Saturday, July 13, 2024

Khushboo Bikti Hai

علی گھر میں دخل ہوا ہی تھا کہ سطوت بیگم نے بیٹی کو آواز دی۔ علینہ! بھائی آگیا ہے، تازہ روٹی ڈال دو۔ جی امی ! علینہ جواب دیتی کچن کا رخ کر گئ۔ امی! کیا پکایا ہے۔ بڑے زور کی بھوک لگی ہے۔ مونگ مسور کی دال اور آلو کی بھجیا۔ امی! کچھ ڈھنگ کا پکا لیتیں، تھکے ہوئے آؤ تو دال اور بھجیا کا سن کر بھوک ہی اڑ جاتی ہے۔ بیٹا! میں بھی کیا کروں۔ تم اور تمہارے ابا جو کما کر لاتے ہو۔ اسی میں مہینہ پورا کرنا ہوتا ہے۔ روز گوشت پکانا تو مشکل ہے۔ علینہ ٹرے میں کھانا سجا کر لے آئی۔ ٹھنڈے شربت کا گلاس بھائی کو تھمایا۔ شربت پی کر علی کے چہرے پر کچھ رونق آئی۔ ٹرے اپنے آگے کر کے چپ چاپ کھانا کھانے لگا۔علینہ نے بھجیا کے ساتھ پراٹھے ڈال دیے تھے۔ سیر ہو کر کھانا کھایا اور باہر نکل گیا۔ سطوت بیگم نے بھی سکون کا سانس لیا۔ یہ مسئلہ روز کا تھا۔ علی کھانے پینے کا بے حد شوقین تھا۔ اچھا کھانا اس کی کمزوری تھا۔ مگر روز تو پسند کا کھانا پکانا ممکن نہ تھا۔ اور پسند بھی کیا آج کل کے بچے تو بس گوشت اور مرغی کے آئیٹم ہوں تو سر جھکا کر چپ چاپ کھالیں گے۔ سبزی، دال کا حلق سے اترنا مشکل ہوتا ہے۔
☆☆☆

سطوت بیگم علینہ کے ساتھ بازار آئی تھیں۔ پاپڑ، اچار، مسالے پاس کے بازار سے ہی خرید لیتی تھیں۔ مسالے والے نے اچار تولتے ہوئے بتایا باجی کڑھی، قورمہ، تکہ، بریانی مسالہ گھر کا بنا لے جائیں، وہ ڈبے والے مصالحے بھول جائیں گے۔ جی ہاں۔ جب یہ کھانے پکانے ہوں گے تو میں لے جاؤں گی۔ علینہ ماں کے پیچھے لگ گئی، ماں! مسالے لے لیتے ہیں۔ صولت بیگم نے لاکھ سمجھایا۔ ہم کیا کریں گے؟ ہم ان میں کون سا روز روز قورمہ یا اچار گوشت بناتے ہیں؟ علینہ نے زد پکڑ لی، سطوت بیگم کا ماننا ہی پڑا۔ علینہ نے دکاندار سے، کڑھی، قورمہ، اچار والا گوشت، کباب تکہ مسالہ، بریانی مسالہ ایک ایک پاؤ پیک کروا لیا۔ راستے بھر سطوت بیگم علینہ کو سناتی آئیں۔ کیا کروگی اتنے مسالوں کا ؟ جب پکانا ہو۔ لے لیتے امی ! میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔ روز بھائی کھانا دیکھ کر منہ بناتے ہیں ، اب نہیں بنائیں گے۔ کیوں؟ اب ایسا کیا ہوگا ؟ آپ دیکھیے گا۔ آج لوکی اور چنے کی دال بنانے کا ارادہ تھا۔ علینہ کہنے لگئی۔ امی ! کھانا میں بناؤں گی ۔ نیکی اور پوچھ پوچھ ! سطوت بیگم بھی بے فکر ہو کر پڑوس کی خبر گیری کے لیے نکل پڑیں۔ علینہ نے لوکی کے سیخ کباب بنائے اور اچار گوشت مسالہ ڈال کر اچاری دال ۔ سطوت بیگم گھر میں داخل ہوئیں تو کچن سے خوشبو آ رہی تھی۔ علی نے بھی گھر آتے ہی سوال کیا۔ امی ، بڑی خوشبویں آ رہی ہیں کیا پکایا ہے؟ آج علینہ نے کھانا بنایا ہے۔ جب تک علی کپڑے بدل کر آیا ، علینہ ٹھنڈے پانی کے گلاس کے ساتھ کھانے کی ٹرے بھی لے آئی ۔ گرم گرم پراٹھے، لوکی کے سیخ کباب اور اچاری دال خوب رغبت سے علی نے کھانا کھایا اور خوشی خوشی بہن کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعائیں دیتا با ہر نکل گیا۔ سطوت بیگم نے بھی سکون کا سانس لیا۔ جب تک علی کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھا لیتا انہیں سکون نہیں آتا تھا۔ یہ مائیں بھی ناں۔

اب تو یہ روز کا معمول بن گیا تھا۔ علینہ روز نئی نئی ڈشیں بناتی اور علی خوش ہو کر کھانا کھا لیتا۔ ڈشیں تو وہی تھیں بس علینہ نے ترکیب بدل دی تھی۔ تری میں بریانی مسالہ ڈال کر پکاتی تو پورا گھر بریانی کی خوشبو سے مہک اٹھتا، ٹنڈے کا قورمہ، اچاری بھنڈی، سبزیوں کی کڑاہی ، چنے کا قورمہ، آلو تکہ مسالے میں۔ علی روز بغیر منہ بنائے کھانا کھاتا اور گھر میں ایسی خوشبو پھیلی ہوتی جیسے مٹن یا چکن کڑھ ، قورمہ بنا ہو۔ مسالے ختم ہونے کو تھے۔ علینہ کہنے لگئی۔ امی مسالے ختم ہو گئے ہیں۔ مارکیٹ جانا ہے۔ ہاں ہاں ! کل ان شاء اللہ چلیں گے لسٹ بنا لینا کہ کون کون سے مسالے لینے ہیں ۔ ہاں امی ! اب کی بار بگھارے بینگن کا مسالہ اور چائینیز کا بھی کچھ سامان لوں گی۔ علینہ بیٹا تم نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا۔ روز کھانا پکانے کے بعد بھی سوچ آتی کہ آج سبزی ہے۔ آج دال ہے۔ علی خوب منہ بنا بنا کر کھانا کھائے گا۔ لیکن تمہاری ترکیب کار گر رہی ۔ علینہ مسکرادی۔ امی سارا کمال خوشبو کا ہے۔ جتنے بھی ریسٹورنٹ اور کھانے کے اسٹال ہوتے ہیں۔ وہاں کے بنے کھانوں کی خوشبو سونگھ کر ہی کھانے کا دل کرتا ہے۔ پہلے خوشبو بکتی ہے پھر کھانا۔ اور آج کے دور میں ہم سب خوشبو کے پیچھے ہی تو بھاگ رہے ہیں تو بس یہی ٹرک کام آئی۔ امی زندگی میں تنوع بہت ضروری ہے ۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ ایک جیسی چیزوں سے بہت جلدا کتا جاتا ہے۔ کچھ تبدیلی کر لی جائے۔ ہمیں نیا نیا سا لگتا ہے۔ وہی چیزیں ہیں لیکن نئے انداز نے ذائقہ بدل دیا ہے اور علی بھائی کا موڈ بھی ۔ علینہ نے کہا تو سطوت بیگم مسکرا دیں ۔

Latest Posts

Related POSTS