Be Kinar – Episode 1

159
گوٹھ بھاگل مستی پر اس وقت رات کا آسیبی سناٹا طاری تھا۔ آخری راتوں کا چاند بھی دور کہیں جھکا ہوا تھا۔ آوارہ کتوں اور بھوکے گیدڑوں کے رونے چلاّنے کی آوازیں کہیں دور کھیتوں سے آتی ہوئی منحوس محسوس ہوتی تھیں۔ ذرا پرے کچے گھروں کی بے ترتیب قطاریں اور تنگ گلیاں ویران پڑی تھیں۔ دن بھر تپتی دھوپ میں جان توڑ مشقت کرنے کے بعد تھکے ماندے ہاری بے ہوش پڑے سو رہے تھے۔ فضا خاموش اور ساکت تھی، ہوا تک رُکی ہوئی تھی جس سے حبس اور گھٹن میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ بہت سے گھروں کے باہر گرمی اور حبس کے ستائے ہوئے لوگ چارپائیاں ڈالے سو رہے تھے۔ مچھروں سے بچنے کے لیے خشک اُپلوں کے ادھ جلے ٹکڑے چارپائیوں کے پاس رکھ چھوڑے تھے تاکہ مچھر زیادہ نہ ستائیں۔ اس کے دھویں سے کبھی کسی ضعیف کے کھانسنے کی آواز ابھرتی اور پھر خراٹوں کی آوازیں عروج پر ہوتیں۔
اُپلے تھپی کچی دیواروں والے ان گھروں میں چند پختہ اینٹوں کے کشادہ مکان بھی تھے۔ معاشی طور پر اگرچہ ان کی حالت بھی ان غریب ہاریوں سے مختلف نہ تھی، تاہم مقابلتاً یہ گھرانے کچھ ’’متّمول‘‘ کہلاتے تھے کیونکہ ان کا پیشہ صرف کھیتی باڑی یا مزدوری نہیں تھا۔ ان کی کمائی کے دوسرے بھی ذرائع تھے۔
انہی پختہ اینٹوں والے گھروں میں امداد وسایا کا بھی گھر تھا۔ امداد وسایا ڈھلتی عمر کا ساٹھ سالہ آدمی تھا جو ایک ’’ملاکھڑا پہلوان خاندان‘‘ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ خود بھی اپنے دور کا مشہور ’’ملاکھڑا پہلوان‘‘ رہ چکا تھا۔ فن پہلوانی اسے ورثے میں ملا تھا۔
ماضی کے اس پہلوان امداد وسایا کا بیٹا دادل سائیں بھی پہلوان تھا مگر وہ ابھی تک اس میدان میں کوئی خاص کارہائے نمایاں انجام نہیں دے پایا تھا۔ اس بات کا امداد وسایا کو بہت دکھ تھا۔ دادل سائیں اس کی اکلوتی اولاد تھا۔ بیٹے کی شادی کے بعد جب اس کے ہاں پہلی ولادت ہونے لگی تو باپ سے زیادہ دادا کو نئے آنے والے مہمان کی خوشی تھی۔ امداد وسایا نے اپنے ہونے والے پوتے کا نام بھی رکھ لیا تھا۔ رجب دین عرف راجا… مگر وائے قسمت کہ پوتے کے بجائے پوتی کی ولادت ہوئی تو امداد وسایا بجھ سا گیا۔ پھر دادل سائیں کی بیوی حضوری دوبارہ ماں بننے والی ہوئی تو امداد کی دوبارہ امید جاگی مگر اس بار بھی پوتی ہوئی۔ حتیٰ کہ جب امداد وسایا کی بہو نے تیسری پوتی کو جنم دیا تو وہ مایوس ہوکر رہ گیا۔
آج کی رات وہی تھی جب دادل کی بیوی حضوری چوتھی بار ایک بچے کو جنم دینے والی تھی اور بے چارہ امداد وسایا پوتے کی آخری امید لگائے بیٹھا تھا۔ سب باہر صحن میں موجود تھے اور دائی مائی نذیراں اندر ایک کوٹھری میں دادل کی بیوی حضوری کو ’’تختۂ مشق‘‘ بنائے ہوئے تھی۔ جبکہ دادل بے دلی کے ساتھ باہر صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ اس کی ماں اپنے شوہر کے ساتھ ایک الگ چارپائی پر بیٹھی تھی جہاں چھوٹی چھوٹی گدڑیوں پر اس کی تینوں پوتیاں لیٹی ہوئی شاید اپنی چوتھی بہن کا انتظار کررہی تھیں۔ بیٹے کی طرح ماں بھی بے دلی کا شکار نظر آرہی تھی۔ جیسے اسے پورا یقین ہو کہ اس بار بھی لڑکی ہی ہوگی۔ البتہ قریب بیٹھے امداد وسایا کو نجانے کیوں یہ امید تھی کہ لڑکا پیدا ہوگا۔ اگر خدا نے اسے پوتا دیا تو وہ اسے یقینا ایک بڑا ملاکھڑا پہلوان بنائے گا اور وہ اس میدان میں کامیاب ہوکر اپنے باپ کے ساتھ ساتھ دادا کا نام بھی روشن کرے گا۔
اندر کوٹھری سے اچانک نومولود بچے کے رونے کی چیخیں ابھریں۔ دادل سائیں اور اس کی ماں اب ان نوزائیدہ آوازوں کے عادی ہوچکے تھے، اسی لئے ان کے اُترے چہروں پر کسی قسم کی کوئی رمق تک نہیں ابھری، لیکن امداد وسایا فرطِ جوش سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اس کی بے تاب نظریں کوٹھری کے دروازے پر جم گئی تھیں۔
دفعتاً کوٹھری کا دروازہ کھلا۔ اماں دائی کا چہرہ نظر آیا۔ امداد کی نظریں اس پر پڑیں۔ اماں دائی کا چہرہ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سپید ہورہا تھا۔
’’کک… کیا ہوا اماں دائی؟‘‘ امداد وسایا نے گھبرا کر پوچھا۔
’’خوشی کی خبر تو ہے وسایا۔ اللہ سائیں نے تجھے پوتا دیا ہے مگر…‘‘
’’مگر کیا؟ جلدی بتا، میں جان لڑا دوں گا اپنے پوتے کے لیے۔‘‘ امداد وسایا پوتے کی خوشخبری سن کر یکدم مسرور ہو اٹھا تھا۔
’’ادّا وسایا! بچے پرمیڈی جان قربان… پر یہ ست ماسا ہے… بہت کمزور ہے۔ اسے فوراً کسی وڈے اسپتال لے جانا پڑے گا ورنہ یہ بچے گا نہیں۔ اس کی ٹوٹی سانسیں تھپڑ مارنے سے بھی بحال نہیں ہوسکی ہیں۔ اسے نلکی (آکسیجن) کی ضرورت ہے۔‘‘
ماہر دائی کے ان الفاظ نے جیسے موت کا پروانہ جاری کردیا۔ اتنے برسوں بعد خوشی ملی بھی تو گہن لگی۔ بچے کے دادا امداد وسایا نے جھٹ اپنے لاغر پوتے کو گود میں اٹھایا اور ساتھ کھڑے اپنے بیٹے دادل سائیں سے بولا۔ ’’اڑے پٹ! منہ کیا تک رہا ہے… بابا، رانجھے کو بول گاڑی نکالے جلدی۔‘‘
رانجھا کے پاس پرانے ماڈل کی ٹیکسی تھی۔ اس کا گھر ساتھ ہی تھا۔ دادل سائیں فوراً باہر کی طرف لپکا۔
یوں گوٹھ بھاگل مستی کے معروف پہلوان خاندان میں رجب دین عرف راجا تولد ہوا تو گوٹھ کے لوگ منہ چھپا کر ہنسنے لگے۔ حریفوں نے پھبتیاں بھی کسنا شروع کردی تھیں… ’’شیر کے گھر ہوا چوہا پیدا۔‘‘
سات روز بچے کو اسپتال میں رکھا گیا۔ آٹھویں روز اسے ڈاکٹروں نے صحت مند قرار دے کر ڈسچارج کردیا۔
اللہ کو اس کی زندگی منظور تھی، وہ بچ گیا تھا مگر اس کی حالت دیکھ کر اب بھی ایسا ہی لگتا تھا کہ جیسے یہ زیادہ دن جی نہیں سکے گا۔ دیکھنے والوں کو وہ بالکل چوزا دکھائی دیتا تھا۔ مبارکباد دینے والوں میں کچھ عزیز رشتے دار بھی وہاں موجود تھے۔ ان میں سونہڑاں خان بھی تھا جو اس بچے کی پیدائش پر سخت پریشان تھا۔
سونہڑاں خان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ اس کے بڑے بھائی سجاول خان کی بیٹی امداد وسایا کے خاندان میں اس شرط کے ساتھ بیاہی گئی تھی کہ لڑکا ہوگا تو اس کی شادی سونہڑاں خان کے خاندان کی کسی لڑکی سے کردی جائے گی۔ سوئے اتفاق، اس دوران سونہڑاں خان کی دوسری بیوی مائی حیاتاں کے بطن سے پہلوٹی کی اولاد لڑکی نے جنم لیا تھا۔ وہ لڑکی ایک ہفتہ بڑی تھی۔
گوٹھ پہنچ کر بچے کا نام رکھنے کی رسم ادا کی گئی۔ بچے کا نام رجب دین رکھا گیا مگر پیار سے اسے ’’راجا‘‘ پکارا جانے لگا۔ راجا کی زندگی بچ جانے سے پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔
راجا کے باپ دادل سائیں سے کہیں زیادہ اس کا دادا امداد وسایا خوشی سے پاگل ہورہا تھا۔ راجا کا دادا امداد وسایا ایک ساٹھاپاٹھا شخص تھا۔ وہ ماضی میں ملاکھڑے کا اچھا پہلوان رہ چکا تھا مگر اس نے کوئی صوبائی شہرت حاصل نہیں کی تھی۔ یہی حال اس کے بیٹے دادل سائیں کا تھا۔ وہ بھی اگرچہ ملاکھڑے کا پہلوان رہ چکا تھا مگر اس کی شہرت بھی باپ کی طرح علاقائی حد تک رہی تھی۔ اب دونوں باپ بیٹے اپنے پوتے رجب دین عرف راجا کی صورت میں اپنے اس ادھورے خواب کوپورا ہوتا دیکھنے کے خواہشمند تھے۔
دادا امداد وسایا تو خیر پُرامید تھا مگر راجا کا باپ دادل سائیں جب بھی اپنے چوہے جیسے بیٹے کو دیکھتا تو اس کا دل ہی نہیں، چہرہ بھی بجھ جاتا۔
’’اڑے بابا! تُو چریا ہے۔ ابھی سے دل چھوٹا کیوں کرتا ہے ڑے!‘‘ امداد وسایا اپنے بیٹے دادل سائیں کے بجھے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہتا۔ ’’ابھی اپڑیں راجا کی عمر ہی کیا ہے۔ اس عمر میں اکثر بچے کمزور ہی ہوتے ہیں۔ ابھی اس کا اکھاڑا اس کی ماں کی گود ہے۔ اس کی ماں کو دیسی گھی کھلایا کر تاکہ اس کی ممتا کی بھرپور قوت اس کی کمزور رگوں میں طاقت دوڑا دے۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے بابا سائیں۔‘‘ دادل سائیں نے پژمردگی سے کہا۔ ’’حضوری بتا رہی تھی کہ وہ ثقیل غذا کھاتی ہے تو اس کا دودھ بچے کا پیٹ خراب کردیتا ہے، اسے دست لگ جاتے ہیں، وہ مزید کمزور ہونے لگتا ہے۔‘‘
’’ہائو بابا۔ ٹھیک ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ وہ بلاشک ہلکی غذا لے لیا کرے پر اپنا دودھ پلانا ہرگز نہ چھوڑے۔ اب میری ایک بات غور سے سن دادلے!‘‘ وہ اتنا کہہ کر ذرا تھما، پھر بولا۔ ’’مرشد کی دعا سے میرا دل کہتا ہے کہ ہمارا راجا اس علاقے کا ہی نہیں بلکہ پورے صوبے کا گبرو پہلوان بن کر ابھرے گا۔ میری بات یاد رکھنا، ابھی اس کی طرف سے بالکل بے فکر ہوجا۔‘‘
مگر راجا کے باپ دادل سائیں کی اداسی اور آزردگی وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی تھی۔
٭…٭…٭
رجب دین عرف راجا پانچویں سال میں لگا تو تب بھی اس کا یہی حال رہا۔ راجا اس قدر کمزور اور لاغر تھا کہ گوٹھ کے بعض بہی خواہ اس پر ’’دق‘‘ کا گمان کرتے ہوئے بچے کے باپ کو اسے کسی ڈاکٹر کو دکھانے کے مشورے دینے لگے اور دادل سائیں راجا کو گود میں لیے کبھی چیسٹ اسپیشلسٹ کو دکھاتا، کبھی کسی مشہور حکیم کی شہرت سنتا تو میلوں دور کا سفر کرتا اس تک جا پہنچتا، مگر علاج معالجے کا راجا پر الٹا اثر ہوتا۔ اسے اسہال لگ جایا کرتے کیونکہ وہ بیمار تھا ہی کب؟ وہ کمزور تھا جسے بیمار سمجھ لیا گیا تھا۔
راجا کے دادا نے اپنے بیٹے کو پھر آڑے ہاتھوں لیا۔ اس نے کہا۔ ’’اڑے دادل! تو واقعی چریا ہوگیا ہے۔ راجا کو کھلے آنگن میں چھوڑ دے، اپنی گود سے اتار دے۔ اس کی ماں کو بول کہ ہر وقت بچے کو سینے سے مت لگائے رکھے۔‘‘
راجا اب آٹھویں سال میں لگ چکا تھا۔
٭…٭…٭
وہ تیز قدموں سے چلا جارہا تھا۔ اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔ وہ پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے عام سی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ سر پر شیشے کے کام والی سرخ سندھی ٹوپی اور پیروں میں چپل تھی۔ اس کی عمر چودہ، پندرہ سال کے لگ بھگ تھی۔ قد کاٹھ کا اچھا تھا۔ اس کا نام میندرو خان تھا اور یہ مشہور ملاکھڑا پہلوان حاجی مکھڑوں خان کا بیٹا تھا۔ اس کی ایک چھوٹی بہن تھی جس کا نام جی جاں تھا اور سب سے چھوٹا بھائی میر محمد عرف میرو تھا۔
میندرو اس چلچلاتی دھوپ میں کہاں جارہا تھا، یہ اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ اگرچہ یہ اس کا روز کا معمول تھا لیکن اس نے اپنے اس معمول کے بارے میںکبھی کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔
میندرو کھیتوں کے درمیان بنی بل کھاتی پگڈنڈی پر چلا جارہا تھا۔ خاصی دیر کی تیزگامی کے بعد وہ کھجی کے ایک جھنڈ کے قریب پہنچا جہاں ایک مختصر سی مڑھی (جھونپڑی) نظر آرہی تھی۔ اس کے پاس ہی کیکر کا گھنا جنگل تھا۔ مڑھی کے اطراف میں عجیب سکون آور سناٹا سا محسوس ہوتا تھا۔ مڑھی کے قریب پہنچ کر میندرو ذرا دیر رک کر اپنی سانسیں بحال کرنے لگا۔ اس کا دل ہانپنے سے زیادہ کسی اور خیال سے تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
ابھی مڑھی کے قریب رکے اسے ذرا ہی دیر گزری ہوگی کہ معاً اندر سے ایک پُرسوز آواز سنائی دی۔
جن کا تن تسبیح، من تسبیح کا دانہ ہوتا ہے۔
اور …دل یک تارا…
ان کی طلب کی تاریں وحدت کے سُر میں بجتی ہیں۔
رگوں سے وحدہٗ لاشریک کا راگ سنائی دیتا ہے۔
جن کی نیندیں عبادت ہوتی ہیں، وہ سو کر بھی جاگتے ہیں۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کو گنگنانے والے کی آواز میں بڑا سوز تھا۔ جس نے میندرو کو مبہوت کردیا تھا۔ پھر وہ میکانیکی انداز میں مڑھی کے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔ اندر سے آواز مسلسل ابھر رہی تھی۔
ہے غنیمت مجھ کو یارو دوستی دلدار کی
کیوں نہ بیگانہ رہوں جب یہ جہان فانی ہوا
پھر آواز معدوم ہوگئی۔ شاید گنگنانے والے کو اپنی مڑھی کے دروازے پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوگیا تھا۔
’’اندر آجائو، باہر بہت سخت گرمی ہے نوجوان۔‘‘
میندرو خان پر طاری طلسم ٹوٹا اور وہ مڑھی کے دروازے پر جھولتا بوسیدہ ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوگیا۔ سامنے کچے فرش پر بچھی رلی پر ایک باریش شخص آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کھجی کی گٹھلیوں کی تسبیح تھی، چہرہ سانولا تھا، داڑھی مونچھیں اور سر کے بال گھنے تھے، صحت اچھی تھی۔ وہ ساٹھ ستّر کے پیٹے میں لگتا تھا۔ ایک طرف کونے میں پانی کا مٹکا اور پاس ہی مٹی کا آب خورہ بھی رکھا تھا۔
دائیں جانب ایک معصوم سی نوعمر لڑکی بیٹھی چاول چن رہی تھی۔ اس نے عام سا لاچے دار مقامی لباس پہن رکھا تھا۔ اجرک کی اوڑھنی کو ذرا ہٹا کر اس نے میندرو کو ایک نگاہ دیکھا۔ عنابی لبوں پر مسکان ابھری، شہابی دہکتے عارض یکدم گلاب کی طرح کھلے اور پھر وہ سرمگیں چلمن گرا کر دوبارہ گود میں رکھی پرات سے چاول چننے میں مصروف ہوگئی۔
یہ نوعمر لڑکی حلیماں تھی، اس باریش شخص کی بیٹی۔ میندرو نے ایک نظر اس پر ڈال کر بڑے احترام سے باریش شخص کو سلام کیا۔ اس شخص نے سر کی خفیف جنبش سے جواب دیا اور میندرو سے بولا۔ ’’بیٹھ جائو۔‘‘
میندرو اس کے سامنے بچھی کھجی کی چٹائی پر بیٹھ گیا۔
’’حلیماں دھیئے!‘‘ باریش شخٓص نے ہاتھ اٹھا کر اپنی بیٹی کو پکارا۔ وہ سمجھدار تھی، باپ کا اشارہ سمجھ گئی۔ خاموشی سے اٹھی اور پرات سنبھالے مڑھی کے پیچھے چلی گئی۔ میندرو اس باریش شخص کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
’’تو بہت نام کمانے والا ہے۔ ایسا نام جو تیرے بڑوں کی دیرینہ آرزو رہی ہے۔ کیا یہ تیرے لیے کم خوشی کی بات نہیں ہے؟‘‘ باریش شخص کی آواز بڑی پُرجوش تھی۔
میندرو نے آہستگی سے کہا۔ ’’سائیں! میری خواہش کچھ اور ہے… اور… اور میری سب سے بڑی خواہش وہی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے میندرو نے اس طرف دیکھا، جدھر وہ لڑکی غائب ہوئی تھی۔ ’’سائیں! مجھے اپنی فرزندی میں لے لو۔‘‘ میندرو کی آواز میں گہری التجا تھی۔ کسی کو پا لینے کی ایک تڑپ آمیز التجا۔
’’تیری یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی۔ سراب کے پیچھے مت بھاگ، اپنے فرض کی طرف دھیان دے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر تقدیر کو اعتراض ہے۔ میں تم دونوں کے بیچ ایک رکاوٹ کو حائل ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے تم دونوں کی بھلائی زیادہ عزیز ہے۔‘‘ باریش شخص نے کہا۔
میندرو نے تڑپ کر کچھ کہنا چاہا مگر باریش شخص نے اپنا تسبیح والا ہاتھ کھڑا کردیا اور بولا۔ ’’میں گناہ گار انسان ہوں، رب سائیں کی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لے سکتا۔ تو اب چلا جا یہاں سے اور اتنے کہے کو کافی جان لے، پھر کبھی یہاں مت آنا۔‘‘ یہ کہہ کر اس باریش شخص نے اپنی آنکھیں موند لیں۔
میندرو کا چہرہ بری طرح ست کر رہ گیا۔ دو غزالی آنکھیں آڑ سے جھانکنے لگیں۔ میندرو کی آنکھیں لمحے بھر کو غزال چشم پر ثبت ہوئی تھیں۔ دو دلوں کے یکتارے نے سازالم چھیڑا تو بھیگی آنکھوں کی جھیل میں اداس چاند کا عکس جھلملانے لگا۔
میندرو خاموشی سے واپس لوٹ آیا۔
٭…٭…٭
اس کے دل میں اب ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا تھا۔ ایسا خلا جو ایک انسان کو جامد کرکے رکھ دیتا ہے۔ میندرو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کا باپ مکھڑوں خان اس سے عاجز آیا ہوا تھا۔ اس کی لاکھ کوششوں اور سمجھانے کے باوجود میندرو اکھاڑے میں جانے اور ملاکھڑا سیکھنے کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتا تھا۔ پہلوانی سے اسے خدا واسطے کا بیر تھا۔ وہ کسرت کے نام سے ہی دور بھاگتا تھا۔ حالانکہ اس کا باپ حاجی مکھڑوں خان نامی گرامی پہلوان رہ چکا تھا۔ اب وہ اکھاڑے سے باہر تھا۔ چاہتا تھا کہ اپنے بڑے بیٹے میندرو خان کو ملاکھڑے میں نام کماتا دیکھے۔ ایک بار تو مکھڑوں خان نے طیش میں آکر بیٹے پر ہاتھ بھی اٹھا دیا تھا۔
ادھر میندرو خان بے سکونی کا شکار تھا۔ حلیماں کا چہرہ باربار اس کی آنکھوں کے سامنے گردش کررہا تھا مگر ساتھ اس باریش شخص کی کڑی تنبیہ بھی اس کی سماعتوں میںگونج رہی تھی۔ وہ حلیماں کے باپ سے ایک طرح کی روحانی عقیدت رکھتا تھا بلکہ وہ کیا، گوٹھ کے تقریباً سبھی لوگ ’’کھجی والے بابا‘‘ سے عقیدت رکھتے تھے۔
٭…٭…٭
رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ پھیکا چاند دور کہیں جھکا ہوا تھا اور اس کی مدھم چاندنی بے ترتیب پھیلے مٹی کی دیواروں اور چھپر نما مکانوں پر عجیب سا طلسم بکھیر رہی تھی۔
جانے کیوں اس چھوٹے سے گوٹھ کی فضا ٹھٹھکی ہوئی
محسوس ہوتی تھی جیسے سب لوگ کسی خوفناک طوفان کے ڈر سے دبکے ہوئے ہوں یا پھر کچھ ہونے والا ہو۔ ماحول پر ایک اسرار بھری ویرانی اور خاموشی مسلط تھی۔
پرانے قبرستان اور کیکر کے جنگل کی طرف سے گوٹھ کا جو چھوٹا کچا بل کھاتا راستہ جاتا تھا، وہاں تین گھڑ سوار نمودار ہوئے جن کے چہروں پر ڈھاٹے بندھے ہوئے تھے اور ان کے آنکھوں سے خونیں چمک مترشح تھی۔
ان تینوں کی پشت پر کلاشنکوفوں کی جھلک نظر آتی تھی۔ ان تینوں نے سیاہ رنگ کی قمیضیں پہن رکھی تھیں۔ گھوڑوں کی رفتار تیز نہ تھی۔ ایسا شاید دانستہ کیا گیا تھا کہ گھوڑوں کی ٹاپوں کی دھمک زیادہ بلند نہ ہونے پائے۔
’’اڑے او سوڈھل! تو اپنا گھوڑا آگے لے آ… اور ماسٹر پیرل کے گھر تک پہنچ۔ ہمارے پاس وقت نہیں ہے اس کا گھر ڈھونڈنے کا۔‘‘ ان تینوں میں سے ایک نے جو نسبتاً زیادہ ڈیل ڈول کا مالک تھا، تحکمانہ انداز میں کہا۔
سوڈھل نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ اب وہ تینوں آبادی میں داخل ہوچکے تھے۔
سوڈھل نے اپنا گھوڑا ان دونوں سے آگے بڑھا لیا تھا۔ وہ اب ان کی رہنمائی کرتا ہوا تھوڑی دیر میں ماسٹر پیرل کے مکان کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔ اس کے ساتھی بھی قریب پہنچ کر رک گئے۔ اس کے بعد یہ تینوں اپنے گھوڑوں سے نیچے اُتر آئے۔
انہوں نے پہلے گردوپیش پر ایک نگاہ ڈالی۔ اس کے بعد نسبتاً بھاری جسامت والے شخص نے سوڈھل سے سرگوشی میں پوچھا۔ ’’اڑے تجھے پورا یقین ہے کہ ماسٹر پیرل کا یہی گھر ہے؟‘‘
’’ہائو سائیں! یہی ماسٹر پیرل کا گھر ہے۔‘‘ سوڈھل نے جواب دیا۔
’’ہوں۔‘‘ بھاری جسامت والے ڈھاٹا پوش نے ان دونوں کو ایک مخصوص اشارہ کیا۔ دونوں ساتھی حرکت میں آئے اور اپنے کاندھوں کی بیک وقت زوردار ٹکر سے ناپختہ چوکھٹ والے لکڑی کے دروازے کو توڑ ڈالا۔ بھاری جسامت والے ڈھاٹا پوش نے جو بلاشبہ ان کا سرغنہ تھا، سوڈھل کو باہر ہی کھڑے رہنے کا حکم دیا اور خود دوسرے ساتھی کے ساتھ اندرگھس گیا۔
گھر کے مختصر سے کچے صحن میں دو رلی بچھی چارپائیوں پر دراز مرد، عورت یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے تھے۔ سرغنہ کے دوسرے گہرام نامی ساتھی نے عورت پر گن تان لی۔ عورت کے مارے خوف کے گھگی بندھ گئی۔ مرد جو اس کا شوہر تھا۔ وہ بھی پریشان اور تشویش زدہ نظر آنے لگا جس پر سرغنہ نے اپنی کلاشنکوف تان رکھی تھی۔ پھر اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے تیز لہجے میں پوچھا۔ ’’یہی ماسٹر پیرل ہے؟‘‘
’’ہائو سائیں!‘‘ گہرام نے اپنے سر کو اثباتی جنبش دیتے ہوئے تصدیق کی، پھر سرغنہ نے اپنی گن کی نال ماسٹر پیرل کے سینے پر چبھوئی اور غرّا کر بولا۔ ’’کیوں ڑے ماسٹر! ہمارے سردار سائیں کی مخبری کرکے تجھے سرکار نے کتنا انعام دیا؟‘‘
دہشت زدہ عورت اور ماسٹر پیرل نے سمجھ لیا کہ معاملہ گھر میں ڈاکو یا چور گھس آنے کا نہیں بلکہ اس سے زیادہ سنگین ہے۔
ماسٹر پیرل نے کچھ کہنا چاہا مگر سرغنہ نے اپنے ایک ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی اور پھر اسے دھکا دے کر چارپائی سے زمین پر گرا دیا۔ اس کے بعد دوبارہ اس کے سینے پر اپنی رائفل کی نال رکھ دی اور بڑے نفرت آمیز لہجے میں بولا۔ ’’سرکار نے تجھے بہت چھوٹا انعام دیا ہوگا، بڑا انعام میں تجھے دوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ذرا پرے ہٹ کر اس کا نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔ رات کے پُرہول سناٹے میں اس کی رائفل نے شعلے اگلے اور ماسٹر پیرل کا وجود گولیوں سے چھلنی ہوگیا۔ ماسٹر کی بیوی اپنے شوہر کو خون میں نہائے دیکھ کر غش کھا کے چارپائی پر گر پڑی۔ دونوں ڈھاٹا پوش فوراً گھر سے باہر نکل گئے۔
اندر کوٹھری نما کمرے سے دو سہمے ہوئے نوعمر لڑکے برآمد ہوئے اور پھر اپنے باپ کی خون میں لت پت نعش کو دیکھ کر رونے لگے۔ وہ دونوں یتیم ہوچکے تھے۔
٭…٭…٭
’’میں ہرگز اپنی شہزادی جیسی حوراں کو اس تپ دق کے مارے راجا کی دلہن نہیں بنائوں گی۔‘‘ تیس سالہ گوری چٹی ملکاں نے اپنی چاند سی پیاری اور نازک اندام بیٹی حوراں کے کھلے بالوں کی چٹیا کرتے ہوئے اپنے شوہر سونہڑاں خان سے کہا۔
مٹی کی چھ فٹ اونچی چار دیواری کے وسیع ناپختہ صحن میں ایک نقشین پایوں والی بڑی سی چارپائی پر سونہڑاں خان کی بیوی ملکاں اپنی بیٹی حوراں کو غسل کروانے کے بعد اس کے بنائو سنگھار میں مصروف تھی۔ اس کا شوہر سونہڑاں خان ایک طرف کونے میں نصب مشین سے بھینسوں کے لیے چارا کتر رہا تھا۔
شام چھ بجے کا وقت تھا۔ موسم گرما کی آمد آمد تھی۔ سونہڑاں خان اپنے کاندھے پر دھری اجرک سے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھتا ہوا پاس دھری گھڑونچی پر رکھے مٹکے کی طرف بڑھا، پھر گلاس میں پانی انڈیل کر پیا، اس کے بعد چارپائی پر آکر بیوی کے قریب بیٹھ گیا۔
اس نے بیوی کی بات سن لی تھی۔ ایک نگاہ اپنی پھول سی بچی پر ڈالی اور بیوی سے بولا۔ ’’بک بک مت کر… راجا پر ہمارا حق بنتا ہے۔‘‘
’’مگر وہ تو تپ دق کا مارا ہے۔‘‘ اس کی بیوی ملکاں چلاّ اٹھی۔ ’’اس کے کمزور اور لاغر جسم کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ اب مرا کہ تب مرا۔‘‘
’’بے شک مر جائے مگر ہماری حوراں سے شادی کرنے کے بعد۔‘‘ سونہڑاں خان نے معنی خیز لہجے میں کہا اور اپنی مونچھیں مروڑنے لگا۔
ملکاں نے ایسی نگاہوں سے اپنے شوہر کو دیکھا گویا یہ جاننا چاہ رہی ہو کہ یہ بیٹی کا باپ ہے یا دشمن۔ وہ تڑ سے بولی۔ ’’یہ تو کیا کہہ رہا ہے حوراں کے پیو۔‘‘
’’میں صحیح کہہ رہا ہوں۔‘‘ سونہڑاں خان اپنی بات پر ڈٹا رہا۔ اس کے چہرے پر درشتی عود کر آئی۔ ملکاں کو اس سے مزید بحث کرنے کی جرأت نہ ہوسکی۔
٭…٭…٭
تیئس چوبیس سالہ حضوراں اس وقت گھر کے کشادہ صحن میں چارپائی پر بیٹھی ایک بڑی سی پرات گود میں لیے چاول چننے میں مصروف تھی۔ شام کا وقت تھا۔ آج موسم کچھ کھلا ہوا تھا، اس لئے گھٹن کا احساس کم تھا۔ صحن میں تازہ پانی کا چھڑکائو کیا گیا تھا۔ ہوا چل رہی تھی۔ ایک کونے میں بید مشک کا درخت تھا، جس کے تلے مرغیاں کڑکڑاتی پھر رہی تھیں۔ صحن کے وسط میں حضوراں کی تینوں بچیاں کھیل رہی تھیں جبکہ نو سالہ راجا اپنے لکڑی کے گھوڑے پر چڑھا کھیل رہا تھا۔ اس نے فقط نیکر پہن رکھا تھا۔ کبھی اس کی بہنیں بھاگتی ہوئی اس کے پاس آجاتیں اور اسے اپنے ساتھ لے کر صحن میں دوڑانے کی کوشش کرتیں تو وہ صحن کا ایک چکر لگا کر بری طرح ہانپنے لگتا۔ وہ اس قدر بے حال ہوجاتا کہ صحن کے فرش پر نیم بے ہوشی کے عالم میں لیٹ جاتا۔ اس کا پیٹ پچک جاتا، یوں جیسے کمر سے جا لگا ہو۔ پسلیاں ابھر کر اس قدر واضح ہوجاتیں کہ باآسانی گنی جاسکتی تھیں۔ وہ کسی نحیف و نزار بلی کے بچے کی طرح سکڑا سمٹا نظر آنے لگتا۔ حضوراں یہ دیکھتی تو یکدم اسے اٹھانے اور سنبھالنے کے لیے لپکتی اور ساتھ ہی قریب کھڑی اپنے ننھے بھائی کی اس حالت پر سہمی ہوئی بیٹیوں کو ڈانٹ کر کہتی۔ ’’اڑی شیطان چھوکریوں! کتنی بار سمجھایا ہے کہ اپنے بھائی کو یوں مت دوڑایا کرو، اس کی حالت خراب ہوجاتی ہے۔‘‘
ایک جو ان میں بڑی تھی۔ ہمت کرکے ماں سے کہتی۔ ’’امڑ! یہ ہمارے ساتھ کھیل کیوں نہیں سکتا۔ کیا یہ بیمار ہے؟ ہمارا ایک ہی تو بھائی ہے اور ہم اس کے ساتھ کھیلنا چاہتی ہیں۔‘‘
’’یہ تمہارے ساتھ بھاگ دوڑ نہیں سکتا، کمزور ہے بے چارہ۔‘‘ حضوراں اس سے کہتی۔
’’امڑ! اسے ٹی بی ہے؟‘‘ بڑی سے ایک سال چھوٹی لڑکی نے معصومیت سے پوچھا۔
’’اللہ سائیں نہ کرے میرے راجا کو ٹی بی ہو۔ یہ تم سے کس نے کہہ دیا؟‘‘ حضوراں تڑپ کر کہتی۔
چھوٹی بولی۔ ’’امڑ! وہ ہے نا بانو اماں جی جی کی بیٹی، وہ کہتی ہے۔‘‘
’’بکواس کرتی ہے وہ، جائو جا کر کھیلو۔‘‘ حضوراں انہیں ڈانٹ دیتی اور وہ تینوں بہنیں پھر شور مچاتی ایک دوسرے کی قمیض کا دامن پکڑے ریل گاڑی بنا کر دوڑنا شروع ہوجاتیں۔
حضوراں خود بھی راجا کی اس حالت پر کڑھتی رہتی تھی۔ ماں تھی اسی لیے اس کا اپنی طرف سے پورا خیال رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔
٭…٭…٭
کھاد بنانے والی ایک کمپنی کے تعاون سے گوٹھ بھاگل مستی میں ملاکھڑے کا انعقاد کیا گیا۔ لاڑکانہ اور خیرپور کے ملھ پہلوانوں کا مقابلہ دیکھنے کے لیے آس پاس کے گوٹھوں اور شہروں سے لوگوں کاہجوم اکٹھا ہوگیا۔
گوٹھ کے پانچ ملھ پہلوانوں نے شرکت کی تھی۔ ان میں سونہڑاں خان کا ایک برادر نسبتی دریل
خان، ایک عزیز رشتے کا پہلوان دوست علی عرف دوسو بھی تھا۔
اس مقابلے کے مہمان خصوصی میں چند معتبر شخصیات شامل تھیں جن میں ایس پی یار محمد سولنگی، ایک ڈاکٹر غلام مصطفی بلوچ اور سماجی شخصیت محمد علی لغاری کے علاوہ صحافی بھی موجود تھے۔ کمنٹیٹر صوبو خان سومرو تھا۔
مقابلہ شروع ہوا۔ پہلوانوں نے بڑے گھیر والی شلواریں پہن رکھی تھیں، اوپر کا بدن برہنہ تھا۔ اکھاڑے کا میدان بہت وسیع تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکھاڑے کے لیے ایک بڑا سا پنڈال لگایا گیا تھا جبکہ اس کے برابر کمنٹیٹر صوبو خان ایک میز کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مائیک تھا۔ اس کے ہمراہ چند اور لوگ بھی بیٹھے تھے۔ اکھاڑے کا لمبے بانسوں کے ساتھ احاطہ کیا گیا تھا اور ان پر لائوڈ اسپیکر نصب تھے۔
سب سے پہلے گوٹھ بھاگل مستی سے دریل اور لاڑکانہ سے بجار خان کے ملھ پہلوانوں کو اتارا گیا۔
دریل پہلوان اصیل مرغ کی طرح اچھلتا کودتا اکھاڑے میں اترا۔ لاڑکانہ کا بجار خان بھی اس کے مد مقابل ہوا۔ دونوں پہلوانوں نے میدان میں اترتے ہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور چھاتیاں ملا دیں۔ اکھاڑے کے میدان میں شائقین کا شور ابھرا۔ صوبو خان نے کمنٹری شروع کردی۔
دریل پہلوان اور بجار پہلوان نے ایک دوسرے سے چھاتیاں ملاتے ہی نیفے پر ہاتھ ڈال دیئے۔ دیکھنے والوں نے سمجھ لیا کہ اکھاڑے میں اترنے والے دونوں پہلوان ٹکر کے تھے۔ دونوں ملھ پہلوانوں نے اپنے پائوں مضبوطی کے ساتھ بھربھری مٹی والی زمین پر جما رکھے تھے۔
دریل پہلوان نے بجار خان کے بھاری بھرکم وجود کو زمین سے اٹھانے کی کوشش کی۔ اسی لمحے بجار خان کو اسے اڑنگا لگانے کا موقع مل گیا۔ یہ ایک خطرناک اور یقینی جیت سے ہمکنار کرنے والا دائو تھا جس کا نتیجہ منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں نکلتا تھا۔ مگر دریل کو بروقت بجار خان کی طاقت اور اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے اس یقینی ہار سے ہمکنار کرنے والے دائو کا فوراً توڑ نکالتے ہوئے بجار خان کے بازوئوں پر اپنا جسم یوں اٹھا لیا کہ بجار خان کا اڑنگا کوئی جوہر دکھائے بغیر خالی چلا گیا۔
ادھر بجار خان نے جیسے ہی دریل کو دائو لگاتے دیکھا، اس نے یکدم پھیریاں دینا شروع کردیں، مگر دریل نے اپنی ٹانگیں زمین پر لگنے نہ دیں اور دونوں گھٹنے سکیڑے، مدمقابل کی چھاتی اور پیٹ سے لگائے رکھے۔ پھر جیسے ہی دریل نے دیکھا کہ بجار خان اسے ایک خاص طریقے سے زمین پر پٹخنے اور اس کے بائیں شانے یا کاندھے کے بل زمین پر گرانے والا ہے، فوراً اس نے اپنی دونوں ٹانگیں زمین پر ٹکا دیں۔ اس میں کوئی شک نہ تھا کہ دریل ہنوز بجار خان کے پہلے والے خطرناک دائو کے تسلسل کی زد میں تھا۔ ادھر بجار خان کو ایک بار پھر اڑنگا لگانے کا موقع ملا۔ کمنٹیٹر صوبو خان کی جوش بھری آواز پورے پنڈال میں گونج رہی تھی۔ ’’ہاہاہا…! دونوں پہلوانوں نے ہاتھ ڈال دیا ہے۔ واہ… سائیں واہ۔ دریل نے اڑنگا توڑا… ارے یہ کیا؟ بجار خان نے لاماٹی (پھیری) دے دی۔ دائو توڑا اور یہ… واہ سائیں نکل گیا۔ دونوں پہلوانوں کا زبردست جوڑ ہے سائیں… دونوں ٹکر کے ہیں۔ بھاگل مستی اور لاڑکانہ میں سخت مقابلہ…‘‘
یہاں یہ مقابلہ جاری تھا۔ ادھر راجا، جواب اپنی عمر کے گیارہویں سال میں داخل ہوچکا تھا، گھر میں اپنے باپ سے ضد کررہا تھا کہ اسے بھی ’’میلے‘‘ میں لے جاکر یہ مقابلہ دکھایا جائے۔ حقیقت یہ تھی کہ لوگوں کے طعنے سن سن کر اس کے باپ دادل سائیں کو اپنے بیٹے راجا سے نفرت سی ہونے لگی تھی۔
’’اڑے تو سوکھی کاٹھی (سوکھی لکڑی) کیا کرے گا ملھ کے میدان میں؟‘‘ دادل سائیں نے اپنے بیٹے سے تضحیک آمیز لہجے میں کہا۔ ’’تیری وجہ سے کیا پہلے دنیا کم ہنستی ہے ہم پر جو اب تُو اور ہنسائے گا سب کو… مردار کہیں کا… پتا نہیں تو ایک پہلوان خاندان میں کیسے پیدا ہوگیا؟ ناک کٹوا کر رکھ دی ہماری تو نے… ہنہ…‘‘
دادل سائیں خود ریٹائر ہوچکا تھا لیکن ملاکھڑا مقابلے بڑے ذوق شوق سے دیکھا کرتا تھا۔ یہی حال اس کے باپ امداد وسایا کا بھی تھا۔
اس وقت یہ دونوں باپ بیٹے ملھ کا مقابلہ دیکھنے کے لیے تیار ہورہے تھے کہ راجا نے بھی ان کے ساتھ جانے کی ضد شروع کردی تھی۔ مگر اپنے باپ کی تضحیک آمیز جھڑکی سن کر وہ بری طرح سہم گیا اور روتا ہوا اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ دادل سائیں کاندھوں پر اجرک ڈالے باہر نکل گیا۔
راجا کے دادا امداد وسایا کو اپنے بیٹے دادل سائیں کے اس رویئے پر کوئی ملال نہ تھا کیونکہ اس کی راجا کے ساتھ ایسی ڈانٹ پھٹکار، نفرت اور تضحیک آمیز سلوک اب روز کا معمول بن چکا تھا۔ وہ اپنے بیٹے کی بددلی کی وجہ جانتا تھا۔ ایسا لوگوں کے طعنے سن سن کے ہوا تھا، ان طعنوں نے ایک باپ کو اپنے لاغر اور ناتواں بیٹے سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
امداد وسایا نے اپنے معصوم پوتے کو روتا دیکھا تو اسے محبت سے پچکار کر اپنی گود میں اٹھا لیا۔ دادا کو اپنے پوتے سے بہت محبت تھی۔ وہ تو اس پر جان چھڑکتا تھا۔
’’اڑے چل راجا! میں تجھے ملھ مقابلہ دکھاتا ہوں۔‘‘ اس نے راجا کے اندر کو دھنسے ہوئے گال پر بوسہ دیا اور کاندھے پر اٹھا کر ملھ میدان میں لے آیا۔
پہلوانوں کے درمیان مقابلہ زوروشور سے جاری تھا۔ راجا دادا کے کاندھے پر چڑھا بڑے اشتیاق کے ساتھ ملھ مقابلہ دیکھنے لگا۔ پہلی بار اس کے سینے میں ایک کسک جاگی، پہلی بار اس کی رگوں میں سست رو خون نے جوش دکھایا۔ شریانوں میں جیسے سنسناہٹیں اترنے لگیں۔ ابتدا میں وہ بالکل خاموشی کے ساتھ دادا کے کاندھے پر چڑھا زورآور پہلوانوں کو آپس میں بھڑتا دیکھتا رہا۔ پھر اچانک اس کے حلق سے باریک منمناتی ہوئی مگر امنگوں بھری چیخ ابھری۔ ’’واہ ڑے واہ…! گودو پہلوان! گرا دے خیرپور کے اس سانڈ کو… مت چھوڑنا اسے۔‘‘
دادا امداد وسایا کے کانوں سے جو اپنے کاندھے پر سوار پوتے راجا کی جوش بھری آواز ٹکرائی تو وہ پائوں کے انگوٹھے سے لے کر سر کے بال تک سرشاری سے نہال ہوگیا۔ وہ فوراً ہجوم کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔ اکھاڑا سامنے تھا۔ اس نے راجا کو اپنے کاندھے سے اتار کر زمین پر کھڑا کردیا۔ راجا اچھل اچھل کر چیخنے لگا۔ وہ بہت خوش ہورہا تھا۔ وہ اپنے گوٹھ کے پہلوانوں کے حق میں آوازیں لگاتا رہا۔
امداد وسایا کا ذہن اب کچھ اور سوچنے میں محو تھا۔
٭…٭…٭
شوہر گھر آتا تو بے چاری حضوراں اپنے بیٹے راجا کو فوراً اپنے سسر کے کمرے میں بھیج دیا کرتی تھی کہ کہیں دادل سائیں کو کوئی بات ناگوار گزرے اور وہ دبلے پتلے کمزور اور معصوم راجا کو دھن کے نہ رکھ دے اور ایسا اکثر ہوتا تھا۔ ایک بار راجا نے باپ سے خوشی کے اظہار میں اس کے کاندھے پر سوار ہونے کی کوشش کی تو دادل سائیں نے اسے دور پھینک دیا تھا۔ شکر تھا کہ دبلا پتلا راجا بڑی بہن کی گود میں جاگرا تھا ورنہ اس کی ہڈی پسلی ایک ہوجاتی۔
دادل سائیں باپ تھا۔ بعد میں اسے اپنے رویئے پر پشیمانی ہوتی تھی اور وہ گھنٹوں چپ بیٹھا رہتا تھا۔ مگر پھر اس کے اندر کا اَنا پرست اور ناآسودہ پہلوان جاگ اٹھتا اور اسے غیرت طعنے مارتی محسوس ہوتی تو وہ چڑچڑا ہوکر اپنی بیوی پر برس پڑتا یا پھر اندر کوٹھری میں جاکر بھنگ کا پیالہ چڑھا کر گھنٹوں چارپائی پر پڑا رہتا۔ اس نے راجا کی صحت کے لیے کیا کیا جتن نہیں کئے تھے مگر اس کے سارے جتن اس کے باپ کے خیال میں قبل از وقت تھے۔
’’اڑے دادل! راجا کو ایک دن میں پہلوان بنانے کی کوشش نہ کر، اس کا معدہ کمزور ہے۔ یہ ابھی ایسی بھاری خوراک کو برداشت نہیں کر پائے گا۔‘‘ امداد وسایا بیٹے کو سمجھاتا۔
’’تو یہ کب سنبھل پائے گا پیو…‘‘ دادل سائیں چڑ کر کہتا۔ ’’کیا تو بھول گیا پیو کہ میں اتنا ہی بڑا تھا کہ تو نے مجھے اکھاڑے میں اتار دیا تھا۔ کیسی کیسی سخت مشق کروایا کرتا تھا تو مجھے۔ جبکہ میری خوش خوراکی کی ابتدا تو، تو نے صرف تین چار سال کی عمر میں ہی کر ڈالی تھی۔‘‘ پینتیس سالہ دادل سائیں باپ کو اپنا گزرا وقت یاد دلاتا۔
’’ہائو… بابا ہائو۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ پر تیرے اور راجا کے جسم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘‘
’’کیوں فرق ہے بابا!… کیوں…؟ جیسا میں تیرا بیٹا تھا، صحت مند، گبرو ایسا میرا بیٹا کیوں نہیں ہے؟ لوگ ٹھیک ہی تو بولتے ہیں کہ شیر کے گھر ہوگیا چوہا پیدا۔‘‘ دادل سائیں کا کرب آمیز غصہ دوچند ہونے لگتا۔
امداد وسایا اسے سمجھانے کی کوشش کرتا۔ ’’اڑے چریا! جسمانی کمزوری کا تعلق معدے سے ہوتا ہے۔ ہمیں راجا کے معدے کا علاج کروانا ہوگا۔‘‘
راجا کے ساتھ یہ بھی کرکے دیکھ لیا گیا مگر کوئی امید بر نہیں آئی، کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ جوں جوں دوا کی مرض بڑھتا گیا۔ اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ راجا کے تن لاغر میں ایک پہلوان دادا اور ایک پہلوان باپ کی روح حلول نہ کرسکی۔
علاج معالجہ راجا کے لیے مزید بیماری کا باعث بنتا تھا۔ ذرا بھی مقوی دوا استعمال کرتا، اسے فوراً اسہال لگ جاتے۔ دو بار اسے نمونیہ کا بھی حملہ ہوچکا تھا۔ ڈاکٹروں کو دکھایا جاتا تو وہ یہ کہتے بچہ چونکہ پیدائشی کمزور ہے، اس لیے اس کا مدافعتی نظام کمزور پڑ چکا ہے لہٰذا اسے نارمل انداز کی خوراک پر ہی زندہ رکھا جاسکتا ہے۔
یہی وہ اسباب تھے جس کے باعث دادل سائیں، راجا کی طرف سے بالکل مایوس ہوچکا تھا کہ وہ اسے کبھی اپنے باپ دادا کی طرح ایک ملھ پہلوان نہیں بنا سکتا اور یوں اسے راجا سے نفرت سی ہونے لگی تھی۔ تاہم یہ کیسی عجیب بات تھی کہ باپ بیٹے سے ناامید تھا مگر دادا اپنے پوتے سے پُرامید تھا۔
ایک دن دادا امداد وسایا نے پہلی بار ایک الگ کمرے میں لے جاکر اپنے پوتے کو اس کے بے ماس وجود کو چھوڑ کر بغور اس کی ہڈیوں کا جائزہ لیا۔
ملھ کشتی میں دو باتوں کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ ایک بھاری بھرکم وجود، دوسرے دراز قامت۔ دائو پیچ اور پھرتیلا پن بعد میں آتے ہیں۔ امداد وسایا کی ٹمٹماتی امید کے دیئے نے پوتے کے وجود میں بوٹی نام کی کوئی شے نہ دیکھی ہو مگر اس نے راجا کی ہڈیوں کو ضرور تاڑ لیا تھا۔ وہ ماس کے مقابلے میں بڑھوتری کی طرف مائل تھیں اور اس میں غیر معمولی پن بھی تھا۔
راجا اپنے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں اگرچہ بہت زیادہ کمزور تھا لیکن اس کا قد مقابلتاً تیزی سے بڑھنے پر مائل تھا۔
’’گوشت کا کیا ہے، وہ تو آ ہی جاتا ہے آگے چل کر۔‘‘ دادا نے خود کو ’’خوش آئند‘‘ تسلی دی۔
پھر ایک روز اچانک اسے خیال آیا۔ (جاری ہے)