Khouf Ne Tabah Kiya | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1307
بابا ٹرانسپورٹر تھے، ان کی بسیں چلتی تھیں۔ یہ کاروبار انہوں نے بڑی محنت سے جمایا تھا۔ منافع جمع کرتے اور جب روپیہ جمع ہو جاتا تو نئی بس خرید لیتے۔ منافع سے بس ضرورت کے مطابق ہی رقم نکالتے۔ نہایت کفایت شعاری سے کام لیتے تھے حتیٰ کہ اپنی ذات پر بھی بہت کنجوسی سے خرچ کرتے تھے تبھی والدہ کہتی تھیں یاقوت کے بابا، تم کیوں اتنی کنجوسی کرتے ہو، گھر کا خرچہ پورا دیتے ہو، لیکن اپنی ذات پر خرچ کرنا خطا تصور کرتے ہو اور اللہ نے ہمیں اتنا کس لئے دیا ہے نئے جوتے کپڑے بنوا لو۔ جواب دیتے میں نے پائی پائی جوڑ کر آج پانچ بسیں خرید لی ہیں جب تک دس نہ کر لوں یونہی کفایت شعاری سے کام لینا ہو گا۔
جانتی ہو کہ آگے زمانہ کس قدر مہنگائی کا آنے والا ہے۔ سفید پوشی کا بھرم رکھنا بھی ہماری اولاد کے لئے دوبھر ہو جائے گا۔ تو کیوں نہ ابھی سے اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کرلوں۔ میں نے صفر سے کاروبار شروع کیا۔ بچوں کو وہ عذاب نہ سہنے پڑیں گے جو ہم نے دیکھے ہیں۔ ہمارے یاقوت خان کو ایک چلتا ہوا کاروبار اس کے باپ سے ورثے میں ملے گا۔
والد صاحب نے ڈرائیوری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، جب ٹرانسپورٹ کے کاروبار کی سوجھ بوجھ آ گئی تو اپنا ذاتی مکان فروخت کر کے ایک بس خرید لی، جسے خود چلاتے تھے یوں رفتہ رفتہ اب وہ جانے مانے ٹرانسپورٹر بن گئے۔
بابا جان کو اب خود سے زیادہ اپنی اولاد کی فکر تھی۔ ہم تین بہنیں تھیں اور ہمارا ایک بھائی تھا۔ زرغونہ باجی اور زمرد کی شادی والد اپنی زندگی میں کر گئے تھے۔ میں ابھی بارہ سال کی تھی کہ والد صاحب ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔
برسوں رات دن کی مسافت کی زندگی ان کا معمول تھی۔ بالآخر بس ایک دن ٹرک سے جا ٹکرائی اور وہ جان کی بازی ہار گئے۔ حادثے کے وقت میرے اکلوتے بھائی کی عمر اٹھارہ سال تھی اور اب اسی کو والد کا ورثہ اور کاروبار سنبھالنا اور چلانا تھا۔ شاید اسی دن کے لئے وہ اتنا سرمایہ جوڑ رہے تھے۔
والد کی وفات کے ایک ماہ بعد یاقوت نے امی جان کے کہنے پر ٹرانسپورٹ کاکاروبار سنبھال لیا لیکن ان کو زیادہ تجربہ نہ تھا کیونکہ اس عرصہ میں پڑھائی میں مصروف رہے تھے۔
ایف اے کے سالانہ امتحان سے چند روز پہلے والد صاحب کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور بھائی ایف اے کے امتحان میں نہ بیٹھ سکے اس کے بعد پڑھائی دھری رہ گئی۔
پرانے ملازم ایماندار اور وفادار تھے۔ والد ان کا اپنی اولاد کی طرح خیال کرتے تھے لیکن بھائی یاقوت کم عمر اور نو آموز تھے۔ وہ ان ملازمین کی نصیحتوں اور ہر قدم پر رہنمائی کو دخل اندازی جانتے تھے۔
وہ والد کے ان وفاداروں سے چڑنے لگے، کچھ موقع پرستوں نے بدگمانیاں ان کے دل میں ڈال دیں۔ تو یاقوت نے رفتہ رفتہ اپنے کاروبار میں شامل ان معاونین کی چھانٹی شروع کر دی جو زیادہ تجربہ کار تھے وہ ان کے غلط فیصلوں پر بھائی کو روکتے ٹوکتے حتیٰ کہ کبھی کہا ماننے سے بھی انکار کر تے تب میرے بھائی جان اس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیتے۔ یوں ان وفاداروں نے بھی از خود ان کی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا اور بھائی نے ان کی جگہ نئے لوگوں کو بھرتی کر لیا جو موقع پرست، خوشامدی اور بے ایمان لوگوں کا ٹولہ تھا۔ ان کی آپس میں ملی بھگت تھی۔ وہ اندر اندر کاروبار کو نقصان پہنچا رہے تھے۔ لوٹ کھسوٹ کر کے اپنی جیبیں بھر رہے تھے۔
یاقوت کو دوست دشمن اچھے برے کی بالکل پہچان نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کاروبار کھوکھلا ہونے لگا اور خسارہ بڑھتا گیا۔ ایک ایک کر کے بسیں بکنی شروع ہو گئیں جب آخری بس رہ گئی تب یاقوت کو ہوش آیا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا،کہ چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ٖ
انہوں نے قرض لے کر دو بسیں خرید لیں۔ قرض سود پر لیا تھا۔ امی جان نے روکا مگر ان کا کہا نہ مانا۔ جب تجربہ نہ ہو اور مزاج بھی لاابالی ہو تو سوجھ بوجھ کہاں سے آتی۔ میرے خوشامد پسند بھائی نے اپنے خوشامدی دوستوں کے کہنے میں آکر قرضہ لیا اور دوبارہ کاروبار جمانے کی کوشش کی مگر نہ جما سکے۔ قرض خواہوں نے مدت پوری ہونے کے بعد روپیہ واپس لوٹانے کے تقاضوں نے اتنا ناک میں دم کیا کہ بھائی کو بسیں اونے پونے بیچ کر ان کا قرضہ واپس کرنا پڑا کیونکہ سود اتنا ہو
گیا کہ والد نے جو نیا مکان بنوایا تھا بھائی نے وہ بھی فروخت کر کے ان سود خوروں سے جان بچائی لیکن ہم ان کی بے وقوفیوں کے باعث کوڑی کوڑی کو محتاج ہو گئے۔
جس نے عمر بھر عیش کی زندگی گزاری ہو، اچھا کھایا اور اچھا پہنا ہو، اور اگر اس کے پاس ایک روپیہ بھی نہ رہے تو وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائی میں گر پڑتا ہے۔ غریبی آتے ہی دوستوں نے منہ موڑ لیا، رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ برے وقت میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ نہیں دیتا یہ بے وفا دنیا کیا ساتھ دیتی۔ والدہ اور میں بھائی کو سمجھاتی تھیں کہ اب کہیں نوکری کر لو۔ کوئی چھوٹا موٹا کام کر لو اور نہیں تو اپنے والد کے ٹرانسپورٹر دوستوں میں سے کسی سے کہہ سن کر ان کی کمپنی میں ملازم ہو جائو۔ دو وقت کی روٹی تو چلے گی، اب تو گھر بھی کرائے کا ہے۔
والدہ نے بہت مجبور کیا کہ محنت مزدوری کرو مگر بھائی ایسا نہ کچھ کر سکے ،وہ ملازمت کا کہہ کر گھر سے غائب رہنے لگے۔ کئی دن بعد آئے، میلے کپڑے اور خستہ حال۔ والدہ پریشان ہو گئیں کہ یہ کہاں جاتا ہے۔ صحت بھی گرتی جاتی تھی، رنگت سیاہ، ہونٹ کالے اور آنکھیں سرخ اور کبھی زرد ہوتی تھیں۔ والدہ کو شک گزرا کہیں نشہ نہ کرنے لگا ہو۔ چھان پھٹک کی تو پتا چلا کہ جواریوں کے ڈیرے پر جاتے ہیں جہاں دو چار دن گزار کر آ جاتے ہیں۔ والدہ کے پاس جو رہا سہا زیور تھا وہ بھی بھائی کی نذر ہو گیا۔
ایک روز بھائی کو ڈھونڈنے نکلیں تو قریبی قبرستان کی دیوار تلے پڑا ہوا پایا۔ ہمسایہ لڑکے کو ساتھ لے گئیں، اس نے چند راہ گیروں کی مدد سے اٹھا کر تانگے میں سوار کرایا اور گھر لائے۔
وہ رات والدہ کی بیٹے کے سرہانے جاگ کر گزری۔ چند دنوں بعد پھر غائب ہو گئے، والدہ پھر ڈھونڈنے نکلیں۔ اب بار بار یہی ہونے لگا تبھی محلے والوں نے کہا کہ یہ قبرستان میں جاتا ہے، لگتا ہے اس پر آسیب کا سایہ ہے۔کوئی بد روح پیچھے لگ گئی ہے، وہی اس کو وہاں لے جاتی ہے۔
امی بیچاری ان دنوں اتنی پریشان رہتی تھیں کہ بتا نہیں سکتی، ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کیا کریں۔ ایک تو گھر میں دال روٹی کے لالے پڑے تھے اوپر سے بھائی کی بیماری نے پریشان کر دیا تھا۔ بغیر بتائے گھر سے چلے جانا اور پھر بدتر حالت میں لوٹنا، میلے کچیلے مٹی سے بھرے گندے کپڑے اور نیم پاگل جیسا حال… منہ سے کچھ نہ بولتے۔ والدہ نے پیروں، فقیروں کے پاس جا کر بیٹے کے لئے تعویذ گنڈے لینے شروع کر دیئے کہ اگر کسی بد روح یا آسیب کا سایہ ہے تو ان کے لخت جگر کی جان چھوڑدے۔ ماں نے پیروں، فقیروں کے چکروں میں پڑ کر میرا جہیز اونے پونے بیچ دیا لیکن بھائی نہ سنبھلا اس کی حالت بد سے بدتر ہوتی گئی۔
وہ میلے کچیلے بیٹے کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہناتیں، جیب خرچ دیتیں اور وعدہ لیتیں کہ اب کہیں مت جانا، یاقوت وعدہ کر لیتا، جیب خرچ کے لئے ماں کو قسم کھا کر یقین دلاتا، اب جہاں جائوں گا آپ کی اجازت سے جائوں گا۔ لیکن پھر بغیر بتائے غائب ہو جاتا تو کوئی پڑوسی آ کر بتاتا کہ مزار پر پڑا ہے برے حالوں ہے،گویا وہ اب ایک ایسی پھٹی تصویر کی مانند تھا کہ ماں ٹکڑے جوڑ کر ہزار جتن سے اس دریدہ تصویر کو ثابت کرنا چاہتی مگر نہ کر پائی۔ وہ ایک ٹوٹے ہوئے آئینے میں کیونکر اپنی بدنصیب زندگی کا دلکش منظر تلاش کر سکتی تھی، میں سمجھاتی، ماں اب اسے اس کے حال پرچھوڑ دیں، میری اور اپنی فکر کرو، گھر میں بیچنے کو اب بس فرنیچر ہی باقی رہ گیا ہے۔
محلے کے لوگ یہی سمجھتے کہ اس پر سایہ ہے لیکن یہ بات بعد میں معلوم ہوئی کہ یہ ساری مصیبت ہیروئن اور چرس بھرے سگریٹوں کی لائی ہوئی ہے۔ والدہ نے میری دونوں بڑی بہنوں کو بپتا سنائی، بڑے بہنوئی بھی بسیں چلاتے تھے انہوں نے کسی طرح رقم جوڑ کر امی جان کو شہر میں مکان خرید کر دے دیا، جو باجی زرغونہ کے نام پر لیا اور رہنے کو ہم ماں بیٹی کودے دیا۔ امی بھائی کو بھی ساتھ لے آئیں کیونکہ کرائے کے مکان میں اب ہم نہ رہ سکتے تھے اور وہ بیٹے کو گائوں میں اکیلا نہ چھوڑ سکتی تھیں۔ سوچا کہ سابقہ محلے سے دور ہو کر شاید نئی جگہ سدھر جائے۔
زندگی میں شادی کے وقت غربت ضرور دیکھی تھی لیکن ایسے حالات نہ دیکھے تھے۔ والد ہر حال میں محنت مشقت کر کے گھر کا خرچہ پورا کر دیتے تھے۔ والدہ کے ذمے صرف بچوں کی پرورش کی تھی اورکسی فکرکا بوجھ وہ اپنی پیاری شریک حیات پر


ڈالتے تھے۔ سچ ہے اولاد ہی سب سے پیاری شے ہوتی ہے اور سب سے زیادہ دکھ بھی اولاد سے ہی والدین کو ملتا ہے اگر وہ صحیح رستے سے بھٹک جائے۔
والدہ بھائی کے دکھ کی وجہ سے بیمار پڑ گئیں تو اب ان کو میری فکر نے ستایا۔ میں سترہ برس کی ہونے کو تھی، چھوٹی بہن نے رشتہ بھجوایا اور میری شادی ان کے دیور سے ہو گئی۔ میری شادی کا فریضہ ادا کرتے ہی والدہ چند دنوں میںچٹ پٹ ہو گئیں جیسے بس ان کو یہی انتظار تھا کہ میں اپنے گھر کی ہو جائوں تو وہ اللہ کو پیاری ہو جائیں۔
نئی زندگی کا آغاز کرتے ہی والدہ کی جدائی کا صدمہ مل گیا، لال جوڑے کی خوشی آنسوئوں میں گھل گئی۔ شادی بہنوئی کے خالہ زاد سے ہوئی تھی جو مجھ سے عمر میں پچیس برس بڑے تھے، شکل و صورت بھی خاص نہیں تھی لیکن ان باتوں کا رنج نہ تھا بلکہ سکون ملا تھا۔ شکر، میں اپنے گھر کی ہو گئی تھی ورنہ والدہ کے بعد کہاں جاتی، بھائی کا تاحال کچھ پتا نہ تھا کہاں ہے۔ کس حال میں ہے۔
جانتی نہ تھی کو شوہر شکی مزاج ملیں گے۔ ان کو میری خوبصورتی اور نوخیز عمر سے شاید خوف آتا تھا۔ وہ رات کو بس چلاتے تو دن بھر سوتے رہتے۔ دن کو بس چلاتے تو رات کو تھک کر گہری نیند کی آغوش میں چلے جاتے۔ میں ان کو ہرگز نہ جگاتی ۔ دبے پائوں گھر میں چلتی کہ میرا جیون ساتھی تھکا ہوا ہے کہیں اس کی نیند خراب نہ ہو جائے۔ میں اپنے شوہر ولید کا خیال رکھتی اور وہ مجھ سے خائف رہتے۔ ڈیوٹی کو جب راتوں کو جاتے تو گھر کو تالا لگا جاتے۔ میرے سگے بھانجوں تک کو گھر کے اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔ ایسے کڑے پہرے سے میں گھبرانے لگی۔ جب آتے ہاتھ میں سامان ہوتا، میرے لئے تحفے لاتے اور کھانے پینے کو پھل، فروٹ، کیک، پیسٹری لیکن مجھے کچھ بھی اچھا نہ لگتا۔ تنہائی سے گھبراتی تھی کہ کئی کئی دن قید میں رہنے سے گھٹن ہوتی۔ ان حالات نے نو عمری میں مردہ کر دیا۔ میرے پاس کسی شے کی کمی نہ تھی مگر ان اشیاء کے استعمال کرنے کودل نہ چاہتا تھا۔
شادی کے چار سال بڑی اذیت سے گزرے۔ اس دوران دو بچوں کی ماں ہو گئی تو بچوں میں دل لگا لیا۔ اپنے شوہر کی خوشنودی کے لئے ہر قربانی دی تاکہ گھر بسا رہے۔ والد کے بعد بڑی مشکلات دیکھی تھیں تبھی سوچتی تھی کہ شوہر جیسا بھی ہو لیکن میرا اور بچوں کا خیال رکھتا ہے، ان کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اگر یہ نہ رہا تو میرے بچے بھی بھائی کی طرح چرسی اور افیونی نہ بن جائیں کہ باپ کا سایہ بچوں پر ضروری ہوتا ہے۔
اسی سوچ سے میں نے شوہر کی ہر پابندی کو قبول کیا۔ خدا کی کرنی کہ وہ رات دن بسیں چلانے اور ایک شہر سے دوسرے شہر ڈرائیونگ کی مسلسل ڈیوٹی سے بیمار پڑ گئے۔ میں ان کی بیماری سے بہت پریشان تھی۔ اپنے زیور اور گھر کی اشیاء بیچ کر ان کی بیماری پر لگا دیا تاکہ صحت یاب ہو جائیں۔ وہ علاج سے صحت یاب تو ہو گئے لیکن اب بسیں نہ چلا سکتے تھے۔ دوبارہ بیمار پڑنے کا اندیشہ تھا۔ ایک دوست نے ان کو مشورہ دیا کہ تم سعودی عربیہ چلے جائو وہاں میرے بھائی کی ورک شاپ ہے۔ تم وہاں کام کرو گے تو اچھا کمالو گے۔
میرے شوہر ایک اچھے موٹر میکینک بھی تھے وہ سعودیہ چلے گئے اور مجھے میرے سسر صاحب کے گھر بچوں سمیت چھوڑ گئے۔ وہ اچھی کمائی کی آس لے کر گئے تھے وہاں جانے کیا ہوا کہ عرصہ تک ایک پائی نہ بھجوائی۔ میں بچوں کے ساتھ کیسے گزارہ کرتی تھی اللہ ہی جانتا ہے۔ سسر بوڑھے تھے ان کی کفالت میری نند اور نندوئی کرتے تھے اور میری مدد میرے بہن بہنوئی کرتے رہے۔ چار سال بعد سعودی عرب سے لوٹے تو ہمارے لئے کافی کچھ لائے لیکن ان کو یہ فکر کہ ان کی غیر موجودگی میں کہیں میں گھر سے تو نہ نکلتی تھی۔ غلط راہ پر تو نہیں چل رہی تھی۔
وہ مجھ سے طرح طرح کے سوال کرتے اور میں بچوں کی قسمیں کھا کر یقین دلاتی کہ میں نے آپ کی غیر موجودگی میں کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔ گھر سے باہر قدم نہیں رکھا۔ اللہ گواہ ہے سوائے اس وقت جب بچے بیمار ہوتے اور ڈاکٹر کو انہیں دکھانا ہوتا، دوا لینی ہوتی، آپ اپنے والد سے پوچھ سکتے ہیں وہ میرے ساتھ جاتے تھے۔ اس وقت وہ یقین کر لیتے لیکن کچھ دنوں بعد پھر بے چینی ان کو گھیر لیتی اور وہ ٹوہ میں لگ جاتے کہ کہیں میں نے ان کو دھوکا نہ دیا ہو، کہیں غلط بیانی نہ کی ہو، ان کے ایسے سوالات اور توہمات کا میرے پاس کیا علاج تھا سوائے اس کے کہ رو دیتی، سخت دکھی ہو جاتی
تھی۔
ایک دن دروازے پر دستک ہوئی کہ گھر میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا، در پر جا کر پوچھا کون ہے۔ میں ایسے در نہ کھولتی تھی، پہلے پوچھ لیتی تھی، خیال تھا کہ سسر صاحب ہوں گے یا ولید ہوں گے۔ آنے والے نے کہا میں یاقوت کی بہن کے لئے خبر لایا ہوں کہ وہ جان کنی کے عالم میں ہے۔ کسی کو بھجوا کر اس کی خبر لیں۔ میں نے در کھول کر کہا کہ جس جگہ وہ ہے اس جگہ کا پتا لکھ دو میں اپنے شوہر کو دے دوں گی وہ آتے ہی ہوں گے۔
اس آدمی نے پتا لکھ کر پرچہ دیا تو دور سے میرے شوہر نے گھر کی طرف آتے ہوئے اسے کاغذ مجھے دیتے دیکھ لیا۔ وہ آدمی چلا گیا اور پانچ منٹ بعد یہ گھر آ گئے۔ در بجایا میں نے دوبارہ پوچھا کون،کہا ولید ہوں، دروازہ کھولو۔ مجھ سے غلطی ہوئی کہ پرچے پر لکھا پتا پڑھ کر پھاڑ دیا ولید کے ڈر سے، سوچا کہ یہ آ جائیں گے تو زبانی بتا دوں گی کہ کوئی در پر کہہ گیا ہے کہ فلاں جگہ تمہارا بھائی سخت تکلیف دہ حالت میں ہے جا کر دیکھ لیں۔
ولید نے آتے ہی حسب معمول پہلا سوال کیا کہ میرے پیچھے کوئی آیا تو نہیں تھا۔ جی ہاں ایک آدمی نے در کھٹکھٹایا تھا اور کہا کہ ولید خان سے کہنا اس کا سالا یاقوت جان کنی کے عالم میں فلاں اسپتال میں ہے۔ فوراً خبر لیں۔ وہ بہت تکلیف میں ہے۔
ابھی میرے منہ سے اتنی بات ادا ہوئی کہ انہوں نے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا اور کہا، جھوٹ بولتی ہے بے غیرت۔ میں نے خود تجھے اپنے گھرکے دروازے پر کھڑے ایک آدمی سے پرچہ لیتے دیکھا ہے۔ نکال وہ محبت نامہ۔ کدھر ہے۔ میرے پاس ہوتا تو نکالتی۔ میںنے ولید کے خوف سے اس کے ٹکڑے کر کے گٹر میں ڈال دیئے تھے۔
یہ میری گھر گرہستی کا آخری دن ثابت ہوا۔ انہوں نے سسر صاحب کے آتے ہی مجھے طلاق دے دی اور کہاکہ اسے اس کی بہن زرغونہ کے گھرچھوڑآیئے مجھے ایسی بدچلن عورت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے میرے بچوں کے اسکول سے لوٹنے کا بھی انتظار نہ کیا، بچوں سے ملنے تک نہ دیا، بچے چھین لئے اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ روتی ہوئی بہن کے پاس آئی۔ اس کو تمام احوال بتایا۔ وہ بولی، یہ تمہاری غلطی ہے تم نے اس آدمی سے پرچہ کیوں لیا، چاہے اس پر پتا ہی کیوں نہ درج تھا، اگر لیا تھا تو پھاڑ ا کیوں، اب اپنی غلطی کی سزابھگتو، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔
شکر کرو اس نے تجھے طلاق دے دی مگر زندہ چھوڑ دیا، جان نہیں لی۔ اگر طیش میں آ کر وہ تیرا گلا دبا دیتا یا گولی مار دیتا تو کیا ہوتا۔ میرا قصور تھا یا میری بے وقوفی تھی لیکن میر ا قصور یہ ہے کہ بے وقوفی بھی ولید کے خوف کی وجہ سے سر زد ہوئی تھی۔ اس کا شک و شبہ کرنا، ہر وقت عجیب و غریب سوالات کرتے رہنا، اس طرز عمل سے مجھ پر اس کی دہشت طاری رہتی تھی۔ انسان خوف میں وہ کر گزرتا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے۔ خوف بہت بری چیز ہے اور سچ کہوں تو خوف دنیا کی سب سے بری اور بھیانک کیفیت ہوتی ہے جو انسان سے بلا ارادہ ایسی خطا کرا دیتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ (م… پشاور)