Khali Makan Reh Gaya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2498

ثروت چچا عادل کی بیٹی تھی جو ہمارے پڑوسی تھے۔ ان کے مالی حالات اچھے نہ تھے تبھی محلے والے بھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ سچ ہے دولت بڑی چیز ہے، یہ نہ ہو تو غریب کی کوئی عزت نہیں۔
وہ میرے بچپن کی ساتھی تھی۔ ہم نے میٹرک تک ساتھ پڑھا تھا۔ پھر میں ماموں کے پاس لاہور آگئی اور یہاں کالج میں داخلہ لے لیا، ثروت سے میرا رابطہ نہ رہا۔ جن دنوں فورتھ ایئر میں تھی… پتا چلا ثروت کی شادی ہوگئی ہے اور وہ بیاہ کر قریبی گائوں چلی گئی ہے۔ شادی خوشحال گھرانے میں ہوئی تھی۔ ثروت خوبصورت تھی شاید اسی سبب اس کا رشتہ مالدار گھرانے میں ہوگیا۔
تعلیم مکمل کرلینے کے بعد میں لاہور سے گھر لوٹ آئی۔ ایک روز جب ثروت کو یاد کررہی تھی، در پر دستک ہوئی، میرے نام کا نامہ آیا تھا۔ حیران تھی کس نے بھیجا ہے۔ لفافہ چاک کیا۔ ثروت کا خط تھا۔ لکھا تھا میری شادی ہوگئی ہے، تم لاہور میں تھیں ورنہ شاید شادی میں ضرور شرکت کرتیں۔ نجانے اب ہماری ملاقات کب ہو۔ تم بہت یاد آتی ہو، بے شک امیر گھر کی بہو ہوں لیکن خوش نہیں ہوں۔ شوہر اچھے آدمی ہیں لیکن ان کے دشمن بہت ہیں۔ ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے۔ اللہ کرے ہماری جلد ملاقات ہو۔ تبھی دل کا حال سنائوں گی۔

خط پڑھ کر یک گونہ خوشی ہوئی، ساتھ ہی افسوس بھی ہوا۔ لگتا تھا وہ مشکل میں ہے۔ کچھ کہنا چاہتی ہے کہہ نہیں سکی۔ اس کی بپتا میرے سوا کوئی سننے والا نہ تھا۔
ثروت کو خط کا جواب دینا چاہتی تھی، لیکن نہ دے سکی۔ اس نے پتا نہیں لکھا تھا۔ ان دنوں موبائل فون عام نہ تھے۔ اس کا کوئی فون نمبر بھی مجھے معلوم نہ تھا۔ اس کی والدہ کو فوت ہوئے عرصہ گزر چکا تھا۔ ایک بیوہ پھوپی تھی جسے شوہر کی وفات کے بعد ثروت کے والد اپنے گھر لے آئے تھے۔ اس خاتون کا ایک بیٹا تھا جو ثروت سے چھ سات برس چھوٹا تھا۔ وہ بھی ماں کے ساتھ، اپنے ماموں کے گھر رہتا تھا۔ اس کا نام فرحان تھا۔ ثروت کا کوئی بھائی نہ تھا، ایک بڑی بہن تھی جو شادی شدہ تھی اور اپنے شوہر کے ہمراہ سعودی عربیہ میں رہتی تھی۔ تنہائی کے احساس نے ثروت کو گھلا دیا تھا۔ وہ فرحان کو اپنا بھائی سمجھتی تھی۔
وقت کے ساتھ فرحان بڑا ہوگیا۔ میٹرک کے بعد نہ پڑھ سکا۔ عادل چچا وفات پاگئے۔ پھوپی کمزور اور عمر رسیدہ ہوگئیں۔ بھائی کی وفات کے بعد وہ ہمہ وقت اداس اور پریشان رہتی تھیں۔
ابو کی ان سے دور کی رشتے داری تھی۔ تبھی امی کبھی کبھار فرحان کی والدہ کے پاس چلی جاتی تھیں اور ان کی مالی مدد کرتی رہتی تھیں۔ ابو نے فرحان کو ایک دکان پر ملازم کروادیا تھا۔ اسے قلیل تنخواہ ملتی تھی۔ ماں بیٹے کا گزارہ بڑی مشکل سے ہوتا تھا۔ ثروت میکے بہت کم آتی۔ صبح آتی تو شام کو لوٹ جاتی۔ میکے میں اسے، رات کو رہنے کی اجازت نہ تھی۔ وہ ہمیشہ دیور کے ہمراہ آتی، شوہر ساتھ نہیں ہوتا تھا۔
ایک روز وہ آئی ہوئی تھی۔ مجھے علم ہوا تو ملنے چلی گئی۔ اس نے بتایا کہ اس کا شوہر نشہ کرنے کی وجہ سے بہت کمزور ہوگیا ہے وہ خود نشہ نہیں کرتا، بلکہ اس سے کروایا جاتا ہے۔ یہ عجب بات سن کر میں حیران رہ گئی۔ ثروت نے مزید بتایا کہ اس کے سسر زمیندار تھے۔ انہوں نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا محمود تھا جو اس کا شوہر ہے۔
محمود دس برس کا تھا، ماں فوت ہوگئی۔ باپ نے دوسری شادی کرلی۔ دوسری بیوی سے چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ سوتیلی ماں اور اس کے بچوں کو محمود ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ باپ کی زندگی تک وہ اس کے ساتھ جڑے رہنے پر مجبور تھے لیکن اب اس کی جان کے دشمن ہیں۔ بھائیوں نے خود اس کو نشے کے راستے پر لگایا ہے۔ خود اسے ہیروئن لاکر دیتے ہیں۔ وہ بہت خوفزدہ تھی، نہیں جانتی تھی کیا انجام ہونے والا ہے۔ وہ شوہر کو بچا سکتی تھی اور نہ چار دیوروں کا مقابلہ کرسکتی تھی۔ وہ امید سے تھی۔ کہنے لگی اب میں بچے کو جنم دینے سے بھی خوفزدہ ہوں۔ ایسا نہ ہو جائداد کی خاطر یہ ظالم لوگ اس کا بھی خاتمہ کردیں۔
میں نے اسے تسلی دی کہ فکر نہ کرو اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ وہ تمہارا مددگار ہوگا دعا کرتی رہا کرو۔ اگر تم آئندہ فیصلے سمجھ داری کے ساتھ کرو گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔
مدت بعد ثروت سے ملاقات ہوئی تھی۔ خوشی محسوس کرنے کی بجائے دل پر بوجھ لے کر لوٹ
آئی۔ اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد میرے لئے ماموں زاد کا رشتہ آگیا اور بیاہ کر لاہور چلی آئی۔ بالکل خبر نہ رہی کہ ثروت اب کس حال میں ہے۔
وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ تین بچوں کی ماں بن گئی اور گھر بار کی مصروفیات میں کھو گئی۔ کبھی کبھی میکے جانا ہوتا تو ثروت کے بارے میں جاننے کی فرصت نہ ملتی۔ بچوں کے ساتھ لاہور سے سفر کرنا ہوتا تھا۔ لہٰذا میکے کم ہی جاتی، زیادہ تر امی میرے پاس آجاتی تھیں۔
ایک دن امی نے بتایا کہ ثروت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ نشہ کرتا تھا۔ ہیروئن نے جوانی میں اس کو موت کی وادی میں اُتار دیا۔ ثروت بیوہ ہوکر باپ کے گھر واپس آگئی ہے۔ ایک بیٹا ہواتھا وہ اس کی ساس نے اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ بیچاری بہت اداس رہتی ہے۔ تمہارے والد نے وکیل سے بات کی ہے تاکہ عدالت سے اس کا بیٹا اُسے دلایا جاسکے مگر ثروت ڈر گئی ہے، کہتی ہے اگر اس کی جانب سے کیس کیا گیا کہیں ایسا نہ ہو وہ لوگ بچے کو ماردیں۔
بہت دکھ ہوا۔ لیکن ہم کیا کرسکتے تھے شاید اس کا نصیب ہی خراب تھا کہ اچھے گھرانے میں شادی ہوجانے کے باوجود وہ خوشی بھرے دن نہ دیکھ سکی۔ والد صاحب نے محلے کے کچھ معزز لوگوں کے ساتھ ثروت کے بڑے دیور سے بات کی تھی وہ بمشکل اس امر پر راضی ہوا کہ ہر ماہ ایک ہفتہ کے لیے وہ ثروت کے بیٹے کو اس کے پاس رہنے کو بھیج دیا کریں گے۔ اس دوران چھوٹا دیور بھی وہاں رہے گا اپنے بھتیجے کی حفاظت کے لئے۔ ثروت نے اس شرط کو منظور کرلیا۔
اب بچہ ایک ماہ میں ایک ہفتے اس کے پاس رہنے لگا۔ وہ کہتی تھی یہ بھی غنیمت ہے اپنی اولاد سے مل تو لیتی ہوں۔ گائوں اس لئے نہیں جاتی کہ وہ مجھے دیور سے نکاح پر مجبور کریں گے، محض جائداد کی خاطر۔ سسر کی زمینیں میرے اور میرے بچے کے لئے عذاب بن گئی ہیں۔ کون ماں اپنے لخت جگر کو خود سے جدا رکھنا چاہتی ہے لیکن میرے مرحوم سسر کے بھائی کی یہی ضد ہے کہ چھوٹے دیور سے نکاح کرکے گائوں میں رہوں یا پھر بچہ وہ خود رکھیں گے۔ مجھے دیور سے نکاح منظور نہیں وہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ وہی تو میرے شوہر کے لئے ہیروئن لاتا تھا۔ مجھ سے کیوں کر مخلص ہوسکتا ہے، مجھے لگتا ہے کہ وہ لوگ مجھے اور میرے بیٹے کو ٹھکانے لگاکر جائداد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تم عدالت میں کیس کرسکتی ہو۔ بچہ تم کو قانون کے ذریعے مل سکتا ہے۔ میں نے ایک بار اور اُسے سمجھایا تھا۔ کون مقدمے کی پیروی کرے گا وہ با اثر لوگ ہیں۔ مقدمہ دائر کرنے پر بھی پیسہ لگتا ہے۔ فرحان کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ دو وقت کی روٹی بمشکل پوری ہوتی ہے۔ میں سسرالیوں سے دشمنی مول نہیں لے سکتی۔ ثروت کے خدشات درست تھے لوگ محض تسلی دیتے تھے۔ ساتھ نباہنے والا کون تھا۔ اسی لئے وہ معاملہ عدالت تک نہ لے جانا چاہتی تھی۔
میں اپنے شوہر کے ساتھ عمرہ کرنے گئی تھی۔ بچے میری ساس کے پاس تھے جب لوٹی تو والدہ مبارک باد دینے لاہور آئیں۔ ثروت کا پوچھا تو رنجیدہ ہوکر بولیں۔ بیٹی وہ اب دنیا میں نہیں ہے۔
یہ کیسے ہوا ماں… وہ تو ٹھیک ٹھاک تھی۔ میں نے حیرت سے سوال کیا۔ بیٹی کچھ دنوں سے وہ بہت پریشان تھی۔ مالی حالات سے مجبور ہوکر اس نے نوکری کرلی تھی۔ یہ بات اس کے سسرال والوں کو پسند نہ تھی۔ اس کا دیور اعتراض کرتا تھا۔ وہ لوگ کہتے تھے اخراجات ہم سے لے لو لیکن گھر سے باہر قدم مت نکالو ورنہ ہم بچے کو تم سے ملوانے نہیں لائیں گے۔ فرحان نے جانے کس باعث نوکری چھوڑ دی تھی، تبھی ثروت نے ملازمت اختیار کی۔ دیور اس کی جان کا دشمن ہوگیا تھا۔
اس نے محلے میں یہ بات مشہور کردی کہ ثروت کا چال چلن ٹھیک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے یہ میکے میں رہنے پر مُصر ہے جبکہ میکے میں ایک پھوپی زاد کے سوا کوئی نہیں ہے۔
اس کے دیور کا نام شہاب تھا۔ اس نے فرحان کو اپنا ہم نوا کرلیا۔ فرحان بھی اب یہی چاہتا تھا کہ ثروت سسرال چلی جائے، دیور سے نکاح کرلے، اپنے باپ کا گھر چھوڑ دے تاکہ وہ اس مکان کو فروخت کرسکے۔ مکان میں فرحان کی ماں کا بھی حصہ تھا۔ ہر ایک اپنی غرض کے دائرے میں گھوم رہا تھا اور بیچاری ثروت اس لالچ کی نذر ہوگئی۔ اس کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک بے سہارا عورت تھی اور ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔ وہ اپنی زندگی جینا چاہتی تھی لیکن نہیں جی سکتی تھی۔
جب بار بار ایک بات دہرائی جائے تو جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔ محلے دار بھی فرحان کی باتوں پر کان


لگے۔ جلد ہی ثروت کے بارے میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اکیلی رہتی ہے، جانے کہاں جاتی ہے، اس کا کردار ٹھیک نہیں رہا۔ بھائی جان بھی محلے داروں کی چہ میگوئیوں کی وجہ سے بدظن ہوگئے۔ امی سے کہا زبانِ خلق کو نقارئہ خدا سمجھو۔ ثروت کو گھر مت آنے دیا کرو، اس کے بارے میں لوگوں کی رائے خراب ہوچکی ہے۔ آخر یہ شادی کیوں نہیں کرتی۔ امی نے جواب دیا۔ بیٹا وہ جیسی بھی ہے اپنی پیدائش کے دن سے میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ وہ ہرگز بُری نہیں ہے۔ یہ سب ڈرامہ اُس کے دیور کا رچایا ہوا ہے۔ محلے والوں کو چاہئے کہ شہاب کا یہاں آنا اور رہنا بند کرادیں۔ اس کا حق نہیں بنتا کہ وہ بیوہ بھابی کے گھر آکر رہے۔
وہ اپنے بھتیجے کی حفاظت کے لئے آتا ہے۔ بچے کی حفاظت ماں سے بڑھ کر کون کرسکتا ہے۔ امی نے میرے بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی پر وہ نہ سمجھے اور ثروت کو اپنے گھر آنے سے منع کردیا۔ ہمارے گھر کی چھت سے ثروت کا صحن اور کمرے نظر آتے تھے۔ ایک روز بھابی چھت پر کپڑے ڈالنے گئیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص ثروت کے مکان میں صحن سے گزر کر کمرے کی طرف گیا ہے۔ بھابی نے امی کو بتایا۔ وہ کمپنی میں کام کرتی ہے۔ ہوگا کوئی آفس کا آدمی تم کیوں اس کی جاسوسی کرتی ہو۔ بھابی اس دم تو خاموش ہورہیں لیکن ان کو ثروت کی ٹوہ نے آرام نہ لینے دیا۔ انہوں نے یہ کھوج لگالیا کہ وہ شخص تبھی آتا ہے جب اس کا دیور گائوں میں ہوتا ہے۔
ایک دن پتا چلا کہ اس کا دیور اچانک گائوں سے آگیا اور اس نے اس آدمی کو گھر سے نکلتے دیکھ لیا۔ اس نے ثروت سے پوچھا کون آدمی تھا یہ۔ وہ بولی میرے آفس میں کام کرتا ہے، میرا بھائی بنا ہوا ہے، کچھ فائل ورک جو مجھے نہیں آتا وہ سکھانے آتا ہے۔
شہاب نے ثروت سے کچھ نہ کہا لیکن فرحان کے خوب کان بھرے۔ اس کو باور کرادیا کہ ثروت کے تعلقات کسی شخص سے ہیں جو تمہاری غیر موجودگی میں آیا تھا اور میں نے اس کو گھر سے نکلتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ تم بے غیرت کیسے بھائی ہو کہ اپنی بہن سے باز پرس نہیں کرتے۔ میں اپنے بھتیجے کو لے جارہا ہوں اور اب یہاں نہیں لائوں گا۔ اس کی بدچلن ماں کے کردار کا اثر ہماری نسل پر پڑے یہ ہم برداشت نہیں کرسکتے۔
فرحان نے شہاب کی یہ بات اپنے تک رکھی اور ثروت کی ٹوہ میں لگ گیا۔ ان دنوں فرحان کہیں رات کو چوکیداری کرتا تھا، وہ سرشام ڈیوٹی پر روانہ ہوجاتا۔ اس روز بھی وہ شام چھ بجے گھر سے چلا گیا۔ سردیوں کے دن تھے۔ چھ بجے سورج غروب ہوجاتا تھا اور اندھیرا پھیل جاتا تھا۔ مغرب ہوتے ہی رات کا سماں ہوجاتا۔
ساڑھے چھ بجے کسی شخص نے دروازہ بجایا۔ ثروت نے در کھولا۔ وہ شخص گھر کے اندر چلا گیا۔ اس روز فرحان ڈیوٹی پر نہ گیا تھا بلکہ کہیں قریب ہی چھپا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ایک دوست کو بھی ساتھ ملا لیا تھا۔ دونوں گلی میں اس شخص کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے۔ گلی میں اندھیرا تھا۔ یہ دونوں ایک بند دکان کے تھڑے پر بیٹھ کر انتظار کررہے تھے، جونہی وہ شخص ثروت کے گھر سے نکلا دونوں نے لپک کر اسے دبوچ لیا۔ کون ہو تم اور کیوں آئے تھے۔
میں باجی ثروت کو کمپیوٹر سکھانے آیا تھا۔ ان کو آفس میں دقت ہوتی ہے اور کام کمپیوٹر پر کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مجھ سے منت کی تھی کہ چند دن انہیں آفس ٹائم کے بعد گھر پر سکھادوں۔
بکواس مت کرو۔ ایک اکیلی عورت کے پاس اس وقت کمپیوٹر سکھانے کے بہانے آنے کا کیا مطلب ہے؟ میں خوب جانتا ہوں۔ فرحان نے کہا۔ شہاب نے اسے اس قدر بھڑکا دیا تھا کہ اس نے نوجوان کی بات کا اعتبار نہ کیا۔ جوان خون نے جوش مارا، وہ اس کا گلا دبوچ کر مار ڈالنا چاہتا تھا لیکن دوست آڑے آگیا اور نوجوان کو چھڑالیا۔ عارف نے فرحان کو سمجھایا۔ یہ مرگیا تو ہم جیل چلے جائیں گے۔ تمہارے جیل جانے کے بعد ثروت کی بن آئے گی، تمہاری بہن خوب کھل کر عیش کرے گی، بے وقوف مت بنو، اسے سر عام مارنے کی بجائے پہلے اپنی بہن سے باز پرس کرو، وہ کیا کہتی ہے۔
دوست کے سمجھانے پر فرحان نے اس شخص کو چھوڑ دیا۔ اُس رات فرحان ڈیوٹی پر بھی نہ گیا۔ رات بھر غصے سے کھولتا رہا۔ عارف اُسے سمجھا بجھا کر سوگیا اور سونے سے پہلے اس نے گیٹ پر تالا لگادیا تاکہ رات کو فرحان باہر نہ جاسکے۔ اس نے سوچا صبح اسے پھر سمجھائے گا۔
عارف ثروت کو جانتا تھا۔ وہ فرحان کا بچپن کا دوست تھا۔ ان کے
گھریلو حالات سے واقف تھا۔ وہ بھی جانتا تھا کہ ثروت ان دنوں فرحان کے لئے لڑکی ڈھونڈنے میں لگی ہوئی ہے۔ جلد از جلد اس کے سر پر سہرا دیکھنے اور اس کی دلہن گھر لانے کی آرزو مند تھی۔ جو بہن ایسا سوچ رہی تھی وہ بھلا کیونکر اپنے بھائی کی عزت و آبرو کو خاک میں ملانے کے لئے ایسی حرکت کرسکتی تھی۔
صبح عارف نے فرحان سے وعدہ لیا کہ وہ پہلے ٹھنڈے دل سے ثروت سے بات کرے۔ معاملے کی جان پرکھ کے بعد کوئی قدم اٹھائے۔ محض شک پر کسی کو گناہ گار ٹھہرانا درست نہیں۔
فرحان نے اس وقت تو وعدہ کرلیا لیکن اس کے اندر کا شک دور نہ ہوا۔ وہ اندر ہی اندر کھولتا رہا۔ اس واقعے کے دوسرے روز صبح ہی صبح سارے محلے میں کہرام مچ گیا کہ ثروت کو اس کے بھائی فرحان نے مار ڈالا ہے۔
یہ اتوار کا دن تھا۔ ثروت ملازمت پر نہ گئی تھی۔ اتوار کے روز وہ گھر سے قدم نہیں نکالتی تھی لیکن آج اُسے گھر سے جانا پڑا۔ اپنے قدموں پر چل کر نہیں بلکہ پولیس والوں کی ایمبولینس میں۔ پولیس فرحان کو بھی گرفتار کرکے لے گئی۔
پولیس نے جب تفتیش کی تو اصل بات سامنے آگئی۔ ثروت نے جس کمپنی میں ملازمت کی تھی وہاں کمپیوٹر پر کام ہوتا تھا۔ کمپیوٹر، ثروت کے پاس نہ تھا۔ کمپنی کا باس ایک رحم دل انسان تھا۔ اس نے اپنی طرف سے کچھ عرصے کے لئے ثروت کو کمپیوٹر فراہم کردیا اور اپنے آفس کے ایک کلرک کو ہدایت کردی کہ چند دن گھر پر جاکر اس خاتون کو کام سکھادو۔ ثروت چونکہ ضرورت مند اور اچھی لڑکی تھی، تبھی باس نے اس کی مدد کی تھی۔ معلوم نہ تھا کہ اس بات کو ’’اِشو‘‘ بناکر اس قدر ہوا دی جائے گی کہ اس بیچاری کی جان چلی جائے گی۔
اس سارے المیے میں انہی لوگوں کو فائدہ ہوا جو روزِ اول سے ثروت کے دشمن تھے۔ وہ اسے اور اس کی اولاد کو اپنی ملکیت میں حصہ دینا نہ چاہتے تھے۔ ثروت بچے کے بارے میں سوچتی تھی تو پریشان ہوجاتی تھی کہ جانے وہ کس حال میں ہوگا۔
اتفاق سے ایک دن ہم اس کے سسرالی گائوں گئے جہاں میرے شوہر کے کچھ عزیز رہتے تھے۔ ان کے گھر شادی کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ میں خاص طور پر اپنے رفیقِ حیات کے ہمراہ گئی تھی، شاید ثروت کے بارے میں کچھ سن گن مل جائے۔ شادی میں ایک عورت سے اس کے بچے کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ثروت کا بچہ وفات پاچکا ہے۔
وہ ماں کے بغیر اداس رہتا تھا۔ صحت بھی گرگئی تھی۔ سوتیلی دادی اور پھوپیاں اس بچے کا کچھ خیال نہ کرتی تھیں۔ ایک روز جبکہ سخت گرمی پڑرہی تھی، بچہ ’اے سی‘ والے کمرے سے نکلا اور گھر سے باہر چلا گیا۔ کھیتوں میں ٹیوب ویل چل رہا تھا جس کے ٹھنڈے پانی میں گائوں کے کچھ بچے نہا رہے تھے۔ ثروت کا بیٹا بھی حوض میں اُتر گیا، اس وقت لو چل رہی تھی۔ بچہ جونہی حوض سے نہاکر نکلا اُسے فالج ہوگیا۔ وہ گرگیا اور پھر اس کی وفات ہوگئی۔
مجھے بہت دکھ ہوا۔ ثروت رہی اور نہ اس کا نام لیوا رہا۔ فرحان کچھ سال کی قید بھگت کر واپس آگیا لیکن ثروت کو جو ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی اسے ایک بڑے زمیندار کی بہو بن جانے کی بہت بڑی سزا ملی۔ ثروت کے باپ نے لڑکے کے خاندان کی امارت تو دیکھی، یہ نہ دیکھا کہ خود لڑکے میں کیا عیب ہیں۔ ان کی دولت کچھ کام نہ آئی، بیچاری ثروت کی زندگی برباد ہوگئی، بالآخر اس کی جان چلی گئی۔
میں آج کل لاہور میں رہتی ہوں، جب کبھی میکے جانا ہوتا ہے چچا عادل کے گھر پر تالا دیکھ کر دل میں ہوک سی اٹھتی ہے، یہ وہی گھر تھا جس کے آنگن میں کبھی میں اور میری بچپن کی ساتھی اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔ آج اس گھر کو قفل لگ چکا تھا۔ کچھ مکانوں کی تقدیر بھی کتنی خراب ہوتی ہے۔ مفلسی کا سائبان ہوتے ہیں یا پھر مکین ہی باقی نہیں رہتے بس خالی مکان رہ جاتا ہے۔
(ع…لاہور)