khatarnak Mafia | Episode 11

319
اچانک سراغرساں رینی کو دیوار پر ایک سایہ متحرک نظر آیا۔ ملگجی روشنی میں کوئی لائونج کی طرف آرہا تھا۔ رینی نے اپنی شاٹ گن سیدھی کی اور دیوار سے چپک کر کھڑا ہوگیا۔ اچانک ہی ایک شخص اس کے سامنے آگیا۔ وہ کیلی تھا۔ اس کے بال رنگے ہوئے تھے۔ کیلی نے ان کا رنگ تبدیل کرکے زرد کیا ہوا تھا لیکن رینی نے اسے پہچان لیا۔ پوری پولیس فورس اور ایف بی آئی میں دوچار ہی لوگ تھے جو کیلی کو پہچانتے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔ وہ شاید کسی اور بیڈروم میں سویا ہوا تھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اسے یقیناً آنکھ کھلتے ہی مکان میں کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔ اس لیے وہ ریوالور ہاتھ میں لیے آرہا تھا لیکن اچانک اس نے اپنے آپ کو شاٹ گن کے نشانے پر پایا۔
’’ریوالور پھینک دو کیلی!‘‘ سراغرساں رینی نے کہا۔ ’’کھیل ختم ہوچکا ہے۔‘‘
’’میں تم لوگوں کا منتظر تھا۔‘‘ کیلی نے تھکی تھکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ شاید وہ بھاگتے بھاگتے تھک گیا تھا۔ اس نے ریوالور استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی اور اسے ایک سلائی مشین پر رکھ دیا۔ پھر اس نے آہستگی سے ہاتھ اوپر اٹھا دیئے۔
اسے ہتھکڑی لگا دی گئی۔ کیتھرین اور دونوں مردوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا لیکن کیتھرین ہتھکڑیاں لگوانے سے پہلے باتھ روم چلی گئی۔ باتھ روم میں اس نے لباس بھی تبدیل کیا۔ پھر باہر آکر ہتھکڑیاں لگوانے کے بعد اس طرح نخوت سے پولیس اور ایف بی آئی والوں کے گھیرے میں روانہ ہوئی جیسے کوئی نوابزادی محافظوں کے گھیرے میں کسی تقریب میں شرکت کے لیے جارہی ہو۔
پولیس اسٹیشن میں جب رسمی پوچھ گچھ کی کارروائی کے دوران کیلی سے پوچھا گیا ’’تم کہاں رہتے ہو؟‘‘ تو اس نے جواب دیا ’’میں ہر جگہ رہتا ہوں۔‘‘
اس کے پکڑے جانے کی خبر پر لوگوں کو جیسے یقین نہیں آرہا تھا۔ جب اسے جیل بھیجا جارہا تھا تو سیکڑوں کی تعداد میں لوگ شاید اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یقین کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے کہ وہ واقعی پکڑا گیا ہے اور اسے سچ مچ جیل بھیجا جارہا ہے۔ وہ جیل کی گاڑی سے اتر کر لوگوں کے ہجوم کی طرف دیکھ کر یوں ہاتھ ہلانے لگا جیسے وہ کوئی سیاسی لیڈر ہو اور اسے موجودہ حکومت کی مخالفت کرنے پر جیل بھیجا جارہا ہو۔
پولیس والوں کے گھیرے میں اندر جاتے وقت وہ ان لوگوں کے ساتھ ہنسی مذاق کررہا تھا۔ ان میں سے آدھے اس کے جاننے والے تھے۔ وہ اسکول میں اس کے ساتھ پڑھ چکے تھے۔ ایف بی آئی ایجنٹ روٹر مشین گن لیے اس کے ساتھ چل رہا تھا۔ کیلی نے ہتھکڑی سمیت اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’ذرا اپنی مشین گن مجھے دینا۔‘‘
روٹر نے اسے گھورا تو کیلی نے دانت نکال دیئے۔ سراغرساں رینی سے اس نے کہا ’’جیل کے سامنے کتنی بھیڑ لگ گئی ہے۔ اگر آج تم یہاں برگر کا اسٹال کھول لو تو اچھے خاصے پیسے کما لو گے۔‘‘
دلچسپ بات یہ تھی کہ اس کی بیوی کیتھرین کو بھی اسی جیل کے دوسرے حصے میں قید کیا گیا تھا لیکن وہ اپنے شوہر کا ساتھ چھوڑ کر بالکل معصوم بن گئی۔ اخباری رپورٹرز جب اس کے پاس پہنچے تو اس نے روتے ہوئے کہا۔ ’’میرا اس کی حرکتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ میں تو اس کے خوف کی وجہ سے اس کے ساتھ گھسٹتی پھر رہی تھی۔ وہ کہتا تھا کہ اگر میں نے اس کا ساتھ نہ دیا تو وہ مجھے قتل کردے گا۔ میں تو اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے مجھے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ میں اس کے چنگل سے نکلنے کا موقع تلاش کررہی تھی۔ اب اگر میں لمبی سزا سے بچ گئی تو جیل سے نکلتے ہی اس سے اور اس کے گروہ سے چھٹکارا حاصل کروں گی۔ میں ساری زندگی خوف کے سائے میں بسر نہیں کرسکتی۔‘‘
کیتھرین کا خیال تھا کہ وہ شوہر کے جرائم سے لاتعلقی کا اظہار کرکے سزا سے بچ جائے گی یا اس کی سزا میں کافی کمی ہوجائے گی لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی۔ دونوں میاں بیوی کو ایک فوجی طیارے میں بٹھا کر اوکلاہاما لے جایا گیا جہاں اکتوبر 1933ء میں ان پر مقدمہ چلا۔ البرٹ بیٹس، ہاروے بیلے اور شینن کی طرح انہیں بھی عمر قید کی سزا ہوئی۔ کیتھرین کو مشی گن میں واقع زنانہ جیل بھیج دیا گیا جبکہ کیلی کو پہلے لیون ورتھ اور پھر ایک دوسرے شہر کی جیل بھیجا گیا۔ ان کی گرفتاری سے ایف بی آئی کی ساکھ مزید بہتر ہوئی۔ حکومت کی طرف سے اسے مزید وسائل مہیا کئے جانے لگے۔
اس دوران جان ڈلنگر، اوہائیو ریاست کے شہر ڈیٹن کی جیل میں قید تھا۔ تقریباً ہر روز وہاں دوچار ایسے لوگوں کو لایا جاتا تھا جو مختلف بینک ڈکیتیوں کے چشم دید گواہ تھے۔ انہیں جان ڈلنگر کی شکل دکھا کر شناخت کرائی جاتی تھی۔ اسی دوران اطلاع آئی کہ مشی گن کی ریاستی جیل سے دس قیدی فرار ہوگئے تھے جن میں جان ڈلنگر کے کچھ دوست بھی شامل تھے۔ پولیس کے سراغرساں لیچ کو خطرہ محسوس ہوا کہ وہ لوگ جان ڈلنگر کو بھی آزاد کرانے کی کوشش کریں گے۔ اس قسم کے لوگ ان معاملات میں ایک دوسرے کا بڑا ساتھ دیتے تھے اور جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔
٭…٭…٭
جان ڈلنگر جیل کے اس کمرے میں قید تھا جہاں قیدی کو کچھ دیر کے لیے چھوٹے موٹے کھیل کھیلنے کی اجازت تھی۔ اس روز ڈلنگر تین دوسرے قیدیوں کے ساتھ چوسر کھیل رہا تھا۔ یہ ایک چھوٹے سے قصبے لیما کی جیل تھی۔ یہ قصبہ اوہائیو کے شمال مغرب میں تھا۔ ڈلنگر کو یہاں ایک ڈکیتی کے سلسلے میں مقدمہ چلانے کے لیے لایا گیا تھا۔ لیما کی یہ جیل زیادہ بڑی نہیں تھی اور نہ ہی یہاں حفاظتی انتظامات زیادہ سخت تھے۔
درحقیقت وہ ایک قسم کی حوالات ہی تھی۔ ساربر نامی ایک شیرف اس جیل کا کرتا دھرتا تھا جس کا گھر بھی جیل سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔ قیدیوں کے لیے کھانا بھی اس کے گھر سے آتا تھا۔ اس کی بیوی کھانے اچھے بناتی تھی۔ ساربر کبھی کاروں کا سیلزمین ہوا کرتا تھا اور ایک خوشحال آدمی تھا۔ امریکا کا معاشی بحران اسے بھی لے بیٹھا تھا۔ اس کا کام ٹھپ ہوگیا تھا جس کے بعد وہ شیرف بن گیا تھا۔ جان ڈلنگر نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگر کبھی وہ پکڑا گیا تو اسے اس قسم کی جیل میں جانے کا اتفاق ہوگا اور وہاں کا جیلر اتنا شریف آدمی ہوگا۔ ڈلنگر خود بھی جیلوں میں وقت بڑی زندہ دلی اور خوش مزاجی سے گزار رہا تھا۔
بینک ڈکیت اور قاتل بننے کے بعد بھی اس کی خواہش اور کوشش یہی رہی تھی کہ لوگ اسے اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ بے بی فیس نیلسن اور اس دور کے دوسرے مشہور یا بدنام مجرموں کی طرح ڈلنگر غربت کی پیداوار نہیں تھا۔ اس کا تعلق ایک سفید پوش اور اچھے خاصے آسودہ حال گھرانے سے تھا۔ وہ بری صحبت کی وجہ سے مجرم بنا تھا۔ لڑکپن میں ہی اپنے برے دوستوں کی وجہ سے شغل ہی شغل میں ایک راہ گیر کو لوٹنے کی کوشش کے دوران غیر ارادی طور پر اس سے گولی چل گئی تھی اور راہ گیر مر گیا تھا۔ اس کے بعد جرائم کی دنیا نے مقناطیس کی طرح ڈلنگر کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔
اس روز جب رات کا کھانا کھانے کے بعد ڈلنگر دوسرے قیدیوں کے ساتھ چوسر کھیل رہا تھا تو شیرف ساربر سامنے ہی جیل کے چھوٹے سے استقبالیہ کمرے میں ٹانگیں میز پر ٹکائے اطمینان سے اپنی کرسی پر نیم دراز، مقامی اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس کی بیوی قریب ہی دوسری کرسی پر بیٹھی انعامی معما حل کر رہی تھی۔ ان کے پیچھے اس کمرے کا، آہنی سلاخوں والا دروازہ تھا جس میں چند قیدی مختلف مشاغل میں مصروف تھے۔ اس دوران ڈپٹی شیرف ولبر بھی آگیا۔ اس نے اپنی گن بیلٹ اتار کر دوسری، چھوٹی سی میز پر ڈال دی اور تھکے تھکے سے انداز میں ایک کرسی پر ڈھیر ہوگیا۔
تھوڑی دیر بعد بیرونی دروازہ کھلا اور تین آدمی اندر آگئے۔ تینوں کے جسموں پر گہرے رنگ کے سوٹ تھے۔ شیرف ساربر نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور پائوں میز سے ہٹا کر، سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ مسز ساربر انعامی معما حل کرنے میں اتنی منہمک تھی کہ اس نے سر اٹھا کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔
’’کہئے…کیسے آنا ہوا؟‘‘ شیرف ساربر نے نہایت شائستگی سے پوچھا۔
’’ہم مشی گن سٹی سے آئے ہیں۔ ہمیں جان ڈلنگر سے ملنا ہے۔‘‘ اس آدمی نے جواب دیا جو آگے تھا۔ باقی دونوں اس کے پیچھے کھڑے تھے۔ ان کے چہرے سپاٹ تھے۔
’’اس کے لیے آپ لوگوں کو اپنی شناخت کرانی ہوگی۔‘‘ شیرف ساربر نے نرمی سے کہا۔
’’ہماری شناخت یہ ہے…!‘‘ اس شخص نے جیب سے ہاتھ نکالتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اس نے ابھی تک آنکھ نہیں جھپکی تھی۔ اس نے صرف پستول نکالنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ فائر بھی کردیا۔ گولی ساربر کے سینے میں لگی۔ وہ کرسی سے گر پڑا۔ اس کے سینے سے خون ابل پڑا۔
فائر کرنے والا اس کے سر پر آن کھڑا ہوا۔ اس کی سرمئی آنکھوں میں حد درجہ سرد مہری اور سفاکی تھی۔ اس کے دونوں ساتھی بھی گنیں نکال چکے تھے۔ انہوں نے ڈپٹی شیرف کو میز پر سے اپنی گن بیلٹ اٹھانے کی مہلت نہیں دی تھی اور اس کے ہولسٹر سے ریوالور نکال لیا تھا۔ فائر کرنے والے کا نام پرپونٹ تھا۔ وہ ڈلنگر کا لڑکپن کا ساتھی تھا۔ وہ ڈلنگر کے بہت سے جرائم میں شریک رہا تھا اور ڈلنگر کو پکا مجرم بنانے میں اس کا بھی ہاتھ تھا۔ دونوں نے ایک مرتبہ اکٹھے جیل بھی کاٹی تھی۔ اس جیل سے وہ دونوں اکٹھے فرار ہوئے تھے۔ پرپونٹ، جیل سے فرار کے منصوبے بنانے میں خاص طور پر ماہر تھا۔ وہ ایک بار پھر ڈلنگر کی مدد کے لیے آن پہنچا تھا۔ وہ خود چند ہی دن پہلے مشی گن کی ریاستی جیل سے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہوا تھا۔
’’ہمیں اندر کے دروازوں کی چابیاں دے دو۔‘‘ پرپونٹ نے سرد لہجے میں ساربر سے کہا۔
ساربر کے سینے میں سوراخ ہوچکا تھا جس سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا۔ وہ سخت اذیت میں تھا۔ جب اس نے کوئی جواب نہ دیا تو پرپونٹ کے ایک ساتھی میکلے نے آگے بڑھ کر ریوالور کا دستہ اس کے سر پر رسید کیا۔ اتفاقاً اس ریوالور سے بھی گولی چل گئی جو کسی کو لگی تو نہیں، لیکن اس فائر نے ڈپٹی شیرف اور مسز ساربر کو مزید خوفزدہ کردیا۔
’’چابیاں ہمیں دے دو۔‘‘ پرپونٹ نے ایک بار پھر کہا۔
’’خدا کے لیے میرے شوہر کو اور نہ مارو… تم اس کی حالت نہیں دیکھ رہے؟ وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔‘‘ مسز ساربر نے آگے بڑھ کر التجائیہ انداز میں کہا۔ پھر اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دونوں ہاتھ اپنے شوہر پر اس طرح رکھ لیے جیسے اس کی ڈھال بننے کی کوشش کررہی ہو۔
پرپونٹ نے سفاکی سے اس کی طرف دیکھا تو وہ جلدی سے بولی۔ ’’چابیاں میں تمہیں دیتی ہوں۔ یہ بھلا اس حالت میں اٹھ کر تمہیں چابیاں کیسے دے سکتا ہے؟‘‘
اس نے اٹھ کر میز کی دراز سے چابیوں کا گچھا نکال کر اس کے حوالے کردیا۔ سامنے والے کمرے کے عقب میں جیل کی کوٹھریوں کی دوطرفہ قطاریں دکھائی دے رہی تھیں۔ کمرے میں کھیلتے ہوئے قیدی اِدھر اُدھر ہوگئے تھے لیکن ایک قیدی نے پُرامید انداز میں ایک کونے سے جھانکا تو پرپونٹ نے اس کمرے کی طرف بھی ایک فائر کردیا اور قیدیوں کو ایک موٹی سی گالی دے کر گرجتے ہوئے بولا۔ ’’ہم صرف جان ڈلنگر کو لینے آئے ہیں۔‘‘
ڈلنگر فوراً اپنی کوٹھری کی طرف لپکا۔ وہ وہاں سے اپنا ہیٹ اور کوٹ اٹھا لایا۔ اس دوران میکلے نے آہنی سلاخوں والے دروازے کا تالا کھول دیا تھا۔ جان ڈلنگر باہر آگیا۔ اس نے شیرف کی طرف دیکھا جس کے قریب فرش پر کافی خون جمع ہوچکا تھا۔ وہ یقیناً دھیرے دھیرے موت کی آغوش میں جارہا تھا۔ ڈلنگر کے چہرے پر تاسف کی رمق تک نہیں تھی۔
شیرف اذیت زدہ انداز میں کراہا اور اس کے ہونٹوں سے سرگوشی جیسی آواز نکلی۔ ’’میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟‘‘
وہ پرپونٹ سے مخاطب تھا۔ پھر اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ اس کے لرزتے ہونٹوں سے، ڈوبتی سی آواز نکلی۔ ’’خداحافظ…!‘‘
وہ اس کے بعد بھی ڈیڑھ گھنٹے تک زندہ رہا۔ آخرکار مقامی اسپتال میں اس کا انتقال ہوگیا۔ تمام رات لیما کی گلیوں میں پولیس کی گاڑیوں کے سائرنوں کی آوازیں گونجتی رہیں اور مختلف سڑکوں پر ناکا بندی کی جاتی رہی لیکن مجرم نہ صرف اس علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ دوسرے روز تک وہ ایک بینک میں ڈاکا بھی ڈال چکے تھے۔ وہ پولیس اسٹیشنز کے کئی اسلحہ خانوں سے بہت سے ہتھیار بھی لوٹ کر لے گئے تھے۔ کسی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ امریکا کے کچھ حصوں میں جرائم کی ایسی لہر بھی آئے گی اور مجرموں کے حوصلے اس حد تک بڑھ چکے ہوں گے۔ لاقانونیت کا ایک سیلاب آتا دکھائی دے رہا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اپنی سی کوششیں جاری تھیں۔ اکثر جگہوں پر نفری بڑھائی جارہی تھی اور اہلکاروں کو مزید اسلحہ وغیرہ بھی فراہم کیا جارہا تھا۔ جان ڈلنگر، پرپونٹ اور ان کے ساتھی شکاگو میں ہی اپنی نئی کمین گاہ میں چھپے ہوئے تھے اور اخباروں میں پولیس اور ایف بی آئی کی کوشش کے بارے میں پڑھ پڑھ کر ہنستے تھے۔
وہ نہایت اطمینان سے رہ رہے تھے بلکہ جان ڈلنگر تو اپنے خیال میں ان دنوں اپنی زندگی کا بہترین وقت گزار رہا تھا۔ ان کے پاس کافی رقم تھی۔ وہ دن بھر سوتے تھے اور راتوں کو تفریح گاہوں اور نائٹ کلبوں میں جاتے تھے۔ ان کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے کالج کے طلباء کسی تفریحی مقام پر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے ہوں۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان لوگوں کی درس گاہ جیل تھی اور ان کا نصاب جرائم پر مشتمل تھا۔ ایک نئی گرل فرینڈ ڈلنگر کے ہمراہ تھی۔ اس کا نام ایولین تھا۔
ایسا لگتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوچکے تھے۔ وہ کلبوں میں ڈانس کرتے تو افسانوی انداز میں گویا ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈوب جاتے۔ بہت دنوں بعد جب ایولین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی جان ڈلنگر سے محبت کرنے لگی تھی؟ تو اس نے اثبات میں جواب دیا۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ ڈلنگر کی مجرمانہ زندگی سے واقف ہونے کے باوجود وہ کیونکر اس سے محبت کرنے لگی تھی، تو اس نے جواب دیا۔ ’’وہ میری زندگی میں پہلا مرد تھا جس نے مجھے عزت دی تھی۔ اس سے پہلے میں ایک چھوٹے سے بار میں ویٹرس تھی جہاں ہر کوئی مجھ سے چھیڑچھاڑ کرتا تھا، ہر ایک مجھے تھوڑی سی رقم دے کر عیش و نشاط کی چند گھڑیاں گزارنے کے لیے کہیں لے جانے کی فکر میں رہتا تھا۔ ڈلنگر نے کبھی مجھ سے میرے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا اور نہ ہی میرے ماضی کی وجہ سے کبھی مجھے حقیر جانا۔ اس نے مجھے عزت دی، اتنی عزت کہ کبھی کبھی میرا دل چاہتا تھا کہ اس کے لیے جان دے دوں۔‘‘
ایولین کے اس بیان سے اس نظریئے کی تصدیق ہوتی ہے کہ عزت کی طلب اور پیاس ہر انسان میں موجود ہوتی ہے۔ کسی انسان کی حیثیت یا معاشرے میں اس کا مقام کچھ بھی ہو لیکن وہ اپنے لیے عزت ضرور چاہتا ہے۔
جان ڈلنگر کی سابق دوست میری اب پرپونٹ کے ساتھ رہ رہی تھی۔ انہوں نے چار کمروں کا جو اپارٹمنٹ کرائے پر لیا ہوا تھا، اس میں وہی چار افراد، یعنی دو جوڑے رہ رہے تھے، باقی لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ شکاگو پولیس بھی ان کی تلاش میں تھی اور اپنی بساط کے مطابق ان کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی تھی۔ اسی دوران ڈلنگر کی ملاقات گنی نامی ایک شخص سے ہوئی۔ جرائم پیشہ حلقوں کی اطلاعات کے مطابق وہ چوری کی ہر چیز خریدتا تھا۔ جان ڈلنگر نے اس کے ہاتھ کچھ بانڈز فروخت کرنے کی بات کی، جو ایک بینک ڈکیتی میں اس کے ہاتھ لگے تھے۔ گنی نے آدھی قیمت پر بانڈز خریدنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ دونوں کے درمیان ملاقات طے پا گئی۔
گنی درحقیقت پولیس کا مخبر تھا اور خود بھی پولیس والا تھا۔ اس نے ڈلنگر سے ملاقات بھی کرلی اور اس سے بانڈ خرید بھی لیے لیکن اس ملاقات کے دوران ڈلنگر کو گرفتار نہ کیا جاسکا۔ شکاگو پولیس کے دو آفیسرز نے اسے دیکھا مگر نکل جانے دیا۔ شاید یہ ڈلنگر کی خوش قسمتی تھی کہ اس کا سراغ ملتے ہی پولیس کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوگیا تھا۔ اس کا سراغ ملنے کی خبر دوسری ریاستوں کی پولیس تک بھی پہنچ گئی تھی اور وہ اس پر پہلے ہاتھ ڈالنے کے لیے کمربستہ ہوگئے تھے۔
کسی پولیس آفیسر کا خیال تھا کہ وہ جہاں بھی نظر آئے، اسے وہیں گھیر کر مار دیا جائے، گرفتار کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ کوئی پولیس آفیسر چاہتا تھا کہ اسے اکیلے گرفتار نہ کیا جائے بلکہ پورے گروہ کو بیک وقت گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے۔ پولیس والوں کے درمیان پیشہ ورانہ رقابت بھی جاگ اٹھی تھی۔ ہر علاقے کا پولیس آفیسر چاہتا تھا کہ ڈلنگر کو گرفتار یا پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا کریڈٹ اسے ملے۔ اس ساری کشمکش کا فائدہ جان ڈلنگر کو پہنچ رہا تھا لیکن وہ اس سے بے خبر تھا۔
اس نے پولیس کے مخبر، گنی کو یہ بھی بتایا تھا کہ کسی حجام سے شیو بنوانے کے بعد اسے جلد کی کوئی بیماری لگ گئی تھی جو فی الحال اس کے چہرے تک محدود تھی۔ وہ اس سلسلے میں جِلد کے کسی ڈاکٹر سے ملنا چاہتا تھا لیکن خود آزادانہ طور پر اِدھر اُدھر گھوم پھر کر جِلد کے کسی ڈاکٹر کا اتا پتا معلوم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ گنی نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ اس کے لیے جِلد کے ایک اچھے ڈاکٹر سے وقت لے لے گا۔ طے یہ پایا تھا کہ ڈلنگر مقررہ وقت پر اس ایڈریس پر پہنچ جائے گا جو اسے بتایا جائے گا۔
غنیمت یہ رہا کہ اس موقع پر کارروائی کے لیے پولیس کے درمیان ایک متفقہ لائحہ عمل بھی طے پا گیا۔ انڈیانا پولیس سے سراغرساں لیچ آن پہنچا۔ شکاگو پولیس کے دو آفیسرز سارجنٹ ہووی اورینٹ، ڈلنگر کو گھیرنے کی مہم میں حصہ لے رہے تھے۔ لیچ کے ساتھ اس کا ایک ماتحت کیلر بھی تھا۔ لیچ نے اسے بتا دیا تھا کہ وہ ڈلنگر کو گرفتار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا کیونکہ پولیس ان لوگوں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف ثبوت جمع کرنے کے لیے جان کی بازی لگاتی تھی لیکن عدالتیں انہیں مناسب سزا نہیں سناتی تھیں یا پھر جیلوں کے ناقص انتظامات کی وجہ سے یہ لوگ فرار ہوجاتے تھے۔
لیچ نے کیلر سے کہہ دیا تھا کہ اگر اسے موقع مناسب نظر آئے تو وہ ڈلنگر کو ہلاک ہی کردے تاہم شکاگو پولیس کے ساتھ ان کا یہی پروگرام طے پایا تھا کہ ڈلنگر کا تعاقب کیا جائے گا۔ وہ یقیناً اپنے ٹھکانے کی طرف جائے گا جہاں اس کا پورا گروہ موجود ہوگا۔ وہاں چھاپہ مار کر پورے گروہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گا۔ شکاگو پولیس کے دیگر آفیسرز بھی اس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے۔ ڈلنگر جس ڈاکٹر کے پاس آرہا تھا، اس کا نام ’’آئی‘‘ تھا۔
شام سات بجے تک چار کاریں اس گلی میں آن کھڑی ہوئی تھیں جس میں ڈاکٹر آئی کا کلینک تھا۔ اس روز بہت سردی تھی اور ان کاروں میں ہیٹر نہیں تھے۔ بھاری بھرکم کپڑوں میں بھی ان کے جسم سرد ہوئے جارہے تھے۔ سانس کی آمدورفت کے ساتھ ان کے نتھنوں اور منہ سے بھاپ نکل رہی تھی۔
سات بج کر بیس منٹ پر ڈلنگر اس گلی میں آن پہنچا۔ وہ کرسلر کار میں تھا۔ ایولین عرف بلی اس کے ساتھ تھی۔ ایولین کو کار میں بیٹھی چھوڑ کر ڈلنگر اس بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا جس میں ڈاکٹر آئی کا کلینک تھا۔ تمام پولیس والے سادہ کاروں میں تھے۔ اب انہوں نے اپنی کاریں آگے پیچھے کھسکا کر اس انداز میں کھڑی کرلیں کہ ڈلنگر کسی بھی سمت میں جائے تو اس کا تعاقب کیا جاسکے اور ضرورت پڑے تو اس کی گاڑی کو گھیرا بھی جاسکے۔ سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھے تھرتھر کانپ رہے تھے۔
آخرکار ڈلنگر واپس آتا دکھائی دیا۔ اس کے منہ سے بھاپ نکل رہی تھی۔ اس نے گلی میں کھڑی کاروں کی طرف دیکھا۔ اسے احساس ہوا کہ گلی میں کچھ زیادہ ہی کاریں نظر آرہی ہیں اور ان میں سے دو غلط رخ پر کھڑی تھیں۔ اس کی چھٹی حس نے اسے خطرے کا احساس دلا دیا تاہم وہ دروازہ کھول کر اس طرح کار میں بیٹھا جیسے اس نے کچھ بھی محسوس نہیں کیا۔ اس نے زیرلب ایولین سے کہا۔ ’’سنبھل کر بیٹھنا… سیٹ کو مضبوطی سے پکڑ لو۔‘‘
اس نے اتنی تیزی سے گاڑی کو ریورس کیا کہ اس کے ٹائر چرچرا اٹھے۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ وہ گاڑی ریورس کرے گا، تاہم احتیاطاً اس کی گاڑی کے پیچھے بھی پچاس فٹ کے فاصلے پر ایک پولیس کار موجود تھی۔ ڈلنگر اپنی کرسلر کو پولیس کی اس گاڑی تک لے گیا۔ سامنے کی طرف کھڑی ایک گاڑی میں موجود، پولیس کے سراغرساں ہارڈر نے چیخ کر اپنے ڈرائیور کو حکم دیا کہ وہ آگے سے گاڑی لے جا کر ڈلنگر کی گاڑی سے ملا دے تاکہ وہ دونوں گاڑیوں کے درمیان پھنس جائے لیکن ڈرائیور نے یکدم ایکسیلیٹر کچھ زیادہ ہی دبا دیا جس کی وجہ سے گاڑی کا انجن بند ہوگیا۔
ڈلنگر نے جتنی تیزی سے گاڑی ریورس کی تھی، اس سے بھی زیادہ تیزی سے آگے بڑھائی اور بائیں طرف کی ایک چھوٹی سی گندی، گلی میں گھس گیا۔ اس گلی کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ڈلنگر ادھر بھی جاسکتا تھا کیونکہ ان گلیوں میں گاڑی پھنسنے کا خطرہ رہتا تھا لیکن ڈلنگر نے جوا کھیلا تھا۔ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ناہموار زمین پر اس کی گاڑی اُچھلتی کودتی آگے بڑھتی چلی گئی۔
شکاگو پولیس کا ایک سراغرساں آرٹرے اس کے تعاقب میں گاڑی لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ آرٹرے کے برابر میں ہی آفیسر کیلر بیٹھا تھا جسے لیچ نے حکم دے رکھا تھا کہ وہ موقع ملتے ہی ڈلنگر کو شوٹ کر دے۔ کھلی سڑک پر پہنچتے ہی آرٹرے اپنی گاڑی کو ڈلنگر کی گاڑی کے برابر لانے میں کامیاب ہوگیا۔ دونوں گاڑیاں آندھی طوفان کی طرح چلی جارہی تھیں۔
’’ سرنیچے کرلو…‘‘ ڈلنگر نے چیخ کر اپنی محبوبہ ایولین عرف بلّی سے کہا۔ یہ ہدایت سن کر وہ خوف کے مارے تقریباً فرش سے ہی جالگی۔
کیلر نے اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور فائرنگ شروع کردی۔ اس نے پہلے ایک ریوالور ڈلنگر کی گاڑی پر خالی کردیا۔ پھر ایک شاٹ گن اٹھالی۔ ڈلنگر کو غالباً کوئی گولی نہیں لگی تھی کیونکہ اس کی گاڑی اسی رفتار سے جارہی تھی۔ آرٹرے بھی گاڑی اس کے ساتھ ساتھ رکھنے میں کامیاب تھا۔ کبھی کبھار دونوں گاڑیاں تھوڑا بہت آگے پیچھے ہوجاتیں۔ کیلر نے اب اپنا آدھا دھڑ کھڑکی سے باہر نکال لیا تھا اور وہ ڈلنگر کی گاڑی پر گولیاں برسا رہا تھا لیکن کوئی گولی ڈلنگر یا اس کی محبوبہ کو نہیں لگی تھی۔
پھر ڈلنگر نے اچانک اتنی تیزی سے گاڑی بائیں طرف ایک گلی میں موڑی کہ آرٹرے اس کی تقلید نہ کرسکا۔ وہ سیدھا آگے نکلتا چلاگیا۔ ڈلنگر نے گاڑی جس گلی میں موڑی تھی، وہ آگے سے بند تھی لیکن اس نے گاڑی نہ صرف بروقت روکی بلکہ ریورس کرکے، گلی سے نکل کر اس کی مخالف سمت میں لے گیا اور چند لمحوں کے اندر اندر آرٹرے اور کیلر کی نظروں سے غائب ہوگیا۔ جب تک بات ان لوگوں کی سمجھ میں آئی اور وہ گاڑی موڑ کر واپس آئے تب تک ڈلنگر کی گاڑی غائب ہوچکی تھی۔ اس کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا۔
’’اس میں شک نہیں کہ کمبخت گاڑی چلانے میں بے حد ماہر ہے۔‘‘ آرٹرے نے ہانپتے ہوئے تبصرہ کیا۔ اس تعاقب کے بارے میں بعد میں لکھا گیا کہ یہ میلوں جاری رہا تھا لیکن درحقیقت یہ دومیل سے بھی کم فاصلے تک جاری رہا تھا۔ ڈلنگر نے نارتھ سائیڈ کے علاقے میں پہنچ کر گاڑی ایک جگہ چھوڑ دی۔ وہ گولیوں سے چھلنی ہوچکی تھی۔ ڈلنگر اور بلّی اس گاڑی کو چھوٹی سی ایک گلی میں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے ایک دوسری گلی میں پہنچے جہاں انہیں ایک ٹیکسی مل گئی۔ اس میں بیٹھ کر وہ اپنے اپارٹمنٹ تک پہنچے۔
وہ جب گرتے پڑتے، حواس باختہ حالت میں وہاں پہنچے تو گروہ کے باقی ارکان نہایت اطمینان سے موسیقی کی دھن پر ناچ گانے میں مصروف تھے۔ پینے پلانے کا دور چل رہا تھا۔ جشن کا سا سماں تھا جبکہ ڈلنگر اور ایولین گویا موت کے منہ سے واپس آئے تھے۔ انہوں نے ساتھیوں کو بتایا کہ ان پر کیا گزری تھی۔ انہیں اس وقت تک اندازہ نہیں تھا کہ انہیں پولیس نے گھیرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ انہیں ’’سینڈیکیٹ‘‘ نے مروانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے سینڈیکیٹ یا انڈرورلڈ بھی ان سے ناراض رہتی تھی کیونکہ وہ لوگ انڈرورلڈ کے آدمی نہیں تھے مگر ان کی سرگرمیوں کے اثرات انڈر ورلڈ کے لوگوں پر بھی پڑتے تھے۔ جان ڈلنگر اور ایولین کو دوسرے روز اخبارات سے پتا چلا کہ وہ پولیس کے ہاتھوں مرتے مرتے بچے تھے۔
اخباری خبروں میں بہت سی قیاس آرائیاں اور رنگ آمیزی بھی کی گئی تھی۔ مجموعی طور پر ان خبروں سے ڈلنگر مجرم کے بجائے ہیرو بنتا دکھائی دیا۔ ڈلنگر کے لیے اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ اس کے بارے میں مخبری کرنے والا گنّی ہی تھا۔ تاہم اسے
یہ معلوم نہیں تھا کہ گنی صرف پولیس کا مخبر ہی نہیں، بلکہ خود بھی پولیس والا تھا۔ بہرحال، انہوں نے وہ اپارٹمنٹ چھوڑ دیا، اور یہ ان کے حق میں اچھا ہی ہوا کیونکہ پیچھے رہ جانے والا ہیری کوپ لینڈ دوسرے روز پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔
کوپ لینڈ کی وہی عادت اسے پکڑوانے کا باعث بنی کہ وہ اکثر پیتا پلاتا رہتا تھا اور نشے میں اسے اپنے حواس پر قابو نہیں رہتا تھا۔ اس نے نشے میں ایک عورت پر پستول تان لیا تھا اور اس کے کوئی خطرناک حرکت کرنے سے پہلے پولیس نے اسے آن پکڑا تھا۔ جلد ہی پتا چل گیا کہ وہ ڈلنگر کا ساتھی تھا اور پولیس کو مطلوب تھا۔ اس کے ذریعے پولیس اس اپارٹمنٹ تک جاپہنچی جہاں کل تک ڈلنگر اور اس کے ساتھی مقیم تھے تاہم جب پولیس وہاں پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ پولیس ایک بار پھر ہاتھ ملتی رہ گئی۔
ڈلنگر اور اس کے ساتھی ملواکی پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے وہاں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیا تھا۔ صرف یہی نہیں، ڈلنگر نے وہاں پہنچتے ہی چوری کا مال خریدنے والا ایک آدمی بھی تلاش کرلیا تھا اور اس کے ہاتھ مزید کچھ بانڈز بیچ دیئے تھے لیکن ان کے پاس نقد رقم بہرحال اب زیادہ نہیں تھی جبکہ ڈلنگر اونچے اونچے خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ جہاز اُڑانا سیکھنے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور کوئی چھوٹا موٹا جہاز خریدنے کے ارادے بھی باندھ رہا تھا۔ وہ چاہ رہا تھا کہ ایولین کو ساتھ لے کر ذاتی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر کسی مشہور تفریحی مقام پر چھٹیاں گزارنے جائے۔
وقتی طور پر کچھ مال حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک چھوٹے سے قریبی شہر ریسن میں ایک بینک بھی تاڑ لیا تھا۔ جلد ہی انہوں نے ڈکیتی کے بعد فرار ہونے کے لیے محفوظ راستوں کا ایک نقشہ بھی تیار کرلیا اور ایک روز بینک لوٹنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے۔ اس روز بھی کافی ٹھنڈ تھی۔ سرد ہوائیں چل رہی تھیں۔ گاڑی ان کا ایک ساتھی کلارک چلارہا تھا۔ اس نے انہیں سڑک کے کونے پر اتار دیا اور گاڑی لے جا کر بینک کے عقب میں کھڑی کردی۔ یہ ایک غلطی تھی کیونکہ بینک میں پچھلی طرف سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ نہیں دی تھی کہ ریسن کا پولیس اسٹیشن بینک سے بہ مشکل دو فرلانگ کے فاصلے پر تھا۔
سب سے پہلے پرپونٹ بینک میں داخل ہوا۔ وہ سرمئی رنگ کا ایک اوورکوٹ پہنے ہوئے تھا۔ اسی رنگ کا ایک نفیس ہیٹ اس کے سر پر تھا۔ وہ ایک وجیہ آدمی تھا اور اپنے حلیے کی وجہ سے خاصا معزز بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بینک میں داخل ہوتے ہی اس نے اوورکوٹ کے نیچے سے ریڈ کراس کا ایک بڑا سا پوسٹر نکالا اور ٹیپ کی مدد سے، شیشے کے دروازے پر اندر کی طرف چسپاں کردیا۔ اب کوئی باہر سے، آسانی سے نہیں دیکھ سکتا تھا کہ کیشیئرز کے کاونٹر پر کیا ہو رہا تھا۔
پوسٹر چسپاں ہونے کے ایک لمحے بعد ڈلنگر، میکلے اور ان کا ایک ساتھی ہملٹن اندر آگئے۔ اس بینک کا ایک کیشیئر گراہم اس وقت نوٹوں کی گڈیاں گن رہا تھا۔ اس نے اپنی کھڑکی میں چھوٹا سا ایک بورڈ لگا دیا تھا جس پر لکھا تھا ’’براہ کرم اگلی کھڑکی پر جائیں۔‘‘
کیشیئر گراہم نے کسی کو کہتے سنا۔ ’’ہینڈزاپ…!‘‘
وہ یہی سمجھا کہ شاید کوئی کسی سے مذاق کررہا ہے۔ اس نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اپنے کام میں مصروف رہا۔ پھر اس نے عین اپنے قریب آواز سنی۔ ’’ہینڈزاپ…!‘‘
اس نے اب بھی سر نہیں اٹھایا اور بے نیازی سے کہہ دیا ۔’’براہ کرم اگلی کھڑکی پر جائیے۔‘‘
اس کے انداز سے ایسا لگا جیسے وہ حکم دینے والے کو ذرا بھی اہمیت نہیں دے رہا تھا اور اس سے ڈر بھی نہیں رہا تھا حالانکہ اس بے چارے کو ابھی تک معلوم ہی نہیں تھا کہ بینک میں ڈاکو گھس آئے ہیں۔ اسے حکم دینے والا میکلے تھا۔ میکلے نے مزید ایک لفظ کہے بغیر اس پر گولی چلادی۔ گولی اس کے بازو اور ران کا گوشت ادھیڑتی ہوئی گزر گئی۔ وہ اپنے اسٹول سے گر پڑا۔ اس کے جسم سے خون بہنے لگا۔ اس اچانک حملے اور تکلیف سے اس کے حواس ایک لمحے کے لیے جواب دے گئے مگر پھر اس نے سنبھل کر وہیں پڑے پڑے الارم کا بٹن دبا دیا۔
بینک کے باہر الارم بجنے لگا۔ اس کی آواز بہت دور تک جارہی تھی۔ راہ چلتے لوگ رک رک کر بینک کی طرف دیکھنے لگے۔ الارم صرف بینک کے باہر ہی نہیں بلکہ قریبی پولیس اسٹیشن میں بھی بجنے لگا تھا۔ ڈلنگر اور پرپونٹ بینک کے اندرونی حصے میں چلے گئے۔ انہوں نے بینک کے آٹھ نو ملازموں کو اوندھے منہ فرش پر لیٹنے کا حکم دیا۔ پھر ڈلنگر نے بینک کے منیجر وے لینڈ کو وہ چھوٹا سا آہنی کمرا کھولنے کے لیے کہا جس میں کیش ہوتا تھا۔ وے لینڈ نے اس کی ہدایت پر عمل کیا۔ آہنی کمرے کا دروازہ کھلتے ہی ڈلنگر اس میں گھس گیا اور نوٹوں کی گڈیاں اُٹھا اُٹھا کر ایک تھیلے میں بھرنے لگا۔ اسے گویا الارم بجنے کی کوئی پروا نہیں تھی۔ پرپونٹ دروازے پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
ادھر پولیس اسٹیشن میں الارم بجنے سے کوئی خاص ہلچل نہیں مچی کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی بار غلطی سے الارم بج چکا تھا۔ وہاں موجود پولیس آفیسر بائرڈ یہی سمجھا کہ اس بار بھی الارم غلطی سے ہی بج گیا ہوگا۔ تاہم اس نے بادل ناخواستہ دو آدمیوں کو ساتھ لیا اور گاڑی میں بیٹھ کر بینک کی طرف روانہ ہوگیا۔
بینک پہنچ کر بائرڈ گاڑی سے اترا اور دروازہ کھول کر اس نے اندر قدم رکھا ہی تھا کہ کلارک نے اسے مشین گن کی زد پر لے کر اس کے ہولسٹر سے ریوالور نکال لیا۔ بینک میں داخل ہونے والا دوسرا پولیس آفسر سارجنٹ ولبر تھا۔ وہ ایک ہاتھ میں مشین گن اٹھائے ہوئے تھا لیکن اس کا رخ فرش کی طرف تھا۔ اسے دیکھتے ہی پرپونٹ دور سے چیخا ’’اس مشین گن والے کو قابو کرو۔‘‘
میکلے بینک کی لابی کو کور کررہا تھا۔ اس نے فوراً ولبر کی طرف دیکھا اور فائر کر دیا۔ گولی ولبر کے دائیں ہاتھ میں لگی اور اس کے پہلو کو بھی زخمی کرتی ہوئی گزر گئی۔ وہ اوندھے منہ گر پڑا۔ ایک عورت کھڑے کھڑے یوں غش کھا کر فرش پر ڈھیر ہوگئی جیسے کسی نے جسم کو جھٹک کر اپنا اوور کوٹ اتار دیا ہو۔ تیسرا پولیس آفیسر باہر سے باہر ہی کمک لانے کے لیے دوڑ گیا۔ لابی میں بارود کا دھواں پھیلنے لگا تھا اور بینک کے باہر مجمع لگنے لگا تھا۔
جوتوں کی ایک دکان کا منیجر صورت حال جاننے کے لیے دوڑا دوڑا آیا مگر شیشے کے دروازے میں سے اس کی نظر پولیس آفیسر بائرڈ سے ملی اور بائرڈ نے آنکھوں میں اسے اندر آنے سے باز رہنے کا اشارہ کردیا۔ وہ دروازے سے ہٹ گیا لیکن اس نے ایک کھڑکی سے جھانکنے کی کوشش کی۔ میکلے نے فوراً کھڑکی پر برسٹ مار دیا۔ جوتوں کی دکان کا منیجر بال بال بچا۔ وہ بروقت، دم دبا کر بھاگ لیا تھا۔ اس کے عقب میں کھڑکی کے شیشے کی کرچیاں بکھر گئیں۔ (جاری ہے)