khatarnak Mafia | Episode 4

186
ان شہادتوں کے مطابق وہ نہ تو بینک لوٹنے کی کسی واردات میں شریک رہی اور نہ ہی کبھی اس نے کسی گن سے فائر کیا۔ وہ کبھی گرفتار نہیں ہوئی۔ گروہ سے باہر اسے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ چھوٹے قد کی، موٹی سی، ایک عام اور گھریلو دکھائی دینے والی عورت تھی جو اپنی وضع قطع اور انداز اطوار سے دیہاتی معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے گھنگریالے بالوں کو اپنی دانست میں سنوارنے کی کوشش کرتی تھی تو اور بھی زیادہ مضحکہ خیز معلوم ہونے لگتی تھی۔
اسے اخباروں، رسالوں میں چھپنے والے انعامی معمے حل کرنے کا بہت شوق تھا۔ اپنے حالات میں تبدیلی لانے کے لئے شاید وہ یہ امید لگائے رکھتی تھی کہ کسی روز اس قسم کے کسی معمے میں اس کا بہت بڑا انعام نکل آئے گا اور اس کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ وہ اس بات سے تو واقف تھی کہ اس کے بیٹے جرائم پیشہ ہیں اور وہ انہی کی ناجائز آمدنی سے گھر چلاتی تھی لیکن ان دوسری طرح کی شہادتوں کے مطابق ماما بارکر کو گروہ کی سرغنہ سمجھنا غلط تھا۔ اس ضمن میں ایک جگہ کارپس کا بیان بھی موجود ہے کہ بے چاری ماما بارکر کو گروہ کی سرغنہ سمجھنا بے حد احمقانہ سی بات تھی۔
اسی طرح گروہ کے ایک اور بڑے مجرم ہاروے بیلے کا بیان بھی ایک جگہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ’’معلوم نہیں یہ بات کیسے مشہور ہوگئی تھی کہ ماما بارکر ہماری تمام وارداتوں کی منصوبہ بندی کرتی تھی۔ وارداتوں کی منصوبہ بندی کرنا تو دور کی بات ہے، وہ بے چاری تو یہ منصوبہ بندی بھی نہیں کر سکتی تھی کہ صبح ناشتہ کیسے تیار کیا جائے گا؟‘‘
یہ سب باتیں بھی اپنی جگہ ہیں لیکن دوسری طرف ایف بی آئی کی پرانی اورضخیم فائلیں بھی ہیں جو کچھ اور ہی بتاتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ گروہ کے لوگوں نے ماما بارکر کا امیج اپنی مصلحتوں کے تحت ایک بے ضرر عورت جیسا بنانے کی کوشش کی ہو اور بہت سے مصنفین نے اپنی تحقیقی کتابیں انہی کے بیانات کی روشنی میں مرتب کی ہوں۔ حقیقت کچھ بھی ہو لیکن بہرحال ماما بارکر کا کردار غیر معمولی ضرور تھا۔ کوئی عام عورت ایک انتہائی خطرناک گروہ سے وابستہ رہ کر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
ماما بارکر کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے درحقیقت چار بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا بھی ڈاکو تھا۔ ایک بار پولیس نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اسے جب یقین ہو گیا کہ اس کا فرار ہونا اب ممکن نہیں رہا، تو اس نے اپنے سر میں گولی مار لی لیکن اپنے آپ کو پولیس کے حوالے نہیں کیا۔ دوسرا بیٹا، لیون ورتھ کی جیل میں 25سال قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ اس نے ایک ڈکیتی کے دوران ایک گارڈ کو قتل کر دیا تھا۔ باقی دونوں بیٹے فریڈ اور ڈوک بھی اسکول کے زمانے سے ہی کاریں چُرانے اور دکانوں کے تالے توڑنے لگے تھے۔ ان کا جیل جانے اور رہا ہونے کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔
ماما بارکر ہی جیل یا حوالات سے ان کی رہائی کے لئے بھاگ دوڑ کرتی تھی۔ فریڈ کی کارپس سے ملاقات بھی ایک اصلاحی جیل میں ہوئی تھی۔ وہیں دونوں میں کافی دوستی ہو گئی۔ فریڈ ذرا پہلے رہا ہو گیا۔ اس کے کچھ دن بعد کارپس رہا ہوا تو فریڈ کو تلاش کرتا ہوا اس کے گھر پہنچا۔ ان دنوں وہ تلسا میں رہتے تھے۔ کارپس نے ایک جگہ اس ملاقات کا احوال لکھا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چور ڈاکو بن کر بھی بہت سے لوگ اپنے مقدر کی غربت دور نہیں کر سکتے۔ کارپس نے لکھا ہے:
’’فریڈ کا جھونپڑی نما مکان ریلوے لائن کے قریب ایک جگہ کچی بستی میں تھا۔ وہ اسی قسم کی بستیوں میں سے ایک تھی جو کسی خالی زمین پر بلا اجازت قبضہ کرکے تعمیر کر لی جاتی ہیں اور جن کے لئے کسی قسم کی پلاننگ یا نقشے وغیرہ کا تکلف نہیں کیا جاتا۔ میں جب فریڈ کے گھر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک موٹی اور بے ڈول قسم کی عورت گھر کے باہر، دیوار کے پاس اسٹول پر چڑھی کھڑی ہے۔ وہ بد رنگ، ڈھیلے ڈھالے کپڑے اور مردانہ جرسی پہنے ہوئے تھی جس پر اس نے بچوں والی بِب لگائی ہوئی تھی۔ وہ ایک کھڑکی کی ٹوٹی ہوئی جالی ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ ماما بارکر تھی۔‘‘
مزید کچھ تفصیلات بیان کرنے کے بعد کارپس نے لکھا:
’’میں نے اس خاتون سے اپنا تعارف کرایا تو وہ مجھے اندر لے گئی۔ اس مکان کی حالت اور ان لوگوں کا رہن سہن دیکھ کر کر میرا دل خراب ہونے لگا۔ گھر میں نہ تو بجلی تھی اور نہ ہی پانی، ہر طرف مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ مکان کی اگلی اور پچھلی، دونوں گلیوں میں کچرا بکھرا ہوا تھا۔ فریڈ کہیں گیا ہوا تھا اور اسے دوسرے روز آنا تھا۔ ماما بارکر نے اصرار کرکے مجھے اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس دن کے بعد سے ہی اس کے لئے میں بھی بیٹوں کی طرح ہو گیا بلکہ کچھ عرصے بعد وہ مجھے اپنی بیٹوں پر ترجیح دینے لگی۔‘‘
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ باتیں فریڈ کے گھر اور رہن سہن کے بارے میں لکھنے والا کارپس خود بھی کسی اچھے طبقے کا فرد نہیں تھا۔
کچھ دنوں بعد فریڈ اور کارپس نے تُلسا کے آس پاس کے علاقوں میں راتوں کو نقب زنی اور تالے توڑ کر دکانوں میں چوری کی وارداتیں شروع کر دیں۔ جلد ہی دونوں پکڑے گئے اور ایک بار پھر جیل پہنچ گئے۔ لیکن کسی نہ کسی طرح جیل سے بھاگ نکلے لیکن اس کے بعد انہیں تُلسا سے بھی فرار ہونا پڑا۔ فرار ہوتے وقت انہوں نے ماما بارکر اور اس کے بوائے فرینڈ کو بھی ساتھ لے لیا جو ایک نکما اور نکھٹو قسم کا شرابی تھا۔
وہ مسوری کی طرف فرار ہوئے جہاں انہوں نے زندگی میں پہلی بار ایک بینک لوٹا۔ ڈکیتی کی اس واردات میں اتنی رقم ان کے ہاتھ لگ گئی کہ انہوں نے ماما بارکر کو ایک فارم خرید دیا۔ وقتی طور پر کچھ ایسا لگنے لگا جیسے ان کی زندگی کچھ صحیح ڈگر پر آگئی ہو لیکن پھر 1931ء میں، کرسمس کی تعطیلات کے دوران جب فریڈ اور کارپس ایک گیس اسٹیشن پر موجود تھے، ایک شیرف ان سے پوچھ گچھ کرنے آگیا۔ کارپس کچھ زیادہ ہی گھبرا گیا اور اس نے شیرف کو گولی مار دی۔
کچھ دیر بعد رضاکار پولیس ان کی تلاش میں روانہ ہوئی لیکن اس وقت تک وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اور ماما بارکر کو ساتھ لے کر فرار ہو چکے تھے۔ انہوں نے جوپلن سے پانچ میل دور ایک فارم پر، ہربرٹ فارمر نامی ایک شخص کے ہاں پناہ لی جو ’’ڈیفی‘‘ کی عرفیت سے مشہور تھا۔ وہ بارکر فیملی کا شناسا تھا اور کچھ فاضل رقم حاصل کرنے کے لئے اکثر اپنے ہاں مفرور مجرموں کو پناہ دے دیتا تھا۔ اسی نے ان لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ منی سوٹا کے شہر سینٹ پال میں جا کر پناہ گزیں ہو جائیں۔ کیونکہ وہاں کی پولیس بے حد بدعنوان تھی جس کی وجہ سے وہ شہر عام اور مقامی مجرموں کے علاوہ مفرور مجرموں کے لئے بھی جنّت بن گیا تھا۔
کچھ عرصہ پہلے تک سینٹ پال، دریا کے کنارے آباد ایک چھوٹا سا اور پُرسکون شہر تھا جہاں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے لیکن آبادی بڑھنے اور پولیس میں کرپشن عام ہونے کے بعد رفتہ رفتہ وہ مجرموں کا پسندیدہ ترین شہر بن گیا۔ کرپٹ پولیس کی وجہ سے وہاں کا ماحول ہی یکسر تبدیل ہو کر رہ گیا۔ ہربرٹ فارمر عرف ڈیفی سے سینٹ پال کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کے بعد فریڈ اور کارپس نے اس شہر کا رخ کیا۔
سب سے پہلے وہ ایک شراب خانے پہنچے جو اس شہر میں بے حد مشہور تھا۔ اس کا نام ’’گرین لینٹرن‘‘ تھا اور اسے ایک گول مٹول سا یہودی چلاتا تھا جس کا نام ہیری سائر تھا۔ یہ صرف شراب خانہ ہی نہیں، ایک اچھا خاصا رنگارنگ قسم کا کلب تھا اور شہر بھر کے مجرم اسے ایک قسم کے غیررسمی ’’ہیڈ کوارٹر‘‘ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ہاروے بیلے اور فرینک ناش جیسے بینک ڈکیت اس کے مستقل گاہکوں میں تھے۔ ’’مشین گن کیلی‘‘ جیسے لوگ بھی کبھی کبھار دوسرے شہر سے آ کر یہاں کا چکر لگا لیتے تھے۔ یہ ہر قسم کے مجرموں کا پسندیدہ اڈہ تھا۔
یہاں پہنچ کر فریڈ اور کارپس کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے فوراً مضافاتی علاقے میں ایک مکان کرائے پر لے کر ماما بارکر اور اس کے نکھٹو ساتھی البرٹ کو وہاں شفٹ کیا اور خود اِدھر اُدھر گھوم پھر کر حالات کا جائزہ لینے لگے۔ جلد ہی انہوں نے سگریٹوں کے کارٹنوں سے بھری گاڑیوں کو لوٹنا اور راتوں کو دکانوں کے تالے توڑ کر چوریاں کرنی شروع کر دیں۔ مارچ 1932ء میں انہوں نے کسی اور کی دعوت پر اس کے ساتھ مل کر بینک ڈکیتی کی ایک بڑی واردات کی۔
دوسرے روز نہ جانے کس طرح ایک اخبار میں ان کی تصویریں چھپ گئیں۔ تصویریں گو کہ دھندلی اور ناقص تھیں لیکن ان کی مکان مالکن کے بیٹے نے انہیں پہچان لیا اور پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس کے جس سراغرساں نے اس کا فون سنا، وہ کرپٹ تھا۔ چوروں، ڈاکوئوں سے بھی اسے حصہ ملتا تھا۔ اس نے حرکت میں آنے میں کافی دیر کر دی۔ اس دوران وہ سب وہاں سے نکل بھاگے۔ کارپس اور فریڈ کو یقین تھا کہ پولیس کو فون، مکان مالکن کے بیٹے نے نہیں بلکہ ماما بارکر کے ساتھ رہنے والے نکھٹو البرٹ نے کیا تھا۔ وہ اسے گھسیٹ کر ایک جھیل کے کنارے لے گئے اور گولی مار کر وہیں پھینک دیا۔
اس کے بعد وہ کنساس سٹی جا کر رہائش پذیر ہوگئے۔ ہاروے بیلے کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک بینک میں ڈاکا ڈالا۔ کچھ عرصے بعد ہاروے گرفتار ہو گیا تو وہ اپنے طور پر بینکوں میں ڈاکے ڈالنے لگے۔ ان کے پاس اتنی رقم آ گئی کہ انہوں نے بھاری رشوت دے کر فریڈ کے بڑے بھائی ڈوک اور اس کے ایک دوست کو بھی جیل سے فرار کرا لیا اور یوں ان کا ایک چھوٹا سا گروہ بن گیا۔ اس دوران وہ اتنے سفاک ہو چکے تھے کہ ایک بینک ڈکیتی کے دوران انہوں نے دو پولیس والوں کو خواہ مخواہ ہی گولی مار دی۔ ان پولیس والوں نے انہیں ڈکیتی سے روکنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
ان کی سفاکی، یا پھر شاید اندر کا خوف اتنا بڑھ چکا تھا کہ وہ اپنا سایہ دیکھ کر بھی بدک اٹھتے تھے اور اس پر بھی گن تان لیتے تھے۔ وہ جس کار میں فرار ہو رہے تھے، اپنی مجرمانہ احتیاط کے تحت انہوں نے راستے میں اسے ایک جگہ چھوڑ دیا اور دوسری کار چُرا کر اس میں سوار ہونے لگے تو فٹ پاتھ پر جاتے ہوئے ایک آدمی نے غور سے ان کی طرف دیکھ لیا۔ انہوں نے اس بے چارے کو بھی گولی مار دی حالانکہ ضروری نہیں تھا، اس شخص نے انہیں مشکوک سمجھا ہو۔
بہرحال، اس کے بعد بھی بینکوں میں ڈاکے ڈالنے کا ان کا سلسلہ جاری رہا۔ جرائم کی دنیا میں کچھ نئے لوگ بھی ان سے متعارف ہوئے جن میں ایک جمی برنل تھا۔ یہ شخص انڈر ورلڈ کے بعض لوگوں کے لئے ڈرائیور کے فرائض انجام دیتا تھا۔ بینکوں میں ڈاکے ڈالنا، ظاہر ہے ایک خطرناک کام تھا۔ اکثر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا تھا۔ ایک بار تو ان کے گینگ کا ایک آدمی مارا بھی گیا۔ کارپس نے سوچنا شروع کردیا کہ دولت حاصل کرنے کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس میں بینک ڈکیتی سے کم خطرہ ہو۔
اسی سوچ کے نتیجے میں کارپس اس وقت ’’ہام بریوری‘‘ کے سامنے موجود تھا۔
٭…٭…٭
کچھ دیر بعد کارپس نے بریوری کے 38سالہ چیئرمین ولیم ہام کو عمارت کے بغلی دروازے سے باہر آتے دیکھا۔ کھلی ہوا میں آ کر ہام نے ایک گہری سانس لی اور بائیں طرف مڑ کر پہاڑی سڑک کے فٹ پاتھ پر پہنچ گیا۔ وہ ذرا بلندی پر واقع اپنی حویلی کی طرف پیدل ہی جارہا تھا۔ وہ روزانہ دوپہر کا کھانا کھانے حویلی جاتا تھا۔ اس کے راستے میں ایک طرف ڈوک بارکر کھڑا ہوا تھا۔ اس سے دو قدم دور گینگ کا ایک اور آدمی چارلی جیرالڈ کھڑا ہوا تھا۔ وہ ایک معقول قسم کا سوٹ اور سر پر اچھا ہیٹ پہنے ہوئے تھا۔ بظاہر وہ کسی حد تک ایک معزز آدمی معلوم ہو رہا تھا۔
وہ آگے بڑھ کر ہام کے راستے میں آگیا اور مصافحے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا ’’آپ مسٹر ہام ہیں نا؟‘‘
’’ہاں…‘‘ ہام نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے خوش خلقی سے جواب دیا۔
اس کی آنکھوں میں تجسس ابھر آیا تھا۔ اس کی وجہ غالباً یہی تھی کہ وہ چارلی کو پہچان نہیں پایا تھا۔ چارلی نے اس سے مصافحہ کرنے کے بعد اس کا ہاتھ چھوڑنے کے بجائے اور بھی زیادہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ دوسرے ہاتھ سے اس کی کہنی بھی مضبوطی سے پکڑلی۔ اس دوران ڈوک بھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا قریب آگیا۔ اس نے ہام کا دوسرا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ وہ اسے نشیب میں فٹ پاتھ کے قریب کھڑی گاڑی کی طرف لے جانے کے لئے غیرمحسوس انداز میں دھکیلنے لگے۔ گاڑی میں کارپس بدستور بے تاثر چہرہ لئے بیٹھا تھا۔
’’کیا چاہتے ہو تم لوگ؟‘‘ ہام نے حیران پریشان ہوکر پوچھا۔
ڈوک یا چارلی نے جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔ کارپس اس دوران گاڑی آگے بڑھا کر ان کے قریب لے آیا اور ہام کو پچھلی سیٹ پر دھکیل دیا گیا۔ ڈوک نے اس کے چہرے پر تکیے کا ایک غلاف چڑھا کر اس کا چہرہ چھپا دیا اور اس کے سر پر دبائو ڈال کر اسے اس طرح سرجھکا کر بیٹھنے پر مجبور کردیا گیا کہ کوئی اسے باہر سے نہ دیکھ سکے۔
پھر بھی انہیں اطمینان نہ ہوا تو چارلی بولا ’’میں ایسا کرنا تو نہیں چاہتا لیکن مجبوری ہے… تمہیں گاڑی کے فرش پر بیٹھنا پڑے گا۔ ہم نہیں چاہتے، تمہیں اندازہ ہو کہ تمہیں کہاں لے جایا جارہا ہے۔ امید ہے تم برا نہیں منائو گے۔‘‘
ہام نے کوئی جواب نہ دیا اور سیٹ چھوڑ کر، سکڑ سمٹ کر گاڑی کے فرش پر بیٹھ گیا۔
وہ مشرق کی طرف سفر کررہے تھے۔ سینٹ پال سے تقریباً تیس میل دور وہ ایک شیورلے گاڑی کے پاس جا رُکے جو سڑک سے ہٹ کر ایک طرف کھڑی ہوئی تھی۔ اس گاڑی میں ڈوک کا بھائی فریڈبارکر اور شکاگو کا ایک گینگسٹر موجود تھا جس کا نام جارج زگلر اور عرفیت ’’مشین گن‘‘ تھی۔ وہ اپنے پارٹنر برائن بولٹن کو بھی ساتھ لایا تھا۔ ان لوگوں کو کارپس نے اپنے منصوبے کی تکمیل میں مدد کے لئے بلایا تھا۔
زگلر نے ایک ٹائپ شدہ رقعہ پام کے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’’میرا خیال ہے اب تمہاری سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہ سب کیا چکر ہے اور تمہارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے۔ جلدی سے اس کاغذ پر سائن کردو۔‘‘
وہ تاوان کے مطالبے کا خط تھا!
ہام ان کی ہدایات کے مطابق گاڑی کے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ زگلر کی ہدایت پر اس نے کاغذ پر سائن کردیئے تو زگلر نے پوچھا ’’تم تاوان کی ادائیگی کے لئے کسے ذمے دار بنانا چاہتے ہو؟ ہم اس خط میں اسی کو مخاطب کریں گے۔‘‘
ہام نے ایک لمحے سوچا، پھر کہا ’’میرے خیال میں یہ کام ولّی ڈن ٹھیک طرح سے کرسکے گا۔‘‘
ولّی ڈن اس کی، شراب کی فیکٹری میں سیلز کے شعبے کا وائس پریزیڈنٹ تھا۔ اس کا نام سن کر کارپس مسکرانے لگا تھا لیکن پھر اس نے اپنی مسکراہٹ دبالی۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ ہام اسی کا نام لے کیونکہ ولی ڈن ایک طرح سے انہی کا آدمی تھا۔ وہ سینٹ پال کے کئی گروہوں کے لئے بوقت ضرورت خدمات انجام دینے کے لئے تیار رہتا تھا۔
وہ ہیری سائر کا بھی دوست تھا جس کا کلب جرائم پیشہ لوگوں کی نشست و برخاست کا مرکز تھا۔ اس پر کارپس جیسے لوگ بھروسا کرسکتے تھے کہ وہ ان کے مفادات کے لئے کام کرے گا۔ ایک باعزت ملازمت کرتے ہوئے بھی وہ اپنی خوشی سے مجرموں کا آلۂ کار بنا رہتا تھا اور دونوں فریق ایک دوسرے کو گاہے گاہے فائدہ پہنچاتے رہتے تھے۔
٭…٭…٭
اسی سہ پہر کو تقریباً تین بجے ولّی ڈن، بریوری میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا، جب اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے ریسیور اٹھایا۔
’’کیا تم ولّی ڈن بول رہے ہو؟‘‘ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔ پوچھنے والا کارپس تھا۔
’’یس سر!‘‘ ولی ڈن نے شائستگی سے جواب دیا۔
’’مجھے تم سے بات کرنی ہے اور جب تک میں بات ختم نہ کرلوں، تم بیچ میں مداخلت نہیں کرو گے۔ مسٹر ہام ہمارے قبضے میں ہیں اور اگر تم چاہتے ہو کہ وہ بہ حفاظت اپنے گھر واپس آجائیں تو اس کے لئے تمہیں ایک لاکھ ڈالر کا انتظام کرنا ہوگا۔ رقم چھوٹے نوٹوں کی صورت میں ہونی چاہیے۔‘‘ کارپس نے حکم سنایا۔
ولّی ڈن نے بعد میں اس کیس کے سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے تو یہی سمجھا تھا کہ کوئی اس سے مذاق کررہا ہے۔
’’ارے…! یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس نے ہڑبڑا کر کہا۔
’’بکواس بند کرو اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، اسے غور سے سنو…‘‘ اس نے ولّی ڈن کو ہدایات دیں کہ تاوان کیسے پہنچانا تھا۔
سب کچھ سمجھانے کے بعد وہ بولا ’’اور اگر تم نے کسی سے اس سلسلے میں ایک لفظ بھی کہا تو یہ مسٹر ہام کے حق میں بہت برا ہوگا۔‘‘
ولّی ڈن پوچھنا چاہتا تھا کہ اتنے کم وقت میں وہ ایک لاکھ ڈالر کا بندوبست کیسے کرے گا… لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی فون بند ہوگیا۔ ایک لاکھ ڈالر اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ اتنی رقم کا مطالبہ کسی دولت مند کے لئے بھی پریشان کن ثابت ہوسکتا تھا۔
اس نے محض تصدیق کے لئے ہام کے آفس اور حویلی میں فون کیا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھا۔ آخر اس نے ہام کے بھائیوں کو فون کرکے صورت حال سے آگاہ کردیا۔ شام کو پانچ بجے وہ لوگ حویلی میں جمع ہوئے تاکہ ہام کی بوڑھی والدہ کو بھی اس معاملے سے آگاہ کردیا جائے۔
ہام کی والدہ نے یہ خبر سن کر حیرت انگیز طور پر خاصے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ ان کا اصرار تھا کہ پولیس کو اس بات کی اطلاع دے دی جائے۔ پولیس سے رابطہ کیا گیا لیکن چونکہ ان جیسے معززین کے لئے پولیس کو گھر بلانا کوئی اچھی بات نہیں تھی، اس لئے پولیس چیف کے ساتھ ملاقات سینٹ پال کے ایک شاندار ہوٹل ’’لووری‘‘ میں رکھی گئی۔ ولّی ڈن نے پولیس چیف ٹامس ہل کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ ٹامس ہل ایک اچھا اور دیانتدار پولیس آفیسر تھا۔ وہ اپنے محکمے کی کرپشن سے پریشان تھا۔
اس نے معاملہ مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے ایف بی آئی کے مقامی آفس کے انچارج ورنر ہانی سے رابطہ کیا اور اسے صورت حال سے آگاہ کیا۔ ورنرہانی نے اپنا ایک آدمی ولّی ڈن کے گھر بھیجا، جس نے اس کے فون کے ساتھ آلہ منسلک کرکے گفتگو ریکارڈ کرنے کا بندوست کیا۔ یہ تو طے تھا کہ اغواء کنندگان اسے فون کریں گے۔ پولیس کے محکمے میں اغواء کے سلسلے میں ایک الگ شعبہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس شعبے کے دو آدمیوں کو بھی طلب کرلیا گیا۔
ان میں سے ایک تو سینٹ پال کا سابق پولیس چیف ہی تھا۔ اس کا نام ٹام برائون تھا۔ اسے پولیس چیف کے عہدے سے ہٹا کر اس خصوصی شعبے میں شامل کیا گیا تھا۔ بے چارے موجودہ پولیس چیف کو معلوم نہیں تھا کہ ٹام برائون تو پہلے ہی اغواء کنندگان کے گروہ کے ساتھ ملا ہوا تھا اور وہ ان کے لئے مخبری کرکے ان سے معاوضہ لیتا رہا تھا۔ اِدھر پولیس چیف، دیگر پولیس آفیسرز اور ایف بی آئی والے ولّی ڈن کے گھر پر جمع ہورہے تھے، اُدھر ہام کو ریاست سے باہر نارتھ الی نوائے کی طرف لے جایا جاچکا تھا۔
کارپس اسے لے کر گیا تھا، اسی نے ڈرائیونگ کی تھی۔ فریڈ اور ’’مشین گن زگلر‘‘ تاوان کے مذاکرات طے کرنے کے لئے پیچھے رہ گئے تھے۔ کارپس، شکاگو کے ایک نواحی علاقے میں ایک، دو منزلہ مکان تک پہنچا۔ یہ مکان ایک مقامی پوسٹ ماسٹر کا تھا جو زگلر کا دوست تھا۔ اس کے ہاں مغوی کو رکھے جانے کا بندوست کیا جاچکا تھا۔ مکان کی کھڑکیاں اس طرح بند کردی گئی تھیں کہ انہیں اندر یا باہر سے کھولا نہیں جاسکتا تھا۔ کارپس نے ہام کو ایک کمرے میں چھوڑا، اسے کچھ رسالے اور بیئر کی بوتل دی اور خود باہر آگیا۔
ہام بیڈ پر نیم دراز ہوکر ایک ٹک چھت کو گھورنے لگا۔ اس کے پاس اب انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
٭…٭…٭
ولّی ڈن اپنے گھر میں تھا اور اسے اغواء کنندگان کی فون کال کا انتظار تھا۔ آخر فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے بے تابی سے ریسیور اٹھایا۔
دوسری طرف سے کارپس بولا ’’ولّی ڈن! ہمیں خوشی ہے کہ ابھی تک تو تم ہماری ہدایات پر عمل کررہے ہو۔ میں نے تمہیں موقع دیا تھا کہ جو خبر میں نے تمہیں سنائی تھی، اس کے دھچکے سے سنبھل جائو۔ تم نے شاید میری فون کال کو مذاق سمجھا تھا لیکن اب تو تمہیں معلوم ہو ہی چکا ہے کہ وہ مذاق نہیں تھا۔ اب تمہیں ہماری مزید ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘‘
ولّی ڈن کو فون کرنے والے کے لہجے سے اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ ساری صورت حال سے پوری طرح باخبر ہے۔ اسے معلوم ہوچکا ہے کہ پولیس کو اس معاملے میں ڈالا جاچکا ہے لیکن اسے شاید اس بات کی ذرّہ برابر بھی پروا نہیں تھی۔ ولّی ڈن نے فون بند ہوتے ہی پولیس کے ’’اغواء برائے تاوان‘‘ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے آفیسر ٹام برائون کو فون کیا جو تاخیر سے، کھانا کھانے کے لئے اپنے گھر چلا گیا تھا۔
وہ رات کے دو بجے واپس آیا تو اس نے دیکھا، ایک ٹیکسی گلی میں، مکانوں کی قطار کے سامنے سست رفتاری سے گزر رہی تھی۔ اس کی چھت پر لگی ہوئی تیز لائٹ کا رخ مکانوں کی طرف تھا۔ یقیناً اسے کسی ایڈریس کی تلاش تھی۔ ٹام برائون خود آگے بڑھ کر ٹیکسی ڈرائیور کے پاس چلا گیا۔ اس ٹیکسی میں ڈرائیور کے سوا کوئی نہیں تھا۔
ٹام برائون کے استفسار پر ڈرائیور نے ایک خط اسے تھما دیا اور بتایا کہ ایک گیرج کے قریب ایک آدمی نے وہ خط اسے دیا تھا اور ولّی ڈن کو پہنچانے کے لئے کہا تھا۔ ظاہر تھا کہ اسے اس کام کا معقول معاوضہ ملا ہوگا۔ ٹام برائون نے خط کھول کر پڑھا۔ اس میں لکھا تھا:
’’تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا باس، جو تمہارا دوست بھی ہے، فی الحال منظر عام سے غائب ہوچکا ہے۔ تمہیں انہی ہدایات کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جو تمہیں آج سہ پہر دی جاچکی ہیں۔ اگر تم نے ہماری ہدایات پر عمل نہ کیا تو تمہیں آئندہ کبھی ولیم ہام کی شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔‘‘
اس خط کی آمد ٹام برائون کی توقع کے عین مطابق تھی۔ وہ اسے اندر ولّی ڈن کے پاس لے گیا۔ اس خط کے بارے میں بعد میں اندازہ لگایا گیا کہ ٹیکسی ڈرائیور کو یہ خط دینے والا آدمی ’’مشین گن زگلر‘‘ ہوگا۔
٭…٭…٭
دوسری صبح ’’پریٹی بوائے فلائیڈ‘‘ اور اس کے دست راست ایڈم رچی نے اپنی اپنی فیملی اور دوستوں کو خدا حافظ کہا اور کنساس سٹی کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہ اسی پونٹیاک کار میں تھے جو فلائیڈ نے جو برگ نامی ایک کسان کے گیرج کا دروازہ توڑتے ہوئے نکالی تھی۔ وہ اس وقت مسوری کے علاقے اسپرنگ فیلڈ کی طرف جارہے تھے۔ اس دوران انجن سے کھڑکھڑ کی آوازیں آنے لگیں اور پھر وہ بند ہوگیا۔ دونوں گاڑی سے اتر آئے۔ فلائیڈ کو سخت کوفت ہورہی تھی۔ اس نے بونٹ اٹھا کر دیکھا لیکن اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ انجن میں کیا خرابی تھی۔
اسی دوران ایک چھوٹا سا ٹرک قریب آتا دکھائی دیا۔ جو شخص اسے چلارہا تھا، وہ اپنے حلیے اور وضع قطع سے کاشت کار معلوم ہوتا تھا۔ فلائیڈ نے ہاتھ دے کر اسے روکا اور اپنا مسئلہ بتایا۔ وہ سر کھجاتے ہوئے بولا ’’گاڑی کے انجن کے بارے میں تو مجھے بھی کوئی خاص معلومات نہیں ہیں لیکن میں تمہاری گاڑی کو اپنے ٹرک کے ساتھ باندھ کر کچھ آگے تک چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘
’’چلو، ٹھیک ہے… تم ہمیں بولیور کے علاقے تک چھوڑ دینا۔‘‘ یہ فرمائش ٹام رچی نے کی تھی۔ اس کا ایک بھائی بولیور میں موٹر مکینک کا کام کرتا تھا۔
کاشت کار نے گاڑی اس ترکیب سے ٹرک کے پیچھے باندھی کہ وہ ٹرک سے ٹکرا نہیں سکتی تھی اور اسے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس لئے فلائیڈ اور ایڈم دونوں ہی سکڑ سمٹ کر کسان کے ساتھ ٹرک میں بیٹھ گئے۔ انہوں نے اس بات پر کسان کا بہت شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کے لئے اتنی زحمت اٹھا رہا تھا۔
بولیور ایک قصبہ تھا۔ وہ صبح سوا سات بجے وہاں پہنچ گئے۔ وہاں کے لوگ شاید ابھی بستروں میں دبکے ہوئے تھے۔ چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ایڈم کا بھائی کسی دکان یا گیرج میں بطور مکینک کام نہیں کرتا تھا بلکہ وہ کاروں کے ایک شو روم میں ملازم تھا۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ شو روم اس وقت کھل چکا تھا۔ اس میں کاروں کی مرمت کا شعبہ بھی تھا۔
فلائیڈ نے کسان کو کچھ رقم دے کر رخصت کیا اور دو تین مکینک ان کی کار کو دھکیل کر شو روم کے اس حصے کی طرف لے گئے جہاں گاڑیوں کی مرمت کی جاتی تھی۔ اب انہیں گاڑی کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ ایڈم کا بھائی جوزف کار کا بونٹ اٹھا کر انجن کا معائنہ کرنے لگا۔ ایڈم نے اس دوران بیئر کا ایک ڈبا کھولا اور گھونٹ بھرنے لگا۔ فلائیڈ نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔ ایڈم پینے پلانے کا کچھ زیادہ ہی عادی تھا جس کی وجہ سے اس کی حرکات و سکنات میں سستی سی آجاتی تھی اور وہ کچھ بے وقوف سا بھی دکھائی دینے لگتا تھا۔
کچھ دیر
بعد کاروں کے شوروم کے چند ملازمین بھی آن پہنچے۔ وہ سیلز مین تھے۔ ان کے لباس صاف ستھرے تھے اور وہ تازہ دم دکھائی دے رہے تھے۔ وہ اپنے سیلز کے کام کے لئے تیار ہوکر آئے تھے۔ فلائیڈ جو پونٹیاک کار چُرا کر لایا تھا، وہ نئی اور شاندار حالت میں تھی۔ ویسے بھی پونٹیاک ایک عمدہ اور معیاری گاڑی تھی۔ سیلز مین اس کے اردگرد جمع ہوگئے اور اس کی تعریف کرنے لگے۔ لگتا یہی تھا کہ وہاں کوئی بھی ’’پریٹی بوائے فلائیڈ‘‘ کو نہیں پہچانتا تھا۔
گیارہ بجے تک بھی جوزف رچی گاڑی کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس دوران شو روم کا مالک بھی آگیا۔ اس کا نام ارنسٹ تھا۔ وہ فلائیڈ کے پاس ہی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اسے جب پتا چلا کہ پونٹیاک، فلائیڈ کی ہے تو وہ بھی اس کی تعریفیں کرنے لگا۔
باتوں کے دوران اس نے جب ذرا توجہ سے فلائیڈ کی طرف دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ چہرہ اس نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ ارنسٹ کو جلد ہی یاد آگیا کہ دراصل اس نے فلائیڈ کی تصویر اخباروں میں دیکھی تھی۔ جب اسے یہ بات یاد آئی تو پھر یہ بھی یاد آگیا کہ فلائیڈ کون تھا اور اخبارات میں اس کی تصویریں کیوں چھپی تھیں۔ اس سے پہلے کہ ارنسٹ اس سلسلے میں کچھ کرتا، ایک اجنبی شخص شو روم کی حدود میں داخل ہوا۔ اس کی نظر بھی سب سے پہلے پونٹیاک پر ہی پڑی۔
’’لگتا ہے اس گاڑی نے کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری سے سفر کیا ہے۔‘‘ اس نے گاڑی کی حالت دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔
فلائیڈ نے ذرا چونک کر نووارد کی طرف دیکھا۔ وہ دراصل اس کائونٹی کا نیا شیرف، کنگ ورتھ تھا۔ شیرف بننے سے پہلے وہ کاروں کے اسی شو روم میں سیلز مین ہوا کرتا تھا۔ اب بھی وہ گشت کے دوران کبھی کبھار چائے، کافی پینے کے لئے شوروم پر رک جاتا تھا۔ عام طور پر وہ اس دوران وردی میں ہوتا تھا اور اس کے پاس گن بھی ہوتی تھی لیکن اس وقت وہ سادہ لباس میں تھا اور اس کے پاس گن بھی نہیں تھی۔ اس کی نظر فلائیڈ پر پڑی تو اس نے بھی فلائیڈ کو پہچان لیا۔ ایک مفرور ملزم کی حیثیت سے فلائیڈ کی بڑی سی تصویر والا پوسٹر اس کے آفس میں لگا ہوا تھا۔
ادھر فلائیڈ کے ساتھ سفر کرنے والا ایڈم رچی اس نئے شیرف کنگ ورتھ کو پہچانتا تھا کیونکہ وہ اپنے مکینک بھائی سے ملنے یہاں آتا رہتا تھا۔ وہ گھبراہٹ میں مبتلا ہوگیا۔ اس کے خیال میں یہ ایک نہایت خطرناک صورت حال تھی اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس لمحے کیا ہوجائے۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر پونٹیاک کا پچھلا دروازہ کھولا اور اس میں سے ایک ہلکی مشین گن نکال لی جو گاڑی کے فرش پر ایک کمبل کے نیچے چھپا کر رکھی گئی تھی۔ اس نے گن چاروں طرف گھمائی، پھر اس کا رخ خاص طور پر کنگ ورتھ کی طرف کرلیا۔
’’یہ قانون کا محافظ ہے… یہاں کا شیرف ہے۔‘‘ اس نے چلاّ کر فلائیڈ کو خبردار کیا۔
اس وقت شوروم کے گیرج والے حصے میں کم از کم چھ مکینک اور سیلز مین موجود تھے۔ ایڈم رچی نے گن ان کی طرف گھمائی اور انہیں حکم دیا ’’دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوجائو۔ اگر تم لوگوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو سب کے سب مارے جائو گے۔‘‘
اس نے مشین گن کا رخ دوبارہ شیرف کنگ ورتھ کی طرف کیا تو اس کا اپنا بھائی جوزف رچی بیچ میں آگیا۔ وہ شیرف کی ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا اور مضبوط لہجے میں بولا ’’اگر تم شیرف کو ہلاک کرو گے تو اس سے پہلے تمہیں مجھ کو ہلاک کرنا ہوگا۔‘‘
ایڈم رچی پچھلے تین گھنٹے سے پینے پلانے کا شغل کررہا تھا۔ اس کا ذہن یقیناً کچھ نہ کچھ دھندلا چکا تھا۔ وہ اس موقع پر گویا الجھن کا شکار ہوگیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے، تاہم جلد ہی فیصلے پر پہنچ گیا اور بولا ’’ٹھیک ہے… اگر تم چاہتے ہو کہ میں اسے گولی نہ ماروں تو اسے باہر لے جائو۔‘‘
شیرف دروازے کی طرف بڑھا۔ ایڈم رچی نے مشین گن کی نال اس کی کمر سے لگائی ہوئی تھی۔ شیرف نے ابھی دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک پستول کی نال اس کی کنپٹی سے آن لگی اور کوئی غرایا ’’اگر تم نے باہر قدم رکھا تو تمہاری کھوپڑی میں سوراخ ہوجائے گا۔‘‘ یہ کہنے والا فلائیڈ تھا۔
ایڈم رچی بدستور شیرف کو باہر بھیجنے کی کوشش کررہا تھا اور اسے برا بھلا کہہ رہا تھا جبکہ فلائیڈ اس کی کنپٹی پر پستول کی نال رکھ کر اسے وہیں رکنے کا حکم دے رہا تھا۔ بے چارے شیرف کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس کا حکم مانے اور کس کا نہ مانے۔
فلائیڈ نے غصے سے ایڈم رچی کی طرف دیکھ کر کہا ’’شراب تمہارے دماغ کو چڑھ گئی ہے۔ تم اس معاملے میں ٹانگ نہ اَڑائو۔‘‘
غنیمت رہا کہ ایڈم رچی نے اس سےبحث کرنے یا الجھنے کی کوشش نہیں کی اور ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ فلائیڈ، شیرف کو واپس لے آیا۔ اس نے شیرف کو بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ دیوار سے لگ کر کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ شیرف نے اس کے حکم کی تعمیل کی تو فلائیڈ ذرا معذرت خواہانہ سے لہجے میں بولا ’’یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘
فلائیڈ کو اب جو کچھ بھی کرنا تھا، تیزی سے کرنا تھا ورنہ صورت حال قابو سے باہر بھی ہوسکتی تھی۔ ایڈم رچی نے ہلکی مشین گن سے سب کو کور کئے رکھا اور فلائیڈ نے گیرج کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر جھانک کر دیکھا۔ یہ دیکھ کر اسے ذرا اطمینان ہوا کہ باہر شیرف کا کوئی ڈپٹی یا پولیس والا موجود نہیں تھا۔
اب اس نے پیچھے آکر ان لوگوں کو کور کیا جنہیں انہوں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔ پھر ایڈم رچی اپنے بھائی کی نئی شیورلے کی طرف بڑھا۔ پونٹیاک تو اب تک ٹھیک نہیں ہوسکی تھی۔ اس میں کوئی چیز ٹوٹ گئی تھی جسے تبدیل کرنے کے لئے کافی وقت درکار تھا۔ چنانچہ انہوں نے اب مزید آگے سفر کے لئے شیورلے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فلائیڈ نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور شیرف کو اس میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’مجھے کیوں ساتھ لے جارہے ہو؟‘‘ شیرف نے پوچھا۔
’’ہم نہیں چاہتے، اب ہم کسی ہائی وے پر جاکر نکلیں۔ ہم اب چھوٹی سڑکوں پر سفر کریں گے۔ تم اس علاقے کی چھوٹی سڑکوں سے یقیناً اچھی طرح واقف ہوگے۔ اب تم ہماری رہنمائی کرو گے۔‘‘ فلائیڈ نے وضاحت کی۔ انہیں معلوم تھا کہ جلد ہی پولیس یا رضاکار ان کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں گے، اس لئے انہوں نے اپنا باقی اسلحہ بھی پونٹیاک سے شیورلے میں منتقل کرلیا۔ فلائیڈ پچھلی سیٹ پر شیرف کے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ ایڈم رچی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
جب وہ شیورلے میں بیٹھ کر گیرج سے نکلنے لگے تو فلائیڈ نے کھڑکی سے سر نکال کر چلّا کر ایڈم رچی کے بھائی سے کہا ’’اپنی گاڑی کے بدلے تم میری گاڑی رکھ لینا جوزف!‘‘
ایڈم نے تیز رفتاری سے گاڑی قصبے سے نکالی اور اونچی آواز میں شیرف سے کہا ’’تم اس علاقے سے واقف ہو۔ ہمیں ایسے راستے بتائو جن کے ذریعے ہم جلد از جلد خطرے کی حدود سے نکل سکیں۔‘‘
’’تم جانا کہاں چاہتے ہو؟‘‘ شیرف نے پوچھا۔ اس کا لہجہ کافی حد تک پُرسکون تھا۔
’’کنساس سٹی۔‘‘ فلائیڈ نے جواب دیا۔
٭…٭…٭
اسی شام جب فلائیڈ اور ایڈم تیزرفتاری سے کنساس سٹی کی طرف جارہے تھے، ایف بی آئی کے دو ایجنٹ، کنساس سٹی کے قریبی علاقے ہاٹ اسپرنگس کے مرکزی علاقے کی گلیوں میں سست رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے گزر رہے تھے۔ انہیں ایک مفرور مجرم کی تلاش تھی۔ تیکھی ناک والا جو ایجنٹ گاڑی چلا رہا تھا، اس کا نام جولیکی تھا۔ اس کے برابر بیٹھے ہوئے ایجنٹ کا نام فرینک اسمتھ تھا۔ اس کے بال سفید تھے۔ وہ ایک سابق پولیس آفیسر تھا۔ آج کل ایف بی آئی میں ملازم تھا۔ یہ دونوں ایف بی آئی کے، اوکلاہاما والے آفس سے آئے تھے۔ انہیں اپنے کسی مخبر سے اطلاع ملی تھی کہ خطرناک بینک ڈکیت فرینک ناش اس علاقے میں دیکھا گیا ہے۔ اطلاع کافی حد تک درست مگر مبہم تھی۔
درحقیقت فرینک ناش کو ولیم ہام کے اغواء برائے تاوان کے منصوبے میں شریک ہونے کی ’’دعوت‘‘ ملی تھی لیکن وہ کنساس سٹی کے قریبی شہر ہاٹ اسپرنگس میں ’’تعطیلات‘‘ گزارنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔ اس نے اپنا یہ فیصلہ برقرار رکھا اور ولیم ہام کے اغواء کی واردات میں شریک ہونے کے لئے نہیں گیا۔
اس زمانے میں ہاٹ اسپرنگس سیر و تفریح کے لئے آنے والوں کا پسندیدہ شہر تھا لیکن ان آنے والوں میں زیادہ تر بدمعاش، دہشت گرد، ڈاکو اور گینگسٹر ہوتے تھے۔ شہر میں کلب، قمارخانے، اچھے ہوٹل، صحت بہتر بنانے کے لئے خصوصی قیام گاہیں اور کئی دوسری چیزیں موجود تھیں جو تفریح کی غرض سے آنے والوں کے لئے کشش رکھتی تھیں۔ یہاں الکپون اور اس جیسے دوسرے بہت سے ’’کرائم لارڈز‘‘ بھی تعطیلات گزارنے آتے تھے۔
شہر کی مرکزی شاہراہ ’’سنٹرل ایونیو‘‘ دو سرسبز پہاڑوں کے درمیان سے، بل کھاتی گزر رہی تھی۔ اس شاہراہ کے دونوں طرف کلب، قمارخانے اور دوسری تفریح گاہیں تھیں۔ زیادہ تر دھندے اور کاروبار غیر قانونی تھے لیکن آرکنساس ریاست کے گورنر سے لے کر نچلے عہدے داروں تک سب ان سے چشم پوشی کرتے تھے۔ مقامی پولیس اور میئر تو اس شہر کو ایک منافع بخش کارپوریشن کے طور پر چلا رہے تھے اور ہر جگہ سے اپنا حصہ وصول کررہے تھے۔
کار کو نہایت کم رفتار سے چلاتے ہوئے ایجنٹ جولیکی کو ایک جگہ ریڈ کھڑا نظر آیا۔ ریڈ، اوکلاہاما کے ایک قریبی قصبے کا پولیس چیف تھا۔ جولیکی اور فرینک اسمتھ نے اسے اپنی مدد کے لئے یہاں بلایا تھا کیونکہ وہ فرینک ناش کے پورے ریکارڈ سے واقف تھا اور اسے شکل سے بھی پہچانتا تھا۔ ایف بی آئی کے دونوں ایجنٹ فرینک ناش کی شکل صورت سے واقف نہیں تھے۔
جولیکی نے کار فٹ پاتھ کے قریب لے جا روکی اور ریڈ آگے بڑھ کر ان کے قریب آگیا۔ اس نے گاڑی کی کھڑکی پر جھکتے ہوئے غیرمحسوس انداز میں اشارہ کیا اور نیچی آواز میں کہا ’’وہ فرینک ناش ہے۔‘‘
’’مجھے تمہاری بات پر یقین نہیں آ رہا ریڈ!‘‘ فرینک اسمتھ نے الجھن زدہ لہجے میں کہا ’’جس آدمی کی طرف تم نے اشارہ کیا ہے، اس آدمی کی مونچھیں ہیں۔ اس کے سر پر گھنے بال بھی ہیں جبکہ میری اطلاع کے مطابق فرینک ناش کلین شیو اور گنجا ہے۔‘‘
جولیکی نے بھی اس کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ’’صرف یہی نہیں، بلکہ ہمیں اس کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں، ان کی مناسبت سے تو اس میں ایک اور فرق بھی نظر آرہا ہے۔ اس کا وزن زیادہ معلوم ہورہا ہے۔ ہمارے پاس اس کا جو حلیہ درج ہے، اس کے مطابق وہ ہلکے جسم کا ہے۔ یہ تو کچھ بھاری معلوم ہو رہا ہے۔‘‘
’’تمہیں یقین کرنا ہے تو کرلو، ورنہ تمہاری مرضی۔ میں بتا رہا ہوں، یہی فرینک ناش ہے۔‘‘ ریڈ ذرا بیزاری سے بولا ’’میں اسے اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ جو فرق تم بتارہے ہو، ان کے بہت سے جواز ہوسکتے ہیں۔‘‘
فرینک اسمتھ اور جولیکی ایک لمحے کے لئے خاموش رہے۔ ریڈ کی خوداعتمادی دیکھ کر انہیں مزید بحث کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے خود ہی فرینک ناش کو پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ ریڈ کو انہوں نے گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بٹھا لیا۔ جولیکی نے یوٹرن لیا اور گاڑی کو سگار اسٹور کے سامنے لے گیا۔ اس سگار اسٹور میں سامنے کے حصے میں تو سگار اور بیئر وغیرہ ہی فروخت کی جاتی تھی لیکن اس کے پچھلے حصے میں جوا خانہ چلتا تھا۔ دوسرے شہروں سے مختصر قیام کے لئے آنے والے گینگسٹرز اکثر وہاں پائے جاتے تھے۔
فرینک اسمتھ اور جولیکی نے اپنی گنیں نکال لیں اور گاڑی سے اتر آئے۔ ریڈ گو کہ گاڑی میں ہی رہا لیکن اس نے بھی اپنی گن نکال کر ہاتھ میں پکڑلی تھی۔ وہ پوری طرح چوکس تھا۔ ایف بی آئی کے ایجنٹوں کو اس زمانے میں گنیں پاس رکھنے یا ملزم کی گرفتاری کے وقت انہیں استعمال کرنے کی باضابطہ اجازت نہیں تھی لیکن پرانے اور تجربہ کار ایجنٹس کو اس معاملے میں ڈھیل دی جاتی تھی اور محکمہ ان کی طرف سے چشم پوشی کرتا تھا۔
فرینک ناش اس وقت تک سگار اسٹور کے اندر چلا گیا تھا۔ جولیکی اندر پہنچا تو اسے فرینک ناش کہیں نظر نہ آیا۔ وہ کائونٹر پر پہنچ کر ایک سگار خریدنے لگا۔ فرینک اسمتھ بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر آگیا تھا اور کن انکھیوں سے اِدھر اُدھر کا جائزہ لے رہا تھا۔ فرینک ناش کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ سگار اسٹور کے ایک حصے میں کیفے بھی تھا جہاں کچھ لوگ میزوں پر موجود تھے۔ وہ کافی اور بیئر وغیرہ سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ درمیانی، شیشے کے دروازے سے پچھلے حصے کی جھلک بھی دکھائی دے رہی تھی۔
(جاری ہے)