Friday, May 24, 2024

khatarnak Mafia | Episode 9

اس دوران بونی اور کلائیڈ مختلف راستوں پر ناکابندیوں سے کسی نہ کسی طرح بچتے ہوئے مغرب کی طرف سفر کرتے رہے۔ وہ ڈینور پہنچ گئے۔ راستے میں انہوں نے ایک اور کار چُرا لی تھی جس کے بعد طویل عرصے تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
٭…٭…٭
ادھر پولیس پوری ریاست آئیووا میں بونی اور کلائیڈ کو تلاش کر رہی تھی، ادھر اوکلاہاما میں ابھی تک چارلس ارشل کے اغوا کا معاملہ موضوع گفتگو تھا۔ اغوا کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا اور قومی اخبارات میں ابھی تک اس کے بارے میں خبریں چھپ رہی تھیں۔ ایک سال میں یہ کسی ’’بڑے‘‘ آدمی کے اغوا کا تیسرا واقعہ تھا۔ ان تینوں سے پہلے ایک سینیٹر کے کمسن بچے کو اغوا کرلیا گیا تھا اور اس کی بہ حفاظت واپسی ممکن نہیں ہوسکی تھی۔ وہ آخرکار اغوا کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے پولیس اور ایف بی آئی اغوا کے معاملے میں بہت احتیاط برت رہی تھی۔
ارشل کے اغوا کے ایک ہفتے بعد تیل کا ایک اور دولت مند تاجر جان کیٹ اپنے گھر میں ہاتھ منہ دھو کر باتھ روم سے نکلا تھا کہ ملازم نے ایک لفافہ لاکر اسے دیا۔ لفافہ ایکسپریس یونین کا کوریئر دے گیا تھا۔ جان کیٹ نے اسے کھولا تو اس میں سے ایک ٹائپ شدہ خط، چارلس ارشل کا ایک وزیٹنگ کارڈ اور مزید دو لفافے برآمد ہوئے جو بند تھے۔ ٹائپ شدہ خط میں اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دوسرے دو لفافے ارشل کی بیوی کو پہنچا دے۔
جان کیٹ وہ خط پڑھ کر گھبرا گیا اور سارے کام بھول گیا۔ وہ فوراً خط میں دی گئی ہدایت کے مطابق دونوں سر بہ مہر لفافے لے کر ارشل کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ ارشل اور اس کی بیوی کے قریبی جاننے والوں میں سے ایک تھا۔ شاید اسی لئے اغوا کاروں نے پیغام رسائی کے لئے اسے منتخب کیا تھا۔ اس نے ارشل کے ہاں پہنچ کر دونوں لفافے اس کی بیوی برنائس کے حوالے کردئیے۔ برنائس نے انہیں کھولا تو ایک میں سے اس کے شوہر کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط برآمد ہوا جس میں اس نے التجا کی تھی کہ اغوا کاروں کا مطالبہ پورا کردیا جائے۔
دوسرے لفافے سے ایک ٹائپ شدہ خط برآمد ہوا جو اغوا کاروں کی طرف سے تھا۔ اس میں دو لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ارشل کی بیوی وہ خط پڑھ کر رونے لگی۔ اس خط کے علاوہ لفافے میں ایک چھوٹے سے اشتہار کا ٹائپ شدہ مضمون بھی تھا۔ یہ اشتہار ایک فرضی فارم کی فروخت کے سلسلے میں تھا۔ برنائس کو یہ اشتہار ایک ہفتے تک لگاتار روزانہ اوکلاہاما کے ایک اخبار میں مختصر اشتہارات والے صفحے پر دینا تھا۔ یہ گویا اس بات کا اشارہ ہوتا کہ ارشل کے گھر والے اس کی بہ حفاظت واپسی کے لئے اغوا کاروں کا مطالبہ ماننے کو تیار ہیں۔ اس کے بعد اغوا کاروں کو ایک بار پھر ان سے رابطہ کرنا تھا۔
تیل کا ایک اور تاجر ارشل کا دوست تھا جس کا نام پیٹرک تھا۔ وہ بھی ارشل کے اغوا کے بعد سے برنائس سے رابطے میں تھا اور ہر بات کی خبر رکھ رہا تھا۔ اس نے اسی روز وہ مختصر اشتہار اغوا کاروں کی ہدایت کے مطابق ’’ڈیلی اوکلاہاما‘‘ میں ’’برائے فروخت‘‘ کے کالم میں چھپوانے کے لئے اخبار کے دفتر پہنچا دیا۔ اشتہار اس نے اپنی طرف سے دیا تھا۔
اخبار میں صرف ایک ہی دن اشتہار چھپنے کے بعد پیٹرک کے نام اغوا کاروں کا خط آیا۔ اخبار میں چھپنے والے اشتہار میں رابطے کے لئے اخبار ہی کا پوسٹ باکس نمبر دیا گیا تھا۔ خط میں ہدایت کی گئی تھی کہ پیٹرک سنیچر کے روز، رات کے دس بجے کنساس سٹی کے لئے روانہ ہونے والی ٹرین میں سوار ہو۔ راستے میں ایک جگہ اسے سگنل کے طور پر ایک شعلہ بلند ہوتا دکھائی دے گا۔ کچھ فاصلے کے بعد ویسا ہی ایک شعلہ اور نظر آئے گا۔ اس کے فوراً بعد پیٹرک کو رقم کا بیگ ٹرین کی کھڑکی سے باہر پھینک دینا تھا۔ رقم اسے ایک خاص برانڈ کے چمڑے کے بیگ میں رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ خط میں یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ اس سارے عمل میں اگر کوئی گڑبڑ ہوگئی تو وہ کنساس سٹی پہنچ کر ’’موہلے ہوٹل‘‘ میں قیام کرے اور مزید ہدایات کا انتظار کرے۔
برنائس نے جب یہ خط اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر پڑھا، اس وقت وہاں اور بھی کئی آدمی موجود تھے۔ وہ جب اس سطر پر پہنچی جس میں اغوا کاروں نے دو لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا، تو ایک ایف بی آئی ایجنٹ بول اٹھا ’’یہ تو بہت بڑی رقم ہے۔‘‘
’’لیکن یہ رقم ہمیں دینی ہی پڑے گی۔ میرے شوہر کی زندگی دائو پر لگی ہوئی ہے۔‘‘ برنائس بولی ’’اغواکاروں کا مطالبہ ماننے کے سوا ہمارے لئے کوئی چارہ نہیں۔‘‘
ادھر تاوان کے سلسلے میں ان لوگوں کے مذاکرات جاری تھے، ادھر پولیس کا سراغرساں ویدر فورڈ مسلسل ایف بی آئی کے ڈیلاس آفس پر زور دے رہا تھا کہ ’’مشین گن کیلی‘‘ کی بیوی کیتھرین پر نظر رکھیں، وہ اور اس کا شوہر، چارلس ارشل کے اغوا میں ملوث محسوس ہوتے ہیں، لیکن ایف بی آئی نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی ورنہ ارشل کے اغوا کا معمہ شاید شروع میں ہی حل ہوجاتا۔
٭…٭…٭
ہفتے کی رات ارشل اور برنائس کا فیملی فرینڈ پیٹرک ان کی حویلی کے لان پر موجود تھا۔ اس کے ساتھ چار دوسرے آدمی بھی موجود تھے۔ وہ بھی پیٹرک ہی کی طرح ارشل کے فیملی فرینڈز تھے۔ ان کے علاوہ ایک ڈپٹی شیرف بھی موجود تھا۔ وہ سب لوگ گویا کسی کے منتظر تھے۔ آخر ایک کار باہر آکر رکی۔ کسی نے مخصوص سے انداز میں بیل بجائی۔ یہ گویا کوئی سگنل تھا۔ برنائس نے اٹھ کر گیٹ کھول دیا۔ ایک شخص دو بیگ اٹھائے اندر آگیا۔ اس کے چہرے پر قدرے گھبراہٹ اور پریشانی کی آثار تھے۔
وہ دراصل اوکلاہاما کے ایک بینک کا ملازم تھا۔ برنائس نے آج اسے دو لاکھ ڈالر کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی تھی۔ وہ اغوا کاروں کے مطلوبہ برانڈ کے بیگ میں رقم لے کر آیا تھا تاہم اس نے پیٹرک کی ہدایت کے مطابق ایک احتیاطی تدبیر بھی اختیار کی تھی۔ وہ اسی برانڈ کا ایک اور بیگ بھی ساتھ لایا تھا جس میں ردّی اخباروں کے ٹکڑے بھرے ہوئے تھے۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس تدبیر کا کوئی فائدہ بھی ہوگا یا نہیں۔ تاہم اس نے اپنے طور پر بھی کچھ نہ کچھ کرنے میں بہتری سمجھی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ اگر راستے میں اسے کسی نے لوٹنے کی کوشش کی تو وہ اسے ردّی کاغذوں سے بھرا ہوا بیگ دے دے گا۔ اسے امید تھی کہ وہ لٹیروں کو چکر دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔
دو گھنٹے بعد پیٹرک اور تیل کا دوسرا تاجر جان کیٹ کنساس سٹی جانے والی ٹرین میں سوار ہوچکے تھے۔ انہوں نے ٹرین کے آخری کمپارٹمنٹ میں دروازے کے قریب والی سیٹیں لی تھیں۔ چمڑے کے دونوں بیگ ان کے پاس تھے۔ ٹرین کو اوکلاہاما سے روانہ ہونے میں ہی دس منٹ کی تاخیر ہوگئی۔ ایک میلے کے شائقین کو لے جانے کے لئے ٹرین میں دو اضافی بوگیاں لگائی جارہی تھیں۔
’’کہیں اس تاخیر کی وجہ سے اغواکاروں کے منصوبے میں کوئی گڑبڑ نہ ہوجائے۔‘‘ جان کیٹ نے اندیشہ ظاہر کیا۔
’’کاش میں اس سلسلے میں کوئی اندازہ لگا سکتا۔‘‘ پیٹرک نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
آخرکار ٹرین نے رینگنا شروع کیا۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی رفتار تیز ہوئی۔ شہری حدود سے نکلنے کے بعد ریتیلے میدانی علاقوں سے ہوتی ہوئی وہ چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں کے قریب سے گزرنے لگی۔ جوں جوں ٹرین فاصلہ طے کرتی جارہی تھی، پیٹرک کا اضطراب بڑھتا جارہا تھا تاہم جان کیٹ کافی حد تک مطمئن اور بے فکر نظر آرہا تھا۔ وہ مچھلی اور پرندوں کے شکار کی باتیں کررہا تھا۔ پیٹرک، ٹرین کے ہر اسٹاپ پر پلیٹ فارم پر اتر جاتا اور بجلی کے کھمبے کے پاس روشنی میں کھڑے ہوکر سگریٹ سلگاتا تاکہ اگر کوئی اسے دیکھنا چاہے تو آسانی سے دیکھ لے۔
وہ جان کیٹ کے ساتھ ان خاص خاص بدمعاشوں اور بڑے مجرموں کے بارے میں باتیں کر رہا تھا جو ان علاقوں میںبڑی بڑی وارداتیں کررہے تھے۔ وہ ارشل کے اغواکاروں کے بارے میں بھی اندازہ لگانے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ انہیں کس علاقے میں سگنل دیں گے۔ راستے میں ایک ویران پہاڑی علاقہ تھا جس کا نام اوسیج ہلز تھا۔ ان کا خیال تھا کہ مجرم انہیں اسی علاقے میں سگنل دیں گے۔ مگر پھر ٹرین چلتی رہی اور وہ علاقہ بھی گزر گیا۔ انہیں کہیں کوئی شعلہ بلند ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ وہ رات کے اندھیرے میں ہر طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہے مگر کہیں آگ یا شعلہ تو کیا، چنگاری بھی اُڑتی دکھائی نہیں دی۔
آخرکار ٹرین کنساس سٹی کے قریب پہنچنے لگی۔ اس دوران صبح کے آثار نمودار ہونے لگے۔ پیٹرک اور جان کیٹ پر مایوسی غلبہ پانے لگی۔ ان کی یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان سے کوئی غلطی ہوئی تھی یا اغواکاروں نے کسی خاص مقصد کے تحت انہیں چکر دیا تھا۔
آخرکار ٹرین کنساس سٹی کے ریلوے اسٹیشن پر جا رکی۔ انہیں ٹرین سے اترنا پڑا۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے باہر آئے اور اغواکاروں کی ہدایت کے مطابق موہلے ہوٹل میں جاکر قیام پذیر ہوگئے۔
انہیں ہوٹل میں قیام کئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ویٹر ان کے لئے ایک ٹیلیگرام لے کر آیا۔ اس میں لکھا تھا:
’’کچھ ناگزیر وجوہ کی بناء پر میں پچھلی رات تم سے رابطہ نہیں کرسکا۔ آج شام چھ بجے کے قریب رابطہ کروں گا… فقط: ’’ڈبلیو مور‘‘
اغوا کاروں نے رابطے کے لئے پہلے ہی سے یہ فرضی نام اختیار کر رکھا تھا۔ صحیح طور پر تو معلوم نہیں ہوسکا کہ اس رات کیلی انہیں سگنل کیوں نہیں دے سکا تھا لیکن کافی عرصے بعد تحقیقات اور تفتیش کے دوران یہ بات قدرے مبہم سے انداز میں سامنے آئی تھی کہ اس رات کہیں ایک جوہڑ سے گاڑی گزارتے وقت کیلی کی گاڑی کا انجن بند ہوگیا تھا اور وہ شعلے والا سگنل دینے کے لئے مقررہ جگہ پر نہیں پہنچ سکا تھا۔
پیٹرک اور جان کیٹ نے اتوار کا دن موسیقی سنتے اور اخبارات پڑھتے ہوئے گزارا۔ آخرکار پونے چھ بجے کے قریب ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ پیٹرک نے ریسیور اٹھایا۔
’’میں ڈبلیو مور بول رہا ہوں…‘‘ دوسری طرف سے آواز سنائی دی ’’کیا تمہیں میرا ٹیلیگرام مل گیا تھا؟‘‘
’’ہاں… مل گیا تھا۔‘‘ پیٹرک نے جواب دیا۔
’’اب تم ایسا کرو کہ لابیل ہوٹل آجائو۔ ہوٹل کے باہر فٹ پاتھ پر کوئی خود آکر تم سے ملے گا۔ تمہیں چھ بج کر بیس منٹ پر اس فٹ پاتھ پر ہونا چاہیے۔‘‘ فون کرنے والے نے حکم دیا اور فون بند کردیا۔
پیٹرک جب ٹیکسی میں لابیل ہوٹل پہنچا تو اس نے کوٹ کے نیچے پتلون کی بیلٹ میں ایک ریوالور بھی پھنسایا ہوا تھا۔ ہوٹل کے صدر دروازے کے قریب ٹیکسی ے اتر کر، فٹ پاتھ پر پہنچ کر اس نے ایک سگریٹ سلگائی، پھر ٹہلتا ہوا چند قدم آگے چلا گیا۔ چمڑے کا بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس وقت چھ بج کر بیس منٹ ہوچکے تھے۔ چند سیکنڈ بعد ہی اسے ایک خوش لباس نوجوان سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ اس کا جسم ورزشی معلوم ہوتا تھا۔ اس کے سر پہ ایک عمدہ ہیٹ تھا۔ وہ مشین گن کیلی تھا۔
’’لائو … اپنا بوجھ مجھے دے دو۔‘‘ اس نے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
پیٹرک نے گہری نظر سے اس کا جائزہ لیا۔ وہ چاہ رہا تھا کہ اس کے چہرے مہرے کی تمام جزئیات ذہن نشین کرلے۔
اس نے بیگ اس شخص کو دینے میں ذرا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تو وہ بولا ’’جلدی کرو… یہ بیگ مجھے دے دو۔‘‘
’’مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں بیگ صحیح آدمی کو دے رہا ہوں؟‘‘ پیٹرک نے سوال کیا۔
’’تمہیں بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ تم صحیح آدمی سے بات کررہے ہو۔ لائو، بیگ مجھے دو۔‘‘ اس بار کیلی نے غرّانے کے سے انداز میں کہا۔
’’دو لاکھ ڈالر بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ ہمارے پاس کوئی ضمانت ہونی چاہیے کہ تم رقم لے کر اپنا وعدہ پورا کرو گے۔‘‘ پیٹرک بولا۔
’’فضول باتیں مت کرو اور بحث میں وقت ضائع نہ کرو۔‘‘ کیلی کا لہجہ مزید سخت ہوگیا۔ ’’میرے ساتھی میرا انتظار کررہے ہیں۔‘‘
’’مجھے صاف طور پر کم از کم یہ تو بتادو کہ میں واپس جاکر مسز ارشل کو کیا بتائوں؟‘‘ پیٹرک نے کہا اور تھیلا اب بھی کیلی کے حوالے نہیں کیا۔
’’ارشل بارہ گھنٹے بعد گھر پہنچ جائے گا۔‘‘ کیلی نے کہا اور ہاتھ بڑھا کر بیگ پیٹرک کے ہاتھ سے چھین لیا۔ وہ تیزی سے مڑا اور چند لمحوں میں ٹریفک کے اندر کہیں غائب ہوگیا۔
پیٹرک نے ہوٹل واپس پہنچ کر برنائس کو فون کیا اور کہا ’’میں نے فارم کا سودا مکمل کرلیا ہے۔ وکیل نے بتایا ہے کہ زمین کے کاغذات ہمارے نام ہونے میں بارہ گھنٹے لگیں گے۔‘‘
وہ کوڈ ورڈز میں بات کررہا تھا۔ اس کی مراد تھی کہ اس نے اغواکاروں کے نمائندے کو رقم کی ادائیگی کردی ہے اور بارہ گھنٹے بعد ارشل کی رہائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔
برنائس اس کا مطلب بہ خوبی سمجھ گئی۔ وہ گہری سانس لے کر بولی ’’ٹھیک ہے۔ تمہارا بہت شکریہ۔‘‘ پھر اس نے فون بند کردیا۔
٭…٭…٭
پیر کو اوکلاہاما میں تیز بارش ہورہی تھی۔ برنائس بےچینی سے اپنی حویلی کے ڈرائنگ روم میں ٹہل رہی تھی۔ پیٹرک جب تاوان کی رقم ادا کرنے کے بعد کنساس سٹی سے واپس آیا تو ایف بی آئی ایجنٹ گس جونز اسے آفس لے گیا۔ اس نے پیٹرک کو بدمعاشوں اور مجرموں کی تصویروں کے البم دکھائے کہ شاید ان میں اس شخص کی تصویر نظر آجائے جس نے اس سے تاوان کی رقم وصول کی تھی لیکن پیٹرک کو ان میں ایسی کوئی تصویر نظر نہیں آئی۔ تب گس جونز اسے گاڑی میں بٹھا کر ارشل کے گھر چھوڑنے چل دیا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے، کیا وہ لوگ ارشل کو چھوڑ دیں گے؟‘‘ راستے میں پیٹرک نے پوچھا۔
’’بہت کم امید ہے…‘‘ گس جونز نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا ’’اگر مجرموں کو احساس ہوا کہ ارشل ان کی جائے پناہ میں نشاندہی کرسکتا ہے، تب تو بہت ہی کم امید ہے کہ وہ اسے چھوڑنے کا خطرہ مول لیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ بارہ گھنٹے بعد وہ گھر پہنچ جائے گا۔ بارہ گھنٹے تو گزر چکے ہیں مگر وہ ابھی تک نہیں آیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ نوٹوں کو باریک بینی سے چیک کریں گے اور پھر انہیں دوسرے نوٹوں سے تبدیل کرائیں گے۔ اس کام میں ہفتوں بھی لگ سکتے ہیں اور ارشل کی واپسی میں جتنی زیادہ دیر ہوتی جائے گی، اس کی جان کے لئے خطرات اتنے ہی بڑھتے جائیں گے۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے کہ ارشل کے واپس آنے کی امید نہیں؟‘‘ پیٹرک نے اس سے واضح جواب لینا چاہا۔
’’میں یہ بھی نہیں کہہ رہا… لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگروہ کل تک گھر نہ پہنچا تو شاید پھر کبھی نہ پہنچے۔‘‘ گس جونز نے جواب دیا۔
رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تو حویلی کے ماحول میں تنائو اور کشیدگی بڑھتی محسوس ہونے لگی۔ سب اپنی جگہ ساکت سے بیٹھے تھے۔ اس دوران ایک وکیل نے ایک چوہے کو بھاگ کر ایک طرف سے دوسری طرف جاتے دیکھا۔ کمرے میں ایک لمحے کے لئے زندگی کا احساس ہوا۔ وکیل نے اٹھ کر کھٹکے سے بند ہونے والا چھوٹا سا شکنجہ نما چوہے دان اٹھا کر ایک صوفے کے نیچے رکھ دیا۔ اس کے بعد سب اسے بھول گئے۔ تھوڑی دیر بعد زوردار کھٹکا ہوا، جیسے کہیں ائیر گن چلی ہو۔ برنائس خوفزدہ انداز میں اچھل پڑی۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’یہ کیا تھا؟‘‘ اس نے خوفزدہ انداز میں پوچھا۔
’’شاید چوہے دان میں چوہا پھنس گیا ہے۔‘‘ وکیل نے معصومیت سے جواب دیا۔ اس وقت اس صورت حال پر مسکرانے کی بھی کسی میں سکت نہیں تھی۔
رات کے گیارہ بجے اچانک ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور ارشل اندر آگیا۔ اس کا شیو بڑھا ہوا تھا۔ اندر آکر اس نے یوں پلکیں جھپکائیں اور آنکھیں سکیڑیں جیسے اسے تیز روشنی میں آنے کی عادت نہ رہی ہو۔ برنائس دوڑ کر ا سے لپٹ گئی۔
ارشل نے بتایا کہ ایک گھنٹہ پہلے اسے مضافاتی علاقے میں چھوڑ دیا گیا تھا جہاں سے وہ ٹیکسی کرکے پہنچا ہے۔ فوراً ہی گس جونز کو اس کی آمد کی اطلاع دی گئی کیونکہ اس نے اس بات کی ہدایت کر رکھی تھی۔ مگر جب وہ آیا تو ارشل نے کہہ دیا کہ اس وقت وہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتا کیونکہ وہ بے پناہ تھکا ہوا ہے۔ وہ واقعی زندگی سے بیزار دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم گس جونز دوچار باتیں جاننے کے لئے اصرار کرتا رہا۔ اس کے سوالوں کے جواب میں ارشل نے صاف کہہ دیا کہ وہ اغواکاروں میں سے نہ تو کسی کو پہچانتا تھا اور نہ ہی وہ بتا سکتا ہے کہ اسے کہاں لے جایا گیا تھا۔
گس جونز نے اسے تسلی دی اور اس سے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آخرکار تھوڑی دیر بعد ارشل نے بتایا کہ اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے جایا گیا تھا اور اسے جہاں جہاں بھی رکھا گیا، زیادہ تر اس کی آنکھوں پر پٹی ہی بندھی رہی۔ گس جونز اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں جاننے کی کوشش کرتا رہا۔ مثلاً اسے کس قسم کے برتنوں میں کھانا دیا جاتا تھا، وہاں کس قسم کی آوازیں سنائی دیتی تھیں، اس کے آس پاس اگر کچھ لوگ موجود ہوتے تھے تو وہ کس قسم کی باتیں کرتے تھے؟
گس جونز کی پوچھ گچھ زبردست تھی۔ ایف بی آئی کے ریکارڈ میں تعریفی انداز میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اس پوچھ گچھ کی مدد سے اس جگہ کا تعین کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جہاں ارشل کو رکھا گیا تھا۔ اس دوران سراغرساں ویدر فورڈ باربار اس فارم ہائوس کی طرف ایف بی آئی والوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کرتا رہا جہاں مشین گن کیلی کی بیوی کیتھرین اپنی ماں کے ساتھ ٹھہری ہوئی تھی۔ ویدر فورڈ اس سلسلے میں رپورٹس بھیج کر اس طرف توجہ دلانے کی کوشش کررہا تھا لیکن گس جونز نے کوئی توجہ نہ دی حالانکہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ ارشل کو، اغوا کے بعد کسی فارم ہائوس میں رکھا گیا تھا۔
ادھر نیویارک میں ایف بی آئی کے آدمیوں نے ورنی ملر کی محبوبہ مارتھا کا سراغ لگا لیا۔ وہ ایک فرضی نام سے ایک مہنگے اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی۔ اپارٹمنٹ بولٹر نامی ایک شخص کا تھا۔ وہ مارتھا کی میزبانی کررہا تھا۔ ایف بی آئی والوں نے بڑی محنت سے کافی دنوں تک سراغرسی کرکے، ڈاک سے آنے والی کچھ چیزوں اور دو اسٹورز سے خریدی جانے والی اشیاء کی رسیدوں کی مدد سے مارتھا کا سراغ لگایا تھا۔ پھر وہ ان لوگوں کے تعاقب میں کینیڈا تک بھی گئے لیکن واپسی پر کچھ ایسے اتفاقات ہوئے کہ انہوں نے مارتھا کا سراغ کھو دیا۔
اس کے بعد وہ غائب ہوگئی۔ بڑی کوششوں کے بعد بھی انہیں دوبارہ مارتھا یا ورنی ملر کا سراغ نہیں ملا۔ کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن والی خونریزی کا مرکزی کردار ہونے کی وجہ سے ورنی ملر کی اہمیت ایف بی آئی والوں کی نظر میں کافی زیادہ تھی مگر انہیں اس کا سراغ نہیں مل رہا تھا۔ دوسری طرف گس جونز اس جگہ کی تلاش میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا جہاں ارشل کو اغوا کے بعد رکھا گیا تھا۔ وہ اپنے اندازوں کی بنیاد پر اس جگہ کو تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
بڑی دیر بعد جا کر آخرکار وہ ڈیلاس آفس کی رپورٹوں کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے باس شینن کے فارم ہائوس کو چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ باس شینن نے کچھ عرصہ قبل ایک بینک سے قرضہ لینے کے لئے درخواست دی تھی۔ گس جونز اس بینک کے منیجر کے ساتھ، سروے کرنے والے آفیسر کی حیثیت سے باس شینن کے فارم پر پہنچا۔ وہاں انہیں باس شینن کا نوجوان بیٹا ایک جھونپڑی نما کمرے کے دروازے پر کھڑا ملا۔
ارشل کو یہاں بھی آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا گیا تھا لیکن اس نے اندازوں سے جو باتیں بتائی تھیں، ان کی تصدیق ہوتی چلی گئی۔ اسے ٹین کے پیالے میں پانی دیا جاتا تھا جو کنویں کا معلوم ہوتا تھا۔ اس نے کنویں کی چرخی کی چرچراہٹ بھی سنی تھی۔ وہاں کنواں موجود تھا اور اس کی چرخی چرچراتی بھی تھی۔ گس جونز نے پیاس کا بہانہ کرکے پانی مانگا تو اسے بھی ٹین کے پیالے میں پانی دیا گیا۔ اس طرح کی دوسری چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بہت سی باتوں کی تصدیق ہوتی چلی گئی اور ارشل کی بتائی ہوئی نشانیاں ملتی چلی گئیں۔
آخرکار گس جونز نے دوسرے روز پوری تیاریوں کے ساتھ وہاں چھاپا مارنے کا فیصلہ کرلیا۔ دوسرے روز وہ لوگ دو کاروں میں علی الصباح باس شینن کے فارم پر پہنچے تو ارشل بھی ان کے ساتھ تھا۔ گس جونز نے اسے بھی ایک شاٹ گن ہاتھوں میں رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔ گس جونز خود ایک ہلکی مشین گن اٹھائے ہوئے تھا۔ ان کا سامنا سب سے پہلے باس شینن سے ہی ہوگیا۔ وہ اپنی پینٹ کے گیلس کھینچ کر دیکھ رہا تھا۔
ایف بی آئی والوں کو دیکھ کر اس نے حیرت سے آنکھیں پٹ پٹائیں اور خوفزدہ ہوئے بغیر بولا ’’یہ تم لوگ میری زمین پر کیا کررہے ہو؟‘‘
اس کی آواز سن کر ارشل بول اٹھا ’’یہی آدمی میری نگرانی پر مامور تھا۔‘‘
اسی دوران گس جونز کو فارم کے ایک حصے میں درختوں کے قریب ایک چارپائی بھی نظر آگئی۔ وہ دوڑ کر اس کے قریب پہنچا۔ چارپائی پر مچھردانی لگائے، ایک شخص صرف نیکر پہنے سو رہا تھا۔ ایک اسٹین گن چارپائی کے سہارے کھڑی تھی اور ایک ریوالور اس شخص کے سرہانے رکھا تھا۔ اس کی پینٹ، قمیص وغیرہ قریب ہی لکڑی کے ایک جنگلے پر لٹکی ہوئی تھی۔
گس جونز نے مچھردانی ایک طرف ہٹائی اور مشین گن کی نال سے اس سوئے ہوئے شخص کے گال کو چھوا۔ خراٹے لیتے ہوئے اس آدمی کے نتھنے پھڑپھڑائے اور آنکھیں آہستگی سے کھلتی دکھائی دیں۔ اس لمحے گس جونز نے اسے پہچان لیا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے ورنی ملر، مشین گن کیلی، کارپس اور بارکر برادرز کو تربیت دے کر بدمعاش، ڈاکو اور قاتل بنایا تھا۔ وہ خود اپنے کئی ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ دنوں جیل سے فرار ہوا تھا۔
وہ ہاروے بیلے تھا جس پر کنساس سٹی ریلوے اسٹیشن والی خونریزی کے سلسلے میں سب سے زیادہ شبہ کیا جا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ اس دوران ایک اور ایف بی آئی ایجنٹ، چارلس چارپائی کے دوسری طرف آن کھڑا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں بھی گن تھی۔ گس جونز کی مشین گن کی نال اب ہاروے بیلے کے سینے سے بہ مشکل ایک انچ دور تھی جبکہ ہاروے بیلے کا اپنا ریوالور اس کے ہاتھ سے پانچ چھ انچ کے فاصلے پر تھا۔
ہاروے بیلے اور گس جونز نے دن کی روشنی میں اچھی طرح ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ہاروے بیلے نے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی۔ ایف بی آئی ایجنٹ چارلس نے گویا اسے شہ دی ’’اپنا ریوالور اُٹھا لو ہاروے بیلے!‘‘
تاہم ہاروے بیلے نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ آنکھیں کھولتے ہی صورت حال اس کی سمجھ میں آ گئی تھی۔ چارلس نے گن کی نال سے اس کا ریوالور زمین پر گرا دیا۔
’’اُٹھ کر بیٹھ جائو ہاروے بیلے!‘‘ گس جونز نے پھنکارنے والے انداز میں کہا۔ ’’یہاں تمہارے ساتھ اور کون کون ہے؟‘‘
ہاروے بیلے نے کوئی جواب نہ دیا۔ گس جونز بولا۔ ’’اگر مجھے یہاں کسی بھی طرف کوئی حرکت کرتا دکھائی دیا… یا کہیں سے بھی کوئی فائر کیا گیا تو میں گولیوں کی بوچھاڑ سے تمہارے جسم کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دوں گا۔‘‘
’’میں یہاں اکیلا ہوں…‘‘ ہاروے نے بھاری آواز میں کہا ’’اور تمہارے قابو میں آ چکا ہوں۔‘‘
پھر وہ اُٹھ بیٹھا۔ اس نے ایک انگڑائی لی۔ اس کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ تھی۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد وہ افسوس زدہ سے لہجے میں بولا۔ ’’انسان ذرا غافل ہوا اور مارا گیا…! لیکن کیا کریں، کبھی کبھی تو سونا ہی پڑتا ہے۔‘‘
ایف بی آئی کے ایجنٹ، شینن کے فارم پر چاروں طرف پھیل چکے تھے۔ کیتھرین کی ماں، شینن اور اس کے بیٹے کو ہتھکڑیاں لگائی جا چکی تھیں۔ گس جونز نے شینن کے نوعمر بیٹے کو ایک الگ کمرے میں لے جا کر شفقت اور نرمی سے اس سے پوچھ گچھ کی۔ اس کا نام آرمن تھا۔ اس نے جلد ہی زبان کھول دی اور سب کچھ بتا دیا حالانکہ اس دوران کیتھرین کی ماں باہر مسلسل چیخ چیخ کر اپنے شوہر اور بیٹے کو خبردار کر رہی تھی کہ وہ کچھ نہ بتائیں، کچھ نہ بولیں۔ ساتھ ہی وہ اپنی بے گناہی کے دعوے بھی کر رہی تھی۔ بہرحال اس کے بیٹے آرمن کی گواہی سے معلوم ہوگیا کہ ارشل کے اغواء کے اصل ذمے دار مشین گن کیلی اور اس کا ساتھی البرٹ بیٹس تھے جو کب کے غائب ہو چکے تھے۔
ہاروے بیلے اور دوسرے سب لوگوں کو ڈیلاس جیل بھجوا دیا گیا۔ جلد ہی باس شینن نے بھی زبان کھول دی اور اپنے بیٹے کی باتوں کی تصدیق کر دی۔ گس جونز کو توقع تھی کہ اگر کیلی کو ان لوگوں کی گرفتاری کا پتا نہ چلا تو شاید کہیں اس کا سراغ لگ جائے اور بے خبری میں اسے گرفتار کیا جا سکے۔ چنانچہ اس نے تین دن تک اس خبر کو دبائے رکھا اور شینن کے فارم سے ہونے والی گرفتاریوں کا تذکرہ پریس میں نہیں آنے دیا لیکن خبر آخرکار کسی نہ کسی طرح ’’ڈیلاس ٹائمز‘‘
تک پہنچ گئی۔ خبر اس میں چھپنے کی دیر تھی کہ ملک کے دوسرے اخبارات نے بھی دھڑا دھڑ اسے چھاپ ڈالا۔
ہاروے بیلے کا ارشل کے اغواء کی واردات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسے تو ایف بی آئی والے محض اتفاقاً اور خوش قسمتی سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ صرف اس رات کے لیے پناہ لینے کی غرض سے شینن کے فارم پر رک گیا تھا۔ قسمت ایف بی آئی والوں کا مزید ساتھ دے رہی تھی۔ اسی ہفتے کے دوران کچھ اسی طرح اتفاقیہ سے انداز میں ڈینور کی ایک پارکنگ لاٹ سے البرٹ بیٹس بھی پکڑا گیا۔ تاہم اس سے کچھ زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ مشین گن کیلی کے بارے میں بھی اس سے کچھ معلوم نہ ہو سکا اور نہ ہی یہ پتا چل سکا کہ تاوان کی رقم میں کون کون حصے دار تھے؟ بہرحال ان گرفتاریوں کا یہ فائدہ ضرورہوا کہ مشین گن کیلی کی تلاش زورشور سے شروع ہوگئی۔ پچاسوں ایف بی آئی ایجنٹس معمولی سے معمولی سراغ پر بھی دن رات کام کر رہے تھے اور مختلف شہروں میں بہت سے مقامات پر بھاگ دوڑ جاری تھی۔
برسوں بعد مشین گن کیلی نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ تاوان کی رقم ملنے کے بعد اس نے کیتھرین کے ساتھ کتنے دن عیش و آرام سے گزارے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ میکسیکو کی سرحد پار کر کے ’’چی ہوا‘‘ نامی شہر چلے گئے تھے اور ایک ہوٹل میں پُرآسائش کمرا لے کر دس دن تک اس سے باہر نہیں نکلے تھے۔ بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بیٹے سے جو باتیں کیں، ان میں سے زیادہ تر شیخی پر مبنی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے پر رعب ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کتنا بڑا بدمعاش اور کتنا ذہین آدمی تھا۔ اس دور کے بدمعاشوں کے نزدیک خود کو اپنے اہل خانہ اور اپنی اولاد پر بھی ’’ایک بڑا اور کامیاب بدمعاش‘‘ ظاہر کرنا بہت بڑی خوبی کی بات تھی۔
حقیقت یہ تھی کہ تاوان کی رقم وصول کرنے کے بعد کیلی، سینٹ پال چلا گیا تھا اور کرائے کا ایک اپارٹمنٹ لے کر رہنے لگا تھا۔ اس دوران اس نے انڈر ورلڈ کے کسی ایسے آدمی کی تلاش شروع کر دی جو اس کے نوٹ تبدیل کرا دے۔ آخر کار اسے پافر نامی ایک آدمی مل گیا جس نے اس سے بیس فیصد کمیشن لے کر اپنے مختلف کارندوں کے ذریعے بینکوں سے اس کی رقم تبدیل کرا دی۔ رقم ہاتھ میں آتے ہی کیلی نے کیتھرین کو قیمتی فرکوٹ اور ہیروں کے کچھ زیورات لے کر دیئے۔
سینٹ پال سے وہ کلیولینڈ چلا گیا جہاں اس نے خبر سنی کہ ایف بی آئی نے پافر کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ وہ اور کیتھرین شکاگو کی طرف سفر کرتے ہوئے راستے میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے جہاں انہیں شینن کے فارم پر چھاپے اور ہاروے وغیرہ کی گرفتاری کے بارے میں پتا چلا۔ یہ خبر سننے کے بعد سے کیتھرین کو اپنے شوہر سے زیادہ اپنی ماں کی فکر پڑ گئی اور اس نے عزم ظاہر کیا کہ ماں کی رہائی کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرے گی۔ اس نے اپنی ماں کے لیے وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوششیں بھی شروع کر دیں۔
مغربی ٹیکساس کی طرف سفر کرتے ہوئے وہ ایک گائوں میں پہنچے جہاں کیتھرین کے ایک انکل کا فارم تھا۔ ان کا نام کول مین تھا اور انہی کے نام پر گائوں کا نام بھی کول مین تھا۔ اس فارم پر انہوں نے اپنی باقی رقم ایک جگ اور ایک تھیلی میں ڈال کر کنویں کے قریب ایک درخت کے نیچے دفن کر دی۔ دوسری صبح کیلی دیر تک سوتا رہا اور کیتھرین ناشتا کرکے گاڑی میں بیٹھ کر قریبی قصبے چلی گئی جس کا نام برائون تھا۔ کیتھرین کا ارادہ ایک دوسری کار خریدنے کا تھا۔
وہ ایک پرانی سی شیورلے خرید کر واپس آ گئی جو اس نے کیلی کے لیے چھوڑ دی اور خود اس کی کار میں بیٹھ کر، یہ کہہ کر روانہ ہوگئی کہ وہ ڈیلاس جا کر اپنی ماں کے لیے کسی وکیل کا بندوبست کرے گی۔ اس کی غیرموجودگی میں اس کے انکل کو اس خیال سے گھبراہٹ ہونے لگی کہ پولیس اور ایف بی آئی کو مطلوب ایک آدمی ان کے فارم پر ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ کچھ بات بنا کر اسے دوسرے گائوں میں اپنے کسی جاننے والے کے فارم پر چھوڑ آئے جس نے اس شرط پر کیلی کو رکھ لیا کہ اپنے کھانے پکانے کا بندوبست وہ خود کرے گا۔
ایف بی آئی کو یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ کیتھرین کا ایک رشتے دار کول مین نامی گائوں میں رہتا ہے۔ کچھ ایجنٹ اس کی طرف روانہ ہوگئے لیکن ایک اتفاق ایسا ہوا کہ ان کی متوقع آمد کی خبر پہلے ہی کیلی تک پہنچ گئی۔ وہ گھبرایا ہوا انکل کول مین کے پاس آیا اور ایک بند لفافہ انہیں دیتے ہوئے بولا ’’کیتھرین آئے تو یہ اسے دے دیجئے گا اور صرف ’’مس سسپی‘‘ کہہ دیجئے گا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھا اور تیزرفتاری سے مشرق کی سمت روانہ ہوگیا۔ کیتھرین کئی دن بعد وہاں پہنچی جب ایف بی آئی والے وہاں آ کر اور فارم ہائوس وغیرہ کی تلاشی لے کر جا چکے تھے۔ اس کے انکل کول مین نے اسے کیلی کا دیا ہوا لفافہ دیا اور بتایا کہ وہ صرف ایک لفظ ’’مس سسپی‘‘ کہہ کر گیا ہے۔ کیتھرین نے لفافہ کھول کر اندر سے برآمد ہونے والے کاغذ پر نظر ڈالی اور غصے سے بولی ’’احمق کہیں کا…!‘‘
پھر وہ بھی گاڑی میں بیٹھی اور اپنے شوہر کی تلاش میں روانہ ہوگئی۔
٭…٭…٭
موسم گرما کے ان دنوں میں، جب امریکی قوم کی توجہ مشین گن کیلی کی تلاش کی خبروں کی طرف مرتکز تھی، جان ڈلنگر کئی ریاستوں کے مضافاتی علاقوں میں بینک لوٹتا اور دوسرے جرائم کرتا پھر رہا تھا لیکن کسی کی نظروں میں فی الحال گویا ان خبروں کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی تھی تاہم میٹ لیچ نامی ایک سراغرساں بڑی توجہ سے یہ خبریں پڑھ رہا تھا اور ان کا تجزیہ کر رہا تھا۔
وہ ایک دیانتدار اور پڑھا لکھا پولیس آفیسر تھا۔ جرائم کے موضوع پر اپنے وسیع مطالعے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی حد تک ’’ماہر جُرمیات‘‘ بھی سمجھتا تھا۔ اس نے خبروں میں دو تین مرتبہ پڑھا کہ ڈاکو بینک کے اندر نہایت ماہرانہ انداز میں درمیانی جنگلا نما دیوار پھلانگ کر بینک کے اندرونی حصے میں پہنچا تھا۔ ایک مرتبہ ڈاکو کسی اور جگہ جنگلا پھلانگ کر، پولیس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔
میٹ لیچ نے تمام واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اسے یقین ہوگیا کہ وہ تمام وارداتیں جان ڈلنگر کی تھیں۔ وہ خبروں کی مدد سے گویا نظر رکھے ہوئے تھا کہ ڈاکو کن علاقوں سے ہوتا ہوا، کس سمت میں سفر کر رہا تھا۔ میٹ لیچ گویا اس کا تعاقب کر رہا تھا اور اس کے بارے میں پوری خبر رکھ رہا تھا۔ اس زمانے میں زیادہ تر دیہی مقامات پر تعینات، ایف بی آئی اور پولیس کے آدمی جرائم سے نمٹنے اور ان کی تفتیش کرنے میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے تھے۔ پولیس تو زیادہ تر ٹریفک کے چالان کرنے اور مرغی چوروں کو پکڑنے میں ہی لگی رہتی تھی۔
ایسے میں میٹ لیچ گویا خاموشی سے جان ڈلنگر کے پیچھے لگا ہوا تھا اور اس کا سراغ لگانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس نے نوجوان ولیم شا سے بھی کئی ملاقاتیں کی تھیں جو کسی زمانے میں جان ڈلنگر کا ساتھی رہا تھا اور ان دنوں جیل میں تھا۔ میٹ لیچ نے ولیم شا سے جان ڈلنگر اور اس کے رابطوں کے بارے میں بہت کچھ اُگلوا لیا تھا۔
اسی دوران چار اگست کو ایک کسان نے دوپہر کے وقت گہرے نیلے رنگ کی ایک کرسلر کار کو انڈیانا کے دیہی علاقے میں ایک کھیت کے قریب سے گزرتے دیکھا۔ ٹھیک دو بج کر چالیس منٹ پر وہ کار گائوں کے مین بازار میں بینک کے سامنے جا رُکی۔ وہ بینک تین سال پہلے بھی لوٹا جاچکا تھا۔ جان ڈلنگر گاڑی سے اُترا اور بینک میں داخل ہوگیا۔ وہ چیونگم چبا رہا تھا۔ اس کے سر پر کائوبوائز والا مخصوص ہیٹ اور ہاتھ میں ریوالور تھا۔ اس کا پارٹنر کوپ لینڈ اس کے ساتھ تھا۔
’’ہم اس بینک کو لوٹنے آئے ہیں۔‘‘ ڈلنگر نے اندر پہنچ کر یوں اطمینان سے اعلان کیا جیسے وہ بینک میں موجود لوگوں کی کوئی اہم خدمت انجام دینے آیا ہوا۔
ہیری کوپ لینڈ نے بینک کے تین ملازموں کو فرش پر اوندھا لیٹنے پر مجبور کر دیا جبکہ جان ڈلنگر حسب معمول درمیانی، جنگلا نما دیوار پھلانگ کر بینک کے اندرونی حصے میں پہنچا اور اس نے سیف میں موجود تمام کیش کا صفایا کر دیا۔ سکّے تک اس نے اپنی تھیلی میں ڈال لیے۔ اس دوران کوپ لینڈ نے بینک میں داخل ہونے والے دو کسٹمرز کو بھی فرش پر اوندھا لٹا دیا تھا۔
اسی دوران جان ڈلنگر نے ایک خاتون کیشیئر کو ایک طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھا تو گن کا رخ اس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’تم کیا الارم بجانے کی کوشش کر رہی ہو؟‘‘ وہ بدستور چیونگم چبا رہا تھا۔
’’کاش میں الارم بجا سکتی…!‘‘ خاتون نے جلے کٹے انداز میں جواب دیا۔ (جاری ہے)

Latest Posts

Related POSTS