Be Kinar – Episode 3

184
بھرے پنڈال میں غضب کا شور ابھرا۔ منٹھار کے حمایتیوں کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا۔ میندرو کے گوٹھ کے لوگوں نے جوش میں ڈھول پیٹنے شروع کردیئے۔ میندرو کا باپ حاجی مکھڑوں خان خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح خوشی سے اچھل اچھل کر تالیاں پیٹنے لگا۔ یہ کوئی کم خوشی کی بات نہ تھی، آخر کو اس کے گبرو بیٹے میندرو نے ایک منجھے ہوئے پہلوان منٹھار کو شکست فاش دے دی تھی۔
ملاکھڑے کی روایت کے مطابق دونوں پہلوانوں نے ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارکباد دی مگر اس وقت بھی منٹھار کے چہرے پر شکست خوردگی کے سناٹے چھائے ہوئے تھے۔
یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے بااثر شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے میندرو کو ذاتی طور پر کیش انعامات سے بھی نوازا۔
٭…٭…٭
راجا پہلے اپنے باپ دادا کے رحم و کرم پر تھا مگر جیسے ہی اس نے اپنے بارے میں خود غوروفکر کیا تو اسے یہ بات سمجھ میں آنے لگی کہ اصل بات زیادہ غذا کھانے کی نہیں بلکہ ہضم کرنے کی ہے کہ معدہ کتنی غذا ہضم کرسکتا ہے۔ تو کیوں نا جتنی خوراک وہ ہضم کرسکتا ہے، اتنا ہی کھایا جائے۔ بے شک تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ راجا نے اپنے معدے کی سکت اور برداشت کی حد تک تھوڑی بہت خوراک کھانی شروع کردی، جس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ وہ اسے ہضم ہوگئی اور اسہال بھی نہ ہوا۔ یوں وہ برداشت کے فارمولے پر عمل پیرا رہا اور ہلکی پھلکی کسرت بھی شروع کردی۔
رفتہ رفتہ اسے اپنے لاغر وجود میں قوت دوڑتی محسوس ہونے لگی۔ اس کا دم بھی کم پھولنے لگا تھا، وہ بہت خوش تھا۔ اب اس کا معدہ کچھ کچھ مقوی خوراک برداشت کرنے کے قابل ہوتا جارہا تھا۔ راجا کو جب مزید خوراک کی ضرورت ہونے لگی تو اس کی بدقسمتی کہ اسے اپنے ’’مطابق‘‘ اچھی خوراک میسر نہیں تھی۔ جب یہ میسر تھی تو اس کا معدہ قبول نہ کرتا تھا مگر اب ایسا نہ تھا ان کے مالی حالات اس نہج پر آگئے تھے کہ دو وقت کی روٹی بھی نصیب ہوجاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔ راجہ کے لیے یہ ایک زبردست دھچکا تھا۔
اب کون تھا جو اس کی خوش خوراکی پر توجہ دیتا؟ باپ دادل سائیں چرس پی پی کر اور خون تھوک تھوک کر مرچکا تھا۔ دادا امداد وسایا بھی مستقل چارپائی پر پڑ گیا تھا۔ لے دے کے ایک ماں رہ گئی تھی۔ اس بے چاری کو یہ غم کھائے جارہا تھا کہ سونہڑاں خان والا مسئلہ اپنی جگہ پر اٹکا ہوا تھا کیونکہ وڈے سائیں امیر کی اوطاق میں بالآخر یہ فیصلہ سنا دیا گیا تھا کہ امداد وسایا نے اپنے پوتے راجا کی زمین کا جو ٹکڑا زمیندار رب نواز کو فروخت کیا تھا، وہ متنازع تھا جس پر راجا کے ہونے والے سسر سونہڑاں خان کا بھی حق بنتا تھا اپنی بیٹی حوراں کی طرف سے۔ زمین خریدنے والے رب نواز پر دبائو پڑا مگر اب دیر ہوچکی تھی کہ بوڑھے امداد وسایا کے پاس اپنی زمین واپس لینے اور اس کے بدلے زمیندار کو دینے کے لیے رقم ہی نہیں رہی تھی۔
اس کا حل شاطر سونہڑاں خان نے یہ نکالا کہ دو لاکھ اپنی جیب سے نکال کر امداد وسایا کے ہاتھ پر رکھے اور بطور قرض اس سے کاغذ لکھوا لیا۔ یوں لاکھوں مالیت کی زمین محض دو لاکھ میں دوبارہ راجا کے نام ہوگئی مگر اب تین افراد کا یہ کنبہ سونہڑاں خان کا مقروض ہوچکا تھا۔ راجا کی تینوں بڑی بہنوں کی شادیاں ہوچکی تھیں۔
زمیندار رب نواز اپنا سا منہ لے کر رہ گیا جبکہ عیار سونہڑاں خان کی چاندی ہوگئی تھی۔ ادھر راجہ اپنے باپ دادا کے دم توڑتے خواب اور ان کی تعبیروں کو زندہ کرنے کی ڈگر پر رواں ہوچکا تھا مگر تقدیر کی ستم گری نے ابھی راجہ کا پیچھا کہاں چھوڑا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ جس دیرینہ منزل تک پہنچنے کی امید پیدا ہوچلی تھی، وہ اب نامعلوم سازشوں کے خارزار سے پُر کی جارہی تھی۔ اسے اب بیک وقت دو محاذوں پر برسرپیکار رہنا تھا۔ راجہ کی بدنصیبی یہ تھی کہ سازشوں کے کانٹے بچھانے والوں میں خود اس کا اپنا سسر بھی پیش پیش تھا۔ سونہڑاں خان کو حرص و طمع نے اس قدر اندھا کردیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہونے والے سہاگ کو بھی اپنی آتش طمع میں جھونکنے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔
سونہڑاں خان کا رویہ بظاہر راجا کے ساتھ مشفقانہ تھا۔ راجا کو ابھی اس گھنائونی سازش کا علم نہ تھا جس کے تاروپود بننے میں سونہڑاں خان مصروف تھا۔
راجہ اس وقت اپنے آپ پر پوری توجہ دے رہا تھا۔ اس نے خود کو بدل دینے کی ٹھان رکھی تھی اور اس شدومد کے ساتھ کہ وہ کچھ پیسے ماں کو دینے کے بعد اتنے بچا لیتا تھا کہ ملاکھڑا پہلوان بننے کے لیے خوش خوراکی کرسکے۔ راجا کو معلوم تھا کہ مشہور ہوجانے والے ملاکھڑا پہلوان کو مالی طور پر کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوا کرتی۔
وقت گزرتا رہا۔ بوڑھا امداد وسایا چل بسا۔ اب راجا تھا اور اس کی ماں۔ کسی طرح پانچ سال کا عرصہ بیت گیا تو خدا بخش کا بیٹا ارباب عرف بابن اور مراد علی کا بیٹا علی گوہر اب باقاعدہ ملاکھڑے کے میدان میں بڑے ملھ پہلوان کی حیثیت سے اتر چکے تھے۔
علاقائی طور پر ان کے مقابلے ہوئے اور بھاگل مستی میں ان دونوں پہلوانوں کا ڈنکا بجنا شروع ہوا مگر اس کے ساتھ ہی گوٹھ بھاگل مستی والوں نے ایک اور آندھی کو اکھاڑے میں اترتے دیکھا اور دیکھنے والوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔ سوچنے والوں نے اپنی انگلیاں ہونٹوں میں داب لیں۔
’’شیر کے گھر چوہے کا بچہ‘‘ جیسی پھبتیاں کسنے والے ہکاّبکاّ رہ گئے۔
’’کیا یہ دادل سائیں کا بیٹا رجب دین عرف راجا ہے؟‘‘
’’نہیں… یہ امداد وسایا کا پوتا نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’چوہا… شیر کیسے بن سکتا ہے؟‘‘
’’یہ کیسا معجزہ ہے؟‘‘
ان غیر یقینی اور تحیرآمیز سوالوں کے شور میں ناقابل تسخیر کہلانے والے علی گوہر اور ارباب عرف بابن کے مقابلے میں جو شیر میدان میں اُترا تھا، اس کا نام رجب دین عرف راجا ہی تھا۔
چھ فٹ قد، لمبے چوڑے بازو، دریا کے چوڑے پاٹ جیسی چھاتی اور کریر کے درخت جیسی پتلی کمر۔
راجا نہ صرف پہلوان بلکہ حسن و وجاہت کا بھی بہترین نمونہ تھا۔ وہ بڑی شان کے ساتھ اصیل مرغ کی طرح اُچھلتا ہوا اکھاڑے میں اُترا تو پنڈال میں شائقین کی تالیوں نے طوفان بپا کردیا۔ علی گوہر اور ارباب ایک طرف اپنے سات پہلوانوں کی ٹولی کے درمیان کھڑے تھے۔ ان کا سر فخر سے بلند تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹیں تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ راجا نے ان کے باپ کا قول غلط ثابت کر ڈالا تھا کہ گوٹھ بھاگل مستی میں صرف چوٹی کے دو ہی پہلوان موجود ہیں۔ ایک گوہر علی اور دوسرا ارباب… مگر راجا بھی اب ان میں شامل ہوچکا تھا۔
راجا نے پانچ، چھ برسوں میں خود کو خوراک اور کسرت سے کس طرح ایک زورآور پہلوان بنا لیا تھا، یہ صرف وہی دونوں جانتے تھے۔ جاڑے کی کڑکڑاتی سردیوں میں علی الصباح میلوں پھیلے ہوئے یخ بستہ کھیتوں کا دوڑتے ہوئے ایک چکر پورا کرنا، جنگل میں گرے ہوئے بڑے بڑے بھاری بھرکم تنوں کو رسوں کی مدد سے اپنے سینے پر باندھ کر کھینچنا۔ جون جولائی کی سخت گرمیوں میں گھنٹوں ڈنڈ لگانا، راجا کا معمول تھا۔
اکھاڑے میں پہلے ہی ہلّے میں دس ملاکھڑا پہلوانوں کو ملھ مات دینے کے بعد وہ علی گوہر اور ارباب کے مقابلے میں اترا تو پورے پنڈال کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ دونوں میں سے پہلے علی گوہر اترا۔
دونوں دوست مقابل ہوئے۔ چہروں پر پہلے دوستانہ مسکراہٹیں ابھریں۔ پھر جب دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو یہ مسکراہٹ یکدم غائب ہوکر حریفانہ انداز میں بدل چکی تھی۔ اچانک پنڈال میں بلا کا شور ابھرا۔
علی گوہر کو راجا کے مقابل دانتوں تلے پسینہ آگیا اور پل کے پل وہ سمجھ گیا کہ دس پہلوانوں کو ملھ مات دینا بھی راجا کے لیے تھکا دینے والا کام نہیں بلکہ اس کی کسرت کا سبب بنا تھا۔
علی گوہر نے راجا کو پھیری دی۔ راجہ قدم اٹھانے کا نہیں، قدم مارنے کا قائل تھا۔ دوسرے ہی لمحے اس نے بایاں اڑنگا علی گوہر کے پھنسایا۔ علی گوہر کا وجود غیرمتوازن ہوا۔ ٹھیک اسی وقت راجہ نے دائیں اڑنگا لگا کے بڑے آرام سے علی گوہر کو زمیں بوس کردیا۔ اس دوران چار دوسرے پہلوانوں کا آپس میں مقابلہ ہوا اور پانچویں نمبر پر راجہ اور ارباب کا آمنا سامنا ہوا۔ علی گوہر کے مقابلے میں ارباب، راجا کو حریفانہ نظروں سے زیادہ رقیب کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس میں جوش کے ساتھ عناد بھی شامل تھا۔ دونوں نے سینے ملائے، شانے ٹکرائے اور پھر زورآزمائی کا عمل شروع ہوا۔ راجا کا غیرمعمولی ڈیل ڈول کا اندازہ کرتے ہوئے ارباب پہلوان نے اسے چکری دینے کے بجائے زور لگا کر راجہ کے قدم اکھیڑے کہ راجا گرنے کے قریب ہوگیا۔
پنڈال میں شور ابھرا۔ ’’آ… ارباب دائو دکھا۔‘‘
’’آ… راجا! وار دکھا۔‘‘
ایسے میں راجا کی چشم تصور میں نہنگ اور کھجی کے درختوں کے بڑے بڑے تنے گردش کرنے لگے، جنہیں موٹے موٹے رسوں کی مدد سے اپنے سینے سے باندھ کر وہ کھینچا کرتا تھا اور پھر اس جوش کو اس نے اپنے پہاڑ جیسے وجود میں سرایت کرتے محسوس کیا تو اس نے اپنی مضبوط ٹانگوں کو پھیلا کے قدم جمائے۔ ارباب پہلوان کے گرد اپنے دونوں بازوئوں کا حلقہ تنگ کیا، پھر اسے چیتے جیسی پھرتی کے ساتھ اڑنگا لگا کے گرا دیا۔ میدان میں ’’واہ… ڑے واہ راجا شیر…‘‘ کا شور ابھرا۔
یہ ملھ مقابلہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ یہ ایک ٹرائل بیس پر ہورہا تھا اور ملھ ایسوسی ایشن کے صدر کے علاوہ ملاکھڑا ایکشن کمیٹی کے معتبر افراد بھی شائقین میں شامل تھے، جو عنقریب منعقد ہونے والے بین الصوبائی ملھ مقابلے کے لیے تین پہلوانوں کا سلیکشن کرنا چاہتے تھے۔ یوں اس ملھ میں راجہ پہلوان نمبر ایک، علی گوہر دوسرے اور ارباب تیسرے نمبر پر رہا۔ انہیں سلیکٹ کرلیا گیا۔ یہ مقابلے کشمور میں ہونا تھے۔
یوں گوٹھ بھاگل مستی کے تین نامور ملاکھڑا پہلوانوں میں رجب دین عرف راجہ کا نام سرفہرست تھا۔ راجہ کی دیرینہ آرزو پوری ہوچکی تھی۔ وہ سیدھا گوٹھ کے قبرستان پہنچا جہاں اس کا باپ دادل سائیں اور دادا امداد وسایا قبروں میں ابدی نیند سو رہے تھے۔ راجا نے پہلے دونوں قبروں پر فاتحہ پڑھی، ان کی مغفرت کی دعا مانگی، اس کے بعد باپ کی قبر سے مخاطب ہوکر روہانسے لہجے میں بولا۔ ’’بابا سائیں! تو نے مرنے میں جلدی کردی۔ آج تو زندہ ہوتا تو اپنے اس کمزور، لاغر اور ناتواں بیٹے راجا کو دیکھتا جس سے تجھے نفرت ہوگئی تھی تو تیرا سینہ فخر سے کتنا بڑا ہوجاتا۔‘‘
اس کے بعد اس نے دادا امداد وسایا کی قبر پر کھڑے ہوکر بڑبڑاتے ہوئے کہا۔ ’’بابا! دیکھ آج میں نے تیرا نام اونچا کردیا۔‘‘
ادھر سونہڑاں خان کے سر کا سودا کم نہیں ہوا تھا۔ اصولی طور پر اسے خوش ہونا چاہئے تھا کہ اس کا ہونے والا داماد بین الصوبائی ملھ مقابلے میں منتخب ہوچکا ہے مگر اس کے سر پر زمین ہتھیانے کا سودا سمایا ہوا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ یہ کمزور اور لاغر چوہا جب اس کا داماد بنے گا تو ایک تھپڑ مار کر زمین اپنے نام کروا لے گا اور اس پر آٹے کی چکی لگوا کر اپنا بڑھاپا سکون اور عیش و آرام سے گزارے گا مگر اب جو سونہڑاں خان نے راجا کو ایک چوہے سے شیر بنتے دیکھا تو اسے اپنے خواب چکنا چور ہوتے محسوس ہونے لگے تاہم ترپ کا پتہ اس کے ہاتھ میں تھا یعنی وہ راجا کو مقروض کرچکا تھا۔
کیسی عجیب بات تھی کہ اسی کی زمین تھی اور مقروض بھی وہی تھا۔ چالیں چلنے والے بھی غضب کی چالیں چلتے ہیں۔ سونہڑاں خان کا خیال تھا کہ امداد وسایا اس کا قرض نہ اتار سکا اور خود قبر میں اتر گیا تو اب بھلا یہ چوہا (راجا) کیا کرلے گا لیکن راجا اس زخم کو نہیں بھولا تھا۔ وہ اپنے ہونے والے سسر سے ہر قیمت پر اپنی زمین اپنے باپ، دادا کی نشانی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اب تک جو بھی ملھ کشتی کے علاقائی میدان مارے تھے، ان میں اسے تعریفی اسناد کے ساتھ نقد انعامی رقوم بھی ملتی رہی تھیں۔ وہ اس میں سے کچھ رقم پس انداز کررہا تھا۔
اب تک اس نے ایک لاکھ روپے جمع کرلئے تھے۔ اگرچہ اس کی ماں حضوری نے قرض اتارنے کے لیے اپنا تھوڑا بہت زیور بھی اسے دیا تھا مگر راجہ نے اسے لینے سے صاف انکار کردیا تھا۔ راجا کی اپنی منگیتر حوراں سے بھی ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ حوراں واقعی حور تھی۔ بہت معصوم اور خوبصورت۔ اس کی ماں ملکاں پہلے راجا سے سخت نفرت کرتی تھی مگر اب راجا نہ صرف ایک کڑیل اور گبرو جوان بن چکا تھا بلکہ نامور پہلوان بھی تھا، لہٰذا اسے اب اپنی چاند سی بیٹی کے منگیتر کو دیکھ کر ممتا بھری خوشی محسوس ہوتی تھی۔ مگر ساتھ ساتھ اسے اپنے شوہر سونہڑاں خان کی لالچی طبیعت کا بھی اندازہ تھا مگر اس میں بولنے کی جرأت نہ تھی۔
’’میرے پاس کچھ رقم ہے، وہ ملا کر میرے پیو کو دے دے راجا ورنہ…‘‘ ایک کچے کھوہ کے قریب دونوں کی ملاقات ہوئی تو حوراں نے اپنی کجراری آنکھوں کی چلمن اٹھا کر کڑیل راجا سے کہا۔ راجا کو اس کی آنکھوں میں شام کی اداسی اُتری محسوس ہوئی تھی۔
’’نہیں، تو اس کی فکر نہ کر، میں باقی رقم بھی جوڑ لوں گا، پر یہ تیرے… ورنہ کا کیا مطلب ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’بابا قرضے کا بہانہ بنا کر وڈے امیر کی اوطاق میں یہ رشتہ ختم کرنے کی سوچ رہا ہے۔ وہ زمین بھی تیری ہتھیا لے گا اور ہمیں بھی جدا کردے گا۔‘‘ حوراں نے اس پر ایک روح فرسا انکشاف کیا۔
’’ہرگز نہیں ہونے دوں گا میں ایسا۔‘‘ راجہ نے فوراً غضب ناک ہوکر کہا۔ مگر پھر ایک گہری سانس خارج کرتے ہوئے تشفی آمیز لہجے میں بولا۔ ’’خیر! تو اس کی فکر نہ کر حوراں… مجھے ایک بار بڑا مقابلہ جیت جانے دے۔ مجھے ایوارڈ کے ساتھ رقم بھی ملے گی۔‘‘
’’کب…؟‘‘ حوراں کے مہجور لہجے میں مضطربانہ تفکر تھا۔
’’بہت جلد…‘‘ راجا نے کہا۔
٭…٭…٭
ہیڈ ماسٹر محمد ملوک نے اسے سمجھایا۔ ’’دیکھ، انہیں گھر لے جا کر سمجھا دے کہ آئندہ وہ ایسی حرکت نہ کریں۔ مت بھول مائی کہ تو ماسٹر پیرل کی بیوہ ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تو دوبارہ کسی بڑی مصیبت میں پڑے۔‘‘
مائی نوراں سمجھدار خاتون تھی۔ وہ ہیڈ ماسٹر محمد ملوک کا اشارہ سمجھ گئی اور اپنے دونوں بچوں کو لے کر خاموشی سے لوٹ آئی۔ دوسرے دن خیر بخش اور دھنی بخش اسکول نہیں گئے، انہیں بخار ہوگیا تھا۔ مائی نوراں ان کے لیے حکیم سے دوا لے آئی۔ جس دشمن برادری کے بچے کو انہوں نے مارا تھا، اس کا نام دریل تھا۔
’’ادّا! ہم کل اسکول جاکے اس دریل کے بچے کی پھر پٹائی لگائیں گے۔ اپنا بدلہ ضرور لیں گے۔‘‘ چھوٹے بھائی دھنی بخش نے بڑے غصے میں اپنے بڑے بھائی خیر بخش سے کہا۔ خیر بخش شاید بڑے ہونے کے ناتے کچھ سمجھدار تھا تاہم غصہ اسے بھی تھا، بولا۔ ’’نہیں ادّا۔ ہم اب اس سے بدلہ نہیں لے سکتے۔‘‘
’’کیوں ادّا؟ تو اس دریل کے بچے سے ڈرتا ہے؟‘‘ دھنی بخش نے اپنی آنکھیں پٹپٹا کر بڑے بھائی کی طرف قدرے حیرت سے دیکھا۔
’’بات ڈرنے کی نہیں ہے دھنی! مجھے ڈر ہے کہ ہیڈ ماسٹر ہمارا نام ہی اسکول سے نہ کاٹ دے۔‘‘
’’تو کاٹ دے۔ مجھے اس کی پروا نہیں۔ میں دریل سے ضرور انتقام لوں گا۔‘‘ چھوٹا بھائی اَڑ گیا۔
’’دل تو میرا بھی چاہتا ہے۔‘‘ خیر بخش کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ ’’اچھا ایسا کرتے ہیں، کل اسکول نہیں جائیں گے اور راستے میں دریل کو پکڑ کر اس کی خوب پٹائی لگا کے گھر واپس دوڑے آئیں گے۔‘‘ دونوں بھائی نے منصوبہ بنا لیا اور مطمئن ہوگئے۔
اگلے دن دونوں اسکول کے لیے گھر سے تو نکلے مگر راستے میں رک گئے۔ اسی رستے سے دریل آتا تھا۔ اسے دیکھتے ہی دونوں بھائی اس پر پل پڑے۔ وہ چلّا چلّا کر رونے لگا تو دونوں بھائی اپنے بستے سنبھال کر فرار ہوگئے۔ وہ سارا دن انہوں نے رب ڈنو کے ڈیرے پر گزارہ اور اسکول کی چھٹی کے وقت گھر چلے گئے۔
اگلے دن دریل کا باپ آگ بگولا ہوکے اپنے قریبی رشتے دار اللہ ورایو کو لئے اسکول پہنچا اور ہیڈماسٹر پر دبائو ڈال کر خیر بخش اور دھنی بخش کا نام اسکول سے خارج کروا دیا۔
جب دونوں بھائی اگلے دن اسکول پہنچے تو ہیڈ ماسٹر نے انہیں ایک پرچہ تھما کر واپس گھر بھیج دیا۔
’’ادّا! کیا ماسٹر صاحب نے ہمیں اسکول سے نکال دیا ہے؟‘‘ دھنی بخش نے بڑے بھائی سے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے۔ پھر ہم بھی اسکول نہیں جائیں گے۔ رب ڈنو نے بھی تو اسکول آنا چھوڑ دیا تھا۔‘‘ دھنی بخش منہ بسور کر بولا۔
’’ہم اس وقت گھر جائیں گے تو ماں مارے گی ہمیں۔‘‘ بڑے کے لہجے میں تشویش تھی۔
’’ہم ماں کو بتائیں گے ہی نہیں۔‘‘
’’تو پھر یہ سارا دن کہاں گزاریں گے؟‘‘
’’آئو میرے ساتھ۔‘‘ خیر بخش نے کہا اور پھر دونوں رب ڈنو کے پاس پہنچے۔ اسکول سے نکالے جانے کے بعد وہ اپنے باپ کے ساتھ بھینسوں کا باڑا سنبھالتا تھا اور دودھ فروخت کرتا تھا۔ اس وقت وہ تنہا تھا۔ رب ڈنو نے اپنے دوستوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ تینوں دوست گھنٹوں باڑے میں چھپر تلے کھیلتے رہے، آپس میں ملھ کشتی بھی لڑتے رہے۔
جب کافی وقت گزر گیا تو دونوں بھائیوں کو واپس گھر جانے کا ہوش آیا۔ دونوں نے جلدی جلدی قمیضیں پہنیں، بستے سنبھالے اور اگلے دن پھر آنے کا وعدہ کرکے گھر کی طرف ہولئے۔
دونوں گھر پہنچے تو ماں یہ سمجھی کہ اسکول سے پڑھ کر لوٹے ہیں۔ انہوں نے بھی ماں کو نہیں بتایا کہ ہیڈ ماسٹر نے ان دونوں کے نام اسکول سے خارج کردیئے ہیں۔ نہ ہی یہ کہ انہوں نے سارا دن اسکول کی بجائے رب ڈنو کے باڑے میں گزارہ تھا۔
اگلے دن وہ اسکول جانے کی بجائے سیدھے رب ڈنو کے پاس پہنچے۔ اس وقت اس کا باپ بھی موجود تھا۔ دونوں بھائی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رب ڈنو اپنے باپ کے ساتھ کشتی لڑ رہا تھا۔ رب ڈنو نے انہیں بھی شامل کرلیا۔
اب ان دونوں کا یہ معمول بن چکا تھا۔ وہ دونوں بظاہر اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلتے مگر اسکول کی بجائے سیدھے رب ڈنو کے باڑے میں جا پہنچتے لیکن کب تک…؟
ایک روز جب دونوں بھائی حسب معمول بستے گلے میں لٹکائے گھر پہنچے تو ماں پہلے ہی سے ان پر ادھار کھائے بیٹھی تھی۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کے دونوں بیٹوں کے نام کب کے اسکول سے خارج کئے جا چکے ہیں۔ نیز یہ بھی کہ دونوں لاڈلے اتنے دنوں تک اسکول کا وقت کہاں اور کس کے پاس گزارتے رہے ہیں۔ دونوں اچھلتے کودتے گھر پہنچے تو ماں نے ان پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ ماں مارتی جاتی اور آنسو بھی بہاتی جاتی۔
’’بدبختو! باپ کیا مرا ہے، تم نے اپنے راستے ہی بدل ڈالے۔ بولو مجھ سے کیوں جھوٹ بولا؟ ماسٹر نے تمہارے نام کیوں اسکول سے خارج کئے؟‘‘
دونوں بھائی کیا جواب دیتے، مار کھاتے اور روتے رہے۔ چھوٹا کچھ چالاک ثابت ہوا۔ وہ روتے ہوئے ماں سے بڑے بھائی کی شکایت کرنے لگا۔ ’’مجھے ادّا خیرو نے منع کیا تھا کہ میں یہ بات تمہیں نہ بتائوں اور اسی کے کہنے پر میں اسکول کی بجائے رب ڈنو کے باڑے میں وقت گزارنے جاتا تھا۔‘‘
چھوٹے بھائی کے اس سفید جھوٹ پر خیر بخش کچھ نہ بولا۔ اسے غصہ تو بہت آیا تھا مگر خاموش رہا۔ ماں کو ابھی یہ نہیں معلوم تھا کہ دونوں لاڈلوں کے دماغ میں ملھ پہلوانی کا سودا سما گیا ہے۔
اگلے روز صبح اس نے اجرک سنبھالی، دونوں بچوں کو نہلا دھلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنائے اور اسکول لے جاکر سیدھی ہیڈ ماسٹر کے کمرے میں جا پہنچی۔ ’’ماسٹر صاحب! یہ مجھے بتا رہے تھے کہ آپ نے ان کے نام اسکول سے خارج کردیئے ہیں؟‘‘
ہیڈ ماسٹر محمد ملوک نے سفید عدسوں والی عینک کے عقب سے پہلے دونوں بھائیوں کو گھورا جو ماں کے دائیں بائیں گلے سے کتابوں کے بوسیدہ بستے لٹکائے، سر جھکائے خاموش کھڑے تھے، پھر عینک اتار کر نوراں مائی سے بولا۔ ’’ان شیطانوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے نام اسکول سے کیوں خارج کئے گئے ہیں؟‘‘
مائی نوراں نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔ ’’نہیں۔‘‘
’’مائی! تیرے ان دونوں لاڈلوں نے دوبارہ صیفل مراد کے بیٹے دریل کی پٹائی کی تھی۔‘‘ یہ سن کر مائی نوراں نے اپنا کلیجہ تھام لیا۔ بات تشویشناک تھی، وہ پریشان ہوگئی۔ پھر ہیڈماسٹر کی منت سماجت کی اور التجا آمیز انداز میں بولی۔ ’’ماسٹر صاحب! اس بار آپ انہیں داخل کرلیں، اب یہ ایسا نہیں کریں گے، میں نے انہیں خوب مارا ہے۔‘‘
’’نہیں مائی! یہ اب ممکن نہیں رہا میرے لیے۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلا کر جواب دیا۔ ’’مجھے ماسٹر پیرل کا خیال آگیا تھا اس لئے میں نے ان کا بیڈ کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا۔ اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔‘‘ ہیڈ ماسٹر کی بات سن کر مائی نوراں دہل گئی۔ وہ خود بھی ایک ماسٹر کی بیوی تھی، جانتی تھی کہ ’’بیڈ کریکٹر سرٹیفکیٹ‘‘ کیا ہوتا ہے۔
’’نہیں، نہیں ماسٹر صاحب! یہ ظلم نہ کرنا، میرے بچوں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا۔ انہیں پھر کسی بھی اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا۔‘‘ نوراںمائی التجا آمیز لہجے میں بولی۔ ’’روزمحشر میں ان کے باپ کو کیا منہ دکھائوں گی۔ آپ اس بار بلکہ آخری بار معاف کردیں، یہ پھر دوبارہ ایسا کبھی نہیں کریں گے، کسی کے ساتھ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔‘‘
اسے یوں داد فریاد کرتے دیکھ کر ماسٹر صاحب چند ثانیے کی پُرسوچ خاموشی میں مستغرق ہوگئے۔ اس کے بعد دھیمے لہجے میں بولے۔ ’’ایک صورت ہوسکتی ہے اگر اس بچے کا باپ معاف کردے اور ان دونوں بچوں کی سفارش کردے۔‘‘
ماسٹر ملوک کی بات سن کر مائی نوراں سوچ میں پڑ گئی۔ بالآخر یہی ایک صورت جان کر وہ واپس لوٹ آئی۔ اب وہ بے چاری ایک عجیب پریشانی کا شکار ہوگئی تھی۔ جانتی تھی کہ دریل کا باپ کون تھا اور اس کے ساتھ کیسی دشمنی چلی آرہی تھی۔ وہ ان سب کو اپنے شوہر کا قاتل سمجھتی تھی اور اسے ان کی صورتیں تک دیکھنا گوارا نہیں تھا۔ وہ ان سے شدید نفرت کرتی تھی۔ چہ جائیکہ اب اسے ان کے در پر معافی اور رحم کی بھیک مانگنے جانا پڑ رہا تھا۔
گھر آکر اس نے اپنے دل کا غبار نکالنے کے لیے دوبارہ بچوں کو پیٹنا شروع کردیا۔ پٹائی کے دوران اس کی زبان سے وہ الفاظ بھی نکل گئے جو وہ کم ازکم اپنے دونوں بچوں کو سنانا نہیں چاہتی تھی۔ ’’کم بختو! اب مجھے تمہاری خاطر تمہارے باپ کے قاتلوں کے آگے جھکنا پڑے گا، ننگے سر ان کے سامنے ہاتھ جوڑنا پڑیں گے، جن کی صورتوں سے بھی مجھے نفرت تھی۔‘‘
وہ بچوں کو مارتے مارتے تھک گئی تو پلّو میں منہ چھپا کر رونے لگی۔ چھوٹا بیٹا دھنی بخش سسک سسک کر رو رہا تھا جبکہ بڑے بیٹے خیربخش کو ایک عجیب سی چپ لگ گئی تھی۔
غم زدہ اور روتی ہوئی ماں کے منہ سے باپ کے قاتلوں کا تذکرہ سن کر اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اس سیاہ رات کا خونی منظر گھوم گیا جب اس نے اپنے باپ کی لاش کو خون میں ڈوبے پایا تھا۔
نوراں مائی نے اپنے آنسو پونچھے، اپنا منہ دھویا، اجرک سنبھالی۔ دونوں کو گھر پر رہنے کی سخت تاکید کرنے کے بعد دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ بڑے بیٹے خیر بخش نے عجیب سے لہجے میں پکارا۔ ’’ماں۔‘‘
مائی نوراں رک گئی، پھر پلٹ کر اسے گھورتے ہوئے بولی۔ ’’کیا ہے؟‘‘
’’ہم بھی تیرے ساتھ چلیں گے، تجھے اکیلا نہیں جانے دیں گے۔‘‘
’’تم دونوں میں اتنی غیرت اور شرم ہوتی تو آج مجھے دشمنوں کی چوکھٹ پر فریاد کرنے کیوں جانا پڑتا؟‘‘ نوراں نے تڑپ کر کہا اور دروازے سے باہر نکلتی چلی گئی۔
خیر بخش کھلے صحن میں کھڑا رہ گیا تھا۔
٭…٭…٭
دریل کا باپ صیفل مراد ایک چھوٹا زمیندار تھا۔ وہ اس وقت اپنی اوطاق میں بیٹھا اپنے منشی اور چند ہاریوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا کہ نوراں مائی اندر داخل ہوئی۔
اسے دیکھ کر صیفل مراد کے چہرے پر نفرت کے تاثرات ابھر آئے۔ وہ اسے خشمگیں نظروں سے گھور کر کرخت لہجے میں بولا۔ ’’اے مائی! یہاں کیا کرنے آئی ہے تو؟‘‘
نوراں کو اس کے لہجے سے ٹپکتی تحقیر صاف محسوس ہوئی۔ وہ خون کے گھونٹ بھرتی ہوئی التجا آمیز لہجے میں بولی۔ ’’سائیں! مجھے ماسٹر صاحب نے سب بتا دیا ہے کہ میرے بچوں نے کیا حرکت کی تھی۔ میں نے اپنے دونوں لڑکوں کو خوب مارا ہے، آئندہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ مہربانی کرکے آپ ماسٹر ملوک کو کہہ دیں کہ وہ میرے دونوں بچوں کو اسکول میں داخل کرلیں۔‘‘
اس کی باتٰ سن کر صیفل مراد تضحیک آمیز لہجے میں بولا۔ ’’ہرگز نہیں! تیرے چھوکروں پر چربی چڑھ گئی ہے۔ وہ تو شکر کر کہ میں نے صرف نام کٹوائے ہیں ورنہ میں نے ان دونوں پلّوں کو یہاں
لا کر ان کی چمڑیاں ادھیڑ ڈالنی تھیں۔‘‘
اس کا اہانت آمیز رویہ مائی نوراں کے سینے میں گھستا چلا گیا مگر وہ مجبور تھی۔ لاچار لہجے میں بولی۔ ’’سائیں! آخری بار ان دونوں کو معاف کردو، آپ کو اللہ سائیں کا واسطہ، میرے بچے اسکول سے نکل جائیں گے تو رُل جائیں گے۔‘‘
’’ہاں تو رُل جانے دے ان کو… وہ پڑھ لکھ کر کون سا تیر مار لیں گے؟‘‘ صیفل مراد استہزائیہ لہجے میں بولا۔ ’’یا پھر مخبری کریں گے اور اپنے باپ کی طرح کتے کی موت مارے جائیں گے۔‘‘
’’صیفل…!‘‘ اپنے شوہر کے ذکر پر نوراں مائی یکایک کسی ناگن کی طرح پھنکاری، مگر پھر اپنے دونوں بچوں کا خیال آتے ہی ضبط سے کام لے کر بولی۔ ’’سائیں! میں تیرے پاس بڑی امید لے کر آئی ہوں۔‘‘
’’بس مائی بس۔‘‘ صیفل مراد نے فوراً ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روک دیا۔ ’’اب تو یہاں سے دفع ہوجا… تو عورت ذات ہے اس لیے تجھے باعزت یہاں سے جانے دیا جارہا ہے ورنہ تو یہاں سے اپنے پیروں پر واپس نہ جاتی۔ جا چلی جا یہاں سے اور دوبارہ ادھر کا رخ کرنے کی جرأت مت کرنا۔ دیکھتا ہوں یہ ماسٹر تیرے لاڈلوں کو کیسے اسکول میں داخل کرتا ہے۔‘‘
نوراں مائی اپنی غم زدہ آنکھوں میں اشک سمیٹے لوٹ آئی۔ وہ بچوں کو مار مار کر تھک گئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ بچوں کو کون سے اسکول میں داخل کرائے۔ گوٹھ میں ایک ہی پرائمری اسکول تھا جبکہ قریب کے گوٹھ میں ایک پرائمری اور مڈل اسکول موجود تھا تو کیا وہ بچوں کو احمد پور کے اسکول میں داخل کروا دے؟ وہ سوچنے لگی۔ مگر وہ اسکول بہت دور تھا، پھر اس نے سوچا دوسرے بچے بھی تو چھٹی، ساتویں میں پڑھنے کے لیے احمد پور پیدل جاتے ہیں۔
خیر بخش اور دھنی بخش کو احمد پور کے پرائمری اسکول میں داخلہ مل گیا۔ یہ اسکول گڑھی خیر محمد سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ نتیجتاً دونوں بجے جلد ہی اسکول کی مشقت سے گھبرا گئے۔ اسکول سے لوٹتے تو تھک کر نڈھال ہوجاتے اور شام تک پڑے سوتے رہتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کا دل پڑھائی سے اکتانے لگا۔
چند دن تو یہ سب چلتا رہا مگر پھر وہی ہوا دونوں بھائیوں نے اسکول جانے کی بجائے رب ڈنو کے باڑے میں جانا شروع کردیا اور اسکول سے غیر حاضر رہنے لگے۔
روشو پہلوان ان دونوں بھائیوں سے اس لئے خوش تھا کہ یہ دونوں اس کے بیٹے رب ڈنو کے دوست تھے بلکہ بسااوقات رب ڈنو، خیر بخش اور دھنی بخش کو اپنا بھائی کہا کرتا۔ چنانچہ رب ڈنو کے ساتھ دوستی کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ دونوں بھائی روزبروز قابل رشک صحت اختیار کرنے لگے اور ملھ پہلوانی کے گُر بھی سیکھنے لگے۔ باڑے کا دودھ انہیں پینے کو ملتا تھا۔
ایک دن رب ڈنو نے دونوں بھائیوں سے کہا۔ ’’دیکھو اگر تم نے اسکول جانا بالکل ترک کردیا تو یہ بہتر نہ ہوگا تمہارا نام اسکول سے دوبارہ کاٹ دیا جائے گا۔‘‘
’’کاٹ دیا جائے۔ ہمیں اب اس کی پروا نہیں۔ ہم تو ملاکھڑا پہلوان بنیں گے۔ تم نے بھی تو اسکول جانا چھوڑ دیا ہے، کوئی آسمان تو نہیں ٹوٹ پڑا۔‘‘ دونوں بھائیوں نے اسے منہ بسور کر جواب دیا تھا۔
’’وہ تو صحیح ہے مگر تمہاری ماں… وہ بہت پکی ہے، تمہیں اسکول بھیج کر ہی چھوڑے گی۔‘‘ رب ڈنو بولا۔
دونوں بھائی خاموش رہے۔ بالآخر طے یہ پایا کہ اسکول سے نام کٹوانے سے بہرحال بچنا چاہئے ورنہ ماں پیچھے پڑ سکتی ہے اور ایک بار پھر ان کا یہاں آنا بند ہوسکتا ہے لہٰذا اب روز تو نہیں، دو تین دن بعد اسکول جانا ضروری سمجھا گیا تاکہ ماں بھی مطمئن رہے اور ان کا کام بھی چلتا رہے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، ماں کو اس بات پر حیرت تھی کہ روکھی سوکھی کھانے والے خیر بخش اور دھنی بخش کی صحت قابل رشک ہوتی جارہی تھی۔ ان کے چہروں پر خاص قسم کی سرخی عود کر آئی تھی۔ جسم میں پھرتیلا پن آگیا تھا اور وہ قدکاٹھ نکالنے لگے تھے۔ یہی نہیں، دونوں بھائیوں کو اس نے اکثر گھر کے صحن میں ملھ لڑتے بھی دیکھا تھا اور ملھ لڑنے کے انداز میں کہیں سے بھی بچکانہ پن نہیں جھلکتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے تربیت یافتہ ملاکھڑا پہلوان بڑی چابکدستی سے دائو پیچ آزما رہے ہوں۔
مائی نوراں کا ماتھا ٹھنکا۔ اتنا تو اسے معلوم تھا کہ ان دونوں بھائیوں کی دوستی گوٹھ کے ایک معروف ملاکھڑا پہلوان روشن خان عرف روشو کے بیٹے رب ڈنو سے ہے۔ چنانچہ ایک روز نوراں مائی نے ان کے اسکول احمد پور جانے کا ارادہ کیا کہ جاکے اسکول ماسٹر سے ان کے بارے میں معلوم کرے کہ یہ پڑھائی میں کیسے ہیں۔ اس دوران وہ عورت جو دستی کام کے نمونے شہر لے جاکر فروخت کیا کرتی تھی، اس نے آنا چھوڑ دیا۔
اب کیا ہوگا۔ وہ انہی سوچوں میں حیران و پریشان بیٹھی تھی۔ دونوں لڑکے صحن میں ایک دوسرے کے ساتھ ملھ کشتی میں مگن تھے۔ دونوں اگلی کلاسوں تک پہنچ چکے تھے اور مطمئن تھے کہ ماں ان کی چالاکی سے آگاہ نہیں ہے۔ خیر بخش ساتویں کلاس میں پہنچ گیا تھا اور چھوٹا چھٹی میں تھا۔
ادھر ماں نوراں اپنی الجھنوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ بچوں کے لیے نئی کلاسوں کی کتابیں بھی خریدنا تھیں اور کپڑے، جوتوں کا بھی بندوبست کرنا تھا مگر یہاں تو کھانے کے لالے پڑے ہوئے تھے، ان کی تعلیم کے اخراجات کہاں سے پورے ہوتے؟
چند دنوں بعد واقعی کھانے کے لالے پڑ گئے۔ نوراں مائی سخت پریشان ہوگئی۔ اسکول کی سالانہ فیس جمع نہ کروا سکی۔ نتیجتاً دونوں کا نام اسکول سے خارج کردیا گیا۔ وہ دونوں خوش تھے۔ وہ ماں کی پریشانیوں سے بے نیاز اپنے دوست رب ڈنو کے ساتھ سارا دن ملاکھڑا لڑتے رہتے تھے۔ اسکول سے نام خارج ہونے کے بعد جیسے انہیںکھلی چھٹی مل گئی تھی۔
مائی نوراں نے اگلے دن صبح سویرے بوسیدہ کپڑوں کی پوٹلی باندھی اور اسے سر پر رکھ کر شہر روانہ ہوگئی۔
پرانے ماڈل کی گاڑی خیرپور اور آس پاس کے گوٹھوں میں مسافروں کو لایا لے جایا کرتی تھی۔ نوراں مائی اس میں سوار ہوکر خیرپور پہنچی اور بازار جاکر اس نے اپنے دستی نمونے بمشکل فروخت کئے۔ کچھ پیسے ملے جس سے اس نے گھریلو راشن خریدا اور سہ پہر لوٹنے والی اس گاڑی میں واپس اپنے گوٹھ لوٹ آئی۔
گھر پہنچی تو دونوں بیٹے غائب تھے۔ وہ پہلے ہی پریشان اور آزردہ خاطر ہورہی تھی۔ بچے اسکول سے نکال دیئے گئے تھے۔ وہ ان کی آوارہ گردی سے سخت عاجز تھی۔ تھکی ہاری، اسے غصہ آگیا۔ راشن گھر میں پھینک کر وہ الٹے پائوں رب ڈنو کے باڑے میں پہنچی۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ کسی نے بتایا کہ اکھاڑے میں جاکر دیکھے۔ وہ وہاں پہنچی تو اس نے اپنے دونوں لاڈلوں کو ملھ لڑتے دیکھا۔ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو کانوں سے پکڑا اور تھپڑوں کی بارش کرتے ہوئے انہیں گھر لے آئی۔
’’بے غیرتو! تم کو شرم نہیں آتی، سارا دن آوارہ گردی کرتے ہو، اپنی ماں کی پریشانیوں کا تمہیں ذرا بھی حساس نہیں۔ تمہاری پڑھائی چھوٹ گئی، گھر کا چولہا بجھ گیا، دشمنوں نے الگ پریشان کررکھا ہے۔ میں تمہارے پیٹ کا جہنم بھروں یا دشمنوں کی سازشوں کو دیکھوں اور تم ہو کہ تمہیں ماں کی پریشانیوں اور دکھوں کا ذرا بھی احساس نہیں۔ نہ جانے کہاں سے تمہیں اتنا کھانے کو مل جاتا ہے جو تم نے اتنی چربی چڑھا رکھی ہے۔‘‘ وہ ہلکان ہوکر ہانپنے لگی۔
چھوٹا دھنی بخش خاموش رہا۔ بڑا خیر بخش بولا۔ ’’اماں! تو نے کبھی اپنی پریشانی کے بارے میں ہمیں بتایا ہی نہیں۔‘‘
(جاری ہے)