Khojh | Episode 17

503
تصوف میں روزہ نہیں رکھا جاتا، پتہ کیسے لگے کہ اثر ہورہا ہے، کچھ نہ کچھ تو ملے نہ،
تو مگر پھر بھی نہ مجھ کو مل سکا
(سیدّمبارک شاہ)
بچہ بڑا ہو رہا ہو تو اسے پتہ نہیں لگتا۔ آہستہ آہستہ کچھ سالوں میں پتہ لگتا ہے۔
صبر کیا ہے؟
جب شکایت کا رخ ﷲ کی طرف ہوجائے، صبر کے معنی ہیں جسِ مشن پر چلا ہے اِس میں جو مصیبتیں اور مشکلات آتی ہیں ان سے نپٹے اور جما رہے۔ ہار ماننا تو شکست ہے۔
آزمائش اور سزا میں کیا فرق ہے؟
ﷲ کی طرف سے گناہوں کی سزا اور اچھے اعمال کی آزمائش ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ جب سزا آتی ہے تو دل کا سکون چِھن جاتا ہے۔ جب آزمائش آتی ہے تو دل پُر سکون رہتا ہے۔
آئیڈیل کسے بناؤں؟
ﷲ کے نبی محمد صَلی ﷲ علیہ وآلہ وسلّم کے علاوہ کسی کو بھی آئیڈیل بناؤ گے تو frustate ہوجاؤ گے۔
بہت ڈرتا ہوں اعمال کی وجہ سے۔
بہت اچھی بات ہے، بے خوف ہوجانا بُری بات ہے، خوفزدہ رہنا ایمان کی دلیل ہے۔
صالح آدمی کون ہوتا ہے؟
جسے اپنے غصہ، جنس اور عقل پر کنٹرول ہو۔
ذلّت کیا ہے؟
ذلّت آرزؤں کی کثرت کا نام ہے، باطن کی صفائی سے آرزوئیں محدود ہوجاتی ہیں۔
جوانی اور بڑھاپا کیا ہے؟
جب جسم نفس سے گناہ کا کہے تو سمجھو جوان ہے، جب نفس جسم سے کہے تو سمجھو بوڑھا ہوگیا ہے۔
اچھا مفتی صاحب میں اذان دینے جارہا ہوں دعا کرنا۔
ﷲ برکت دے۔
عبدﷲ مفتی صاحب سے مل کر مسجد سے نکلا تو فقیر نے صدا لگائی۔
صاحب جی کچھ دیتے جاؤ، یقین کرو میرا ﷲ کے سواکوئی نہیں۔
ارے، مبارک ہو، بھنگڑا ڈالو، خوشیاں مناؤ، شکرانے کے نفل پڑھو۔ جسے ﷲ مل گیا اسے اور کیا چاہیے؟
اچھا ایسا کرو میرا بٹوہ تم لے لو اپنا ﷲ مجھے دے دو۔
عبدﷲ فقیر کو سکتے میں چھوڑ کر اپنی نئی assignment پر ملک سے باہر جانے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔
ایک بار پھر سوالات کی یلغار اس کے دماغ میں تھی۔ ﷲ کہتے ہیں کہ ان کی سنّت تبدیل نہیں ہوتی تو وہ سنت آخر ہے کیا؟
اور عبدﷲ کا قلم اس کی ڈائری میں چلنا شروع ہوگیا۔
ائیر پورٹ پر بلّو نے کہا، عبدﷲ دیکھو اِس بار کڑوا نہ بولنا وہاں کسی سے، بلّو لوگ تو کہی ہوئی باتیں کچھ منٹوں یا دنوں میں بھلا دیتے ہیں، اپنے ساتھ تو زندگی گذارنی ہے، جھوٹ کیسے بولوں؟
*۔۔۔*۔۔۔
عبداللہ آج کے دن کا بڑا انتظار کر رہا تھا، آج سلیکون ویلی کی ایک بڑی کانفرنس میں اُس کی تقریر تھی۔ عبداللہ نے رات بھر تیاری کی کہ اس کا سامنا اب دُنیا کے بہترین دِماغوں سے تھا۔
عبداللہ نے اپنی کمپنی کے وِژن اور سافٹ ویئر کے بارے میں بات کی اور ہجوم سے خوب داد وصول کی۔ تقریر کے بعد کئی ایک لوگ آگے بڑھے اور عبداللہ کو اپنے وزٹنگ کارڈ پکڑاتے ہوئے انوسٹمنٹ کی آفر کی، سب سے اچھی آفر ایک وی سی فنڈنگ کی بڑی کمپنی نے کی۔ آفر 3 ملین ڈالر کی تھی اور جواب میں صرف کمپنی کا 15 فیصد حصہ مانگا گیا تھا۔
دو روز بعد ملاقات کا وقت طے ہوا، عبداللہ دو دنوں تک پلان بناتا رہا کہ ان پیسوں سے کیا کرے گا، کون سی ٹیم ہائر کرے گا اور کون کون سی پراڈکٹس کتنے عرصے میں بنائے گا۔
ملاقات کے دن انویسٹر صاحب نے کہا۔ عبداللہ ہم چاہتے ہیں کہ تم یہاں امریکہ میں آجاؤ، یہیں ٹیم ہائر کرو اور خوب محنت کرو، ہمیں کامیابی کا 100 فیصد یقین ہے۔
جی بہتر، مگر ٹیم تو میں پاکستان میں ہائر کروں گا، ہمارے ملک میں بہت ٹیلنٹ ہے۔
عبداللہ، دیکھو یہ ممکن نہیں، پاکستان میں آئے دن دنگے فسادات، خودکش حملے اور پتہ نہیں کیا کچھ چلتا رہتا ہے۔ وہاں پیسہ لگانا رِسک ہے جو ہم نہیں لے سکتے۔ سال بھر میں پراڈکٹ بنا کے کمپنی کسی اور کو بیچ دیں گے، پھر تم جو چاہے کرنا پیسوں سے۔
’’ہاں مگر کمپنی سال میں نہ بکی تو؟‘‘
’’تو کیا ہوا دو سال میں چارسال میں۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔‘‘
انویسٹرصاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’مگر ہم کمپنی بیچیں ہی کیوں، کیوں نہ ہم اِسے ایپل یا مائیکروسافٹ بنا دیں؟‘‘ عبداللہ کے سوالوں کی پوٹلی پھر کُھل گئی۔
’’نہیں عبداللہ جو سرمایہ لگاتے ہیں وہ اِتنا اِنتظار نہیں کرسکتے۔‘‘
عبداللہ گویا ہوا ’’سر ٹیم پاکستان میں ہائر ہوگی، آپ کو اعتبار نہیں تو میں آپ کے پاس رہ جاؤں گا بطورِ تاوان، ورنہ مجھے منظور نہیں۔‘‘
اور انویسٹرصاحب اُٹھ کر چلے گئے۔
عبداللہ کافی دیر تک سوچتا رہا کہ ایسے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کچھ سوچنا پڑے گا، عبداللہ نے قیام کو کچھ طویل کیا اور کوئی 25 سے اُوپر سرمایہ کاروں اور کمپنی کھولنے میں معاونت کرنے والوں سے ملا قاتیں کیں۔
کسی نے اُسے شاندار جاب کی آفر کی تو کسی نے اس کے آئیڈیاز کو بے کار قرار دیا، حتیٰ کہ پاکستانی تک پاکستانی کمپنی میں انویسٹ کرنا نہیں چاہتے۔
عبداللہ بڑا دلبرداشتہ ہوا۔
اُس نے سوچا کہ اگر معمولی سی فنڈنگ مُلک سے ہی مِل جائے تو بھی کام چل سکتا ہے، وہاں بھی تو اِتنے اِدارے موجود ہیں، غیر سے پیسہ لیں ہی کیوں؟ یہ سوچ کے اُسے بڑا اطمینان ہوا۔
اُس نے باقی ماندہ دِن کنسلٹنگ کے گن کر پورے کئے اور واپس پاکستان چلا گیا۔
پاکستان پہنچ کر پتہ لگا کہ اس کی کمپنی اسٹارٹ اپ ورلڈ کپ میں شارٹ لسٹ ہوگئی ہے اور وہ آرمینیا پہنچ گیا اور ایک بار پھر پہلی پوزیشن لے کر پہلا ورلڈ کپ جیت لیا۔ اِس سے اسے کافی حوصلہ مِلا۔ عبداللہ نے سب کچھ بھلا کے پھر سے کام کرنے کا سوچا۔
اگلے چند ماہ گرانٹ پرپوزل لکھتا رہا، اسے پوری اُمید تھی کہ جن ٹیکنالوجیز پر وہ کام کر رہا ہے ان سے پاکستان کو کسی حد تک دہشت گردی سے نجات مِل جائے گی۔ ڈیٹا سائنس کی ہر جگہ دھوم تھی اور عبداللہ کا اِس سے متعلق تمام چھوٹی بڑی اِصلاحات پر ہاتھ صاف تھا۔ کسی کتاب میں اُس نے پڑھا تھا کہ کسی بھی فیلڈ میں مہارت قائم کرنی ہو تو زندگی کے 10 ہزار گھنٹے اِس میں لگا دو۔ عبداللہ کوئی سترہ ہزارسے اُوپر گھنٹے اِس فیلڈ میں لگا چکا تھا۔
ایک دن اُمید بر آئی اور اُسے ایک کروڑ کی گرانٹ کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ صوبائی حکومت ویسے بھی بڑے اچھے کام کر رہی تھی اور یہ تو ویسے بھی وہ پیسے تھے جو انھیں انٹرنیشنل ڈویلوپمنٹ فنڈ سے ایسے ہی کاموں کے لیے ملے تھے۔
عبداللہ مہینہ بھر سے آنے والے چیک کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آیا۔ اُس نے بارہا کال کی مگر ہر بار ’’صاحب‘‘ کسی دورے پر ہوتے، اُس نے یہاں تک کہہ دیا کہ بھائی نہیں دینے پیسے تو بتا دو۔ کوئی جواب تو دو مگر اعلیٰ عہدیداروں کی صرف آنکھیں ہوتی ہیں کان نہیں یا شاید حواسِ خمسہ ہوتے ہیں مگر دل نہیں۔ وہ متعدد بار ان کے آفس بھی گیا مگر وہ عبداللہ جیسے چھوٹے بندوں سے مِل لیتے تو ’’صاحب‘‘ کہلاتے ہی کیوں؟
عبداللہ کو آج ایک حدیث یاد آ رہی تھی کہ جو حکمران ضرورت مندوں اور غریب لوگوں کی شکایت سننے کے بجائے اپنے دروازے بند رکھے گا تو پھر اِس حکمران کو جب خود مدد کی ضرورت ہوگی تو اللہ تعالیٰ بھی اپنے دروازے اِس کے لئے بند کردے گا۔
عبداللہ نے کوشش جاری رکھی، ’’صاحب‘‘ کا تبادلہ ہوگیا۔ نئے صاحب آگئے۔ نئے صاحب حج پر چلے گئے اور پھر مُلک میں الیکشن آگئے، پھر سب بجٹ بنانے میں لگ گئے، پھر صوبائی بجٹ بنانے میں لگ گئے اور پھر نئے صاحب کا بھی تبادلہ ہوگیا اور نئے سے نئے صاحب ابھی آئے نہیں۔
عبداللہ نے وفاقی سطح پر قائم اِداروں کو پروپوزل دیئے۔ اِس نے انہیں بتایا کہ جن پراڈکٹس پر آپ ملین ڈالرز لائسنس کی مد میں دیتے ہیں وہ ہم خود لاکھ ڈالر میں بناسکتے ہیں پھر آپ دوسرے ممالک سے زر مبادلہ کمانا۔
پھر سے ایک دور شروع ہوا۔ ملاقاتوں کا گفتگو کا، پرپوزل جمع کروانے کا مگر نتیجہ ندارد۔ آخر میں کہا گیا کہ آپ کے Technical پرپوزل میں جان نہیں۔ عبداللہ نے بہت سٹپٹایا کہ جنابِ والا آپ کے مُلک میں کوئی دوسرا ہے ہی نہیں جو انھیں صحیح طرح سمجھ سکے۔
بڑی مشکلوں سے ایک صاحب سے بالمشافہ ملاقات کروائی گئی۔ جنھوں نے پروپوزل پڑھا تھا، انہوں نے فرمایا، ڈاکٹر عبداللہ ہم نے آپ کو ایک Tv پروگرام میں دیکھا تھا جو باتیں آپ کرتے ہیں وہ ہمیں پسند نہیں۔
عبداللہ نے لاکھ سمجھایا کہ جس پروگرام کی آپ بات کررہے ہیں وہاں میں زندگی میں بھی نہیں گیا اور اس پروگرام کا میرے پرپوزل کے معیارسے کیا تعلق؟
مگر ان صاحب نے جو بات کہہ دی سو کہہ دی، جس ملک میں نام کے ساتھ لگا عہدہ عقل کا تعین کرے وہاں ایسے نادرالوقوع حادثات روز ہوتے ہیں۔
میٹنگ سے واپسی پر عبداللہ کو اپنے بچپن کی کہانیاں بڑی یاد آ رہی تھیں جہاں بونے صرف پستہ قد والے ہی ہوتے تھے۔
سارے ذرائع کو آزمانے کے بعد صرف ایک حکومتی اِدارہ بچا جہاں سے عبداللہ کو پوری اُمید تھی کہ کام بن جائے گا۔ آج اُن سے ملاقات تھی۔ عبداللہ رات بھر دُعا مانگتا رہا کہ یااللہ یہ آخری در ہے اِس دُنیا میں، یہاں سے ضرور کچھ کروا دے۔ سارے معاملات طے پا گئے تو ’’صاحب‘‘ نے فرمایا،
’’بھئی عبداللہ، مبارک ہو اِتنا بڑا پراجیکٹ ملنے والا ہے، بس کچھ ہی دنوں میں کام شروع کرتے ہیں مگر ہمارا کیا خیال کرو گے؟‘‘
’’جی میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
’’ارے بھائی، ہم نے جو اِتنی محنت کی اِسے منظور کروانے میں، 30 فیصد جو پیسے آئیں گے ان میں سے ہم رکھ کر باقی آپ کو دے دیں گے۔ میرا سیکرٹری آپ کو 3 پروفائلز دے گا۔ آپ تینوں کو رکھ لیں لاکھ روپے مہینہ پر، اور اب کے باہر جائیں تو دو نئے والے آئی فونز لیتے آیئے گا۔
عبداللہ کا غصہ اس کے چہرے پر آ کر ثبت ہوگیا، اس نے بڑی مشکل سے کہا،
’’سر، آپ کے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اِن پیسوں کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے، میرا پراجیکٹ آپ کی شرائط کے بعد آدھا بھی نہیں ہوگا‘‘۔
اب غصہ کی باری صاحب کی تھی، تو کیا آپ نے ہمیں اپنا چپڑاسی سمجھ لیا ہے جو ہم آپ کے لیے فون کرتے پھریں، عبداللہ یہاں تم جیسے درجنوں روز جوتیاں چٹخاتے ہوئے ملاقات کا وقت لینے آتے ہیں اور ذلیل ہوکر چلے جاتے ہیں، ہماری ملاقات ختم۔
عبداللہ نے واپسی کی راہ لی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کچھ لوگ زندگی بھر اَنا کی پرورش کرتے ہیں، اور گھمنڈ کو پالتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اور اُن کا گھمنڈ اکیلے رہ جاتے ہیں۔ باقی سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ عبداللہ نے آج پھر اللہ سائیں
کو خط لکھا،
’’اے اللہ!
ہمیں خیر کی خبر سنا اور ہمیں خیر ہی پر مطلع فرما اور اے اللہ ہمیں عافیت نصیب فرما اور ہمیں ہمیشہ ہمیشہ عافیت سے رکھ۔، اے اللہ، ہمارے دِلوں کو تقویٰ کے کاموں پر جمع فرما دے اور ہمیں اِن اعمال کی توفیق دے جن سے تو راضی اور خوش ہوا۔ اے ہمارے پروردگار، ہم پر گرفت نہ فرما جب ہم بھول چوک جائیں، مالک ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔ اے پروردگار، ہم سے وہ بوجھ نہ اُٹھوا، جس کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ نرمی برت، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا کارساز ہے، سو ہمیں کافروں پر غالب کر‘‘۔
عبداللہ نے ملک سے کسی فنڈنگ کا آئیڈیا ہمیشہ کے لئے دل و دماغ سے نکال دیا، یہاں کسی کو اپنی پراڈکٹ کے بارے میں سمجھانا پراڈکٹ بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے۔
بِلّو اِس سے کہتی، عبداللہ دال روٹی چل رہی ہے، گھر ہے، گاڑی ہے، بچے اسکول جا رہے ہیں، کمپنی میں 20 سے اُوپر ملازم ہیں۔ تو کیوں پریشان رہتا ہے؟
عبداللہ اِسے کہتا کہ اگر وہ 2 ہزار لوگوں کو ملازمت دے سکتا ہے تو 20 لوگوں پر اکتفا کیوں کرے؟ دیکھ بِلّو، عبداللہ گویا ہوا۔
اِس وقت اُمت کو سب سے زیادہ ضرورت پیسوں کی ہے، کئی ثاقب الذہن لوگ موجود ہیں مگر وسائل ان کے پاس نہیں ہیں۔ دیکھ میں نے کتنے دھکے کھائے مگر دھیلہ نہیں مِلا۔ یہ مُلک مسجدوں پر، مدرسوں پر، اسپتالوں پر، حتیٰ کہ کھیل کے میدانوں پر، بھوکوں کو روٹی کھلانے پر، زلزلے کے متاثرین کو، بیواؤں کو، یتیموں کو سب کو چندہ دے دیتا ہے مگر بزنس کے لئے نہیں، جو بھیک مانگنا سکھاتے ہیں انہیں پیسے مِل جاتے ہیں، جو کشکول توڑنے کا ہنر جانیں انہیں نہیں۔
زندگی میں کوئی اُمنگ نہ ہو، آرزو نہ ہو، پلان نہ ہو، چاہ نہ ہو تو زندگی موت بن جاتی ہے۔ عبداللہ جیتے جیتے مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اُسے کچھ ماہ بعد آنے والے رمضان کا انتظار تھا کہ وہ پھر مفتی صاحب کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ سکے اور مسجد ہی وہ جگہ تھی جہاں عبداللہ کو قرار آتا تھا، ویسے تو وہ بے قرار ہی رہتا تھا۔
آج کل عبداللہ کے کمپنی کے تھوڑے بہت کاموں کے علاوہ صرف دو کام تھے۔ کتابیں پڑھنا اور فیس بک، وہ ہزار صفحات روزانہ کی رفتار پر پہنچ چکا تھا۔ ایک دن اِس سے کسی نے پوچھا کہ حافظہ تیز کیسے ہو کہ آدمی اِتنا پڑھ بھی لے اور ذہن میں رہ بھی جائے۔
عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی گندی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالتے۔ علم کی آنر شپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس ہے، اگر ذہن صاف نہ ہوگا تو وہ بھی نہیں آئے گا۔ آنکھوں کی حفاظت کریں تو حافظہ تیز ہوجاتا ہے، جس ذہن میں ناچ گانے، فحاشی اور بے ہودہ لطیفے بھریں ہوں وہاں علم کہاں سے آئے گا؟
جاری ہے