Sunday, May 19, 2024

Khawaboun Main Jeeti Houn | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میں شروع سے ہی خاموش طبع مگر نخوت بھری تھی۔ اپنے میں گم رہتی، کسی سے بات کرتی اور نہ کسی کو خاطر میں لاتی۔ ہمہ وقت خیالوں میں کھوئی سنہرے سپنوں کی پرستش میں مگن رہتی۔ ان دنوں عمر سولہ سال تھی، خوبصورت اور پُرکشش تھی۔ نوخیز عمر کے اس دور میں پُرجمال کہلاتی تھی۔ پھر کیوں نہ خودپرست ہو جاتی۔ پہلے ہم پرانے گھر میں رہتے تھے۔ والد صاحب نے نیا مکان خریدا اور ہم اس میں شفٹ ہوگئے۔ کچھ دن گھر کو ٹھیک کرنے میں لگ گئے۔ ابھی پوری طرح شفٹنگ کے کاموں کی تھکن اُتری نہ تھی کہ انہی دنوں ہمارے چچازاد کی شادی کا بلاوا آ گیا۔ جانا لازم تھا۔ بھاگ دوڑ کر کے کچھ نئے جوڑے سلوائے اور ہم شادی والے گھر پہنچ گئے۔
بہت سی رشتے دار لڑکیاں آئی تھیں، سب سے ملاقات ہوئی۔ سبھی نے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔ ان میں کزن بھی شامل تھے تاہم ایک کزن جس سے چچی نے خاص طور پر تعارف کروایا، وہ اجنبی تھا۔ میں نے پہلے کبھی اسے اپنے رشتے داروں میں نہیں دیکھا تھا۔ اُس کا نام فیصل تھا۔ پہلی ہی ملاقات میں وہ مجھ سے یوں گھل مِل کر باتیں کرنے لگا جیسے برسوں سے جانتا ہو۔ اس کا یہ بے تکلفانہ انداز مجھے ناگوار گزرا۔ میں تو یوں بھی بہت زیادہ لئے دیئے رہنے والی لڑکی تھی۔
رات کو اچانک بجلی چلی گئی۔ چچی نے کہا۔ سائرہ بیٹی اندر جاکر موم بتیاں لے آئو۔ میں نے سیل فون کی ٹارچ جلائی اور کمرے میں قدم رکھا ہی تھا کہ یہ لائٹ بھی بجھ گئی اور میں اندھیرے میں الماری کی طرف جاتے ہوئے کسی سے ٹکرا گئی۔ میں نے کہا۔ کون ہے نظر نہیں آتا کیا۔ اُدھر سے جواب آیا۔ کمال کرتی ہیں محترمہ، کبھی اندھیرے میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ صاحب بھی شاید موم بتیوں کا ڈبا الماری سے نکالنے آئے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ماچس تھی۔ اس نے ماچس کی تیلی جلائی۔ میں نے ڈبا نکالا اور کمرے سے باہر نکلنے لگی تو بولا۔ ایک موم بتی مجھے بھی عنایت کرتی جایئے۔ چند موم بتیاں اُسے تھما دیں۔
اندھیرے میں ٹکریں مارنے سے بہتر تھا کہ اجالے میں دوستی کرلیتیں۔ مجھے سخت غصہ آیا۔ برہمی سے جواب دیا۔ دوستی لڑکیوں سے کی جاتی ہے لڑکوں سے نہیں۔ مگر امریکہ میں تو ہماری دوستی لڑکیوں سے بھی ہے۔ یہ امریکہ نہیں ہے۔ سمجھے مسٹر فیصل! آج کے بعد میرے راستے میں مت آنا۔ یہ کہہ کر میں دانت پیستی کمرے سے نکل گئی۔ اس کا فقرہ میرا تعاقب کر رہا تھا۔ اتنا غصہ مت کرو محترمہ، شادی والے گھر میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
اگلی صبح سو کر اٹھی، اوپر کی منزل سے کسی نے میرے قدموں میں رقعہ پھینک دیا۔ بتاتی چلوں کہ ہم لڑکیاں نچلی منزل، جبکہ رشتے دار لڑکے سب اُوپر کی منزل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ میں نے چونک کر اُوپر دیکھا وہاں کوئی نظر نہ آیا تو رقعہ اُٹھا لیا۔ کمرے میں لا کر پڑھا۔ رونے بیٹھ گئی۔ تبھی وہاں کسی نے جھانکا۔ یہ فیصل تھا۔ مجھے روتا پا کر بولا۔ ارے! کیوں رو رہی ہیں۔ کیا زیور گم ہو گیا ہے؟ رقعہ جو ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا، اس کی طرف اچھال دیا۔ اس نے اٹھا کر پڑھا اور کہا۔ اس میں رونے کی کون سی بات ہے۔ خوبصورت لڑکیوں کو ایسے پیغامات ملتے ہی ہیں، ٹھہرو میں پتا کرتا ہوں۔ یہ کس گدھے کی حرکت ہے۔ اس نے پتا کیا کرنا تھا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔
شام کو مہندی کی رسم تھی۔ میں نے سوٹ کیس کھولا اور چند جوڑے نکالے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کون سا پہنوں۔ تبھی اس نے کھڑکی سے جھانکا… پوچھا کیا بات ہے، کیوں پریشان ہو۔ اس کی مداخلت بے جا پر سخت غصہ آیا۔ سوچا یہ تو میرے پیچھے پڑ گیا ہے، جھنجھلا کر کہا۔ کیا آپ کو کوئی اور کام نہیں ہے جو ہر وقت میرے تعاقب میں رہتے ہیں۔ وہ کمرے میں آ گیا۔ میں نے آپ کو پریشان دیکھا تو سوچا شاید خط والے مسئلے پر پریشان ہیں ابھی تک، کوئی اور مسئلہ ہے تو مدد کروں؟ کیونکہ ہمارے امریکہ میں تو لوگ ایک دوسرے کو پریشان دیکھ کر اسی طرح مدد کرتے ہیں۔ اچھا ایسا کرو، میرے کمرے کا باتھ روم بہت گندا ہو رہا ہے، سبھی لڑکیاں یوز کر رہی ہیں تو ذرا اسے چمکا دو۔ میں نے جل کر کہا۔ مگر وہ تابعداری سے بولا۔ جی اچھا ابھی صاف کئے دیتا ہوں۔ جب وہ باتھ روم سے نکلا، اُس کا حشر بگڑا ہوا تھا۔ مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی۔ خفگی سے بولا۔ کیوں ہنس رہی ہو۔ کیا میرے سینگ نکل آئے ہیں۔ اُسے خفا دیکھ کر میں نے کہا۔ ٹھہریئے۔ کہاں جا رہے ہیں، ایک کام اور بھی ہے۔ وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ ہمارے امریکہ میں سب اپنا باتھ روم خود صاف کرتے ہیں، آپ دوسروں سے دھلواتی ہیں۔ یہ بُری بات ہے۔ میں نے بڑی مشکل سے ہنسی کو روکا… بس ایک کام اور ہے۔ جب ایک کام نے میرا یہ حال کر دیا ہے تو پتا نہیں دوسرا کام کیسا ہوگا؟ لگتا ہے دوسری بار تو اللہ کو پیارا ہو جائوں گا۔ میں نے سنجیدہ ہو کر کہا۔ اصل میں پریشان ہوں کہ ان میں سے کون سا جوڑا پہنوں؟ پلیز میری مدد کر دیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اُس کا موڈ فوراً ٹھیک ہوگیا۔ سارے کپڑے دیکھنے کے بعد مایوں کی تقریب کی مناسبت سے پیلا جوڑا نکال کر الگ کر دیا۔ کہنے لگا۔ آج یہ پہن لینا، بہت اچھا لگے گا تم پر۔
میں حیران رہ گئی اُس کے انتخاب پر۔ امریکہ میں رہنے کے باوجود اس نے تقریب کی مناسبت سے صحیح رنگ کا جوڑا منتخب کیا تھا۔ شب کو اس لباس میں سب مجھے دیکھ رہے تھے کہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ سہیلیوں نے تعریف کی۔ تاہم میں نے نوٹ کیا وہ بہت انہماک سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
شادی کی تقریبات ختم ہوگئیں اور ہم گھر واپس آگئے۔ جانے کیوں رہ رہ کر مجھے فیصل کا خیال آتا رہا۔ شاید اس وجہ سے کہ وہ دوسرے تمام کزنوں سے مختلف تھا۔ وہ میرے والد کی چچازاد بہن کا بیٹا تھا اور یہ لوگ عرصے سے امریکہ میں مقیم تھے۔ اسی لیے فیصل کو پہلی بار دیکھا تھا۔ مجھے وہ بُرا نہیں لگا۔ میں بار بار اُسی کے بارے سوچا کی۔
دو دن بھی نہ گزرے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہمارے گھر آ پہنچا۔ یہ لوگ ہم سے ملنے آئے تھے۔ امّی ابو نے خوش دلی سے استقبال کیا۔ میں اپنے کمرے میں تھی۔ وہ بے تکلفی سے مجھے تلاش کرتا وہاں آ گیا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ آپ کیسے آ گئے۔ جواب دیا۔ جلدی میں آئے ہیں، پرسوں ہم واپس امریکہ جا رہے ہیں۔ سوچا آپ سے مل کر جانا چاہیے۔ بہت شکریہ۔ وہ مزید گفتگو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ امی نے اُسی وقت آواز دی۔ سائرہ اِدھر آئو۔ تمہاری پھپھو آئی ہیں۔ ان سے ملو۔ میں تیزی سے کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم کی طرف چلی گئی۔ وہ مایوس سا ہوگیا۔ تاہم میں نے معذرت کی اور نہ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اس مختصر سی ملاقات کے بعد وہ دو سال تک نہ آیا۔
رہ رہ کر سوچتی تھی اس روز ایک دو باتیں فیصل سے کر لیتی تو اچھا ہوتا۔ میں نے بہت بداخلاقی سے کام لیا تھا۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب ہر دن اُس کا خیال آ جاتا۔ افسردہ ہو جاتی لیکن گیا وقت ہاتھ آتا نہیں، جانے والے کب جلد لوٹ کر آتے ہیں۔ فیصل گو اب ایک خواب و خیال جیسا تھا۔ اُسے یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر پھر بھی اُس کی یاد آ جاتی تھی۔ لگتا تھا فیصل کا تصور ذہن میں پختہ ہوگیا ہے اور اب کبھی اسے بھلا نہ سکوں گی۔ دعا کرتی کاش ایک بار پھر آ جائے تو اسے مایوس نہ کروں گی۔ وہ عام لڑکوں جیسا نہیں تھا بالکل سیدھا سادہ بے ضرر سا تھا۔
میری دُعا قبول ہوگئی۔ دو سال بعد اچانک فیصل اور اس کے والدین ہمیشہ کے لیے امریکہ کو خیرباد کہہ کر وطن لوٹ آئے۔ میں نے سنا، وہ سب کے گھر گئے ہیں مگر ہمارے گھر نہیں آئے جبکہ مجھے اس کا انتظار تھا کہ ضرور آئے گا۔ تبھی ہر وقت میرے لبوں پر مسکراہٹ رہنے لگی تھی۔ بہت خوش تھی کہ جس کا انتظار تھا وہ آنے والا ہے۔ ہر لمحہ انتظار، ہر آہٹ پر نظر۔ عجب کیفیت تھی۔ خوشی بھی تھی اور کربِ انتظار بھی کیونکہ ایک طویل عرصہ منتظر رہنے کے باوجود فیصل کے گھر والے ہماری طرف نہیں آئے تھے۔
دو ماہ اسی کیفیت میں گزر گئے۔ ان لوگوں کے پاکستان آجانے کے باوجود یہ کرب انتظار ختم نہ ہوا تو بے چین گھڑیاں بڑھتی چلی گئیں۔ فیصل کو نہ آنا تھا نہ آیا۔ لگتا تھا جیسے وہ مجھے بھول چکا ہو… تاہم ایک روز اس کے والدین ملنے ہمارے گھر آگئے۔ جی چاہا پوچھوں فیصل کیوں نہیں آیا۔ لیکن صرف اپنی اَنا بچانے کی خاطر میں نے نہ پوچھا کہ جب کسی کو میری پروا نہیں ہے تو مجھے کیوں ہو۔ آنٹی نے کہا ہم لوگ اسلام آباد چلے گئے تھے تبھی نہ آ سکے۔
ایک روز اُس کا میرا آمنا سامنا ہو ہی گیا۔ امی کے ساتھ بازار میں ایک اسٹور پر کھڑی تھی کہ وہ وہاں آ گیا۔ بے تکلفی سے امی سے مخاطب ہوا۔ میں یہاں اپنے لیے شاپنگ کرنے آیا تھا۔ کیا آپ بھی شاپنگ کر رہی ہیں۔ پھر اس نے مجھے مخاطب کرنا چاہا لیکن میں نے لاتعلقی سے منہ پھیر لیا۔ گویا اس کی بات سنی ہی نہیں، میری طرف سے یہ ایک طرح کی ناراضگی کا اظہار تھا کہ وہ ہمارے گھر کیوں نہیں آیا، لیکن اس نے غلط مطلب لیا۔ شاید یہ سمجھا کہ میں اس کو ناپسند کرتی ہوں۔ تبھی بات کرنا نہیں چاہتی۔ اُسے کیا خبر کہ یہ دل لمحہ لمحہ اس کے انتظار میں تڑپتا رہا ہے۔
اللہ جانے میری کیسی فطرت تھی کہ جو دل میں ہوتا لبوں تک نہ لا سکتی تھی۔ بس اپنی ذات میں گم رہتی۔ اپنا سر جھکا نہیں دیکھ سکتی تھی، کسی سے مخاطب ہونا بھی چاہتی تو سوچتی کہ پہلے وہ بات کرے۔ کسی کا شدت سے انتظار ہو اور وہ یوں اچانک مل جائے تو شادیٔ مرگ جیسی کیفیت ہو جاتی ہے۔ مجھے بھی اسے دیکھ کر لمحہ بھر کو موت کا جیسا گہرا سناٹا چھا گیا۔ اور وہ اُسی لمحے امی کو خدا حافظ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔ اب میں خود کو کوسنے لگی کہ میری شخصیت میں کیا کمی ہے۔ اتنی پیچیدہ کیوں ہوں۔ کیا میں اذیت پسند ہوں یا خودپسندی کا شکار ہوں کہ اُسے گھر مدعو کرنے کا یہ سنہری موقع بھی کھو دیا۔ ورنہ وہ ضرور آ جاتا اگر میں ہلکا سا اشارہ بھی کر دیتی کہ مجھے اُس کا انتظار تھا۔ دعا کرنے لگی کاش وہ دوبارہ پلٹ آئے۔ جب ہم کائونٹر پر پے منٹ کرنے گئے وہ وہاں کھڑا تھا۔ مجھے کن انکھیوں سے دیکھا۔ میں نے نگاہیں دُوسری طرف کر لیں۔ تب اُس سے نہ رہا گیا، امی کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔ چلئے آنٹی آپ کو آئس کریم کھلانی ہے۔ وہ زبردستی انہیں لے جانے لگا۔ لامحالہ میں بھی امی کے پیچھے چلتی رہی اور ہم آئس کریم والے پورشن میں پہنچ گئے۔ سب آئس کریم کھا رہے تھے۔ یہاں بھی چاہنے کے باوجود میں فیصل کو مخاطب نہ کر سکی۔ گہری چپ مجھے گھن کی طرح کھا رہی تھی۔ دو تین بار فیصل نے مجھ سے بات کی اور میں جواب نہ دے پائی تو وہ مایوس ہوگیا۔
گھر آ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی، خود سے کہا۔ سائرہ کی بچی آخر تجھے ہوا کیا ہے؟ دیکھ لینا یہی تیرا رویہ تیرا دشمن بنے گا۔ پھر خود کو تسلی دی کہ اگر اُس کی چاہ سچی ہوگی تو خود ہی آ جائے گا۔ وہ نہیں آیا، پچھتاوا روز بہ روز بڑھنے لگا۔ جی چاہا فون کر کے بلا لوں مگر دل نے کہا۔ خود فون کر کے ہلکی ہو جائوں۔ میری قدر و منزلت اس کے دل میں ہوتی تو خود آجاتا۔ جس کا دو سال پل پل گن کر انتظار کیا ہے۔ میں اپنی بے نیازی اور سردمہری کا خود جواز تلاش کرتی رہتی جبکہ اُس کے فرشتوں کو خبر نہ تھی کہ میں اُسے دل کی گہرائیوں سے چاہتی ہوں۔ اگر سیدھی طرح فون کر کے اس سے شکوہ کر دیتی کہ تم امریکہ سے تو آ گئے، سب کے گھر ملنے بھی گئے، ہمارے گھر کیوں نہیں آئے تو یقیناً وہ آ جاتا۔ میں ہی رابطہ کیوں کروں، جسے آنا ہے خود آئے۔ غرض اپنی بنائی ہوئی بھول بھلیوں میں گم تھی کہ اُدھر ایک نیا باب رقم ہوگیا۔
ایک دن ہماری چچی ملنے آئیں، ان کی بیٹی ماریہ ساتھ تھی۔ اس نے بتایا کہ فیصل ہمارے گھر آتا ہے اور میں اُسے پسند کرنے لگی ہوں۔ وہ بہت اچھی باتیں کرتا ہے۔ خوب ہنساتا ہے۔ میرے والدین اس کے والدین سے رشتے کی بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماریہ کے منہ سے یہ سن کر مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ تھوڑی دیر بعد یہ لوگ چلے گئے لیکن میں اپنے کمرے میں دیوار سے ٹیک لگا کر اُسی طرح دیر تک بیٹھی رہی جس طرح بیٹھی ہوئی تھی۔
جب کافی دیر باہر نہ نکلی، حتیٰ کہ شام ہوگئی تو امی میرے کمرے میں آ ئیں۔ پوچھا۔ سائرہ تیری طبیعت تو ٹھیک ہے، کھانا کیوں نہیں کھایا۔ میرا دل کھانا کھانے کو نہیں چاہ رہا۔ تو پھر کیا کھانا چاہتی ہو۔ آئس کریم… آئس کریم ہائوس میں جاکر۔ بے اختیار منہ سے نکل گیا۔ تیار ہو جائو۔ میں نے کچھ اشیاء لینی ہیں… وہ بھی لے لیں گے۔ انہوں نے ڈرائیور سے کہا کہ ہمیں ’’مال‘‘ جانا ہے۔ یوں ہم وہاں گئے۔
دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ جب ہم آئس کریم ہائوس پہنچے تو حیرت ہوئی کہ وہاں فیصل موجود تھا۔ وہ اکیلا ہی تھا۔ ہمیں دیکھا تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ بھاگا آیا۔ اِدھر آجایئے، آنٹی۔ میں آپ ہی کی کمی محسوس کر رہا تھا۔ معلوم نہ تھا کہ آپ یوں اچانک آ جائیں گی۔ اُس کی خوشی دیدنی تھی۔ چلتے ہوئے امی نے کہا۔ فیصل تم یہاں مل جاتے ہو۔ یاد بھی ہمیں کرتے ہو لیکن ہمارے گھر نہیں آتے۔
جب آپ کہیں گی آ جائوں گا آنٹی۔ یہ بھی کوئی کہنے والی بات ہے۔ ابھی چلے چلو… وہ ہمارے ہمراہ آ گیا۔ میں اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دل نے کہا۔ وہ ضرور تمہارے پیچھے کمرے میں آ جائے گا لیکن وہ کمرے میں نہیں آیا۔ جب میں نے خود سے اُسے نہ بلایا تو امی کے پاس بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔ اب میں پھر ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح اُس کی راہ تکتی رہ گئی۔
اس کے جانے کے بعد مجھے رونا آ گیا کہ کیوں خود جا کر اس کے پاس نہیں بیٹھ گئی۔ اُسے ازخود مخاطب کیوں نہیں کیا۔ اُسے منا لیتی اگر وہ روٹھا ہوا تھا۔ مگر کس بات سے ناراض ہوا۔ میں نے کیا کیا تھا۔ اب یہ سوال مجھے پریشان کرنے لگا۔ رو رو کر سو گئی تو ایک سُندر سپنا دیکھا کہ فیصل اور میں ایک دُوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھوم رہے ہیں۔ وہ ایک بے حد خوبصورت باغ ہے، پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے بعد تو ایسے سُندر سپنوں کا تانتا بندھ گیا۔ روز ہی خواب دیکھتی۔ افسوس میں نے اُسے پانے کی حقیقی کوشش نہیں کی۔ بس انہی خوبصورت خوابوں میں گم رہی۔ یوں میں زندگی کے رموز نہ سمجھ سکی اور وہ مجھے نہ سمجھ سکا۔
مجھ سے مایوس ہو کر ماریہ کی طرف مڑ گیا تو ماریہ نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کے ماں باپ بھی سیانے تھے جنہوں نے بیٹی کی چاہت کو سمجھتے ہوئے اُس کا ساتھ دیا۔ فیصل اور اس کے والدین کی آئے دن دعوتیں کرکے ان سے خوب راہ و رسم بڑھائی۔ ماریہ بے حد ہوشیار لڑکی تھی۔ اس کی اپنے مستقبل پر نظر تھی۔ اُس کے والدین بھی اچھے رشتے کے متلاشی تھے اور فیصل جیسا اچھا رشتہ انہیں گھر بیٹھے مل گیا تھا۔ کیوں ہاتھ سے جانے دیتے۔ میں خوابوں کی دُنیا کی باسی خوابوں میں ہی جیتی رہ گئی اور ماریہ نے اُسے بھرپور توجہ دے کر میدان اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ میں اَنا کی ماری اس کے انتظار میں سوکھتی رہ گئی اور اس نے ماریہ سے منگنی کر لی۔ رفتہ رفتہ جب وقت گزر گیا تو اپنی کم مائیگی کا احساس ستانے لگا۔ میں کتنی بے وقوف تھی۔ سوچوں کے سمندر میں سسکنے لگی۔ بجائے حقائق کا مقابلہ کرنے کے مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتی چلی گئی۔
جب فیصل کی نگاہ چاہت کا پیغام دیتی تو نگاہیں پھیر لیتی تھی۔ وہ مخاطب ہوتا تو جواب نہ دیتی۔ منزل قریب تھی۔ میں دُور ہوتی رہی۔ جب منزل دُور چلی گئی تو پچھتاوے میں ہلکان ہونے لگی۔ سخت بیمار ہوگئی۔ اب چل پھر سکتی تھی اور نہ کہیں آ جاسکتی تھی۔
ایک روز اچانک بیل بجی۔ امی گھر پر نہ تھیں۔ ناچار مجھے اُٹھ کر جانا پڑا۔ دروازے پر پہنچ کر پوچھا کون ہے؟ امی تو گھر پر نہیں ہیں۔ دراصل میں کسی کو اندر بلانے کے موڈ میں نہیں تھی، تبھی کسی نے ہاتھ بڑھا کر ایک کارڈ اندر کر دیا۔ میں نے کارڈ لے لیا اور دَر بند کر دیا۔ کمرے میں کارڈ کو لاپروائی سے میز پر ڈالا تو تحریر پر نظر پڑ گئی، انکل اور آنٹی کی طرف سے تھا، چونک کر لفافہ کھولا یہ فیصل کی شادی کا کارڈ نہ تھا، میری خوشیوں کی موت کا پروانہ تھا۔ پتا نہیں کون کارڈ دینے آیا تھا، کہیں خود فیصل تو نہیں تھا۔ اس سوال کا اب کوئی جواب نہ تھا کیونکہ میں نے دَر کھول کر آنے والے کو دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ یقیناً کوئی قریبی رشتے دار ہی ہوگا جو کارڈ لے کر آیا تھا۔ انکل آنٹی خود نہ آئے تھے، مصروف ہوں گے۔
کارڈ کو کانپتے ہاتھوں سے ٹیبل پر رکھ دیا اور خود بستر پر ڈھے گئی۔ اسی دم فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ جانے کتنی دیر تک بجتی رہی لیکن میں نے نہیں اُٹھایا۔ مجھے اپنا ہوش ہی کب تھا کہ گھنٹی کی آواز پر اٹھتی، میں تو بے سُدھ پڑی تھی، مجھے ہوش کہاں تھا۔وہ بڑا کٹھن وقت تھا۔ گزر گیا۔ فیصل اور ماریہ ایک ہوگئے۔ میں ہاتھ ملتی رہ گئی۔ میری اَنا پرستی نے مجھے مار ڈالا۔
آج بھی یہی ’’اناپرستی‘‘ مجھے مارتی رہتی ہے مگر میں پھر بھی زندہ ہوں۔ اگرچہ زندہ نہیں، زندہ لاش ہوں لیکن لوگوں پر یہی ظاہر کرتی ہوں کہ میں جی رہی ہوں اور مجھے کوئی غم نہیں ہے۔ دل لگا کر تعلیم مکمل کی اور اب ایک کالج میں پڑھاتی ہوں، اپنا مستقبل تو بنا لیا ہے مگر اپنی خوشیوں کو حاصل نہ کر سکی۔ میں نے شادی نہیں کی۔ لوگ مجھے قابل اور لائق پروفیسر کہتے ہیں۔ کچھ مجھے کامیاب انسان بھی کہتے ہیں مگر میں ہر دم خود سے سوال کرتی ہوں کیا میں واقعی لائق اور کامیاب انسان ہوں؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔
(ایس… کراچی)

Latest Posts

Related POSTS