Friday, May 24, 2024

kehty Hain Jisey Ishq | Teen Auratien Teen Kahaniyan

شروع سے انسانی نفسیات سے دلچسپی تھی۔ نفسیات میرا خصوصی مضمون رہا۔ اسی شعبے میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک اسپتال میں جاب مل گئی، جہاں ماہرین ذہنی امراض کے ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ایک روز یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ڈاکٹر ذکیہ کے پاس میرا بھائی اسد بیٹھا ہے۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا تھا۔ میں پردے کی آڑ میں ہوگئی تھی، تبھی وہ مجھے نہیں دیکھ پایا تھا۔ میرا کام وہاں بیٹھ کر مریضوں کی گفتگو سے اہم نوٹ لکھنا تھا، تاکہ کیس ہسٹری تیار ہوجائے، جس کی روشنی میں کیس کی نوعیت کو سمجھ کر الجھن کی گہرائی تک پہنچا جاسکے۔ اسد مجھ سے چار سال چھوٹا تھا۔ اکلوتا اور والدین کی محبت کا مرکز، ان کی امیدوں کا سہارا، ذہین اور محبت کرنے والا…! وہ بہت فیئر قسم کا لڑکا تھا۔ کسی کو دھوکا دینا نہیں جانتا تھا، پڑھائی میں نمبر ون اور لائق طالب علم تھا۔ تاہم کئی دنوں سے نوٹ کررہی تھی کہ اس کی پڑھنے میں دلچسپی کم ہوتی جارہی تھی۔ وہ کھویا کھویا اور افسردہ رہنے لگا تھا۔ ان دنوں وہ ایف ایس سی کے پیپرز دے رہا تھا۔ ارادہ میڈیکل میں داخلے کا تھا۔ اچانک اس کا رویہ بدلا اور وہ پریشان دکھائی دینے لگا۔ باوجود کوشش کے ہم کچھ جان نہ پائے۔ آج جب اسے ڈاکٹر صاحبہ کے مقابل بیٹھے پایا تو خاموشی سے پردے کے پیچھے سے اس کی گفتگو سنتی رہی۔ ایک پرچے پر لکھ کر معاون لڑکے کے ہاتھ میڈم ذکیہ کو بھجوا دیا کہ یہ میرا بھائی ہے، لہٰذا مجھے اس کے سامنے مت بلایئے گا، ورنہ کھل کر دل کی باتیں آپ سے نہیں کرسکے گا۔ ڈاکٹر ذکیہ نے سوالات کئے اور اسد کھل کر ان سے گفتگو کرنے لگا۔ ڈاکٹر صاحبہ! مسئلہ کوئی خاص نہیں ہے، لیکن مجھ پر اثرانداز ہوتا جا رہا ہے۔ اگر میں اس الجھن پر قابو نہ پا سکا تو مستقبل متاثر ہوجائے گا۔ میں موجودہ کیفیت سے نکلنا چاہتا ہوں تاکہ مکمل یکسوئی سے پڑھائی پر توجہ دے سکوں۔ بات یہ ہے کہ ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر لڑکیوں کا کالج ہے۔ جب میں اپنے کالج جانے کے لئے وہاں سے گزرتا ہوں تو ایک خوبصورت لڑکی میری طرف دیکھ کر مسکرا دیتی ہے۔ اس کی مسکراہٹ اس قدر دلکش ہے کہ سارا دن اسی کے سحر میں کھویا رہتا ہوں اور دوبارہ اس مسکراہٹ کو دیکھنے کی آرزو میں اگلے دن کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ یوں میرا دھیان پڑھائی سے ہٹتا جارہا ہے، میں صحیح طرح پڑھ نہیں پاتا۔ میں آپ سے یہ معلوم کرنے آیا ہوں کہ مجھے کوئی ذہنی مرض تو لاحق نہیں ہوگیا، جبکہ معلوم ہے یہ ایک فضول سی بات ہے پھر کیوں اس کیفیت سے نہیں نکل پا رہا۔ مجھے اپنے مستقبل کی بہت فکر ہے۔ ایک روز گھر آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ لڑکی ایک خاتون کے ہمراہ ہمارے گھر آئی ہوئی ہے۔ پتا چلا کہ اس کی والدہ سے میری امی کی جان پہچان ہے۔ امی نے اس کا نام نیلوفر بتایا۔ نیلوفر کو گھر میں دیکھ کر میرے تو ہوش گم ہوگئے تھے۔ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس کی ایک مسکراہٹ کو دیکھنے کے لئے دن بھر انتظار کی اذیت سہتا ہوں، وہ یوں ہمارے گھر آجائے گی۔ کچھ دن گزرے امی نے بتایا کہ وہ اور باجی افشاں، نیلوفر کے گھر جارہے ہیں۔ میں نے باجی سے پوچھا۔ کیوں جارہی ہیں؟ باجی نے بتایا کہ تمہارے لئے لڑکی دیکھنی تھی، نیلوفر کو ایک نظر دیکھ لیتے ہیں۔ وہ اچھی لگی تو تمہاری اس سے منگنی کردیں گے۔ باجی کی بات سن کر میرا دل کھل اٹھا۔ جس صورت کی آرزو کرتا تھا، جو میرے خیالوں میں بسی ہوئی تھی، جس کا حصول ناممکن امر لگتا تھا، وہ امی اور بہن کو اچھی لگی تھی۔ اسے کہتے ہیں اللہ کی دین…! میں نے خود کو قسمت کا دھنی سمجھ لیا۔ امی، نیلوفر کے گھر سے لوٹیں تو میں امید کررہا تھا کہ وہ خوشخبری سنائیں گی، مگر ان کا چہرہ دیکھ کر دل بجھ گیا۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ جواب امید افزا نہیں ملا ہے، تب سے مزید پریشان رہنے لگا ہوں۔ وہ لڑکی اب بھی راستے میں ملتی ہے، مسکراتی ہے لیکن اب میں اس کے خیال سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں۔ میں افسردہ رہتا ہوں۔ ہر صورت اس ڈپریشن سے نکلنا ہے میڈم! اپنے کسی دوست سے یہ بات شیئر نہیں کرسکتا، تبھی آپ کی مدد لی ہے۔ میری باجی نے ایک بار بتایا تھا کہ میڈم ذکیہ بہت قابل ڈاکٹر ہیں۔ آپ میری باجی سے ملیں تو انہیں کچھ نہ بتایئے گا۔ ٹھیک ہے بیٹا! اطمینان رکھو، مجھ پر اعتبار کرو۔ میرے پاس آتے رہو، ان شاء اللہ میں تمہیں اس کیفیت سے نجات دلانے میں پوری مدد کروں گی۔ بھائی کی باتیں سن کر میرا دل دکھ گیا۔ گھر آکر امی سے کہا۔ جس طرح بن پڑے، آپ نیلوفر کا رشتہ ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ بھائی کو یہ لڑکی پسند ہے۔ اگر اس کے ساتھ رشتہ ہوگیا تو اسد کی خوشی پوری ہوجائے گی اور وہ دل لگا کر پڑھ سکے گا۔ امی دوبارہ ان کے گھر گئیں۔ لڑکی کی ماں سے جانے کتنی منت سماجت کی کہ وہ رشتہ دینے پر تیار ہوگئیں، جبکہ پہلے وہ ہر صورت اپنے بھتیجے کو داماد بنانا چاہتی تھیں۔ یہ ایک معجزہ ہوگیا۔ نیلوفر سے اسد بھائی کی منگنی ہوگئی۔ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ کہتے تھے مجھ سے زیادہ خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے۔ جو چاہا، مل گیا۔ بھائی کو اکیڈمی میں داخلہ مل گیا اور چار برس پلک جھپکتے گزر گئے۔ نیلوفر نے بھی اس دوران تعلیم مکمل کرلی۔ اب یہ دونوں آپس میں ملنے بھی لگے، کیونکہ سال بعد شادی کا ارادہ تھا۔ بھائی کا کورس مکمل ہوا تو ملازمت پر چلے گئے اور یہ سب اس طرح ہوا جیسے قسمت ان دونوں پر مہربان ہوگئی ہو۔ بھائی کا تبادلہ اسلام آباد ہوگیا تو اس کا اپنی منگیتر سے ملاقات کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ بھائی نے نیلوفر کو اس کے گھر فون کئے جو اتفاق سے اس کے بھائی نے اٹھائے۔ اس کے بعد نیلوفر نے اسد سے بات نہ کی اور ہر طرح کا رابطہ ختم کردیا۔ اسد بہت پریشان تھا کہ اس سے کیا غلطی ہوگئی جو بغیر وجہ بتائے نیلوفر نے رابطہ ختم کردیا ہے۔ اس نے آنٹی سے فون کرکے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ دراصل نیلوفر نے ملازمت کرلی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اچھا جہیز لے کر رخصت ہو تاکہ سسرال میں اس کی قدر ہو۔ اسد کو ان کی یہ بات عجیب لگی۔ کہا کہ آنٹی! مجھے آپ لوگوں کی طرف سے کوئی جہیز نہیں چاہئے، جہیز کی خاطر ملازمت کرنا اور نیلوفر کا اس مقدس فریضے کو ملتوی رکھنا، میرے نزدیک احسن نہیں ہے۔ آنٹی نے بھی اس کی تائید کی اور کہا کہ وہ بیٹی کو قائل کریں گی کہ شادی میں تاخیر ٹھیک نہیں ہے۔ ان دنوں بھائی، والدہ کے مشورے سے دلہن کے لئے زیورات بنوا رہے تھے اور بری وغیرہ بن رہی تھی، مگر یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔ آنٹی نے ایک روز فون کیا کہ نیلوفر کے بھائیوں کو منگیتر سے ملاقات کرنے اور فون پر باتیں کرنے پر سخت اعتراض تھا لہٰذا انہوں نے ہم پر دبائو ڈال کر یہ رشتہ ختم کردیا ہے۔ یہ اطلاع نہیں تھی، بجلی تھی جو میرے بھائی کی خوشیوں پر گری تھی۔ وہ بجھ کر رہ گیا۔ ایسے میں والد صاحب نے اسے بہت سہارا دیا۔ سمجھایا کہ اگر وہ لوگ نہیں مان رہے تو اس میں اللہ کی طرف سے کوئی بہتری ہوگی۔ تم افسردہ مت ہو، ان شاء اللہ رب کریم تمہیں اس سے اچھی شریک حیات دے گا، مگر بھائی بضد تھے کہ ایک بار ابو، آنٹی سے بات کرکے انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں۔ شاید یہ کوشش کامیاب ہوجائے۔ بیٹے کے کہنے پر والدہ نے آنٹی کو فون کیا اور مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن آنٹی نہ مانیں اور انہوں نے فون اپنے بڑے بیٹے کو تھما دیا، جس نے ابو سے کرخت لہجے میں بات کی۔ والد صاحب کو برا لگا۔ فون بند کردیا اور بیٹے کو سمجھایا کہ یہ لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ یہ بات اب واضح ہوگئی ہے، تم نے اپنے کانوں سے سن لیا، جس لہجے میں لڑکی کے بھائی اور ماں نے مجھ سے بات کی ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ یہ لڑکی بہو بن کر آئے تو ہماری عزت نہ کرے اور اس کے میکے والے ہمیں بات بے بات سخت سست کہتے رہیں؟ بیٹا! میری زندگی کا تجربہ ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ نیلوفر بھی اس رشتے کو ختم کرانے میں اپنے بھائیوں اور ماں کا ساتھ دے رہی ہے۔ ورنہ وہ خود تمہیں فون کرکے اپنی مجبوری سے ضرور آگاہ کرتی۔ بھائی، والد کی باتوں سے قائل ہوگئے، مگر دل کا کیا کریں یہ پھر بھی قائل نہ ہوا تو انہوں نے کمپنی جاکر لڑکی سے ملاقات کی ٹھان لی، جہاں وہ ملازمت کرتی تھی۔ نیلوفر چھٹی کے ٹائم کمپنی سے نکلی تو بھائی کو باہر منتظر پایا۔ ملاقات ہوگئی۔ اسد نے کہا۔ اگر تم کہو تو تمہارے والد اور بھائیوں کے پیر پکڑ کر معافی مانگ لوں؟ اس نے جواب دیا۔ تمہارا یہاں آنا ٹھیک نہیں ہے۔ بس اب بات کو ختم سمجھو۔ اگر دوبارہ یہاں آئے تو اچھا نہ ہوگا۔ اس کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔ اب اسد کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ لڑکی کے میکے والے نہیں بدلے بلکہ لڑکی خود بدل گئی ہے اور منگنی توڑنے میں خود اس کا ہاتھ ہے۔ اسد کو نیلوفر کو بھلانا مشکل تھا۔ ذہن پر شاید عشق کا بھوت سوار تھا، اس پر اس کی بے رخی نے اس آتش کو دو آتشہ کردیا تھا۔ عشق نے اسد کی حالت عجیب کردی تھی۔ ایک دن اسی دل کی وحشت سے مجبور ہوکر دوبارہ وہاں گیا، جہاں نیلوفر ملازمت کرتی تھی۔ اتفاق کہ نیلوفر اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک نوجوان کے ہمراہ اس کی گاڑی میں بیٹھ کر جارہی تھی۔ اس نے اسد کو نہیں دیکھا۔ بھائی نے نیلوفر کے ساتھ کام کرنے والے ایک کولیگ کا پتا کیا جو ان کا واقف کار تھا۔ اس نے اسد کو تمام قصہ کہہ سنایا کہ نیلوفر کمپنی کے ایک آفیسر انعام کو پسند کرنے لگی ہے۔ دونوں میں رفاقتیں بڑھیں تو دونوں نے منگنی کرلی۔ اسد بھائی گم صم رہ گئے۔ وہ واقعی کسی اور کی ہونے والی تھی، کیونکہ اس کے ہاتھ میں اس روز ایک انگوٹھی دمک رہی تھی جب وہ انعام کی گاڑی میں بیٹھ کر جارہی تھی۔ بھائی کئی دن تک نہایت افسردہ رہا، جیسے دل و ذہن کی دنیا میں بھونچال آگیا ہو۔ ابو، بھائی کے افسر اعلیٰ سے ملے اور تعاون کی درخواست کی تو انہوں نے ان کا تبادلہ ایبٹ آباد کردیا۔ واپس آئے تو ان کی حالت کافی سنبھلی ہوئی تھی، تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔ کافی عرصہ گھر میں پڑے رہے، بالآخر زندگی گزارنے کی خاطر روزگار کے لئے تگ ودو کرنی پڑی۔ والد صاحب نے اپنے کام میں شرکت کے لئے قائل کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اب سن رسیدہ ہو چلا ہوں، کاروبار بالآخر تمہی نے سنبھالنا ہے۔ وقت ضائع مت کرو، میرے ساتھ شریک ہوجائو۔ اللہ کا شکر بھائی نے ابو کی بات مان لی۔ بوڑھے باپ کو جوان بازو کے سہارے کی ضرورت تھی۔ کاروبار میں بھائی کا دل لگ گیا اور بزنس دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ یہاں تک کہ ہم چند سالوں میں امیر لوگوں میں شامل ہوگئے۔ ایک دن بھائی اپنی گاڑی میں گھر لوٹ رہے تھے، دیکھا کہ نیلوفر اپنے آفس کے گیٹ سے نکل رہی ہے۔ وہ پیدل بس اسٹاپ کی طرف جارہی تھی۔ بھائی نے کار کی رفتار دھیمی کردی اور اس کے قریب جاکر گاڑی روک لی۔ جب اس کی نظر اسد پر پڑی تو اس کا چہرہ فق ہوگیا۔ پیدل کیوں جارہی ہو، اتنی گرمی میں؟ وہ چپ رہی۔ آئو بیٹھو۔ بھائی نے کار کا دروازہ کھول دیا۔ اس نے منہ سے ایک لفظ نہ کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ کہاں جانا ہے؟ امی کے گھر۔ نیلوفر نے جواب دیا۔ کیا اپنا گھر نہ دکھائو گی؟ میرا کوئی اپنا گھر نہیں رہا ہے۔ اتنا کہہ کر رو پڑی۔ کیا ہوا ہے، کیا انعام صاحب سے ناراضی ہوگئی ہے؟ طلاق ہوگئی ہے۔ اس نے بتایا۔ طلاق کیوں ہوگئی؟ کیا بتانا پسند کرو گی؟ میں نے اسے اچھا انسان سمجھ کر شادی کی لیکن وہ جھوٹا اور فراڈ آدمی نکلا۔ کرائے کی کوٹھی کو ذاتی بتایا تھا اور مرعوب کرنے کے لئے مانگی ہوئی چیزوں سے شان بنا رکھی تھی۔ لاکھوں کا مقروض تھا مگر خود کو لکھ پتی ظاہر کرتا تھا۔ یہ بھی سہہ جاتی لیکن بذات خود وہ بہت گھٹیا آدمی تھا۔ نیلوفر نے اسد سے معافی مانگی۔ کہا۔ شرمندہ ہوں کہ آپ کا دل دکھایا۔ منگنی میرے گھر والوں نے نہیں دراصل میں نے توڑی تھی۔ وہ آخر وقت تک سمجھاتے رہے تھے کہ اسد اچھا لڑکا ہے، یہ شریف لوگ ہیں، اچھی فیملی ہے، ان کو مت ٹھکرائو۔ تم یقیناً اس کے ساتھ سکھی رہو گی، مگر میں نادان تھی۔ ظاہری شان و شوکت سے مرعوب ہوگئی۔ اس نے اپنی غلطی کا اقرار کرکے کہا کہ اب دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا ہے۔ اگر تم نہ ملتے تو عمر بھر یہ بوجھ میرے دل پر رہتا۔ اس کی والدہ کا گھر آگیا۔ بھائی نے اسے گیٹ پر ڈراپ کردیا اور گھر لوٹ آئے تو بہت افسردہ تھے۔ لیکن اس لڑکی نے ان کے دل پر بے وفائی کا اتنا کاری زخم لگایا تھا کہ اب ان کے دل میں نیلوفر کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس کے بعد نیلوفر نے کئی فون کئے۔ مجھ سے منت کرتی تھی کہ اس سے بات کروا دو مگر بھائی نے منع کردیا کہ میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ شاید اسے امید تھی کہ اسد اسے معاف کرکے اپنا لے گا لیکن مزید وار سہنے کا اس میں حوصلہ نہ تھا۔ انہی دنوں اس کا رشتہ میری کزن سے طے ہوا تھا۔ والدین کو پھر سے صدمہ نہیں پہنچانا چاہتا تھا، اس لئے جو باب بند ہوچکا تھا، اسے پھر سے کھولنا اس نے مناسب نہ جانا۔ نیلوفر کو اس سے ہمدردی کی توقع تھی لیکن وہ اب اس کے لئے کچھ نہیں کرسکتا تھا کہ وقت بیت چکا تھا اور بیتا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ آج اسد شادی شدہ اپنی بیوی، بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے۔ اللہ کا شکر کہ جس مرض کو وہ لاعلاج سمجھتا تھا، وہ لاعلاج نہیں تھا۔ اس کی زندگی میں خوشیاں لوٹ آئی تھیں۔ روپے پیسے کی بھی کمی نہ تھی لیکن نیلوفر کہاں ہے، اس کا کیا بنا اور وہ کیسی زندگی گزار رہی ہے، یہ ہمیں معلوم نہیں اور نہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ زخموں کو کھرچنے سے زخم پھر سے رسنے لگتے ہیں۔ دعا کرتی ہوں کہ وہ جہاں ہے، اللہ اسے خوش رکھے۔ اس کی تباہی میں ہمارا کوئی دوش نہیں، اس کا اپنا قصور ہے، کیونکہ ہم نے تو بہت چاہا تھا کہ وہ ہماری بن کر ہمارے گھر ہمیشہ کے لئے آجائے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ (الف۔ ن … کراچی)

Latest Posts

Related POSTS