Kesa Bhayanak Intaqaam Liya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1285
وہ میری بہن کی شادی میں آئی تھی، شوخ چنچل اور فیشن ایبل۔ بہت باتونی اور اپنی دلچسپ باتوں سے ہر کسی کا دِل موہ لینے والی لڑکی تھی۔ جلد میری اس کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ پہلے ہمارا اُن کے ہاں آنا جانا نہیں تھا، بس اُس کے بارے سُنا ہی تھا… ملی تو ناجیہ نے دل میں گھر کر لیا… ایسی پرکشش لڑکیاں کم ہی ہوتی ہیں کہ جو دُوسری لڑکیوں کے جھرمٹ میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ میں سادہ دل، بہت جلد اُس کی شخصیت سے مرعوب ہوگئی۔
وقت کے ساتھ پتا چلتا ہے کہ کون کیسا ہے اور ساتھ رہنے سے ہی جوہر کھلتے ہیں۔ ناجیہ ایسی بھی اچھی نہیں تھی جتنی نظر آتی تھی۔ اُس کی کچھ عادات بری لگنے لگیں مثلاً بات کہہ کر مکر جانا اور تیز تیز بولنے لگنا۔ دُوسرے پر یوں وثوق کے ساتھ الزام دَھرتی کہ اگلے کا منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا۔ نیز وہ ہر اَجنبی کے ساتھ فری ہو جاتی تب اُس کا یہ ہلکا پن مجھ پر بھاری گزرتا۔
فواد میرا چچازاد تھا۔ وہ ایک سادہ مزاج اور خاموش طبع لڑکا تھا۔ بہت کم لڑکیوں سے بات کرتا تھا لیکن ناجیہ جیسی فنکارہ سے نہ بچ سکا۔ ایک دن میں ہی اسے اپنے ساتھ بے تکلف کر لیا۔
مہندی والے دن جب ہم سب لڑکیاں ڈھولک بجانے اکٹھی ہوئیں تو ناجیہ نے فواد کے بارے میں باتیں شروع کر دیں۔ میں نے کہا کہ ناجی اُسے تو بخش دو۔ وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ اب اُس کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات نہ کر دینا۔ اُس پر سب لڑکیوں کے سامنے یہ کہہ کر مجھے شرمندہ کرنا شروع کر دیا کہ نرمین تم ہی نے تو کہا تھا کہ تمہیں فواد پسند ہے تو اب ہم اُس کا ذکر بھی نہ کریں؟
یہ بات مجھے بہت ناگوار گزری۔ مہمان جان کر نظر انداز کر دیا مگر اُس نے تو رَٹ ہی لگا دی… تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ کسی نہ کسی بہانے یہی بات بار بار دُہرانے لگتی۔ یہاں تک کہ میں زچ آ گئی، یوں اُس نے طیش دلایا تو میں نے اسے بیہودہ اور بدتمیز لڑکی کہہ دیا۔
ناجیہ کو سخت توہین محسوس ہوئی۔ زخمی ناگن کی طرح بل کھا کر بولی کہ بدلہ لوں گی۔ وہ رو رہی تھی، پھر اُٹھ کر دُوسرے کمرے میں جا بیٹھی… ڈھولکی میں بدمزگی ہوگئی۔ تب احساس ہوا کہ مجھے ایسا نہ کہنا چاہیے تھا… تحمل سے کام لیتی تو یہ ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آتا۔ میں نے اُس سے معافی مانگی، بولی کہ معاف کیا… مگر بات اس کے دل سے نکلی نہیں۔ یہ بات آگے جا کر کھلی۔ شادی کی تقریب ختم ہوگئی سب مہمان چلے گئے اور یہ واقعہ بھی قصۂ پارینہ ہوگیا۔
میٹرک کے بعد میں گھر بیٹھ گئی تھی۔ رزلٹ کا انتظار تھا، ان دنوں سخت بوریت ہوتی، بھائی چھٹیوں میں گائوں چلے جاتے۔ تب دُعا کرتی یا اللہ کوئی اچھا مہمان یا رشتہ دار ہمارے گھر آ جائے تاکہ اُن سے بات چیت کر کے دِل بہلے… دُعا قبول ہوگئی۔ ایک دن جبکہ امی پڑوس میں گئی تھیں دَر پر دَستک ہوئی۔ یہ فواد تھا جو ہمارے گائوں سے آیا تھا۔ میں نے اُسے کمرے میں بٹھایا اور خود چائے بنانے چلی گئی۔
جب چائے کی ٹرے لا کر سامنے رکھی اچانک پھوپی اور ناجیہ بھی آگئیں… اُن کو بھی آج کے دن آنا تھا۔ یہ سوچ کر حیران تھی۔ دُعا سلام کے بعد پھوپی واش روم میں چلی گئیں اور میں دوبارہ چائے بنانے باورچی خانے میں جا گھسی۔ واپس پلٹی تو ناجیہ کو فواد کے قریب بیٹھے دیکھا۔ ناجیہ نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا… یہ منظر دیکھ کر میں نے نظریں جھکا لیں۔ فواد گم صم تھا۔ ناجیہ نے خفگی سے میری جانب دیکھا اور جلدی سے اُٹھ کر دُوسرے صوفے پر جا بیٹھی۔ تبھی میں نے سوال کیا۔ آج آپ سب اکٹھے کیسے آ گئے۔ حیرت کی بات ہے؟
حیرت کیوں؟ یہ اتفاق بھی تو ہو سکتا ہے۔ وہ چٹخ کر بولی۔
ہاں اتفاق ہی ہوگا۔ میں نے خجل ہو کر جواب دیا۔ اُسی وقت امی آ گئیں۔ انہوں نے مجھے مہمانوں کے لیے کھانا بنانے کو کہا تو میں ان سب کو باتیں کرتا چھوڑ کر کچن میں کھانا بنانے چلی آئی۔ لیکن میرا ماتھا ٹھنک گیا کہ فواد اور ناجیہ میں رابطہ ہوگیا ہے۔ یہ سب ایک ہی دن آئے ہیں۔
میرا چھوٹا بھائی سلیمان چھٹیوں میں چچا جان کے پاس گائوں گیا ہوا تھا۔ وہ گھر آیا اور مجھے بتایا کہ چچا جان نے بھیجا ہے کہ امی اور باجی کو گائوں لے آئوں۔ یہ چچا اور چچی کی خواہش ہے کہ آپ لوگ بھی اِن دنوں گائوں چلیں۔ امی نے معذرت کرلی اور بولیں کہ اگر تم چاہو تو چلی جائو… میری طبیعت وہاں نہیں لگتی۔
میری والدہ شہر کی پروردہ تھیں۔ والد صاحب نے ان سے پسند کی شادی کی تھی اور شادی کے بعد شہر آ بسے تھے جبکہ ہمارا آبائی گھر گائوں میں ہی تھا۔ ہم رشتے داروں سے ملنے کبھی کبھار وہاں جایا کرتے تھے۔ امی سسرال کم ہی جاتی تھیں۔
میں اور سلیمان بھائی گائوں پہنچے تو چچا چچی نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر خوش ہوگئے۔ چچا کا ارادہ تھا کہ مجھے اپنی بہو بنا لیں۔ اس امر کا اظہار والد صاحب سے کر چکے تھے۔
اس بار جب فواد سے سامنا ہوا اس نے سلام نہ کیا اور گھر سے نکل گیا۔ سمجھ گئی کہ یہ کیا دھرا ناجیہ کا ہے۔ اُسی نے نجانے کیا کہہ کر اُس کا دل مجھ سے پھیرا ہے۔ فواد کے رویّے نے میرا دل زخمی کر دیا… لیکن صبر کیا، اور کیا کرتی۔ وہ پہلے بھی مجھ سے زیادہ باتیں نہیں کرتا تھا مگر تھوڑی بہت گفتگو ہو جاتی تھی مگر اس بار اخلاق کے تمام تقاضے بالائے طاق رکھ کر کچھ اس طرح نظر انداز کیا جیسے میری ذات کوئی اہمیت ہی نہ رکھتی ہو جبکہ مہمان داری کا تقاضا یہ تھا کہ وہ میری اور گھر والوں کی خیریت دریافت کرتا۔
جب وہ ہمارے گھر آتا میں چائے، شربت اور کھانے سے اُس کی تواضع کرتی تھی۔ آج اس سرد رویّے پر میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میں نے اپنی سخت اہانت محسوس کی۔ میرا دل گائوں میں نہ لگا۔ اپنی اُن ہم جولیوں سے بھی نہ ملی جن کے ساتھ کھیتوں کی سیر کو جایا کرتی تھی۔ جس روز میں وہاں سے لوٹ رہی تھی، دل پر منوں بوجھ تھا… سوچ سوچ کر دُکھی ہو رہی تھی کہ نجانے ناجیہ نے ایسی کیا باتیں کی ہیں کہ فواد نے بات تک کرنا گوارا نہیں کیا۔ چچا جان تو مجھے بہو بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے اور میرا منگیتر…؟
آہ… وقت بہت ظالم ہے۔ چچا جان مجھے بہو بنانے کے خواب آنکھوں میں بسائے اس جہان سے رُخصت ہوگئے۔ موت نے انہیں مہلت نہ دی۔ جبکہ میرے والد صاحب بھی اس رشتے کے لیے ہاں کر چکے تھے۔ چچا کی وفات پر سبھی سوگوار تھے… ہمارا گائوں جانا لازم تھا، لیکن موت کے گھر میں بھی ناجیہ اپنی زبان کو لگام نہ دے سکی، وہ ہر ایک سے کہہ رہی تھی۔ ’’مجھے معلوم ہے یہ کیوں آئی ہے… کسی کے آنسو پونچھنے لازم تھے۔ اب دیکھیں گے یہ منگنی رہتی ہے یا ٹوٹتی ہے مگر یہ بیل منڈھے چڑھنے کی نہیں۔‘‘ میں اُس کی گھٹیا سوچ پر دنگ رہ گئی۔
کچھ دن گزرے کہ فواد ہمارے گھر راولپنڈی آیا… میں نے سلام کیا اور پوچھا فواد کیسے آنا ہوا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر بولا۔ ایک کام ہے تم سے… ناجیہ جب ہمارے گھر آئی تھی تو اپنا بٹوہ بھول گئی تھی، وہ آئے تو اُس کی یہ امانت تم اُسے دے دینا۔
یہ ایک چھوٹا سا بٹوہ تھا۔ میں نے اخلاقاً لے لیا اور کھول کر نہ دیکھا۔ کیونکہ امانت تھی اُسے اپنی الماری میں رکھ دیا۔ دو دن بعد ناجیہ اپنی والدہ کے ساتھ آ گئی۔ میرے کمرے میں آئی تو میں نے الماری کھول کر اُس کی امانت اُس کو تھما دی۔ ابھی اسے گھر نہیں لے جا سکتی… یہ میری امانت تم اپنے پاس رکھ لو، بعد میں لے لوں گی۔ اس نے بٹوہ مجھے لوٹا دیا۔ میں الماری میں رکھنے لگی تو کہا آگے مت رکھو، میرے سامنے اپنی الماری کی سیف میں رکھو۔ اُس کے کہنے پر میں نے سیف میں رکھ کر اُسے لاک کر دیا۔
جب وہ چلی گئی میں سوچنے لگی آخر یہ کیا چکر ہے؟ جی چاہا کہ بٹوے کو کھول کر دیکھوں تو سہی… آخر ایسی کیا قیمتی شے ہے اس میں جو ناجیہ اسے اپنے سامنے میری سیف میں رکھوا گئی ہے۔ ضمیر نے روکا کہ یہ ناجیہ کی امانت ہے اور امانت میں خیانت ایک غیر اخلاقی بات ہے۔
اس واقعہ کو ایک ماہ بیت گیا میں بھول ہی گئی کہ اس کا بٹوہ میرے پاس ہے۔ بابا جان گائوں گئے ہوئے تھے۔ چچی سے میری اور فواد کی شادی کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے، تبھی زمین کے بٹوارے پر پھوپی نے وہاں اُن سے جھگڑا کرلیا۔ خاندان والوں نے بہن اور بھائی میں صلح کرانے کی کوشش کی مگر پھوپی نہ مانیں، والد افسردہ گھر لوٹ آئے۔ بابا جان کو گائوں سے آئے ہفتہ ہوا تھا کہ اچانک ایک روز پھوپھا، پھوپی، ناجیہ اور فواد اکٹھے ہمارے گھر آ گئے۔ اُن کا یوں اکٹھے آنا بھی اچنبھے کی بات تھی۔
امی کی ہدایت پر میں کچن میں کھانا بنانے لگی… ذرا دیر بعد کمرے سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں جیسے جھگڑا ہو رہا ہو۔ میرا دل دھڑکنے لگا… کسی کا بھی موڈ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ آج ناجیہ کی نگاہوں میں چیتے ایسی لپک تھی جیسے وہ مجھے اپنا دُشمن جانتی ہو، میں کچھ بھی نہ سمجھی، جونہی چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی… کانوں میں یہ جملہ پڑا۔ ایسی لڑکی سے فواد کیسے شادی کر سکتا ہے؟ کمرے کی فضا اِس قدر بوجھل تھی کہ میں نے فوراً خطرے کی بُو سونگھ لی۔ اس وقت بابا بہت پریشان دکھائی دے رہے تھے، اتنا تو میں سمجھ گئی کہ پھوپی میرا رشتہ فواد سے تڑوا کر اپنی بیٹی کو اس سے بیاہنا چاہتی ہیں۔
بابا جان سر جھکائے بیٹھے تھے۔ میں نے آج تک اپنے والد کو سر جھکا کر بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ سمجھ میں نہ آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ گمان ہوا یہ رشتوں کا مسئلہ نہ ہو؟ بلکہ جائداد کا لالچ ہو، جائداد کی تقسیم بھی تو رشتہ داریوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
زمین کی تقسیم پر پھوپی والوں کا اچانک جھگڑا کھڑا کرنا اور پھر ہمارے گھر آ جانا یہ سب کچھ بے معنی نہ تھا… اس کے پیچھے کوئی خاص مقصد تھا۔ مگر کون سا مقصد… ابھی میرا ذہن اس گتھی کو نہیں سلجھا پایا تھا کہ والد صاحب نے مجھ سے سوال کیا۔
کدھر ہے وہ خط … نرمین؟
کون سا خط بابا جان؟ میرے سوال پر پھوپی بولیں اب اتنی بھی بھولی نہ بنو۔ کیا اچھی بیٹیاں ایسی ہوتی ہیں، سبھی گائوں والے تھو تھو کریں گے اگر بات نکل گئی۔ میں پھر بھی نہیں سمجھی، تو پھوپی نے ناجیہ سے کہا… تم بتائو نا…
میں سمجھی کہ وہ مجھے سہارا دے گی، میری دوست ہے، کزن ہے، مگر میری اُمید کا مجسمہ اگلے لمحے منہ کے بل گر گیا جو خود پستیوں میں گری تھی مجھے کیا سہارا دیتی۔
بابا جان سے بولی۔ ماموں، اس نے خود سب لڑکیوں کے سامنے باجی خولہ کی مہندی والے دن کہا تھا کہ فواد مجھے پسند ہے اور میرا منگیتر ہے، اب یہ مکر جائے تو فواد سے پوچھ لیں۔
وہ سر جھکائے بیٹھا تھا، دھیرے سے بولا۔ گائوں ہم سے ملنے ضرور آتی تھی، مگر نرمین سے میں نے کبھی شادی کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔
یہ عجیب و غریب سی باتیں بابا جان کے سامنے سب کر رہے تھے اور میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔
کیا تم فواد کو خط لکھا کرتی تھیں؟ میرے جواب دینے سے پہلے فواد نے جواب دیا کہ ہاں… مگر میں نرمین کے خطوط پھاڑ دیا کرتا تھا تاکہ اس کی بدنامی نہ ہو۔ یہ نادان سہی، میں تو نہیں ہوں۔ یہ کہہ کر وہ ہمارے گھر سے چلا گیا۔
تب ناجیہ نے کہا… نرمین کو فواد بھی خط لکھتا تھا ماموں جان… اور یہ اُس کے خط اپنی الماری میں رکھتی تھی۔ میرے سامنے ایک بار اس نے فواد کا خط اپنی الماری کی سیف میں رکھا تھا۔
وہ میرا نہیں تمہارا ہوگا، تمہاری امانت تھی وہ تو… میں تو بھول ہی گئی۔ ابھی لا کر دکھاتی ہوں۔ جوش جذبات میں فوراً وہ بٹوہ نکال لائی اور بابا جان کو دے دیا۔ انہوں نے بٹوہ کھولا اور خط نکال کر پڑھنے لگے۔
جوں جوں پڑھتے جاتے تھے ان کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔ پھر انہوں نے دل پر ہاتھ رکھا اور ڈھیر ہوگئے۔ امی اور پھوپی بابا کو سنبھالنے لگیں اور خط جو ان کے ہاتھ سے فرش پر گر چکا تھا میں نے اُٹھا لیا۔ اپنے کمرے میں جا کر اُسے پڑھنا چاہا کہ آخر اس میں ایسی کیا بات لکھی تھی کہ جس کو والد سہہ نہ سکے اور ان کی طبیعت خراب ہوگئی، ابھی میں خط پڑھنے لگی تھی کہ امی اور پھوپی کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ خط دوبارہ سیف میں ڈال کر میں دوڑی ہوئی والد کے کمرے کی طرف بھاگی، جو منظر دیکھا اُسے دیکھ کر پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ والد صاحب کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ وہ اس جہان سے چلے گئے تھے… پرسکون گھر ماتم کدہ بن گیا تھا۔ گائوں سے رشتے دار اور عزیز آئے۔ پاس پڑوس سے سبھی آگئے اور والد صاحب کو یہ لوگ ان کی آخری آرام گاہ تک لے گئے۔ یہ سب آناً فاناً ہوگیا۔
کئی دن تک گھر میں سوگ رہا۔ کیا بات ہوئی کسی نے نہ دُہرائی، امی کو تو اپنی سدھ بھی نہ تھی اور بھائی گائوں میں تھے جب یہ واقعہ ہوا تھا۔ رفتہ رفتہ والد صاحب کی وفات پر ہم سب کو صبر آتا گیا… والدہ البتہ بہت خاموش رہنے لگی تھیں… کسی کو کچھ نہ بتاتیں۔ حقیقت یہ تھی کہ انہوں نے خط پڑھا ہی نہ تھا صرف بابا جان نے ہی پڑھا تھا جو ابھی تک میری سیف میں موجود تھا۔
ایک روز میں نے اُسے نکالا کہ پڑھوں تو سہی آخر یہ کیا معاملہ تھا جو والد کی جان چلی گئی۔ حیرت زدہ رہ گئی۔ خط میرے نام لکھا گیا تھا، اور اس میں ایسی باتیں درج تھیں کہ کوئی غیرت مند باپ اپنی بیٹی کے بارے برداشت نہیں کر سکتا۔ لکھنے والے نے ہدایت کی تھی کہ جس گناہ کا بوجھ مجھ پر ڈالنا چاہتی ہو وہ میرا نہیں ہے جس کا ہے اُسی سے مدد لو۔ وہی تمہیں ذلت سے بچا سکتا ہے۔
خط میں اُن ملاقاتوں کا ذکر تھا جو میں نے کبھی کسی سے کی ہی نہ تھیں۔ بس کیا کہوں خط کیا تھا ایک قیامت تھا… نہیں معلوم کہ یہ خط فواد نے لکھا تھا یا ناجیہ نے خود کسی سے لکھوا کر فواد کو دیا تھا کہ جا کر میرے حوالے کر دے اور اس نے بنا سوچے سمجھے اُس کے کہنے کی تکمیل کر دی تھی۔ اُف کتنے گھٹیا تھے میرے رشتے دار کہ میں سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ ناجیہ سے زیادہ فواد کا افسوس تھا جس کو میں ایک اچھا انسان سمجھتی تھی۔ اے کاش اُس روز وہ بٹوہ، میں ناجیہ کی امانت سمجھ کر نہ لیتی یا کم از کم کھول کر ہی دیکھ لیتی کہ اس میں ہے کیا…؟ تو … بابا جان یہ تحریر پڑھ کر جان سے نہ گزر جاتے۔
درج تھا کہ اگر شادی سے قبل ماں بننے کا خطرہ ہے تو جان دینے کی کیا ضرورت ہے۔ کورٹ میرج کر لو۔ غرض کیا لکھوں حیا مانع ہے۔ آگے لکھ نہیں سکتی… ورنہ اس تحریر کی خرافات میرے تن سے رُوح نکالنے کو کافی تھیں۔
جب بابا کا تنِ مردہ سامنے پڑا تھا تو میں مجرم بنی دیوار سے لگی کھڑی تھی جیسے کسی کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ تب بھی نہ سمجھ سکی تھی کہ یہ لوگ کیوں یہاں آئے ہیں۔ ان کے آنے کا مقصد تو بعد میں کھلا۔
پھوپی دراصل فواد کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کی اجازت لینے آئی تھیں جبکہ بابا جان دل میں ارادہ کئے ہوئے تھے کہ وہ میرا رشتہ اپنے اسی بھتیجے سے کریں گے۔ چچی کو پیغام بھی بھجوا چکے تھے لیکن فواد تو ناجیہ کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر ہو چکا تھا۔ تبھی دونوں نے مل کر میری راہوں میں کانٹے بچھانے کی یہ ہولناک منصوبہ بندی کی تھی اور پھوپی کو بھی ہم نوا بنا لیا تھا۔
والد کی وفات پر یہی پھوپی سینہ کوبی کر رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ کتنے پتھر دل ہیں یہ لوگ جنہوں نے میری ماں کا سہاگ اُجاڑ دیا اور ماں اب بھی ان کو اپنا غمخوار سمجھ رہی ہیں۔
بابا جان چلے گئے … چچا بھی نہ رہے تھے، اب میری پھوپی کو کس کا ڈر تھا… فواد پہلے ہی ناجیہ کے دام میں گرفتار ہو چکا تھا۔ امی غیر خاندان سے تھیں۔ بابا کے رشے دار ان سے بظاہر اخلاق سے ملتے تھے مگر انہیں ابھی تک قبول نہ کیا تھا۔ چچی مجھ سے پیار کرتی تھیں مگر بے بس تھیں۔ جب انہوں نے میرے بارے میں پھوپی سے ایسی ویسی باتیں سُنیں اور چچا کو بھی یہ کہہ کر اپنی طرف کر لیا کہ نرمین نجانے کس سے ملتی تھی جو ایسی باتیں… اس نے فواد کو لکھ کر مدد مانگی۔
بھلا کوئی باپ… اتنا بڑا صدمہ سہہ سکتا ہے۔ نرمین کی بے حیائی نے اپنے باپ کی جان لی ہے۔ چچی اپنی نند کے چلتّروں کو سمجھتی تھیں مگر مقابلہ کرنے کی تاب نہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کے تیور دیکھ کر چپ سادھ لی اور چچا کو ساتھ ملا کر پھوپی نے اپنی بیٹی ناجیہ کو فواد کی دُلہن بنا کر ہی دَم لیا۔ مجھے بچپن کی منگنی توڑنے کا دُکھ اتنا نہ تھا جتنا دُکھ اس بات کا تھا کہ انہوں نے میرے باپ کو صدمہ پہنچا کر مار دیا اور مجھے اپنے بابا جان کی موت کا ذمّے دار ٹھہرا دیا۔
آج ناجیہ اور فواد بھی کوئی خوشگوار زندگی نہیں گزار رہے۔ دونوں میں آئے روز جھگڑا رہتا ہے۔ میری شادی ماموں کے بیٹے احسن سے ہوگئی۔ وہ ایک پڑھا لکھا سلجھا ہوا اور تہذیب یافتہ انسان ہے۔ احسن نے مجھے زندگی کی ہر خوشی دی ہے۔ ننھیال والوں نے سر آنکھوں پر جگہ دی ہے، جبکہ میں نے ددھیال والوں کو ایک بھیانک خواب سمجھ کر بھلا دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد میرے بھائیوں نے بھی ددھیال جانا کم کر دیا چونکہ بابا جان کی وراثتی زمین وہاں تھی اس لیے جانا پڑتا تھا۔
کچھ عرصے بعد… بھائیوں سے ان کی وراثت چچا نے خرید لی اور وہ رقم لے کر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے چلے گئے، سچ ہے کہ زمین سے عزت ہے مگر تعلیم ایسی شے ہے جس میں عزت کے ساتھ سرفرازی اور سربلندی بھی ہے۔ روشن خیالی انسان کو تعلیم کی بدولت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے آدمی جیو اور جینے دو کا پرامن رستہ اپنا لیتا ہے۔ (ن… اسلام آباد)