Khojh | Episode 22

29
تو میری لکھائی کو قبولیت بخش، میرے بولنے میں اثر دے، میرے دل میں ذکر دے، میری آنکھ میں حیاء دے، میری شخصیت میں وزن دے کر جب میں اسلام کی بات کروں، تیرے دین کی، تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی تو دنیا رد نہ کرسکے، یہ نہ کہہ سکے کہ کہنے والے کا تو کوئی معیار ہی نہیں ہے۔
بات میری نہیں میرے اللہ، میں جن کا ذکر کرنے جا رہا ہوں اُن کی ہی ہے، وہ تو تیرے ہیں۔ میں بھی تو تیرا ہوں، تو وزن ڈال میرے اللہ میرے پلڑے میں، کہ ایک طرف میں ہوں تو پورے ملک پر بھاری پڑ جاؤں۔
اے آسمانوں و زمین کے مالک اللہ، اے وہ اللہ جس کا ذکر سب سے بھاری ہے، کُل کائنات میں واحد ذات جس کے لئے اذان دی جاتی ہے، مجھے وزن دے میری اذان کو دوام بخش اس موذن کی رہنمائی کر، جھوٹ زندگی سے نکال دے کہ تیرا نام لینے جا رہا ہوں، لوگ جھوٹا نہ بولیں، امہات المومنینؓ پر کتاب لکھنے جا رہا ہوں، اس امتی کو اس قابل کر کہ ماؤں پر کچھ لکھ سکوں۔ یہ خط تیرے نام، یہ آواز تیرے نام، یہ قلم کتاب تیرے نام، عبداللہ تیرے نام۔
آج امریکہ میں Halloween ہیلو وین کا تہوار تھا۔ مذہبی حیثیت تو اسکی بالکل ہی ختم ہوگئی تھی اگر کبھی کوئی تھی بھی تو فی الحال تو یہ صرف بچوں کا ایک کھیل بن کر رہ گیا تھا جس میں وہ گھر گھر جا کر ٹافیاں جمع کرتے تھے اور ڈراؤنے کرداروں مثلاً ڈریکولا کے کپڑے پہن کر میک اپ کرتے تھے۔
عبداللہ نے سوچا اچھا موقع ہے پڑوسیوں سے ملنے کا، ویسے بھی عبداللہ کی فیملی اس پورے محلے میں واحد مسلمان اور پاکستانی فیملی تھی کہ یہ بہت امیروں کا علاقہ تھا اور کوئی کوئی ہی یہاں رہنا افورڈ کرسکتا تھا۔ مگر یوٹیوب اور فیس بک بھرے پڑے تھے ان بیانات سے کہ ہیلووین منانا شیطان کو ماننے کے مترادف ہے اور کفر و الحاد کے فتوے الگ۔
عبداللہ نے بہت سوچا کہ گھر پر بچے آئیں گے، پہلی بار کسی مسلمان سے سابقہ پڑے گا، خالی ہاتھ بھیجنا مناسب نہیں، وہ بہت ساری ٹافیاں لے آیا، اس کے اپنے بیوی بچے ٹافیاں لینے چلے گئے اور وہ لگا ٹافیاں بانٹنے۔
جو بھی گھر آیا وہ ٹافیوں کے سائز اور مقدار پر حیران ہوا کہ عبداللہ دل کھول کر بانٹ رہا تھا، کچھ نے تو کہہ بھی دیا کہ انہیں اس گھر سے کچھ ملنے کی اُمید ہی نہیں تھی، عبداللہ نے بچوں کے ساتھ آئے والدین کو بھی سلام کیا اور خیریت پوچھی۔ اس بہانے اس کا پورے محلے سے تعارف ہوگیا اور محلے والوں پر بھی مسلمانوں کا شاید کوئی نیوٹرل امیج بن سکا ہو۔
عبداللہ کو سمجھ نہ آتی تھی کہ صرف کفر و الحاد کے فتوے لگا کر اور غیرمسلموں کی ہر چیز کو بُرا بھلا کہہ کر آپ کیونکر تبلیغ کر سکتے ہیں۔ داعی کی صرف نظر میں ہی وسعت نہیں ہونی چائیے بلکہ دل بھی بڑا ہونا چاہیے جو اُن چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرکے منزل کو دیکھ سکے۔ عبداللہ آج کی رات سونے لیٹا تو اسے ایک خیال آیا، اُس نے جمع ہونے والی ساری ٹافیاں نکال کر بستر پر ڈھیر کردیں اور لکھنے لگا کہ کس گھر والے نے کون سی اور کس قسم کی ٹافیاں دی ہیں۔ جلد ہی وہ ایک پروگرام لکھنے کے قابل ہوگیا، کمپیوٹر میں جس سے وہ ملنے والی ٹافیوں کو ان کے گھروں سے لنک کرسکتا تھا، پھر اس نے درجنوں کے حساب سے آن لائن پبلک ڈیٹا سیٹس کو کھنگالا اور وہ ٹافیوں کی مدد سے یہاں تک معلوم کرلیا کہ دینے والوں کی سالانہ تنخواہ، آمدنی کتنی ہے، گھر میں کوئی بچی، بیٹی بھی ہے یا نہیں اور گذشتہ الیکشن میں انہوں نے ووٹ کس کو دیا تھا۔ عبداللہ نے صبح ہونے سے پہلے پہلے ایک مفصل مضمون لکھ کر انٹرنیٹ پر ڈال دیا، اور اس کے بعد زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس کے شہر میں اس کا چرچا ہونے لگا، بہت سے دوست بنے، بہت سے ملنے کے لئے آئے اور عبداللہ خندہ پیشانی سے ان کے سوالات کے جوابات دیتا رہا۔
عبداللہ کو اس اجنبی ماحول میں یہ مانوسیت بڑی بھلی لگی۔ ابھی اس تہوار کو گزرے کچھ ہی دن ہوئے ہوں گے کہ عبداللہ کو اپنے ملک سے ایک دوست کی بڑی کڑا کے دار ای میل موصول ہوئی۔
ڈاکٹر عبداللہ!
آپ کے لئے دل میں بڑا احترام تھا اور ایک باطل خیال تھا کہ آپ مسلمان ہیں، مگر آپ کی ہیلو وین کی حالیہ ’’عیاشیاں‘‘ دیکھ کر اور آپ کے اس تہوار میں جوش و خروش کو دیکھ کر آپ کی دینی بے غیرتی کا احساس ہوا۔ تمہیں پتہ ہے عبداللہ کہ تم اتنے ذلیل و خوار کیوں ہو؟
اس لئے کہ تم سوچتے بہت ہو، لعنت ہو تم پر کہ بھگوڑے کی طرح بھاگ کر منہ چھپائے امریکہ میں بیٹھے ہو، تمہارے ان منحوس سوالات کی وجہ سے تم عبدالستار ایدھی نہ بن سکے، نہ ہی ٹاٹا کی طرح کوئی کمپنی ہی بنا سکے۔ جس دینی بے غیرتی کا مظاہرہ آپ نے کیا ہے اس کی اُمید تو مجھے غیرمسلموں سے بھی نہ تھی، خیر ملکی غدار اور غیر ملک کے ٹکڑوں پر پلنے والے ایجنٹس کیسے ہوتے ہیں، آج پتہ لگا۔
’’خدا آپ کو جہنم واصل کرے‘‘۔
عبداللہ کے لئے نہ اِس قسم کی ای میلز نئی تھیں اور نہ طنز و طعنے میں ڈوبی تحریریں کوئی اچنبھے کی بات تھی کہ ملک کے طبقہ اشرافیہ سے اس زبان میں گفتگو ہوگی نہ ہی ملال اس بات کا کہ جہنم کا ایک پروانہ اور ملا۔
عبداللہ پریشان اس بات پر تھا کہ یہ آخر دینی غیرت کہتے کسے ہیں؟ یہ دینی غیرت ہوتی کیا ہے؟ اور اس غیرت کے ہونے نا ہونے سے فرق کیا پڑتا ہے؟ کیا دینی غیرت صرف اس بات کا نام ہے کہ آدمی شلوار قمیض پہن لے؟ سر پر ٹوپی رکھ لے؟ اور دنیا کی ہر ہر چیز کا بائیکاٹ کردے؟ یا اس بات کا کہ غیر مسلموں سے بات چیت ختم کرے؟ اُن سے اُن کے ملکوں سے، انکی ہر چیز سے نفرت کرے؟ اور پھر بھی دینی غیرت کے الاؤ کی آگ ٹھنڈی نہ پڑے تو چھری اپنے مسلمان بھائیوں پر چلائے، فرقوں میں بانٹے کفر و الحاد کے فتوے جاری کرے، یہ دھارا یونہی بہتی رہی تو ایک دن دنیا میں کوئی بھی غیرت مند نہ بچے گا۔
یہ دینی غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب پوری قوم کشکول لئے IMF کے سامنے بھیک مانگتی ہے، یہ دینی غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب ورلڈ بینک قسط روک لیتا ہے اور ملک میں بجلی سے لے کر پٹرول تک اور چینی سے لے کر آٹے تک کا قحط پڑجاتا ہے۔ یہ دینی غیرت اُس قوم میں نظر کیوں نہیں آتی جو اپنے ایک انچ رقبے کے لئے تو ملک سے لڑجاتی ہے مگر پورے مستقبل کی پلاننگ کسی اور سے کرواتی ہے۔ یہ دینی غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب عقلیں گروی رکھوا دی جاتی ہیں۔ ملکی باشندوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ غیر ملکی اپنے ہی ملک میں گھس کر میزائل داغ کر چلے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، یہ دینی غیرت کہاں سو رہی ہوتی ہے جب 12 ہزار لوگ سالانہ ملک میں بھوک سے مرجاتے ہیں۔ 1500 سے اجتماعی زیادتی ہوجاتی ہے۔ سینکڑوں کا ریپ ہوجاتا ہے، چرچوں اور مسجدوں میں دھماکے ہوجاتے ہیں۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ ان دینی غیرت کے دعویداروں کا گریبان نہیں دامن پکڑنا چاہیئے۔ پاؤں پکڑنے چاہئیں کہ حضرت خدا کے واسطے رحم کریں۔ خود بھی کام کریں دوسروں کو بھی کرنے دیں۔ جتنی زندگی میں آپ نے گالیاں اور طعنے دیئے ہیں اتنی دعائیں ہی دے دی ہوتیں تو شاید ایک آدھ دینی غیرت مند آپ کے خاندان سے ہی نکل گیا ہوتا۔
عبداللہ سوچنے لگا کہ جب شخصیت پختہ ہو تو آدمی بھوک اور افلاس کی پرواہ کئے بغیر نظریئے پر کام کرتا ہے۔ نظریہ تمام فطری تقاضوں کی طرح ایک ازلی بھوک اور طلب ہے۔ جب شخصیت پختہ نہ ہو تو آدمی کو چاہیئے کہ آرام و سکون سے ضروریات زندگی پر توّجہ دے اور جب معاشی بے فکری ہوجائے تو وژن کی بات کرے۔ تحریکوں پر پلی ہوئی قوم جس کا حافظہ آدھے گھنٹے کا نہ ہو سوائے تنقید کے کر بھی کیا سکتی ہے؟
ـــآج عبداللہ کی کمپنی کی بورڈ میٹنگ تھی جس میں کمپنی کی فنانسنگ، اخراجات اور اسٹافنگ پر بات ہونی تھی، کچھ کلائنٹس کی طرف سے ممکنہ پراجیکٹس بھی زیربحث تھے۔
عبداللہ نے کمپنی کے بنیادی اصول طے کرتے ہوئے سب پر بات واضح کردی کہ نہ تو ہم سود پر کوئی پیسہ لیں گے اور نہ ہی کسی ایسے کلائنٹ کے لئے کام کریں گے جس کا شریعت سے براہ راست کوئی اختلاف ہو۔ شروع کے ملنے والے کچھ کلائنٹس میں ایک کمپنی تھی جو کہ ڈیٹا سائنس کو استعمال کرکے یہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ کون شخص کس قسم کی شراب کو پسند کرے گا تاکہ اُسے آئی فون App کے ذریعے پسندیدہ شراب تجویز کی جا سکے۔ ایک اور کلائنٹ چاہتا تھا کہ وہ جوئے کے بزنس میں مدد کریں اور اس جیسے بہت سے پراجیکٹس عبداللہ اپنے بورڈ کے ساتھ رد کرتا چلا گیا۔
اُسے امریکہ میں پہلی شریعہ Compliant بورڈ میٹنگ دیکھ کر بڑی مسرت ہو رہی تھی۔ بورڈ نے بڑا زور لگایا کہ باقی کلائنٹس تو ٹھیک ہیں مگر شراب والے میں کیا قباحت ہے؟ ہم تو صارفین کی خریداری کی ہسٹری دیکھ کر صرف یہ بتا رہے ہیں کہ وہ آئندہ کیا خریدنا پسند کریں گے۔ اب جہاں وہ ہزاروں دوسری اشیاء پسند کرتے ہیں وہاں شراب بھی سہی۔ نہ تو ہم پی رہے ہیں نہ پینے کا کہہ رہے ہیں نہ بیچ رہے ہیں، مگر عبداللہ کا دل نہ ماننا تھا سو وہ نہ مانا۔
ابھی میٹنگ کو ہوئے کچھ دن ہی گذرے ہوں گے کہ عبداللہ سے ملنے اسکے پڑوسی آگئے۔ میاں بیوی اور ایک عدد ان کا کتا، میاں بیوی نے ویک اینڈ نائٹ کی مناسبت سے لباس پہنا ہوا تھا اور شراب کی بوتلیں ان کے ہاتھ میں، کہنے لگے ہم کلب جا رہے ہیں سوچا کہ آپ کو ساتھ لیتے چلیں۔ عبداللہ نے کہا جی ضرور، آئیے تھوڑی دیر بیٹھ کے بات کرلیتے ہیں پھر طبیعت میں ہوا تو ضرور چلیں گے۔
عبداللہ نے نہ صرف انہیں گھر میں بلا لیا بلکہ ان کے کتے کو بھی، بِلّو نے کتے کو پیالے میں کچھ دودھ اور کھانا دے کر سائیڈ پر بٹھا دیا۔ وہ عبداللہ پر شدید حیران تھی کہ کہاں تو کل تک وہ شراب کا نام بھی نہیں سننا چاہتا تھا اور کہاں آج گھر میں بٹھا کر شراب پیتا دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ ہمیشہ کی طرح صرف دیکھتی رہی۔ عبداللہ نے بات شروع کی۔
آپ لوگوں نے یہاں آکر بہت اچھا کیا، مجھے آپ کے ملک اور کلچر کے بارے میں جاننے کا بڑا شوق ہے۔ آپ کا ملک بہت اچھا ہے، امن ہے، سکون ہے، اور یہ محلہ تو مجھے بہت ہی پسند ہے، امریکہ کے دنیا پر کتنے احسانات ہیں، یہ ساری ایجادات، میڈیکل سائنس، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اتنی ذہین اور باہمت قوم سے صرف اچھے کی ہی اُمید کرسکتے ہیں۔ یہ قوم لگتا ہے اپنے ہر منٹ کا حساب رکھتی ہے اور خرافات کے لئے تو جیسے اس کے پاس وقت ہی کوئی نہیں ہے۔
پھر مہمانوں نے امریکی کلچر کے بارے میں کچھ دیر گفتگو
کی۔ شراب کی بوتلیں ختم ہوچکی تھیں جنہیں بِلّو نے کب کا کچرے میں پھینک دیا تھا اور اس کے بدلے گرین ٹی وہ ان کے سامنے رکھ چکی تھی۔ مہمان جب اپنی کہہ چکے تو کہنے لگے۔
ڈاکٹر عبداللہ، اپنے کلچر اور مسلمانوں کے بارے میں تو کچھ بتائیے یہ کیوں ذرا ذرا سی بات پر سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ یہ کارٹون بنانے والا کیا معاملہ ہے، آپ کا دین کیسا ہے اور آپ کو کیا سکھاتا ہے۔ عبداللہ نے بڑے مفصل انداز سے اسلام کا ایک مختصر مگر جامع تعارف کروا دیا اور رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی انسانیت پر خدمات کو بھی تاریخ و جغرافیہ کی روشنی میں بیان کر دیا۔
دونوں مہمان اس گفتگو سے بڑے متاثر ہوئے کہنے لگے دو سوال اور، عبداللہ نے کہا جی فرمائیے۔
جی پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ مسلمان غیر مسلموں سے جزیہ لیتے ہیں اور اگر اسلامی مملکت آگئی تو وہاں رہنے والوں کی ساری کمائی مسلمان ہتھیا لیں گے؟ اور دوسرا اسلام اتنی چھوٹی عمر میں شادی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ یہ تو معصوم بچیوں پر سراسر ظلم ہے۔
سوالات کی نوعیت دیکھتے ہوئے عبداللہ سمجھ گیا کہ ان مہمانوں نے یقیناً اسلام کا مطالعہ ضرور کیا ہے یا کم از کم اسلام کے خلاف لکھے جانے والے مضامین اور انٹرنیٹ بلاگز ضرور پڑھے ہیں۔ آپ انٹرنیٹ پر موجود تمام بلاگز کھنگال لیں اور اسلام کے خلاف موجود تمام کتابیں اور لٹریچر پڑھ ڈالیں۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے آج تک، کوئی لگ بھگ 2 سو سالوں میں لکھے جانے والے اعتراضات کی اصل کوئی صرف 30، 35 ہی سوال ہیں جس کو ہر دور، ہر ملک میں اسلام کے خلاف لکھنے والوں نے، معترضین اور حاسدین نے گھما پھرا کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ کتاب لکھتے وقت تو کم از کم مصنف کچھ حوالہ جات اور مآخذ کا خیال رکھتا ہے، انٹرنیٹ بلاگز پر تو اس قید کی بھی پوری چھوٹ ہے۔ جو چاہے لکھ دو کس نے جانچنا ہے اور کس نے مناظرہ کرنا ہے۔ سوال تو سوال ان پر دیئے جانے والے جواب بھی پڑھ کر آدمی ماتم ہی کر لے تو اچھا ہے۔
نہ سوال لکھنے والے نے کبھی ٹھنڈے دل سے پڑھنے کی کوشش کی اور نہ جذباتی جواب دینے والوں نے تحقیق کی محنت کی، جس زبان میں آج کل کے نوجوان مشرکین کو جواب دیتے ہیں اس سے بدر جہا بہتر زبان تو دِلّی کی طوائف بولتی تھیں۔ عبداللہ نے لمبی آہ بھری اور مہمانوں سے مخاطب ہوا۔
جناب! طویل بحث ہے انشاء اللہ کچھ لکھ کر ضرور چھپوا دوں گا کچھ آسان باتیں عرض کردیتا ہوں (عبداللہ نے دل ہی دل میں تین بار یہ دعا پڑھ لی۔
’’ترجمہ: اے میرے رب: میرا سینہ کھول دے اور میرے لئے میرا کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔ ‘‘ (سورۃ طحہٰ :25-28)
اسلامی معاشرے میں غیر مسلم کے حقوق مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔ ان کی جان و مال کا تحفظ اسلامی مملکت کے فرائض میں شامل ہے۔ رسالت پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا کہ اگر اسلامی مملکت میں غیر مسلم کا قتل ہوگیا تو قیامت کے دن میں ان کا وکیل بن جاؤں گا۔ غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی ہے، عبادت گاہیں بنانے اور آباد رکھنے کی بھی اور ہر قسم کا پیشہ اختیار کرنے کی بھی، جو اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہو۔
جنگ کی صورت میں اسلام اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک غیر مسلم اپنے ہی بھائی بہنوں، ہم مذہب کے خلاف محاذ آراء ہو، اُس کی دینی حمیت اُسے شاید اس بات کی اجازت نہ دے اور ضمیر الگ کچوکے لگاتا رہے۔ تو ایک تو اسے مکمل حفاظت دی گئی دوسرا یہ کہ جو خطرے والا کام تھا اس سے بھی رعایت بخشی گئی تو اس رعایت کی وجہ سے ایک معمولی سا اضافی ٹیکس ہے جسے جزیہ کہتے ہیں اور بس، اگر اسلام اسی طرح غیر مسلموں کی املاک ہڑپ کرتا تو رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام اجمعین کو کیا ضرورت تھی کہ یہودیوں سے قرضہ لیں؟
اور جہاں تک اضافی ٹیکس کا سوال ہے یہ تو آج تک رائج ہے، مسلمان تو کیا غیر مسلمان ملکوں میں بھی مثلاً امریکہ میں، کیونکہ میں امریکی شہری نہیں ہوں تو میری تمام تر آمدنی پر اضافی ٹیکس کٹتا ہے اور ٹیکس ریٹرن میں چھوٹ بھی کم ملتی ہے اگر آپ کے بچے امریکن ہوں تو IRS کی Deduction ملتی ہے ورنہ نہیں اور ایسی ہی بیسیوں معاہدے تمام ملکوں کے درمیان اقوام متحدہ کے زیرِ سایہ آج بھی موجود ہیں بلکہ پھل پھول رہی ہیں۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ امریکہ غیر امریکیوں پر ظلم کر رہا ہے یا اُن کا مال ہڑپ کرنے کے در پہ رہتا ہے تو یہ کہاں کا انصاف ہوگا؟
جس قانون جس تہذیب میں آپ رہتے ہیں اُن کے قوانین تو ماننے پڑتے ہیں۔ کاش کوئی مسلمان LAW کا طالب علم آج کل کے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق ہارورڈ جیسی یونیورسٹی میں آکر تمام اسلامی قوانین کا موازنہ کرے تو یقین جانیے اگر ٹھنڈے دل سے اور بہترین دماغ سے سوچا جائے تو امریکہ اسلامی قوانین لاگو کر دے۔ ویسے بھی درجنوں ایسے قوانین امریکہ میں آج تک رائج ہیں جو سراسر اسلامی ہیں مثلاً رئیل اسٹیٹ اور پڑوسیوں کے حقوق کا چارٹرڈ لگتا ہے۔ کاش کوئی اس پر کام کرسکے۔ دوسرے سوال کا جواب تو آپ خود ہی دے سکتے ہیں صرف تھوڑی سے کامن سینس کی ضرورت ہے۔ اجازت اور حکم میں بڑا فرق ہے۔
جاری ہے