Khojh | Episode 25

28
میرے مالک جب منبروں سے سچ کی سپلائی منقطع ہوجائے تو محلوں سے اولیا اللہ نہیں نکلا کرتے، میرے مالک گناہوں میں حصہ ڈال آیا ہوں۔ میں کہہ رہا تھا کہ مجھے آج کل کی نسل کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ مالک معاف کردے۔ اگر آدمی اپنے نفس کو دیکھ لے تو نہ پھر کسی پہ غصہ آئے نہ ہی کوئی حیرانی ہوتی ہے۔ ساری حیرانی اور غصہ اپنے لئے ہی پورا پڑ جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے نیکی کی خماریوں سے بچا۔ بے شک گناہوں پر ندامت اور توبہ کا احساس اس سے کہیں بہتر ہے۔ میرے مالک ساری صلاحیتیں تیری ہی دی ہوئی ہیں۔ یہ ذہانت، یہ حافظہ، یہ طرز بیان، یہ تحریر، یہ لکھنے کی سکت، یہ تخیل کی پرواز، تو جب چاہے واپس لے لے اور میں ایک بدبو دار بوسیدہ ڈھانچہ باقی رہ جاؤں، میں نے غلط استعمال کیا۔ میرے اللہ، مجھے معاف کردے۔
اے اللہ، تو نے حضرت سلیمان ؑ کو بہت کچھ دیا اور کہا کہ وہ خرچ کریں تو ان کی مرضی، نہ کریں تو ان کی مرضی، تو ان سے راضی ہے۔ میرے اللہ، مجھ سے بھی بلاوجہ راضی ہوجا۔ تو شہنشاہ ہے، بادشاہ کبھی گن کر نہیں دیتا۔ تو بے نیاز ہے میرے مالک، او اذان کے حق دار اللہ، او وارث و مالک اللہ، ماجد اللہ، جوّاد اللہ، غلطی ہوگئی، شدید ڈرا ہوا ہوں۔ ملک میں اجنبی ہوں، بہک گیا تھا، درگزر فرما دیں۔
اے اللہ، باتونی آدمی ہوں تو چپ لگا دے، باتونی آدمی اگر غلطی سے اپنے آپ سے بات کرلے تو گونگا ہوجائے۔
اے اللہ، تیری قدرت کی تجلی دکھا کہ اس میں محو ہو کر یہ ’’میں‘‘ ٹوٹے، اے اللہ، ذکر سے خالی دل اور ذکر سے خالی زبان، بولے بھی تو کیا بولے؟ تو مجھے سکھا کہ میں تجھ سے کیسے معافی مانگوں، مجھے الفاظ دے پھر انہی الفاظ کو میں تیری طرف لوٹاؤں پھر تو مجھے معاف کردے۔ یہ تو سخاوت، جو دو کبریائی کی تکمیل ہے اور تیرے سوا کوئی نہیں جو یہ کرسکے، کردے میرے مولا۔
اے اللہ! زبان تو حرف اظہار کا ذریعہ ہے بات تو دل کرتا ہے اس پر نظر ہونی چاہیئے اسی پر سے ہٹ گئی معاف کردے۔ معاف کر دے، میرے مولا۔
محبت میں فنا بھی راستے کی ایک منزل ہے
نہ سر ہوگا، نہ در ہوگا نہ سنگِ آستاں ہوگا
(مولانا عبدالرحمن حافظؔ )
*۔۔۔*۔۔۔*
عبداللہ کو اس واقعہ کے بعد سے چپ سی لگ گئی، وہ صبح شام سر جھکائے کمپنی کا کام کرتا رہتا اور رات کو جب موقع ملتا تو اپنے اللہ سے کچھ باتیں کرلیتا کہ دل ہلکا ہو۔ اسے بڑی حیرت ہوتی ان لوگوں پر جو کہتے ہم نے ہرممکن کوشش کی مگر فلاں کام نہ ہوا، گاہک نہیں ملا، کمپنی نہیں چلی، جاب نہیں لگی، پیسے نہیں ملے وغیرہ۔ عبداللہ سوچتا کہ جس نے تہجد نہیں پڑھی، اللہ سے رو رو کر نہیں مانگا اسے یہ جملہ کہنا ہی نہیں چاہیئے کہ I Try My Best کتنی غلط بات ہے۔
وہ سوچتا انسان کو سب سے پہلے اپنے رب سے کنیکٹ ہونا چاہیئے، وہ جب Recruit کرے گا تو معاملات خودبخود چل پڑیں گے۔ کہتے ہیں گئے وقتوں میں ایک نواب صاحب تھے۔ شدید جاڑے کے موسم میں نکلے چہل قدمی کو تو غلام ساتھ تھا۔ مگر سردی سے بچاؤ کے لئے تن پر کچھ نہ تھا۔ کسی نے روک کر پوچھا تو غلام نے عرض کی کہ کیا نواب صاحب کو نظر نہیں آتا۔ یہ سن کر ایک مجذوب ڈانس کرنے لگا۔ تو جب اللہ Recruit کرلیں گے تو کام بھی وہی لیں گے اور اس کام کو کرنے کے وسائل بھی وہی مہیا کریں گے۔
مگر سب اسی کی مرضی ہے، کسی کی لائف بھاگ رہی ہوتی ہے تو کسی کی ساکت و جامد رک جاتی ہے۔ وہ سجدے میں جاتا ہے اور واپس نہیں آتا۔ وہ پے در پے حیرت کے ایسے مراحل سے گزرتا ہے کہ برسوں بول نہیں پاتا۔ اللہ کی صنّاعی کا، اُس کی قدرت کا، اس کی کائنات کا وہ نشہ چڑھتا ہے جو حشر میں جا کے اُترے، بظاہر چل پھر رہا ہوتا ہے، کھا پی رہا ہوتا ہے صرف دو نشانیاں باقی بچتی ہیں دیکھنے والوں کے لئے جو پول کھول دیتی ہیں مگر دیکھنے والے بھی کہاں باقی بچے۔
ایک اُن کی آنکھیں جو ہجوم سے ہٹ کر ری ایکشن دیتی ہیں، جب لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں تو وہ رو رہی ہوتی ہیں اور جب جنازے اٹھتے ہیں تو وہ جھوم رہی ہوتی ہیں۔ کسے خبر کون کب کہاں، کس حال میں، کس کے پاس بیٹھا ہے اور دوسری نشانی اُن کی دعا، مگر کبھی کبھار زندگی سہم جاتی ہے، ڈر جاتی ہے، سامنا نہیں کر پاتی، فالج سا لگتا ہے، اس کی مرضی جب تک چاہے رکھے، اس حال میں۔
عبداللہ سوچنے لگا کہ مفتی اور HR منیجر میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ مفتی بھی اصول و ضوابط کو دیکھتے ہوئے، شریعت کے قانون کے مطابق، نظم و نسق قائم رکھنے کے لئے فتویٰ دیتا ہے۔ اصل میں جنت اور جہنم میں کون جائے گا سوائے اللہ کے کون فیصلہ دے سکتا ہے؟
عبداللہ کو تین شوق تھے۔ کتابیں پڑھنا، پیسہ کمانا اور اپنے آپ سے سوال کرنا کہ نفس کی دیکھ بھال رہے۔ وہ پیسہ کمانا چاہتا تھا کہ اس کے خیال میں آج اُمّت کو سب سے زیادہ ضرورت پیسوں کی تھی۔ عبداللہ کی نہ ختم ہونے والی سوچ کو بِلّو کی بیماری نے توڑا۔ بِلّو کو گردے میں پتھری ہوگئی اور وہ اسپتال میں ایڈمٹ ہوگئی۔ گھر اور بچوں کی ساری ذمہ داری عبداللہ پر آگئی۔
اسے رہ رہ کر خیال آتا کہ بِلّو کتنی ضروری ہے اس کی زندگی میں۔ اس کی ترقی پر لوگ اُسے شاباش دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ اگر بِلّو نے تمام تر ذمہ داریاں نہ اُٹھائی ہوتیں تو وہ کب پڑھتا، کب لکھتا، کب کام کرتا، کب اللہ سائیں سے باتیں کرتا۔
عبداللہ جیسے بن پڑا ویسے گھر کے کام کرتا رہا۔ پیزا بنانے سے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ دینے تک اور گھر کی صفائی سے لے کر بچوں کے ہوم ورک تک۔ ہمارے معاشرے میں بھی مردوں کو کم ازکم ایک دن مہینے میں خواتین والے کام کرنے چاہئیں۔ اس سے ہمیں ان کے ورک لوڈ کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور سارے Creative آئیڈیاز بھی آتے ہیں گھریلو زندگی کو آسان اور آرام دہ بنانے کے۔
بچوّں کے ساتھ وقت گزرا تو عبداللہ نے ان سے بھی کئی باتیں کیں مگر اُس کا رنگ نہ بدلا۔ وہ بچوں سے شام کی واک پہ کہنے لگا کہ بچّو مجھے بڑا شوق رہتا ہے کہ تمہارے ساتھ وقت گزاروں، تمہیں دیکھوں۔ بالکل اِسی طرح اللہ کو بھی شوق رہتا ہے اپنے بندوں سے ملنے کا، اور وہ ایسا نماز میں کرتا ہے۔ دیکھو تم بڑے ہو رہے ہو۔ کپڑوں اور جسم کی پاکیزگی کا خیال رکھا کرو اور نماز میں دل لگاؤ، جس کی نماز اچھّی ہوجاتی ہے اُس کے نیکیوں کے مٹکے بھرے رہتے ہیں۔
نماز میں اللہ بندوں سے چھپ کر ملتا ہے، اگر وہ ظاہر ہو تو اس کی روشنی سے بندہ مرجائے۔ اِس لئے ظاہر نہیں ہوتا۔ مگر اِس کے پاس آتا ضرور ہے اور جو خوب دِل لگا کر نماز پڑھتا ہے تو خُدا کی خوشبو اُس کو معلوم ہوجاتی ہے اور اُردو خوب دِل لگا کر پڑھو، ہماری قوم اُردو سے کٹ گئی تو سارا دینی سرمایہ دھرا پڑا رہ جائے گا۔ چلو اب واپس چلتے ہیں مغرب ہونے کو ہے۔ عبداللہ رات کو سونے لیٹا تو اسے اپنے بیٹے کی اسکول ٹیچر کی ای میل ملی۔
’’مجھے آپ کی بیوی کی علالت کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ میں روز صبح آپ کے گھر کے سامنے سے ہی گزر کر اسکول جاتی ہوں۔ اگر آپ کے لئے کوئی آسانی کر سکوں تو مجھے خوشی ہوگی۔ میں روز آپ کے بیٹے کو سکول لے جایا کروں گی اور واپس چھوڑ بھی دوں گی۔ مجھے اندازہ ہے آپ اس وقت کتنے پریشان ہوں گے۔
میں آپ لوگوں کے لئے کل رات کا کھانا بنا رہی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ پورک اور گوشت نہیں کھا سکتے اگر حلال نہ ہو۔ میں آپ کے لئے پاستا اور سبزیوں کا سالن بنا رہی ہوں اور کچھ چاکلیٹ چپ کوکینز۔ اُمید ہے آپ برا نہ منائیں گے اور قبول کریں گے۔ اسی طرح سے شاید میں آپ کے مشکل وقت میں کوئی کام آ سکوں۔
اگر کوئی اور کام ہو تو پلیز بتا دیں۔ میرے پاس Vegetable کھانوں کی کئی ایک تراکیب موجود ہیں اور میں کئی روز تک آپ لوگوں کے لئے کھانا بنا سکتی ہوں۔ میں کل اسکول سے واپسی پر آپ کے بیٹے اور کھانا ڈراپ کردوں گی۔ میں گھر کے اندر نہیں آؤں گی مجھے پتہ ہے آپ کمپیوٹر پر مصروف ہوں گے اور میں آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی۔
دعاگو ہوں کہ آپ کی بیگم کو خدا جلد صحت یاب کرے۔
مسز آرنلڈ‘‘۔
اگلے روز کھانا بھی آگیا اور ایک اور پڑوسی گھر پر آکر سارے بچوں کے کپڑے لے گئی اور دھو کر استری کرکے، تہہ کرکے، واپس بچوں کے کمرے میں رکھ گئیں۔
عبداللہ سوچتا رہ گیا کہ یا اللہ کیسے لوگ ہیں، کاش وہ مسز آرنلڈ کی ای میل ہر پاکستانی اسکول کے نوٹس بورڈ پر لگا سکتا کہ استاد جب تک بچوں کو ان کے ماں باپ کی طرح نہ سوچیں وہ اچھے استاد بن ہی نہیں سکتے۔ عبداللہ نے خوش خوش ٹیچر کی ای میل فیس بک پر شیئر کی اور کچھ ہی منٹوں میں اسے ’’کفار کی محبت‘‘ اور ’’امریکہ کے رنگ میں رنگ جانے‘‘ کے طعنے ملنے شروع ہوگئے۔ ایک موصوف نے تو خاتون استاد کی’’ نامحرم ای میل‘‘ تک پر فتویٰ دے دیا۔ جنہوں نے کبھی کتاب کی شکل بھی نہ دیکھی ہو وہ بھی فتویٰ دینے لگ جاتے ہیں۔ عبداللہ کا بس چلے تو وہ پاکستان میں ہر اُس فتوے دینے والے پر 5 سال قید کی سزا لگا دے جو صاحب علم نے نہ دیا ہو۔
عبداللہ نے بوجھل دل کے ساتھ قلم اُٹھایا اور امریکہ کے مشہور ٹی وی چینل کی ویب سائٹ کے لئے ایک چھوٹا سا مضمون لکھ دیا۔ اسے پتہ تھا کہ لوگوں کے طنز اور باتیں اسے برداشت کرنی پڑیں گی مگر ضمیر کا بوجھ تو ہلکا ہوگا۔ نفس اور ضمیر انسان کے دو اُستاد ہوتے ہیں اور وہ ایک وقت میں کسی ایک ہی کی کلاس میں بیٹھ سکتا ہے۔
مضمون کا عنوان تھا، ’’میں مسلمان ہوں، آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘
میں پچھلے 36 سالوں سے مسلمان ہوں، میں یہاں سوائے اپنے کسی کی بھی نمائندگی نہیں کر رہا۔ میں ایک مسلمان ملک پاکستان میں پلا بڑھا اور آج کل امریکہ میں اپنی کمپنی بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوں۔
جب لوگ مجھے دیکھتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ میں دنیا کو صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ میں اس عام فہم درجہ بندی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکا ہوں۔ اسلام نے پیدائش پر مجھے مذہبی شناخت دی، ملک اور خاندان نے پچھلے 30 سالوں میں رسم و رواج دیئے اور امریکہ نے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے دوران مجھے سکھایا کہ مجھے دنیا سے کیا چاہیئے اور دنیا کو مجھ سے کیا چاہیئے۔ میں نے انگریزی امریکی ڈراموں کو دیکھ کر سیکھی اور داڑھی امریکہ میں آنے کے بعد رکھی کہ انسانوں کے اس جنگل میں کوئی تو شناخت باقی رہے۔
میں آج جہاں بھی ہوں اس میں میرے معاشرے کا، میری پڑھائی کا، صحبت کا، ملنے والے مواقع
کا، زندگی میں فیصلوں کے انتخاب کا اور تقدیر کا بڑا ہاتھ ہے۔
میں نے اسلام بڑے غیر روایتی طریقے سے سیکھا۔ ملکوں ملکوں کے سفر کے دوران غیر مسلموں نے جو سوالات پوچھے ان کے جوابات کی کھوج مجھے اسلام سے قریب لے آئی۔ یقین جانئے میں آج زیادہ مسلمان اس لئے نہیں ہوں کہ میں پاکستان میں پیدا ہوا بلکہ میں زیادہ مسلمان اس لئے ہوں کہ میں امریکہ میں پڑھا۔
میں آج یہ مضمون کسی چیز، کسی بات کا دفاع کرنے کے لئے نہیں لکھ رہا۔ ہم مسلمان اسلام سے اتنا دور ہوگئے ہیں کہ ہمیں خود بھی نہیں پتہ کہ ہم چلے کہاں سے تھے۔ ہم نے اپنی اقدار، اپنے خواب، اپنے اخلاق، اپنے اصول، پسند و نا پسند، جینے کا سلیقہ، مرنے کی ریت، رہبری کے اطوار، تقلید کی مثال سب بھلا دیئے۔
کوئی تعجب نہیں کہ آج دنیا ہمیں تنقید، تعصب اور ناانصافی کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اپنی اس حالت کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ ہم ہی نے دنیا کو اپنی حرکتوں سے اس بات کی اجازت دی ہے کہ یہ رویہ روا رکھا جائے۔ صرف اپنے غیر مسلم دوستوں کے لئے ایک نصیحت ہے اگر آپ اسلام کو پڑھنا چاہتے ہیں تو اسلام کو سمجھیں، مسلمانوں کو نہیں۔ مجھے تو اب بُرا بھی نہیں لگتا جب ایئرپورٹ پر سینکڑوں لوگوں کے درمیان میں سے مجھے ’’مزید چیکنگ‘‘ کے لئے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ مجھے عجیب نہیں لگتا کہ الٹے سیدھے سوالوں کا نشانہ میں ہی کیوں بنتا ہوں اور مجھے دُکھ بھی نہیں ہوتا کہ چبھتے ہوئے طنز اور آرپار ہوتی نظروں کا مسکن میں ہی کیوں بنا؟ مجھے معلوم ہے مجھے ایک لمبا سفر کرنا ہے اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس لانے کے لئے، اپنے وجود کی گواہی کے لئے، دنیا کو یہ باور کروانے کے لئے کہ میں کس طرح اسے فائدہ پہنچا سکتا ہوں، اور دنیا مسلمانوں کے بغیر کیا رہ جائے گی۔
اُمتوں کا مزاج صدیوں میں بنتا ہے، اتنی جلدی کیا ہے، مجھے وقت چاہیئے۔ میں اس پر لگا ہوا ہوں۔ طوفان یا سیلاب، بارش یا آگ، سردی یا گرمی، ورک ڈے یا چھٹی، دن یا رات، میں لگا ہوا ہوں اور میں جلد یا بدیر آخر اپنی منزل کو پاہی لوں گا اور پھر میں اچھا بھی لگوں گا دنیا کے سوالات کا جواب دیتے۔
تھوڑا صبر کریں، کچھ مہلت دیں، ایک دوسرا موقع، کہ ہم سوچ سکیں کہ کیا کر بیٹھے ہیں، کہاں پر غلطی ہوئی، کہاں پر بہکائے گئے، کہاں راہزنوں نے لوٹا، کہاں چلے گئے، کہاں لوٹ جانا تھا، کیسے بہتری لائیں، جس دن ہم یہ سیکھ گئے اس دن ایک بہترین دنیا ہوگی، میرے لئے، آپ کے لئے، ہم سب کے لئے۔
میں اُس دنیا کا خواب دیکھتا ہوں جہاں مسلمانوں کو یہ نہ بتانا پڑے کہ ہم کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ اور ہم آپ کی مدد کیسے کریں؟
ٹونی اور مارتھا عبداللہ کی باتوں کو بہت سنجیدگی سے نوٹ کرتے، انہیں بڑی حیرانی ہوتی کہ اچھا خاصا دنیا دار بندہ اچھا بھلا کام کرتے کرتے یہ کِن سوالوں اور جوابوں کی دنیا میں نکل جاتا ہے۔ یہ آخر اپنی زندگی کو کیوں خود ہی مشکل بنا رہا ہے؟ لائف کو اِنجوائے کرے، سب چلتا ہے۔
آج جمعہ کا دن تھا، دونوں نے فرمائش کی کہ ہمیں بھی مسجد لے چلو، ہم بھی تو دیکھیں کہ کون ہے جو تمہاری نیندیں حرام رکھتا ہے۔
عبداللہ نے سوچا اچھی بات ہے، نماز ہدایت و توفیق کی دعا کا نام ہے۔ چلیں گے تو کچھ اچھا ہی سیکھ کر آئیں گے۔ وہ ڈرتا ڈرتا انہیں مسجد لے گیا کہ کوئی کسی قسم کا جملہ نہ کس دے۔ آج اِمام صاحب نے بڑا شاندار بیان دیا ہے کہ قرآن میں اِنسان کی تعریف کیا ہے۔ ٹونی نے عبداللہ اور مارتھا نے بِلّو کے ساتھ پہلی صف میں نماز ادا کی۔ ٹونی کو خطبہ بہت پسند آیا وہ کئی عرصے تک عبداللہ سے کہتا رہا غصّہ نہیں کرنا چاہیئے۔ قرآن نے اِس سے منع کیا ہے۔ عبداللہ سوچتا رہا کہ مجھ سے زیادہ خطبہ تو اِس نے یاد کرلیا ہے۔
مسجد سے نکلتے وقت عبداللہ کی نظر دروازے کے پاس بیٹھے ایک شخص پر پڑی، وہ کونے میں بہت اُداس بیٹھا ہوا تھا اور بار بار نظر اُٹھا کے آسمان کو دیکھتا تھا۔ عبداللہ کو لوگوں میں پتہ نہیں کیا نظر آجاتا تھا، وہ کہا کرتا تھا مظلومیت دِل تک محدود نہیں رہتی، آدمی کا پورا وجود مظلومیت کی گواہی دیتا ہے۔ عبداللہ اُس کی طرف جانے کے لئے بڑھا تو پاس کھڑے شخص نے ٹوکا کہ یہ آدمی 2 سال جیل میں کاٹ کر آیا ہے۔ لہٰذا مسلم کمیونٹی نے اِس کا ’’سوشل بائیکاٹ‘‘ کر رکھا ہے تم بھی وقت برباد نہ کرو۔
جاری ہے