khatarnak Mafia | Episode 15

168
اسی دوران سیلز نامی ایک شیرف اپنے دو ماتحتوں کے ساتھ ان کا تعاقب کرتا ہوا وہاں تک آن پہنچا۔ ابھی وہ سو گز دُور ہی تھا کہ نیلسن نے سڑک کے بیچ میں کھڑے ہو کر اس کی طرف برسٹ مارا۔ سیلز وہیں رک گیا۔ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اس خوف سے جوابی فائرنگ نہیں کی کہ کہیں یرغمالی نہ مارے جائیں۔ بعد میں کافی عرصے تک شیرف سیلز اصرار کرتا رہا تھا کہ اس نے دو گھنٹے تک ڈاکوئوں کا تعاقب کیا تھا لیکن پھر وہ اسے جُل دے کر نکل جانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ تاہم دوسرے روز کے اخباروں میں یہی خبریں چھپی تھیں کہ ڈاکوئوں نے جب شیرف سیلز کی گاڑی پر فائرنگ کی تو وہ گاڑی واپس گھما کر وہاں سے بھاگ لیا تھا۔ بہرحال قابل ذکر بات یہی تھی کہ ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یرغمالیوں کو وہ راستے میں چھوڑ گئے تھے۔
اس ڈاکے میں اڑتالیس ہزار ڈالر ان کے ہاتھ لگے تھے۔ ہر ایک کے حصے میں آٹھ آٹھ ہزار ڈالر آ گئے تھے جو معقول رقم تھی۔ رقوم تو ڈلنگر کے ہاتھ لگنا شروع ہوگئی تھیں مگر اس جیسے لوگوں کے اخراجات بھی کچھ کم نہیں تھے۔ ڈلنگر کو تو اپنے وکیل پکٹ کو بھی خاصی رقم پہنچانی تھی۔ درحقیقت اسی شخص کی وجہ سے جیل سے ڈلنگر کا جیل سے فرار ممکن ہوا تھا۔ ڈلنگر صرف اسی کو نہیں بلکہ جیلوں میں بند اپنے دوسرے ساتھیوں کے وکیلوں کو بھی ان کے معاوضے پہنچانے کا بندوبست کر رہا تھا۔ وہ اس کے دوستوں کے مقدمے لڑ رہے تھے۔ ڈلنگر کے ساتھیوں پرپونٹ، میکلے اور کلارک پر لیما اور اوہائیو میں مقدمات چل رہے تھے اور قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ کیا ڈلنگر ان کی مدد کے لیے پہنچے گا؟
ان دونوں شہروں، یعنی لیما اور اوہائیو کی پولیس اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری طرح الرٹ تھی اور اس نے اپنی کچھ تیاریاں کی ہوئی تھیں جن سے پریس کو بے خبر رکھا گیا تھا۔ لیما شہر تو آرمی کا کوئی کیمپ معلوم ہونے لگا تھا۔ عدالتوں کے سامنے ریت کی بوریوں سے مورچے بنا لیے گئے تھے۔ اس دوران افواہ پھیل گئی کہ ڈلنگر لیما کے گورنر جارج وائٹ کو اغواء کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ گورنر کی حویلی کے سامنے بھی ریت کی بوریوں سے مورچے بن گئے اور اس نے اپنی حفاظت کے لیے نیشنل گارڈز کو طلب کر لیا۔
ان حالات میں مقدمات کی سماعت جاری رہی۔ آخرکار فیصلہ سنا دیا گیا۔ پرپونٹ اور میکلے کو سزائے موت جبکہ کلارک کو عمرقید کی سزا سنائی گئی۔ ڈلنگر اس دوران ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکا البتہ وہ اس دوران میسن سٹی میں ایک اور بڑا بینک لوٹنے کے لیے پہنچ چکا تھا۔ اس بار اس کے ساتھیوں میں جان ہملٹن بھی شامل تھا۔
مڈ ویسٹرن بینک، جسے وہ لوٹنے آئے تھے، اس کی عمارت سات منزلہ تھی اور وہ کسی قلعے سے کم نہیں تھی۔ اس کی دو منزلوں پر رقم کا لین دین ہوتا تھا۔ باقی منزلوں پر دفاتر تھے۔ ملک بھر میں مسلسل بینک ڈکیتیوں کی وجہ سے اب اکثر بینکوں میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیئے گئے تھے۔ مڈ ویسٹرن بینک کی لابی بھی دو منزلہ تھی۔ اوپر کی منزل کا درمیانی حصہ اوپر چھت تک کھلا تھا۔ اس منزل پر ایک گارڈ آہنی پنجرے میں بیٹھتا تھا جس کے پاس آنسو گیس کا شیل پھینکنے والی بندوق بھی ہوتی تھی۔ اس پنجرے میں سامنے کی طرف بلٹ پروف شیشہ لگایا ہوا تھا جس میں بندوق کی نال نکالنے کے لیے سوراخ تھا۔
بینک ایک بڑے چوراہے پر تھا۔ وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک فری لانس فوٹوگرافر تین ٹانگوں والے اسٹینڈ پر کیمرا فٹ کئے کسی اشتہار کے سلسلے میں کچھ تصویریں کھینچ رہا تھا۔ جب ڈاکوئوں کی نیلی بیوک بینک کے سامنے آ کر رکی تو وہاں سے گزرتے ہوئے ایک بوڑھے جوڑے کو اس میں بیٹھے ہوئے لوگ مشکوک لگے۔ چھ افراد میں سے پانچ گاڑی سے اُتر آئے۔ فوٹوگرافر سہم کر اپنا کیمرا اُٹھا کر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔
ٹامی کیرول گاڑی میں ہی بیٹھا رہا تھا۔ اس کی گود میں ایک مشین گن رکھی تھی۔ بے بی فیس نیلسن بینک کی عمارت کے کونے پر جا کر کھڑا ہو گیا جہاں سے وہ پورے چوراہے پر نظر رکھ سکتا تھا۔ ڈلنگر نے بینک کے صدر دروازے پر پوزیشن سنبھال لی۔ وان میٹر، ہملٹن اور ایڈی گرین اندر چلے گئے۔ بینک میں کافی افراد موجود تھے۔ ڈاکوئوں میں سے ایک نے سب سے پہلے مشین گن کا رخ گنبد نما چھت کی طرف کر کے چند فائر کر دیئے۔ بہت سا پلستر اُکھڑ کر نیچے آ گرا۔
تینوں ڈاکوئوں نے بیک وقت چیخ کر حکم دیا۔ ’’سب لوگ اوندھے منہ فرش پر لیٹ جائیں۔‘‘
بیشتر نے فوراً اس ہدایت پر عمل کیا جبکہ کچھ لوگ الماریوں میں گھسنے اور بعض لوگ میزوں کے نیچے چھپنے کی کوشش کرنے لگے۔ بینک کے منیجر بیگلے نے ایک آدمی کو مشین گن اُٹھائے اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ اٹھا اور دوڑ کر عقبی کمرے میں گھس گیا۔ اس نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی تو وان میٹر نے گن کی نال دروازے میں پھنسا دی۔ بیگلے نے گن اندر کھینچنے کی کوشش کی تو وان میٹر نے فائر کر دیا۔ گولیاں گو کہ بیگلے کو صرف چھوتی ہوئی گزری تھیں لیکن وہ خوف سے فرش پر گر پڑا۔ وان میٹر نے اسے اس کے حال پر چھوڑا اور لابی میں واپس آ کر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر کسی قسم کی مزاحمت سے باز رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔
اس دوران بارہ تیرہ فٹ بلندی پر آہنی پنجرے میں کرسی پر بیٹھے گارڈ کو گویا ہوش آیا۔ اس نے آنسو گیس کا آٹھ انچ لمبا شیل اپنی بندوق میں فٹ کیا اور نیچے فائر کر دیا۔ اس کے پاس رائفل بھی تھی لیکن وہ فائرنگ اس لیے نہیں کر سکتا تھا کہ ڈاکوئوں سے زیادہ بے گناہ لوگ مارے جاتے۔ آنسو گیس کا شیل نیچے، لوگوں کے درمیان جا گرا۔ ایک آدمی نے اس میں سے ہلکی سی سیٹی جیسی آواز کے ساتھ گیس خارج ہوتے دیکھی تو ٹھوکر مار کر اسے دور پھینک دیا۔ دوسرے آدمی نے ٹھوکر مار کر اسے پھر واپس وہیں پھینک دیا۔ یہ سب کچھ فلم میں دیکھنے پر شاید مزاحیہ لگتا لیکن اس وقت قطعی مزاحیہ نہیں لگ رہا تھا۔ لوگوں کی جان پر بنی ہوئی تھی۔
ایڈی گرین نے دیکھ لیا تھا کہ آنسو گیس کا شیل کس نے فائر کیا تھا۔ اس نے آہنی پنجرے کی طرف مشین گن بلند کرکے نہایت غصے میں برسٹ دے مارا۔ پنجرے کا بلٹ پروف شیشہ چٹخ گیا۔ ادھر گارڈ کی گن ایک شیل پھینکنے کے بعد ہی جام ہوگئی تھی۔ وہ اسے دوبارہ رواں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران لابی کی اُوپر کی منزل پر بینک کی ایک ملازم عورت نے ہمت کی اور اپنی قریبی کھڑکی کھول کر بغلی سڑک پر جھانکا۔ اسے عمارت کے کونے پر کھڑے ہوئے کسی آدمی کے جسم کا آدھا حصہ دکھائی دیا۔ اس کے سر پر اونی ٹوپی تھی۔
’’اے مسٹر! تم وہاں کھڑے کیا کر رہے ہو؟‘‘ عورت نے گھٹی گھٹی سی آواز میں پکارا۔ ’’کیا تمہیں پتا نہیں کہ بینک کو لوٹا جا رہا ہے۔ ڈاکو اندر گھس آئے ہیں۔ بھاگ کر جائو اور جلدی سے پولیس کو فون کرو۔‘‘
آدمی نے تھوڑا سا سر گھما کر عورت کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’خاتون! مجھے کیا بتا رہی ہو۔ میں تو خود اس انتظار میں کھڑا ہوں کہ بینک لٹ چکے۔‘‘
وہ دراصل بے بی فیس نیلسن تھا اور عورت کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس وقت مجنونانہ کیفیت میں نہیں تھا اور اس نے مسکرا کر شگفتہ لہجے میں جواب دیا تھا۔ پھر جب اس نے اپنی جگہ سے ذرا حرکت کی تو عورت کو اس کے ہاتھ میں موجود مشین گن نظر آئی اور اس نے ہلکی سی چیخ مار کر جلدی سے کھڑکی بند کر لی۔
اس دوران بینک کے کسی اور ملازم نے بغیر بندوق کے چلنے والا، آنسو گیس کا ایک شیل لابی میں پھینک دیا۔ پہلے فائر کئے گئے شیل سے بھی گیس خارج ہونے لگی تھی۔ آنسو گیس دوسری منزل تک پہنچنے لگی تھی۔ لابی میں دھواں سا پھیل گیا تھا۔ لوگ کھانس رہے تھے، چیخ رہے تھے اور چھینک رہے تھے۔ ہملٹن نے چیف کیشیئر کو پکڑ کر اسٹرانگ روم کا دروازہ کھولنے پر مجبور کر دیا لیکن اس چکر میں ڈکیتی بہت طول پکڑ گئی۔ فائرنگ کی آواز سن کر یہاں بھی لوگ باہر جمع ہونے لگے تھے۔ ڈلنگر احتیاطاً اندر سے کچھ بینک ملازمین کو پکڑ لایا تھا اور اس نے انہیں اپنے آگے ایک صف کی صورت میں ڈھال بنا کر کھڑا کر لیا تھا۔ وہ ہاتھ اُٹھائے کھڑے تھے اور ڈلنگر ان کے پیچھے آڑ لیے کھڑا تھا۔
ڈکیتی میں ان کے اندازےسے زیادہ وقت لگ گیا تھا اور انہیں لگ رہا تھا کہ صورت حال ان کے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ ہملٹن اسٹرانگ روم سے رقم نہیں نکال پایا تھا اور ساتھیوں پر زور دے رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اور رک جائیں۔ ابھی ایک ایک ڈالر کے نوٹوں والے تھیلے اس کے ہاتھ آئے تھے اور بڑی رقم اسٹرانگ روم میں چھوڑ کر جانے کو اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اسی دوران باہر ایک ریٹائرڈ جج صاحب نے ایک عمارت کی تیسری منزل کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ ان کے ہاتھ میں ریوالور تھا۔ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ بینک میں ڈاکا پڑ گیا ہے۔
انہیں جان ڈلنگر بینک کے دروازے پر کھڑا نظر آیا جس کے ہاتھ میں گن تھی۔ انہوں نے ہمت کر کے اس پر ایک فائر کر دیا۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ گولی کسی اور کو نہ لگے۔ ان کی چلائی ہوئی گولی ڈلنگر کے کندھے کو زخمی کرتی ہوئی گزر گئی۔ ڈلنگر لڑکھڑایا۔ پھر ا نے سنبھل کر اِدھر اُدھر دیکھا اور اسے معلوم ہوگیا کہ گولی کدھر سے آئی تھی۔ اس نے فوراً جج صاحب کی بالکونی پر برسٹ مارا لیکن اس وقت تک جج صاحب پیچھے چھلانگ لگا کر غائب ہو چکے تھے۔
چند لمحے بعد ہملٹن رقم کے تھیلے اُٹھائے بینک سے نکلا۔ کچھ رقم وہ اب بھی اسٹرانگ روم میں چھوڑ آیا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ بینک میں اب مزید رکنا خطرناک ہوگا۔ چھ آدمیوں پر مشتمل پورا گروہ باہر فٹ پاتھ پر پہنچ چکا تھا۔ ہر ایک نے اپنے آگے کسی نہ کسی کو ڈھال بنایا ہوا تھا۔ وہ یرغمالیوں کو اپنی بیوک کے مختلف حصوں میں لاد کر روانہ ہوگئے۔ چھ آدمی بیوک کے اندر موجود تھے اور دس بارہ افراد باہر لدے ہوئے تھے۔ گاڑی بہ مشکل رینگتی ہوئی آگے بڑھی۔ اس کی کم رفتاری کے باوجود فوری طور پر کسی نے اس کا پیچھا نہیں کیا۔
ہائی وے پر پہنچ کر بھی گاڑی تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں دوڑ رہی تھی اور یرغمالی گرنے کے خوف سے گاڑی کے کسی نہ کسی حصے کو مضبوطی سے پکڑ کر لٹکے ہوئے تھے۔ پھر چڑھائی آئی تو گاڑی کی رفتار مزید کم ہوگئی۔ ایک شیرف اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ گاڑی میں ان کا پیچھا کرتا ہوا آیا لیکن جب بھی ان کی گاڑی ڈاکوئوں کی گاڑی کے قریب آنے لگتی، ڈاکو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتے۔ پھر انہوں نے اپنے پیچھے سڑک پر کیلیں بھی بکھیر دیں۔ آخر شیرف کو ایک جگہ رکنا پڑا جس کے بعد ڈاکو دو دو، تین تین یرغمالیوں کو اُتارتے ہوئے آگے نکل گئے۔ کوئی بھی انہیں نہ روک سکا اور نہ ہی پکڑ سکا۔
٭…٭…٭
فریڈ بارکر اس وقت ڈاکٹر موران کے کلینک میں اس میز پر بیٹھا تھا جس پر ڈاکٹر مریض کو لٹا کر اس کا معائنہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر موران اس کے سامنے کھڑا سرخ سرخ آنکھوں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ پھر اس نے فریڈ بارکر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی اُنگلیوں کا معائنہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’تم تیار ہو؟‘‘
فریڈ بارکر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے اور آنکھیں پھیلی ہوئی سی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے قریب ہی کارپس بیٹھا ایک ٹک فریڈ بارکر کو دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں ایک بیگ میں کچھ کپڑے وغیرہ لے کر دو تین دن ڈاکٹر ہی کے ہاں قیام کرنے کے ارادے سے آئے تھے۔ ڈاکٹر موران انہی خاص قسم کے ڈاکٹروں میں سے تھا جن کی پریکٹس عام اور شرفاء قسم کے لوگوں میں کم ہی چلتی ہے اور وہ جرائم پیشہ یا مشکوک قسم کے لوگوں سے بھاری فیس لے کر آڑے وقت میں ان کے کام آتے تھے۔ ڈاکٹر موران اکثر پیئے ہوئے ہوتا تھا اور وقفے وقفے سے کھانستا رہتا تھا۔ وہ ڈاکٹر سے زیادہ، خود مریض نظر آتا تھا۔
ڈاکٹر نے فریڈ بارکر کی اُنگلیوں کی پوروں پر چھوٹے چھوٹے ربڑبینڈ چڑھا دیئے۔ پھر انگلیوں کے سروں پر نیلے رنگ کا کوئی مرہم سا لگا دیا جس سے اُنگلیاں سُن ہوگئیں۔ پھر اس نے انجکشن کی صورت میں دی جانے والی کوکین کا ایک ایک چھوٹا انجکشن ہر انگلی میں لگا دیا۔ کارپس دم بہ خود سا بیٹھا یہ ساری کارروائی دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے ذرا آگے جھک کر ایک تیزدھار نشتر سے اس طرح فریڈ بارکر کی انگلیوں کو چھیلنا شروع کر دیا جیسے پنسل چھیلی جاتی ہے۔
قصّہ اصل میں یہ تھا کہ فریڈ اور کارپس کو اخبارات سے پتا چلا تھا کہ ایف بی آئی نے مختلف مقامات سے اٹھائی ہوئی بظاہر معمولی اور بے کار سی چیزوں پر انگلیوں کے کچھ نشانات تلاش کئے تھے۔ کچھ دوسرے شواہد کو انگلیوں کے ان نشانات کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایف بی آئی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایڈورڈ بریمر کے اغواء اور کنساس سٹی کی خونریزی سے فریڈ بارکر اور کارپس کا تعلق تھا۔ یہ جاننے کے بعد فریڈ اور کارپس نے فیصلہ کیا تھا کہ انہیں اپنی انگلیوں کے نشانات غائب یا تبدیل کرنے کے لیے کوئی تدبیر کرنی چاہیے تاکہ اگر وہ پکڑے بھی جائیں تو ان وارداتوں سے ان کا کوئی تعلق قانونی طور پر ثابت نہ کیا جا سکے۔ ورنہ ان جرائم میں انہیں عمرقید یا سزائے موت ہوسکتی تھی۔
زیرزمین دنیا کے لوگوں سے انہوں نے کسی ایسے ڈاکٹر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی جو اس مقصد کے لیے سرجری کرسکتا ہو۔ اپنی پوچھ گچھ کے نتیجے میں وہ مختلف حوالوں کے ساتھ ڈاکٹر موران تک پہنچے تھے اور تمام معاملات طے ہو جانے کے بعد ان کی سرجری ہو رہی تھی۔ کارپس کے ہونٹ کچھ ترچھے سے تھے۔ وہ انہیں بھی سیدھا کرانا چاہتا تھا۔ اپنی اس نشانی کی وجہ سے وہ آسانی سے پہچانا جاتا تھا۔
فریڈ بارکر کی انگلیوں کی ’’چِھلائی‘‘ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر موران ذرا دیر کے لیے باتھ روم میں چلا گیا۔ شاید اسے اُبکائی آ رہی تھی۔ واپس آ کر اس نے بارکر سے پوچھا ’’تمہیں ڈرنک دوں؟‘‘
حالانکہ بظاہر کچھ ایسا لگ رہا تھا جیسے فریڈ بارکر سے زیادہ خود ڈاکٹر کو ڈرنک کی ضرورت تھی۔ بہرحال اس نے فریڈ بارکر کو وہسکی کی بوتل دے دی جسے اس نے بائیں ہاتھ سے تھام کر گھونٹ بھر لیا۔
وہ چند گھونٹ پی چکا تو ڈاکٹر موران نے اس کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو بھی چھیل ڈالا۔ اس کام میں اسے دس منٹ لگے۔ اس کے بعد اس نے انگلیوں پر روئی کے موٹے موٹے پھاہے رکھ کر ان پر پٹیاں لپیٹ دیں اور کہا ’’میں تمہیں مارفین کا انجکشن بھی لگا دیتا ہوں کیونکہ چند گھنٹوں بعد تمہیں کافی تکلیف ہوگی۔‘‘
یہی عمل اس نے کارپس پر بھی دُہرایا لیکن اس کی صرف اُنگلیاں چھیلنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کی کنپٹیوں کے پیچھے چیرے لگا کر کھال کو ذرا کھینچ کر ٹانکے بھی لگائے، جس سے اس کے چہرے میں کچھ تبدیلی نظر آنے لگی۔ اس کام کے لیے اس نے کارپس کو پہلے ہی مارفین کا انجکشن لگا دیا تھا اور جہاں جہاں چیرے لگانے تھے وہاں کوکین کے انجکشن لگا دیئے تھے۔ اسی لیے کارپس نے خاموشی سے ساری سرجری کرا لی۔ اسے تکلیف کا احساس ہی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر موران نے انہیں پچھلے دو کمروں میں لٹا دیا۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹر کا اسسٹنٹ موجود تھا۔
صبح جب ان کی آنکھ کھلی تو دونوں سخت تکلیف میں تھے۔ اسسٹنٹ نے انہیں مارفین کا ایک ایک انجکشن اور لگا دیا۔ وہ مزید چند گھنٹوں کے لیے ہر چیز سے بے خبر ہوگئے۔ ان کے تین دن اسی طرح سوتے جاگتے گزر گئے۔ کبھی وہ تکلیف محسوس کرتے، کبھی تکلیف سے بے نیاز ہو جاتے۔ اسی دوران ایک بار اپنی بیداری کے وقفے میں کارپس نے اخبار میں پڑھا کہ ایف بی آئی انہیں انتہائی سرگرمی سے تلاش کر رہی تھی۔
ڈاکٹر کے اپارٹمنٹ سے نکلنے کے بعد وہ اپنے اپارٹمنٹس میں نہیں گئے بلکہ بورڈنگ ہائوس میں منتقل ہو گئے۔ ان کے ہاتھوں پر ابھی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور انہیں پکڑے جانے کا دھڑکا لگا ہوا تھا۔ چند دن بعد انہوں نے اخبار میں زگلر کی موت کی خبر پڑھی۔ وہ ایک بار سے نکلا تھا جب اس پر ایک گزرتی ہوئی کار سے برسٹ مارا گیا اور وہ وہیں مر گیا۔ انداز بتاتا تھا کہ یہ سینڈیکیٹ کا کام تھا۔ کارپس کا خیال تھا کہ کچھ بعید نہیں، سینڈیکیٹ اس سے اور بارکر برادرز سے بھی ناراض ہو اور انہیں مُردہ دیکھنا چاہتی ہو۔ گویا انہیں صرف ایف بی آئی سے ہی نہیں، سینڈیکیٹ سے بھی خطرہ تھا۔
انہوں نے شکاگو چھوڑ کر ٹولیڈو چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ شکاگو میں ان کے لیے خطرات بہت بڑھ گئے تھے۔ پہلے ڈوک بارکر نے جا کر ٹولیڈو میں کرائے پر اپارٹمنٹ حاصل کیا۔ پھر وہ دونوں روانہ ہوئے۔ ماما بارکر کو شکاگو میں ہی چھوڑ دیا گیا البتہ اسے دوسرے اپارٹمنٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ ماما بارکر بہت چیخی چلّائی کہ وہ اکیلی نہیں رہے گی لیکن انہیں ماما بارکر کو اس کے حال پر چھوڑ کر روانہ ہونا پڑا۔
اس دوران ایف بی آئی کی انہیں اور جان ڈلنگر کے گروہ کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔ معمولی سے معمولی سراغوں پر کام کیا جا رہا تھا۔ جیلوں میں بہت سے مجرموں سے پوچھ گچھ کی جا رہی تھی۔ مطلوبہ مجرموں کے رشتے داروں کے گھروں کی نگرانی کی جا رہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر ایف بی آئی نے جان ڈلنگر کے باپ کے فارم ہائوس کی نگرانی پر کسی کو مامور نہیں کیا تھا۔ شاید انہوں نے فرض کر لیا تھا کہ جان ڈلنگر ادھر کا رخ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔
اس دوران ایف بی آئی ایجنٹ میٹ لی کی کوششوں سے ایک معمولی سا سراغ ملا۔ اس نے گروہ کے ایک رکن رسل کلارک کی گرل فرینڈ روپل لانگ کو تلاش کرلیا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ڈیٹرائٹ میں رہ رہی تھی۔ ایجنٹوں نے اس کی نگرانی شروع کر دی۔ ایک روز وہ ٹرین میں بیٹھ کر شکاگو روانہ ہوئی۔ ایجنٹوں نے اس کا تعاقب جاری رکھا لیکن روپل لانگ کو احساس ہوگیا کہ اس کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ وہ ٹرین سے اُتر کر ایک ٹیکسی میں بیٹھی اور آخرکار انہیں غچّا دے کر غائب ہوگئی۔ رفتہ رفتہ ان لوگوں کی تلاش میں ایف بی آئی کی کوششیں ٹھنڈی پڑنے لگیں۔
جس دوران ایف بی آئی، جان ڈلنگر اور اس کے گروہ کو تلاش کرتے کرتے تھک ہار چکی تھی، ان دنوں ڈلنگر اطمینان سے سین پال کے ایک اچھے رہائشی علاقے کی بلڈنگ ’’لنکن کورٹ اپارٹمنٹس‘‘ کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا۔ وہ اپنے زخم ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ جان ہملٹن اور اس کی گرل فرینڈ پیٹ بھی وہیں رہ رہی تھی۔ وہ دونوں ڈرائنگ روم میں صوفوں پر سوتے تھے۔ بے بی فیس نیلسن کہیں گیا ہوا تھا۔ وان میٹر کسی آوارہ رُوح کی طرح اچانک آ جاتا تھا اور اسی طرح غائب ہو جاتا تھا۔
اسی دوران ایک روز ڈیزی نامی ایک عورت ایف بی آئی کے مقامی دفتر پہنچی۔ مقامی دفتر کا ایجنٹ ہانی، جو وہاں کا انچارج بھی تھا، ابھی تک ایڈورڈ بریمر کے اغواء کے کیس میں اُلجھا ہوا تھا اور بے حد مصروف تھا۔ تاہم اس نے ڈیزی سے ملاقات کے لیے وقت نکال لیا۔
ڈیزی نے بتایا ’’میں لنکن کورٹ اپارٹمنٹس نامی ہائوسنگ اسکیم کی منیجر ہوں۔ وہاں اپارٹمنٹ نمبر303 میں دو ہفتے پہلے نئے کرائے دار آئے ہیں۔ ان کے نام مسٹر اور مسز ہیل مین ہیں۔ ان کے طور طریقے اور معمولات مجھے کچھ مشکوک سے لگتے ہیں۔ اس لیے میں احتیاطاً آپ کو ان کے بارے میں مطلع کرنے آ گئی ہوں۔ ایک تو مجھے لگتا ہے کہ دونوں میاں بیوی کوئی کام نہیں کرتے۔ دن بھر گھر پر ہی رہتے ہیں۔ ان کی کھڑکیوں کے شیڈز بھی ہر وقت گرے رہتے ہیں۔ آمدورفت کے لیے یہ لوگ پچھلا راستہ استعمال کرتے ہیں اور جو لوگ ان سے ملنے آتے ہیں، وہ بھی عمارت کی پچھلی طرف سے ہی آتے ہیں۔‘‘
ایف بی آئی ایجنٹ نے خاصے تحمل سے خاتون کی بات تو سُن لی لیکن اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ اسے معلوم تھا کہ وہمی قسم کے لوگ ایف بی آئی اور پولیس کے پاس بے کار قسم کی شکایات لے کر آتے رہتے تھے۔ تاہم اس نے اتنا ضرور کیا کہ ڈیزی کی شکایت کا اندراج اپنے روزنامچے میں کرلیا اور دو نوجوان ایجنٹوں کو صورت حال کا جائزہ لینے کی ذمے داری سونپ دی۔ ان کے نام نالس اور کولٹر تھے۔ ہانی سمیت کسی کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا کہ مسٹر اور مسز ہیل مین دراصل جان ڈلنگر اور ایولین عرف بلّی ہوں گے جن کی تلاش میں ایف بی آئی ہلکان ہو رہی تھی۔ نالس اور کولٹر اپارٹمنٹ نمبر303 کا جائزہ لینے آئے اور دو تین گھنٹے اس کی نگرانی کر کے واپس چلے گئے۔ انہیں وہاں کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوئی۔
تاہم دُوسرے روز وہ ایک بار پھر گاڑی میں بیٹھ کر وہاں گئے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ اس اپارٹمنٹ میں رہنے والوں سے رسمی پوچھ گچھ کریں گے۔ انہوں نے بہتر سمجھا کہ اس مقصد کے لیے کسی مقامی پولیس والے کو بھی ساتھ لے لیا جائے تاکہ کارروائی ضابطے کے مطابق ہو اور بعد میں کوئی اس پر اعتراض نہ کرسکے۔
ایجنٹ کولٹر اپنے ایک شناسا پولیس والے کو لینے چلا گیا۔ ایجنٹ نالس گاڑی میں بیٹھا اپارٹمنٹ کی نگرانی کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے دو عورتوں کو اپارٹمنٹ سے نکل کر پچھلے راستے سے باہر جاتے دیکھا۔ نالس ایسی جگہ گاڑی میں بیٹھا تھا کہ وہ عمارت کی بغلی گلی سے پچھلی گلی کے تھوڑے سے حصّے کا منظر بھی دیکھ سکتا تھا۔ اس نے دیکھا، وہ دونوں عورتیں پچھلی گلی میں کھڑی ایک گاڑی تک گئیں جس میں ایک آدمی پہلے سے بیٹھا ہوا تھا۔ دونوں عورتوں نے اس آدمی سے کوئی بات کی۔ پھر وہ دونوں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔
نالس ان تینوں میں سے کسی کو نہیں پہچانتا تھا۔ ایف بی آئی والوں کو بہت بعد میں جا کر معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک عورت ایڈی گرین کی گرل فرینڈ روپل لانگ تھی جس نے گزشتہ روز شکاگو میں اپنا تعاقب کرنے والے ایجنٹوں کو غچّا دیا تھا۔ انہیں غچّا دینے کے بعد وہ سینٹ پال آگئی تھی۔ دُوسری عورت جان ہملٹن کی دوست پیٹ تھی جو اس اپارٹمنٹ میں ہی رہ رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھا ہوا آدمی جان ہملٹن تھا۔ وہ تینوں بازار سے سودا سلف اور ناشتے کے لیے کچھ لینے گئے تھے۔
تھوڑی دیر بعد نالس نے اپنے ساتھی ایجنٹ کولٹر کو ایک پولیس آفیسر کے ساتھ دُوسری گاڑی میں آتے دیکھا۔ وہ دونوں اس کی طرف دیکھے بغیر عمارت کے اندر چلے گئے۔ اس کے دو منٹ کے بعد ہی ایک دُبلاپتلا آدمی سبز رنگ کی فورڈ کار میں وہاں پہنچا۔ وہ بھی گاڑی سے اُتر کر عمارت کے اندر چلا گیا۔ ایجنٹ نالس خاموشی سے اپنی گاڑی میں بیٹھا یہ نقل و حرکت دیکھ رہا تھا۔
چند لمحے بعد اس نے دیکھا کہ ایجنٹ کولٹر عمارت سے نکل کر سامنے والے احاطے میں بھاگا آ رہا تھا۔ احاطے میں برف جمی ہوئی تھی جس پر دوڑنا آسان نہیں تھا۔ کولٹر کے ہاتھ میں پستول تھا۔ پھر نالس نے دیکھا کہ ایک دُبلاپتلا آدمی کولٹر کے تعاقب میں آ رہا تھا۔ یہ وہی آدمی تھا جسے نالس نے سبز رنگ کی فورڈ میں آتے دیکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی پستول تھا۔ بھاگتے بھاگتے کولٹر نے پلٹ کر دُبلے پتلے آدمی پر فائر کئے۔ اس نے بھی کولٹر پر گولیاں چلائیں۔ تاہم کوئی گولی دونوں میں سے کسی کو نہیں لگی۔
بلڈنگ کے اندر اصل میں ہوا یہ تھا کہ ایجنٹ کولٹر اور مقامی پولیس کا سراغرساں ہنری اپارٹمنٹ نمبر303 پر پہنچ گئے تھے اور دروازے پر دستک دینے کے بعد جواب کے انتظار میں کھڑے تھے۔ کچھ دیر بعد دروازہ تھوڑا سا کھلا اور ایک عورت کے چہرے کی جھلک نظر آئی۔ اس نے دروازے کی حفاظتی زنجیر نہیں ہٹائی تھی۔ وہ ایولین عرف بلّی تھی۔ سراغرساں ہنری نے اپنا تعارف کرایا اور ہیلی مین سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بلّی اس لمحے بھول گئی تھی کہ جان ڈلنگر نے کرائے نامے میں اپنا یہ نام لکھوایا تھا۔
اس نے بے ساختہ پوچھا۔ ’’ہیل مین کون…؟‘‘
’’جو اس اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔‘‘ پولیس آفیسر ہنری نے تحمل سے جواب دیا۔
تب ایولین نے سنبھل کر کہا۔ ’’وہ تو ابھی ابھی گھر سے نکلا ہے۔ شاید سہ پہر تک واپس آ جائے۔ تم شام کو آ جانا۔ ملاقات ہو جائے گی۔‘‘
’’کیا تم مسز ہیل مین ہو؟‘‘ ہنری نے دریافت کیا۔ ایولین نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’پھر ہم تم سے ہی بات کر لیتے ہیں۔ کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟‘‘ ہنری نے کہا۔
’’میرا لباس ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کہا نا کہ تم شام کو آ جانا۔‘‘ ایولین بولی۔
’’ہم انتظار کر لیتے ہیں۔ تم لباس تبدیل کر لو۔‘‘ پولیس آفیسر ہنری نے کہا۔ وہ ایک عمر رسیدہ آدمی تھا۔
’’ٹھیک ہے۔ میں ایک منٹ میں آتی ہوں۔‘‘ ایولین عرف بلّی نے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ کلک کی دُوسری آواز سے ہنری اور
کولٹر نے اندازہ لگایا کہ اس نے دروازہ مقفل بھی کر دیا تھا۔
جان ڈلنگر اس وقت بستر میں ہی تھا جب ایولین دوڑی دوڑی اس کے پاس پہنچی اور قدرے بدحواسی سے بولی۔ ’’باہر پولیس والے آئے ہیں۔ کیا کروں؟‘‘
ڈلنگر اُچھل کر اُٹھ کھڑا ہوا اور قمیص وغیرہ پہنتے ہوئے بولا۔ ’’جلدی جلدی کچھ ضروری چیزیں بڑے بیگ میں ڈالو۔‘‘
ایولین جلدی جلدی کپڑے اور دُوسری چیزیں بیگ میں ڈالنے لگی اور ڈلنگر نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھولی جس میں ہلکی مشین الگ الگ حصوں کی صورت میں رکھی تھی۔ اس نے انتہائی پھرتی سے ان ٹکڑوں کو جوڑا اور دروازے پر پہنچا۔ اس دوران باہر دروازے پر کھڑا کولٹر کوئی انجانا خطرہ محسوس کرتے ہوئے، پولیس آفیسر ہنری سے کہہ رہا تھا۔ ’’ہمیں اپنی مدد کے لیے کسی کو بلا لینا چاہیے۔ تم بلانے جائو گے یا میں جائوں؟‘‘
’’تم کسے بلانا چاہتے ہو؟ میرے ڈیپارٹمنٹ کے آدمیوں کو یا اپنے ڈیپارٹمنٹ کے آدمیوں کو؟‘‘ ہنری نے پوچھا۔
’’میں اپنے ڈیپارٹمنٹ سے ہی کسی کو بلا لیتا ہوں۔‘‘ کولٹر نے کہا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
وہ نیچے منیجر کے آفس میں جا کر فون کر کے واپس بھی آ گیا، تب بھی ہنری دروازے پر ہی کھڑا انتظار کر رہا تھا۔ اپارٹمنٹ تیسری منزل پر تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب سبز رنگ کی فورڈ میں آنے والا دُبلا پتلا آدمی راہداری کے سرے پر نمودار ہوا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر آیا تھا اور اس کا رُخ ڈلنگر کے اپارٹمنٹ کی طرف تھا۔ ہنری اور کولٹر کو اس وقت انتظار کرتے ہوئے دس منٹ گزر چکے تھے۔
دُبلا پتلا ٓآدمی وان میٹر تھا۔ وہ عقبی سیڑھیوں کے راستے جیسے ہی تیسری منزل پر پہنچا اور اس نے دو آدمیوں کو ڈلنگر کے اپارٹمنٹ کے دروازے پر کھڑے دیکھا تو اسے احساس ہوگیا کہ صورت حال ٹھیک نہیں تھی۔ وہ ان دونوں کے سامنے سے گزرتا ہوا سامنے والی سیڑھیوں کی طرف چل دیا۔ پھر اس نے گویا اپنی آمد کا کوئی مقصد ظاہر کرنے کے لیے راستے میں رک کر پلٹتے ہوئے کولٹر سے پوچھا۔ ’’کیا تمہارا نام جانسن ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ کولٹر نے جواب دیا۔ وان میٹر سر جھکا کر آگے چل دیا۔
’’اور تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ کولٹر نے عقب سے اسے آواز دے کر پوچھا۔
وان میٹر سیڑھیوں تک پہنچ کر رُکتے ہوئے بولا۔ ’’میں گشتی سیلزمین ہوں۔ صابن بیچتا ہوں۔‘‘
’’تمہارے پاس کوئی صابن نظر تو نہیں آ رہا۔‘‘ کولٹر بولا۔
’’مال نیچے میری گاڑی میں ہے۔‘‘ وان میٹر نے جواب دیا اور سیڑھیاں اُترنے لگا۔
’’تمہارے پاس اپنی شناخت کرانے والی کوئی چیز ہے؟‘‘ کولٹر نے اب بلند آواز میں پوچھا۔
’’میرے کاغذات وغیرہ بھی میری گاڑی میں ہیں۔‘‘ وان میٹر نے جواب دیا اور سیڑھیاں اُترتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
کولٹر چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔ وہ اُلجھن میں تھا کہ کیا کرے۔ پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اس آدمی کے پیچھے جانا چاہیے۔ وہ اسے کچھ مشکوک لگا تھا۔
کولٹر سیڑھیاں اُتر کر نیچے آیا تو وہ آدمی اسے لابی میں بھی نظر نہ آیا۔ یہ قدرے حیرت کی بات تھی کہ وہ اتنی سی دیر میں غائب ہوگیا تھا۔ کولٹر واپس جانے کے لیے پلٹا ہی تھا کہ اس کی نظر تہ خانے کی سیڑھیوں کی طرف چلی گئی۔ وہاں روشنی کافی کم تھی لیکن والٹر نے دیکھ لیا کہ ’’صابنوں کا سیلز مین‘‘ سیڑھیوں پر دبکا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں کسی صابن کے نمونے کے بجائے پستول تھا۔
’’آئو… میں اپنی شناخت کراتا ہوں… سؤر کے بچّے!‘‘ وان میٹر پستول اُونچا کرتے ہوئے بولا۔
کولٹر نے پھرتی دکھائی اور زقند بھر کر لابی کے دروازے تک پہنچ گیا۔ وہ دروازے سے ٹکرا گیا لیکن فوراً ہی اسے کھول کر باہر بھاگا۔ وان میٹر اس کے تعاقب میں آیا۔ اس دوران کولٹر بھی پستول نکال چکا تھا۔ وان میٹر نے اندھادُھند اس پر فائر کیے۔ احاطے میں جمی ہوئی برف گولیاں لگنے سے اِدھر اُدھر اُچھلنے لگی اور فائروں کے دھماکوں سے ماحول کا سکوت درہم برہم ہوگیا۔ کولٹر نے بھی دوڑتے دوڑتے پلٹ کر فائر کئے تو وان میٹر واپس بلڈنگ میں گھس گیا۔
اس دوران اُوپر اپارٹمنٹ نمبر 303 میں ایولین منّت سماجت کر کے ڈلنگر کو فائرنگ شروع کرنے سے روکے ہوئے تھی لیکن جیسے ہی ڈلنگر نے باہر فائرنگ کی آواز سُنی، اس نے بغیر سوچے سمجھے دروازے پر ایک برسٹ مار دیا۔ پھر اس نے دروازہ ذرا سا کھولا، مشین گن کی نال باہر نکالی اور راہداری میں بھی ایک برسٹ مار دیا۔ پولیس آفیسر ہنری ایک دیوار کی آڑ لے کر فرش پر اوندھا لیٹ چکا تھا۔ گولیاں اس کے چہرے کے سامنے سے گزریں۔ جیسے ہی ڈلنگر نے فائرنگ بند کی، ہنری اپنی جگہ سے اُٹھ کر سامنے والی سیڑھیوں کی طرف دوڑا اور تیزی سے نیچے اُتر گیا۔
اندر اپارٹمنٹ میں ایولین بیڈروم سے نکلی تو اس نے ڈلنگر کو لائونج میں کھڑے اطمینان سے مسکراتے ہوئے دیکھا۔ دروازے میں گولیوں سے جو سوراخ ہوئے تھے، ان سے روشنی اندر آ رہی تھی۔ ایولین، ڈلنگر کی منّت کرنے لگی کہ وہ مزید فائرنگ نہ کرے۔
’’بیگ اُٹھائو اور میرے ساتھ چلو۔‘‘ ڈلنگر نے کہا۔
ایولین بھاری بیگ کو کھینچتی ہوئی بیڈروم سے نکلی۔ بیگ میں کپڑوں اور دوسری چیزوں کے علاوہ گنیں بھی تھیں۔ ڈلنگر نے باہر نکلنے سے پہلے دروازہ تھوڑا سا کھول کر راہداری میں ایک برسٹ اور مار دیا۔ باہر فائرنگ کی وجہ سے ہلچل مچ گئی تھی۔ گاڑیاں سڑک پر رکنے لگی تھیں اور لوگ اپنے فلیٹوں کی بالکونیوں سے جھانکنے لگے تھے۔ بعض نے وان میٹر کو کولٹر پر فائرنگ کرتے دیکھ بھی لیا تھا۔ ایجنٹ نالس نے اشارے سے کولٹر کو بتایا کہ سبز رنگ کی فورڈ حملہ آور کی تھی۔ کولٹر نے فائر کرکے اس گاڑی کا ایک ٹائر برسٹ کر دیا۔ نالس کمک منگوانے کی غرض سے فون کرنے کے لیے قریبی میڈیکل اسٹور کی طرف دوڑا۔
دونوں ایجنٹوں کو عقبی گلی کی طرف جانے کا خیال ہی نہیں آیا۔ ڈلنگر اور ایولین ادھر سے ہی نکلے۔ ڈلنگر اطمینان سے چل رہا تھا۔ مشین گن اس نے سیدھی کر کے ٹانگ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی۔ پھر بیگ بھی اس نے سنبھال لیا۔ اس دوران وان میٹر بھی عقبی دروازے سے ہی نکل آیا۔ ایولین دوڑ کر گیرج تک گئی اور کار نکال لائی۔ ڈلنگر نے بیگ پچھلی سیٹ پر پھینکا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ ایولین نے ایکسیلیٹر پورا دبا دیا اور سیاہ ہڈسن گرجتی ہوئی آگے بڑھی۔
’’آہستہ…‘‘ ڈلنگر نے ایولین کو ہدایت کی۔ ’’اس طرح تو لوگ ہماری طرف متوجہ ہو جائیں گے۔‘‘
چند لمحوں کے اندر اندر ڈلنگر، ایولین اور وان میٹر، سینٹ پال کے اس علاقے سے نکل چکے تھے اور ایف بی آئی یا پولیس کے آدمیوں میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ فائرنگ کرنے والے کون تھے۔ دو گھنٹے بعد آخرکار جب ایف بی آئی ایجنٹس اپارٹمنٹ نمبر 303میں داخل ہوئے اور انہوں نے اس کی تلاشی لی تو انہیں اندازہ ہوا کہ کون ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ اندر الماریوں میں زنانہ ملبوسات کے علاوہ ایک چھوٹا موٹا اسلحہ خانہ بھی موجود تھا جو کئی پستولوں اور مشین گنوں پر مشتمل تھا۔
(جاری ہے)