Saturday, July 13, 2024

Khojh | Episode 20

میں نے اللہ کے ایک بندے پر جرح چھوڑ دی اُلٹا اُسے نواز دیا، مجھے اُمید ہے میرا اللہ اِس کا پاس رکھے گا۔ وہ بھی اِن شاء اللہ مجھے بغیر جرح کے نواز دے گا۔
بِلّو عبادت کی قضا تو ممکن ہے مگر جو زندگی غفلت میں گذر جائے اُس کا کیا؟ ہر دم اپنی ذات کی نفی کرتے رہنا چاہیئے، جو جتنا مٹا، راہِ ہدایت اُس پر اُتنی ہی مر مٹی۔ بِلّو جو فقیر غصے میں ہو اِسے بھیک نہیں ملا کرتی۔ غصہ تھوک دینا چاہیئے۔
عبداللہ نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے،
’’اے اللہ! میں نے ان تمام لوگوں کو معاف کیا جو بغیر کسی وجہ کے مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تو بھی مجھے بغیر کسی وجہ کے معاف کر دے۔ اے اللہ، اِس ملک میں تو نیتوں کی بھی چوری ہوجاتی ہے۔ میں تیرے لئے کام شروع کرتا ہوں مگر نفس اسے بیچ میں سے اُچک لیتا ہے۔ اللہ مجھے نیتوں کے چوروں سے بچا۔ میں اپنی نیتیں تیری اَمان میں دیتا ہوں۔
اے اللہ تو ہر عیب سے پاک ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ تعریف بھی تیرے ہی لئے ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، میں نے بہت بُرے کام کئے ہیں اور اپنی جان پر ظلم کرتا رہا ہوں۔ اے میرے مالک مجھے معاف فرما دے اور مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ کو قبول فرما، بلاشبہ تو توبہ کو بہت قبول فرمانے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
عبداللہ کو آج علی الصبح فون کال ملی ماہر بھائی کے پاس سے کہ کراچی والے مولوی صاحب اِسلام آباد سے 2 گھنٹے کی دُوری پر ایک گاؤں میں آئے ہوئے ہیں۔ اپنے ہی ایک مدرسے کی گریجویشن میں اور اگروہ ملنا چاہے تو وہاں چلا جائے۔
عبداللہ نے گاڑی نکالی اور روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ مولوی صاحب ابھی پہنچے نہیں ہیں۔ وہ خاموشی سے مسجد میں بیٹھ گیا۔ وہاں گریجویشن کی تیاریاں ہو رہی تھیں، کچھ ہی دیر میں عبداللہ بور ہوگیا۔ خیر مولوی صاحب آگئے اور فنکشن شروع ہوا۔ مدرسے کے ایک طالبِ علم نے آکر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی شان میں انگریزی میں تقریر کی۔ لوگوں نے خوب داد دی، عبداللہ فنکشن کے آخر میں اِس بچے سے مِلا اور کہا کہ گو کہ اِس کی انگریزی باقی لوگوں کی نسبت بہتر ہے کہ گاؤں میں کسی کو ڈھنگ سے اُردو بولنا نہیں آتی تو انگریزی تو دِلّی ہنوز دُور است۔
عبداللہ نے سمجھایا کہ برخوردار تم سوچتے اُردو میں ہو اور بولتے انگریزی میں ہو اِسی لئے گرامر کی ایسی غلطیاں کرتے ہو کہ حد لگ جائے۔ اِن جھوٹی تالیوں میں آ کر یہ نہ سمجھنا کہ کچھ آگیا ہے۔ میں تمہیں کچھ کتابیں بھیجوں گا وہ پڑھو اور پھر شہر میں آکر تقریری مقابلوں میں حصہ لو کہ پتہ ماری کی محنت کرنی پڑے۔
تھوڑی دیر بعد کھانے پر مسجد کے مہتمم صاحب سے ملاقات ہوئی جو کہ کراچی والے مولوی صاحب کے معتقدین میں سے تھے۔ کہنے لگے کہ آپ حضرت کو کیسے جانتے ہیں؟ عبداللہ جینز ٹی شرٹ میں ہونے کی وجہ سے پوری مسجد میں انوکھا ہی لگ رہا تھا۔
جی جانتا کہاں ہوں، تعارف ہے۔ جانا تو آج تک اپنے آپ کو بھی نہیں۔
مہتمم صاحب نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا کہ ہمارے حضرت بڑے مقام والے ہیں۔ کیا شان ہے، کیا تقویٰ، ایسے لوگ تو اَب نایاب ہوگئے ہیں جی۔ اللہ کی کیسی کیسی فضیلتیں سمیٹتے ہیں کیا بتاؤں؟
ایسے اچھے ہیں کہ بس کیا بتاؤں؟
عبداللہ نے حد الامکان کوشش کی کہ خاموش رہے مگر’’کیا بتاؤں؟‘‘ کی گردان نے سارے بند توڑ دیئے۔
’’اچھا یہ بتایئے کہ آپ اپنے حضرت کی جگہ کب لیں گے؟‘‘ عبداللہ نے سوال داغا۔
’’جی کبھی نہیں، وہ کہاں ہم کہاں۔‘‘
عبداللہ نے سوچا اس کا کوئی اسٹوڈنٹ ایسا کہتا تو شاید وہ گولی مار دیتا۔
جناب ہمت کریں، آپ جیسے کم ہمت شاگرد اللہ کسی کو کیا، آپ کو بھی نہ دے۔ ظاہر ہے اِن جملوں کی توقع کسی کو نہ تھی۔
حضرت جی کے خوف سے شاید کچھ رعایت کرلی ورنہ عبداللہ کو آج پھر پھینٹی پڑنی تھی۔
رات کا وقت آیا تو احساس ہوا کہ مسجد میں تو ایک کمرہ ہے جہاں دو لوگ سو سکتے ہیں اور اس میں ایئرکنڈیشنر ہے۔
مولوی صاحب نے پوچھا کہ ’’میں اور آپ کمرہ اِستعمال کرسکتے ہیں۔‘‘
’’نہیں جناب! میں مچھروں میں سوسکتا ہوں۔ روشنی میں نہیں۔‘‘
’’وہ آپ کے مرید صاحب کہہ رہے تھے کہ رات کو کوئی فضل و نور کی بارش ہوتی ہے تو اِتنی روشنی میں مجھے نیند کہاں آئے گی۔‘‘
مولوی صاحب ہنسے ہنستے کشتِ زعفران ہوگئے۔ آخر کار عبداللہ کو اکیلے کمرہ دے دیا گیا اور مولوی صاحب دالان میں چارپائی پر سوگئے۔
عبداللہ اِس مہمان نوازی پر بڑا خوش ہوا۔
صبح نماز کے بعد واپسی تھی۔ فجر میں بچوں کی ایک کثیر تعداد نظر آئی، سب کے سب دُھلے دُھلائے پاک صاف سفید کپڑوں میں بالکل اپنے معصوم دِلوں کی طرح۔
عبداللہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اگر دلوں کی رنگت کپڑوں پر آجاتی، اگر رُوح کے زخم کپڑوں پر لگ جاتے تو اس نے سوائے کالے سیاہ چیتھڑوں کے علاوہ کچھ نہ پہنا ہوتا۔
فجر کے بعد عبداللہ نے ایک بچے کو (جس کی عمر کوئی 5 سال سے تھوڑا ہی شرما رہی ہو گی) روک کے پوچھا کہ آپ ہر روز سفید کیوں پہنتے ہو۔
جی۔ وہ، یہ کفن کا رنگ ہے نا! تاکہ موت یاد رہے۔
عبداللہ کا دل پھر بجھ گیا، وہ واپسی یہ سوچتا ہوا آیا کہ اُمید زندگی ہے۔ آس ہے، ہمت ہے۔ اِس عمر میں صرف جینا سکھانا چاہیئے۔ موت کے اِنتظار میں بیٹھے لوگ کچھ کم ہی کر پاتے ہیں۔
عبداللہ سارے راستے یہ شعر دُہراتے ہوئے آیا:
نامناسب ہے خون کھولانا
پھر کسی اور وقت مولانا
آج پھر پیپل بھائی کی باری آئی۔ آج عبداللہ سننے کے موڈ میں تھا۔ لہٰذا گھنٹوں خاموش بیٹھا رہا۔ کچھ دیر میں عورتوں کا ایک گروہ گذرا جنھوں نے پانی کے مٹکے سروں اور پہلوؤں پر اُٹھائے ہوئے تھے اور خراماں خراماں چل رہی تھیں۔ اتنے میں پاس سے گاڑی گذری۔ ایک عورت اچانک آواز سے دھڑکی اور سر سے مٹکا اُڑ کے زمین پہ آیا اور دھڑام سے ٹوٹ گیا۔ ٹوٹے ہوئے مٹکے کے ایک نسبتاً بڑے سے ٹکڑے میں صرف اِتنا پانی رہ گیا جتنا کہ بوڑھے باپ کے پاس جوان بیٹی بیاہنے کے بعد مال گھر پہنچتا ہے۔
دھیمی چال والوں کا ٹولہ گذر گیا اور تھوڑی دیر بعد ایک گلہری آئی اور پانی پی کر چلی گئی۔ عبداللہ کی آنکھ سے اتنے آنسو نکلے کہ پیپل درخت کی ساری میموری ہی واش ہوگئی ہوگئی۔
وہ سوچنے لگا کہ ہم بھی پانی کی طرح اعمال جمع کرتے رہتے ہیں۔ تقویٰ کے مٹکے میں اور جن کا مٹکا جتنا بھاری ہوتا ہے وہ اتنے ہی آرام سے پیر اُٹھاتے اور رکھتے ہیں کہ گھاس بھی نہ دبے اور جو لوگ عبداللہ کی طرح کھلنڈرے ہوتے ہیں وہ اُچھل کود میں مٹکا تڑوا بیٹھتے ہیں، پھر کوئی آ کے سیراب ہوجائے تو اللہ کی شان۔ قرآن میں اللہ نے اپنی ایک صفت ذِی المعارج (سیڑھیوں والا) بتائی ہے کہ مومن کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ ہر سیڑھی پراللہ سبحانہ وتعالیٰ کو پاتا ہے اور عجائب در عجائب کی ایک نئی دُنیا روشن ہو جاتی ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیئے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ شکر کا دروازہ کھول دے اور نعمت کا بند کر دے۔
تصوّف نام ہی اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات اور وعدہ وعید کو جاننے اور ان پر یقین کا نام ہے۔ جیسے جیسے اِس یقین پر اضافہ ہوتا رہتا ہے، بندے کو اپنے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی موجودگی کا احساس ہوتا رہتا ہے اور یہ احساس شریعت پر پابندی کو آسان بنا دیتا ہے۔
عبداللہ کو لگا کہ اُس کا مٹکا پہلی سیڑھی پر ہی ٹوٹ گیا اور وہ پچھلی دو دہائیوں سے وہیں بیٹھا ہے۔ یہاں صرف سوال اُگتے ہیں اور عبداللہ سوالوں کی فصل کاٹتے کاٹتے تھک چکا تھا۔ ہر جواب کا ایک وقت ہوتا ہے۔ سوال کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔
عبداللہ کی حالت اِسی بھکاری کی سی تھی جو جب تک نہ ٹلے جب تک اسے دروازے سے کچھ مِل نہ جائے۔ ویسے بھی جس شخص کی کُل کائنات یقین ہو اسے ہار جانے کا خوف نہیں رہتا۔ عبداللہ کو کچھ اطمینان تھا کہ جب رُوح قبض ہوگی تو بھلے پہلی سیڑھی ہی کیوں نہ سہی، راستے میں تو بیٹھا تھا، اللہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں کا خوب خیال رکھتے ہیں۔
کئی روز گذر گئے۔ عبداللہ مٹکا ٹوٹ جانے والی بات میں محو تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیونکر اُٹھے، کیسے پھر سے بھرے، کیسے نہ ٹوٹنے دے۔ دل میں خیال آیا کہ ان کے پاس چلا جائے جن کے پاس پانی کی ٹنکیاں ہوتی ہیں تا کہ سیراب ہو سکے تو بیعت کے لیے صحبت ضروری ہے۔ سیکھنے کے لئے کسی زندہ آدمی سے تعلق رکھنا ہی پڑتا ہے۔ کتابیں اور فیس بک کا فائدہ تھوڑا ہی ہے۔ جو علم اور اللہ کی معرفت صحبت سے ملتی ہے، کتاب اُس کا دھوکا ہوتی ہے۔ معرفتِ الٰہی مشینوں سے مِلا کرتی تو ہر شخص ولی اللہ ہوتا۔ کبھی کبھی رُوح پر بھی فالج گرجاتا ہے اور آدمی کو نیکی یا برائی کی تمیز ہی نہیں رہتی۔
عبداللہ نے دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔
’’اے اللہ، اے اللہ سائیں! ٹوٹے ہوئے مٹکے والوں کو معاف کردے۔ میرے ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی ڈال دے۔ اے اللہ دل صحرا ہوگیا ہے۔ اسے سیراب کر۔ اے اللہ، کمپنی چلانے کے لیے اچھے لوگ چاہئیں۔ اچھے مرد چاہئیں جنہیں تو نے قرآن میں رِجال کہا ہے۔ اے اللہ، لوگ تجھ سے صلاح الدین ایوبی اور محمود غزنوی کا سوال کرتے ہیں۔ میں تجھ سے ڈیٹا سائنٹسٹ مانگتا ہوں اور کوشش کروں گا کہ نتیجہ وہی آئے۔ اللہ ایسے لوگوں سے میری مدد فرما جو سمندر کی گہرائیوں سے اتھاہ ہوں اور ہمت ایسی کے پہاڑ بے بس نظر آئیں۔ اللہ عافیت فرمائیں۔ اللہ میں تیری سلطنت میں تنہا رہ گیا ہوں۔ اجنبی ہوں، میری اجنبیت کا خیال کر، اگر میں یہ جان لیتا کہ مجھے عذاب دے کر تیری سلطنت کو بڑھاوا ملے گا تو میں کبھی اپنی معافی کا طلبگار نہ ہوتا۔ میں تجھ سے بخشش کا سوال ہرگز نہ کرتا۔ مگر اے شہنشاہ، تیرے سوا کوئی جائے اُمید نہیں، کوئی ٹھکانہ نہیں، کوئی جائے پناہ نہیں۔ تو صرف و صرف اپنے کرم سے بخش دے۔ میرے اللہ! قیامت میں سب چلے جائیں گے جنت میں جنہیں تو نے چاہا۔ جنہیں نہ چاہا وہ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ مجھے اپنے اعمال سے خطرہ ہے کہ صرف میں پیچھے رہ جاؤں گا سخت ترین سزا کے لئے میرے گناہ ہوں گے اور تیری رحمت اور تو باقی رہے گا۔ باقی سب فانی۔ میرے گناہوں کو بھی فنا کر دے۔ اے اللہ! تو اپنے نمازی بندوں کے اعضائے سجدہ کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرما دیتا ہے اور درحقیقت
 
محفوظ فرمانے والا تو ہی ہے۔ اے بے نیاز ذات، بے پرواہ مالک کے لئے قصور وار غلام کو آزاد کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے۔ اپنے اِس فانی غلام پر احسان فرما اور اعضائے سجدہ کی طرح باقی جسم کو بھی جہنم سے محفوظ فرما دے!
ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی ڈال دے میرے اللہ!
آمین!‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ کی خوشی دیدنی تھی۔ اس کی کمپنی امریکہ میں رجسٹرڈ ہوگئی تھی، اسے فیملی سمیت ایکسٹرا اورڈنری ویزہ مِل گیا تھا اور ڈیٹا سائنسز کے ایک آن لائن کورس میں وہ دنیا میں ٹاپ ٹین میں آگیا تھا۔
عبداللہ نے پڑھائی اور بڑھادی اور امریکہ واپس شفٹ ہونے کی پلاننگ کرنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے ایک بار اور اعتکاف میں بیٹھ جائے مفتی صاحب کے ساتھ۔ ابھی عبداللہ امریکہ میں کمپنی کی پلاننگ ہی کر رہا تھا کہ اسے امریکہ کی ہی ایک بڑی کمپنی سے جاب کی آفر آگئی۔ تنخواہ اور مراعات اتنی زیادہ کہ عبداللہ شاید زندگی بھر میں اپنی کمپنی سے اتنے پیسے نہ کماسکے۔ عبداللہ کو بڑی حیرت ہوئی کیونکہ تنخواہ اس کی مارکیٹ ویلیو سے کم از کم 4 گناہ زیادہ تھی۔
عبداللہ نے کچھ ریسرچ کرنے کا سوچا۔ ہفتے بھر کی محنت رنگ لائی۔ اُس نے دیکھا کہ جس کمپنی نے اُسے جاب دی ہے اُس پوزیشن پر وہاں کوئی سال سے زیادہ نہیں ٹکا اور تمام لوگ جنہوں نے وہاں سروس کی وہ سارے مسلمان ممالک سے ہی تھے۔ بڑی عجیب بات تھی کہ ایک امریکی کمپنی میں 10 سالوں سے بھی زائد عرصے میں کوئی امریکن جاب کے لیے نہیں مِلا۔ عبداللہ نے ڈھونڈ ڈھانڈ کے 3 لوگ ایسے نکال ہی لئے جنہوں نے ملتی جلتی پوزیشن پر کام کیا تھا۔
عبداللہ نے باری باری سب سے بات کرنے کی ٹھانی۔ بات کرنے کے بعد جو حقیقت سامنے آئی وہ انتہائی تلخ تھی۔ یہ تمام لوگ اپنے اپنے ملکوں کے دماغ تھے۔ ان سب کو 4 سے دس 10 گنا زیادہ کی جاب دی گئی۔ یہ سب بیوی بچوں کے ساتھ امریکہ شفٹ ہوگئے۔
زیادہ پیسہ زندگی میں ایک نیا لائف اِسٹائل لایا۔ بیویاں ماڈرن ہوگئیں، بچوں کو بڑے آرام دہ گھروں، موبائل فونز اور مہنگے کمپیوٹرز کی عادت پڑگئی اور پھر اچانک بغیر کسی وجہ کے انہیں نوکریوں سے نکال دیا گیا۔ اب نہ مہنگے گھروں کی اقساط دے پائے۔ نہ بیوی بچوں کا لائف اسٹائل، اتنی بڑی تنخواہ سے فارغ ہوئے اور مارکیٹ میں کوئی 10 فیصد تنخواہ بھی آفر نہ کرے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گھر بینک لے گیا۔ کار شو روم لے گیا۔ بیوی میکے چلی گئی۔ ننھیال بچے لے گیا اور پیچھے بچا یہ شخص اپنی کامیابیوں کے قصے سناتے اور حالتِ زار کا نوحہ کرتے۔
کیا زبردست آئیڈیا، کچھ لاکھ ڈالرز کے عوض کسی ملک سے اس کا بل گیٹس چھین لیا تو کسی سے اُس کا محمد علی جناح، کسی سے مدر ٹریسا اُٹھالی تو کسی سے نیلسن منڈیلا اور سال بھر میں انہیں ذہنی مریض بنا کر چھوڑ دیا۔ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔ یہ کہاوت عبداللہ کو آج سمجھ آئی۔ عبداللہ نے نہایت شائستگی سے آفر کو ٹھکرادیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ اپنے ایک دوست کے ساتھ پشاور گیا۔ وہاں یونیورسٹی میں اسے لیکچر دینا تھا۔ مگر معلوم ہوا کہ طلبہ نے فیس بک پر کچھ پیجز کی جانب سے توہین رسالت کے سبب ہڑتال کی ہوئی ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ فیس بک پر پابندی عائد کی جائے۔
جاری ہے

Latest Posts

Related POSTS