Friday, July 12, 2024

Khojh | Episode 12

عبداﷲ نے اِشارۃََ کئی بار مفتی صاحب سے اپنی خواہش ظاہر کی مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہ بے اعتنائی اور تجاہلِ عارِ فانہ عبدﷲ کو بہت گراں گزرا۔ مفتی صاحب لوگوں کو ایمان و یقین کی باتیں بتا رہے تھے مگر عبدﷲ کا دل کہیں اور تھا۔
’’یہ مفتی صاحب بات کیوں نہیں سمجھتے؟ اے ﷲ میاں، یہ مجھے اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ بیعت کریں کہ میں تیری راہ پہ چل سکوں کہ میں تجھے پاسکوں۔ کہ میں تجھے ڈھونڈ سکوں، بلکہ یہ چاہتے ہی نہیں ہیں کہ تو مجھے ملے اور عبدﷲ کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے، جسے اس نے بڑی مشکل سے چھپایا۔
تمہارے بعد میرے زخم نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
محفل برخاست ہوئی، عبدﷲ ابھی اٹھ کے جانے ہی لگا تھا کہ مفتی صاحب نے اُس کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ بولیں۔
’’میں ایمان لایا‘‘
عبدﷲ کی زبان گنگ ہوگئی، مفتی صاحب نے جملہ دہرایا۔ عبدﷲ پھر خاموش، تیسری بار جملہ دہرایا تو عبدﷲ کی زبان سے بمشکل نکلا۔
’’میں ایمان لایا‘‘ مفتی صاحب نے بات جاری رکھی، ’’ﷲ تعالیٰ پر، اسکے رسولوں علھیم السلام پر، اس کی کتابوں پر، تقدیر پر کہ خیروشر دونوں ﷲ کی طرف سے ہے۔ قبر کا عذاب برحق ہے اور قیامت میں ﷲ کے یہاں زندگی برحق ہے۔
توبہ کی میں نے ان تمام گناہوں سے جو زندگی میں مجھ سے سرزد ہو ئے، وہ گناہ جو لوگوں کے سامنے ہوئے اور جو تنہائی میں ہوئے، بڑے اور چھوٹے، اور وہ گناہ جو میں نے جان بوجھ کر کئے اور وہ جو نا دانستہ ہوئے۔
ﷲ میں توبہ کرتا ہوں، جھوٹ سے، کِبر سے، تیری نافرمانی سے، غصے کی زیادتی سے، لوگوں کو دھوکا دینے سے، اپنے آپ کو بڑا سمجھنے سے، یاﷲ! میری توبہ قبول فرما، اے ﷲ! میری توبہ کو قبول فرما اور اے ﷲ اس توبہ کو ایسا قبول فرما جو مجھے دھو دے۔ بیعت کی میں نے حضرت رسالت پناہ صلی ﷲ علیہ وآل وسلم کے دستِ مبارک پر، اُن کے تمام خلفاء کے ذریعے، اور بیعت کی میں نے تمام بزرگوں کے ہاتھ پر جن کا سلسلہ اور سند مفتی صاحب تک پہنچا، بیعت کی میں نے اولیاء ﷲ کے تمام سلاسل میں، یا ﷲ! اس بیعت کو میرے تزکیے کا سبب بنا اور مجھے معرفت اور حقیقی مغفرت نصیب فرما‘‘۔
عبدﷲ نے بڑی مشکل سے رو رو کر الفاظ دھرائے اور بیعت کے بعد سیدھا مسجد کی چھت پر چلا گیا۔ عبدﷲ دیر تک سجدے میں پڑا اپنے ﷲ کا شکر ادا کرتا رہا جس نے اس کی وہ دعا بھی سن لی جو دل میں تو آئی مگر، زبان سے ادا نہیں ہوئی تھی۔
عبدﷲ نے ڈاکٹر رمضان کے لئے بھی خوب دعا مانگی جنھوں نے مفتی صاحب سے ملوایا تھا اور اگلے روز جا کے مفتی صاحب کا بھی شکریہ ادا کیا۔
اعتکاف کے 10 دنوں میں جو ایک بات عبد ﷲ کو اچھی طرح سمجھ میں آگئی وہ یہ تھی کہ اپنے آپ پہ کام کرنا ہے۔ مفتی صاحب نے بتایا تھا کہ بندہ 40 دن تک عبادت کرے خلوص کے ساتھ تو ﷲ اسکی زبان سے حکمت کے چشمے جاری کرتا ہے۔ مفتی صاحب نے ایک ذکر بھی بتایا کرنے کو کہ صبح و شام کچھ وقت پابندی سے نکال کے سانس کے ساتھ لا الہ الا ﷲ پڑھا کرو، سانس باہر جائے تو لا ا لہ ، اندر آئے توالا ﷲ۔
عبدﷲ کی TDL پر اگلا ہدف ﷲ کا ذکر تھا۔ ﷲ کے ذکر کو محورِ زندگی بنانا تھا اور باقی تمام چیزیں اس کے گرد لپیٹنی تھیں۔ عبدﷲ نے اپنا تمام تر فوکس اپنی نئی کمپنی کی جانب مرکوز کردیا۔ بزنس پلان، مارکیٹنگ ٹیم کی استعداد اور جو کام ملے وہ پوری دیانتداری اور لگن سے کرنا۔ جوں جوں کام بڑھتا گیا، عبدﷲ کو ملک کے نئے نئے رنگ نظر آتے چلے گئے، ہر روز کوئی مسئلہ، ہر روز کوئی جھوٹ، کینہ پروری، حسد اور نجانے کیا کیا۔
عبدﷲ نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان سے خائف رہنے لگا، وہ راتوں کو اٹھ کر رو رو کے ملک کے لئے دعائیں کرتا اور دن بھر وہی لوگ اسے ذہنی اذیت دیتے جن کے لئے اس نے رات دعا کی تھی۔ ہمارے ملک میں لوگ پنج وقتہ حاسد ہوتے ہیں، جنہیں اپنے مرنے سے زیادہ لوگوں کے جینے کا غم ہوتا ہے، شراب اور سگریٹ پینے کی طرح ظلم کرنا بھی ایک عادت ہے۔ دھیرے دھیرے اگر ایک بار یہ پختہ ہوجائے تو پھر چھٹتی نہیں، یہاں تک کہ بندہ ظلم کرتے کرتے مرجاتا ہے۔ عادی ظالموں کے اِس ملک میں ہر شخص ایک بار صرف ایک بار یہ سوچ لے کہ ایک دن مرنا ہے اور اس دن ساری عادتوں کا جواب دینا پڑے گا تو شاید کبھی اپنے گریبان میں جھانکیں اور پوچھیں کہ کیا کر رہے ہیں۔
کبھی اپنے دل کے اندر جو دیکھتے تو رکتے
تیرے کاخِ بے مکیں کا یہ طواف کرنے والے
ہم اپنے بچوں کو فخر کی غذا دیتے ہیں، رعونت سکھاتے ہیں، محنت نہیں، ادب نہیں، قدرت خیرات نہیں دیتی، مگر محنت کرنے والوں کا ساتھ ضرور دیتی ہے، ویسے تو اللہ کی مرضی ہے جب چاہے جسے چاہے دے دے۔ اس کا کسی سے لگا تھوڑا ہی ہے مگر کلیہ یہی بنتا ہے۔
ہمارے ملک میں لوگ ترقی سے اور ترقی کرنے والے سے حسد رکھتے ہیں۔ دشمنی پال لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح بس اسے زوال آجائے حالانکہ اس کا سیدھا حل ہے، حسد انفارمیشن پر پلتا ہے، اسے اگر انفارمیشن نہ ملے تو یہ بھوکا مرجائے۔ اگر آپ کو حسد کنٹرول کرنا ہے تو کچھ دنوں کے لیے سوائے اپنے سب لوگوں کی فکر اور ٹوہ میں رہنا چھوڑ دیں۔ حسد بے چارہ بھوک سے مرجائے گا۔
حسد ہوتا بھی اپنی ہی فیلڈ کے لوگوں سے ہے، اب بھلا کمپیوٹر سائنٹسٹ کو رنگریز سے حسد کیوں ہونے لگا؟ انسان کو چاہئیے کہ جن لوگوں سے حسد کرتا ہے ان کے لیے نماز میں دعا مانگا کرے کہ اللہ انہیں اور دے، اس سے بھی حسد جاتا رہتا ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ بہت پُرجوش تھا، وہ صوبائی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار سے ملنے لاہور جا رہا تھا اپنے سافٹ وئیر کی Presentation کے لئے۔ میٹنگ کے بعد وہ اعلیٰ عہدیدار مخاطب ہوئے، عبداللہ آپ کا کام بہت شاندار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ملک و قوم کے کام آئیں۔ جی میں بھی یہی چاہتا ہوں، آپ بتائیے کب سے کام شروع کریں؟ عبداللہ نے کہا۔ مگر میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔ عہدیدار صاحب گویا ہوئے، وہ یہ کہ کام فی سبیل اللہ کرنا ہوگا۔ پیسے کوئی نہیں ملیں گے، حب الوطنی کا جذبہ یہی تقاضا کرتا ہے۔ عبداللہ نے بات سنی اور ہنستے ہوئے کہنے لگا کہ جناب میں اپنا ہوم ورک کرکے آتا ہوں، الل ٹپ کوئی بات نہیں کرتا۔ آپ کے پاس 40 کروڑ کا بجٹ ہے اس ادارے کے لیے، 22 بندے آپکے پرسنل اسٹاف میں ہیں، ایک گھر اور 2 گاڑیاں اور اچھی خاصی تنخواہ۔ اسی سافٹ ویئر کے لئے آپ کینیڈین کمپنی کو 3 ملین ڈالر سالانہ دینے کو تیار ہیں مگر جب بات آئی اپنے لوگوں کی، ملکی استعداد کی تو آپ بن گئے عبدالستار ایدھی۔
اگر آپ ایدھی ہوتے تو میں مفت میں کام کرلیتا، جناب والا حبّ الوطنی اور غلامی میں فرق ہے۔ میں غلام نہیں آزاد آدمی ہوں۔ عہدیدار صاحب سے آج تک کسی نے اس لہجے میں بات نہ کی تھی وہ سیخ پا ہوگئے۔ کہنے لگے اگر آپ نے لالچ کا مظاہرہ کرنا ہے اور پیسے ہی کمانے ہیں تو دفع ہوجائیے اس ملک سے، یہ اللہ کے نام پر بنا ہے اور اللہ ہی اس کا نگہبان ہے، یہ میرا ملک ہے، (عبد اللہ گرجا )حب الوطنی میرے خون میں ہے، میں کیوں کسی کو ثابت کروں کہ میں کتنا حب الوطن ہوں۔ میں ادھر ہی ہوں۔ کیونکہ آپ بوڑھے ہیں، کچھ سالوں میں ریٹائر ہوجائیں گے پھر کچھ سالوں میں مرجائیں گے، میں انتظار کروں گا اس دن کا تاکہ ملک اس ڈگر پہ چل سکے جہاں چلنا چاہئے اور تب تک میں وہ نسل تیار کروں گا جو آپ کی انا کو چیلنج کرتی رہے۔
عبداللہ کی بات مکمل ہوئی اور مغلّظات کا اک طوفان جناب والا کی زبان سے جاری ہوا اور عبداللہ کو دھکے دے کر نکال دیا گیا۔
عبداللہ گاڑی میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔ بلّو نے بڑا دلاسہ دیا اور کہا کوئی بات نہیں، آئندہ ایسا نہیں ہوگا، تمہیں زیادہ نہیں بولنا چاہیئے تھا، مگر بِّلو انہیں تو گالی دینے تک کا ذوق نہیں تھا۔ کمینہ اس شخص کو کہتے ہیں جس سے کسی کو فائدہ نہ پہنچ سکے۔ خبیث اسے کہتے ہیں جس میں شیطانی صفات ہوں۔ گالی کسی کو اشتہا دلانے کے لیے دی جاتی ہے میں تو محظوظ ہوتا رہا۔ مرزا غالب کہتے ہیں بچے کو ماں کی گالی، جوان کو بیوی کی اور بوڑھے کو بیٹی کی گالی دینی چاہئیے۔ اتنی اردو تو آتی نہیں جناب والا کو، پتہ نہیں اتنے بڑے افسر کیونکر بنے۔ نہ کوئی سمجھ، نہ ذوق، نہ اٹکل، نہ طنز، نہ استعارہ بس لشتم پشتم آفیسری ہوگئی۔ بالکل ہی اکل کھرے تھے وہ، بِلّو ہمیشہ کی طرح ہنس کے خاموش ہوگئی۔
اُوپر تلے ایسے بہت سے واقعات ہوتے چلے گئے، کبھی کسی نے کام کروا کر پیسے نہ دیئے تو کبھی بلاوجہ contract کینسل کردیا، کبھی contract کو اپنے کسی رشتہ دار کو جاب دینے سے مشروط کردیا تو کبھی بیٹی یا بیوی کے لئے لیپ ٹاپ کی فرمائش کردی اور سب سے زیادہ دکھ جب کوئی سیکیورٹی رسک قرار دے کہ عبداللہ امریکہ سے پڑھا ہے۔ عبداللہ ایک دن بِلّو سے کہنے لگا کہ با ضمیر شخص کو مارنے کے لیے گولی کی ضرورت تھوڑا ہی ہوتی ہے، ہمارے معاشرے میں وہ روز مرتا ہے، اور با ضمیر وہ ہوتا ہے جسکی آنکھ دل بن جائے اور دل آنکھ۔، نہ ہی وقت کوئی زخم بھرتا ہے، نہ ہی کوئی اذیت بھلائی جاتی ہے، ہاں اگر کسی کی یا داشت کمزور پڑجائے تو اور بات ہے۔ بِلّو تو دیکھنا یہ سب لوگ ایک دن آئیں گے میرا سافٹ وئیر خریدنے۔ اللہ مظلومیت کے نشانات کو باقی رکھتا ہے۔ آج تک ظہر و عصر میں قرآن کی تلاوت آہستہ آواز میں ہوتی ہے۔ آج تک صفا و مروہ کے بیچ میں لوگ بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کو میرا صبر پڑجائے گا۔
ملکی حالات و معاملات سے دلبرداشتہ ہوکر عبد اللہ نے انٹرنیشنل consulting شروع کردی۔ آئیڈیا یہ تھا کہ سال میں 3 ماہ باہر کام کرے گا اوسطاََ اور باقی 9 ماہ ملک میں جو چاہے کرے۔ باہر پیسہ اچھا ملتا ہے تو 3 ماہ میں پورے سال کا بندوبست ہوجائے گا۔ آج عبد اللہ اپنے پہلے بڑے contract پہ کام کرنے لتھونیا روانہ ہوا۔ Vilnius بڑا خوبصورت شہر ہے۔ عبداللہ نے گیسٹ ہاؤس میں سامان رکھا اور باہر گروسری اسٹور سے کھانے کا سامان خریدنے چلا گیا۔ کچھ فروٹ، موبائل کی سم، پانی وغیرہ لے کے جب cash counter پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ان کی کریڈٹ کارڈ کی مشین خراب ہے۔ عبد اللہ نے یورو نکال کے دئیے تو معلوم ہوا کہ لیتھونیا یورپی یونین میں تو ہے مگر یورو یہاں نہیں چلتے، اب عبداللہ بڑا پریشان ایک آدھا فروٹ وہ کھا چکا تھا۔ سم موبائل میں ڈال چکا تھا اور پانی کی بوتل بھی کھول چکا تھا۔
اسے پریشان دیکھ کے ایک اور
لتھونین شخص آیا، اسے انگریزی بالکل نہیں آتی تھی۔ اس نے پیسے ادا کئے اور عبد اللہ کو ہاتھ پکڑ کے باہر لے گیا۔ اشاروں سے پوچھا کچھ اور چاہئیے؟ عبداللہ نے کاغذ پہ STARBUCKS لکھ دیا اور وہ کافی ہاؤس پہنچ گئے، پھر اس نے اسے گیسٹ ہاؤس چھوڑ دیا۔ پیسے کوئی نہیں لئے۔ عبداللہ نے گیسٹ ہاؤس کی مالکہ سے کہا کہ اسے فون کرکے پوچھے کہ کیا ہوا ہے؟ لتھونین زبان میں، مالکن نے پوچھا تو اس شخص نے جواب دیا۔ آج زندگی میں پہلی بار کسی داڑھی والے اور مسلمان سے ملا، پاکستانی بھی پہلی بار ملا، میں نے سوچا ملک میں پہلی بار آیا ہے کیا تاثر لے کر جائے گا تو کچھ مہمان نوازی کردی۔ گھر جا کر بچوں کو بتایا وہ کل اسکول میں بتائیں گے، میں کل آفس میں یہ قصہ سناؤں گا، بیوی محلے والوں کو بتائے گی تو سوسائٹی میں خیر پھیلے گی اور یہ جب اپنے ملک واپس جائے گا تو ہمارے ملک کی تعریف کرے گا، یہاں اور سیاح آئیں گے۔
آج عبداللہ کو معلوم ہوا کہ انسان کسے کہتے ہیں۔ وہ عرصے سے انسان ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے ہمیشہ شکوہ رہتا ہے کہ انسان نے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا سیکھ لیا۔ مچھلی کی طرح دریا میں تیرنا سیکھ لیا، مگر اسے انسانوں کی طرح زمین پر چلنا نہیں آیا۔
ایک ایسا انسان جس سے کسی کو دکھ نہ پہنچے، جو نفع بخش ہو، نفع خور نہیں۔ جو درخت کی طرح کم لے اور زیادہ دے، اسے بھی چھاؤں دے جو اسے کاٹنے آئے۔ وہ ہیرا ہو جو سب کو چمک دے اسے بھی جو اسے پتھر کہے۔ وہ انسان جسے انسانیت کا غم ہو، جو اوروں کے لیے روئے، جو مرکب ہو ہمت اور محبت کا، جس کو مکمل قابو ہو نفس، غصے اور عقل پر۔ جس کو زندگی نہ بھگائے بلکہ زندگی کی کمانیں جس کے ہاتھ میں ہوں۔
عبداللہ کو یہاں کا معاشرہ بہت پسند آیا، ہر گھر میں گھوڑا رکھنے کا رواج اور ہر شخص نشانہ بازی سیکھنے کا شوقین، عبداللہ شہر کی کتابوں کی دکان پر گیا اور قرآن طلب کیا، کیا ہی خوبصورت قرآنِ پاک تھا، لتھونین ترجمے کے ساتھ 50 پاؤنڈز کا۔ عبداللہ نے پوچھا اتنا مہنگا کیوں؟ تو دکاندار نے بتایا کہ جب مارکیٹ میں آیا تو 2 پاؤنڈ کا تھا، طلب بڑھ گئی تو پبلشر نے50 کا کر دیا ہے۔ اب کوئی نہیں لیتا۔ عبداللہ کو اپنا وجود زمیں میں گڑتا ہوا محسوس ہوا۔ اگلے دن عبداللہ شہر کے مشہور میوزیم میں گیا تو شو کیس میں ٹوپی، قرآن، جائے نماز اور تسبیح اور وضو کا لوٹا دیکھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جب vilnius پر کچھ سو سال پہلے حملہ ہوا تو انہوں نے عرب فوجوں کو یہاں بلایا تھا دفاع کے لئے یہ انکی باقیات ہیں۔ عبداللہ کو جستجو ہوئی کہ وہ لوگ آئیں ہونگے تو رہے ہونگے، شادیاں کی ہونگی، آخر ڈھونڈتے ڈھانڈتے وہ ایک قریبی شہر پہنچ گیا جو ان عرب مجاہدوں کی ذرّیات میں سے تھا، وہاں لوگوں کو اسلام تک کا پتہ نہیں تھا۔ ایک بوڑھی عورت کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر عبداللہ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو کہنے لگی کہ جب دعا مانگنی ہوتی ہے تو اس پر لِلّٰہ ( lillah) پڑھتی ہوں۔ یہ لفظ کیا ہے وہ اسے معلوم نہ تھا۔
عبداللہ کو اپنے آپ پر بڑا غصہ آیا کہ ایک خدائی ہے جو دین سننے کے لئے بے تاب ہے مگر ہم انہیں کافر کہتے نہیں تھکتے۔ اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجنئیر بنا دیں گے مگر عالم نہیں جو یہاں آکر ان کی زبان میں انکو اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔ مسلمان گیس اسٹیشن کھول لے گا، ریسٹورنٹ چلائے گا، گاڑیاں دھو لے گا، ویٹر بن جائے گا مگر اپنے بچوں کو اچھا عالم نہیں بنائے گا۔ مدرسوں میں زکوٰۃ کا پیسہ دیتے ہیں اور اب تو زکوٰۃ بھی حلال مال کی نہیں رہی۔ زکوٰۃ میل ہوتی ہے وہ بھی حرام کا۔ سینکڑوں بچے کسمپرسی میں پل بڑھ کے، جھوٹا کھا کے بھی اگر قرآن حفظ کرجائیں تو سلام ہے ان کی عظمت کو، اور ہم پڑھے لکھے، پیسے والے سوائے بغض وعناد کے مولوی سے کچھ نہیں رکھتے، کیوں نہ ایک اسکول یا مدرسہ بنایا جائے جہاں پوری کھیپ تیار ہو ایسے بچوں کی جن کا کام ہی دنیا کے ملکوں میں جا کے وہاں دین کا کام پھیلانا ہو، ان کی اپنی زبان میں۔
مغرب کے پاس سب کچھ ہے سوائے ایمان کے، اگر مشرق یہ نعمت ان تک پہنچا دے تو کیا کہنے! مغرب ایک ایسا بچہ ہے جو بنا ماں باپ کے ہی بڑا ہوگیا ہے۔ اسلام وہ تمیز وہ مزاج، وہ رنگ ہے جو اسے بہترین بنا دے۔ سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآل وسلم میں آج بھی اتنی جان باقی ہے کہ وہ ایک نئی امت تشکیل دے سکے۔ عبداللہ کی سوچ کا دھارا کہیں اور ہی چل نکلا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبد اللہ نے لتھونیا میں اپنا کام بہترین طور پر مکمل کیا کہ وہ لوگ بھی ایک پاکستانی کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے اور پھر عبد اللہ لتھونیا سے Estonia, Latvia Poland اور Finland کی سیاحت پر نکل گیا۔ Latvia اور Estonia کی سرحد پر اس کا قیام ایک مدرسے نما ہوٹل میں ہوا جس کے نچلے دو فلور ہوٹل تھے اور اوپر کے دو یہودیوں کے اسکول۔ ہوٹل سے ہونیوالی کمائی سے اسکول چلتا تھا۔ عبداللہ کو یہ آئیڈیا بڑا پسند آیا۔ عبداللہ نے اس سفر میں بہت کچھ سیکھا، خوب پیسہ کمایا اور خوب سیاحت کی۔ واپسی میں تُرکی بھی رُکا اور دو ہفتوں میں تُرکی ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھوم لیا ۔
عبداللہ سوچ رہا تھا کہ اگر زیادہ نہیں صرف 10 مسلمان مِل جائیں تو وہ لتھونیا جیسے ملک کو، 10 سال میں مسلمان کرسکتے ہیں اور یورپ میں دین کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں۔ عبداللہ نے آس پاس نظر دوڑائی مگر مسلمان ہیں کہاں؟ جنہیں خود ذکرِ الٰہی پہ یقین نہ ہو، کلمۂ حق پہ اعتبار نہ ہو، اللہ کے رب ہونے پر یقین نہ ہو، نمازوں کی اہمیت بھول گئی ہو، دعا کی طاقت سے نا آشنا ہو، درد کی لذت سے ناواقف ہوں، رت جگوں کی عادت نہ رہی ہو، وہ کس کو اور کیسے ایمان کی دعوت دیں گے۔
جاری ہے

Latest Posts

Related POSTS