Sunday, May 19, 2024

khatarnak Mafia | Episode 10

جان ڈلنگر اور کوپ لینڈ بینک لوٹ کر اطمینان سے باہر آ گئے۔ فٹ پاتھ پر ایک دیہاتی بوڑھا کھڑا شک اور تشویش کی ملی جلی سی کیفیت میں بینک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے نہایت سادگی سے جان ڈلنگر سے ہی پوچھ لیا ’’کیا بینک میں کچھ گڑبڑ ہے؟‘‘
’’لگتا تو کچھ ایسا ہی ہے…‘‘ جان ڈلنگر نے بدستور چیونگم چباتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ہم بھی کیش جمع کرانے کے ارادے سے بینک میں گئے تھے لیکن اندر قدم رکھتے ہی واپس آ گئے۔‘‘
اس نے بینک سے لوٹی ہوئی رقم کی تھیلی بھی بڑے میاں کو دکھا دی۔ بڑے میاں ہمدردانہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور جان ڈلنگر اپنے ساتھی کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھ کر رفو چکر ہوگیا۔ اس ڈکیتی میں ساڑھے دس ہزار ڈالر جان ڈلنگر کے ہاتھ لگے تھے۔
پولیس کا سراغرساں میٹ لیچ بدستور جان ڈلنگر کی تلاش میں تھا۔ اس نے ڈلنگر کے دو تین ٹھکانوں کا سراغ لگا کر ان پر چھاپے بھی مارے تھے لیکن ہر بار جان ڈلنگر کی یہ خوش قسمتی رہی تھی کہ اس کے جس ٹھکانے پر چھاپا پڑا، وہ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ چکا تھا تاہم لیچ نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ اسے امید تھی کہ کبھی وہ وقت بھی آئے گا جب جان ڈلنگر اپنے کسی ٹھکانے پر پہنچے گا اور وہ وہاں پہلے سے موجود ہوگا۔
اس دوران کارپس، جس نے ولیم ہام کے اغواء برائے تاوان کی واردات میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، ریاست انڈیانا میں لیک مشی گن کے قریب ایک شاندار وِلا کرائے پر لے کر اپنی کم عمر گرل فرینڈ ڈیلورس کے ساتھ وہاں رہ رہا تھا۔ اس کا مالک مکان ایک ایسا سیاستدان تھا جس کے انڈرورلڈ کے ساتھ مراسم تھے۔ کارپس ان دنوں عیش اور فرصت میں وقت گزار رہا تھا۔ اس کے پڑوسیوں میں ایڈبینز بھی شامل تھا جو ایک خطرناک بینک ڈکیت اور قاتل تھا۔
وہ مشین گن کیلی کا بھی ساتھی رہا تھا لیکن مشین گن کیلی نے جب چارلس ارشل کے اغواء کا منصوبہ بنایا، اس سے کچھ ہی دن پہلے وہ مشین گن کیلی سے الگ ہوا تھا۔ مذاق کے سے انداز میں ایڈبینز کبھی کبھی اپنے چوبیس سالہ پڑوسی جمی کو کامیابی سے بینک لوٹنے کے طریقوں پر لیکچر دیا کرتا تھا۔ جمی کے بال سنہری تھے اور وہ چہرے مہرے سے بڑا معصوم دکھائی دیتا تھا۔ وہ رینو میں انڈر ورلڈ کے لوگوں کے لیے ان کی وارداتوں کے دوران ڈرائیور کے فرائض انجام دیتا رہا تھا۔ ’’جمی‘‘ کے ساتھ وہ ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی فرضی نام لگا لیتا تھا۔
درحقیقت یہ وہی نوجوان تھا جو بعد میں جرائم کی دنیا میں ’’بے بی فیس نیلسن‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ ایف بی آئی وغیرہ کے پاس اس کا کوئی خاص ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ 80 سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کے بارے میں سرکاری ذرائع سے بہت کم معلومات سامنے آسکی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں بے بی فیس نیلسن ایک معمولی سا مجرم محسوس ہوتا ہے جو زیادہ خطرناک یا ضرررساں نہیں تھا لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ وہ ایک نہایت سفّاک، بے رحم قاتل اور بینک ڈکیت تھا۔
دیگر ذرائع سے اس کی حقیقی زندگی میں جھانکا جائے تو پتا چلتا ہے کہ کم از کم دو مرتبہ تو اس نے ڈاکوں کے دوران مشین گن سے فائرنگ کرکے بے گناہ عورتوں اور معصوم بچوں کو بھی قتل کر دیا تھا اور لرزہ خیز بات یہ تھی کہ ان سب کو گولیوں سے چھلنی کرنے کے دوران وہ قہقہے لگا رہا تھا۔ اپنی حرکتوں سے وہ خونریزی اور تشدد پر مبنی فلموں کا کوئی کردار معلوم ہوتا ہے۔ اس کا قد صرف پانچ فٹ چار انچ تھا۔ وہ بچپن ہی سے نہایت غصہ ور اور جھگڑالو تھا۔ اپنے سے زیادہ لمبے تڑنگے لڑکوں سے جھگڑے مول لیتا رہتا تھا۔
اس نے ایک ایسے علاقے میں پرورش پائی تھی جہاں پولینڈ کے تارکین وطن کی اکثریت تھی اور ماحول کچھ زیادہ شریفانہ یا پُرامن نہیں تھا۔ اس کے والدین نے سنہرے بالوں اور معمولی شکل والے اپنے اس بیٹے سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں لیکن وہ مسلسل اپنی حرکتوں سے ان کی امیدوں پر پانی پھیرتا آرہا تھا۔ گیارہ سال کی عمر میں ہی وہ ایسے لڑکوں کے گروہ میں شامل ہوگیا تھا جو دکانیں لوٹتے اور کاریں چُراتے تھے۔ وہ اتنے بدمعاش لڑکے تھے کہ راہ چلتے چلتے، دکانداروں سے پیسے چھین جھپٹ کر لے جاتے تھے۔
نیلسن بارہ سال کا تھا جب اسے اپنے ایک دوست کے باپ کی کار میں ایک پستول پڑا مل گیا۔ اس نے وہ نکال لیا اور ایک جگہ بیٹھے ہوئے لڑکوں کو اپنی دانست میں صرف خوفزدہ کرنے کے لیے فائر کر دیا۔ اس نے فائر ان کے سروں کے اوپر کیا تھا لیکن گولی کسی چیز سے ٹکرا کر اُچٹتی ہوئی ایک لڑکے کے جبڑے میں گھس گئی۔ پولیس نے نیلسن کو گرفتار کرلیا۔ یوں اسے پہلی بار قانون کے محافظوں سے واسطہ پڑا۔ اسے بارہ ماہ کے لیے ایک اصلاحی جیل بھیج دیا گیا۔ اس واقعے سے اس میں آتشیں ہتھیاروں کے استعمال کا زبردست شوق پیدا ہوگیا۔ اسے دُوسرا شوق یا جنون گاڑیاں چلانے کا تھا۔ جیل سے رہا ہوتے ہی اس نے اپنا یہ شوق پورا کرنے کے لیے گاڑیاں چُرانا شروع کر دیں۔
گاڑیاں چُرانے کے الزام میں بھی وہ گرفتار ہوا اور اسے دوبارہ اصلاحی جیل بھیج دیا گیا۔ اس بار وہ جیل سے باہر آیا تو اس کے باپ کا انتقال ہوچکا تھا۔ اس نے مالی پریشانیوں کی وجہ سے خودکشی کر لی تھی۔ نیلسن نے ماں کی نظر میں اپنے آپ کو اچھا بیٹا اور ’’کمائو پوت‘‘ ثابت کرنے کے لیے مکینک کے طور پر ملازمت بھی کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جرم کے راستے پر بھی بھٹکتا رہا۔ وہ شریفانہ اور مجرمانہ زندگی کے درمیان ڈولتا رہتا تھا۔ کبھی کام کرتا، کبھی جیل چلا جاتا۔
اٹھارہ سال کی عمر میں وہ پڑوس کی ایک پندرہ سالہ لڑکی ہیلن کی محبت میں گرفتار ہوگیا، جو پڑھنے کے علاوہ کھلونوں کی ایک دکان پر پارٹ ٹائم ملازمت بھی کرتی تھی۔ نیلسن سے تعلقات کے نتیجے میں جب وہ امید سے ہوگئی تو دونوں نے کورٹ میں کاغذات پر دستخط کر کے شادی کرلی۔ 1930ء تک وہ ایک لڑکے اور ایک لڑکی کے والدین بن چکے تھے۔
نیلسن اس دوران گاڑیوں کے ٹائر چُرانے، ناجائز شراب گاڑیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے دھندے کرتا رہا۔ پھر اس نے مسلح ڈکیتیاں بھی شروع کردیں۔ مالی ضروریات بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے جرائم بھی سنگین تر ہوتے گئے۔ اسے کچھ ساتھی بھی مل گئے۔ وہ مالدار لوگوں کے گھروں میں ڈاکے بھی ڈالنے لگے۔ ڈکیتی کے دوران وہ گھر کے سب افراد کے ہاتھ باندھنے کے علاوہ ان کے منہ پر ٹیپ بھی چپکا دیتے تھے۔ اخباروں میں ان کا تذکرہ ’’ٹیپ والے ڈاکوئوں‘‘ کے نام سے ہونے لگا۔
پھر نیلسن نے بینکوں میں بھی ڈاکے ڈالنے شروع کر دیئے۔ اب معاملہ صرف ضروریات کا نہیں رہا تھا بلکہ دولت کی ہوس بھی پیدا ہو چکی تھی۔ ایک بار اس نے فٹ پاتھ پر ایک میئر اور اس کی بیوی کو بھی لوٹ لیا جو اپنے اپارٹمنٹ کی طرف جا رہے تھے اور ان کے ساتھ ایک گارڈ بھی تھا۔ اس نے میئر کی بیوی کے زیورات بھی اُتروا لئے۔ میئر کی بیوی نے بعد میں پولیس کو ڈاکو کا حلیہ بتاتے ہوئے کہا ’’اس کا چہرہ بچوں کی طرح معصوم تھا۔‘‘
یہیں سے اس کا نام ’’بے بی فیس نیلسن‘‘ پڑا۔
اس نے اپنا گروہ بھی بنا لیا تھا۔ ایک بار اس کے گروہ نے ایک کلب میں ڈاکا ڈالا تو کسی کی غلطی سے مین سوئچ دب گیا اور لائٹ آف ہوگئی۔ اس دوران ایک کتّے نے نیلسن پر حملہ کر دیا اور اس کی ٹانگ دبوچ لی۔ نیلسن نے کتّے کو مارنے کے لیے فائر کر دیا۔ اندھیرے میں گھبراہٹ کی وجہ سے اس کے ساتھیوں نے بھی فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران پولیس کا ایک سراغرساں جو واش روم میں تھا، باہر آ گیا اور اس نے اپنی دانست میں ڈاکوئوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ ایک عجیب ہنگامہ شروع ہوگیا۔ چند سیکنڈ کے اندر اندر تین عورتیں ماری گئیں جن میں کلب کی سنگر بھی شامل تھی۔ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ نیلسن اور اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
ایک شراب خانے میں ڈکیتی کے دوران نیلسن نے ایک آدمی کو مسکراتے دیکھ لیا۔ درحقیقت وہ بے چارہ بدحواسی میں مسکرا رہا تھا اور اسے شاید احساس بھی نہیں تھا کہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ وہ بھی ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا۔ نیلسن کی نظر اس پر پڑی تو اسے غصہ آ گیا۔
’’سؤر کے بچّے! تم کیوں مسکرا رہے ہو؟‘‘ وہ چیخا۔ ’’تم کیا سمجھ رہے ہو… ہم مذاق کر رہے ہیں؟‘‘ دُوسرے ہی لمحے اس نے مشین گن سے اس کے سینے پر برسٹ مارا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔
1931ء کے دوران نیلسن کے گروہ کے زیادہ تر ارکان پکڑے گئے۔ 1932ء میں نیلسن کو بھی شکاگو کے جڑواں شہر سیسرو میں ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔ پہلے اسے ایک سال کی سزا ہوئی۔ پھر دوسرے مقدمات میں عمرقید کی سزا ہوگئی۔ دوسری جیل میں منتقلی کے لیے ایک پولیس آفیسر پہلے اسے ٹرین میں ساتھ لے کر چلا۔ اسے ہتھکڑی لگی ہوگئی تھی۔ ٹرین سے اتر کر وہ ٹیکسی میں بیٹھے تو پولیس آفیسر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ نیلسن کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔ یقیناً کسی نے ٹرین میں سفر کے دوران اسے وہ ریوالور دے دیا تھا۔ ریوالور کے زور پر نیلسن نے پولیس افسر سے اپنی ہتھکڑی کھلوائی، اسے ٹیکسی سے باہر دھکا دیا اور ڈرائیور کی کنپٹی پر ریوالور کی نال رکھ کر اسے گاڑی بھگانے پر مجبور کر دیا۔
اس کے بعد گویا اس کی مجرمانہ زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ وہ رینو چلا گیا۔ پھر شکاگو آ گیا۔ اس دوران اس کی متعدد مجرموں سے ملاقات اور دوستی ہوئی جن میں کارپس بھی شامل تھا جس نے اسے ماما بارکر گینگ سے متعارف کرایا۔ تاہم وہ لوگ اس کی تندمزاجی اور اشتعال کے قصّے سن چکے تھے، اس لیے اسے ساتھ ملانے سے کتراتے رہے البتہ انہوں نے اسے ایڈبینز سے ملوا دیا تھا جو اسے ایک ’’بہتر‘‘ بینک ڈکیت بننے کے موضوع پر لیکچر دیتا رہتا تھا۔ اس کی رہنمائی کے بغیر بھی بہرحال نیلسن کی مجرمانہ سرگرمیاں جاری تھیں اور اس کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی۔ ایڈبینز وغیرہ بھی بینک ڈکیتیوں میں اس کا ساتھ دینے لگے تھے لیکن ایک بینک ڈکیتی میں انہیں اچھی خاصی بدقسمتی کا سامنا رہا اور ان کے راستے جدا ہوگئے۔
جب وہ لوگ اس بینک میں ڈاکا ڈال رہے تھے تو کوئی ملازم الارم بجانے میں کامیاب ہوگیا۔ الارم سامنے والی ایک دکان میں بجا تھا۔ وہ فرنیچر کی دکان تھی اور اس کا مالک ایڈورڈ بڑا دلیر تھا۔ الارم کا بٹن بینک میں دبایا گیا تھا لیکن الارم ایڈورڈ کی دُکان میں بجا تھا۔ وہ فوراً اپنی شاٹ گن اٹھا کر باہر بھاگا۔ اس نے بینک کے سامنے ایک گاڑی کو مشکوک انداز میں کھڑے دیکھ لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ڈاکو اس گاڑی میں فرار ہوں گے۔ وہ ڈرائیور کو نشانہ بنانے کے لیے پوزیشن لینے لگا۔ ڈرائیور نے اسے پوزیشن لیتے دیکھ لیا۔ وہ خوفزدہ ہو کر گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا۔
ایڈورڈ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ بینک کو لوٹا جا رہا ہے۔ اِدھر اُدھر سے دکاندار اور دُوسرے لوگ جمع ہونے لگے۔ اندر نیلسن کو گڑبڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ایک کھڑکی کی جھری سے باہر دیکھا اور اعلان کیا ’’الارم بج گیا ہے۔ لوگ جمع ہو رہے ہیں۔ بھاگو…‘‘
کچھ رقم ان کے ہاتھ لگ چکی تھی۔ وہ اسی کو غنیمت سمجھتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے۔ ایڈبینز نے اپنے ساتھیوں کو خبردار کیا۔ ’’جب تک وہ لوگ فائر نہ کریں، تم میں سے بھی کوئی فائر نہ کرے۔‘‘
سب سے پہلے نیلسن باہر نکلا۔ اس نے اپنے سامنے بینک کی ایک خاتون کیشیئر کو ڈھال بنایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں ہلکی مشین گن تھامی ہوئی تھی۔ دکاندار ایڈورڈ نے اسے دیکھا اور اس طرح فائر کیا کہ گولی یرغمالی عورت کو نہ لگے۔ نیلسن جھک کر گولی سے بچا اور اس نے جواباً مشین گن سے برسٹ مارا جس سے، سڑک پرکھڑی کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اسی دوران ایڈبینز باہر نکلا۔ اس نے بھی ایک کیشیئر عورت کو ایک بازو کے حلقے میں جکڑ کر ڈھال کے طور پر اپنے سامنے کر رکھا تھا۔ اس کے دوسرے دو ساتھی بھی اسی طرح دو افراد کو اپنے ساتھ یرغمال بنا لائے تھے لیکن یہ دیکھ کر ان کے ہوش اُڑ گئے کہ جس کار میں انہیں فرار ہونا تھا، وہ وہاں نہیں تھی۔
’’کار کہاں گئی؟‘‘ ان میں سے کوئی ہیجان زدہ انداز میں چیخا۔
ایڈبینز بھی دَم بہ خود تھا۔ اسی دوران اس نے ایڈورڈ کو پوزیشن لیے دیکھا۔ اس نے جلدی سے ایڈورڈ پر چند فائر کئے۔ ایڈورڈ تو بچ گیا البتہ مزید چند کاروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایڈورڈ بھاگ کر واپس اپنی دکان میں گھس گیا۔ گروہ کے دوسرے آدمیوں نے بھی اِدھر اُدھر فائر کر کے لوگوں کو پناہ کی تلاش میں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ پھر وہ لوگ اپنے یرغمالیوں کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے پیدل ہی آگے چل دیئے تا کہ بینک سے دُور نکل جائیں۔
چوراہے پر ایڈبینز پستول لہراتا ہوا ٹریفک میں گھس گیا اور اس نے ایک شیورلے کو روک کر اسے ڈرائیو کرنے والی عورت کو پستول دکھا کر نیچے اُتار دیا۔ چاروں ڈاکو جلدی سے گاڑی میں گھس گئے۔ ان کا ایک ساتھی بینک میں ہی رہ گیا تھا جسے منیجر نے قابو میں کر لیا تھا اور بعد میں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ ڈاکوئوں نے فرار ہونے کے لیے علاقے کی سڑکوں کا نقشہ بھی ساتھ رکھا تھا مگر وہ اسی گاڑی میں رہ گیا تھا جو اب ان کے پاس نہیں تھی۔ اب ایڈبینز کو اپنی یادداشت کے سہارے ان کی رہنمائی کرنی تھی۔
بدقسمتی ان پر سایہ فگن تھی۔ کچھ دور پہنچ کر انہیں احساس ہوا کہ گاڑی میں پٹرول ایک گیلن سے بھی کم تھا اور وہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔ جلد ہی انہیں سڑک کے کنارے ایک کار کھڑی نظر آ گئی جس میں ایک عورت بیٹھی تھی۔ وہ شاید کسی کام سے وہاں رکی ہوئی تھی۔ انہوں نے اس سے کار چھینی اور اس میں بیٹھ کر آگے چل دیئے۔ مگر بدقسمتی نے ابھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ جلد ہی اس گاڑی کے دوپہیّے ایک ساتھ پنکچر ہوگئے۔ ایک بار پھر انہیں پیدل چلنا پڑا۔
تاہم جلد ہی انہیں ایک اور کار مل گئی جس میں چار طالب علم بیٹھے تھے۔ انہوں نے ان لڑکوں سے کار چھینی اور آگے روانہ ہوگئے۔ لانگ بیچ تک پہنچتے پہنچتے انہیں صبح ہوگئی۔ راستے میں ان کا بہت وقت ضائع ہوا تھا مگر ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ پکڑے نہیں گئے تھے اور نہ ہی کسی نے ان کا تعاقب کیا تھا۔ کہیں پولیس مقابلے کی نوبت بھی نہیں آئی تھی۔
ایک جگہ رک کر انہوں نے ڈاکے میں ہاتھ لگنے والی رقم گنی۔ وہ پورے تین ہزار ڈالر بھی نہیں تھے۔ گویا ایک آدمی کے ہاتھ میں مشکل سے سات سو ڈالر آ رہے تھے۔ اس رقم کے لیے ان سب نے جان کی بازی لگائی تھی۔
دوسرے روز ایڈبینز نے اپنا لانگ بیچ والا مکان چھوڑ دیا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ بے بی فیس نیلسن سے کوئی واسطہ نہیں رکھے گا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس شخص کے ساتھ رہنے میں کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ادھر نیلسن اپنے گھر سے نکل کر کارپس کو اس ڈکیتی کے بارے میں بتانے گیا مگر کارپس اپنی کسی واردات پر نکلا ہوا تھا۔
٭…٭…٭
ایف بی آئی والے مشین گن کیلی کی تلاش میں کئی ریاستوں کی خاک چھان رہے تھے لیکن وہ انہیں مسلسل غچا دیئے جا رہا تھا۔ کیتھرین بھی مسلسل حالت سفر میں رہتی تھی اور پولیس یا ایف بی آئی کے ہتھے چڑھنے سے بچی ہوئی تھی۔ اس دوران بھی وہ پوری کوشش کئے جا رہی تھی کہ اس کی ماں کو قانون کے شکنجے سے چھڑانے کی کوئی تدبیر ہوسکے۔ وہ تو پولیس سے اس قسم کا کوئی سودا کرنے کے لیے بھی تیار تھی کہ اس کی ماں کو چھوڑ دیا جائے اور اس کے بدلے اسے جیل بھیج دیا جائے لیکن کوئی بھی وکیل اسے یہ یقین دلانے سے قاصر تھا کہ اس قسم کا کوئی معاہدہ ہونا ممکن ہے۔ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی تھی۔
مشین گن کیلی اور اس کی بیوی کیتھرین کو تو پولیس اور ایف بی آئی پکڑنے میں ناکام تھی لیکن اس دوران جان ڈلنگر قطعی غیرمتوقع طور پر نہایت آسانی سے ان کے ہاتھ آ گیا۔ جان ڈلنگر کی ایک محبوبہ کی قیام گاہ سے پولیس واقف تھی۔ اس محبوبہ کا نام میری تھا۔ پولیس نے میری کی مکان مالکن سے وعدہ لے رکھا تھا کہ وہ جب بھی جان ڈلنگر کو میری کے ہاں آتے دیکھے تو فوراً انہیں اطلاع دے۔
میری کی مکان مالکن نے وعدہ پورا کیا اور شکاگو کے متعلقہ علاقے کے پولیس اسٹیشن میں ایک شام ڈیوٹی آفیسر کو فون آیا۔ میری کی مکان مالکن رازدارانہ سے انداز میں کہہ رہی تھی ’’وہ یہاں آیا ہوا ہے۔‘‘
ڈیوٹی آفیسر نے بیٹھی بیٹھی سی یہ آواز سن کر حیرت سے کہا۔ ’’کون آیا ہوا ہے؟ کہاں آیا ہوا ہے؟‘‘
’’جان ڈلنگر یہاں آیا ہوا ہے… کوڑھ مغز کہیں کے…!‘‘ مکان مالکن نے جھلّا کر کہا اور اپارٹمنٹ کا ایڈریس بتایا۔
پولیس اسٹیشن میں ہلچل مچ گئی اور فوراً بہت سے پولیس والے اس بلڈنگ کی طرف روانہ ہوگئے۔ بلڈنگ پر پہنچ کر انہوں نے اسے گھیرے میں لے لیا۔ تین پولیس آفیسر گنیں ہاتھوں میں لیے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ مکان مالکن نے سرگوشیوں میں ان کی رہنمائی کر دی تھی۔ میری کا ایک کمرے کا اپارٹمنٹ سب سے اُوپر کی منزل پر تھا۔ ایک پولیس آفیسر اس سے نچلی منزل پر ہی رک گیا۔ دو پولیس آفیسر اپارٹمنٹ پر پہنچ کر دروازے کے دائیں بائیں، دیوار سے چپک کر کھڑے ہوگئے۔ ایک کا نام فال اور دوسرے کا گراس تھا۔ فال کے ہاتھوں میں شاٹ گن اور گراس کے پاس ہلکی مشین گن تھی۔
فال نے ہاتھ بڑھا کر دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔ چند سیکنڈ بعد میری نے دروازہ کھولا۔ فال اور گراس اسے ایک طرف ہٹاتے ہوئے تیزی سے اندر پہنچ گئے۔ جان ڈلنگر سامنے ہی پینٹ اور بنیان میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں بہت سی تصویریں تھیں۔ وہ عالمی میلے کی سیر کر کے آیا تھا۔ وہاں سے وہ بہت سی تصویریں کھینچ کر لایا تھا۔ اس وقت وہی تصویریں وہ میری کو دکھا رہا تھا۔
’’ہینڈز اَپ… پولیس…!‘‘ گراس نے تیزی سے کہا۔ اس کی مشین گن کا رخ ڈلنگر کی طرف تھا۔
ڈلنگر نے ایک ٹک ان کی طرف دیکھتے ہوئے، ہاتھ آہستگی سے اُوپر اُٹھا دیئے۔ تصویریں اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر فرش پر بکھر گئیں۔ ایک لمحے کے لیے ایسا بھی لگا کہ اس نے ہاتھ اپنی جیب کی طرف، یا پھر شاید کسی اور چیز کی طرف بڑھانے کا ارادہ کیا تھا۔
’’خبردار…! میں تمہیں چھلنی کر دوں گا۔‘‘ گراس فوراً چیخا اور ڈلنگر اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔
یوں جان ڈلنگر آخرکار پولیس کے قابو میں آ گیا۔ اسے ہتھکڑی لگا دی گئی۔
ایک طرف جان ڈلنگر کو جیل بھیجا جا رہا تھا، دوسری طرف کارپس اور بارکر برادرز تاریک شیشوں والی ایک کار میں شکاگو کے مرکزی کاروباری علاقے میں موجود تھے۔ زگلر بھی ان کے ہمراہ تھا۔ فیڈرل ریزرو بینک کی عمارت ان کا ہدف تھی۔ انہوں نے ملک کے سب سے بڑے مالیاتی مرکز میں ڈاکا ڈالنے کا منصوبہ بنایا تھا جہاں بے حساب دولت موجود تھی۔ وہ فیڈرل ریزرو بینک کی عمارت میں گھسنے کی جرأت تو نہیں کر سکتے تھے لیکن زگلر نے کئی دن تک اس جگہ کا جائزہ لینے کے بعد انہیں تمام ضروری معلومات فراہم کر دی تھیں جن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ بہت بڑی رقم لوٹ سکتے تھے۔
زگلر نے بتایا تھا کہ صبح مقررہ وقت پر ایک کوریئر کمپنی کے دو قاصد ایک ٹرالی میں رقم کے کئی تھیلے لے کر نکلتے تھے۔ ان کے ساتھ دو پولیس والے ہوتے تھے جن کے پاس گنیں ہوتی تھیں۔ پہلے یہ لوگ قریب ہی واقع جنرل پوسٹ آفس کی بڑی سی عمارت میں جاتے تھے۔ وہاں سے مزید کچھ رقم کے تھیلے ٹرالی پر لادے جاتے تھے۔ پھر یہ ٹرالی کچھ ہی دور واقع ایک بڑے بینک میں لے جائی جاتی تھی۔ وہ بینک اس رقم کو چند بینکوں میں بھجوانے کا انتظام خود کرتا تھا۔ اس مختصر سے سفر کے دوران ٹرالی کو لوٹ لیا جاتا تو یہ بینکوں کی اُس وقت تک کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکا ہوتا۔
یہ تفصیلات سن کر کارپس اور بارکر برادرز کے منہ میں پانی آ گیا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر منصوبہ بنالیا تھا اور اسی منصوبے کے تحت وہ اس وقت وہاں موجود تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جس عمارت کے نیچے وہ کھڑے تھے، اس کی 17 ویں منزل پر ایف بی آئی کا شکاگو آفس تھا جہاں کئی ایجنٹس اور ان کا انچارج میلون پروس اپنے اپنے کمروں میں بیٹھے لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف تھے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عین ان کی ناک تلے بہت بڑا ڈاکا ڈالنے کے لیے وہ لوگ گھات لگائے بیٹھے تھے جو انہیں مطلوب تھے اور جن کی تلاش میں ان کے آدمی سرگرداں تھے۔
ان کے اطمینان کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ وہ علاقہ گو کہ شہر کا معاشی مرکز تھا، تمام بڑے بڑے بینکوں کے صدر دفاتر اور کئی بڑی بڑی، بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر اسی سڑک پر تھے لیکن یہاں عام سے ڈاکوئوں کو کبھی ڈاکا ڈالنے کی جرأت نہیں ہوئی تھی مگر آج یہ نوبت بھی آگئی تھی۔
’’گاڑی آگے بڑھائو۔‘‘ زگلر نے نیچی آواز میں ہدایت کی۔
انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ٹرالی اب بڑے ڈاکخانے کی عمارت سے باہر آ رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے وہ فیڈرل ریزرو بینک کی عمارت سے نکل کر پوسٹ آفس کی عمارت میں داخل ہوئی تھی۔ کارپس نے گاڑی آگے بڑھائی اور ساتھ ہی ڈیش بورڈ پر لگا ہوا ایک بٹن دبا دیا۔ گاڑی کے سائلنسر سے کثیف سیاہ دُھواں خارج ہونے لگا۔ چند سیکنڈ میں ہی اس کے عقب میں سیاہ دھوئیں کا بڑا سا بادل چھا گیا۔ یہ انتظام اس نے خاص طور پر ایک مکینک سے کرایا تھا۔
دراصل اس سڑک پر ٹریفک کافی تھا۔ سیاحوں کی بھی ایک بڑی تعداد مختلف گاڑیوں میں یہاں سے گزرتی تھی جس کی بناء پر کارپس کو اندیشہ تھا کہ ان کی مختصر سی کارروائی کے دوران کوئی رکاوٹ سامنے آ سکتی تھی۔ اس نے سیاہ دھواں گاڑی سے خارج کرنے کا بندوبست اس لیے کیا تھا کہ اس کے پیچھے آنے والے لوگوں کو چند لمحوں کے لیے کچھ نظر نہ آئے اور ٹریفک اس دوران رُک جائے یا کم از کم اس کی رفتار فور طور پر دھیمی ہو جائے تاکہ وہ اس دوران کارروائی کر کے تیزی سے آگے نکل جائیں۔
صرف یہی نہیں، اس نے اپنی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی کھڑکی میں بلٹ پروف شیشہ اور گاڑی کی سائیڈوں پر اندر کی طرف بلٹ پروف فولادی چادریں بھی لگائی تھیں۔ اپنی طرف سے وہ بڑے زبردست انتظامات کرکے اس مہم پرنکلا تھا۔
جس ٹرالی پر رقم کے تھیلے لدے ہوئے تھے، اس کے قریب پہنچتے ہی زگلر اور فریڈ بارکر چھلانگ لگا کر گاڑی سے اترے۔ ان کے آدھے چہروں پر رومال بندھے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں مشین گنیں تھیں۔ ان کا انداز اور ان کے ہاتھوں میں مشین گنیں دیکھ کر کوریئر کمپنی کے قاصدوں نے فوراً ٹرالی چھوڑ کر ہاتھ اوپر اٹھا دیئے۔ دونوں پولیس آفیسرز، جو ان کے ساتھ چل رہے تھے، انہوں نے بھی مسلح ہونے کے باوجود ان کی تقلید کی اور ہاتھ اٹھا دیئے۔ زگلر نے رقم کے بیگ اُٹھا کر تیزی سے گاڑی میں ڈالے اور چند لمحوں بعد ہی وہ آندھی طوفان کی طرح وہاں سے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی آسانی سے وہ نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے لوٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
شاید اس خوشی سے ان کے ہاتھ پائوں پھولے ہوئے تھے۔ شہر سے نکلتے وقت کارپس نے نہایت تیزرفتاری سے ایک موڑ کاٹا اور سیدھا، دوسری طرف، سامنے سے آتی ہوئی ایک گاڑی سے جا ٹکرایا۔ کارپس کی گاڑی دوسری گاڑی سے بری طرح ٹکرانے کے بعد ایک کھمبے سے بھی جا ٹکرائی۔ عین اس وقت سڑک کے دوسرے کونے پر دو پولیس والے اپنی گشت کی ڈیوٹی پر روانہ ہونے کے لیے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام مورس تھا۔ وہ 46 سال کا تھا۔ دوسرے کا نام مائلز تھا۔ وہ 35 سال کا تھا۔ دونوں شادی شدہ اور بچوں والے تھے۔
مورس دوسری گاڑی کی طرف دوڑا جس میں عورتیں بھی تھیں۔ وہ غالباً زخمی اور خوفزدہ ہونے کی وجہ سے چیخ پکار کر رہی تھیں۔ مائلز ڈاکوئوں کی گاڑی کی طرف دوڑا۔ اس وقت ڈوک بارکر کسی نہ کسی طرح گاڑی سے باہر آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔
اس کی نظر جونہی پولیس والے پر پڑی، وہ بے ساختہ چیخ اُٹھا۔ ’’پولیس…!‘‘
ان کا ایک کوڑھ مغز ساتھی بولٹن جو مشین گن لیے گاڑی میں بیٹھا تھا، اس نے فوراً اس بے چارے پولیس آفیسر پر برسٹ مار دیا جو ان کی مدد کے لیے دوڑا آ رہا تھا۔ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ وہ شاید زمین پر گرنے سے پہلے ہی مرچکا تھا۔ بولٹن کی چلائی ہوئی گولیوں میں سے ایک اُچٹ کر ڈوک کی اُنگلی زخمی کرتی ہوئی گزر گئی۔ اس کے حلق سے تکلیف زدہ چیخ نکلی۔ اس کی انگوٹھی کا نگینہ بھی اُڑ گیا۔
کارپس اور فریڈ بارکر بھی کار سے نکل آئے۔ انہوں نے فوراً ہی قریب سے گزرتی
ایک کار کو روکا، اس کے مالک کو گنیں دکھائیں اور کار اس سے چھین لی۔ اس دوران کارپس نے دوسرے پولیس آفیسر مورس پر بھی فائر کیے لیکن وہ دوڑ کر ایک بڑے بورڈ کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ وہ لوگ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اپنی چھینی ہوئی دوسری کار میں بیٹھ کر تیزرفتاری سے وہاں سے روانہ ہوئے۔ اس گاڑی میں انہوں نے رقم کے تھیلے اور اپنی گنیں بھی منتقل کرلی تھیں لیکن اس گاڑی نے بھی زیادہ دُور تک ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس میں بھی پٹرول ختم ہونے کو تھا۔ جلد ہی انہوں نے ایک کار اور چھین لی۔
آخرکار وہ اس گیرج تک پہنچ گئے جو انہوں نے اپنے اس منصوبے کے سلسلے میں پہلے ہی کرائے پر لے رکھا تھا۔ گاڑی اندر لے جاکر انہوں نے گیرج کا دروازہ بند کیا اور سکون کی سانس لی۔ حادثے میں انہیں کچھ زیادہ چوٹیں نہیں آئی تھیں۔ ڈوک کے زخمی ہاتھ سے البتہ خون بہہ رہا تھا تاہم اپنا مشن کامیابی سے مکمل ہونے پر وہ اپنی ساری تکلیف بھولے ہوئے تھے۔
ذرا پُرسکون ہونے کے بعد انہوں نے یکے بعد دیگرے پانچوں تھیلے کھولے تو غصّے اور جھنجلاہٹ سے ان کی حالت عجیب ہوگئی۔ ان میں خطوط کے بنڈلوں اور پارسلوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ یہ غالباً ایسی ڈاک تھی جو بیمہ شدہ ہوتی تھی اور زیادہ حفاظت سے متعلقہ جگہوں پر پہنچائی جاتی تھی۔ کارپس نے اپنا سر پیٹ لیا اور غصّے میں ساری ڈاک کو اِدھر اُدھر بکھیر دیا۔
پھر اس نے خونخوار نظروں سے زگلر کی طرف دیکھا اور غرّانے کے سے انداز میں پوچھا۔ ’’یہ تمہاری مخبری تھی کہ وہاں سے بے حساب رقم ہمارے ہاتھ لگے گی؟‘‘
زگلر نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور دھیمی آواز میں بولا۔ ’’کسی نے مجھے غلط اطلاع فراہم کر دی۔ میں نے تو مخبر کو اس اطلاع کا معاوضہ بھی دیا تھا۔‘‘
پھر جیسے اسے کچھ خیال آیا اور وہ بولا۔ ’’شاید ہمیں ڈلیوری کو پہچاننے میں غلط فہمی ہوئی۔ نوٹوں کے تھیلے بھی اسی طرح نکلتے ہوں گے۔ شاید ٹائم میں ایک آدھ منٹ کا فرق ہو۔‘‘
’’بھاڑ میں گئی تمہاری اطلاع…‘‘ کارپس دھاڑا۔ ’’یہ کام اس طرح نہیں ہوتے۔ تم نے خواہ مخواہ ایک اور پولیس آفیسر کا قتل ہمارے کھانے میں ڈلوا دیا۔‘‘
’’اور شاید میں بھی اپنے ہاتھ سے محروم ہو گیا ہوتا۔‘‘ ڈوک نے اپنے زخمی ہاتھ کو اُونچا کرتے ہوئے کہا۔
کارپس اتنے غصے میں تھا کہ شاید وہ زگلر پر حملہ کردیتا لیکن فریڈ بارکر بیچ میں آتے ہوئے بولا۔ ’’ہمارے پیشے میں کبھی کبھار اس قسم کے اتفاقات بھی ہوجاتے ہیں۔ کوئی اطلاع غلط بھی نکل آتی ہے یا خود ہم سے ہی کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔ ہمیں ایسی باتوں پر آپس میں لڑنا نہیں چاہیے۔ اس وقت ہمیں اس بات کی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم جس کار میں جائے واردات پر گئے تھے، اس میں ہماری انگلیوں کے نشانات نہ رہ گئے ہوں۔‘‘
دوسرے روز کارپس نے اپنے اپارٹمنٹ میں ناشتہ کرتے وقت اخبارات کھولے تو یہ دیکھ کر اس کی دھڑکنیں رکنے لگیں کہ ان کی واردات کی خبریں شہ سرخیوں کے ساتھ مقامی اخبارات میں ہی نہیں بلکہ ملکی اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھیں۔ پولیس اور ایف بی آئی نے بہت بڑے پیمانے پر ان کی تلاش کے انتظامات کئے تھے۔ تقریباً دس ہزار آدمی ان کی تلاش پر مامور کئے گئے تھے۔ تاہم یہ پڑھ کر کارپس کو کچھ اطمینان ہوا کہ ان کی کار سے پولیس کو کئی گنیں تو ملی تھیں لیکن شاید کسی کے فنگر پرنٹس نہیں ملے تھے۔ انہوں نے حتی الامکان احتیاط کی تھی جو شاید ان کے کام آگئی تھی۔ یہ پڑھ کر کارپس کو مزید اطمینان ہوا کہ پولیس ان کی شناخت کے سلسلے میں غلط فہمی کا شکار ہوگئی تھی۔ پولیس نے اندازہ قائم کیا تھا کہ واردات کرنے والے مشین گن کیلی، ورنی ملر اور پریٹی بوائے فلائیڈ تھے۔
کارپس ابھی اخبارات کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ دس بجے کے قریب فریڈ بارکر بھی آپہنچا۔ کارپس نے اسے اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے بارے میں مختصراً بتایا۔ پھر کہا۔ ’’مجھے اندیشہ ہے کہ یہ واردات ہمارے گلے نہ پڑ جائے جس میں سو ڈالر بھی ہمارے ہاتھ نہیں لگے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اسی طرح بچ نکلیں جس طرح پہلے بچتے رہے ہیں لیکن احتیاطاً تم ایک کام ضرور کرو۔ تم اپنی ماما کو ان کے اپارٹمنٹ سے کہیں اور منتقل کردو۔ بہت سے لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ ماما بارکر کہاں رہتی ہیں۔‘‘
فریڈ بارکر نے اس کی ہدایت پر عمل کرنے کا وعدہ کرلیا تاہم کارپس نے خود اس کے ساتھ جاکر اس تجویز پر عملدرآمد کرایا۔ ماما بارکر ایک بار پھر اپنا گھر چھوڑتے وقت اداس ہوگئی اور یکایک زیادہ بوڑھی نظر آنے لگی، حالانکہ وہ اپارٹمنٹ تو کیا، اس میں پڑا ہوا فرنیچر بھی کرائے کا تھا۔
کارپس نے ماما بارکر کو دوسرے اپارٹمنٹ میں منتقل کرانے کے بعد ذرا اطمینان کی سانس لی لیکن آنے والے دنوں میں اسے کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے پولیس کا گھیرا ان کے گرد دھیرے دھیرے تنگ ہورہا تھا۔ پولیس نے اس مکینک کو پکڑ لیا تھا جو ان کی، اور ان جیسے دوسرے بدمعاشوں کی کاریں مرمت کرتا تھا۔ پھر وہ آدمی بھی پکڑا گیا جو انہیں اور انڈر ورلڈ کے لوگوں کو، لوٹ مار یا دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ رقوم تبدیل کرا کے دیتا تھا۔ پولیس نے دونوں آدمیوں کو ایف بی آئی کے حوالے کردیا تھا۔
کارپس کو اس بات پر بھی تشویش تھی کہ ان کے جرائم کی وجہ سے پولیس انڈر ورلڈ کے بھی کچھ زیادہ پیچھے لگ گئی تھی۔ جو گروہ صحیح معنوں میں انڈر ورلڈ سے تعلق رکھتے تھے، وہ عام طور پر ’’سینڈیکیٹ‘‘ کہلاتے تھے لیکن سینڈیکیٹ کے لوگ کارپس، بارکر برادرز، پریٹی بوائے فلائیڈ اور جان ڈلنگر کی طرح لوٹ مار نہیں کرتے تھے۔ وہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک تھے لیکن ان کے ذرائع آمدنی ان سے مختلف تھے۔ وہ منظم انداز میں زیادہ تر ناجائز دھندے کرتے تھے۔ وہ لوگ بھی کارپس جیسے لوگوں سے خوش نہیں تھے کیونکہ ان کی وجہ سے پولیس اور ایف بی آئی انہیں بھی تنگ کرتی تھی اور ان کے جرائم بعض اوقات انڈرورلڈ کے کھاتے میں چلے جاتے تھے۔
فرینک نٹ انڈر ورلڈ کا ایک بڑا آدمی تھا۔ وہ ایک طرح سے الکپون کا سب سے بڑا نائب تھا۔ اس نے ایک بار کارپس کو بلا کر تنبیہ بھی کی تھی کہ وہ اپنے طور طریقے ’’ٹھیک‘‘ کرلے ورنہ اس کا پتّا صاف کردیا جائے گا۔ فرینک نٹ نے اسے یہ پیشکش بھی کی تھی کہ جس قسم کی وارداتیں وہ کرتا پھرتا ہے، اس سے تو بہتر تھا کہ وہ سینڈیکیٹ کے لیے کام کرنے لگتا۔ کارپس اس سے معذرت کرکے اور کسی طرح جان چھڑا کے آگیا تھا لیکن اسے یہ دھڑکا بہرحال لگ گیا تھا کہ اگر اس جیسے لوگوں کی وجہ سے انڈر ورلڈ والوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے رہے تو ایک نہ ایک دن وہ ان کا صفایا کردیں گے۔ جو کام پولیس اور ایف بی آئی نہیں کرسکی تھی، وہ انڈر ورلڈ والے آسانی سے کرسکتے تھے۔
ادھر ایف بی آئی کو مشین گن کیلی اور اس کی بیوی کیتھرین کے بارے میں سراغ ملتے جارہے تھے۔ وہ دونوں اکٹھے ہوچکے تھے اور ایک گیرج کے مالک کے گھر میں پناہ گزیں تھے۔ ایف بی آئی کو ایک بارہ سالہ بچی کے ذریعے اتفاقاً ان کا سراغ ملا۔ روٹر نامی ایک ایف بی آئی ایجنٹ ایک دوسرے شہر سے چارٹرڈ طیارے میں ممفس پہنچا جس کے نواحی علاقے کے ایک مکان میں کیلی اور کیتھرین پناہ گزیں تھے۔ چھ مقامی پولیس آفیسرز اور رینی نامی ایک سراغرساں کے ساتھ روٹر نے رات کے آخری پہر اس مکان کے گرد گھیرا ڈالا۔ رینی اور روٹر ایک خاص چابی سے مکان کا تالا کھول کر بے آواز قدموں سے اندر پہنچے۔
مکان کے اندر پناہ گزینوں کے کسی کیمپ کا سا منظر تھا۔ میلے کپڑے اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے۔ سنک پر برتنوں کا انبار تھا، جو دھلنے کے منتظر تھے۔ فرش پر بیئر کی خالی بوتلیں لڑھکی ہوئی تھیں۔ ایک بیڈ روم میں ایک عورت سو رہی تھی۔ وہ کیتھرین تھی مگر کیلی اس کے پاس نہیں تھا۔ لائونج میں البتہ دو مرد صوفوں پر سو رہے تھے لیکن ان میں سے بھی کوئی کیلی نہیں تھا۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS