Khojh | Episode 24

32
عبداللہ کال ختم ہونے پر کافی دیر سوچتا رہا کہ وہ کیا کرے کہ ذکر کے لئے وقت نکل سکے۔ ڈیڑھ سال سے وہ پہلے ہی ذکر پہ تھا لاالہ الا اللہ اور کوئی ایسا ٹائم نہ نکال سکا کہ پابندی سے لگا تار کرسکے۔ جب وقت ملا کرلیا۔ جب مصروف ہوا تو کم کردیا۔ عبداللہ کے ہاتھ میں اس کی پسند کی کتاب لگ جائے یا لیپ ٹاپ ہاتھ میں آجائے پھر تو وہ کھانا کھانا تک بھول جاتا تھا۔
عبداللہ نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بِلو سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
بِلّو بِلّو!
عبداللہ دہراتا ہوا نچلے فلور کی جانب لپکا۔
عبداللہ خیر تو ہے؟ آج بِلّو کی یاد کیسے آ گئی۔
بِلّو نے ہنستے ہوئے پھبتی کسی۔
بِلّو یار تنگ نہ کر، میں پریشان ہوں۔
مفتی صاحب سے بات ہوئی وہ کہتے ہیں ذکر کرو، میرے پاس ٹائم ہی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں لکھو، اب بتا، مجھے کہاں لکھنا آتا ہے، میں کمپیوٹر سائنس کے علاوہ لکھوں بھی تو کیا لکھوں اور کیوں لکھوں۔ مفتی صاحب کو تو مجھ سے شاید حسنِ ظن ہوگیا ہے۔ لکھوں گا تو لوگ جوتے ماریں گے اور رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی۔
تو بتا، کوئی حل ہے کیا؟
بِلّو کچھ دیر کو خاموش ہوگئی، عبداللہ کو ویسے ہی پریشانی تھی، اس نے بِلّو کو زور سے چٹکی بھرلی، بس پھر کیا تھا پورے گھر میں عبداللہ آگے آگے اور بِلّو پیپسی کی خالی بوتل لئے پیچھے پیچھے، دمے کا مریض عبداللہ کتنا بھاگتا، بِلّو نے جلد ہی جالیا۔
خیر جب ہنس ہنس کے دونوں کا حال برا ہوگیا تو بلو نے کہا۔
عبداللہ، بچوں کو دیکھا کرو، ماں انہیں مارتی ہے مگر وہ ماں کے پاس ہی جاتے ہیں کہ وہ ہی بچا سکتی ہے۔ اللہ سے ڈرتے ہو تو بھاگو مت، اسی کے پاس جا کے بیٹھو۔ اللہ کو اللہ سے مانگ لو۔ ذکر یہ تھوڑی ہے کہ کونے میں بیٹھ کے مالا جپ لی۔ ہر سیکنڈ ہر وقت اللہ سامنے رہے۔ جو بھی کرو نیت اس کو راضی کرنے کی ہو۔ اسی کی رضا آنکھوں کے سامنے ہو۔ وہ موجود ہے اس بات کا گمان دل میں رہے، وہ دیکھ رہا ہے، اس بات کا یقین ہو، وہ تمہیں چاہتا ہے اس بات کو پختہ کرلو۔ عبداللہ لا الہ الا اللہ کا ذکر ملا ہے نا! لا الہ الا اللہ تو اُمید کا کاروان ہے۔ اس سے ناامید نہیں ہوتے۔ تم بس یہ کرو۔ تمہاری ذات چلتی پھرتی ذکر بن جائے گی۔ جس نے تم کو دیکھا اسے بھی ذکر یاد آجائے گا۔ جس کو چھوؤ گے وہ بھی تمہارے ذکر میں شامل ہو جائے گا۔ چلتے پھرتے ذاکر بن جاؤ گے۔ عبداللہ، اتنا نہ سوچا کرو بس جتنا ہوسکے وہ کرلیا کرو۔
بِلّو کے الفاظ عبداللہ کے دل پر بجلی کی طرح طرح گر رہے تھے وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے تو اپنی زندگی کمپیوٹر پروگرامنگ کی نذر کردی اور ایک یہ کھلنڈری بِلّو ہے جو چلتا پھرتا ذکر بنی گھوم رہی ہے۔ بِلّو نے بات جاری رکھی۔ دیکھ عبداللہ، مجھے نہیں پتہ تجھے لکھنا آتا ہے کہ نہیں مگر آدمی جس کی مانے سو پوری مانے، مفتی صاحب نے کہا ہے کہ لکھ تو لکھ، زیادہ نہ سوچ، کاغذ قلم اُٹھا اور شروع ہو جا۔ جس نے کہا ہے وہ جانے اور ان کا رب کہ کیا لکھوانا ہے کس کے لئے اور کیوں۔
ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی کے لئے بھی نہ ہو، کوئی بھی نہ پڑھے۔ یہ سب کچھ صرف تیرے ہی لئے ہو کہ تو لکھے تو اپنا آپ نظر آئے، آئینے کی طرح اور معلوم ہو کہ ابھی کتنا دور چلنا ہے۔
لکھ لے عبداللہ، جس خدا کے لئے لکھے گا وہ تنہا نہیں چھوڑے گا۔
بِلّو ہنستی مسکراتی اچھلتی کودتی چلی گئی مگر عبداللہ کی آنکھوں سے جو برسات لگی وہ تو رکی ہی نہیں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ کی پھر سے بورڈ میٹنگ تھی۔ تمام لوگ کمپنی کی پروگریس سے مطمئن تھے۔ باتوں باتوں میں ایک ڈائریکٹر نے جو خود ایک بڑی ملٹی نیشنل میں وائس پریذیڈنٹ تھے، نے پوچھا! ڈاکٹر عبداللہ، آپ نے جو وہ دہشتگردوں سے بچاؤ کے لئے سافٹ ویئر بنائے تھے ان کا کیا؟ ایک تو شاید رسک Assessment میں کام آتا ہے اور دوسرا Prediction میں۔
جی وہ تو بس ویسے کہ ویسے ہی پڑے ہیں۔ اپنے ملک میں کوئی لیتا نہیں اور یہاں بیچنے کے لئے تو امریکی شہریت اور ٹاپ سیکورٹی کلیئرنس چاہیئے ہوتی ہے وہ میرے پاس ہے نہیں۔ مگر عبداللہ، تمہیں پتہ ہے کہ اسے استعمال کرکے تم کتنی انسانی جانیں بچا سکتے ہو؟ کیا تم نے کبھی سوچا کہ تم اس کو مفت میں اقوام متحدہ کو تحفہ دے دو۔ عبداللہ نے کہا، مگر سافٹ ویئر انسٹال کرنے کے لئے مشین چاہئیے ہوتی ہے۔ ٹرینڈ اسٹاف، سفر کے اخراجات، روزمرہ کی دیکھ بھال۔
ہاں بھئی، یہ سب تو آپریشنل اخراجات ہیں یہ تو اقوام متحدہ دے گا ہی، میں تو صرف سافٹ ویئر لائسنس کی بات کر رہا ہوں۔ جی بالکل اگر ایسا ہوجائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے مگر سب سے پہلے اس کا استعمال میرے ملک میں ہو۔ ٹھیک ہے میں بات کرتا ہوں۔ ایڈوائزر نے جواب دیا اور میٹنگ ختم۔
عبداللہ کمپنی کے کام سے نیو یارک جا رہا تھا۔ ہوائی جہاز میں ساتھ بیٹھے مسافر سے بات چیت شروع ہوئی۔ مسافر نے خوشی خوشی بتایا کہ وہ Atheist ہے یعنی کسی خدا پہ یقین نہیں رکھتا۔ عبداللہ نے کہا کہ وہ اللہ پر بالکل یقین رکھتا ہے۔ تھوڑی دیر میں اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد مسافر نے ایک سوال داغا۔
کیا تم نے کبھی اللہ کو دیکھا ہے؟
عبداللہ نے لمبی سانس لی، آنکھیں جانے کب نم ہوگئیں۔ اس نے بڑی ٹھہری آواز میں جواب دیا۔ نہیں، اب تک نہیں، مگر ایک دن آئے گا جب میں دیکھوں گا اور تم بھی دیکھو گے، فرق صرف اتنا ہوگا کہ مجھے معلوم ہوگا کہ یہ میرا اللہ ہے جس کو میں ساری زندگی یاد کرتا رہا۔ جس سے ڈرتا رہا، جس کی رضا کے لئے پریشان رہا، جس کی خوشی کے لئے روتا رہا، جس سے گناہوں کی معافی مانگتا رہا، جس کو خط لکھتا رہا، جس سے باتیں کرتا رہا، تم بتاؤ، تم اس دن کیا کرو گے؟
مسافر نے حتی الامکان کوشش کی کہ کوئی جواب بن پڑے مگر یا تو وہ شاید جواب دینا نہیں چاہتا تھا یا عبداللہ کے لہجے کی گرج یا تڑپ تھی کہ اسکی زبان گونگی ہوگئی اور جہاز ایئرپورٹ پر لینڈ کرگیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبداللہ کو نیویارک کبھی بھی پسند نہ آیا تھا۔ بھاگتی دوڑتی زندگی، نفسا نفسی کا عالم، وال اسٹریٹ کا شہر اور پھر اس میں بھوکے بے گھر لوگ، عبداللہ نیویارک کو ہمیشہ منافقتان کہتا اور خوب ہنستا۔
عبداللہ میٹنگنز سے فارغ ہوا تو کھانے کی سوجھی، وہ ڈھونڈتا ڈھانڈتا ایک اچھے سے مڈل ایسٹرن ہوٹل میں داخل ہوا۔ عبداللہ نے کاؤنٹر پر کھڑے شخص سے پوچھ لیا کہ کیا کھانا حلال ہے؟ یہ سنتے ہی وہ غصہ ہوگیا۔ کہنے لگا امریکہ میں خوش آمدید۔ یہاں ہم ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرتے اور اتنا ٹائم نہیں کہ ایسی باتوں پر فوکس کریں۔ عبداللہ کو بڑی بدمزگی ہوئی وہ بوجھل دل سے باہر آگیا۔
کچھ دور ہی اُسے Subway نظر آیا جہاں سبزیوں کا سینڈوچ مل جاتا تھا۔ عبداللہ نے وہاں جانے کے لئے چلنا شروع کیا۔ Subway کے باہر اسے 4 کالے امریکی نظر آئے جو لوگوں سے کچھ Penny مانگ رہے تھے کہ کھانا کھا سکیں۔ عبداللہ ہمیشہ کوشش کرتا کہ زندگی میں جب کوئی سخت بات یا واقعہ پیش آجائے تو وہ فوراً کوئی اچھا کام کر لے۔ وہ کہتا کہ اعمال بھی گیند کی طرح ہوتے ہیں۔ Bounce ہوکر واپس ضرور آتے ہیں۔ اس نے اُن چاروں سے کہا کہ آج میرے مہمان بن جائیں تو مجھے خوشی ہوگی اور چاروں کو لے کر ریسٹورنٹ میں آگیا۔ ان لوگوں نے اسے بڑی دعائیں دیں۔ ہوٹل میں موجود لوگ عبداللہ کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی کسی اور دنیا کی مخلوق ہو۔ عبداللہ کا نظریہ تھا کہ اللہ کی زمین پر اگر اچھائی کرو تو برائی نہیں ملتی۔ وہ ہمیشہ نئے شہر میں کوئی نہ کوئی نیکی ضرور کرتا اور کہتا کہ لو بھئی انشورنس ہوگئی، اب فکر نہیں۔
پچھلے واقعہ کی کدورت دل سے صاف ہوچکی تھی۔ عبداللہ نے سوچا ایک آدھ دن رک کر نیویارک گھوم لے۔ وہ تھوڑا ہی آگے چلا ہوگا کہ اس نے پولیس کو ایک افریقین امریکی کو رگیدتے ہوئے دیکھا وہ اُسے گھسیٹتے ہوئے ہتھکڑی لگائے گاڑی کی طرف لے جا رہے تھے اور وہ چیختے ہوئے کہہ رہا تھا۔
!Today is 3rd day I ate (آج تین دن ہوگئے ہیں میں نے کھانا کھایا تھا)
عبدللہ کو معلوم کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس نے پاس والی بیکری سے کچھ چرانے کی کوشش کی اور بیکری والے نے پکڑ کر پولیس کو کال کردی۔ عبداللہ نے بڑی منت سماجت کی کہ وہ پیسے اس سے لے لیں مگر اس آدمی کو چھوڑ دیں مگر بیکری کے مالک نے چارجز ڈراپ کرنے سے معذرت کرلی۔ کہنے لگا چوری چوری ہے ہر شخص اپنی حالت اور کرتوتوں کا خود ذمہ دار ہے۔ قانونی طور پر یہ بات صحیح ہی ہو مگر عبداللہ کے دل میں اس کا جملہ چبھ سا گیا، Today is 3rd day I ate وہ سوچنے لگا کہ حضرت عمرفاروقؓ نے قحط میں چوری کی سزا معاف کردی تھی۔ یہ کیونکر ممکن ہوا کہ افغانستان و عراق میں جنگوں پر 10 ٹریلین ڈالر لگانے والا امریکہ ایک انتہائی مختصر آبادی کو کھانا نہیں کھلا پاتا۔
سلیکون ویلی میں دنیا کے کتنے ہی ارب پتی ہیں مگر وہاں بھی لوگ بے گھر اور بھوکے سوتے ہیں۔ اسی امریکہ میں پراہیتومیسا جیسی آباد کاریاں بھی ہیں۔ جہاں رہنے والوں کے کوئی حقوق نہیں۔ عبداللہ سوچتا غلطی کبھی بانجھ نہیں ہوتی۔ اس کے بچے ضرور ہوتے ہیں اور امریکہ انہی بچوں کو آج کل بھگت رہا ہے۔
عبداللہ زیادہ دیر نیویارک میں نہ رک سکا اور واپسی کے لئے ایئرپورٹ روانہ ہوگیا۔ پورے راستے جاوید اختر کی نظم بھوک اسکے دماغ میں سنسناتی رہی۔ وہ سوچنے لگا کہ بھوک کو ایک مکمل مضمون کی صورت میں دنیا میں پڑھانا چاہیئے اور اُسے وقت ملا تو وہ اس پر مضمون ضرور لکھے گا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ کو ایک یونیورسٹی میں گڈ گورنس پر بات کرنے کے لئے بلایا گیا۔
عبداللہ نے رات بھر خوب تیاری کی اور دنیا کے بہترین دماغوں کو اس موضوع پر پڑھا۔ صبح وہ جانے سے پہلے لیکچر کا مکمل خاکہ بنا چکا تھا۔ مگر وہ جیسے ہی کلاس روم میں پہنچا اس کا دماغ بالکل صاف ہوگیا۔ وہ بڑا پریشان ہوا کہ یااللہ کیا کروں گا۔ لاج رکھ لے۔ اسٹیج پر بیٹھا ہوں۔ اُسے رہ رہ کر خیال آتا کہ بات کسی اور ٹاپک پر ہونی چاہیئے۔ اسی شش و پنج میں مائیک اس کے ہاتھ میں تھا۔ عبداللہ نے بات شروع کی۔
گڈگورننس اور دنیا کے ملکوں کو چلانے کے بہترین طور طریقے اور حکومتی معاملات پہ بات کرنے سے پہلے آئیے ایک قدم پیچھے اُٹھاتے ہیں۔ ہمارا جسم بھی تو ہماری مملکت ہے اور اس پر کسی نہ کسی حکومت کا راج ہوتا ہے۔ ہم بڑی محنت کرکے یا تو نفس امارہ کو ووٹ دیتے ہیں جو
ہماری مملکت کو بُرائی کے کاموں میں لگا دیتا ہے یا نفس لوامہ کو جو ہر بری بات پر سرزنش کرتا رہتا ہے۔ ٹوکتا رہتا ہے۔
میں اپنے ہاتھ سے دل کا گلا دبا دوں گا
میرے خلاف یہی سازشوں میں رہتا ہے
آئیے نفسوں کے اس الیکشن کی بات کرتے ہیں، بات کرتے ہیں نفس امارہ اور نفس لوامہ کی تقاریر کی، جلسہ عام کی، بات کرتے ہیں ووٹنگ کے طریقہ کار کی اور بات کرتے ہیں انقلاب کی۔
آئیے بات کرتے ہیں کہ نفس کے خلاف دھرنا کیسے دیا جاتا ہے، اکاؤنٹیبلٹی کیا ہے۔ ٹرانسپرنسی کسے کہتے ہیں اور کیسے آپ دنیا کو ایک اچھی مملکت (انسان) دے سکتے ہیں۔ عبداللہ بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا۔ وہ 2 گھنٹوں بعد اسٹیج سے اُترا تو اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ تمام طالب علم اور استاد حیران بھی تھے کہ گڈ گورننس کی یہ تعریف تو ان کے لئے بھی نئی تھی۔
عبداللہ پر خود بھی اس لیکچر کا خاصا اثر ہوا۔ پہلی بات تو یہ کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے تیاری کچھ اور کی ہو، اور بولا کچھ اور ہو اور وہ بھی اتنا اچھا۔
دوسرا وہ سوچنے لگا کہ جو کچھ وہ جوش خطابت میں بول آیا ہے اس پر وہ خود کتنا عمل کرتا ہے؟ عبداللہ اپنے کہے ہوئے جملے جیسے جیسے سوچتا چلا گیا اسے اپنا وجود زمین میں گڑتا ہوا محسوس ہوا۔ نفس امارہ، نفس لوامہ، حدیث دل اکاؤنٹیبلٹی، ٹرانسپرنسی اور اس جیسے نجانے کتنے بڑے بڑے لفظ اب انگارے بن کر عبداللہ کے دل میں سلگ رہے تھے۔ نام اور مثالیں شاہ ولی اللہ، بایزیذ بسطامی اور جنید بغدادی کی اور اپنے اعمال عجب، تکبر و غرور اور تالیوں کے شوق میں فرعون کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
عبداللہ کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اُسے مفتی صاحب کا جملہ بار بار یاد آتا کہ ’’دسترخوان نہ پھلانگنا‘‘۔ وہ سوچتا رہا کہ کیا ہوگیا ہے؟ اب معافی کیسے ملے؟ یہاں وہ اپنے گناہوں پر رو رہا تھا وہاں تعریفی ای میلز اور میسجز کا سلسلہ جاری تھا۔ ایسا پہلے بھی ہوا کہ عبداللہ نے کچھ لکھا اور لکھ کر اپنے کرتوتوں کا ماتم کرنے بیٹھا اور لوگ سمجھتے رہے کہ کیا بات ہے۔ کوئی نیک آدمی ہی ایسے لکھ سکتا ہے۔ آج اُسے سارے لکھنے والوں اور بولنے والوں اور بیان دینے والوں سے ہمدردی ہو رہی تھی۔ اُسے آج پتہ لگا کہ بیان دینے کے بعد اُن کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
عبداللہ نے کانپتے ہاتھوں، لرزتی آواز اور روتی آنکھوں سے دعا کو ہاتھ اُٹھائے۔
’’اے اللہ سائیں! دیکھ میں کیا کر آیا ہوں، میں اپنی تباہی کے لئے خود ہی کافی ہوں یااللہ،
میں خود تھا اپنی ذات کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں تھا
اے اللہ، معاف کر دے۔ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے۔ بندے کی موت آتی ہے تو وہ Mentor بن جاتا ہے۔ میں نے کلاس میں کہا کوئی پریشانی ہو تو مجھے ای میل کر دیں۔ میں تو آج تک اپنی پریشانیوں کو حل نہ کرسکا۔ میرے اللہ تو ہی مدد کر ان طالب علموں کی، اے اللہ، یہ مصلح بننے کا شوق جو بار بار سر چڑھتا ہے اسے غارت کردے، مجھے مجھ سے بچا لے میرے اللہ، یہ نفس تو ناک کے نیچے سے شکار کھینچ لیتا ہے۔ میرے اللہ یہ کِبر جو عاجزی پہ پلتا ہے، او میرے مالک یہ غرور جو فقر میں بستا ہے، او اللہ سائیں یہ ’’میں‘‘ جو روز منہ کالا کرواتی ہے۔ اے مالک دو جہان تو واحد ذات ہے جو نفس اور میرے بیچ میں آسکتی ہے۔ مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو نیکی کے روپ میں آتے ہیں۔ اے اللہ، نفس چاہتا ہے کہ شرک کرے، لوگ اِسے پوجیں، اِس کی واہ واہ کریں، اِس سے دعاؤں کی درخواست کریں۔ اِس کے مرید بنیں، بندہ جب ضبط کرکے اپنے آپ کو اِس سے باز رکھتا ہے تو نفس رُوح سے اِنتقام لیتا ہے اور اِسے کہتا ہے کہ جس طرح لوگوں نے میری پرواہ نہیں کی تُو بھی اپنے مالک کی پرواہ نہ کر اور چھوڑ دے بندگی، تیری صفات کا ذکر اور دعا وہ ہتھیار ہیں جو اِس مڈھ بھیڑ میں بندے کے کام آتی ہیں۔
جاری ہے