Khojh | Last Episode 26

45
عبداللہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی جیسے اُس نے کوئی لطیفہ سُن لیا ہو۔ اُس نے جلدی سے ٹونی اور مارتھا کو خدا حافظ کیا اور خاموشی سے اس شخص کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا۔ کوئی 15 منٹ گذر گئے مگر اس شخص نے تو جیسے بات نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ عبداللہ کو بھی کوئی جلدی نہیں تھی وہ جمعہ کی چھٹی کرتا تھا کام سے۔ جب مسجد خالی ہوگئی تو وہ شخص جانے کے لئے اُٹھا تو عبداللہ نے ہاتھ پکڑ کے سلام کیا اور کہا بھائی بہت بھوک لگی ہے۔ اکیلے کھانے کا جی نہیں چاہ رہا۔ آپ ساتھ چلو گے تو بڑا احسان مند رہوں گا، اس شخص نے سر ہلا کر حامی بھرلی۔
کھانا کھاتے ہوئے اُس شخص نے عبداللہ سے کہا۔
لگتا ہے نئے آئے ہو، کمیونٹی نے میرا بائیکاٹ کردیا ہے۔ میں 2 سال جیل میں رہ کر آیا ہوں، اچھا آدمی نہیں ہوں، تم بھی آئندہ نہ ملنا۔ عبداللہ نے کہا، ارے واہ! چلیں ہاتھ اُٹھائیں میرے واسطے دعا کردیں، اللہ مجھے آپ کے صدقے سے قبول کرلیں۔
آدمی حیران و پریشان عبداللہ کو دیکھتا رہا، کہنے لگا سماعت میں خلل ہے کیا، عمرہ کرکے نہیں جیل سے آ رہا ہوں، تم دعا کا کہتے ہو۔
عبداللہ نے کہا، دیکھئے جناب جیل میں تو آدمی تنہا ہوتا ہے۔ اوپر خُدا ہوتا ہے اور نیچے اُس کا پچھتاوا، اِس حالت میں کوئی 2 سال گذار دے تو دوسروں کی زندگیوں پر بھاری ہے۔ آپ نے خوب دل لگا کر یکسوئی کے ساتھ دعائیں مانگی ہوں گی۔
اُس شخص نے گھورتی آنکھوں سے بے یقینی کی سی کیفیت میں عبداللہ کو دیکھا اور کہنے لگا کہ آپ فلاں آدمی کو تو جانتے ہوں گے۔ مسجد میں بڑے مشہور ہیں اور بڑا پڑھا لکھا ہے انہوں نے اِسلام کو۔ وہ تو ابھی کہہ رہے تھے کہ ’’مِسٹر قدرت تم سے اِنتقام لے گی، اللہ بُھولتا نہیں ہے وہ بدلہ لے گا اور جہنم میں فلاں فلاں سزائیں ملیں گی اور اللہ بڑا ہے اِس بات سے کہ وہ تم جیسے لوگوں کو سُنے وہ بے نیاز ہے‘‘۔ اب کیا کہو گے عبداللہ۔ انہوں نے تو حدیث سے بھی اور تفسیر سے بھی ثابت کردیا کہ میری دنیا بھی گئی اور دین بھی۔
عبداللہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی لگ گئی، وہ کہنے لگا سبحان اللہ، اگر اللہ نہیں سُنے گا تو کون ہے کائنات میں جو سُنے؟ وہ سمیع و بصیر ہے۔ آپ فکر نہ کریں ان صاحب کو علم کی بد ہضمی ہوگئی ہے۔ جہالت سے گمراہی آتی ہے۔ علم سے کِبر آتا ہے۔ جہالت کی گمراہی کا علاج بہت آسان ہے، علم کے کِبر کا بڑا مشکل ہے۔ اندھیرے میں کسی کو نظر نہ آئے تو آدمی روشنی کردے، روشنی کسی کو اندھا کردے تو کیا کیا جائے؟
جو شخص اللہ کو جانتا نہیں ہے وہ آخر تفسیر بیان کرتا ہی کیوں ہے؟ اللہ کسی مصلحت کا محتاج نہیں ہے، وہ پاک ہے اِس بات سے کہ بدلہ لے۔ ہم دِن میں 60 سے 80 ہزار بار سانس لیتے ہیں، ڈیڑھ سے دو لاکھ مرتبہ دِل دھڑکتا ہے، عین گناہ کے بیچ میں وہ چاہے تو سانس روک لے، دھڑکنیں آگے پیچھے کردے، مگر وہ دیکھتا رہتا ہے کہ بندہ واپس آجائے، توبہ کرے۔ آپ فکر نہ کریں، اللہ معاف کرے گا، جو کتاب شروع ’’الحمد للہ‘‘ سے ہوتی ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ بندہ اس سے بھی نااُمید ہوجائے؟ یہ کوئی ٹھیکیدار ہیں اللہ کی رحمت کے کہ لوگوں کو اِس سے بھی محروم کردیں؟ خیر عبداللہ نے بڑی ہمت بندھائی اُس شخص کی، اس کی حتی الاامکان مالی مدد کی اور وعدہ لیا کہ وہ آج سے نئی زندگی کا آغاز کرے گا۔
اُس کے جانے کے بعد عبداللہ سوچنے لگا کہ کیا اِسلام میں صرف اندھے گاؤں میں کانا راجہ کے مصداق صرف کانے رہ گئے ہیں؟ اِن جذباتی لوگوں کو پتہ نہیں کہ اُسی اللہ کے پاس واپس جانا ہے اُس نے پوچھ لیا تو کیا کہیں گے؟
جذبات اور صرف جذبات، ہر وقت ایک Emotional Pull چاہیئے۔ سان فرانسِسکو کے بیٹ مین بچے کی طرح جس نے مرنے سے کچھ روز قبل خواہش کی کہ اُسے بیٹ مین بننا ہے۔ پورا شہر بند ہوگیا اور لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے۔ دنیا نے پیسے لٹائے کہ بچہ نظر آ رہا تھا اور اِسی دنیا میں ہزاروں بچے روز مرتے ہیں مگر کیونکہ ان کی اِسٹوری اتنی دلچسپ نہیں ہوتی لہٰذا اُن کے لئے کسی کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ جذبات نبوّت سے ٹکرا جائیں تو نبوّت فارغ اور اللہ سے ٹکرا جائیں تو ریاست اور چرچ الگ الگ ہیں کا راگ الاپنا شروع۔ عبداللہ ایک بار پھر دکھی دل کے ساتھ عصر پڑھنے چلا گیا۔
آج عبداللہ کی سان فرانسسکو کی فلائیٹ تھی وہ ایک ڈیٹا سائنسز کی کانفرنس میں شرکت کے لئے وہاں جارہا تھا۔ فلائیٹ کے پہلے کنکشن میں بزنس کلاس میں ایک بوڑھا آدمی اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ بات چیت شروع ہوئی۔ عبداللہ ایک کتاب پڑھ رہا تھا اور اسے جلد از جلد ختم کرنا چاہ رہا تھا، لہٰذا رسمی باتوں کے بعد چپ ہو رہا۔ اُس شخص نے کئی بار ہمت کرنے کی کوشش کی مگرعبداللہ ہوں، ہاں سے آگے نہ گیا۔
جب فلائٹ نے ہیوسٹن لینڈ کیا اور مسافر جہاز سے نکلے تو عبداللہ کو معلوم ہوا کہ ساتھ بیٹھا شخص ریاست ٹیکساس کا گورنر تھا۔ کافی لوگ ایئرپورٹ پر ان سے ہاتھ ملاتے رہے۔ عبداللہ نے جلد ہی اپنا دوسرا کنکشن پکڑا اور جہاز سان فرانسسکو کی طرف روانہ ہوا۔ مگر وہ راستے بھر سوچتا رہا کہ اگر اُسے پہلے سے پتہ ہوتا کہ ساتھ والا شخص کون ہے تو کیا اس کا رویہ، سوالات و جوالات ایسے ہی ہوتے؟جواب 0 نفی میں آیا۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ کتنا ضروری ہے کہ آپ جس سے بات کر رہے ہیں جس سے سوال کر رہے ہیں اس کے بارے میں جانتے بھی ہوں۔ جتنی جانکاری زیادہ ہوگی گفتگو اتنی ہی بامعنی ہوگی اور جتنی اس کے بارے میں جاننے کی طلب ہوگی اتنا ہی سوالوں پر نکھار آئے گا۔
وہ سوچنے لگا دعا کے لئے اللہ کو جاننا کتنا ضروری ہے۔ ہم نے تو بھلا ہی دیا ہے کہ دنیا کو بنانے والا اور دنیا کو چلانے والا ایک ہی ہے۔ وہ دنیا بنا کے بھول نہیں گیا ہے۔ بقیہ سفر دعا میں گذر گیا کہ اے اللہ! مجھے آج تک اتنی فرصت نہ ملی کہ تجھے ہی جان سکتا، مجھے معاف کردے میرے مالک! مجھے معاف کردے۔
کانفرنس میں پہنچتے ہی لوگ عبداللہ کے پاس آئے، کسی نے اُس سے حلال کھانے کے ریسٹورنٹ کے بارے میں پوچھا تو کسی نے قبلہ کا رُخ، کتنی عجیب بات ہے کہ لوگ صرف شکل سے ہی گمان کر لیتے ہیں کہ کس کے پاس کونسی معلومات ہوں گی۔
عبداللہ سوچنے لگا کہ رول ماڈل بننا یا نہ بننا کوئی چوائس نہیں ہوتی، آپ ہر وقت کسی نہ کسی کے تو رول ماڈل ہوتے ہی ہیں، کوئی طالب علم، کوئی کولیگ اور کچھ نہیں تو کوئی دوست، آن لائن فرینڈز، بیوی، بچے، سوال تو یہ ہے کہ آپ کس قسم کا رول ماڈل بننا چاہتے ہیں۔
دنیا کو بھی شاید کسی رول ماڈل کی تلاش ہے، کسی بھی شخص کو رول ماڈل بنائیں گے تو آخر میں بیزار ہوجائیں گے، سوائے رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے، مگر یہ بات انہیں ان کی زبان میں سمجھائے کون؟
عبداللہ کو کامیاب لوگوں کی سوانح حیات پڑھنے کا بڑا شوق تھا، شاید ہی کوئی نوبل پرائز ونر ایسا ہو جسے عبداللہ نے نہ پڑھا ہو، اس کے علاوہ اپنی فیلڈ کے لوگ مثلاً بل گیٹس، اسٹیو جابز اور عالمی رہنماؤں مثلاً نیلسن منڈیلا، محمد علی جناح، مہاتما گاندھی۔
وہ کچھ باتوں پہ بڑا حیران ہوتا۔
پہلی تو یہ کہ بظاہر نظر آنے والی صلاحیتوں کا لئے جانے والے کاموں سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی اس شخص کے پاس موجود وسائل کا۔
مثلاً تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو کتنے بڑے بڑے کام مفلوک الحال، لاغر اور کوئی بہت زیادہ صحت مند لوگوں نے انجام نہیں دیئے۔ مادام کیوری کو 2 بار نوبل پرائز ملا، ان کے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے، سردی میں ٹھنڈ سے بچنے کے لئے کچھ میسر نہ تھا، اسٹیو جابز کو ان کا باپ حمل کے دوران ہی چھوڑ گیا تھا اور وہ راستوں سے بوتلوں کے خالی ڈبے اُٹھاتا تھا۔ بل گیٹس کا بچپن ہو یا صدر اوباما کا، عبدالستار ایدھی ہوں یا صدر الدین ہاشوانی کوئی بھی منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوا۔
آپ گاندھی جی اور جناح صاحب کو دیکھ لیں، کہ قدرت نے 2 کمزور ترین آدمیوں کو پورے برصغیر میں چُنا۔ ایک حبشی غلام کو بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا درجہ دے دیا۔ نوبل پرائز ونرز کی سوانح حیات پاکستان کے ہر اسکول کی لائبریری اور کورس کا حصہ ہونی چاہیئے۔ کوئی تو بات ہے، ذہانت، صلاحیتوں اورعلم کے علاوہ جس کی وجہ سے بندہ چُن لیا جاتا ہے۔ دوسری کامن بات جو عبداللہ کو حیران کرتی وہ ان ہستیوں کی پرورش ہے۔ عرصے تک گمنام ہی رہتے ہیں، زمانے کے اونچ و نیچ سے گزرتے، مشکلات و آزمائشیں جھیلتے پروان چڑھتے رہتے ہیں اور پھر ایک دن سورج کی طرح ایسے طلوع ہوتے ہیں کہ رہتی دنیا تک زوال نہ ہو۔
ایک اور بات کہ بہت سے کامیاب و مشہور لوگوں کی خانگی زندگی کوئی بہت اچھی نہیں گذری، بہت سوں کی تو علیحدگی ہی ہو گئی۔ خواہ وہ امریکی صدر الگور ہوں یا اسٹیو جابز، مائیک ٹائی سن ہوں یا نیلسن منڈیلا۔
اِس زاویے سے دیکھا جائے تو رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی قوت برداشت اور صبر دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اُمہات المومنینؓ کی دل کی وسعت بھی سب سے زیادہ۔ ایک کامیاب آدمی کے ساتھ زندگی گزارنا کہ دو جہاں ان کی تعریف کرے اور آپ کا ان سے کوئی موازنہ ہی نہ ہو، دل گردے کا کام ہے۔ جو مٹ جائے وہ نبھائے ورنہ تو دنیا بھری پڑی ہے ان مثالوں سے۔ وہ سوچتا کاش کوئی اس موضوع پر اس کے ساتھ کام کرسکے کہ اسے عربی نہیں آتی اور کتابوں کا ایک وسیع ذخیرہ جس سے اسے مدد مل سکے عربی میں ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبداللہ واپس اپنے شہر پہنچ کر کمپنی اور اس کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔ اُس نے ڈیٹا سائنٹسٹ کیسے بنتے ہیں، پر ایک مضمون بھی لکھ دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ کچھ تو اچھے ڈیٹا سائنٹسٹ تیار ہو پائیں تاکہ وہ کُھل کے کام کرسکے۔ دن گزرتے چلے گئے اور عبداللہ اپنے کاموں میں مگن، کبھی فرصت مل جاتی تو مفتی صاحب سے بات کرلیتا یا کمرہ بند کرکے آنکھیں بند کرکے اپنی تسبیح پڑھتا رہتا، ایسا کرنے سے اُسے بہت سکون ملتا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
آج جمعہ کا دن تھا، عبداللہ نے ہر جمعہ کی طرح سورۃ کہف مکمل کی اور مسجد چلا گیا۔ یہاں کی مسجد اسے بہت پسند تھی، امام صاحب بھی نپی تُلی بات کرتے تھے اور بلاوجہ کی جذباتیت سے دور ہی رہتے تھے۔ نماز سے فارغ ہوا تو پچھلی صف میں دو آدمیوں کو لڑتے پایا۔ وہ بہت اونچا بول رہے تھے۔ غالباً کوئی پارکنگ کا مسئلہ تھا کہ ایک نے گاڑی لگا دی جب کہ دوسرا لگانا چاہتا تھا۔ اتنی سی بات مگر لہجوں اور
جملوں سے یوں لگتا تھا کہ جیسے آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔ غیظ و غضب کا یہ عالم کہ شاید ایک دوسرے کو جان سے مار دیں تو بھی چین نہ آئے۔ خیر لوگوں نے آ کر بیچ بچاؤ کرا دیا۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ کسی اور کے دل میں غیظ و غضب رکھ کے آدمی دعا میں رحم کیسے مانگتا ہے۔ اُسے آپس میں لڑتے ہوئے مسلمان بالکل بھی پسند نہیں تھے۔
اس پر طرہ یہ کہ ہر شخص منصف کا کردارادا کرنے آن پہنچتا ہے۔ مصلح بننے کا شوق انسان کی بد ترین عادتوں میں سے ایک ہے۔ عبداللہ بھاری دل کے ساتھ گھر واپس آگیا۔ دل بہلانے کو سوچا کہ یو ٹیوب پر کوئی اسلامی بیان سن لیا جائے۔ تفسیر سننے سے وہ ڈرتا ہی تھا کہ جس تعداد میں مفسر قرآن انٹرنیٹ نے پچھلے 10 سالوں میں پیدا کئے اتنے تو اُمت مسلمہ 14 سو سالوں میں نہ کر سکی۔
خدا خدا کرکے کچھ لیکچرز ملے، عبداللہ نے سننا شروع کیا۔ بہت اچھے لیکچرز تھے۔ کوئی آئیڈیل مسلمان کا زائچہ کھینچ رہا تھا تو کوئی شرم و حیا کی باتیں بیان فرما رہا تھا، کوئی اسلاف کے کارناموں کی گنتی کر رہا تھا تو کوئی آج کل کے مسلمانوں کو ملائکہ سے افضل قرار دے رہا تھا۔ کسی نے زندگی بھر جھوٹ نہ بولنے کی قسم کھائی، تو کسی نے صاحب ترتیب اور کئی عشروں کی تہجد نہ چھٹنے کا یقین دلایا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ سدھار اوپر سے آئے گا جب اہل و ایماندار حکمران آئیں گے تو کوئی ہر شخص کو صحیح کرکے ان اکائیوں سے معاشرے کی از سر نو تعمیر کا متمنی تھا۔
عبداللہ سب سنتا رہا اور پھر اور سنتا رہا اور پھر یہاں تک کے رات پڑگئی۔
عبداللہ کبھی کبھی بہت پریشان ہوجاتا کہ اس کا دل و دماغ سیدھی سادھی بات قبول کیوں نہیں کرتا؟ کیوں اسے ہر چیز پر کوئی نہ کوئی اعتراض ہوجاتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہر جواب کی تلاش میں سوالوں کی ایک نئی فصل پک کر تیار کھڑی ہوتی ہے۔ اُسے چین کیوں نہیں ملتا؟
اُس نے سوچا، آج رت جگا کرتے ہیں۔ کیوں نہ اُسی سے پوچھیں، جو سارے سوال و جواب کا مالک ہے۔ عبداللہ نے دو رکعت صلوۃ الحاجۃ دل کے قفل ٹوٹ جانے کے مانے اور نماز شروع کردی۔ آج ہر ممکن کوشش کے باوجود عبداللہ کے منہ سے الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے۔ وہ صرف رو رہا تھا۔ رکوع میں بھی، سجدوں میں بھی، قیام میں بھی، تشہد میں بھی، اس کے دل سے دھونکنی کی طرح آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ تنگ آ چکا تھا، ان سوالوں سے اور وہ آج جواب چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ خدا کی کائنات میں گھومے کہ دنیا میں رہ کر اب اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اللہ کی صناعی دیکھے کہ دنیا سے دل بھر چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ علم اب کہیں اور سے ملے کہ یوٹیوب اور کتابیں اسے بے معنی لگنے لگے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ محبت ملے جو اسے بھر دے۔ اُسے رنگ دے، اسے سیراب کر دے، وہ چاہتا تھا کہ ایسا نشہ کرے کہ حشر میں ہی جا کر ہوش آئے۔
ساری دنیا سے نا اُمید عبداللہ، ایسی دنیا میں جو آج تک اس کے سوال ہی ختم نہ کر پائی، ایسی دنیا جسے اس کے سوال سمجھ ہی نہیں آتے ہیں ان سب سے وہ ایک بار ہی چھٹکارا پاناچاہتا تھا۔ آج زبان گنگ ہو گئی تھی، آنکھیں بول رہی تھیں، نماز ختم کرکے عبداللہ نے اپنے ہاتھ بلند کئے۔
اے اللہ سائیں!
اے اللہ! میرا کیا ہوگا؟ میرا کیا ہوگا میرے مالک؟ یہ میرے دل کا شور کب تھمے گا؟ کیا میں پاگل ہونے جا رہا ہوں؟ کیا مجھے فالج ہوجائے گا؟ کیا میں مرنے والا ہوں؟ وہ تمام باتیں جو سب کو سمجھ آجاتی ہیں وہ مجھے کیوں نہیں آتیں؟ ہر جواب کا ایک وقت ہوتا ہے سوال کا کیوں نہیں ہوتا؟ یہ بیان دینے والے تیرے نیک بندے کیا کہتے ہیں؟ یہ معصوم لوگ ہیں اللہ، یہ کیا جانیں گناہ کسے کہتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم جب نفس ضد پر آجائے تو کیا ہوتا ہے، انہیں خبر ہی نہیں کہ ایک عمر ایسی بھی آتی ہے کہ کوئی بیان اثر نہیں کرتا، بندہ جہنم تک سے نہیں ڈرتا، انہیں کیا معلوم جذبات کے گلستان میں ایک دہکتا جملہ کیا آگ لگاتا ہے، جنس کی خاموش جھیل میں ایک کنکر کیا بھنور پیدا کرتا ہے۔ انہیں پتہ ہی نہیں میرے رب، انسان، انسانوں سے کتنی دور آ پڑا ہے۔ ستاروں کے جھمگٹوں میں رہنے والے یہ تیرے پاک بندے، کیا جانیں ہم جذبات کے بیوپاری کن اندھیروں میں رہتے ہیں۔ نیکیوں کے گھڑسوار معصیتوں کے پیادوں کی رفتار کیا جانیں۔ کس سے جا کر کہوں میرے مالک، کس سے رونا رؤں، تیرے نیک و پاکیزہ بندوں کی دنیا میں، میں اکیلا سیاہ کار ہوں، اِن آنسوؤں کی لاج رکھ میرے مولا، یہ آنسو کبھی یتیم نہیں ہوتے، تو ہے ناں ان کا مالک۔
اے یتیموں کے وارث اللہ، ٹوٹے ہوئے، اُجڑے ہوئے، بھوکے پیاسوں کے اللہ، اے ذوالجلال والاکرام، کسی گنہگار کو ولی بنادے کسی مبغوض کو مفتی کر دے، کسی بدکار کو داعی کا منصب دے دے، کسی سیاہ کار کو تبلیغ پر لگا دے کہ انہیں کم از کم ہمارے مسائل اور نافرمانیوں کا ادراک تو ہو، انہیں یہ تو پتہ ہو کہ جب نفس ضد پر آجائے تو کچھ اثر نہیں کرتا، وہ شاید بتا سکیں کہ گناہ کی عادت اور توبہ کی تکرار میں جیت آخر کس کی ہوتی ہے؟ اور شرمندگی و ندامت کی وہ کون سی انتہا ہے جو رحمت کو کھینچ لاتی ہے؟ اے دلوں کو قرار بخشنے والے، ان بے قراروں، ان گنہگارں کی بھی سن لے۔
اے اللہ، مجھے مجھ سے بچا لے۔ یہ دل تیرے ذکر سے خالی ہے۔ یہ نفس کا کمیشن ایجنٹ بن چکا ہے۔ اے اللہ، نہ یہ تیرے ڈر سے رُکتا ہے نہ شکر کے احساس سے، میں اس کا ماتم نہ کروں تو کیا کروں۔
اے اللہ، اس سے بڑا المیہ کیا ہو کہ جسم موٹا ہوجائے اور روح بھوکی مرجائے، جسم کو رزق دینے والے رزاق، کچھ روح کی بھوک کا بھی سامان ہو۔
اے اللہ آدمی کبھی لوگوں کو دکھانے کے لئے کام کرتا ہے کبھی خود کو دکھانے کے لئے، عمر گزر جاتی ہے ریا کاری نہیں جاتی، مجھے ان فریبوں سے بچا، مجھے نفس کی چالاکیوں سے بچا۔ آسانی والا معاملہ کر دے۔
یہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے تھے میرے اللہ، یہ عاجزی کیا ہے؟ عاجزی کی بھی بریک ہونی چاہئے ناں، اتنی عاجزی کہ بندہ کسی کام کا نہ رہے میرے مالک کس کام کی؟
اللہ مجھے بچالے۔ گناہوں کی سوچ سے، سوچ کے گناہوں سے، وسوسوں سے اور پلاننگ سے، اللہ بے شک تیری قدرت و رحمت میرے مسائل سے بڑھ کر ہے۔
اے اللہ وہ کہاں جا کے رہے جو کہیں کا نہ رہے؟
اے اللہ! ہمیشہ سے ہی معدودے چند لوگ ہی ہوتے ہیں جو وقت کی کلائی ہاتھ میں رکھتے ہیں، سارے کے سارے ملک تو کبھی بھی حق پر نہ چلے، نہ ہی سارے کے سارے حکمران، میرے مالک ان تھوڑوں میں سے کردے جو تیرے پسندیدہ ہوں، جن سے تُو ایسا راضی ہوجائے کہ پھر کبھی ناراض نہ ہو۔ میرے اللہ معاف کردے، میرے سوالوں کے جواب بخش۔ میرے حال پہ رحم کر، اب تُو نہ ملا تو مارا جاؤں گا یہاں بھی وہاں بھی۔ یا تو مجھے اپنے پاس بلا لے یا مجھے چُن لے، اب تیرے بغیر نہیں جینا۔
بہت ہوگئی، میں تھک گیا اللہ، میں گرگیا اللہ، میری سانس اُکھڑ گئی، چاروں شانے چت پڑا ہوں، کون سی راہ ہے معلوم نہیں، نہ سمت کا پتہ ہے، نہ منزل کا، نہ ہم سفر کا، نہ راہبر کا، نظر صرف تیری رحمت پر ہے۔
مدد کر میرے مالک! مدد کر
اَنت مولانا ، اَنت مولانا، اَنت مولانا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
عبداللہ صبح دیر سے سو کر اُٹھا، موبائل پر کئی مس کالز تھیں۔ ای میل چیک کی تو پتہ لگا کہ اقوام متحدہ نے سافٹ ویئرکی ڈیل منظور کرلی ہے اور دو دن بعد اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کے لئے بلایا ہے۔ ساتھ میں انگلستان کے سابق وزیراعظم سے ملاقات بھی طے ہے۔
عبداللہ جلدی جلدی تیار ہوکر آفس پہنچا کہ کمپنی کے بورڈ اور ٹونی اور مارتھا سے ڈسکس کرسکے۔ عبداللہ بہت خوش تھا، نہ صرف یہ کہ اقوام متحدہ اس کا سافٹ ویئر اور سروسز ہائر کر رہی تھی بلکہ سافٹ ویئر کی پہلی اسائنمنٹ بھی پاکستان تھا۔ اس کا اپنا ملک جہاں پچھلے 5 سالوں میں 1000 سے زائد اسکول دہشتگرد حملوں کی نذر ہو گئے۔
انگلستان کے سابق وزیراعظم نے خود فون پر بات کرکے مبارکباد دی اور کہا کہ وہ پاکستانی وزیراعظم سے بھی بات کریں گے۔
شام سے پہلے پہلے عبداللہ کو اپنے ملک کے وزیراعظم کی طرف سے ملاقات کا دعوت نامہ مل چکا تھا اور یہ کہ وہ بہت خوش ہیں کہ جو ٹیکنالوجی عبداللہ نے تیار کی ہے وہ اسے استعمال کر پائیں گے۔
عبداللہ مسکرانے لگا کہ کیا ہی عجیب دن دیکھنے کو ملا زندگی میں 5 سال ملک میں دھکے کھاتا رہا، کسی نے کمیشن مانگا، کسی نے گرانٹ روک لی، کسی نے بے کار پراڈکٹ کہہ کر ملنے تک سے انکار کردیا تو کسی نے جھوٹے وعدوں پر ٹرخا دیا، کون سا در تھا جو اِس نے نہ کھٹکھٹایا ہو، مگر جواب ندارد اور آج جب وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس امریکہ آگیا ہے تو وہی لوگ اسے واپس بلا رہے ہیں جو کہتے تھے کہ ڈاکٹر عبداللہ، اب اگر ایک دن بھی رہے تو زندگی کی ضمانت نہیں۔
کیا بات ہے میرے اللہ۔ تیرا اسکرپٹ سب پر بھاری۔
عبداللہ اگلے دو روز تک ایک ہی شعر گنگناتا رہا۔
تیرا رتبہ بہت بلند سہی
دیکھ میں بھی خدا کا بندہ ہوں
عبداللہ ہوٹل کے کمرے میں سوٹ پہنے تیار بیٹھا تھا، لیپ ٹاپ، ڈیمو، پریزنٹیشن سب ریڈی تھا، آج اس کی زندگی کا ایک بڑا دن تھا، آج اُسے چاچا دینو، سر عبدالرحمن، رفیع صاحب، ابو، امی، پھوپھی، مفتی صاحب سب یاد آ رہے تھے، بِلّو واٹس اَپ پر ہر ہر لمحہ ساتھ تھی۔
عبداللہ نے دعا کو ہاتھ بلند کئے،
’’کیا بات ہے میرے اللہ، کیا کہنے، کون یقین کرسکتا ہے کہ پیلے کپڑوں سے پڑھنے والوں کو تو یہاں لائے گا، اے کمزوروں کے وارث اللہ، تیری وہ تعریف کروں جو کسی نے بھی نہ کی ہو، اُمیدوں کے مالک اللہ، دلوں کے جاننے والے رب تیرا شکریہ، تو مجھے بھولا نہیں، تو نے کرم کیا، تو نے عزت بخشی، تو عنایت کرتا کہ میں بھی تجھے کبھی نہ بھولوں، آج سے ایک نیا دور شروع کر میرے اللہ! تو آگے راستے دکھا۔ میں آنکھ بند کر کے پیچھے چلتا ہوں۔
میرے اللہ بچپن میں مجھے لگتا تھا شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ بس آدمی اس سے بچ جائے باقی سب آسان باتیں ہیں۔ لڑکپن میں آیا تو اندازہ ہوا جھوٹ سے بڑا گناہ کوئی نہیں، جوانی میں جنس کے علاوہ کوئی گناہ ماننے کو دل تیار ہی نہیں تھا، ایسے لگتا تھا کہ جنس کے علاوہ کائنات میں کچھ ہے ہی نہیں۔ آج لگتا ہے کہ سب سے بڑا گناہ میں خود ہوں، میرا ہونا ہی گناہ ہے کہ اپنے وحدہٗ لاشریک مالک کو سمجھ ہی نہیں پایا۔ تو واحد ہے، تو باقی ہے، ہر وہ چیز جو تیری
سلطنت میں وجود رکھتی ہے بہ نفسہ گناہ ہے تو مجھے میرے ہونے پر بخش دے میرے مالک۔
مجھ سے خفا نہ ہونا، مجھے اپنے سے قریب رکھنا‘‘۔
*۔۔۔*۔۔۔*
کچھ دیر بعد عبداللہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھا ہوا تھا، وزیراعظم صاحب سے ملاقات اور پریس کانفرنس خوب رہی، انہوں نے جاتے جاتے عبداللہ کے ہاتھ پر پہنی تسبیح کو دیکھ کر کہا کہ یہ کیا ہے؟
عبداللہ نے اُن کے ہاتھ پر بندھے بینڈ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا یہ کیا ہے وہ کہنے لگے دوست کا تحفہ ہے اس کی یاد دلاتا ہے۔ عبداللہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا یہ بھی دوست کی نشانی ہے اس کی یاد دلاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی اناؤنسمنٹ کے بعد میڈیا انٹرویوز اور کسٹمرز کا جو تانتا بندھا تو رُکنے کا نام ہی نہیں۔ کچھ ہی دنوں میں عبداللہ شدید اُکتاہٹ کا شکار ہوگیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ ایک کانفرنس میں تقریر کرنے ریاست ورجنیا جارہا تھا۔ اسکا موضوع اس کی فیلڈ میں تھی جو کہ بہت اچھی گئی، اس کے سیشن کے بعد چائے پر اس کی گورنر سے ملاقات ہوئی جن کے ساتھ بہت سے ملٹری جرنلز اور قانونی اداروں کے لوگ تھے کہ یہ کانفرنس ڈیفنس کی ہی تھی اور پوری کانفرنس میں 800 افراد میں عبداللہ واحد مسلمان۔
عبداللہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اللہ کی شان ہے۔ وہ اکیلا اپنے کام کی بناء پر 800 پر بھاری پڑ رہا ہے۔ وقفے کے دوران گورنر نے اس سے سوال پوچھا، ڈاکٹر عبداللہ، آپ کو امریکہ کو دیکھ کے حیرت نہیں ہوتی، کیا بڑا طاقتور ملک ہے، کیسے کیسے سافٹ ویئر، جنگی سامان، مجسمہ آزادی، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، وال اسٹریٹ ایک نیا ہی جہان ہے۔
جی بالکل، ہوئی ہے مگر صرف شروع میں، ایک دو بار، پہلی بار مجسمہ آزادی کو دیکھا تو مبہوت ہی ہوگیا تھا۔ دوسری بار اچھی لگی، تیسری بار کے بعد سے حیرت ختم ہوگئی۔ کیا آپ نے کبھی کوئی چیز ایسی بھی دیکھی ہے کہ ہر بار حیرت میں اضافہ ہوجائے؟ عبداللہ نے سوال کیا۔
میں نے تو نہیں دیکھی، کیا آپ نے دیکھی ہے عبداللہ؟
جی بالکل، اللہ کی ذات اور اُس کی قدرت، آدمی جب سوچتا ہے، حیرت کے مارے بول بھی نہیں پاتا۔ گو رنرنے کچھ نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ارے آپ تو کوئی صوفی ٹائپ کے Meditation Master لگتے ہیں۔ یہ مراقبات کیا ہوتے ہیں؟
جی کچھ نہیں، مراقبات اور مربہّ جات میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، ایک روح کی غذا ہے ایک جسم کی۔
چلیں میں آپ کو حیرت انگیز مثال دیتا ہوں آسان سی۔
قرآن پاک کی غالباً آٹھویں سورۃ (Chapter) ہے۔ سورۃ الانفال۔ اس کی 73 ویں آیت بڑی حیرت انگیز ہے، سمجھ میں ہی نہیں آتی، جب پڑھتا ہوں سر دھنتا ہوں۔
اللہ فرماتے ہیں۔
’’اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔‘‘ (آیت 73)
آپ ملاحظہ کریں۔ مدینے سے ہجرت کرنے والے ڈھائی تین سو افراد ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کل ملا کے ڈھائی ہزار اور کیا۔ اللہ کہتے ہیں تم اپنی نئی وحدت قائم کرو۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں، رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی سر پرستی میں اور اگر ایسا نہ کیا تو بڑا فتنہ، فسادِ عظیم پیدا ہوگا۔
یا اللہ! کیا ماجرا ہے، کس سے کہا جا رہا ہے، کیا کہا جا رہا ہے، کب کہا جا رہا ہے، کہاں کہا رہا ہے۔
کچھ مفلوک الحال اجنبی سے لوگ اپنی وحدت قائم کریں۔
کس کے مقابلے میں؟ قیصر و کسریٰ کے مقابلے میں، رومن ایمپائر کے مقابلے میں، پوری پوری فوجیں ہیں، تہذیب ہے، تمدن ہے، دنیا فیشن ان سے لیتی ہے، ہتھیار بنانا ان سے سیکھتی ہے، رومن لاء کا طوطی کُل جہان میں بولتا ہے، فن تعمیر وہاں سے آتا ہے اور اگر نہ کیا تو فساد عظیم پیدا ہوگا۔
یہ تو ایسے ہے جیسے کوئی مجھ سے آکر کہے کہ تم یہ کرو ورنہ امریکہ میں فتنہ ہوگا۔ کہاں میں کہاں 320 ملین لوگ۔
مگر پھر ایسا ہوا، ایسا تاریخ نے دیکھا گورنر صاحب، مٹھی بھر چند لوگوں کی کاوش لے ڈوبی قیصر و کسریٰ کو، رومن ایمپائر کو۔
ہے نا حیرت والی بات!
گورنر صاحب کچھ نہ سمجھتے ہوئے پھیکی سی ہنسی ہنس کے چلے گئے۔
عبداللہ یہ شعر گنگناتے ہوئے واپس چلا آیا۔
جو دِکھ رہا ہے اُسی کے اندر جو اَن دکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
دِلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں
تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے وہ شاعری ہے
عبداللہ گھر آکے سوگیا، صبح اُٹھا تو طبیعت بہت خوش تھی، شاید کسی خواب کا اثر تھا جو اِسے یاد نہیں رہا مگر اس کا انگ انگ مسرت سے اُچھل رہا تھا۔ وہ آج دِن بھر ناز خیالوی کے یہ مصرعے دہراتا رہا-
مرکزِ جستجو، عالمِ رنگ و بو
دم بہ دم جلوہ گر، تو ہی تو چار سُو
ہُو کے ماحول میں، کچھ نہیں اِلاھُو
تم بہت دلربا، تم بہت خُوبرو
عرش کی عظمتیں ، فرش کی آبرو
تم ہو کونین کا حاصلِ آرزو
آنکھ نے کر لیا آنسوؤں سے وضو
اب تو کر دو عطا دِید کا ایک سبو
آؤ پردے سے تم آنکھ کے روبرو
چند لمحے مِلن، دو گھڑی گفتگو
ناز جپتا پھرے، جا بہ جا کو بہ کو
وحدہٗ وحدہٗ، لا شریک لہ،
اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو
*۔۔۔*۔۔۔*
آج عبداللہ جہاز میں بیٹھا سِری لنکا کی طرف جا رہا تھا کہ کمپنی کا ایک آفس وہاں بھی کھول سکے اور اُس کا قلم پھر سے سوالات لکھ رہا تھا۔
یا اللہ، 2 سال سے ایک ہی ذکر پر ہوں۔ بہت کاہلی برتی، لگتا ہے تمام عمر اِسی پر رہوں گا۔ تُو قبول فرما لے۔ اے وہ اللہ جو زمان و مکان کی قید سے پاک ہے۔ میں منزلوں کا مسافر ہوں، تُو تو نہیں، تو آکے مِل جا۔
اے اللہ! جن کا موت سے پہلے دل دنیا سے اچاٹ ہوجائے، اُن کے لئے کوئی سرائے ہے کیا؟
وہ کون سی نیکی ہے جو گارنٹی دے کہ بندہ چن لیا جائے گا؟
جن کے سوال گم ہوجائیں، ان سے کوئی جواب مانگے تو وہ کیا کریں؟
اے اللہ کیا روحانیت کا بھی کوئی نصاب اور امتحان کا طریقۂ کار ہے۔ یا تیری مرضی جب چاہا، جیسے چاہا، جسے چاہا دے دیا؟
اے دیکھنے والے، میں سوالوں کی مالا توڑ بیٹھا ہوں۔
میں تو اتنا بھی سمجھنے سے رہا ہوں قاصر
راہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہے
ختم شدہ