Saturday, April 13, 2024

Kamzarf Afsar

جن دنوں میری عمر آٹھ برس تھی ، ہمارے گھر ایک لڑکا آیا۔ یہ ماجھے کریم کا بیٹا غفور تھا۔ ماجھے کی آٹا پینے کی چکی تھی۔ لڑکے کو اس نے مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ اسکول جاتا تھا، باپ کے ساتھ چکی پر نہیں بیٹھتا تھا۔ ابا کا تبادلہ ، گاؤں سے شہر کے اسکول میں ہوا تو ہم شہر آ گئے۔ والد صاحب نے غفور کو اپنے پاس رکھ لیا اور ماجھے کو سمجھایا کہ تمہارا لڑکا اگر پڑھنا چاہتا ہے تو پڑھنے دو ، زبر دستی چکی پر مت بٹھاؤ۔ یہ پڑھ لکھ جائے گا تو اس کی زندگی بن جائے گی۔ ماجھا، ابا کا لحاظ کرتا تھا خاموش ہو گیا اور غفور ہمارے گھر رہنے لگا۔ اب وہ روز اسکول جاتا اور دو پہر کے بعد گھریلو کام کاج کرتا۔ وہ ذہین تھا۔ والد صاحب اس پر توجہ دیتے اور اپنے بچوں جیسا برتاؤ کرتے ، تاہم ایک نوکر کی طرح وہ ہمارے سب کام کرتا، ہم  پکارتے وہ حکم بجا لاتا۔ شاید اسی وجہ سے لاشعوری طور پر وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتا گیا۔ وہ میری ماں کو اماں جان اور والد کو ابا جی کہہ کر بلاتا ، میرے ماں باپ بھی اسے بیٹا بیٹا کہتے نہ تھکتے لیکن جب کوئی کام ہوتا، وہ مجھے یا میرے بھائی کو آواز دینے کی بجائے، غفور کو ہی پکارتے ۔ اس امتیاز نے ہم بہن بھائیوں کو نکما اور کام چور بنا دیا اور ہم غفور کو اپنا ملازم سمجھنے لگے۔ وہ صورت شکل وہ صورت شکل کا بیٹا، رنگ سانولا اور نقوش بھدے لیکن جسم گٹھا ہوا اور قد چھوٹا تھا۔ یوں کہنا چاہیے ظاہر ہیت متناسب نہیں تھی۔ وہ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا کیونکہ وہ مجھے بڑا سازشی اور چالاک سا لگتا۔ اکثر اپنی چالا کی سے ہم بہن بھائی کو آپس کو لڑوا کر خود نیک اور اچھا بن جاتا اور ہماری پٹائی ہو جاتی۔ ہمارے والدین اس کی چالاکیوں کو نہ سمجھ پاتے، مگر میں سمجھ جاتی تھی۔ دل ہی دل میں غصہ کرتی لیکن اس کا کچھ نہ بگاڑ سکتی تھی کہ وہ اپنی تیزی اور پھرتی کے باعث والدہ کو پسند تھا۔ وہ ان کے بہت سے کام کر دیتا جس وجہ سے اماں اس کے رہنے سے آرام محسوس کرتی تھیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام جو ہم بہن بھائی کرنے سے کتراتے مثلاً ماں کپڑے دھوتیں تو وہ پانی کی بالٹیاں بھر بھر لاتا، کپڑے کھنگال کر الگنی پر ڈالتا جب کپڑے سوکھ جاتے تو رسی سے اتار کر تہہ کر کے الماریوں میں رکھتا۔ وہ یہ سارے کام بڑی توجہ اور دلچسپی سے کرتا، تبھی اماں کو بڑا سکون ملتا۔ وہ اکثر کہتیں۔ پرائی اولاد ہے، لیکن اپنی اولاد سے بڑھ کر سکھ دیتا ہے۔ غرض اماں اور ابا اس سے خوش تھے۔

ہم بھی چپ تھے کہ کام تو ہمارے بھی نپٹادیتا تھا لیکن ایک بات مجھے بری لگتی کہ وہ ہر قت اپنے باپ کو برا بھلا کہتارہتا تھا۔ جب اسے پڑھانے بیٹھتے ، غفور کے لبوں پر یہی الفاظ ہوتے کہ ماسٹر صاحب اگر آپ مجھے اپنے پاس نہ رکھتے، تو آج میں گاؤں میں مٹی اور گوبر ڈھو رہا ہوتا یا چکی کا گدھا بن جاتا۔ آپک آپ کی بدولت علم کی دولت نصیب ہوئی ہے۔ ایک میرا باپ ہے، جس نے مزدور بنانے کی خاطر مجھے گھر سے نکال دیا۔ اللہ اسے غارت کرے۔ ابا اس کو سمجھاتے کہ اپنے باپ کو برانہ کہو، لیکن یہی ایک بات وہ نہ سمجھتا تھا۔ جب اس نے میٹرک پاس کر لیا تو ابا نے چاہا کہ وہ گاؤں لوٹ جائے اور کام میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹائے ، مگر وہ نہ مانا۔ منت کرنے لگا کہ آپ کا بیٹا ہوں۔ آپ کے پاس رہوں گا، کالج پڑھوں گا۔ میٹرک میں اس نے فرسٹ ڈویژن لی۔ والد صاحب نے کالج میں داخل کروا دیا، مگر کالج جا کر بھی وہ  نہ بدلا۔ اسی طرح کام کاج میں میرے والدین کا ہاتھ بٹاتا رہا۔ گائے کا چارہ لاتا، دودھ دوہتا، بازار سے    سودا سلف لاکر دیتا، مہمان آجاتے تو ان کی خاطر داری میں مدد کرتا۔ غرض بیسوں کام اس کے ذمے تھے۔ بی اے کے بعد وہ ہمارے گھر سے چلا گیا، لیکن اپنے باپ کے پاس نہیں گیا۔ کچھ دنوں لاپتا رہا، بعد میں کسی نے بتایا کہ لاہور میں پڑھ رہا ہے۔ مجھے افسوس ہوتا کہ اس کے رہنے سے میرے بھائی  کام چور ہو گئے تھے۔ وہ پڑھائی سے بھی جی چرانے لگے ۔ میٹرک بھی نہ کر سکے جبکہ ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والا ایک معمولی لڑکا پولیس میں انسپکٹر ہو گیا۔ تربیت پاس کرنے کے بعد اس نے ہمارے ہی شہر میں ڈیوٹی شروع کر دی۔ کبھی کبھی ہمارے گھر آتا تو میرے والدین خوش ہو کر اس کی خاطر داری کرتے اور میرے بھائی کو اس کی مثال دیا کرتے۔ ایک دن اس نے والد صاحب سے کہا کہ وہ ان کا داماد بن کر ہمیشہ کے۔ لئے اس گھر سے جڑ جانا چاہتا ہے وہ وہ کہ کسی صورت ہم لوگوں سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتا۔  اس نے گویا ابو سے میر ارشتہ طلب کیا تھا جبکہ میری منگنی تو بچپن میں خالہ زاد سے طے تھی اور ویسے بھی وہ مجھے بالکل بھی پسند نہ تھا۔ ہم بہن بھائی تو ابھی تک اس کو اپنا ملازم ہی تصور کرتے تھے۔ امی نے مجھے افسردہ دیکھا تو صاف انکار کر دیا اور غفور سے کہا۔ میری بیٹی کی منگنی ہو چکی ہے۔ تم سے  رشتہ داری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر وہ منہ لٹکا کر چلا گیا۔ بہت دنوں تک وہ ہمارے گھر نہ آیا، ہم یہی سمجھے کہ رشتے سے انکار پر ناراض ہو گیا ہے۔ اس بات کو چند ماہ گزرے تھے کہ ایک روز صبح سویرے کچھ پولیس والے آئے اور والد صاحب کو بلا کر ایسی بات کہی کہ وہ سکتے میں آ گئے۔ گھبرائے ہوئے اندر آئے اور امی کو ایک طرف لے جا کر بولے۔ پولیس والے کہتے ہیں ، تمہاری لڑکی کا چال چلن ٹھیک نہیں ہے۔ وہ کسی مشکل سے نجات پانے کے لئے کسی نرس کے پاس گئی تھی، جس نے اس کے بارے میں یہ رپورٹ درج کرائی ہے۔ امی چیخ اٹھیں کہ یہ جھوٹ ہے، سراسر بہتان ہے۔ ہماری پروین  ایسی نہیں ہے۔ ان دنوں میں سلائی کڑھائی کے اسکول جاتی تھی اور ڈپلومہ لینے والی تھی کہ امی نے مجھے یہ بات بتائی۔ میں رونے لگی۔ یہ ایسی بات تھی، جو کوئی بھی لڑکی برداشت نہیں کر سکتی، جبکہ میں نے تو کبھی کسی غیر مرد کا منہ تک نہ دیکھا تھا۔ نہ میرا ایسا ویسا کسی شخص سے رابطہ یا واسطہ تھا۔ بھلا اتنا بڑا الزام کیسے سہتی ؟ غم و غصے سے تڑپ کر رہ گئی۔ ابا بیچارے گھبرائے ہوئے بیٹھک میں گئے ، جہاں پولیس کا حوالدار بیٹھا ہوا تھا۔ اس سے کہا کہ یقینا آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میری بیٹی بہت نیک اور شریف ہے۔ وہ قطعی غلط چال چلن والی نہیں ہے۔ اس بات کی تصدیق ، اس کی ماں نے کی ہے۔ یہ کوئی اور پر وین ہو گی۔ آپ مہربانی سے دوبارہ رپورٹ کی پڑتال کریں۔ حوالدار نے آنکھیں نکال کر کہا ۔ میاں تم ایسے بہت سے شریف دیکھے ہیں۔ سبھی خود کو شریف کہتے ہیں۔ پروین ولد ماسٹر غیاث یہی تو نام ہے۔ مکان نمبر بھی تمہارا ہے۔ ہمیں غلط فہمی نہیں ہوئی۔ یہ رپورٹ تمہاری لڑکی کے بارے میں ہے۔ لڑکی کو گرفتار کر کے تھانے لے جانا ہے۔ آگے تفتیش میں جو ہو ، سامنے آ جائے گا۔

میرے والد ایک باریش معلم ، وہ تو رونے لگے ، مگر پولیس والا کب مانتا تھا۔ کہا۔ اس وقت تو پولیس کو بے گناہی کا ثبوت چاہیے۔ لڑکی کی میڈیکل رپورٹ کرانی ہو گی۔ ابا دہائی دینے لگے کہ بن بیاہی بچی کو میں کیونکر مطب لے جا کر تصدیق کا سر ٹیفکیٹ لوں۔ یہ میری غیرت گوارا نہیں کرتی۔ مجھ بے قصور کی سارے زمانے میں پگڑی اچھل جائے گی۔ آخر کار وہی ہوا کہ معاملہ کچھ دینے دلانے پر ٹھنڈا پڑا اور پولیس نے مجھ کو گرفتار نہ کیا، لیکن حولدار کہہ کر گیا کہ کیس کو ختم نہ سمجھے، میں آپ کو دو روز کی مہلت دیتا ہوں۔ مجھے دوبارہ تو آنا ہی پڑے گا۔ ابا جان بوکھلائے ہوئے تھے، میری تو کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا معاملہ کیا ہے۔ امی نے مشورہ دیا کہ غفور اپنا لڑکا ہے اور سب انسپکٹر بن گیا ہے ، اس کو بلوا کر مشورہ کرو۔ کسی دوسرے کے سامنے قصہ بیان کرنے سے بدنامی ہو جائے گی۔ والد صاحب غفور کے پاس گئے۔ اس نے کہا کہ میں صاحب کے پاس جاؤں گا تو وہ کہے گا تم کیوں حمایتی بنتے ہو ؟ اگر انہوں نے لڑکی گرفتار کر لی تو تھانے تک جاتے جاتے بڑی بد نامی ہو جائے گی۔ بے شک لڑکی بے قصور ہو مگر یہاں لوگوں کی زبانیں کون بند کرے گا۔ پروین سلائی کے اسکول جاتی ہے ، کیا خبر آپ لوگوں کو پتا نہ ہو۔ اس عمر کی لڑکیاں نادان ہوتی ہیں اور راز تبھی کھلتا ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ طرح طرح کی باتیں کر کے غفور نے ابا جان کو قائل کر لیا کہ معاملہ پولیس کا ہے۔ اب جان پر کھیل کر عزت تو بچانی ہوگی، ورنہ بات گھر سے نکل گئی تو عزت نہ بچ سکے گی۔ تو پھر تم ہی کوئی حل نکالو۔ والد نے التجا کی۔ ایک حل ہے اس مسئلے کا۔ آپ پر وین کا نکاح مجھ سے کر دیجئے۔ وہ قصور وار ہے یا بے قصور ، مجھے منظور ہے۔ اسے اگر میرا ساتھ منظور نہ ہوا تو کیس ختم کروا کے ، میں اس کی خوشی کی خاطر طلاق دے دوں گا۔ فی الحال آپ کی امانت ہو گی، کیس سے تو جان چھڑائیے۔ میں پولیس انسپکٹر ہوں ، پروین میرے نکاح میں آجائے، پھر دیکھتا ہوں کہ کون اسے گرفتار کرنے آتا ہے۔ ابا کو غفور پر اعتبار تھا۔ انہوں نے اس کے کہنے پر عمل کیا اور میرا اس کے ساتھ نکاح کر دیا، مگر شرط یہی رکھی کہ جب تک کیس سے جان نہیں چھوٹتی رخصتی نہ ہو گی اور کیس ختم ہونے کے بعد بھی پروین رضامند نہ ہوئی تو تم کو طلاق دینی ہو گی پھر ہم اس کی شادی اس کے منگیتر سے ہی کریں گے۔ غفور نے اقرار کیا۔ ہاں ہاں ماسٹر صاحب، مجھے تو صرف آپ کی عزت بچانی مطلوب ہے۔ ایسا ہی ہو گا۔ میں ہر گز نکاح کا چرچہ نہ کروں گا۔ کیس تو دو چار دنوں میں ختم ہو گیا کیونکہ یہ پولیس والا حولدار غفور کا دوست تھا اور اس کی ملی بھگت سے محض ڈرانے آیا تھا تا کہ والد میرا نکاح غفور سے کر دیں۔ یوں غفور نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ نکاح کے بعد وہ کھلے بندوں ہمارے گھر آنے جانے لگا۔ مجھ سے مخاطب ہوتا، کھانے پکواتا اور حکم چلانے کی کوشش کرتا۔ ادھر جب میرے منگیتر کو علم ہوا تو انہوں نے منگنی توڑ دی بالآخر ایک دن غفور مجھے بیاہ کر اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ شادی کے بعد وہ ٹھیک رہتا تو شاید مجھے اس قدر پچھتاوا نہ ہوتا لیکن ایسا نہ ہوا۔ شادی کے بعد اس نے نہایت گھٹیا پن کا ثبوت دیا۔ والدین کو مجھ سے ملنے سے روک دیا۔ ابا جان نے اسے سمجھانا چاہا تو انہیں جھوٹے کیسوں میں ملوث کر دیا۔ جب میں نے احتجاج کرنا چاہا تو مجھے مارتا۔ میرے ذہن نے اسے شوہر قبول ہی نہ کیا اور اس نے مجھ پر حاکمیت شروع کر دی۔ ایک دن مجھے دروازے کے ساتھ باندھ کر چلا گیا کہ تمام دن ایسے کھڑی رہو گی تو دماغ خود ہی ٹھکانے آجائے گا۔ میں رو رو کر پاگل ہوئی جاتی تھی گھر کو باہر سے تالا ڈال کر چلا جاتا۔ اولاد ہو گئی ، وہ پھر بھی نہ بدلا۔ اس کی ذہنی حالت اور نفسیات کچھ عجیب و غریب  تھی۔ رو رو کر زندگی کئی۔ کتنے ظلم سہے، لکھنے کی تاب نہیں۔ کیا کسی کو بلیک میل کر کے ، زبردستی بیوی بنا کر اس کے  ساتھ زندگی گزارنا جائز امر ہے؟ والدین چاہتے ہوئے بھی مجھے طلاق نہ دلوا سکے کہ ان کے مقابل ایک با اثر آفیسر تھا-

Latest Posts

Related POSTS