Sunday, May 19, 2024

khatarnak Mafia | Episode 8

’’واردات کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پیشہ ور ماہر مجرموں کا کام ہے…‘‘ ایف بی آئی ایجنٹ رالف کولون بولا ’’لیکن وہ اس شہر کے رہنے والے نہیں ہیں، ورنہ وہ آپ کے شوہر کو صورت سے پہچان لیتے۔ وہ ایک ممتاز شہری ہیں۔ بہرحال مجرموں کا پیشہ ور ہونا آپ کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اس قسم کے لوگوں کو صرف تاوان کی رقم سے غرض ہوتی ہے۔ وہ عام طور پر مغوی کو کوئی جسمانی گزند نہیں پہنچاتے۔‘‘
دن چڑھے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ایڈگر ہوور نے کنساس سٹی میں گس جونز کو فون کیا کہ وہ اوکلاہاما سٹی پہنچ کر ارشل کے اغوا کا کیس سنبھال لے۔ گس جونز فوراً ہی ہوائی جہاز کے ذریعے اوکلاہاما روانہ ہو گیا۔ رالف کولون نے ایئرپورٹ پر اس کا استقبال کیا۔ دونوں نے گاڑی میں ارشل کے گھر جاتے وقت، راستے میں اس واقعے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ وہ اندازے قائم کر رہے تھے کہ اس سلسلے میں کن کن لوگوں کو مشکوک سمجھا جاسکتا تھا۔ ان کا شبہ جیرٹ اور گھر کے ملازموں کی طرف بھی گیا۔ ان کے خیال میں اگر ارشل کا کوئی قریبی آدمی اس واردات میں ملوث نہیں تھا تو پھر زیادہ امکان یہ تھا کہ ہاروے بیلے اور اس کے ساتھ جیل سے فرار ہونے والے کچھ آدمی اس کے ذمےدار ہوں۔
حویلی پہنچ کر گس جونز نے برنائس کو مشفقانہ انداز میں ایک لیکچر دیا اور بتایا کہ ان کی توقع کے مطابق آئندہ کیا ہو سکتا تھا۔ انہیں انتظار کرنا تھا کہ اغواءکار ان سے رابطہ کریں۔ وہ تاوان کی مطلوبہ رقم ادا کر دیں گے۔ مسٹر ارشل خیریت سے گھر آجائیں گے۔
’’مسٹر ارشل کے خیریت سے گھر واپس آتے ہی ہمارا کام شروع ہو جائے گا۔‘‘ گس جونز نے کہا۔
٭…٭…٭
یہ ایف بی آئی کی خوش قسمتی تھی کہ چارلس ارشل کو مشین گن کیلی جیسے مجرم نے اغوا کیا تھا جس میں درحقیقت پیشہ ور، شاطر اور پکے مجرموں والی خصوصیات نہیں تھیں۔ اس کی بعض حرکتیں تو اچھی خاصی احمقانہ ہوتی تھیں۔ وہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے والا آدمی تھا۔ اس کے سوانح نگاروں نے اسے جو کچھ بنا کر پیش کیا ہے، اس کا وہ امیج تخلیق کرنے والی درحقیقت اس کی بیوی کیتھرین تھی۔ وہ سنہرے بالوں والی ایک نہایت چالاک اور مکار عورت تھی۔ خود ایڈگر ہوور نے کئی بار پریس کے سامنے اس کاتذکرہ کیا۔
مشین گن کیلی میں مجرمانہ صلاحیتیں بہت کم تھیں۔ اس کے باوجود اس کاشمار 1930ء کی دہائی کے بہت بڑے مجرموں میں ہوتا ہے۔ اس زمانے کے، اور اس قبیل کے لوگوں میں وہ واحد آدمی تھا جو ایک اچھے بھلے تعلیم یافتہ اور خوشحال گھرانے سے نکل کر مجرم بنا تھا۔ اس نے کالج تک تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ وہ وجیہ اور خوش لباس بھی تھا۔ وہ1900 ء میں شکاگو میں پیدا ہوا اور دو سال کی عمر میں اپنی فیملی کے ساتھ ممفس پہنچ گیا۔ اس کا باپ ایک کامیاب انشورنس ایجنٹ تھا۔ کیلی کا بچپن اچھے علاقوں میں گزرا۔ اس نے اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ خرچ کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے بھی ہوتے تھے۔ لڑکپن ہی سے وہ لڑکیوں کی توجہ حاصل کرنے میں بھی نہایت کامیاب تھا۔
جب اس کی ماں کا انتقال ہوا اور اس کا باپ ایک اور عورت کے چکر میں پڑ گیا، تب سے کیلی کی زندگی میں خرابی آنی شروع ہوئی۔ کالج کی تعلیم ادھوری چھوڑنے کے بعد وہ غیرقانونی شراب فروخت کرنے کے دھندے میں پڑگیا۔ باپ نے اس سے تعلق توڑ لیا تھا۔ وہ دنیا میں بے سہارا رہ گیا تھا اور اِدھر اُدھر بھٹکنے لگا تھا۔ اس میں اب بھی زندگی کی آسائشیں اور اچھی چیزیں حاصل کرنے کی لگن موجود تھی۔ وہ جینوا نامی ایک لڑکی کو بھگا کر لے گیا جو ایک دولت مند باپ کی بیٹی تھی تاہم لڑکی کے باپ نے اسے قبول کر لیا۔
کیلی اس کی کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرنے لگا اور دو بچوں کا باپ بن گیا لیکن شاید اس کی قسمت اچھی نہیں تھی۔ اسے سسر کا سہارا زیادہ طویل عرصے کے لیے میسر نہیں رہا۔ اس کے سسر کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک بار پھر بھٹکنے لگا۔ حالانکہ اس کی ساس نے اسے ایک پارکنگ گیرج اور ایک ڈیری فارم خرید کر دیا لیکن وہ انہیں منافع بخش انداز میں چلانے میں ناکام رہا۔ وہ زیادہ کوشش کرنے کے بجائے ایک بار پھر ناجائز شراب کے دھندے میں پڑگیا۔
چوبیس سال کی عمر میں وہ پہلی بار گرفتار ہوا۔ تاہم جج نے اسے ایک کیمپ میں صرف چھ ماہ تک ہلکی مشقت والے کام کرنے کی سزا دی۔ جنیوا اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ مایوس اور دلبرداشتہ ہو کر اس نے زیادہ مقدار میں ایک دوا پی کر خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی لیکن محض چند الٹیاں آنے کے بعد اس کی طبیعت سنبھل گئی اور وہ مرنے سے بچ گیا۔ خودکشی کی کوشش پر اسے سزا ہوسکتی تھی۔ اس خوف کی وجہ سے وہ کنساس سٹی چلا گیا جہاں اس نے ایک سپراسٹور میں ملازمت حاصل کرلی۔ وہاں اس نے غبن کرکے اتنی رقم جمع کرلی کہ ایک ٹرک خرید سکے۔
اس ٹرک میں وہ نیو میکسیکو تک غیرقانونی شراب لے جانے لگا۔ اس دھندے میں وہ اس مرتبہ پکڑا گیا تو جج نے اسے سخت سزا دی۔ اسے پانچ سال کے لیے لیون ورتھ کی جیل بھیج دیا جو گویا نئے مجرموں کے لیے ایک قسم کی پرورش گاہ تھی۔ وہاں وہ زیادہ سنگین وارداتیں کرنے والے مجرموں سے متعارف ہوا اور ان کے حلقے میں شامل ہوگیا۔ ایک بار فرینک ناش نے جیل سے اپنے کچھ ساتھیوں کو فرار کرانے کی کوشش کی تو اس میں کیلی نے بھی اس کی مدد کی۔
1930ء میں پیرول پر رہا ہونے کے بعد وہ منی سوٹا چلا گیا اور ’’گرین لینٹرن‘‘ کلب میں اس کی نشست و برخاست شروع ہو گئی۔ یہ گویا مجرموں کا ایک غیررسمی ہیڈکوارٹر تھا۔ ان لوگوں نے جلد ہی اسے قبول کر لیا اور وہ ان کے ساتھ مل کر ڈکیتیوں وغیرہ میں حصہ لینے لگا۔ پھر اس نے کیتھرین تھارن نامی ایک عورت سے شادی کر لی۔ کیتھرین کی یہ تیسری شادی تھی۔ اس کا دوسرا شوہر کچھ پُراسرار سے حالات میں مر چکا تھا۔ اس کی ایک بچی تھی جسے اس کی نانی پال رہی تھی۔
کیتھرین پینے پلانے کی عادی اور بڑے دھڑلّے سے ہر کام کر گزرنے والی عورت تھی۔ زندگی کی آسائشوں اور عیش و عشرت کی دلدادہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت شاطر اور مکار بھی تھی۔ جرائم کی دنیا میں کیلی کا نام ’’اونچا‘‘ کرنے والی درحقیقت وہی تھی۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر ایڈگر ہوور نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے ’’مجھے مجرمانہ رجحانات رکھنے والی جن عورتوں سے 1933ء اور 1934ء کے درمیان واسطہ پڑا، کیتھرین ان سب میں عیار ترین تھی۔ مجرمانہ رجحانات کے ساتھ ساتھ اس میں اداکاری کی بھی زبردست صلاحیتیں موجود تھیں۔ اس کا شوہر کیلی اس کے اشاروں پر ناچتا تھا۔‘‘
کیتھرین کسی نہ کسی انداز میں کیلی کے جرائم میں شریک رہتی تھی اور شاید اس سے کیلی کو حوصلہ ملتا تھا ورنہ وہ خود تو خاصا نکما قسم کا ڈاکو تھا۔ ڈکیتی سے کچھ دیر پہلے کبھی کبھی وہ اتنا نروس اور ہیجان زدہ ہوتا تھا کہ اسے قے آجاتی تھی۔ اس کی کمزوریاں دیکھ کر ہاروے بیلے، ورنی ملر اور ان جیسے دوسرے گھاگ اور سفاک ڈاکوئوں نے تو کچھ عرصے بعد اس سے جان چھڑا لی تھی ۔ ڈاکا ڈالتے وقت کبھی کبھی وہ اچھے خاصے ادبی قسم کے جملے بھی بولنے کی کوشش کرتا تھا جس سے اس کے ذوق اور حس مزاح کا پتا چلتا تھا۔
ایک بار اس نے ایک بینک ڈکیتی کے دوران کیشیئر پر گن تان کر بڑے دوستانہ لہجے میں کہا ’’لائو یار… ہماری خون پسینے کی کمائی ہمارے حوالے کر دو۔ اس ڈکیتی کے لیے روانہ ہوتے وقت ہمیں اچھا خاصا پسینہ آ رہا تھا اور عین ممکن ہے کہ واپس جاتے وقت ہمارا تھوڑا بہت خون بھی بہہ جائے۔‘‘
ڈکیتیوں کے علاوہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کے لیے بھی وہ ایک ناموزوں یا ’’نااہل‘‘ مجرم تھا۔ ایک بار اس نے ٹیلیفون ڈائرکٹری میں سے ایک شخص کا نام پتا دیکھ کر اسے اغوا کرلیا۔ وہ نسلاً ریڈ انڈین تھا اور اس کی فیملی تاوان ادا کرنے کے قابل نہیں تھی۔ آخرکار کیلی کو تاوان وصول کئے بغیر ہی مغوی کو رہا کرنا پڑا۔ الٹا اس پر کیلی کو اپنے پلّے سے تھوڑا بہت خرچ کرنا پڑ گیا۔ اس کے علاوہ اس کا وقت بھی ضائع ہوا اور پریشانی بھی اٹھانی پڑی۔
کیلی کی بیوی کیتھرین کا گھر فورٹ ورتھ میں تھا اور کیلی اسی کے گھر میں رہتا تھا۔ وہ پارٹنرز کی تلاش میں شکاگو اور سینٹ پال کے درمیان چکر لگاتا رہتا تھا۔ اس کا گھر جلد ہی پولیس کی نظر میں آ گیا۔ وہ پولیس والوں سے دوستی بڑھانے کی کوششیں بھی کرتا رہتا تھا۔ ایک بار تو اس نے اپنے علاقے میں نقب زنی کرنے اور تالے توڑ کر چوریاں کرنے والے ایک آدمی کو پکڑوانے میں پولیس کی ’’مدد‘‘ بھی کی۔ بینکوں میں ڈاکے ڈالنے والا ایک ’’بڑا‘‘ ڈاکو بننا کیلی کا خواب تھا اور وہ اس مقصد کے لیے، اپنی عقل کے مطابق جدوجہد کرتا رہتا تھا۔
اس کی بیوی گویا اس کی ’’پریس ایجنٹ‘‘ یا ’’پبلسٹی منیجر‘‘ قسم کی چیز تھی۔ وہ محفلوں میں بیٹھ کر کیلی کے کارنامے خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتی۔ وہ شاید اس پر اس امید پر ایسا کرتی تھی کہ یہ باتیں بڑے مجرموں تک پہنچ جائیں اور وہ کیلی کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ ممکن ہے وہ کیلی کے سنے سنائے کارناموں کی بنیاد پر اسے اپنا ساتھی بنالیں۔ آخرکار کیلی کو ایک بینک ڈکیت ریڈی بینز کا ساتھ میسر آ گیا جو اپنے میدان میں خاصا ’’کامیاب‘‘ تھا۔ پھر اس سے ذرا کمتر درجے کا ایک اور بدمعاش البرٹ بیٹس بھی اس کا ساتھی بن گیا۔ ان کے ساتھ مل کر کیلی نے واشنگٹن، ٹیکساس اور مسی سسپی میں کئی بینک لوٹے۔
کیتھرین مجرموں کی محفلوں میں بیٹھ کر کیلی کے بارے میں جو بڑی بڑی باتیں کر تی تھی، وہ فورٹ ورتھ کے ایک پولیس آفیسر اور سراغ رساں ویدر فورڈ کے کانوں تک بھی پہنچ چکی تھیں۔ کیتھرین تو یہ بات بھی کر چکی تھی کہ کیلی کے مراسم ورنی ملر جیسے ’’نامی گرامی‘‘ مجرم اور بدمعاش سے بھی ہیں۔ جب کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن والی خونریزی کے سلسلے میں ورنی ملر کا نام بھی مشتبہ افراد کی فہرست میں آیا تو سراغرساں ویدر فورڈ کو یہ بات یاد آئی کہ اس نے ورنی ملر سے کیلی کے مراسم کے بارے میں بھی سنا تھا۔ اس نے ایف بی آئی کے کنساس سٹی آفس کو بھی اپنی سنی ہوئی اس بات سے آگاہ کر دیا۔
یوں پہلی بار کیلی کا نام ایف بی آئی والوں کے کانوں تک پہنچا۔ پھر ایک ایجنٹ نے اس بارے میں اپنی معلومات پر مبنی رپورٹ تحریر کرتے ہوئے، اس میں یہ بھی لکھا کہ وہ مشین گن سے گولیاں چلاتے ہوئے دیوار پر ان گولیوں سے اپنا نام لکھ سکتا ہے۔ بہرحال، ہوتے ہوتے اس طرح کیلی کا نام بھی کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن والی خونریزی کے سلسلے میں مشتبہ افراد میں شامل ہو گیا۔
فورٹ ورتھ میں ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ موجود تھا۔ اس کا نام بلیک تھا۔ وہ کیلی کے گھر کی نگرانی کرنے لگا۔ وہاں کھڑی ایک کیڈلک کا نمبر بھی نوٹ ہو گیا۔ کیتھرین کی ماں کے گھر کی بھی نگرانی ہونے لگی لیکن کئی دن کی چھان بین کے بعد ایف بی آئی والے اس نتیجے پر پہنچے کہ کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن والی خونریزی سے کیلی کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ جان لینے کے بعد ایف بی آئی والوں کو کیلی کی ذات سے کوئی خاص دلچسپی نہ رہی۔
کیتھرین کی ماں فورٹ ورتھ کے شمال میں ایک نکمے اور جھگڑالو کاشت کار کے ساتھ اس کے فارم ہائوس میں رہتی تھی۔ کاشت کار کا نام باس شینن تھا۔ چارلس ارشل کو اغوا کرنے کے بعد اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر کیلی اسے باس شینن کے فارم ہائوس پر ہی لے گیا تھا۔ باس شینن اور اس کا بیٹا آرمن اس وقت تک ارشل کو سنبھالنے اور اس کی نگرانی کرنے پر آمادہ ہو گئے جب تک تاوان کی رقم وصول نہ ہو جاتی۔ ان کے آمادہ ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ کیلی نے تاوان کی متوقع رقم میں سے انہیں بھی کچھ حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس دوران کیتھرین اپنی بیٹی کو اپنی ماں کے پاس سے اپنے گھر لے آئی۔
اتوار کی صبح کیتھرین نے پولیس کے سراغرساں ویدر فورڈ کو اپنے گھر مدعو کیا۔ کیتھرین کی ویدر فورڈ سے تھوڑی بہت شناسائی تھی۔ ویدر فورڈ نے اسے یہ تاثر دے رکھا تھا کہ وہ ایک کرپٹ پولیس آفیسر ہے۔ درحقیقت وہ جرائم کی دنیا کے بارے میں سن گن لینے کے لیے کیتھرین سے شناسائی رکھے ہوئے تھا جبکہ کیتھرین پولیس کی سرگرمیوں اور کارروائیوں سے آگاہ رہنے کے لیے اس سے میل جول رکھتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ اس لیے بھی ویدر فورڈ سے دوستانہ انداز میں ملتی تھی کہ شاید وہ کبھی کسی آڑے وقت میں اس کے کام آجائے۔ دونوں اپنے اپنے چکر میں کبھی کبھار ایک دوسرے سے مل لیتے تھے۔
آج بھی کیتھرین نے اس امید پر اسے اپنے گھر مدعو کیا تھا کہ شاید ارشل کے اغوا کے سلسلے میں پولیس کی پیش رفت کے بارے میں اس کے پاس کوئی خبر ہو تو وہ اسے سنا دے۔ ویدر فورڈ جب کیتھرین کے ہاں پہنچا تو وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔ ویدر فورڈ ڈرائیور وے سے گزرتا ہوا اس کی طرف بڑھا اس نے وہاں کیتھرین کی کار کھڑی دیکھی۔ اس کی پچھلی سیٹ پر اسے اوکلاہاما کا ایک اخبار پڑا نظر آیا جس کے پہلے ہی صفحے پر جلی سرخیوں میں چارلس ارشل کے اغوا ءکی خبر چھپی ہوئی تھی۔ ویدر فورڈ کی توجہ گاڑی کے ٹائروں کی طرف بھی گئی جن پر سرخ سی مٹی لگی ہوئی تھی۔ گاڑی یقیناً کہیں کیچڑ میں سے گزری تھی مگر اب گیلی مٹی خشک ہوچکی تھی۔
ویدر فورڈ اس خشک مٹی کا رنگ دیکھ کر چونکے بغیر نہ رہ سکا۔ تاہم اس نے کیتھرین کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ چونکا تھا۔ دراصل ویدر فورڈ کو معلوم تھا کہ سرخ سے رنگ کی مٹی صرف اوکلاہاما کی تھی۔ وہ کیتھرین کے پاس برآمدے میں ہی جا بیٹھا اور وہ خوب چہک چہک کر اس سے باتیں کرنے لگی لیکن ویدر فورڈ کو اس کی باتوں میں کوئی خاص دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ وہ جلد ہی وہاں سے اٹھ آیا۔
گھر واپس آتے وقت اس کا ذہن اسی معاملے میں الجھا ہوا تھا۔ گھر آکر اس نے اخبارات میں ایک بار پھر ارشل کے اغوا کی خبریں تو جہ سے پڑھیں۔ اس نے جتنا زیادہ پڑھا، اتنا ہی اسے یقین ہوتا گیا کہ ارشل کے اغواء کے پیچھے کیلی اور کیتھرین کا ہاتھ ہے۔
دوسری صبح اس نے ایف بی آئی کے ڈیلاس آفس کو فون کیا۔ اس نے ڈیلاس آفس کے انچارج کو اپنے اندازوں سے آگاہ کیا۔ ڈیلاس آفس کے انچارج نے اس کے خیالات اوکلاہاما میں موجود گس جونز تک پہنچا دیئے۔ گس جونز خاص طور پر ارشل کے اغوا کے سلسلے میں ہی وہاں آیا ہوا تھا لیکن نہ جانے کیوں اس نے اس ٹپ کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جو اسے بیٹھے بٹھائے ہی مل گئی تھی۔
٭…٭…٭
ادھر گس جونز نے اوکلاہاما آ کر ارشل کے اغوا کے کیس پر کام شروع کیا، ادھر ریاست آئیووا کے ایک قصبے ڈیکسٹر کے مضافات میں اسی صبح ہنری نائے نامی ایک آدمی سیر کے لیے نکلا۔ وہ درحقیقت ایک کسان تھا اور اپنے فارم کے قریب ہی کے علاقے میں سیر کے لیے نکلا تھا۔ ایک پگڈنڈی پر چلتا ہوا وہ تقریباً بیس ایکڑ پر محیط ایک قطعہ اراضی کے قریب پہنچا جو درختوں اور گھنی جھاڑیوں سے گھرا ہوا تھا۔ کبھی یہاں ایک امیوزمنٹ پارک ہوا کرتا تھا جہاں لوگ سیر و تفریح اور طرح طرح کے جھولوں وغیرہ سے لطف اندوز ہونے کے لیے آیا کرتے تھے لیکن کچھ وجوہ کی بناء پر وہ پارک کافی عرصہ پہلے بند ہوگیا تھا اور اب اس کی نشانیاں بھی معدوم ہو چکی تھیں۔
اب اس کا زیادہ بڑا مصرف یہ رہ گیا تھا کہ محبت کرنے والے جوڑے کبھی کبھی اپنی گاڑیوں میں یہاں آ جاتے تھے۔ یہاں انہیں پُرفضا ماحول اور تخلیہ میسر آجاتا تھا۔ اردگرد درخت اور گھنی جھاڑیاں موجود ہونے کی وجہ سے پردہ بھی رہتا تھا۔ اس جگہ کے قریب سے گزرتے وقت ہنری نائے کی نظر اپک فورڈ پر پڑی۔ تین افراد اس کے پاس کھڑے تھے۔ ہنری نائے یہی سمجھا کہ شاید وہ ایڈونچر اور تفریح کے شوقین ایسے لوگ تھے جو اس قسم کی جگہوں پر آ کر کیمپ لگا لیتے تھے۔
پھر ہنری نائے کی نظر قریب ہی زمین پر پڑی ایک قمیص کی طرف چلی گئی۔ اس قمیص کو دیکھ کر ہنری کو کچھ ایسا لگا جیسے وہ خون میں لتھڑی ہوئی تھی لیکن وہ خون اب خشک ہو چکا تھا۔ وہ چونکا اور تھوڑا سا خوفزدہ بھی ہوگیا۔ وہ واپس مڑا اور تیزی سے چلتا ہوا اپنے گھر پہنچا جہاں سے اس نے رضاکار پولیس والوں کو فون کر دیا۔
ہنری نائے جو جگہ دیکھ کر آ رہا تھا، وہ درحقیقت کلائیڈ نے تین دن پہلے دیکھی تھی اور پڑائو کے لئے منتخب کر لی تھی۔ پلیٹ سٹی میں پولیس مقابلے میں بچ نکلنے کے بعد وہ شام کے قریب یہاں پہنچے تھے۔ کلائیڈ کو یہ جگہ خاصی محفوظ نظر آئی اور انہوں نے یہاں پر ایک قسم کا کیمپ ہی لگا لیا تھا لیکن یہ کسی عام قسم کے کیمپ کے بجائے کوئی طبی کیمپ معلوم ہو رہا تھا۔ کلائیڈ کا بھائی بک، جس کی کھوپڑی میں سے گولی گزر گئی تھی، نہ جانے کس طرح ابھی تک زندہ تھا۔ کلائیڈ اور ڈبلیو ڈی جونز کو جو دوا میسر آسکی تھی، وہ انہوں نے بک کے سر پہ لگا کر، اوپر سے پٹی باندھ دی تھی۔ بک زمین پر نیم بے ہوشی کی حالت میں لیٹا تھا اور دھیرے دھیرے موت کی آغوش میں جا رہا تھا۔
بلانشے کی ایک آنکھ پھوٹ چکی تھی اور بونی بہ مشکل تھوڑا بہت چل سکتی تھی لیکن کلائیڈ ان لوگوں کو کسی اسپتال تو کیا، کسی موٹیل میں ٹھہرانے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتا تھا۔ ان کی کار گولیوں سے اس طرح چھلنی تھی کہ کوئی انتہائی کمزور نظر والا شیرف بھی اسے دیکھ کر بری طرح چونک سکتا تھا۔ ڈبلیو ڈی جونز نے گولیوں کے سوراخوں میں گیلی مٹی بھر کر انہیں چھپانے کی کوشش کی تھی پھر راستے میں اس نے ایک اور کار چُرا لی تھی۔ کلائیڈ اس کار میں بیٹھ کر دو دن پہلے قریبی قصبے ڈیکسٹر گیا تھا۔
وہاں سے اس نے پانچ پکی پکائی مرغیاں، برف، اسپرٹ، پٹیاں اور کچھ ریڈی میڈ کپڑے خریدے تھے۔ دوسرے روز وہ پھر ایسی ہی کچھ چیزیں خریدنے گیا تھا۔ اتوار کی صبح وہ سو کر اٹھے تو انہوں نے بک کو اس وقت بھی زندہ پایا۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیسے زندہ تھا۔ اس کی بیوی بلانشے باربار پٹیوں میں لپٹے ہوئے اس کے سر پر، ان جگہوں پر ہاتھ رکھ کر دیکھتی تھی جہاں آرپار سوراخ تھا۔ وہ یہ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ان سوراخوں کے راستے کہیں اس کا بھیجا تو باہر نہیں آ رہا تھا؟ بہرحال اس کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ زیادہ دیر کا مہمان نہیں تھا۔
اتوار کی سہ پہر تک ڈیکسٹر کے شیرف تک یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ ویرانے میں ایک محفوظ سی جگہ پر کچھ لوگوں نے کیمپ لگایا ہوا ہے اور یہ لوگ زخمی معلوم ہوتے ہیں۔ شیرف پلیٹ سٹی میں پولیس مقابلے کی خبریں اخبارات میں پڑھ چکا تھا۔ اس کے ذہن میں فوری خیال یہی آیا کہ یہ لوگ کہیں بونی، کلائیڈ اور ان کے مفرور ساتھی تو نہیں؟ شیرف نے بازار جا کر دکانداروں سے پوچھ گچھ کی تو اسے اندازہ ہو گیا کہ کلائیڈ جیسے حلیے کا ایک آدمی دکانوں سے کس قسم کی چیزیں خرید کر لے گیا ہے۔ کلائیڈ کی تصویر پولیس کو مطلوب افراد کے پوسٹرز میں سے ایک پر موجود تھی اور شیرف اس کے ذریعے کلائیڈ کے حلیے وغیرہ کی تصدیق کرسکتا تھا۔
شیرف نے قریبی شہر کی ریاستی پولیس کی مدد کے لئے طلب کر لیا۔ وہاں سے دو آفیسرز آ گئے لیکن ان کے آتے آتے رات ہو گئی۔ اس وقت تک علاقے میں خبر پھیل چکی تھی کہ پولیس فلاں جگہ کارروائی کرنے والی ہے۔ آس پاس کے چھوٹے چھوٹے دیہات سے کسان اپنی کھٹارا گاڑیوں میں بیٹھ کر یوں اشتیاق سے وہاں پہنچنے لگے جیسے کوئی تماشا شروع ہونے والا ہے۔ اس خاص مقام کی طرف جانے والی کچی سڑک کے دونوں طرف پندرہ بیس گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہاں کوئی میلہ لگنے والا ہے۔ کچھ لوگ تو اپنی گرل فرینڈز کو بھی ساتھ لائے ہوئے تھے اور پینے پلانے کے لئے بوتلیں بھی ان کے پاس تھیں۔
رات کے پچھلے پہر کم از کم چالیس افراد گنیں لئے درختوں سے گھرے اس میدان کی طرف بڑھنے لگے تاہم کوئی باقاعدہ کارروائی شروع کرنے کے لئے انہیں دن کا اُجالا پھیلنے کا انتظار تھا۔ اس کارروائی میں دیہاتی بھی شریک تھے۔
٭…٭…٭
کلائیڈ کی آنکھ صبح سوا پانچ بجے کھل گئی۔ اس نے دیکھا، آس پاس سبزے پر کافی اوس پڑی ہوئی تھی۔ بلانشے اس سے پہلے ہی بیدار ہوچکی تھی۔ اس نے اپنی زخمی آنکھ کو چھپانے کے لئے سیاہ چشمہ لگایا ہوا تھا۔ ڈبلیو ڈی جونز آگ پر گوشت گرم کر رہا تھا۔ کلائیڈ، بونی کے قریب ایک کشن پر بیٹھ گیا۔ اس کا ارادہ وہاں سے جلدی کوچ کرنے کا تھا۔ اس نے اور ڈبلیو ڈی جونز نے مل کر گزشتہ رات کار کی سروس کرلی تھی اور گنیں بھی صاف کر لی تھیں۔
’’ہم جائیں گے کہاں؟‘‘ بونی نے پوچھا۔ وہ ابھی تک اسی نائٹ گائون میں تھی جو اس نے پلیٹ سٹی میں پولیس کے نرغے میں آنے سے پہلے پہنا ہوا تھا۔
’’ہم سب نہیں جائیں گے۔ صرف میں بک کو ساتھ لے کر مما کے پاس جارہا ہوں۔‘‘ کلائیڈ نے فیصلہ سنایا۔
ان دونوں بھائیوں نے ماں سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ کبھی ایک بھائی کو کچھ ہوا تو دوسرا بھائی اسے ساتھ لے کر ماں کے پاس گھر پہنچانے ضرور آئے گا، خواہ حالات کیسے بھی ہوں۔
’’ہنی! تم مجھے ساتھ لئے بغیر کہیں نہیں جائو گے۔‘‘ بونی نے سرگوشی کے انداز میں کہا ’’ویسے بھی تمہیں بک کو ساتھ لے کر اتنا لمبا سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہیں معلوم ہے، وہ مر رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ رات تک زندہ رہے گا۔‘‘
’’میں اسی لئے تو اُسے گھر لے جا رہا ہوں کہ وہ مر رہا ہے۔‘‘ کلائیڈ نے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ یہ بات کرتے ہوئے اس کی نظر ڈھلان سے اوپر کی طرف چلی گئی جہاں درختوں کے جھنڈ تھے۔ وہ جگہ کسی چھوٹی سی وادی کی طرح پیالا نما تھی۔ قدرے بلندی پر چاروں طرف جھاڑیاں اور درخت تھے۔ انہی کے درمیان کہیں آنے جانے کا راستہ مل جاتا تھا۔ فلائیڈ نے دیکھا کہ ایسے ہی ایک راستے سے کم از کم چھ آدمی نیچے آ رہے تھے۔ اس نے فوراً اپنی پسندیدہ آٹومیٹک رائفل اٹھائی اور فائرنگ شروع کر دی۔
وہ ان آدمیوں کے سروں سے ذرا اوپر گولیاں چلا رہا تھا۔ اس کا مقصد انہیں صرف خوفزدہ کر کے بھگانا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید وہ صبح کی سیر کے لئے نکلے ہوئے عام، سیدھے سادھے دیہاتی ہیں لیکن جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس کی فائرنگ کے جواب میں چاروں طرف سے، درختوں کے عقب سے گولیاں برسنے لگیں۔ کیمپ کی ہر چیز گولیوں کی زد میں تھی۔
ڈبلیو ڈی جونز اس وقت آگ کے قریب کھڑا تھا۔ فرائنگ پین اس کے ہاتھ میں تھا۔ کوئی چیز اس کے سینے پر لگی اور وہ گر پڑا۔ کلائیڈ جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چیخ کر ہر ایک کو نئی چُرائی ہوئی کار میں بیٹھنے کی ہدایت کر رہا تھا۔ ڈبلیو ڈی جونز اُٹھ کھڑا ہوا۔ گرتا پڑتا وہ کسی طرح گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا لیکن اس سے گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوئی۔ کلائیڈ رائفل کو پہلو سے لگا کر ایک ہاتھ سے فائرنگ کرتے ہوئے گاڑی تک پہنچا اور جونز کو ایک طرف دھکیل کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
بونی بھی لنگڑاتی ہوئی کار تک آن پہنچی۔ ایک لمحے بعد بلانشے بھی نیم بے ہوش بک کو سنبھالتی اور کسی حد تک گھسیٹتی ہوئی آن پہنچی۔ کسی نہ کسی طرح سب گاڑی میں گھس ہی گئے۔ کلائیڈ نے فوراً گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈالا اور تیزی سے گھما کر سیدھی کرتے ہوئے اس اکلوتے راستے کا رخ کیا جس سے گزر کر گاڑی پکی سڑک تک پہنچ سکتی تھی۔ وہ ایک پگڈنڈی نما راستہ تھا۔
اب گولیاں گاڑی پر برس رہی تھیں۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ ذرا بلندی پر پہنچ کر کلائیڈ نے دیکھا کہ چھ آدمی گنیں لئے اس کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ اس نے ایک بار پھر گاڑی تیزی سے گھمائی۔ سبزے اور جھاڑیوں کو کچلتا ہوا وہ میدان کے وسط میں پہنچا تو گاڑی کسی گڑھے سے گزرتی ہوئی زور سے اُچھلی۔
اسی دوران ایک گولی کلائیڈ کے کندھے پر لگی اور گاڑی بالکل ہی بے قابو ہو کر ایک کٹے ہوئے درخت کے تنے سے ٹکرائی جو زمین پر پڑا تھا۔ گاڑی تنے سے ٹکرا کر رک گئی۔ اس کا اگلا حصہ تنے پر چڑھ گیا تھا۔ ڈبلیو ڈی جونز چھلانگ مار کر گاڑی سے اترا اور اس نے گاڑی کو تنے سے اتارنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔
’’سب گاڑی سے اُتر جائیں…‘‘ کلائیڈ وحشت زدہ انداز میں چلاّیا ۔’’قطار بنا کر بھاگو … قطار بنا کر…‘‘
کلائیڈ خود گاڑی سے اتر کر اس گاڑی کی طرف بھاگا جو پہلے ہی پلیٹ سٹی والے پولیس مقابلے میں بہت سی گولیوں کا نشانہ بن چکی تھی۔ گاڑی کے قریب پہنچ کر اسے اندازہ ہوا کہ اب وہ مزید گولیوں کی بوچھاڑ سے بالکل ہی ناکارہ ہوچکی تھی۔ اس کے چاروں ٹائروں کے پرخچے اُڑ چکے تھے۔
کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ حتیٰ کہ اس کا بونٹ ٹوٹنے کے بعد غالباً انجن بھی ناکارہ ہو چکا تھا۔
کلائیڈ نے درندوں میں گھرے ہوئے شکار کی طرف چاروں طرف سر گھما کر فرار کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اسے لگا کہ دریا کی طرف جانے والے ایک تنگ سے راستے پر شاید کوئی بھی فائرنگ کرنے والا موجود نہیں تھا۔ کلائیڈ اسی طرف بھاگا اور باقی لوگوں نے بھی اپنی بساط کے مطابق اس کی تقلید کرنے کی کوشش کی۔ ایک گولی، بھاگتے ہوئے ڈبلیو ڈی جونز کی پیشانی کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔ وہ ایک بار پھر گرا مگر اس بار بھی اٹھ کر گرتا پڑتا دوڑنے لگا۔
بونی کے پیٹ پر دو چھرے لگے۔ وہ بری طرح گھاس پر گری مگر ڈبلیو ڈی جونز نے اسے اٹھا لیا اور سہارا دے کر اپنے ساتھ چلانے لگا۔ وہ سب ایک برساتی نالے کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ نالا آگے چل کر دریا سے مل رہا تھا۔ دریا تک پہنچنے سے پہلے بک گر پڑا۔ بلانشے نے چیخ ماری۔ کلائیڈ فوراً اپنے بھائی کے پاس پہنچا۔
’’بلانشے کو ساتھ رکھنا…‘‘ بک نے بیٹھی بیٹھی سی آواز میں کہا۔ ’’مجھے چھوڑ دو…میں اب زیادہ دیر زندہ نہیں رہوں گا۔‘‘ اس کی آنکھیں تقریباً بند تھیں اور آواز سرگوشی میں ڈھلتی جا رہی تھی۔
کلائیڈ نے اس کی بات اَن سنی کر دی اور اسے گھسیٹ کر دریا کے قریب جھاڑیوں کی اوٹ میں لے گیا۔ حیرت انگیز طور پر اس وقت قسمت نے کم از کم اس حد تک کلائیڈ کا ساتھ دیا تھا کہ وہ فرار کے لئے ایک راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس طرف آتے وقت کسی نے سامنے سے ان پر گولیاں نہیں چلائی تھیں۔ دریا کے قریب گھنی جھاڑیوں میں انہیں پناہ بھی مل گئی۔ وہ دریا کے کنارے کنارے آگے بڑھے۔ ان کا رخ سڑک کی طرف تھا۔ کلائیڈ کو امید تھی کہ وہ وہاں کوئی کار چُرانے یا چھیننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کچھ دور چلنے کے بعد ان کے سامنے چڑھائی آگئی۔ بک ایک بار پھر گر پڑا۔
’’تم بلانشے کو لے جائو۔‘‘ اس نے ڈوبتی آواز میں ایک بار پھر کہا ’’میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔‘‘
کلائیڈ نے دریا کا جائزہ لیا۔ اسے دریا پر ایک جگہ پل کی موجودگی کے آثار دکھائی دیئے۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا ’’میں کسی کار کی تلاش میں جاتا ہوں۔ تم لوگ یہیں چھپے رہو۔ ان جھاڑیوں میں کوئی تمہیں تلاش نہیں کرسکے گا۔‘‘
اس کے ساتھی جھاڑیوں میں دبک گئے اور وہ دھیرے دھیرے چڑھائی چڑھنے لگا۔
وہ جب درختوں کی آڑ سے نکلا تو اچانک اسے سامنے، پتھروں سے بنی ہوئی ایک اونچی سی محراب دکھائی دی۔ شاید یہ کسی زمانے میں امیوزمنٹ پارک کی طرف آنے کا راستہ تھا۔ اس محراب کے قریب دو ڈپٹی شیرف گنیں لئے کھڑے تھے۔ کلائیڈ لاعلمی میں اچانک ہی ان کے سامنے جا پہنچا تھا۔ ان میں سے ایک کی نظر کلائیڈ پر پڑی تو اس نے فوراً ہی گن سیدھی کرتے ہوئے فائر کیا۔
کلائیڈ جھکائی دیتے ہوئے ایک درخت کی آڑ میں ہوگیا اور چلاّیا۔ ’’اے… فائر مت کرو… میں سر کاری آدمی ہوں۔‘‘
ڈپٹی شیرف نے گن نیچی کرلی تو کلائیڈ درخت کی آڑ سے نکلا اور اس نے فائر کر دیا لیکن گولی کسی ڈپٹی شیرف کو نہیں لگی۔ انہوں نے فوراً سنبھل کر دوبارہ فائر کئے۔ کلائیڈ کے ہاتھوں سے رائفل نکل گئی۔ اس نے فوراً کمر سے لپٹی بیلٹ سے پستول نکالا اور چھلانگ لگا کر دوبارہ درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان گھس گیا۔ انہی کے درمیان بھاگتے بھاگتے وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس پہنچ گیا۔
’’تم ٹھیک ہو نا؟‘‘ اس نے بونی سے پوچھا۔ بونی نے اثبات میں سر ہلایا اور اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’انہوں نے پُل تک جانے کا راستہ بھی روکا ہوا ہے۔‘‘ کلائیڈ بولا۔ پھر اس نے ڈبلیو ڈی جونز کو مخاطب کیا ’’تم دریا پار کرانے میں بونی کی مدد کرسکتے ہو ؟‘‘ ہمیں تیر کر دریا عبور کرنا پڑے گا۔‘‘
ڈبلیو ڈی جونز نے ہامی بھرلی۔ انہوں نے بک اور بلانشے کو قسمت کے سہارے وہیں چھوڑا اور باقی تینوں دریا میں اتر گئے۔ بونی، ڈبلیو ڈی جونز کی گردن سے چمٹی ہوئی تھی۔ غنیمت تھا کے دریا میں پانی گہرا نہیں تھا۔ وہ تینوں دوسری طرف پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرف بھی درخت اور جھاڑیاں موجود تھیں۔ کلائیڈ نے ان کے درمیان سے دیکھا۔ کافی فاصلے پر ایک فارم ہائوس نظر آ رہا تھا۔
’’تم دونوں یہیں ٹھہرو۔ میں اس فارم ہائوس کا جائزہ لے کر آتا ہوں۔‘‘ کلائیڈ نے بونی اور جونز سے کہا۔
ادھر فارم ہائوس کے مالک کا بیٹا مارویل مویشیوں کو چارہ ڈالنے کے لئے اپنے جرمن شیفرڈ کتے کے ساتھ گھر سے نکلا تھا۔ ابھی مارویل نے چارہ ڈالنا شروع ہی کیا تھا کہ اس کا کتا غرّانے اور دانت نکوسنے لگا۔ پھر وہ مکئی کے کھیت کی طرف دوڑتا چلا گیا۔ دوسرے ہی لمحے مارویل نے مکئی کے کھیت سے ایک آدمی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ اس کی پھٹی ہوئی شرٹ پر کیچڑ اور خون لگا ہوا تھا۔ وہ خاردار تاروں والے جنگلے کے قریب آن رکا۔ اس کے ہاتھ میں پستول بھی تھا۔
پستول لہراتے ہوئے وہ مارویل سے مخاطب ہوا ’’اس کتے کو قابو میں کرو، ورنہ میں اسے گولی مار دوں گا۔‘‘
مارویل اٹھارہ سال کا ایک شریف سا لڑکا تھا۔ وہ اس مسلح اور وحشت زدہ اجنبی کو دیکھ کر ڈر گیا۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر کتے کی گردن میں پڑے ہوئے پٹے کی مدد سے اس کو پکڑ لیا۔ اس دوران مارویل کا باپ فیلر اور اس کا ایک ملازم بھی غالباً یہ دیکھنے کے لئے گھر سے باہر آ گئے کہ یہ آوازیں کیسی ہیں۔
’’تم دونوں بھی یہاں آ جائو۔‘‘ کلائیڈ نے پستول لہراتے ہوئے چیخ کر انہیں بھی حکم دیا۔
انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور خاردار تاروں کے جنگلے کے قریب آ گئے۔ کلائیڈ نے دو انگلیاں منہ میں ڈال کر تیز سیٹی بجائی۔ یہ گویا ایک سگنل تھا۔
چند لمحوں بعد ڈبلیو ڈی جونز اور بونی بھی اس کے عقب میں نمودار ہوگئے۔ جونز اپنے چہرے سے خون صاف کر رہا تھا۔ اس کے چہرے اور جسم پر کئی زخم تھے لیکن کوئی بھی گہرا یا خطرناک نہیں تھا۔ بونی کے نائٹ گائون کے سامنے والے حصے پر بھی خون نظر آ رہا تھا۔
کلائیڈ نے بونی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کاشتکاروں سے کہا۔ ’’اسے جنگلا پار کرانے میں میری مدد کرو۔‘‘
فیلر آگے بڑھا اور اس نے سہارا دے کر بونی کو خاردار تاروں والا جنگلا پار کرا دیا۔ عین اسی وقت فیلر کی بیوی اور بیٹی دوڑتی ہوئی اندر سے نکلیں۔
مسز فیلر جوشیلے انداز میں اپنے شوہر اور بیٹے کو گویا تازہ خبر سنانے لگیں۔ پولیس اور شیرف کے آدمیوں نے پرانے پارک والی جگہ پر کچھ مفرور مجرموں کے گرد گھیرا ڈالا ہوا ہے اور…‘‘
اسی لمحے اس کی نظر بونی، کلائیڈ اور جونز پر پڑی۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور باقی الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔ اس کی بیٹی کی آنکھیں بھی خوف سے پھیل گئی تھیں۔
’’دیکھو۔ ہم لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ہمیں صرف ایک کار چاہیے۔‘‘ کلائیڈ نرم لہجے میں بولا۔
فیلر کے فارم ہائوس میں تین کاریں موجود تھیں۔ ان میں سے دو اینٹوں پر کھڑی تھیں۔ تیسری البتہ استعمال کے قابل تھی۔ وہ گیرج میں کھڑی تھی۔
’’ٹھیک ہے۔ اسے نکالو۔‘‘ کلائیڈ نے حکم دیا۔
فیلر کے بیٹے نے گاڑی نکال دی۔ ان لوگوں نے بونی کو پچھلی سیٹ پر بٹھانے میں مدد بھی کی۔ وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔
ان کے پیچھے پولیس، شیرف، ان کے آدمی اور رضاکار وغیرہ ایک گھنٹے تک جنگل اور جھاڑیوں میں مارے مارے پھرتے رہے۔ آخرکار ایک جگہ انہیں بک اور بلانشے مل گئے۔ انہوں نے بک کو اسپتال پہنچایا اور بلانشے کو حراست میں لے لیا۔ بک اس حالت میں بھی مزید ایک ہفتہ زندہ رہا۔ اس دوران اس کے گھر والے بھی آن پہنچے۔ وہ مر گیا تو لاش اس کے گھر والوں کے حوالے کر دی گئی۔ وہ اسے تدفین کے لئے ڈیلاس لے گئے۔ بلانشے کو جیل بھیج دیا گیا۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS