Kanton Bhari Rah Main | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2508
رزند کی خواہش تو سبھی کرتے ہیں لیکن اچھے بیٹے صرف نصیب والوں کو ملتے ہیں۔ ناصر ہمارا اکلوتا بھائی تھا۔ باپ کا سایہ سر پر نہ ہونے کی وجہ سے خود مختار ہو کر پلا بڑھا اور پھر آوارہ ہوگیا۔ ماں بیٹے کی صورت دیکھ کر جیتی تھیں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ناصر نے کوئی فرمائش کی ہو اور والدہ نے پوری نہ کی ہو۔ اس بات پر ہم بہنیں خفا ہوجایا کرتیں کہ والدہ بیٹے کو ہم سے زیادہ چاہتی ہیں۔ وہ خود بھی مانتی تھیں کہ ناصر کی محبت میں ہماری حق تلفی کرجاتی ہیں۔ لیکن بیٹے کی محبت میں کمی لانا ان کے اختیار کی بات نہ تھی۔
ہم اس بات کے عادی ہوچکے تھے لیکن ماموں جان کو اپنی بہن کا بچوں کے ساتھ یہ امتیازی رویہ کھلتا تھا۔ وہ سمجھاتے… آپا اولاد کے حقوق برابر ہوتے ہیں پھر آپ کیوں بچیوں پر لڑکے کو ترجیح دیتی ہیں۔ جواب دیتیں۔ یہ میرے بڑھاپے کا سہارا جو ہے۔
انسان کچھ سوچتا ہے لیکن وقت نے کچھ اور طے کر رکھا ہوتا ہے۔ والدہ پر کسی کے سمجھانے کا کوئی اثر نہ ہوا اور ماموں جان، نانا کی وفات کے بعد اپنے حصے کی کچھ پراپرٹی فروخت کرکے کینیڈا چلے گئے۔ وطن میں کوشش کے باوجود ان کو اپنی تعلیمی قابلیت کے باوصف ملازمت نہ مل سکی۔ وطن میں رہ کر معمولی آمدنی سے شاید وہ گزارہ تو کرلیتے لیکن امی جان اور ان کے چار بچوں کا خرچہ بھی انہی کو اٹھانا تھا، لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں اپنے وطن کو خیرباد کہنا پڑا۔ ان کے جانے سے والدہ بہت زیادہ اکیلی ہوگئیں، تاہم ناصر کے دل میں شادیانے بجنے لگے۔ کچھ ماموں کا ڈر تھا۔ تبھی وہ اسکول جاتاتھا جب وہی چلے گئے تو میرے بھائی کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اس نے نویں کا سالانہ امتحان نہ دیا اور اسکول سے نکل بھاگا۔
ہمارے محلے میں ایک گھرانہ ایسا تھا جہاں چار لڑکے تھے اور چاروں آوارہ تھے۔ انہوں نے میرے بھائی کو آگھیرا اور اپنے چنگل میں پھنسالیا۔ والدہ گھر سے باہر نہ جاتی تھیں ہم بھی پردے کی پابند تھیں باہر کی سرگرمیوں کا پتا نہ تھا۔ ناصر کی بن آئی، ماموں کے پردیس سدھارتے ہی وہ محلے کے اس آوارہ گروہ کے نرغے میں آگیا جو چرس پیتے اور جوا کھیلتے تھے۔
اب ہمارے برے دن آگئے۔ والدہ گھر پر سلائی مشین چلا کر آمدنی کا چارہ کرتیں تو ہم ٹیوشن پڑھا کر تعلیم کا خرچہ جمع کرتیں ان حالات میں ناصر ہمارے سروں پر لٹکتی تلوار کی طرح تھا۔ وہ روز ہی رقم کا تقاضا کرتا اور والدہ سے زبردستی ہماری محنت کا ثمر چھین لے جاتا۔ ماموںنے کینیڈا جاکر ہم سے سال تک رابطہ نہ کیا اور یہ سال ہم پر قیامت بن کر بیتا۔ بالآخر ان سے رابطہ ہوا لیکن ماں نے بیٹے کے کرتوت پھر بھی بھائی کے گوش گزار نہ کئے کہ ان کی محبت اورشفقت میں کمی آجائے۔
ماموں نے کینیڈا میں قدم جمالئے تو باقاعدہ خرچے کی رقم بھجوانی شروع کردی۔ ہم نے سکھ کا سانس لیا اور دو وقت کا چولہا باقاعدگی سے جلنے لگا۔ تاہم ناصر اور شیر ہوگیا اس کی وجہ سے گھر کا سکون برباد ہی رہا۔
ان دنوں ہم تینوں بہنیں کالج جاتی تھیں۔ تعلیم کے اخراجات ماموں اٹھاتے تھے۔ ہمیں اس امر کا شدت سے احساس تھا کہ والدہ ماموں کی محتاج ہیں جبکہ ہم لڑکیاں ان کے کندھوں کا بوجھ ہیں۔ والدہ اپنے بھائی پر تاعمر بوجھ نہ رہنا چاہتی تھیں مگر مجبور تھیں۔
کسی کو میکے کا آسرا ہوتا ہے کسی کو سسرال کا… امی کے پاس یہ دونوں سہارے نہیں تھے۔ امی کے سسرال والے میرے والد کے اس جہاں سے رخصت ہوتے ہی کنارہ کش ہوگئے اور امی کے میکے والے سب انڈیا میں رہ گئے تھے۔ ایک ماموں ہی تھے جن کا انہیں آسرا تھا جب ماموں کا فون آجاتا ان کی خوشی دیدنی ہوتی۔ وہ تمام دن خوش نظر آتیں… ورنہ زیادہ تر افسردہ رہا کرتی تھیں۔ دراصل ناصر کی بے راہ روی ان کو مارے ڈالتی تھی۔ وہ راتوں کو غائب رہتا، ماں اس کے غم میں گیلی لکڑی کی طرح سلگتی رہتی۔ بیٹے پر کنٹرول ان کے بس کی بات نہ تھی وہ جوں جوں بڑا ہو رہا تھا اس کی طرف سے ملنے والے دکھ بھی پھیلتے جارہے تھے وہ اس دکھ سے بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپتی تھیں۔
میں اور منجھلی بہن محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتیں کچھ بچے شام کو گھر آجاتے اور کچھ کو ان کے گھر جاکر پڑھانا ہوتا۔ یہ سب ہمارے پرانے پڑوسی تھے اور
حالات سے واقف تھے۔ تبھی ہم سے حسن سلوک رکھتے اور اپنی بیٹیوں جیسا جانتے… کبھی کبھی ہمارے شاگردوں کی مائیں بے حد افسوس کرتیں کہ کاش تمہارے والد زندہ ہوتے یا پھر بھائی ہی کسی کام کا ہوتا تو تمہیں در در چند روپوں کی خاطر نہ جھانکنا پڑتا۔ لوگوں کی باتیں سن کر دل پر گہرا اثر ہوتا اور ہم بہنیں آپس میں عہد کرتیں کہ تعلیم حاصل کرکے ضرور کچھ بنیں گی تاکہ والدہ کو ماموں کی محتاجی سے نجات مل جائے اور وہ سکون سے جی سکیں۔
بے شک ہمارے ماموں بہت اچھے انسان تھے لیکن ہر انسان کی اپنی بھی زندگی ہوتی ہے۔ اسے اپنی خوشیاں حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے جبکہ ہمارے ماموں نے تو ہماری خاطر ابھی تک شادی بھی نہیں کی تھی۔ ناصر سے وابستہ امی جان کی تمام امیدیں وقت کے ساتھ ساتھ خاک میں ملتی جاتی تھیں۔ سب چاہتے تھے کہ ماں اور بہنوں کا احساس کرے اور سدھر جائے مگر وہ نہ سدھرا۔ یونہی کئی برس گزر گئے۔ ہم تینوں بہنوں نے کالج کی تعلیم مکمل کرلی اور ناصر بائیس برس کا جوان ہوگیا۔
ایک دن کینڈا سے ماموں کا فون آیا کہ نجو آپا میرا پردیس سے دل بھر گیا ہے۔ یہاں بالکل اکیلا ہوں، غیر قوم میں دل نہیں لگتا۔ تمہاری اور تمہارے بچوںکے خیال سے کمانے نکلا تھا کہ اتنا کمالوں کہ میرے یتیم بھانجا، بھانجیاں تعلیم مکمل کرلیں۔ ماشاء اللہ اب وہ بھی بڑے ہوچکے ہیں۔ ارادہ کیا ہے کہ کینیڈا کو خیرباد کہہ کر ہمیشہ کے لئے وطن آجائوں۔ میں نے یہاں شادی کرلی ہے، بیوی پاکستانی ہے اور وطن آنا چاہتی ہے۔
والدہ نے خوش ہو کر کہا۔ بھائی اس دن کا میں بے چینی سے انتظار کررہی تھی۔ میری زندگی کا سب سے زیادہ خوشیوں بھرا دن وہی ہوگا جب تم وطن لوٹ کر آئو گے۔
ماموں جان نے آنے کا عندیہ دے دیا۔ امی جان نہال تھیں۔ شکرانے کے نفل ادا کرتی تھیں۔ کہتی تھیں صد شکر کہ میرا بھائی واپس آرہا ہے۔ اب بے آسرا نہ رہوں گی کوئی تو اپنا ہوگا۔ ہم بھی خوش تھے کہ ماموں ممانی اور ان کے بچے ہمارے ساتھ رہیں گے۔
پاکستان آتے ہی ماموں نے ہمارے گھر کے قریب پلاٹ خرید کر مکان بنوالیا۔ ان کے تین بچے تھے۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا جس کا نام نایاب تھا۔ وہ پانچ سال کا تھا ماموں کے تینوں بچے انگلش بولتے تھے۔ وہ اردو بالکل نہ جانتے تھے۔ وہ تینوں ہمارے پاس روزانہ اردو پڑھنے آنے لگے۔ ہم ماموں کے بچوں سے پیار کرتے تھے۔ ممانی ہم سے خوش تھیں یوں بھی اچھی فطرت کی تھیں۔ امی کا خیال رکھتیں، ہم ان سے اپنے دکھ سکھ بانٹ سکتے تھے۔ جہاں ہم اپنوں کے آنے پر خوش تھے وہاں ناصر بھائی کے برے اعمال کا بوجھ بھی دلوں پر دھرا تھا۔
شروع میں ماموں کو علم نہ ہوا کہ ناصر کو جوا کھیلنے کی لت پڑ گئی ہے اسے جیب خرچ دیتے اور وہ جوئے میں ہار کر آجاتا۔ امی اپنے بھائی کو کچھ نہ بتاتیں کہ بیٹا ماموں کی نظروں سے نہ گر جائے، تاہم محلے والوں سے ملنا جلنا ہوا انہوں نے ان کے کانوںمیں کچھ باتیں ڈال دیں اور میرے ماموں بھانجے کی طرف سے سوچوں کے الائو میں گر گئے۔
ماموں نے بہت کوشش کی کہ ناصر راہ راست پر آجائے۔ اس کو اپنے ہمراہ کام پر بھی لگانا چاہا مگر وہ ان کے قابو میں نہ آیا۔ بالآخر تھک ہار کر انہوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اور جیب خرچ کے طور پر جو رقم دیتے تھے بند کردی۔ اب ان کو تمام صورتحال کا اچھی طرح اندازہ ہوچکا تھا۔
نانا کے ترکے سے کچھ جائداد والدہ کے حصے میں آئی تھی۔ ماموں نے پراپرٹی فروخت کی تو امی جان کے حصے میں جو رقم آئی وہ انہوںنے بینک میں جمع کرادی تھی۔ والدہ سے کہا کہ یہ تمہارا حق ہے جب چاہو رقم نکلوا سکتی ہو۔ امی بولیں فی الحال اپنے پاس رہنے دو مجھے ضرورت نہیں ہے۔ آگے بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں تب ضرورت ہوگی اور یہ رقم کام آئے گی۔
اتفاق سے ناصر نے امی اور ماموں کی یہ گفتگو سن لی۔ اس نے والدہ سے اس رقم کا تقاضا کرنا شروع کردیا۔ ماموں کو پتا چلا کہ رقم کے لئے ماں کو تنگ کررہا ہے انہوں نے اسے بلا کر کہا۔ ناصر تم نالائق نکلے اگر تم ایک ذمہ دار انسان ہوتے تو میں خود اس سرمائے کو تمہارے حوالے کردیتا تاکہ تم کوئی کاروبار وغیرہ کرتے لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے۔ نہیںچاہتا کہ میرے باپ کا ترکہ تم جوئے میں ہار جائو۔ ہم تم پر بھروسہ نہیں کرسکتے، لہٰذا اس رقم کا خیال دل سے نکال دو۔ جس دن تم خود کو نیک اور ذمہ دار
کروگے ہم یہ رقم تم کو دے دیں گے۔ تمہاری تین جوان بہنوں کا بیاہ بھی کرنا ہے یہ رقم ان کے کام آئے گی۔
ناصر کو ماموں کا یہ کہنا شاق گزرا۔ اسے کسی پہلو قرار نہ تھا۔ جواری جب تک گھر کی اینٹ سے اینٹ نہ بجادے اسے چین نہیںآسکتا۔ اب وہ رات دن اسی خیال میں رہنے لگا کہ کسی طرح ماموں سے یہ رقم نکلوالوں۔ اللہ جانے اس کے مجرمانہ ذہن میں کیسے کیسے منصوبے آتے ہوں گے اور اپنے جیسے دوستوں سے وہ ان منصوبوں کو شیئر بھی کرتا ہوگا۔
ایک دن جب ماموں چھٹی کے باعث گھر پر تھے، ناصر آخری کوشش کے طور پر ان کے پاس گیا اور کہا کہ امی جان کی جو رقم آپ کے پاس ہے وہ مجھے دے دیں کیونکہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے اپنی زندگی بنانا چاہتا ہوں۔
ناصر یہ سرمایہ تمہاری ماں کی امانت ہے میں اسی کو دوں گا اور مناسب وقت پر دوں گا۔ اچھا بتائو کہ تمہیں اس رقم کی کیوں ضرورت ہے۔ مجھے مطمئن کردو تو شاید میں اپنی رقم سے اس ضرورت کو پورا کردوں۔ ناصر کو جوئے کے لئے رقم چاہیے تھی وہ ماموں کو کیا بتاتا۔ ان کو مطمئن کرنے کے لئے کوئی جواب اس کے پاس نہ تھا، تب ماموں غصے میں آگئے اور بولے۔ برخوردار رقم کا یہ معاملہ تم سے متعلق نہیں ہے اور نہ یہ تمہارے والد کا چھوڑا ہوا ترکہ ہے۔ یہ میرا اور میری بہن کا معاملہ ہے میں جانوں اور آپا جان جانیں، آئندہ تم اس بارے میں کبھی مجھ سے بات مت کرنا۔
ناصر کو اس جواب پر سخت غصہ آیا۔ وہ پیچ و تاب کھاتا چلا گیا۔ تمام رات غصے سے کھولتا آنگن میں ٹہلتا رہا۔ ہم میں سے کسی نے اس کے منہ لگنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ جب کبھی وہ جوئے میں ہار کر آتا ایسے ہی بے قراری سے رات بھر آنگن میں ٹہلتا تھا۔
اس اثناء میں ماموں ہمارے گھر نہ آسکے ان کو کسی کام کے سلسلے میں اسلام آباد جانا تھا وہ چلے گئے۔ امی کو علم نہ ہوا کہ ناصر رقم مانگنے گیا تھا اور انہوںنے انکار کردیا تھا۔
ناصر نے اپنے بدقماش دوستوں کو ساتھ ملا کر ماموں کے بیٹے نایاب کو اغوا کرکے ماموں سے تاوان مانگنے کا منصوبہ بنالیا اور ایک دن جبکہ نایاب ہمارے گھر سے ٹیوشن پڑھ کر اپنے گھر جانے کے لئے نکلا۔ ناصر کے ایک دوست نے بہلا پھسلا کر بچے کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھالیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔
اللہ جانے وہ اسے کہاں لے گئے۔ ماموں شام کو اسلام آباد سے لوٹے تو ممانی نے کہا۔ نایاب ٹیوشن پڑھ کر ابھی تک نہیں لوٹا ہے۔ آپا کے گھر جاکر لے آئیے۔ چونکہ ہم ماموں کے بچوں کو بہت پیار کرتے تھے اکثر دیر تک ہمارے پاس رہ جاتے تھے۔
ماموں نے گھر آکر نایاب کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ اسے یہاں سے گئے کافی دیر ہوچکی ہے لیکن وہ گھر تو نہیں پہنچا۔ ماموں کا گھر زیادہ دور نہ تھا۔ سامنے و الی لین میں تھا۔ بس چند قدم کا فاصلہ تھا۔ ان کے بچے اپنے گیٹ سے دوڑ کر ہمارے گھر آجاتے تھے۔
ہمارے گھر کے آگے ڈیوڑھی تھی اور دروازہ کھلا رہتا تھا۔ نایاب کے بارے میں سن کر ہم بھی متفکر ہوگئے۔ سامنے میدان تھا جہاں محلے کے بچے اکثر کھیلتے تھے۔ کہیںمیدان میں نہ چلا گیا ہو۔ امی نے کہا۔ ماموں فوراً ادھر گئے وہاں بھی نہ تھا، اب وہ پریشان ہوگئے تو میں اور معظمہ بچوں کا پتا کرنے محلے کے گھروں میں گئیں۔ ناصر کی طرف کسی کا دھیان نہ گیا کیونکہ اسے دو دن ہوچکے تھے گھر سے گئے، وہ واپس ابھی تک نہ آیا تھا۔ یہ اس کا معمول تھا، سبھی نے اسے اس کے حال پر چھوڑ رکھا تھا۔
شام سے رات ہوگئی۔ ماموں بیٹے کی تلاش میں پھرتے رہے۔ ممانی پریشان رات کے دس بجے ہمارے گھر آئیں۔ اسی وقت ناصر بھی آپہنچا۔ تب وہ اس سے بولیں۔ ناصر بیٹے، نایاب کا ابھی تک پتا نہیںہے تم اسے ڈھونڈو۔ ممانی آپ فکر نہ کریں ابھی دیکھتا ہوں۔ جہاں کہیں ہوگا ڈھونڈلائوں گا۔ ہم سب رو رہے تھے۔ امی سجدے میں گری تھیں۔ بار بار خیال آرہا تھا کہ کہیں ادھر کی گلی میں نہ نکل گیا ہو اور پھر رستہ بھول گیا۔ کیا خبر کسی نے پکڑ لیا ہو۔
یہ رات ہم پر قیامت کی طرح گزری۔ صبح ناصر آیا بولا۔ سارا شہر چھان مارا ہے۔ کھیتوں کی طرف بھی دیکھ آیا ہوں اس کا کہیں پتا نہیں چلا۔ نالے میں نہ گر گیا ہو۔ یہ سن کر ممانی زور زور سے رونے لگیں۔ اب وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں اور ناصر تسلیاں دے رہا تھا۔ فکر نہ کریں ممانی وہ ضرور مل جائے گا۔
ماموں پولیس اسٹیشن سے منہ لٹکائے واپس آگئے۔وہ


بھی رو رہے تھے جیسے کسی نے جسم سے روح کشید کرلی ہو۔ تبھی ان کے فون کی گھنٹی بج گئی۔ کسی نے ہیلو کہا اور پھر بچے کی آواز سنا کر تاوان کی بات کی۔ ماموں نے فوراً حامی بھرلی اور پوچھا رقم کہاں دی جائے۔
فون پر ہدایت ملی آپ خود نہیں بلکہ رقم اپنے کسی رشتے دار کے ہاتھ میں دیں، وہی ہمیں پہنچانے آئے۔ آپ کا بھروسہ نہیں کیا خبر ہمیں پکڑوادیں۔ یاد رکھنا اگر ایسی کوئی کوشش کی تو آپ کا بچہ جان سے جائے گا۔ ماموں کا چہرہ سفید اور لب خشک تھے۔ انہوںنے ہمت جمع کرکے جواب دیا۔ ’’بچہ صحیح سلامت چاہیے جو کہو گے مانوں گا۔‘‘
ماموں پولیس میں رپورٹ لکھوا چکے تھے، پولیس اپنے طور پر الرٹ ہوچکی تھی۔ انہوںنے ماموں کی فون کالز ٹیپ کرنے کا بھی بندوبست کرلیا تھا۔ انہوں نے از خود کارروائی کرنے کی تیاری کرلی۔
ماموں نے مطلوبہ رقم بریف کیس میں ناصر کے حو الے کردی اور خود کچھ فاصلے تک اس کے ساتھ گئے۔ پھر جہاں انہیں رکھنے کی اغوا کنندگان نے ہدایت کی تھی وہاں رک گئے۔ انہوں نے پولیس کو اغوا کاروں کے فون کے بارے میں خوف کے باعث اطلاع نہیں دی تھی لیکن پولیس اپنے طور پر عین اس وقت وہاں پہنچ گئی جہاں ناصر سے اغوا کار تاوان وصول کرنے آرہے تھے۔ یوں انہوں نے ان سب کو تحویل میں لے لیا۔ صد شکر کہ وہ نایاب کو بھی تحویل میں لینے میں کامیاب ہوگئے اور ناصر کو گواہی کے لئے اپنی گاڑی میں ساتھ بٹھالیا۔
جب ان تاوان طلب کرنے والوں کو پولیس والوںنے اپنے طریقے سے سچ اگلوایا تو انہوں نے بتادیا کہ اصل منصوبہ کار خود اس بچے کا ماموں زاد بھائی ناصر ہے جس نے ہم سے تعاون کی درخواست کی تھی اور موٹی رقم کا لالچ دیا تو ہم اس کے ساتھ ہوگئے۔ ان کے بیانات پر ماموں کو یقین نہ آرہا تھا۔ ان میں سے ایک بدمعاش نے ثبوت کے طور پر وہ گفتگو جو ٹیپ شدہ تھی پولیس کے حوالے کی جس میں نایاب اپنے ماموں کے معصوم لخت جگر کو اغوا کرنے کا منصوبہ بتا رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں بچے کے سامنے نہیں آئوں گا ورنہ یہ مجھے پہچان کر والدین کو آگاہ کرسکتا ہے۔ مجھے پس پشت رہنا ہوگا۔ بچے کو تم نے گھر کے باہر سے اٹھانا ہے البتہ رقم میں لائوں گا اور پھر بچہ تم میرے حوالے کرو گے۔
اب شک کی کوئی گنجائش نہ رہی تھی۔ ناصر ہی کا یہ کارنامہ تھا اور ناپختہ ذہن کا منصوبہ اب طشت ازبام ہوچکا تھا۔ والدہ یہ سب جان کر بے ہوش ہوگئیں۔ ناصر پولیس کی تحویل میں تھا اور ہم سب صد شکر ادا کررہے تھے کہ نایاب زندہ سلامت واپس مل گیا تھا۔ اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا تھا۔ یہ بھی میرے ماموں ممانی کی اچھی قسمت تھی ورنہ نشہ کرنے اور جوا کھیلنے والے بے ضمیر لوگوں سے کچھ بعید نہ تھا کہ اپنی لتوں کو پورا کرنے کی خاطر بالآخر ان کی غیرت اور حمیت مرجاتی ہے اور وہ بے ضمیر ہوکر کچھ بھی کرگزرتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ماموں ممانی اس قدر خوفزدہ ہوگئے کہ انہوں نے جلد جلد ہم دو بڑی بہنوں کی شادیاں دو سگے بھائیوں سے کرادیں اور چھوٹی بہن کو والدہ کے پاس چھوڑ کر واپس کینیڈا چلے گئے اور اپنا نیا مکان کرائے پر اٹھادیا۔ امی جان سے کہا۔ آپا اب بس اتنا ہی کرسکتا ہوں کہ اس مکان کا کرایہ آپ لیتی رہیں۔ جب تک چھوٹی بیٹی کا بیاہ نہیں ہوجاتا۔ پھر اپنی کسی بیٹی کے گھر شفٹ ہوجانا۔
داماد اگر نیک ہوں تو وہ برے بیٹوں سے اچھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے ٹھیک کہا تھا میں نے اپنی ساس سے کہہ کر چھوٹی کا رشتہ بھی اپنے شوہر کے رشتے داروں میں ایک اچھے گھرانے میں کروادیا اور میرے شوہر امی جان کو سمجھا بجھا کر ساتھ لے آئے۔ ناصر جیل میں تھا اس کے کیس کی پیروی کوئی نہ کررہا تھا۔ اولاد اچھی ہو یا بری ماں کے دل سے نہیں جاتی۔ امی جان دن رات ناصر کی خاطر روتی تھیں، تب میں نے اپنے وکیل جیٹھ کی منت سماجت کرکے ناصر کی مقدمے سے گلوخلاصی کروادی، مگر اس کی رہائی کے بعد بھی والدہ کو چین نہ تھا۔ ہر وقت کہتی تھیں تیرے باپ کے گھر میں تالا پڑا ہوا ہے مجھے اپنے گھر جانے دو۔
اس کے باپ کا گھر میرے بیٹے کا ایک ٹھکانہ تھا۔ گھوم پھر کر آخر اپنے گھر جاتا تھا اب نجانے کس قمار خانے پڑا ہے۔ امی کو کافی سمجھایا گیا کہ بیٹے کا خیال دل سے نکال دیں اور اب باقی بڑھاپا آرام سے ہمارے ساتھ رہ کر گزاردیں۔ میں امی جان کا بہت خیال رکھتی تھی۔ ان کو پھولوں کی طرح رکھا ہوا
لیکن انہیں آرام نہ ملا۔ انہیں اپنے کانٹوں بھرے گھر میں ہی آرام نظر آتا تھا۔ ایک دن ضد کرکے وہ گھر چلی گئیں۔ جانتی تھیں انہیں مرحوم شوہر کے گھر کا تالا نہیں کھولنا بلکہ بیٹے کے لئے اپنا در کھلا رکھنا ہے تاکہ ناصر بے ٹھکانہ نہ ہو… ایسا ہی ہوا، اپنے بھائی کے جرم کو معاف کرکے اسے گلے لگالیا کہ وہ ان کا لخت جگر تھا۔
ماموں اب بھی کبھی کبھی مجھے فون کرتے تھے لیکن وہ ناصر کی وجہ سے اب امی جان سے دور ہوچکے تھے۔ پہلے کی طرح بہن کی خبر گیری نہ کرتے تھے۔ ہاں مجھے ضرور تلقین کرتے کہ تمہاری ماں کا کوئی نہیں ہے اسے بڑھاپے میں بے آسرا مت چھوڑ دینا۔ تم تینوں بہنیں اپنی ماں کی خبر رکھنا۔ بیٹے برے ہوں تو پھر بیٹیاں ہی بڑھاپے میں ماں باپ کا سہارا ہوتی ہیں۔ اسی لئے بیٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے رحمت کہا ہے۔ اگرچہ بیٹے اس کی نعمت ہوتے ہیں لیکن انسان نعمت سے محروم ہوجاتا ہے مگر رحمت سے نہیں۔
ماموں کی اس نصیحت کو میںنے گرہ میں باندھا۔ جب تک والدہ زندہ رہیں ان کی دیکھ بھال میں غفلت نہ کی۔ افسوس ان کی وفات کے بعد ناصر سے رابطہ نہ رہ سکا۔ اللہ جانے اب ہمارا بھائی کس حال میں ہے۔ (ط…جام پور)