہوتا تو اکثر ایک بات کہا کرتے تھے۔ اگر میرا رب مجھ سے فرمائش کرے میاں نصیر الدین ! اپنی سات اولادوں میں سے ایک مجھے دے دو، تو خدا کی قسم میں سب سے الگ الگ نوعیت کی اتنی محبت کرتا ہوں کہ مجھ سے فیصلہ ہو ہی نہیں پائے گا اور میں کہوں گا مالک ! تو مجھے ہی اپنی راہ میں لے لے۔

جب ابا میاں ہر سال یہ فقرہ کہتے تو میں سمجھ ہی نہیں پاتی تھی کہ یہ کیوں ہر سال دہراتے ہیں، جب خود ماں بنی تو پتا چلا ابراہیم نے اپنی اولاد دے دی اور منی کے جس مقام پر دی اللہ رب العزت نے قیامت تک کے لیے ہر حاجی کو پابند کر دیا۔ عرفات صبح سے شام تک عمرہ ایک مرتبہ لیکن منی بار بار بلاتا ہے مکہ جاؤ طواف زیارت کے لیے تو واپس منیٰ ، عرفات جاؤ تو واپس منی۔ تین دن کنکریوں سے بھٹکانے والے کی تواضع کرو لیکن پلٹ کر اسی مقام پر آؤ جہاں اس کے بندے ابراہیم نے بیٹے کے گلے پر چھری پھیری۔ وہ زور زبردستی سے تو نہیں لے کر گئے تھے۔ یہ ان کا اکیلے کا فیصلہ تو نہیں تھا۔ کیا سیدہ ہاجرہ کی رضا مندی کے بغیر ہی منی پہنچ گئے۔ جب میں سوچتی ہوں کس دل سے ماں نے بیٹے کو چھری سے ذبح ہونے کے لیے بھیجتے ہوئے رخصت کیا ہوگا، کیسے اس کا ماتھا چوما ہو گا، کیسے اور کس نے اس ماں کے آنسو پونچھے ہوں گے جس کی آزمائش صرف شوہر سے جدا ہو کر صفا مروہ پر دوڑنے تک ہی نہیں تھی بلکہ سلسلہ طویل تھا۔ آنسو بہتے ہوئے سننے والی اور سنانے والی دونوں کے چہرے بھگو رہے تھے۔ گھر کے درودیوار پر برکات کا نزول ہو رہا تھا۔ خود سوچوسترہ اٹھارہ یا چودہ پندرہ سالہ لڑکے کے گلے پر چھری پھروانے سے رب کو کیا ملتا تھا ؟ درحقیقت یہ جواب تھا تمام مخلوقات کو، یہ ہے میرا انتخاب یہ ہے میری پسند۔ کر گزرنے پر آئے تو وہ کر گزرا کہ ملائکہ تک کے انگلیاں منہ مں دبائی ہوں گی۔ علامہ قبال نے کیا خوب کہا تھا کہ سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی ! بیٹے نے کہا، ابا جان کر گزریئے ! اس لیے کہ رب کا حکم ہے، تم کہتی ہو بچوں کے پیچھے صبح سے شام تک ہلکان ہوتی ہو۔ ان کی فرمائشیں پوری کرتی ہو پھربھی بات نہیں مانتے۔ سب کچھ تو تم لوگوں نے بچوں کو دے دیا وقت، مال، طاقت ، محبت، بچے پھر بھی ایسے فتنے کہ موبائل ہاتھ سے لو تو قیامت سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ گیم کھیل رہے ہوں ، کارٹون دیکھ رہے ہوں، انہیں روکنا ناممکن ہو جاتا ہے وہ کیسا فرزند تھا جس نے کہا کہ ابا جان کر لیں جو رب نے حکم دیا ہے بس آنکھوں پر پٹی باندھ لیں وگرنہ آپ کو میری شکل نظر آتی رہے گی اور ہاتھ کانپتے رہیں گے اور ہاں ابا جان چھری ذرا تیز کہ لیجئے گا تا کہ کام جلد مکمل ہو۔ سوچتی ہوں اس وقت رب نے کیسے فخر سے یہ منظر دیکھا اور فرشتوں کو دکھایا ہوگا۔

زمین، چرند پرند، پہاڑ، سمندر اس دن آدم اور اس کی اولاد کی عظمت کے کیسے گواہ بنے ہوں گے؟ یہ آج گند صاف کرنے سے ڈرنے والی ماؤں کو کیا معلوم۔ یہ مقام یہ معراج ایسے ہی نہیں ملتی ۔ ایسے ہی میرے رب نے عشرہ ذوالج کے دس دنوں کی ہی نہیں رات کی بھی قسم نہیں کھا لی- ایسے ہی مستند روایات کی احادیث میں درج نہیں ہو گیا کہ پورے سال میں کسی بھی نیکی کی اتنی اہمیت نہیں جتنی ان دس دنوں میں، ایسے ہی میرے آقائے نامدار نے نہیں فرما دیا تھا کہ شیطان مردود اس عشرے کی تو تاریخ کو سر پر خاک ڈال کر روتا ہے، ایسے بھی نہیں کہہ دیا تھا کہ اس دن وہ بھی معاف جس نے معافی مانگ لی اور جس نے ارادہ بھی کیا۔ ایسے ہی نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال حبشی سے فرما دیا تھا۔ بلال الله كولبيك الهم لبيك كى صدا سے زیادہ کوئی ترانہ پسند نہیں اسے اونچی آواز میں پڑھو تا کہ ارد گرد کے کنکر پتھر بھی ساتھ شامل ہو جائیں ۔ تابندہ بیگم ہچکیوں سے رونے لگیں اسماعیل کی گردن پر پھرتی چھری بھل بھل بہتا خون ۔ ممتا ہاجرہ کے دل پر جو بیت رہا ہوگا اس بیتنے کا سوچنا ابراہیم کے کانپتے ہاتھوں اور اور آنکھوں پر پٹی بندھے اسماعیل کا چہرہ دونوں ساس بہو کا چہرہ… آنسوؤں سے تر تھا۔ ساس بہو دونوں کی بس ہو چکی تھی اب تابندہ بیگم کو یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں تھی کہ جس جانور کے لیے رقم جمع کرنے سے ہی قربانی کا ثواب شروع ہو جاتا ہے، اس جانور کو گھر میں لانا اس سے بچوں کو مانوس کرنا ، اس کی گندگی صاف کرنا یہ اسی ابراہیم کی سنت کے صدقے میں کروتا کہ اس جانور کو اللہ کے راستے میں دیتے ہوئے دل اداس ہو آنکھ میں نمی ہو ایک فدیہ تھا جو اس کی بارگاہ میں بھیجا ہے وگرنہ وہ تو خود اپنی کتاب میں فرما چکا ہے کہ اسے جانور کا خون پہنچتا ہے نہ گوشت ۔ اسے تو بس وہ خدا خوفی پہنچتی ہے جسے دین دار لوگ تقویٰ کہتے ہیں اگر وہ انسان میں پیدا ہو جائے تو ہر عمل قبولیت کی معراج تک پہنچتا ہے۔ تابنده بیگم منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے، غسل خانہ میں گئیں بچوں کے آنے کا وقت بھی ہونے والا تھا۔ غسل خانہ سے نکلیں تو افروز انجم کمرے میں نہیں تھی۔ وہ باہر آئیں باہربھی اس کا سراغ نہیں ملا، ہاں اس کے کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے جھانک کر دیکھا۔ وہ بہت انہماک سے جائے نماز پر کھڑی تھی۔ تابندہ بیگم مسکرائیں ۔ یہ اس کی وہی اچھی عادت تھی غلطی تسلیم کرنے کی اور اس کا اعلا درجہ یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے رب کی بارگاہ میں دو نفل کا نذرانہ پیش کر کے معافی نامہ بھیجتی تھی اس کے بعد بندوں سے۔ میں اس جوانی کی عمر میں اتنی اچھی نہیں تھی جتنی میری بہو۔ حسرت سے تابندہ بیگم نے سوچا اور پھر ایس خیال کو جھٹک کر خود بھی شکرانے کے دو نفلوں کی ادائیگی کے لیے اپنے کمرے میں چلی ہیں ۔ رب نے ابراہیم علیہ السلام کو دوستی کے لیے منتخب کیا وہ دوستی کے معیار پر سخت امتحان کے بعد پورا اترے تو رہتی دنیا تک کی قربانی کے فدیہ میں ہر سال لاکھوں نہیں کروڑوں افراد جانور قربان کرتے ہیں اب تابندہ بیگم نے بھی اپنے اوپر لازم کیا ہوا تھا وہ اپنے حسن انتخاب کا روزانہ دونوافل کی ادائیگی سے شکرانہ ادا کیا کرتی تھیں ۔ آج تو پھر اور زیادہ بنتا تھا جونہی افروز انجم فارغ ہوئی۔ انہوں نے اسے اپنے سے قریب کیا۔ ماتھے پر بوسہ دیا اور بالکل یہی احساسات افروز انجم کے دل میں اپنی ساسں کے لیے تھے جو اس کی ساس ہی نہیں بہترین مربی بھی تھیں ، ساس کا رشتہ تو خون کا تھا، وہ ان کے پوتوں پوتی کی ماں تھی لیکن مربی کا رشتہ تو تادم آخر بلکہ تا قیامت رہنا تھا ان شاء الله .

Latest Posts

Related POSTS