Kash Woh na Milti | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2197
Kash Woh na Milti | Teen Auratien Teen Kahaniyan
نازو ہمارے چچا کے گھر کام کرتی تھی۔ وہ ایک سیدھی سادی لڑکی تھی۔ اس کا باپ چچا کی دُکان پر ملازم تھا۔ چچا اس گھرانے کا بہت خیال کرتے تھے۔
ایک روز اچانک نازو کے باپ کو سینے میں درد ہوا اور وہ دُکان پر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اس حادثے نے ہم سب کو افسردہ کر دیا۔ نازو کی عمر اس وقت تیرہ برس تھی جب وہ باپ کے سائے سے محروم ہوگئی۔ اب اس کا ایک بیوہ ماں کے سوا کوئی نہ رہا۔ گھر بھی کرائے کا تھا، لہٰذا چچا نے ان دونوں ماں بیٹی کو اپنے گھر کے سامنے والے مکان میں شفٹ کر دیا۔ یہ مکان بھی چچا کا ہی تھا لیکن اَدھورا بنا ہوا تھا، تبھی عرصے سے خالی پڑا تھا۔ نزدیکی رہائش مل جانے کے بعد نازو کی ماں، بیٹی کے ساتھ ہمارے گھروں میں کام کرنے آنے لگی۔ نازو کی ماں کو ہم چاچی نوراں کہتے تھے۔ وہ بہت شریف النفس اور خاموش طبع عورت تھی۔ فرمانبردار ایسی جو کام بتاتا کبھی انکار نہ کرتی، اسی لئے ہم سب کی پسندیدہ ہوتی گئیں۔
نازو ایک خوبصورت اور نازک اندام لڑکی تھی۔ اُسے پڑھنے کا شوق تھا۔ اپنے والد کی وفات کے بعد جب وہ چھٹی جماعت میں تھی اس کی پڑھائی کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ نازو کو اس بات کا سخت ملال تھا۔ وہ اکثر مجھ سے کہا کرتی۔ کاش کوئی مجھے پھر سے اسکول میں داخل کرا دے تو عمر بھر یہ احسان نہ بھولوں گی۔
ایک دن میں نے چاچی سے سفارش کی۔ انہوں نے چچا سے کہہ کر نازو کو اسکول میں داخل کروا دیا۔ وہ میرے چچا کی بیٹی نازش کے ساتھ جاتی اور چھٹی کے بعد کام کرنے آ پہنچتی۔
چچی اس کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتی تھیں۔ وہ تعلیم کا تمام خرچہ برداشت کرتیں، اس کے علاوہ اس کی ماں کی بھی مالی مدد کر دیا کرتی تھیں۔ اسی باعث نوراں ہمارے خاندان کی احسان مند تھی، کیونکہ کبھی ہم لوگوں نے انہیں یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ غریب اور بے سہارا ہیں، بلکہ چچا چچی نے تو ان کو اپنے گھر کے فرد جیسا جانا۔
میرے چچا نوراں کو آپا کہتے اور بہن کا درجہ دیتے، جو وہ اپنی بہن کے لئے لاتے عید بقرعید پر وہی چاچی نوراں کے لئے بھی لاتے تھے۔ ان کی ویسی ہی تکریم کرتے تھے، جیسی بہنوں کی، کی جاتی ہے۔ نازو کو بھی اپنی بیٹیوں کی مانند رکھا ہوا تھا، کیونکہ وہ میری چچی کا گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتی تھی، جبکہ ان کی اپنی لڑکیاں گھریلو کام کاج کو ہاتھ نہ لگاتی تھیں۔
شروع میں میرے چچازاد منیب نے نازو کی طرف دھیان نہ دیا۔ وہ اپنی پڑھائی میں مگن رہتا لیکن جب نازو نے میٹرک کے بعد خوب رنگ رُوپ نکال لیا تو منیب کی نظریں اس پر پڑنے لگیں۔ ہماری چچی نے کوئی نوٹس نہ لیا جیسے یہ دھیان دینے والی بات نہ ہو۔ منیب چاہتا تھا کہ نازو کو بھی کالج میں داخلہ کرایا جائے، جبکہ اس کی بہنیں کالج جا سکتی تھیں تو وہ کیوں نہیں جا سکتی تھی، تاہم چچی کو یہ بات منظور نہ تھی۔ وہ کہتی تھیں۔ یتیم لڑکی ہے، ہم نے میٹرک تک پڑھا دیا ہے، بس اتنا بہت ہے۔ اگر یہ کالج جائے گی تو کام کاج میں میرا ہاتھ کون بٹائے گا۔ ہاں اگر منیب اس کو پڑھا دیا کرے تو یہ پرائیویٹ طالبہ کے طور پر ایف اے کا امتحان دے سکتی ہے۔
منیب تو یہ دل سے چاہتا تھا، ماں کی اجازت ملتے ہی وہ دن میں ایک گھنٹہ نازو کو پڑھانے لگا۔ نازو کی بھی خوابوں والی عمر تھی، قربت ملنے پر دونوں ایک دُوسرے سے محبت کرنے لگے، مگر کسی پر ظاہر نہ کیا اور گھر میں کسی کو بھی شک نہ گزرا کہ یہ دو نوجوان دل ایک دوسرے کے لئے دھڑکنے لگے ہیں۔
ایک روز نازش نے چھپ کر ان کی باتیں سُن لیں تو ماں کو آگاہ کر دیا۔ چچی نے نازو سے کچھ نہ کہا لیکن اپنے بیٹے کی خوب سرزنش کی کہ اب تم نازو کو نہیں پڑھائو گے۔ پڑھائی کے بہانے تم ایک یتیم لڑکی کو سیدھے راستے سے بھٹکا رہے ہو اور ایک بیوہ عورت کی عزت کو مٹی میں ملانا چاہتے ہو… کسی کو اپنے گھر پناہ دے کر پھر اُس کے ساتھ محبت کا کھیل رچانا شریفوں کو زیب نہیں دیتا۔ خبردار اگر تم نے آئندہ اس لڑکی کے بارے میں غلط سوچا تو یہ لوگ تو گھر بدر ہوں گے ہی تمہیں تمہارے ابو معاف نہیں کریں گے۔ اس دھمکی سے منیب ڈر گیا اور اس نے نازو کو پڑھانا تو کجا اس سے بات چیت بھی ترک کر دی۔
یہ سب ماں کو مطمئن کرنے کے لئے تھا۔ دل سے وہ اب بھی اسی کو چاہتا تھا۔ وہ نازو سے سچی محبت کرنے لگا تھا، اُس کا ارادہ دل لگی کا نہیں بلکہ اس کے ساتھ شادی کرنے کا تھا۔ منیب نے سوچا پہلے تعلیم مکمل کر لوں، پھر والدین سے اپنی آرزو کا اظہار کروں گا کہ میں نازو کو شریکِ حیات کے رُوپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
دو سال خاموشی سے گزر گئے۔ نازو نے بھی بہت احتیاط اور تحمل سے کام لیا، اس وقت کا انتظار کرنے لگی کہ جب تک منیب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے، البتہ یہ دونوں اس وقت گھر والوں سے چھپ کر بات کر لیتے تھے جب چچی گھر پر نہ ہوتیں۔ ان کا یہ راز صرف میں جانتی تھی کہ نازو مجھے اپنا دوست اور غمگسار سمجھتی تھی اور وہ مجھ پر اعتبار بھی کرتی تھی۔
منیب کے بڑے بھائی نجیب کی شادی ہوگئی اور میں چچا جان کی بہو بن کر ان کے گھر آگئی۔ اب چچی اکیلی نہ رہیں۔ شادی کے بعد گھر کی ذمّہ داریاں انہوں نے میرے سپرد کر دیں۔ میں نے گھر سنبھال لیا، تب انہوں نے نازو کی چھٹی کر دی۔ مالی امداد اب بھی وہ اس کی ماں کو دیتی تھیں، لیکن اپنے گھریلو کاموں سے نازو کو ہٹا دیا کہ بچی اب جوان ہوگئی ہے۔ اس کا اپنے گھر میں رہنا ہی بہتر ہے۔ مجھے بھی کہا کہ بیٹی اب یہ گھر بار تمہارا ہے، اگر چاہو تو کوئی دوسری ملازمہ رکھو لیکن نازو کو واپس اس کی ماں کے پاس بھیج دو، کیونکہ نوراں بیمار رہتی ہے اور دیکھ بھال کے لئے اُسے اپنی بیٹی کی ضرورت ہے۔
میں سمجھتی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں، ان کے دل میں خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ نازو اب اپنی والدہ کے پاس رہتی اور ہمارے گھر بہت کم آتی۔ اس کا کم آنا بھی چچی کو شاق گزرتا تھا۔ نازو سے میری دوستی تھی۔ منیب یہ جانتا تھا اس لئے اُسے جو نازو سے کہنا ہوتا مجھے کہہ دیتا۔ میں مناسب سمجھتی تو نازو کو بتاتی، ورنہ گول کر جاتی، کیونکہ چچی کا پاس تھا اور گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی، تاہم میں اپنے دیور کو بھی ناراض اور ناخوش نہیں دیکھنا چاہتی تھی، کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کی طرح مجھ کو عزیز تھا۔ مجھے اس کی خوشیاں بھی عزیز تھیں۔
تعلیم مکمل ہوگئی تو منیب کی شادی کی باتیں ہونے لگیں۔ چچی چاہتی تھیں اس کی شادی وہ اپنی بھانجی فائزہ سے کریں، جب اس بات کی بھنک میرے دیور کے کانوں میں پڑی تو اُس نے شور مچا دیا۔ ماں سے کہا کہ میں ہرگز فائزہ سے شادی نہیں کروں گا، بلکہ نازو سے کروں گا۔ بہتر ہے کہ آپ اس کی والدہ سے رشتے کی بات کرلیں۔ جب چچی نے انکار کیا تو اس نے خودکشی کی دھمکی دے ڈالی۔ چچا بھی بیٹے کی اس فرمائش پر بہت پریشان تھے۔ لاکھ وہ ان ماں بیٹی کی عزت کرتے تھے لیکن نازو کو بہو بنانا اپنی توہین خیال کرتے تھے۔
جب دیکھا کہ بیٹے نے بغاوت کر دی ہے تو بہت تدبّر سے کام لیا۔ نوراں سے نازو کا رشتہ مانگنے کی بجائے… ان کے پاس جا کر کچھ ایسی بات سمجھا آئے کہ وہ بچاری سر جھکا کر رہ گئیں۔

ان دنوں منیب ایک جوشیلا نوجوان تھا۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے کہ دل مصلحتوں کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایک دن انہوں نے منیب کو پاس بٹھایا اور کہا کہ بیٹے میری بات غور سے سُنو۔ مجھے تمہاری خوشی عزیز ہے لیکن ایک بات مان لو۔ جب تک تم انجینئر بن کر نہ دکھائو گے… نازو کی ماں تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے گی۔ اس کی بس یہی شرط ہے اور تم نے ایف ایس سی کے بعد آگے پڑھنے
کی بجائے شادی کی رَٹ لگا دی ہے۔ اب اگر نازو کا رشتہ لینا ہے تو پڑھنا ہوگا اور اچھے نمبر لانے ہوں گے۔ تبھی انجینئرنگ میں داخلہ مل سکے گا۔ منیب نے کہا کہ میں ضرور نوراں چاچی کی اس شرط کو پورا کرکے دکھائوں گا۔ وعدہ کرتا ہوں۔
اُس نے سخت محنت کی اور اپنا وعدہ پورا کر کے دکھایا۔ اُسے انجینئر نگ یونی ورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ جس دن وہ اسلام آباد جا رہا تھا نازو ہی نہیں میں بھی رو رہی تھی، کیونکہ ہم دونوں کو یقین تھا کہ شاید ہی منیب کو وہ خوشی مل سکے جس کی خاطر دن رات محنت کر کے وہ منزل کی طرف گامزن ہو رہا تھا۔
جب چھٹیوں میں گھر آتا تو میری معرفت اس کی نازو سے فون پر مختصر بات ہو جاتی، تب وہ ایک نیا ولولہ… ایک نئی اُمید اور جوش لے کر واپس لوٹ جاتا تھا اور زیادہ لگن سے اپنا مستقبل بنانے کے لئے محنت کرتا۔
یہ اس کی تعلیم کا آخری سال تھا جب اُسے خط ملا کہ اچانک ایک حادثے میں نازو کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہ صدمہ منیب کے لئے بہت سخت تھا لیکن وہ کیا کر سکتا تھا کہ ایسا قدرت کی طرف سے تھا۔ یہ دُکھ انسانوں نے نہیں دیا تھا، چونکہ تعلیم کا آخری سال تھا لہٰذا اب چچا خود اسلام آباد چلے گئے اُسے تسلی دینے کے لئے کہ یہاں رہ کر تعلیم مکمل کر لو اور اب پرچے دے کر ہی گھر آنا۔
کچھ تو میرے خاوند اور کچھ چچا اور منیب کے دوستوں نے سہارا دیا۔ ہمت بندھائی تو وہ بڑی مشکل سے تعلیم کا یہ آخری سیشن مکمل کر پایا۔
اس کے بعد اپنے شہر میں اس کا دل نہ لگا۔ چچا نے کوشش کر کے اس کو بیرون ملک بھجوا دیا۔ اگرچہ وہاں بھی نازو کا دُکھ گھن کی طرح کھاتا تھا مگر اب ہمت کئے بنا چارہ نہ تھا۔ منیب نے اعلیٰ تعلیم کے لئے مزید محنت کی اور پھر کینیڈا میں ایک اچھی نوکری حاصل کرلی اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔
کچھ عرصے کی تنہائی کے بعد ایک اچھی لڑکی ملی تو اپنے دل کے گھائو پر مرہم رکھتے ہوئے اُس نے اس لڑکی سے شادی کرلی۔
کافی عرصہ گزر گیا ایک دن خیال آیا کہ وطن جانا چاہئے، والدین کو جدائی کا دُکھ دے کر اچھا نہیں کیا۔ یہ سوچ آتے ہی منیب نے رختِ سفر باندھا اور گھر آ گیا۔ اُسے دیکھ کر سب خوش ہوگئے۔ وہ بھی بہت تپاک سے ملا۔ واپس جانے کے دن قریب آئے تو شاپنگ کی غرض سے ایک روز صدر جانا ہوا۔
ایک دُکان میں اُسے نازو دکھائی دے گئی۔ وہ ششدر رہ گیا۔ منیب کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا، جیسے کوئی بیتا لمحہ خواب بن کر آ گیا ہو۔ جاگتی آنکھوں کا خواب وہ سوکھ کر کانٹا ہو رہی تھی۔ پہلی نظر میں کوئی اُسے پہچان نہیں سکتا تھا، لیکن اس نے پہچان لیا، مگر یہ کیسے نازو ہو سکتی ہے، جبکہ وہ تو مر چکی ہے۔ اس نے آگے بڑھ کر سوال کیا… کیا تم نازو ہو؟
ہاں میں نازو ہوں۔ مگر تم تو مر چکی تھیں… میرے والدین اور تمہاری ماں نے یہی بتایا تھا۔
انہوں نے جھوٹ کہا تھا۔ صرف مجھے اور تمہیں جدا کرنے کے لئے۔ تمہارے والدین نہیں چاہتے تھے کہ وہ مجھے بہو بنائیں اور والدہ ان کے احسانوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھیں۔ وہ ان کے حکم کے آگے سر نہ اُٹھا سکتی تھیں۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر میری ماں سے منت سماجت کی تھی کہ وہ ایسا ہی کہیں گی۔ تمہیں اپنے شہر سے دُور پڑھنے کے لیے اسی لئے بھیج دیا گیا تھا اور مجھے والدہ اپنے ساتھ لے کر لاہور آگئیں، جہاں تمہارے والد نے اپنے دور کے ایک غریب رشتے دار سے میری شادی کرا دی۔ میں وہاں جیتے جی مر گئی اور تمہیں کہہ دیا گیا کہ میں مر چکی ہوں، تو ہاں میں مر ہی چکی ہوں۔ میں کب زندہ رہی ہوں۔ کیا تمہیں زندہ لگ رہی ہوں۔
نازو کی بات سُن کر منیب کو بہت دُکھ ہوا۔ گھر آ کر اس نے کسی سے کلام نہیں کیا۔ صرف مجھے اپنے دل کا دُکھ بتا کر واپس کینیڈا لوٹ گیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا، کیونکہ اس کے اپنوں نے جن پر وہ اعتماد اور اعتبار کرتا تھا اس کے اعتبار کا شیشہ چکناچور کر دیا تھا۔ جس روز بازار میں اُسے نازو ملی تھی، وہ واقعی زندہ نہیں مردہ نظر آ رہی تھی اور اس سے ملنے کے بعد منیب کے دل میں بھی اپنوں کی محبت نے دَم توڑ دیا۔ اے کاش وہ منیب کو نہ ملتی۔ (ف… ملتان)