Khushiyon Ke Taqub Main | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2403
لطیف بھائی مجھ سے دو برس بڑے تھے۔ یوں تو وہ میری ہر بات مانتے لیکن جب ماریہ ہمارے گھر کھیلنے آتی تو وہ اس کی طرفداری میں مجھ سے لڑ پڑتے۔ یہ بات مجھے بری لگتی ۔ چاہتی تھی کہ بھائی میرا ساتھ دیں لیکن وہ کبھی ایسا نہ کرتے، تب اپنی تایازاد ماریہ سے مجھے حسد محسوس ہوتا۔
یہ تو خیر بچپن تھا۔ ناسمجھی کی عمر تھی۔ جب ہم بڑے ہوگئے تو عقل آگئی۔ اب میں اپنے بھائی اور ماریہ کے مابین محبت دیکھ کر خوش ہوتی۔ دل سے چاہتی ان کی آپس میں شادی ہو اور یہ ایک ہو جائیں۔اللہ نے ہماری سن لی۔ والد صاحب نے بڑے بھائی سے ماریہ کا رشتہ مانگ لیا۔ دونوں کی منگنی ہوگئی۔
بچپن کے دن بیت گئے تھے۔ ہم لڑکیوں نے گھر سے نکلنا بند کردیا تھا۔ مگر لطیف بھائی تایا کے گھر جاتے تھے۔ جس روز وہ وہاں جاتے ماریہ خوش ہوجاتی۔ میں نے بھی ماریہ سے دوستی کرلی۔ وہ میری ہونے والی بھابی تھی۔ میں اسے بھائی کے نام سے چھیڑتی۔ اسے ’’بھابی‘‘ کہتی تو وہ شرماجاتی۔ سوچتی یہ رشتے کتنے خوبصورت ہیں، زندگی میں سارے رنگ انہی سے تو ہیں۔
بدقسمتی کا وہ دن یاد ہے جب ایک روز ہماری ایک رشتے کی پھوپی ملتان سے ملنے آئیں۔ ساتھ ان کا بیٹا آذر بھی تھا جو کافی خوبصورت اور پُرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ یہ زمیندار لوگ تھے اور روپے پیسے کی ریل پیل تھی۔ آذر سرخ و سفید رنگت اور شاندار قد و کاٹھ کا مالک تھا تاہم وہ کم گو اور ضدی قسم کا لڑکا تھا۔ کچھ مغرور بھی تھا۔
تین چار دن ان کی خاطر مدارات میں گزرے۔ ایک روز لطیف بھائی نے آذر سے کہا۔ آؤ کھیتوں میں چلتے ہیں۔ آموں کے باغ کی سیر کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ ڈھیر سارے آموں کے ساتھ واپس آئے تو ہمارے گھر ماریہ آئی ہوئی تھی۔ لطیف بھائی نے کہا۔ ماریہ آم کھائو، یہ ہم تمہارے لیے لائے ہیں۔ وہ بولی۔ ذرا ان کو برف میں تو لگائو۔ کیا گرم ہی کھلائو گے۔ بھلا گرم آم کون کھاتا ہے۔ اس پر بھائی نے مذاق کیا۔ ہم نے آموں کے ٹوکرے کو نہر میں ڈبکی لگوائی ہے۔ یہ اب ٹھنڈے ہوچکے ہیں۔ بہرحال ان کی باتوں پر سب ہنسنے لگے اور والدہ نے برف سے بھرے ٹب میں آم ڈال دیئے۔ تبھی آذر کی نظر ماریہ پر پڑی تو وہ ٹھٹھک کر رہ گیا، جیسے کسی نے اس پر سحر پھونک دیا ہو۔
جب ماریہ چلی گئی تو اس نے ماں سے کہا۔ میں نے آج لڑکی پسند کرلی ہے۔ میری شادی ماریہ سے کروا دیں۔ بات یہ تھی کہ پھپھو کافی دنوں سے آذر کے لئے لڑکی ڈھونڈ رہی تھیں۔ جو لڑکی انہیں بھاتی وہ ان کے بیٹے کو پسند نہ آتی۔ آج بیٹے کا عندیہ پاکر وہ خوشی سے پھولی نہ سماتی تھیں کہ آذر نے کسی کے لئے ’’ہاں‘‘ تو کہی۔ انہوں نے امی سے بات کی۔ وہ بولیں۔ ماریہ کی منگنی میرے بیٹے سے ہوچکی ہے، آپ اس کی چھوٹی بہن سائرہ کا رشتہ لے لیں۔ پھپھو نے بیٹے کو بتایا کہ ماریہ کا رشتہ نہیں مل سکتا، اس کی منگنی لطیف سے ہوچکی ہے۔ اس کی بہن بھی اسی جیسی ہے، تم اسے دیکھ لو تو میں ان کے والدین سے بات کرتی ہوں۔ یہ سنتے ہی آذر بگڑ گیا۔ اس نے کہا۔ شادی میں ماریہ سے کروں گا ۔ جب ماں نہ مانی تو اس کا پارہ چڑھ گیا۔ ضدی تو تھا ہی گھر سے نکل گیا۔ جا کر نہر میں چھلانگ لگا دی۔ وہ تیرنا نہ جانتا تھا۔ وہاں لوگ جمع ہوگئے، ان میں سے دو دیہاتی جو تیرنا جانتے تھے، نہر میں کود گئے اور آذر کی جان بچالی۔ بہرحال وہاں کافی شورشرابا ہوا۔ آذر کی تو جان بچ گئی مگر اس کی اس حرکت سے سب ڈر گئے۔ یوں ہمارے ارمانوں کو روندتے ہوئے ہماری خوشیاں برباد کرکے آذر اور اس کی ماں نے یہ بازی جیت لی۔ اس میں اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ بہت امیرکبیر لوگ تھے۔ سارا خاندان نہ صرف ان کی عزت کرتا تھا بلکہ ان سے مرعوب بھی تھا لہٰذا تایا بھی پھپھو کی منت سماجت کو نہ ٹال سکے۔ لطیف بھائی سے ماریہ کی منگنی توڑ کر آذر سے کردی اور تایا ابو نے یہ فیصلہ دے دیا کہ لطیف کو میں سائرہ دے رہا ہوں۔ دونوں بہنیں ہیں۔ والد صاحب نے بڑے بھائی کی لاج رکھ لی۔ یو ں آذر صاحب میرے بھائی کے سینے پر مونگ دل کر چلے گئے۔
جو کچھ ہوا، اسے کیا کہنا چاہیے۔ آذر کی ضد یا تقدیر کا لکھا۔ مگر تقدیر کا یہ فیصلہ ماریہ کو ہرگز قبول نہ تھا۔ وہ لطیف بھائی سے بچپن سے محبت کرتی تھی۔ منگنی توڑی گئی تو وہ رو رو کر نڈھال ہوگئی۔ ادھر میرے بھائی کو چپ کے سانپ نے ڈس لیا۔ وہ ایسے خاموش ہوئے جیسے قوت گویائی نہ رہی ہو۔
انہی دنوں ہمارے ماموں لاہور سے آگئے۔ انہوں نے محسوس کرلیا گھر میں سوگ کی سی کیفیت ہے اور یہ سوگوار ماحول لطیف کی وجہ سے ہے۔ ماموں نے امی سے دریافت کیا۔ والدہ نے بتادیا کہ ماریہ سے رشتہ ٹوٹنے کا دکھ ہے۔ ماموں زبردستی لطیف کو اپنے ساتھ لاہور لے گئے تاکہ ماحول تبدیل ہونے سے وہ یہ زخم بھول جائے لیکن بچپن کا کاری گھائو اتنی جلد بھرنے والا نہ تھا۔
چھ ماہ بعد لطیف بھائی گھر آئے تو ان کا چہرہ پہلے سے زیادہ مرجھایا ہوا تھا۔ جیسےچہرے پر اداسی جم کر رہ گئی ہو۔ وہ سبھی کو اجنبی نظروں سے تکتے تھے۔ مجھے دکھ ہوا، بس نہ چلتا تھا ورنہ ان کے دل کو کسی گلاب کی طرح کھلا دیتی۔ لطیف بھائی نےاب تایا کے گھر جانا قطعی بند کردیا تھا اور نہ ہی ماریہ ہمارے گھر آتی تھی۔ چھ ماہ بعد تایا کے گھر ڈھولک بجنے لگی۔ ان کے اور ہمارے مکان کے درمیان بس ایک دیوار حائل تھی۔ ستم یہ کہ وہ لوگ ماریہ کو بیاہنے آئے تو ہمارے گھر ٹھہرے یعنی لٹیرے ہماری چھت تلے آبیٹھے اور چھت تلے آئے مہمانوں کو کون نکالتا ہے۔ سینے پر پتھر رکھ کر ہم نے ان کی خاطر مدارات کی۔ یوں وہ ہماری ماریہ کو ڈولی میں بٹھا کر لے گئے۔ ماریہ ان کی ہوگئی اور ہم منہ تکتے رہ گئے۔ اس موقع پر لطیف بھائی اپنے کمرے میں محصور رہے اور جب دو روز بعد باہر نکلے تو ان کی آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئی تھیں۔ ان کی لہو رنگ آنکھوں کو دیکھ کر میں نے سوچا تھا کہ انسان کا ارمانوں بھرا دل کس لئے بنایا گیا ہے جب امیدیں اور آرزوئیں اس دل کو اپنا مسکن بنالیتی ہیں تو خوشیوں کی بارات آنے کا انتظار ہوتا ہے مگر یہ خوشیاں چھین لی جاتی ہیں۔ آدمی ٹوٹ پھوٹ کر مٹی ہو جاتا ہے پھر خوشیاں کیا اور ان کی بساط کیا۔ اصل طاقت تو دولت کی ہے۔ ناحق کہتے ہیں دولت کچھ نہیں۔ یہ آنی جانی شے ہے لیکن جس کے پاس ہو وہ بادشاہ ہوتا ہے، جو چاہے کر گزرےجو چاہے حاصل کرلے۔ میرے تایا نے دولت کے انبار دیکھ کر ہی رشتہ توڑا اور آذر کی خوشیاں پوری کیں۔ مگر اپنی بیٹی کے ارمانوں کا خیال نہ کیا کہ اس کے دل پر کیا قیامت گزر جائے گی۔
جب ماریہ شادی کے بعد میکے آئی تو وہ ایک بے جان مورتی لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک مردہ مسکراہٹ تک نہ تھی۔ چہرہ جذبات سے عاری اور سپاٹ تھا جبکہ آذر فاتحانہ انداز میں باتیں کررہا تھا۔ ماریہ کی زبان ہمارے سامنے نہ کھل سکی مگر جو باتیں زبان سے ادا نہ ہوسکتی تھیں وہ آنکھوں آنکھوں میں ہوگئیں۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ماریہ کا کیا حال ہے اور اس پر کیسی قیامت گزر رہی ہے۔ ذرا موقع ملا تو میں نے اس سے کہا کہ تمہیں بچپن کی محبت کا واسطہ، اب ماضی کی ہر بات بھلا دینا اور اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنا، اسی میں ہم سب کی عزت ہے۔ یہ بات وہ گرہ میں باندھ کر لے گئی اور سسرال جاکر اس نے حالات سے سمجھوتہ کرلیا مگر میرے بھائی کے دل سے اس کی یاد نہ گئی۔ ہم سب لطیف بھائی سے کہتے تھے کہ اب شادی کرلو مگر وہ شادی کے نام سے ہی چڑتے تھے۔
ایک دن ماریہ آئی تو آذر بھائی ساتھ نہ تھے۔ وہ ہمارے گھر بھی آگئی۔ امی نے اس سے کہا کہ ماریہ تم ہی لطیف کو سمجھائو کہ یہ شادی کے لئے ہامی بھرلے۔ ہم تو سمجھا سمجھا کر تھک گئے ہیں۔ یہ ہماری سنتا ہی نہیں۔ ماریہ امی کے اصرار پر لطیف بھائی کے کمرے میں گئی۔ وہ اپنے پلنگ پر دراز تھے۔ ماریہ کو دیکھ کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹے، جیسے کوئی خواب دیکھ لیا ہو۔ ماریہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ میرے دل کے سکون کی خاطر تم سائرہ سے شادی کرلو۔ ورنہ میں عمر بھر بے چین رہوں گی، جب تک تم میری بہن سے شادی نہ کرلو گے، قسم کھاتی ہوں نئے کپڑے نہ پہنوں گی اور نہ کھانا کھائوں گی، یہاں تک کہ لاغر ہوتے ہوتے مرجائوں گی۔
واقعی ماریہ نے ایسا ہی کیا۔ وہ چند لقمے پورے دن میں کھاتی، یہاں تک کہ بیمار پڑگئی۔ جب لطیف کو پتا چلا تو اس نے والدہ سے کہا۔ میری سائرہ سے شادی کرادیں تاکہ ماریہ کو سکون مل جائے۔ یوں سائرہ ہماری بھابی بن کر آگئی۔
شادی کے ایک سال بعد لطیف بھائی ایک بچی کے باپ بن گئے مگر ماریہ کے ہاں اولاد نہ ہوئی۔ تو لطیف بھائی نے سائرہ سےکہا۔ اپنی بچی ماریہ کی گود میں ڈال دو۔ اللہ ہمیں اور بچوں سے نواز دے گا۔ تمہاری بہن کو ہماری بچی گود لینے کی وجہ سے نئی زندگی مل جائے گی۔ سائرہ، ماریہ کا دکھ جانتی تھی، اس نے اپنی بچی اسے دے دی۔ بچی ملنے پر ماریہ کو واقعی نئی زندگی مل گئی۔ وہ خوش رہنے لگی۔ آذر نے کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ ہر صورت وہ ماریہ کو خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے بعد لطیف بھائی اور سائرہ کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کیں۔ وہ خوش ہوگئے۔ پرانے گھائو بھرتے نہیں تو وقت کی دھول ان پر ضرور پڑجاتی ہے اور وہ مدھم ہو کر کسی کو نظر نہیں آتی۔
ماریہ اور آذر بھی گڑیا کو گود میں لینے کے دو برس بعد صاحب اولاد ہوگئے۔ آذر بھائی کہتے تھے یہ سب گڑیا کی برکت ہے۔ ہم نے اسے گود لیا تو ہم بھی بامراد ہوگئے۔ ہمارے لیے یہ بہت بخت والی ہے۔ ماریہ نے صاحب اولاد ہونے کے بعد بھی گڑیا کو سائرہ کو واپس نہ کیا۔ وہ اسے دل و جان سے چاہتی تھی۔ کہتی تھی پہلے تو یہ ہی خوشی بن کر میرے گھر آئی تھی۔ اسی کو گود میں لینے پر اللہ نے مجھے خوشی کا منہ دکھایا۔ اسے کیسے خود سے دور کردوں۔ گڑیا بھی ماریہ کو اپنی ماں سمجھتی تھی۔
وقت گزرتا گیا ۔ ماریہ اور سائرہ دونوں کے بچے بڑے ہوگئے۔ انہی دنوں کسی وجہ سے لطیف بھائی کی ملازمت جاتی رہی اور وہ مالی لحاظ سے پریشان رہنے لگے۔ ماریہ کو علم ہوا تو اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ میری بہن اور اس کے بچے تنگدستی کا شکار ہیں، آپ ان کی کچھ مدد کردیں۔ آذر نے بیوی کہنے پر لطیف اور سائرہ کو اپنے گھر مدعو کیا اور لطیف بھائی کو اپنے کاروبار میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا مجھے سرمایہ نہیں، ایک محنت کرنے والا ساتھی درکار ہے جس پر بھروسا کرسکوں۔ اگر آپ میرے کاروبار میں یہ ذمے داری سنبھال سکیں تو بہت اچھا رہے گا۔ کچھ پس و پیش کے بعد اور بیوی کے دبائو پر میرے بھائی نے ہامی بھرلی۔ آذر بھائی کے اپنے بنگلے کے ساتھ ان کا دوسرا بنگلہ خالی پڑا تھا۔ ماریہ نے سائرہ اور لطیف کو مجبور کیا کہ وہ اس بنگلے میں رہائش پذیر ہو جائیں۔ سائرہ گڑیا سے نزدیک رہنا چاہتی تھی۔ اسی کے اصرار پر لطیف بھائی وہاں شفٹ ہوگئے۔ یوں دونوں بہنوں کو قریب رہنے کا موقع ملا اور بچے بھی دونوں کے گھل مل گئے۔ گڑیا اب اپنے حقیقی والدین کی نظروں کے سامنے رہنے لگی۔
لطیف، ماریہ اور اس کے بچوں کا خیال رکھتے، اپنے بچوں کو روز شام کو پڑھنے بٹھاتے تو ماریہ کے بچوں کو بھی ساتھ پڑھاتے اور ان کے گھر کے اکثر کام سرانجام دینے میں خوشی محسوس کرتے۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا۔ سائرہ بھابی اور ماریہ کے بچے پڑھ لکھ گئے اور اب ان کی شادی کی فکریں والدین کو لاحق ہوئیں تو دونوں بہنوں نے سر جوڑ کر مشورہ کیا اور اپنے شوہروں کو قائل کیا کہ آپس کے رشتے اچھے رہیں گے۔ یوں ماریہ کی دونوں بیٹیاں سائرہ نے لے لیں اور سائرہ کی دونوں بچیاں ماریہ نے اپنے بیٹوں کے ساتھ بیاہ دیں۔ گڑیا باقی رہ گئ کہ وہ دونوں گھرانوں کے لڑکوں کی مشترکہ بہن تھی۔ اس کی شادی ایک غیرخاندان میں ہوگئی۔
جب ہم لطیف بھائی کے بچوں کی شادی میں گئے، ہم نے محسوس کیا کہ ہمارا بھائی بہت مطمئن اور خوش ہے۔ ماریہ اور سائرہ میں اتنی محبت تھی کہ انہوں نے کسی اختلاف کو پنپنے نہ دیا۔ دوری اختیار کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے قریب تر ہوگئیں جس کی وجہ سے دونوں کنبے جڑ گئے اور وہ مسرتیں جو بڑوں کی وجہ سے کھوگئ تھیں، ان سے بچوں کی جھولیاں بھر گئیں۔ جس روز میرے بھائی کے دونوں بچوں کی شادی ہوئی اس روز میں نے لطیف بھائی کے چہرے پر وہ خوشی دیکھی تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایسی ہی خوشی میں نے ماریہ کے چہرے پر بھی دیکھی۔ وہ بھی لطیف بھائی کے لڑکوں سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرکے بہت مسرور تھی۔ لگتا تھا جو بندھن برسوں پہلے ٹوٹا تھا وہ پھر سے جڑ گیا ہے۔ اور یہ وہ دلوں کا بندھن تھا جو افتخار کی وجہ سے ٹوٹا تھا مگر ان کے بچوں کی وجہ سے پھر سے جڑ گیا تھا۔
سچ ہے تقدیر بڑا کام کرتی ہے۔ اگر ہم قسمت کے لکھے کو مٹا نہیں سکتے تو بہتر ہے کہ اس پر شاکر ہوجائیں اور اسےتقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں کیونکہ قسمت کی وجہ سے اگر ہماری کوئی خوشی پوری نہیں ہوسکتی تو خالق اس کی جگہ کوئی اور خوشی انعام کردیتا ہے اور یہ انعام اس پچھلی خوشی سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ دراصل اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے جسے ہم نہیں جانتے مگر ہمارا رب ضرور جانتا ہے۔ (ن… ملتان)