khatarnak Mafia | Episode 6

283
جولیکی ان سب باتوں سے آگاہ تھا اور انہی کے بارے میں سوچ کر اس کا اعصابی تنائو بڑھ رہا تھا۔ ٹرین کو لیون ورتھ کے لئے روانہ ہونے سے پہلے ایک گھنٹے کے لئے یہیں، کنساس سٹی میں رکنا تھا۔ دونوں ایف بی آئی ایجنٹ آپس میں صلاح مشورے کے بعد اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ ان کا ایک گھنٹے کے لئے بھی کنساس سٹی میں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں اوکلاہاما والے آفس سے بات کی تھی۔ کنساس سٹی میں ایف بی آئی کا جو ایجنٹ تعینات تھا، اس نے یہ بندوبست کیا تھا کہ یہاں سے مزید کچھ آدمی، حفاظت کے خیال سے ان کے ساتھ ہو جائیں اور وہ مزید سفر ٹرین سے کرنے کے بجائے کار سے کریں۔
اب صرف تین میل کا سفر باقی تھا۔ بجائے اس کے، کہ وہ ایک گھنٹے تک ٹرین کے روانہ ہونے کا انتظار کرتے، اس ایک گھنٹے میں وہ بہ آسانی لیون ورتھ پہنچ سکتے تھے۔ یہاں ان کے لئے یہ انتظامات کرنے والے ایجنٹ کا نام وٹرلی تھا۔ ٹرین کی رفتار جب کافی کم ہو گئی تو جولیکی نے ٹرولی کو دور سے ہی دیکھ لیا۔ وہ سیاہ کوٹ میں تھا اور جولیکی کے استقبال کے لئے پہلے ہی سے پلیٹ فارم پر موجود تھا۔ تین آدمی اس کے ساتھ تھے۔ ٹرین رکی تو جولیکی اتر کر ان کے قریب پہنچا۔
وٹرلی نے اپنے ساتھیوں کا تعارف کرایا۔ ان میں سے ایک تو ایف بی آئی ایجنٹ ہی تھا۔ اس کا نام رے کیفر تھا۔ وہ تقریباً تیس کی عمر کا تھا۔ چہرے مہرے اور شخصیت کے اعتبار سے وہ بالکل سادہ سا آدمی دکھائی دیتا تھا۔ اس کے بال بھورے تھے اور اس نے سر کے بیچ میں مانگ نکالی ہوئی تھی۔ دوسرے دو آدمی ذرا بڑی عمر کے تھے اور قدرے پریشان حال سے دکھائی دے رہے تھے۔ وہ دراصل سادہ لباس میں مقامی پولیس کے آدمی تھے۔ ان میں سے ایک کا نام ہرمین اور دوسرے کا بِل گروم تھا۔ وہ دونوں اپنے محکمے کی بلٹ پروف گاڑی لے کر آئے تھے۔
جولیکی نے مختصراً ان لوگوں کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ پھر وہ فرینک ناش کو ٹرین سے اُتارنے کے لئے چلا گیا۔ چند لمحے بعد جولیکی، فرینک اسمتھ اور پولیس آفیسر ریڈ اس طرح ٹرین سے اترے کہ فرینک ناش کو انہوں نے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ فرینک ناش کی ہتھکڑیوں کو چھپانے کے لئے انہوں نے ان پر ایک بڑا سا رومال ڈالا ہوا تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ فرینک ناش اور اس کے ساتھ آنے والے تین آدمی تو ایک عام کار میں ہی سفر کریں گے البتہ کنساس سٹی سے ان کی حفاظت کے لئے ہمراہ ہونے والے افراد بلٹ پروف گاڑی میں ان کے پیچھے پیچھے چلیں گے۔
کنساس سٹی سے روانہ ہونے والے لوگوں کو امید تھی کہ وہ انہیں لیون ورتھ پہنچا کر دوپہر کے کھانے کا وقت ہونے سے پہلے واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے آپس میں چند لمحے بات چیت کی، پھر قانون کے سات محافظ فرینک ناش کو اپنے گھیرے میں لے کر باہر جانے کے لئے روانہ ہوئے۔ سیڑھیاں اتر کر وہ نچلے حصے میں پہنچے۔ علی الصباح کام پر جانے والوں اور دوسرے مسافروں کا ہجوم نظر آنے لگا تھا۔ ایجنٹ رے کیفر نے اپنے پستول کی نال عقب سے فرینک ناش کی کمر سے لگا رکھی تھی۔
لابی نما اس طویل و عریض حصے میں آتے جاتے اکثر مسافر گردنیں موڑموڑ کر ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یقیناً سب کو یہ چھوٹا سا قافلہ عجیب لگ رہا تھا۔ وہ لوگ ریلوے اسٹیشن کے محرابی گیٹ کی طرف بڑھ رہے تھے جس سے کچھ دور پارکنگ لاٹ تھی۔ مسز ویسٹ نامی ایک خاتون، جو ایک فلاحی ادارے کی طرف سے مسافروں کی مدد اور رہنمائی کے لئے تعینات تھیں، ایک ریسٹورنٹ کے باہر کھڑی اس کے منیجر سے گپ شپ کر رہی تھیں۔
انہوں نے فرینک ناش کو قانون کے محافظوں کے گھیرے میں جاتے دیکھا تو ریسٹورنٹ کے منیجر سے بولیں ’’یہ یقیناً پریٹی بوائے فلائیڈ ہے۔‘‘
انہوں نے آج ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ پریٹی بوائے فلائیڈ، کنساس سٹی پہنچ چکا ہے۔ اخبار میں اسے ایک غیرمصدقہ خبر کے طور پر شائع کیا گیا تھا، یعنی اسے محض ایک افواہ بھی کہا جاسکتا تھا لیکن مسز ویسٹ بڑے وثوق سے اس کا ذکر کرتے ہوئے خود کو باخبر ثابت کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔ صرف وہی نہیں، دوسرے بہت سے لوگ بھی اس خبر کا تذکرہ کررہے تھے۔
ایجنٹ رے کیفر کے پاس دو دروازوں والی شیورلے کار تھی۔ ان لوگوں کا گروپ اسی گاڑی کی طرف بڑھا۔ پارکنگ لاٹ میں گاڑیوں کی نقل و حرکت شروع ہوچکی تھی۔ دو تین ٹیکسیاں بھی حرکت میں آگئی تھیں۔ تین راہبائیں ایک ٹیکسی ڈرائیور سے بات کررہی تھیں۔ رے کیفر نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا۔ جولیکی اور پولیس چیف ریڈ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔
’’تم آگے بیٹھو…‘‘ جو لیکی نے فرینک ناش کو حکم دیا ’’اس طرح ہم سب، تم پر نظر رکھ سکیں گے۔ ہم اسی طرح سفر کریں گے جس طرح ہاٹ اسپرنگس سے نکلتے وقت کررہے تھے۔‘‘
اس دوران فرینک اسمتھ بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ فرینک ناش حسب ہدایت اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ مقامی پولیس آفیسرز ہرمین اور بل گروم گاڑی کے دائیں طرف منتظر انداز میں کھڑے تھے کہ اس گاڑی میں جانے والے لوگ بیٹھ چکیں تو باقی لوگ بلٹ پروف گاڑی میں جائیں۔ وٹرلی چاہ رہا تھا کہ پھنس پھنسا کر فرینک ناش کے ساتھ ہی بیٹھ جائے۔ رے کیفر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کے لئے آگے بڑھا۔
اچانک سامنے سے کوئی چیخا ’’اپنے ہاتھ اوپر اٹھالو۔‘‘
قانون کے ساتوں محافظوں نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ اسی لمحے ایک گولی چلنے کی آواز آئی۔ پھر کسی نے چیخ کر کہا ’’انہیں ہلاک کردو۔‘‘
فوراً ہی مشین گن گرجی۔ گولیاں گاڑی سے ٹکرانے کی آوازیں آئیں۔ مقامی پولیس آفیسر ہرمین اور گروم پُتلوں کی طرح ہوا میں اُچھلے۔ ان کے سینوں اور چہروں سے خون کے فوارے اُبل پڑے۔ زمین پر گرنے سے پہلے وہ مرچکے تھے۔ گاڑی کے اندر فرینک ناش اور پولیس چیف ریڈ کی کھوپڑیوں میں سوراخ ہوگئے۔ رے کیفر گاڑی کے بونٹ سے ٹکرایا اور ایک گٹھری کی سی صورت میں فٹ پاتھ پر جاگرا۔
ایک گولی وٹرلی کے بازو کو چھوتی ہوئی گزری اور وہ بھی بازو تھام کر گاڑی کے قریب گر گیا مگر دوسرے ہی لمحے وہ اٹھ کر اسٹیشن کی طرف بھاگا۔ گولیوں کی بوچھاڑ نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے عقب میں سڑک ٹوٹنے کی وجہ سے پتھر ہوا میں اُڑتے دکھائی دیئے۔ گولیوں نے سڑک کو بھی ادھیڑ ڈالا تھا۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جولیکی نے اپنی شاٹ گن بلند کی لیکن کوئی فائر کرنے سے پہلے تین گولیاں اسے لگیں اور شاٹ گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ وہ زندہ تھا لیکن آگے کی طرف گرگیا۔ اس نے خود کو مُردہ ظاہر کرنا ہی بہتر سمجھا۔ چنانچہ وہ وہیں ساکت ہوگیا۔ اس کے قریب موجود فرینک اسمتھ نے بھی ایسا ہی کیا۔ دونوں نے اپنے سر، گھٹنوں کے درمیان کرلئے۔ جب گولیاں چلنا بند ہوگئیں تب بھی وہ اسی حالت میں تھے۔ انہوں نے قریب آتے قدموں کی آواز سنی۔
کوئی ان کے قریب پہنچ کر بولا ’’یہ تو سب مر گئے!‘‘
یہ کہنے والے کے لہجے میں تاسف تھا۔ اس تاسف کی وجہ اس وقت ظاہر ہوئی جب اس نے کہا ’’وہ بھی مرگیا جسے ہم چھڑانے آئے تھے۔‘‘
’’جلدبازی اور افراتفری میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘‘ ایک اور آواز سنائی دی۔ پھر قدموں کی آوازیں دور ہوتی چلی گئیں۔
اس واقعے کو بعد میں ’’کنساس سٹی میں بہت بڑی خونریزی‘‘ کا عنوان دیا گیا اور ایک طویل عرصے تک انہی الفاظ میں یاد کیا جاتا رہا۔ ایک ساتھ اتنی تعداد میں قانون کے محافظوں کے قتل کا، یہ اس وقت تک کی امریکی تاریخ کا دوسرا بڑا واقعہ تھا جس نے امریکی قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ولیم ہام کے اغواء کے بعد اڑتالیس گھنٹوں سے بھی کم وقت کے دوران یہ واقعہ رونما ہوگیا تھا۔ اس سے ملکی فضا میں سنسنی کی جو لہریں پیدا ہوئیں، وہ اس وقت کے امریکی صدر روز ویلٹ تک بھی پہنچیں۔
اس کے بعد ہی صحیح معنوں میں ’’وار آن کرائم‘‘ شروع ہوئی!
٭…٭…٭
’’ارے…! یہ آدمی تو زندہ ہے…!‘‘ کوئی چیخا۔
وہ پہلا راہ گیر تھا جو کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن کے باہر فائرنگ کرنے والوں کے فرار ہونے کے بعد جائے وقوعہ کے قریب آیا تھا۔ فضا میں ابھی تک بارود کی بو اور دھواں موجود تھا۔ رے کیفر کی لاش گاڑی کے اگلے بمپر کے قریب پڑی تھی۔ گو کہ اس میں زندگی کی معمولی سی رمق باقی تھی۔ اس کا جبڑا معمولی سی حرکت کررہا تھا اور آنکھیں کھلی تھیں لیکن چند لمحے بعد وہ مکمل طور پر ساکت ہوگیا۔ اس کی آنکھیں بے نور ہوگئیں اور چہرے پر بھی زندگی کی رمق تک نہ رہی۔
اس سے چھ فٹ دور کنساس سٹی کے دونوں پولیس آفیسرز پڑے تھے۔ وہ بھی مرچکے تھے۔ گروم کا سر، ہرمین کے سینے پر ٹکا ہوا تھا۔ کار کے اندر فرینک ناش کا سر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف ڈھلکا ہوا تھا۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور خون اس کے سر سے بہہ کر سینے پر آرہا تھا۔ پچھلی سیٹ پر ریڈ کی لاش اس سے زیادہ بری حالت میں پڑی تھی۔
میگ نامی ایک پولیس مین جس کی ڈیوٹی ریلوےاسٹیشن پر لگی ہوئی تھی، جائے وقوعہ پر پہنچنے والا پہلا سرکاری آدمی تھا۔ اس وقت فائرنگ کرنے والے ایک گاڑی میں سوار ہوکر فرار ہو رہے تھے۔ میگ نے اس گاڑی پر چند فائر بھی کئے تھے لیکن گاڑی، یا اس میں موجود لوگوں کو کوئی نقصان پہنچتا دکھائی نہیں دیا تھا۔
میگ کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ وہاں ہوا کیا ہے۔ اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ اندر جولیکی اور فرینک اسمتھ زخمی حالت میں پڑے تھے تاہم وہ ہوش میں تھے۔ میگ نے انہی پر گن تان لی۔
فرینک اسمتھ فوراً چلاّیا ’’گولی نہ چلا دینا۔ میں ایف بی آئی آفیسر ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے شاید احتیاطاً اس نے ہاتھ بھی اٹھا دیئے۔
اپنے دیرینہ دوست پولیس آفیسر ریڈ کو مُردہ دیکھ کر فرینک اسمتھ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس کے بائیں طرف جولیکی پڑا تھا۔ وہ بہت تکلیف میں تھا۔ اس کی کمر میں تین گولیاں لگی تھیں۔ فرینک اسمتھ نے اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے اسے تسلی دینے کی کوشش کی ’’گھبرائو مت… تم ٹھیک ہوجائوگے۔‘‘
کنساس سٹی کا مقامی پولیس آفیسر وٹرلی زندہ بچ گیا تھا۔ وہ اب دوڑتا ہوا کار کے قریب آیا۔ اس نے جولیکی کو گاڑی سے نکالا اور فٹ پاتھ پر لٹا دیا۔ فرینک اسمتھ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سر کے نیچے رکھ دیئے۔
’’میں ٹھیک ہوں…‘‘ جولیکی تکلیف سے کراہتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں بولا ’’تم دوسروں کو دیکھو۔‘‘
اب لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہونے لگے تھے۔ ان میں کاروباری لوگ، ٹیکسی ڈرائیور اور کاشت کار وغیرہ، سب ہی تھے۔ بعض لوگ تو وہاں پھیلے ہوئے خون میں پھسل کر گرتے گرتے بچے۔ ایک عورت نے شاید دیکھا ہی نہیں تھا کہ وہاں کتنا زیادہ انسانی خون پھیلا ہوا تھا۔ اس نے اپنے جوتے اچانک خون میں لتھڑے ہوئے دیکھے تو خوف سے چیخیں مارنے لگی۔ ایک نیوز ایجنسی کی خاتون رپورٹر اپنے جوتوں کو خون سے بچاتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی تھی۔ ایمبولنسیں بھی آگئی تھیں۔ جولیکی کو اسپتال پہنچایا گیا۔ (وہ چند ہفتوں کے بعد صحت یاب ہوگیا) وٹرلی کے بازو پر معمولی زخم آیا تھا اور اس سے تھوڑا تھوڑا خون بہہ رہا تھا لیکن وہ اس کی پروا کئے بغیر دوڑا دوڑا ایف بی آئی کے مقامی آفس پہنچا۔ اس نے فوری طور پر ایف بی آئی کے واشنگٹن آفس سے رابطہ کیا۔
اس نے ڈائریکٹر کو اس واقعے کے بارے میں مکمل رپورٹ دی اور آخر میں گلوگیر آواز میں کہا ’’سر! بہت خونریزی ہوئی ہے۔‘‘
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ایڈگرہوور نے اسے تسلی دی اور ہدایت کی کہ وہ خود اپنے زخم کی بھی جلد مرہم پٹی کرائے۔ اس کے لہجے سے اندازہ ہورہا تھا کہ اس خونیں واقعے کی رپورٹ سن کر وہ بھی افسردہ ہوگیا تھا اور نہ جانے کیا کچھ سوچ رہا تھا۔
اس دوران ایف بی آئی کے مزید ایجنٹس ریلوے اسٹیشن کی پارکنگ لاٹ میں پہنچ چکے تھے اور چشم دید گواہوں کے بیانات لینے کی کوششیں کررہے تھے۔ وہاں ہجوم کافی بڑھ چکا تھا اور چشم دید گواہوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ تقریباً ہر شخص ہی چشم دید گواہ بننے پر تُلا ہوا تھا مگر سب لوگوں کے بیانات میں تضاد تھا۔ ان لوگوں کے بیانات سے ایف بی آئی والوں کو اپنی تفتیش میں تو کیا مدد ملتی، الٹا وہ الجھ کر رہ گئے۔ لوگوں کے بیانات سے ان کی نوٹ بکس بھرگئیں۔ ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے قاتلوں کو دیکھا ہے۔
کسی کا کہنا تھا کہ وہ ایک کار میں آئے تھے۔ کسی کا کہنا تھا کہ وہ دو کاروں میں آئے تھے۔ کسی کا دعویٰ تھا کہ فائرنگ کرنے والے دو تھے۔ کوئی ان کی تعداد تین بتا رہا تھا۔ کسی کے خیال میں ان کی تعداد پانچ تھی۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ وہ لمبے اور دبلے تھے۔ کسی کا خیال تھا کہ وہ پستہ قد اور موٹے تھے۔ غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ یوں گویا اتنے بڑے واقعے کی تفتیش کا آغاز ہی الجھا دینے والا تھا۔
ایک چیز سے البتہ ایف بی آئی کو مدد مل گئی۔ ہوا یہ کہ گیلنٹ جو اس روز جوپلن آیا ہوا تھا، وہ تو ہاٹ اسپرنگس واپس چلا گیا تھا لیکن باقی سازشی یا منصوبہ ساز، یعنی فرینک ناش کی بیوی فرانسس، ڈیفی فارمر اور اس کی بیوی، ریڈیو پر خونریزی کے اس واقعے کی خبر سن کر بدحواس ہوگئے۔ انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں فرینک ناش کے آزاد ہونے کے بجائے اس طرح کا واقعہ رونما ہوجائے گا۔ یہ خبر سن کر فرانسس تو گویا سکتے میں آگئی تھی۔
وہ بار بار بڑبڑائے جارہی تھی ’’مجھے یقین نہیں آرہا… مجھے یقین نہیں آرہا…!‘‘
پھر ان تینوں نے وہی کیا، جو عام طور پر لوگ گھبراہٹ میں کرتے ہیں۔ یعنی وہ گھر چھوڑ کر بھاگ لئے۔ دوپہر کے دو بجے تک وہ تینوں غائب ہوچکے تھے لیکن اس سے پہلے وہ ایک طرح سے کسی کی ’’نظر‘‘ میں آچکے تھے۔ کسی مقامی عورت نےٹیلیفون لائن میں خرابی کی وجہ سے ’’کراس ٹاک‘‘ میں ان کی گفتگو سن لی تھی۔ اسے گفتگو مشکوک لگی تھی۔ چنانچہ اس نے پولیس کو مطلع کردیا تھا۔
جوپلن کی پولیس نے فوری طور پر ڈیفی فارمر کے فارم ہائوس پر چھاپا مارا۔ وہاں ایک چوکیدار کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔ بہرحال انہوں نے کنساس سٹی پولیس کو اس بارے میں مطلع کردیا۔ وہاں سے فوراً ایف بی آئی کے دو ایجنٹ گاڑی میں بیٹھ کر فارم ہائوس کی نگرانی کے لئے آن پہنچے۔ وہ اس امید پر آئے تھے کہ شاید فارم ہائوس کے مکینوں میں سے کوئی لوٹ آئے۔
ادھر اس واقعے کے رونما ہونے کے پانچ گھنٹے بعد بھی واشنگٹن میں ایف بی آئی کا ڈائریکٹر ایڈگر ہوور الجھن میں تھا کہ خونریزی کے اس واقعے کی تفتیش کا انچارج کسے بنائے؟ اسے اس مقصد کے لئے کسی ایف بی آئی ایجنٹ کی ضرورت تھی جو زبردست پیشہ ورانہ مہارت رکھتا ہو، پختہ ذہن کا مالک ہو، ڈپلومیسی سے کام لینا جانتا ہو اور خطرناک حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اس وقت تک ایف بی آئی کے تین آدمی قتل ہوئے تھے۔ رے کیفر، قتل ہونے والا ایف بی آئی کا تیسرا ایجنٹ تھا۔ آخرکار ہوور نے اس آدمی کو آگے لانے کا فیصلہ کیا، جس نے ایف بی آئی کے پہلے قتل ہونے والے ایجنٹ کا کیس سنبھالا تھا۔ اس کا نام گس جونز تھا۔
واقعہ کچھ یوں تھا کہ شکاگو کے ایک ایف بی آئی ایجنٹ ایڈشینن نے ایک روز کرائے کی پارکنگ کی جگہ سے ایک روز اپنی گاڑی نکالنا چاہی تو اس نے دیکھا کہ ایک گاڑی نے اس کا راستہ روکا ہوا ہے۔ ہارن دینے کے باوجود دوسری گاڑی راستے سے نہیں ہٹی۔ ایڈشینن اس وقت ڈیوٹی پر تھا اور اسے کہیں پہنچنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ وہ گاڑی سے اتر کر دوسری گاڑی کے قریب پہنچا اور اس کی ڈرائیونگ سائڈ کا شیشہ انگلی سے کھٹکھٹایا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا، ڈنکن نامی شخص بڑا بدمعاش اور کار چور تھا۔
ایڈشینن نے اپنا تعارف کرایا اور اپنا کارڈ اس کے سامنے لہراتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ ایف بی آئی ایجنٹ ہے۔ اس کے بعد اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ گاڑی پیچھے ہٹا لو… لیکن ڈنکن کو نہ جانے کیا سوجھی، کہ اس نے پستول نکالا اور ایڈشینن کے سینے میں گولی اُتار دی۔ وہ وہیں مر گیا۔ ڈنکن فرار ہوگیا اور ایسا غائب ہوا جیسے کرئہ ارض پر اس کا کوئی وجود نہ ہو۔ اُس وقت بھی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ایڈگرہوور نے اعلان کیا تھا کہ کسی ایف بی آئی ایجنٹ کو قتل کرنے والا خواہ پاتال میں اُتر جائے، وہ گرفتاری اور سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اس کیس کی فائل کبھی بند نہیں ہوگی۔ قاتل کو تلاش کرنے میں خواہ ایف بی آئی کو سو سال لگ جائیں، مگر وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ آج بھی ایف بی آئی یہی کہتی ہے۔
ایڈگرہوور نے ایڈشینن کو قتل کرنے والے کو تلاش کرنے اور گرفتار کرنے کے لیے گس جونز کو مامور کیا تھا۔ اس شخص نے ایک طویل اور صبرآزما جدوجہد کے بعد آخر ڈنکن کو ڈھونڈ نکالا تھا۔ آج پھر ایڈگرہوور کو اسی کا خیال آیا۔ اس نے فون اُٹھایا اور گس جونز کا نمبر ملایا۔ گس جونز اس وقت سینٹ انٹونیو میں تعینات تھا جب ہوور نے اسے فون کیا۔ وہ ہوور کی ہدایت کے مطابق فوراً ہوائی جہاز کے ذریعے کنساس سٹی پہنچ گیا۔ ریلوے اسٹیشن والی خونریزی کو اس وقت سترہ گھنٹے گزر چکے تھے۔ اس نے آتے ہی وٹرلی اور نئے مقامی پولیس چیف سے ملاقاتیں کیں اور ایک لمحہ ضائع کئے بغیر تفتیش شروع کر دی۔ مقامی پولیس چیف روپرٹ خونریزی کی ساری ذمّے داری ایف بی آئی پر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
’’تم لوگوں نے ہمیں خواہ مخواہ مصیبت میں پھنسا دیا ہے۔‘‘ اس نے ناگواری سے کہا۔
’’ایف بی آئی تو دراصل پولیس کی مدد کے لیے قائم کی گئی ہے۔ ہم لوگ ان کاموں میں پولیس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتے ہیں جو پولیس کے لیے مشکل ہوتے ہیں۔‘‘ گس جونز نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
روپرٹ کے انداز سے کچھ ایسا لگ رہا تھا جیسے مقامی پولیس اس خونریزی کی تفتیش میں ذرا بھی دلچسپی نہیں رکھتی تھی جس میں اس کے اپنے بھی دو آدمی ہلاک ہو چکے تھے۔
گس جونز کے سمجھانے کے باوجود روپرٹ بولا۔ ’’یہ حکومت کا معاملہ ہے۔ پولیس کو اس کی تفتیش کی ضرورت نہیں۔‘‘
گس جونز نے آج تک کسی پولیس آفیسر کے منہ سے ایسی احمقانہ بات نہیں سنی تھی۔ بعد میں اسے اندازہ ہوا کہ خود ایف بی آئی والے بھی اس سلسلے میں دلبرداشتہ تھے اور انہیں اُمید نہیں تھی کہ وہ کوئی کامیابی حاصل کر سکتے تھے۔ جونز ان باتوں سے ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔ وہ ایک دیانتدار، پُرعزم اور فرض شناس آفیسر تھا۔ مجرموں کی سرکوبی کے لیے وہ زندگی کی آخری سانس تک جدوجہد کرنے کا جذبہ رکھتا تھا۔ اس کا باپ بھی قانون کا محافظ تھا اور بیسویں صدی شروع ہونے سے پہلے ریڈ انڈینز کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔
گس جونز کو البتہ ایک مسئلہ پریشان کر رہا تھا۔ ایف بی آئی کے زیادہ تر ایجنٹوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہوتا تھا جبکہ مجرموں کے پاس ریوالور، پستول، شاٹ گن اور مشین پسٹل تو کیا، ہلکی مشین گنیں تک ہوتی تھیں اور وہ عام آدمیوں پر تو بے دریغ گولیاں برسا ہی دیتے تھے لیکن پولیس اور ایف بی آئی والوں کو بھی اپنے ہتھیاروں سے ہلاک کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ ان کے حوصلے کس حد تک بڑھے ہوئے تھے، اس کا ثبوت انہوں نے تازہ ترین خونریزی کے ذریعے دے دیا تھا۔ گس جونز کو یہی فکر لاحق تھی کہ اگر اس قسم کے مجرموں سے ایف بی آئی والوں کو واسطہ پڑ گیا تو ایف بی آئی والے کیا کریں گے؟ وہ اپنا دفاع کس طرح کریں گے؟
اسی دوران گس جونز کو ایڈگرہوور کا ٹیلیگرام موصول ہوا۔ اس نے لکھا تھا۔ ’’خونریزی کے ذمّے دار مجرموں کے خلاف تمام وسائل استعمال کئے جائیں۔‘‘
گس جونز نے جل کر جواب دیا۔ ’’کون سے وسائل؟ کیا مشین گنوں سے مسلح مجرموں کا مقابلہ غلیلوں سے کیا جائے؟‘‘
ایڈگرہوور کو خود بھی ایف بی آئی کی کمزوریوں کا احساس تھا۔ وہ انہیں دُور کرنے کے لیے پہلے ہی غوروخوض کر رہا تھا۔ اس ٹیلیگرام نے گویا اسے فوری طور پر حرکت میں آنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے بہت اُوپر تک ڈوریاں ہلائیں اور وائٹ ہائوس سے لے کر نیچے تک سرکاری مشینری کا متعلقہ حصہ حرکت میں آ گیا۔ ایف بی آئی ایجنٹوں کو گن اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے لیے اسلحہ منگوایا گیا اور ایجنٹوں کو مختلف آتشیں ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دی جانے لگی۔ ان کے اختیارات میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں دراصل ایف بی آئی میں اس انقلاب کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ وہ اپنی موجودہ شکل میں آئی۔
گس جونز اس دوران اپنے کام میں مصروف رہا۔ اس نے ایف بی آئی کے مقامی آفس میں ایجنٹوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ بعض ایجنٹوں کا خیال تھا کہ یہ خونریزی گینگ وار کا شاخسانہ تھی اور اس کا نشانہ صرف فرینک ناش ہی تھا۔ گس جونز اس خیال سے متفق نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ دراصل فرینک ناش کو چھڑانے کی کوشش تھی جس میں گڑبڑ ہوگئی تھی۔
اخبارات میں بھی مختلف زاویوں سے قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔ بعض خبروں میں اندازہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ پریٹی بوائے فلائیڈ کی کارروائی تھی۔ فلائیڈ نے جب شیرف کنگ ورتھ کو یرغمال بنائے رکھنے کے بعد چھوڑ دیا تھا تو کئی اخبار والوں نے شیرف کا انٹرویو لیا تھا اور اس انٹرویو کی وجہ سے یہ خبر عام ہو چکی تھی کہ پریٹی بوائے فلائیڈ کنساس سٹی پہنچ چکا ہے۔ ریلوے اسٹیشن پر کام کرنے والی، ایک فلاحی ادارے کی کارکن نے تو یہ بیان بھی دے دیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ پریٹی بوائے فلائیڈ پہلے سے اس کی میز پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس خاتون کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ وہ پریٹی بوائے فلائیڈ کو اچھی طرح پہچانتی تھی۔ تاہم ایف بی آئی نے اس خاتون کے بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔
ایف بی آئی کو معلوم تھا کہ ایسے واقعات کے سلسلے میں بہت سے لوگ اہمیت یا شہرت حاصل کرنے کے لیے اور خبروں میں آنے کے لیے نہ جانے کیا کیا دعوے کرنے لگتے تھے۔ گس جونز نے بعض افواہوں کی بنِا پر ایک نظریہ قائم کیا تھا۔ اسے پتا چلا تھا کہ ماضی میں فرینک ناش نے ہاروے بیلے اور دس دُوسرے آدمیوں کو کنساس سٹی کی جیل سے رہا کرانے کا بندوبست کیا تھا۔ گس جونز کا خیال تھا کہ اب ہاروے بیلے اور اس کے کچھ ساتھیوں نے فرینک ناش کا احسان اُتارنے کے لیے اسے ایف بی آئی اور پولیس کے شکنجے سے چھڑانے کی کوشش کی تھی جس میں غلطی سے خود فرینک ناش بھی ہلاک ہوگیا تھا۔
یوں گویا گس جونز محض مفروضوں اور اندازوں کی بنیاد پر کافی حد تک حقیقت کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس کے نظریے کو تقویت اس وقت ملی جب بعض چشم دید گواہوں نے ہاروے بیلے کی تصویر دیکھ کر کہا کہ وہ شخص ریلوے اسٹیشن کے سامنے فائرنگ کرنے والے قاتلوں میں شامل تھا۔ ان گواہوں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد ایک بزنس مین لگا تھا جس کا نام سیموئیل تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اس روز اپنی کار، سیاہ رنگ کی ایک بڑی سی کار کے پیچھے روک کر اُترا ہی تھا کہ اس نے سیاہ کار سے ایک آدمی کو گن لیے اُترتے دیکھا۔
ہاروے بیلے کی تصویر دیکھ کر وہ بزنس مین فوراً بول اُٹھا کہ اس نے بڑی سی سیاہ کار سے جس شخص کو گن لیے اُترتے دیکھا تھا وہ یہی تھا۔ اس نے اُترتے ہی اندھادھند فائرنگ شروع کر دی تھی اور اس کی چلائی ہوئی ایک گولی سے سیموئیل کا ہیٹ بھی اُڑ گیا تھا گویا وہ خود بھی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوتے ہوتے بچا تھا۔ سیموئیل کی گواہی اس لیے بھی زیادہ قابل اعتبار محسوس ہو رہی تھی کہ بزنس شروع کرنے سے کئی سال پہلے وہ کنساس سٹی میں ڈپٹی شیرف ہوا کرتا تھا اور اس نے اس وقت بھی ہاروے بیلے کو شہر کی ایک سڑک پر دیکھا تھا۔
سیموئیل نے ایک اور آدمی کی تصویر دیکھ کر کہا وہ بھی فائرنگ کرنے والوں میں شامل تھا۔ وہ شخص ہاروے بیلے کے ساتھ جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں سے ایک تھا۔ اس کا نام ویلبر تھا اور اس کا تعلق اوکلاہاما سے تھا۔ وہ ایک خطرناک قاتل اور بینک ڈکیت تھا۔ جس وقت وہ گرفتار ہوا تھا، اس وقت وہ تین ریاستوں کی پولیس کو مطلوب تھا۔ اسے خود قانون کے محافظوں، یعنی پولیس نے ’’ٹرائی اسٹیٹ ٹیرر‘‘ کا خطاب دے رکھا تھا۔
کنساس سٹی کے ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی فائرنگ کے خوفناک واقعے میں ایف بی آئی ایجنٹ وٹرلی، جولیکی اور فرینک اسمتھ زندہ بچ گئے تھے مگر وہ کوئی خاص کارآمد گواہی نہیں دے سکے تھے۔ جولیکی نے اسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے بتایا تھا کہ اس نے فائرنگ کرنے والوں میں سے دو کے چہرے دیکھے تو تھے لیکن
وہ اسے صاف دکھائی نہیں دیئے تھے کیونکہ کار کے شیشے گردآلود تھے۔ فرینک اسمتھ نے ایک آدمی کو دیکھا تھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں سکا تھا اور اس دوران فرینک اسمتھ نے خود کو گولیوں سے بچانے کے لیے سر نیچے کر لیا تھا۔ صرف وٹرلی نے وثوق سے کہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو مشین گن سے فائرنگ شروع کرتے دیکھا تھا اور اسے پہچان بھی لیا تھا۔ وہ اوکلاہاما کا ایک بینک ڈکیت بگ باب بریڈی تھا جو ہاروے بیلے کے ساتھ جیل سے فرار ہونے والوں میں شامل تھا۔
ان ساری باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے گس جونز اپنے اس خیال پر یکسو ہوگیا کہ انہیں ہاروے بیلے اور اس کے ساتھ جیل سے فرار ہونے والے دُوسرے مجرموں کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ مطلوب مجرموں کی تصویروں والے بڑے بڑے پوسٹر تیار کر لیے گئے۔
ایف بی آئی کے پاس صرف ایک سراغ موجود تھا کہ فائرنگ کے واقعے سے ایک رات پہلے ہاٹ اسپرنگس سے کنساس سٹی کے مضافاتی علاقے جوپلن میں، ڈیفی فارمر کے فارم ہائوس پر کئی فون کالز کی گئی تھیں۔ یہ کالیں شاید فرینک ناش کو چھڑانے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ہی تھیں۔ اب ایف بی آئی والوں کو یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ ڈیفی فارمر نے آگے کنساس سٹی میں کس کس کو فون کیا تھا؟ فون ریکارڈ وہاں نہیں، بلکہ سینٹ لوئیس میں تھا۔ وٹرلی چاہتا تو فون کمپنی کو فون کر کے بھی اس سلسلے میں معلومات حاصل کرسکتا تھا۔ اس وقت ایک ایک لمحہ قیمتی تھا لیکن نہ جانے کیوں وٹرلی نے کمپنی کو فون کرنے کے بجائے باضابطہ دفتری انداز میں کمپنی کو خط لکھ ڈالا۔ کمپنی سے ریکارڈ آنے میں چار دن لگ گئے۔ اس دوران مجرموں کو فرار ہونے کا موقع مل گیا۔
٭…٭…٭
کنساس سٹی میں فائرنگ کا معاملہ اپنی جگہ چل رہا تھا، ادھر دُوسری طرف، خونریزی کے اس واقعے کے تقریباً پندرہ گھنٹے بعد منی پولس میں ولیم ہام کے اغواء برائے تاوان کا معاملہ آگے بڑھ رہا تھا۔ ولیم ہام کا آدمی ولی ڈن اغواء کاروں کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔ وہ دو سیٹوں والی ایسی کار میں روانہ ہوا تھا جس کے دروازے اُتار دیئے گئے تھے۔ یہ ہدایت اسے اغوا کاروں کی طرف سے ملی تھی۔ اغوا کار چاہتے تھے کہ انہیں کچھ دُور سے ہی اندازہ ہو جائے کہ گاڑی میں کوئی اور چھپ کر تو نہیں بیٹھا ہوا ہے؟ اغوا کاروں میں سے یہ تجویز دراصل ’’شاٹ گن زگلر‘‘ کی تھی۔ اب ولّی ڈن بغیر دروازوں والی اس کار میں تنہا سفر کر رہا تھا اور اس کے پیروں کے قریب، سیٹ کے نیچے ایک تھیلے میں ایک لاکھ ڈالر کی رقم چھوٹے نوٹوں کی صورت میں موجود تھی۔
ولّی ڈن کو اس سفر کے سلسلے میں ہدایات تین رقعوں کے ذریعے موصول ہوئی تھیں جن پر وہ عمل کر رہا تھا۔ پہلا رقعہ اس کے گھر کے قریب ایک میڈیکل اسٹور پر کوئی دے گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا:
’’تم نے ہوشیار بننے کی اتنی کوشش کی ہے کہ اس کوشش میں تم اور ولیم ہام دونوں مارے جا سکتے ہو۔ چنانچہ اب یہ طے پایا ہے کہ رقم تم ہمیں ذاتی طور پر پہنچائو گے تاکہ اگر تم ہمیں ڈبل کراس کرنے کی کوشش کرو تو ہم تمہاری کھوپڑی چٹخا کر یا اس میں گولی سے سوراخ کر کے تھوڑا سا لطف اندوز ہو سکیں۔‘‘
تحریر میں کئی الفاظ میں اسپیلنگ کی غلطیاں تھی لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ مجرموں کی تعلیمی قابلیت کا، قانون کے محافظوں کو بہ خوبی اندازہ تھا۔ پھر سنیچر کی صبح ایک رقعہ، شراب کی فیکٹری کے ایک ملازم کو اپنی گاڑی میں رکھا ہوا ملا۔ اس میں ولّی ڈن کو تاوان کی رقم پہنچانے کے سلسلے میں ہدایات دی گئی تھیں۔ اسے اکیلے آنے کا حکم دیتے ہوئے لکھا گیا تھا۔ ’’تم نے پولیس کو اس معاملے میں ملوث کر لیا ہے۔ اب ان منحوسوں سے پیچھا چھڑا لو۔‘‘
سینٹ پال میں تعینات ایف بی آئی ایجنٹ منصوبہ بنانے لگا کہ تاوان کی ادائیگی کے وقت کہیں گھات لگانے کی کوشش کی جائے۔ ایک کرپٹ پولیس آفیسر ٹام برائون نے اغواء کاروں میں شامل بارکر برادرز کو اس بات کی اطلاع دے دی جس کے بعد شام کو ولّی ڈن کے نام ایک اور رقعہ آیا۔ اس میں لکھا تھا۔ ’’اگر تم اپنی احمقانہ کوششوں سے فارغ ہوگئے ہو تو ہم تمہیں ایک اور موقع دینے کو تیار ہیں لیکن سب سے پہلے پولیس والوں سے چھٹکارا حاصل کرو، تبھی بات آگے بڑھ سکے گی اور ولیم ہام کے زندہ گھر واپس آنے کی اُمید رکھی جا سکے گی۔‘‘
رات کے دس بجے ولّی ڈن ہدایات کے مطابق سفر پر روانہ ہوا۔ اس نے اندھیرے میں سفر جاری رکھا۔ پائن سٹی سے پہلے ایک کار تقریباً ستّر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کے قریب سے گزری۔ پھر ایک اور کار اسی رفتار سے گزری۔ دونوں کاریں آگے جا کر سڑک کے کنارے ہوگئیں۔ ولّی ڈن پہلے ہی کچھ زیادہ تیزرفتاری سے نہیں جا رہا تھا۔ اب اس نے اپنی گاڑی کی رفتار اور بھی کم کر لی۔ دونوں کاریں کچھ اور آگے جانے کے بعد رُک گئی تھیں۔
ولّی ان کے قریب سے گزرتا چلا گیا۔ کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ چند لمحے بعد دونوں کاریں اس کے تعاقب میں آنے لگیں۔ کچھ دیر بعد ولّی کو اپنے سامنے، کچھ دُور دو ہیڈ لائٹس نظر آئیں جو پانچ مرتبہ آن اور آف ہوئیں۔ یہ طے شدہ اشارہ تھا۔ ولّی ڈن نے گاڑی روکی اور رقم کا تھیلا سڑک کے کنارے پھینک دیا۔ رقم پھینک کر وہ وہاں رُکا نہیں، بلکہ آگے بڑھتا چلا گیا۔ اسے یہی ہدایت ملی تھی۔ وہ ڈلتھ نامی ایک چھوٹے سے شہر کی طرف روانہ ہوگیا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ ولیم ہام اسے وہاں ’’نیوڈلتھ ہوٹل‘‘ میں مل جائے گا۔
ولّی ڈن حسب ہدایت اس ہوٹل میں پہنچ گیا لیکن ولیم ہام وہاں موجود نہیں تھا۔ ولّی ڈن نے اسےہوٹل میں اِدھر اُدھر تلاش بھی کیا لیکن وہ کہیں نہیں ملا۔ کچھ دیر بعد پولیس آفیسر ٹام برائون بھی ایک ساتھی کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ وہ ساری رات ہوٹل میں بیٹھ کر ولیم ہام کا انتظار کرتے رہے لیکن اس کی صورت دکھائی نہ دی۔
دُوسری طرف اغواء کار فریڈ بارکر اور جارج زگلر دوسری صبح بنسن وِل میں واقع ایک گھر میں پہنچے جو ان کا محفوظ ٹھکانا تھا۔ تاوان کی رقم کا تھیلا ان کے پاس تھا۔ جارج زگلر نے تھیلا فاتحانہ انداز میں کچن ٹیبل پر پھینکا اور فریڈ بارکر سے کہا ’’لائو بھئی، ذرا ولیم ہام کی بریوری کی بنی ہوئی بیئر تو نکالو۔ مجھے اُمید ہے اب کافی عرصے تک میری پسندیدہ بیئر یہی رہے گی۔‘‘
دوسری رات، دوسری گاڑی میں کارپس، مغوی ولیم ہام کو واپس چھوڑنے جا رہا تھا۔ ولیم ہام کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ کارپس نے اسے ویومنگ نامی ایک قصبے کے قریب کھیتوں میں اُتار دیا۔ اس کی آنکھوں پر بدستور پٹّی بندھی ہوئی تھی۔ چند منٹ بعد جب گاڑی کی آواز معدوم ہوئے بھی کچھ دیر گزر گئی تو ولیم ہام نے ہمت کر کے خود ہی اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کھولی اور گرتا پڑتا ایک فارم ہائوس تک پہنچا جہاں سے اس نے منی پولس میں اپنی ماں کو فون کیا۔ دوپہر تک وہ اپنی حویلی پہنچ چکا تھا جہاں اخباری رپورٹروں نے اسے گھیر لیا لیکن وہ کسی کے سوالوں کے جواب ٹھیک طرح نہیں دے پا رہا تھا کیونکہ اس کے حواس ٹھکانے نہیں تھے۔
ادھر گینگ کے دوسرے لوگ بھی اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکے تھے۔ اگر انہیں کرپٹ پولیس آفیسر ٹام برائون کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو شاید بارکر برادرز کے ’’مجرمانہ کیریئر‘‘ کا اسی روز خاتمہ ہو جاتا۔ ہوا یہ تھا کہ فریڈ بارکر نے جو گھر کرائے پر لیا ہوا تھا، اس کے آس پاس رہنے والے لوگ وہاں ہر وقت بڑی بڑی کاروں اور عجیب سے لوگوں کی آمدورفت کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ انہوں نے مذاق میں ایک دوسرے سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ اس مکان میں رہنے والے شاید گینگسٹرز ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ انہی لوگوں نے ولیم ہام کو اغوا کر رکھا ہو۔ بے چارے پڑوسیوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ جو بات وہ مذاق میں کر رہے ہیں، وہ سو فیصد درست ہے۔
ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ سارے ہی پڑوسی وہ بات مذاق میں نہیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان اس معاملے میں بالکل سنجیدہ تھا۔ اس نے ایک مقامی اخبار کو اس سلسلے میں فون کر دیا۔ جس رپورٹر سے اس کا رابطہ ہوا، اس نے پولیس سے بات کی۔ بارکر برادرز کی قسمت ان کا ساتھ دے رہی تھی۔ اس معاملے کی تفتیش ٹام برائون کے حصے میں آئی جو پہلے ہی مجرموں کا آلۂ کار تھا۔ وہ تو ہر طرح سے مجرموں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔
اس نے چپکے سے اپنے آفس سے نکل کر ایک پبلک فون کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور کہا ’’گدھو! یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ اپنی مصروفیات اور نقل و حرکت کے سلسلے میں تم نے احتیاط نہیں کی، جس کی وجہ سے معاملہ اب اخبار تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے اب دکھاوے کے لیے اور اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے اس مکان پر آنا ہی پڑے گا۔ بہرحال میں وہاں پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ تاخیر کرنے کی کوشش کروں گا۔ تم لوگ جلد از جلد وہاں سے غائب ہو جائو۔‘‘
چنانچہ اس کے بعد پڑوسی اس بات پر حیران رہ گئے کہ اچانک ہی مکان سے کچھ زیادہ ہی تیزی سے نقل و حرکت کی آوازیں آنے لگیں۔ دروازے زور زور سے کھولے اور بند کئے جا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اچانک ہی وہاں کچھ بھگدڑ سی مچ گئی تھی یا معمول سے کچھ زیادہ اٹھا پٹخ ہونے لگی تھی۔ پھر بڑے بڑے سوٹ کیس کاروں میں رکھے جانے لگے۔ صبح جب دو پولیس آفیسرز اس مکان کو چیک کرنے آئے تو وہ خالی پڑا تھا۔ یہ مکان سینٹ پال کے علاقے میں تھا۔
ادھر بارکر برادرز وہاں سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوئے، اُدھر گینگ کے دوسرے ممبرز بھی اپنے ٹھکانے چھوڑ کر شکاگو کی طرف چلے گئے تھے اور وہاں انہوں نے الگ الگ اپارٹمنٹس کرائے پر لے لیے تھے۔ دُوسری صبح انہوں نے حیرت سے، کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن کے سامنے خونریزی کی خبریں اخباروں میں پڑھیں۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ ورنی ملر نے اپنے بہترین دوست فرینک ناش کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔
ادھر مے وڈ کے مضافاتی علاقے میں ڈوک بارکر کا ایک دوست ڈیوس، دوسری منزل پر واقع اپنے اپارٹمنٹ میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ اخبارات میں خونریزی کی خبریں پڑھ کر پریشان ہوگیا تھا۔
’’اس خونریزی سے ہم سب کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔‘‘ اس نے اپنی گرل فرینڈ ایڈنا مرے سے کہا، جو اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔
وہ دونوں دوپہر تک اس موضوع پر بحث کرتے رہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ابھی وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تھے کہ نیچے سے کسی گاڑی کے تیز ہارن کی آواز سنائی دی۔ ایڈنا نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ اسے ورنی ملر کا سر نظر آیا جسے اس کے مخصوص سنہرے بالوں کی وجہ سے وہ اچھی طرح پہچانتی تھی۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔
ورنی ملر نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور چیخ کر پوچھا۔ ’’ڈیوس گھر پر ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ ایڈنا کو اثبات میں جواب دینا پڑا۔ اس دوران ڈیوس خود بھی آ کر کھڑکی سے جھانکنے لگا۔ ’’ایک منٹ کے لیے نیچے آئو۔‘‘ ورنی ملر چلّایا۔
ایڈنا اُوپر کھڑکی میں کھڑی دیکھتی رہی کہ ڈیوس نے نیچے جا کر ورنی ملر کی کار سڑک کے دوسری طرف واقع گیرج میں لے جاکر کھڑی کر دی۔ وہ بڑا سا گیرج تہہ خانے میں تھا اور عمارت میں رہنے والے لوگ اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے تھے۔ ورنی ملر کی گاڑی وہاں کھڑی کرنے کے بعد ڈیوس نے اپنی گاڑی کی چابیاں اسے دے دیں۔ تاہم ورنی ملر بھی اس کے ساتھ ہی اُوپر اپارٹمنٹ میں آ گیا۔
وہ ایک کائوچ پر ڈھیر ہوتے ہوئے بولا۔ ’’میں تو مارا گیا… بڑی مشکل سے کنساس سٹی سے نکل کر بھاگا ہوں۔‘‘ پھر وہ اپنے ہاتھ کا جائزہ لیتے ہوئے بولا۔ ’’تمہارے پاس ٹنکچر آیوڈین ہوگا؟‘‘
اس کے ہاتھ پر معمولی سا زخم تھا۔ ایڈنا نے اس کے ہاتھ پر ٹنکچر آیوڈین لگا دیا۔
ورنی ملر گہری سانس لے کر بولا۔ ’’میں وہ آدمی ہوں جسے اس وقت اس ملک میں پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جو کچھ ہوا ہے، مجھے اس کے سلسلے میں پھانسی ہو سکتی ہے۔ ایک رات پہلے ہی میں نے فرینک ناش کی بیوی فرانسس سے کہا تھا کہ اس کے شوہر کو چھڑانے کے سلسلے میں جو کچھ بھی مجھ سے ہو سکا، ضرور کروں گا۔ اب وہی عورت میری نشاندہی کرے گی۔‘‘
اس کے بعد ورنی ملر اسی اپارٹمنٹ میں چھپا رہا۔ دوسرے روز وہ جا کر اپنی گرل فرینڈ مارتھا کو بھی وہیں لے آیا۔ وہ تین دن وہاں چھپے رہے، پھر غائب ہوگئے۔
٭…٭…٭
مشین گن سے صرف دس سیکنڈ کی فائرنگ اور پانچ افراد کی ہلاکت نے نہ صرف ایف بی آئی میں انقلاب کی راہ ہموار کر دی بلکہ ملک بھر کی فضا کو بھی تبدیل کر دیا۔ عام شہری کو بھی احساس ہوگیا کہ مجرموں کے حوصلے واقعی بہت بڑھ گئے ہیں۔ وہ ’’وار آن کرائم‘‘ میں قانون کے محافظوں کے ہمنوا ہوگئے۔ ایڈگرہوور کسی بھی رپورٹر سے خونریزی کے بارے میں بات کرتا تو نہایت مضبوط اور پُرعزم لہجے میں یہی کہتا۔ ’’ہم اس واقعے کے ذمّے داروں کو نہیں چھوڑیں گے، خواہ ہماری عمریں انہیں تلاش کرنے میں گزر جائیں لیکن ہم اپنی جدوجہد کبھی ترک نہیں کریں گے۔ اس کیس کی فائل کبھی بند نہیں ہوگی۔‘‘ (جاری ہے)