Be Kinar – Last Episode

168
’’بتا دیتی تو کون سا تیر مار لیتے۔‘‘ ماں نے غصے سے کہا۔
مگر یہ حقیقت تھی کہ دونوں بھائی دیہی سطح کی جونیئر ملاکھڑا پہلوانوں کی ٹیم میں شمولیت اختیار کرچکے تھے۔ دونوں اب جوان ہوچکے تھے۔ کشتی بھی اچھی کھیلتے تھے مگر ان کی یہ بدقسمتی تھی کہ ان کے دشمنوں کے بچے بھی اس ٹیم میں شامل تھے اور وہ ان بھائیوں کی اچھی کارکردگی سے سخت خائف رہتے تھے۔
ماں نوراں کو جب یہ پتا چلا کہ جس ملاکھڑا ٹیم میں اس کے دونوں بیٹے شامل ہیں، اس میں دشمنوں کے بچے بھی ہیں تو اس نے دونوں کو ٹیم سے نکل جانے کا کہا، مگر دونوں بھائی ہٹ کے پکے تھے، وہ نہ مانے۔
اس ٹیم میں ٹرائل بیس پر مقابلے ہوئے تو دونوں بھائیوں نے اپنے دشمنوں کے بیٹوں کو مات دے دی۔
ان کے بڑوں کو پتا چلا تو وہ غصے میں آگئے۔ ان میں ورایو خان سب سے زیادہ بپھرا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ایک آدمی کو اوطاق میں بلا کر خیربخش اور دھنی بخش کو اغوا کرنے کا حکم دیا۔ اس آدمی کا نام خان بخش تھا۔ وہ ایک ڈاکوئوں کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ان دونوں بھائیوں کو گھات لگا کر اغوا کرلیا۔ وہ انہیں اپنے جنگل ڈیرے میں لے جانا چاہتا تھا لیکن فی الحال دونوں کو اسی گوٹھ کی ایک کوٹھری میں قید کردیا تھا۔ دونوں بھائیوں کو ہوش آیا تو وہ سخت خوف زدہ ہوئے اور آنکھیں پھاڑے تاریکی میں گھورنے لگے۔
’’ادّا خیرو! ہم کہاں ہیں؟ کون ہمیں یہاں لایا ہے؟‘‘ دھنی بخش نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کا بھائی خیربخش پاس ہی بیٹھا تھا۔ اسے اندازہ ہوچکا تھا کہ یہ کن لوگوں کی حرکت ہوسکتی ہے۔ وہ بولا۔ ’’ادّا دھنی بخش! ماں نے ٹھیک کہا تھا۔ ہمیں اس ٹیم سے نکل جانا چاہئے تھا۔ اس میں دشمنوں کے بچے بھی شامل تھے۔‘‘
’’تت… تو کیا یہ ہمیں بھی بابا کی طرح جان سے مار ڈالیں گے؟‘‘ چھوٹے بھائی دھنی بخش کے لہجے میں خوف تھا۔ بڑا بھائی چپ رہا تاہم اسے تسلی دی کہ وہ یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے۔
ادھر نوراں اپنے بچوں کے لیے بری طرح ہلکان ہورہی تھی۔ اس نے متعلقہ تھانے جاکر اپنے بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانی چاہی اور ان کے اغوا کا اپنے دشمنوں پر شبہ ظاہر کرنا چاہا مگر چونکہ وہ بااثر لوگ تھے، اس لئے تھانے میں اس کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ نوراں خود کو سخت بے بس محسوس کرنے لگی۔ اب اسے پچھتاوا ہونے لگا تھا کہ اس نے اپنے بھائی کی بات کیوں نہ مانی جس نے اسے یہ گوٹھ چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا۔
وہ پاگل سی ہوگئی اور پورے گوٹھ میں چلاّ چلاّ کر دھائیاں دینے لگی۔ اپنے دشمنوں کے کھلے عام نام پکارنے لگی کہ ان لوگوں نے پہلے اس کے شوہر کو مروایا اور اب انہوں نے میرے دونوں معصوم بچوں کو اغوا کروا لیا ہے۔ دشمن بااثر تھے۔ کسی کو ان کے خلاف بولنے کی جرأت نہ تھی۔ بے چاری نوراں کئی دن تک اسی طرح چیخ چلّا کر اپنا سر پٹختی ہوئی مر گئی۔
ادھر خان بخش دونوں بھائیوں کو اغوا کرکے ایک دو دن اپنے پاس رکھنے کے بعد جب انہیں جنگل ڈیرے کی طرف لے جانے کے لیے اپنے گھوڑوں پر سوار کرانے لگا تو چھوٹا بھائی دھنی بخش موقع دیکھتے ہی دوڑا حالانکہ خیربخش نے اسے فرار ہونے سے منع کیا تھا۔ آواز دے کر اس نے اسے روکنا چاہا مگر دھنی بخش نہ رکا اور تاریکی میں اس نے دوڑ لگا دی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ خانو ایک ڈاکو ہے اور یہ تاریکیاں اس کے لیے روشنیاں ہیں۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنی رائفل کا برسٹ دھنی بخش پر فائر کردیا۔ وہ بے چارہ چیخ مار کر گرا اور پھر کبھی نہ اٹھ سکا۔ خیربخش نے اپنے بھائی کو
مرتے دیکھا تو رو پڑا۔ وہ بری طرح دہشت زدہ ہوگیا تھا مگر پھر جانے کیا ہوا کہ ایک دم جوش میں آگیا۔ اسے خوف تھا کہ اب شاید اس کی باری ہوگی لہٰذا اسی جوش اور خوف کے ملے جلے جذبات تلے اس نے خان بخش کو رائفل سمیت دھکا دیا۔ وہ اس اچانک وار کے لیے تیار نہ تھا۔ گرا تو اس کے ہاتھ سے رائفل چھوٹ گئی۔ خیربخش نے وہ رائفل اٹھا کر اس پر تان لی۔ اسے رائفل چلانے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ اس نے رائفل کے ٹھوس کندے سے اس کے سر پر پے درپے وار کرکے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ بھائی کا انتقام لینے کے بعد وہ تاریک جنگل میں کھڑا رہا، پھر اس نے رائفل وہیں پھینکی اور ایک طرف چلا گیا۔
کسی طرح گوٹھ پہنچا تو اسے پتا چلا کہ اس کی ماں پاگلوں کی طرح انہیں ڈھونڈتی رہی تھی۔ پھر بالآخر ایک دن مر گئی۔ خیربخش وہ گوٹھ چھوڑ کر اپنے ماموں کے ہاں آگیا۔ اس کے ماموں قادر بخش کو یہ سب جان کر بے حد دکھ ہوا تھا۔ تاہم اس نے اپنے بھانجے کو سینے سے لگا لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کام کرنا چاہتا ہے یا پڑھنا؟ خیر بخش کا جواب تھا۔ وہ ماں باپ کی خواہش کے مطابق پڑھنا چاہتا ہے۔
٭…٭…٭
میندرو، منٹھار پہلوان کو شکست دینے کے بعد ایک دم مشہور ہو گیا تھا کیونکہ منٹھار ایک نامی گرامی پہلوان تھا۔
تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ گوٹھ کی ایک بااثر شخصیت حاجی میر منصب خان نے میندرو کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ کسی زمانے میں منصب خان خود بھی ملاکھڑا پہلوان رہ چکا تھا۔ میندرو کو منصب کی سرپرستی ملنے کی دیر تھی کہ اسے اندرون سندھ کے بڑے بڑے ملاکھڑا مقابلوں میں شامل ہونے کا موقع ملنے لگا۔ خیرپور، کشمور، کندھ کوٹ، لاڑکانہ، سہون شریف، بھان سعیدآباد، سکھر اور شکارپور کے نامی گرامی پہلوانوں سے ملھ مقابلے کئے۔ اس کے تجربے میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
اس کی شہرت چارسو پھیلنے لگی تو میر منصب خان نے سوچا کہ میندرو خان کا مقابلہ کسی مشہور ملاکھڑا پہلوان سے کرانا چاہیے۔ ان دنوں کئی نامی گرامی ملھ پہلوانوں کا طوطی بول رہا تھا۔ ان میں سرفہرست بابل خان کا نام تھا۔ منصب خان نے اپنی طرف سے بابل خان کو میندرو سے مقابلے کا چیلنج پہنچا دیا۔
میندرو خان لاکھ مشہور سہی لیکن اس کا شمار اب بھی نوآموز پہلوانوں میں ہوتا تھا۔ لہٰذا جب میر منصب خان کے ذریعے بابل خان جیسے منجھے ہوئے پہلوان تک میندرو خان کا چیلنج پہنچا تو وہ بری طرح اکھڑ گیا۔ کسی نوآموز پہلوان کا ایک منجھے ہوئے پہلوان کو چیلنج دینا، بڑے پہلوان کے لیے سبکی کا باعث تھا۔ مگر چیلنج قبول کرنا پڑتا ہے۔ بابل خان کو بھی یہ وار سہنا پڑا تاہم اس نے دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ وہ میندرو کا غرور خاک میں ملا کر رہے گا۔
جب میندرو کے باپ حاجی مکھڑوں خان کو یہ معلوم ہوا تو وہ پریشان ہوگیا۔ ’’اڑے پُٹ! یہ کیا غضب کردیا تم نے… بابل خان کوئی معمولی پہلوان نہیں ہے۔ صوبائی شہرت یافتہ ہے۔ اتنے بڑے پہلوان کو چیلنج دے کر تو ہار گیا تو تیری شہرت کا چراغ ایک ہی دن میں غروب ہوجائے گا۔‘‘
باپ کی بات سن کر میندرو نے غیر تاثراتی لہجے میں جواب دیا۔ ’’بابا سائیں! میں اب ان چھوٹے چھوٹے علاقائی پہلوانوں سے کشتیاں لڑ لڑ کر اُکتا گیا ہوں۔‘‘
’’پر پُٹ…!‘‘
’’بابا سائیں! تو بس اپنے بیٹے کی کامیابی کے لیے دعا کر۔‘‘
٭…٭…٭
سونہڑاں خان کو جانے کس طرح بھنک مل گئی کہ راجا اپنی زمین اس سے واپس لینے کے لیے رقم کا بندوبست کرنے میں لگا ہوا ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ عیار سونہڑاں خان کی نیت میں فتور آچکا تھا۔ وہ اب کسی صورت اپنی بیٹی حوراں کی شادی راجا سے کرنے پر تیار نہیں تھا کیونکہ راجا اب ’’چوہے‘‘ سے شیر بن گیا تھا۔ اگر وہ حوراں سے اس کی شادی کردیتا تو راجا اپنی زمین سنبھالنے کے قابل ہوچکا تھا۔
گویا راجا اسے دو لاکھ دے کر اپنی زمین واپس لے لیتا اور پھر اس کی بیٹی بھی بغیر رقم کے اس کی بیوی بن جاتی جبکہ سونہڑاں خان چاہتا تھا کہ اپنی بیٹی کی شادی کہیں اور کردے بھاری رقم لے کر مگر راجا سے شادی کی صورت میں دونوں ہاتھ خالی ہوکر رہ جاتے۔
’’کیا کرنا چاہیے پھر…؟‘‘ وہ بیڑی سلگا کر سوچنے لگا۔ ’’یہ چوہا اب شیر بن گیا ہے۔ زمین واپس لینے کے لیے رقم بھی تیزی سے اکٹھا کررہا ہے۔ اس طرح تو یہ زمین بھی لے لے گا اور میری بیٹی بھی… کچھ کرنا چاہیے ورنہ میں حقہ گڑگڑاتا رہ جائوں گا۔‘‘
معاً اسے ایک خیال آیا۔ اگلے دن وہ وڈے سائیں کی اوطاق پہنچا اور وڈے سائیں سے درخواست کی۔ ’’راجا کو پابند کرنا چاہیے کہ مجھے جلد سے جلد رقم لوٹا دے۔ دو سال بیت چکے ہیں، ایک زمین کا سودا کرنا تھا مجھے، دوسری جانب میری بیٹی بھی شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہے۔‘‘
سونہڑاں خان کی چرب زبانی نے راجا پر محدود مہلت کی قدغن لگا دی۔ چنانچہ اب اگر راجا مقررہ مدت میں دو لاکھ کی رقم سونہڑاں خان کو نہیں دیتا تو وہ اپنی بیٹی اسے دینے کا پابند نہ تھا۔
راجا نے جب یہ سنا تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ رقم لوٹانے کی مدت بہت قلیل تھی۔ اس نے وڈے سائیں سے جاکر فریاد کی کہ اسے بین الصوبائی ملھ مقابلے میں شریک ہونے دیا جائے اور مہلت کو بڑھایا جائے مگر اس کی بات کو تسلیم نہ کیا گیا۔ وہ بے چارہ پریشان ہوگیا۔ دوسری طرف مقابلے کے دن قریب آتے جارہے تھے اور مہلت کے بھی۔
پہلا مقابلہ لاڑکانہ میں تھا۔ دو دن بعد کشمور میں پھر فائنل خیرپور میں ہونا تھا۔
خیرپور والا میدان مشکل ترین تھا۔ وہاں کے نامی گرامی پہلوانوں سے اس کا مقابلہ ہونا تھا جو پہلے ہی ایوارڈ یافتہ تھے جبکہ راجا کے پاس صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا تعریفی سند کی صورت میں…
وہ اپنی کسرت پر پوری توجہ دینا چاہتا تھا مگر سونہڑاں خان نے اسے بری طرح پریشان کررکھا تھا۔ باربار اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی منگیتر حوراں کا معصوم و خوبصورت چہرہ گردش کرنے لگتا تھا۔
ماں کو بیٹے کے ذہنی کرب کا اندازہ تھا۔ اس نے بیٹے کو ایک تجویز دیتے ہوئے کہا۔ ’’راجا پُٹ! تجھے زمین پیاری ہے… یا… حوراں؟‘‘
’’حوراں…۔‘‘ راجا نے بلاتامل جواب دیا۔
’’بس تو پھر لعنت بھیج زمین کے اس ٹکڑے پر… حوراں سے شادی کی تیاری کر…‘‘ ماں نے کہا۔ ’’جو پیسے تو نے اپنی زمین حاصل کرنے کے لیے بچا رکھے ہیں، وہ شادی پر خرچ کردے۔ زمین کا کیا ہے، پھر مل جائے گی مگر حوراں دوبارہ نہیں ملے گی۔‘‘
راجا کی سمجھ میں یہ بات آگئی۔
بیٹے سے عندیہ لے کر ماں سونہڑاں خان کے پاس پہنچی اور حوراں کے سلسلے میں بات کی۔ سونہڑاں خان نے رشتہ دینے سے صاف انکار کردیا۔ ماں کو اس کی توقع تھی۔ اس نے بڑے تحمل سے پوچھا۔ ’’سونہڑاں خان! آخر اس انکار کی وجہ کیا ہے؟‘‘
’’پہلے میرے دو لاکھ دینا ہوں گے راجا کو۔‘‘ وہ بولا۔
’’ٹھیک ہے، زمین تو رکھ لے۔ میرا بیٹا زمین کی ملکیت کے دعویٰ سے دست بردار ہوجائے گا مگر حوراں دے دے؟‘‘ ماں حضوری نے کہا۔
’’میں زمین کا کیا کروں گا۔ اجڑی زمین ہے، مجھے بس دو لاکھ روپے چاہئیں۔‘‘ سونہڑاں خان نے اکڑ کر کہا۔
حضوری سمجھ گئی کہ وہ چالاکی دکھا رہا ہے۔ اس نے فوراً برادری کے معتبر لوگوں کو سونہڑاں خان کے فتورِ نیت سے آگاہ کردیا۔ وہ بھی ایک کائیاں شخص تھا، اس نے زمین کے ٹکڑے سے فوراً عدم دلچسپی کا اظہار کردیا۔ اس وقت پانچ لاکھ کی مالیت کی زمین پر اس نے دو لاکھ روپوں کو ترجیح دی۔
یوں اصولی طور پر اس کے موقف کو جائز سمجھا گیا۔ راجا کی ماں حضوری، سونہڑاں خان کے آگے جھولی پھیلا کر بولی۔ ’’بھاسونہڑاں! تو بے شک زمین رکھ لے پر حوراں پر ہمارا حق ہے۔‘‘
معاملات طے ہوئے اور زمین کا وہ نایاب ٹکڑا جسے سونہڑاں خان بے وقعت ظاہر کررہا تھا، ہمیشہ کے لیے اس کی ملکیت میں چلا گیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ محض دو لاکھ کے عوض اسے لاکھوں روپے کی زمین مل گئی تھی۔
مگر اس کی نیت کے فتور کا ابھی انت کہاں ہوا تھا۔ ایک محاذ جیتنے کے بعد اس نے دوسرے محاذ پر زورآزمائی شروع کردی۔ یعنی اب وہ حوراں کا رشتہ کہیں اور کرنے کے چکر میں تھا۔ وہ اس سازش میں ملھ پہلوان ارباب خان عرف بابن کے باپ خدا بخش کو شامل کرچکا تھا جس نے سونہڑاں خان سے مشروط وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ حوراں کا رشتہ اس کے بیٹے بابن سے کردے تو اس کے عوض بھاری رقم دے گا۔ وجہ یہ تھی کہ بابن حوراں پر بری طرح عاشق ہوچکا تھا۔ لالچی فطرت سونہڑاں خان کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔
راجا وہ واحد پہلوان تھا جسے بیک وقت دو اکھاڑوں میں اتارا گیا تھا۔ ایک جانب وہ اکھاڑے میں ملھ پہلوانوں سے نبردآزما تھا تو دوسری جانب اسے سونہڑاں خان سے محاذ آرائی درپیش تھی۔ وہ اس کی سازشوں سے ناواقف تھا مگر اس کے فتورِنیت سے آگاہ تھا۔
حوراں کے رشتے کی بات چلی تو سونہڑاں خان نے فوراً کینچلی بدل لی اور راجا کی ماں کو ٹالنے لگا۔ یہاں تک کہ مقابلے کا دن آگیا۔ گوٹھ بھاگل مستی کے تینوں زور آور پہلوان رجب دین عرف راجا، علی گوہر اور ارباب عرف بابن شریک ہوئے۔ لاڑکانہ میں اس وقت دو پہلوانوں گامن خان اور بابو کا طوطی بول رہا تھا۔ دیگر پہلوان بھی مقابلے میں شریک تھے۔
سب سے پہلے غیرمعروف پہلوانوں کا مقابلہ کرایا گیا اور ہارنے والوں کو آئوٹ کردیا گیا۔ پھر نامی گرامی پہلوانوں کا مقابلہ ہوا۔ علی گوہر کا مقابلہ گامن خان سے ہوا۔ پہلے گامن نے علی گوہر کو مات دی۔ پھر دوسرے رائونڈ میں علی گوہر نے گامن خان کو پچھاڑ دیا۔ ارباب عرف بابن کی باری نہ آسکی کیونکہ اس کا حریف آئوٹ ہوچکا تھا۔ البتہ اس نے دیگر پانچ ملھ پہلوانوں کو شکست دے کر ’’ون پاکٹ‘‘ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا تھا۔
سب سے آخر میں بابو اور راجا کا مقابلہ ہوا۔ بابو اور راجا پہلوان ’’تر‘‘ کے علاقے میں چوٹی کے حریف کہلانے لگے تھے۔ بابو قد میں راجا سے ذرا دبتا ہوا تھا مگر اس کا ڈیل ڈول کسی گینڈے کی طرح مضبوط اور ناقابل تسخیر تھا۔ وہ گورے چٹے رنگ کا مالک تھا۔
مقامی اخبارات میں صوبے کے جن تین پہلوانوں کا ذکر کثرت سے ہوتا تھا، ان میں بابو بھی تھا۔ باقی دو کا تعلق خیرپور اور کشمور سے تھا۔ ایک کا نام خدابخش پہلوان اور دوسرے کا شیرو زورآور تھا۔ یہ پہلوان شیرو جلاد کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ سیکنڈوں میں اپنے حریف کو بڑی مہارت سے چت کردیا کرتا تھا۔
اس کی اس قدر دہشت تھی کہ جب وہ اکھاڑے میں اپنے مدمقابل کے سامنے ملھ جماتا تو حریف پر اس کی ایسی دھاک بیٹھتی کہ تاڑنے والے فوراً اس کے چہرے سے ’’آدھی ہار‘‘ کو بھانپ لیا کرتے تھے۔
شیرو جلاد کو فائنل رائونڈ کا ’’کنگ‘‘ بھی سمجھا جاتا تھا اور اس وقت سب سے زیادہ ایوارڈ اسی کے پاس تھے۔ راجا پہلوان کے کانوں تک بھی خیرپور کے اس معروف پہلوان کے چرچے پہنچتے رہے تھے۔ اس کی دیرینہ آرزو تھی کہ فائنل رائونڈ میں وہ شیرو جلاد کے مقابل آئے اور اسے فوراً پچھاڑ کر رکھ دے۔
بہرطور ملھ پہلوان خدا بخش ، بابو اور شیرو جلاد کا ہرسو ڈنکا بجتا تھا جبکہ راجا پہلوان ان تینوں کے سامنے ابھی طفل مکتب کی حیثیت رکھتا تھا۔ تمام ضلعی سطح پر ہونے والے گیارہ مقابلوں میں راجا پہلوان نے نو میں شرکت کی تھی۔ اس میں اس نے چھ ملھ مقابلے جیتے اور تین ہارے تھے۔ اس طرح اسے ضلعی سطح پر دو پہلوانوں صیفل علی اور سکندر جانی پہلوانوں جیسی شہرت حاصل تھی۔ وہ ان دونوں پہلوانوں کو میہڑ میں ہونے والے ملھ مقابلوں میں ہرا چکا تھا۔
علاقائی مقابلوں میں اب اس کا مقابلہ چوٹی کے ملاکھڑا پہلوانوں سے تھا۔ راجا پہلوان کو چوٹیاں سر کرتے ہوئے ہمالیہ کی چوٹی تک پہنچنے کی شدت سے آرزو تھی اور وہ ہمالیہ کی چوٹی خیرپور کا شیرو جلاد تھا۔
ملھ کی پہلی چوٹی لاڑکانہ کے دو پہلوان گامن خان اور بابو تھے۔ راجا کے حلیف علی گوہر نے گامن کو بیسٹ آف تھری میں کانٹے کے مقابلے میں ہرا دیا تھا۔ اب راجا اور بابو کا آپس میں مقابلہ تھا۔
پنڈال میں شور ابھرا۔ کمنٹیٹر نے لائوڈاسپیکر پر چلّانا شروع کردیا تھا۔ بابو نے سخت حریفانہ رعونت کے ساتھ راجا پہلوان کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر شیر کی طرح جھپٹا۔ راجا کے توانا بدن میں بھی یکلخت بجلی دوڑ گئی۔ چھاتیاں ملیں، نیفوں پر چار ہاتھوں نے گرفت مضبوط کی اور زورآوری کا کھیل شروع ہوگیا۔
گینڈے جیسی مضبوط چھاتی اور ’’کیل‘‘ جیسے گڑے ہوئے پیروں کو زمین پر جما کر بابو نے راجا کو دھکیلا۔ راجا سمجھ گیا کہ بابو اسے ’’جاٹھا‘‘ (اوپر اٹھانا) لگانے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ ایک خطرناک دائو تھا۔ اس میں مدمقابل کے قدم زمین سے اٹھنے کی دیر ہوتی تھی اور حریف کے چاروں شانے چت ہونے کی… اس میں مدافعتی دائو لگانا بھی ازحد مشکل ہوتا ہے۔ اگر مغلوب حریف ایسی کوئی کوشش کرتا بھی ہے تو بھی ہار اس کا مقدر بنتی ہے۔ کوئی عام ملاکھڑا پہلوان ہوتا تو اگلے تین چار سیکنڈوں میں گیا تھا کام سے مگر یہ راجا تھا جو اپنے حریف کو حسرت نکالنے کا پورا موقع دیا کرتا تھا۔ اب اس کے حملے کا وقت تھا۔ وہ کیا کرتا ہے؟ ہزاروں نظریں اس پر جمی تھیں۔
ادھر بابو کو بھی پل کے پل احساس ہوگیا کہ اس نئے مدمقابل نے دنوں میں ضلعی سطح کی شہرت ایسے ہی نہیں پا لی تھی کیونکہ آج تک بابو کے اس دائو کے سامنے کوئی زیادہ دیر نہیں ٹک سکا تھا۔
جب راجا نے دیکھا کہ بابو نے اپنی حسرت نکال لی ہے تو اس نے اپنے ستونوں جیسی ٹانگوں کو ’’کیلوں‘‘ کی طرح زمین میں گاڑ لیا اور اپنے آہنی بازوئوں کے مضبوط حلقے میں بابو کو لمحے کے اندر جاٹھا مار کر اٹھا لیا اور دو چکریاں دے کر گرا دیا۔
پنڈال میں سمع خراش شور ابھرا۔ راجا نے پہلے ہی رائونڈ میں بابو پر اس کا دائو الٹ کر ملھ مات دے ڈالی تھی۔
دوسری بار پھر ان کی باری آئی۔ اس بار بابو زیادہ پُرجوش اور غضبناک نظر آرہا تھا۔ راجا پہلوان اور وہ آمنے سامنے ہوئے تو بابو ارنے بھینسے کی طرح راجا پر جھپٹا۔
اس کے بپھرے ہوئے انداز سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ رائونڈ جیت کر رہے گا۔ مگر دیکھنے والوں نے راجا پہلوان کو ایک اور دلکش انداز میں دیکھا۔ راجا نے بڑے آرام سے اس بار بھی تیسرے رائونڈ میں پہنچنے سے قبل ہی اسے ملھ مات دے ڈالی۔
راجا کے ہاتھوں بابو کو یہ بڑی عبرتناک شکست تھی۔ وہ بے چارہ خیرپور کے شیرو جلاد سے مقابلہ کرنے کا یقین کی حد تک تہیہ کئے بیٹھا تھا مگر خیرپور جانا تو درکنار، راجا نے اسے کشمور کے اکھاڑے تک بھی نہیں پہنچنے دیا تھا۔
گوٹھ بھاگل مستی کے یہ تینوں پہلوان لاڑکانہ کا میدان مارنے کے بعد نوٹوں اور پھولوں کے ہار کے ساتھ بڑے شاندار طریقے سے کشمور کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں ایک وڈیرے کی اوطاق میں انہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ اگلے دن اکھاڑا تیار تھا۔
خدا بخش کا ارباب علی عرف بابن کے ساتھ مقابلہ ٹھہرا اور بابن پہلے ہی ہلّے میں خدا بخش سے مات کھا گیا۔ دوسرے رائونڈ میں خدا بخش کا علی گوہر سے مقابلہ ہوا اور علی گوہر نے خدابخش کو ہرا دیا۔
دوسرے رائونڈ میں خدا بخش نے ارباب عرف بابن کو ہرا کے سیمی فائنل سے آئوٹ کردیا مگر بابن کے حلیف علی گوہر نے تیسرے رائونڈ میں خدا بخش کو مات دے دی۔
راجا کا مقابلہ کشمور کے دوسرے پہلوانوں سے ہوا جنہیں راجا نے تیسرے رائونڈ سے قبل ہی مات دے دی تھی۔ اب راجا اور علی گوہر سیمی فائنل کے پہلے رائونڈ میں آچکے تھے۔
سیمی فائنل کا دوسرا رائونڈ ایک روز بعد ہونا تھا۔ ادھر خیرپور سے ملاکھڑا کی خبریں ان تک پہنچ رہی تھیں جہاں پہلوان شیرو جلاد کی خوب دھوم مچی ہوئی تھی۔ وہ اور اس کے ساتھی میدان پر میدان مارے جارہے تھے۔ تاہم راجا اور علی گوہر کے کامیاب ملاکھڑے کے طوفان کے شور کی گونج بھی خیرپور تک پہنچ چکی تھی۔
راجا کے نمبر زیادہ تھے، اس لئے اسے نمبر ایک پہلوان سے نبردآزما ہونا پڑا۔ وہ اس سے جیت کر بالآخر فائنل کے پہلے رائونڈ میں پہنچ گیا جبکہ علی گوہر کے نمبر کم ہونے کے باعث اسے تین پہلوانوں کا سامنا تھا۔ یوں اس نے سخت اور جان توڑ مقابلے کے بعد یہ میدان بھی مار لیا۔
گوٹھ بھاگل مستی کے دو پہلوان لاڑکانہ اور کشمور کے دنگل میں شہرت کی دھوم مچاتے ہوئے خیرپور پہنچے۔ راجا اور علی گوہر کا تیسرا ساتھی ارباب بابن ہارنے کے بعد اس قدر مایوس ہوچکا تھا کہ وہ خیرپور میں ہونے والا فائنل مقابلہ دیکھنے کے بجائے واپس اپنے گوٹھ لوٹ گیا جبکہ راجا اور علی گوہر نے بہت اصرار کیا کہ وہ کم ازکم اپنے ساتھیوں کا فائنل مقابلہ دیکھنے کے لیے خیرپور چلے مگر وہ نہ مانا جس کا انہیں سخت افسوس ہوا۔ ایک ساتھی کی حیثیت سے بابن کو خیرپور جانا چاہیے تھا کیونکہ اس مقابلے میں وہ ہارا تھا، اس کے ساتھی نہیں… مگر یہ بات علی گوہر اور راجا نہیں جانتے تھے کہ ارباب کی اس واپسی میں اس کی حد سے زیادہ مایوس کا دخل تھا یا اس کے باپ خدا بخش کے دوست اور حوراں کے باپ سونہڑاں خان کے اس ’’اشارے‘‘ کا جو اس کے روانہ ہوتے وقت اس نے ارباب کو دیا تھا۔
٭…٭…٭
یہ فائنل مقابلہ بھی راجا کی ٹیم ہی نے جیتا تھا۔ اس میں راجا کو تعریفی اسنادکے ساتھ بہت سے پیسے بھی ملے۔ وہ بہت خوش تھا اور اس نے وہ پیسے سونہڑاں خان کے منہ پر دے مارے۔ بالآخر عیار سونہڑاں خان کو اپنی بیٹی حوراں کا رشتہ دیتے ہی بنی جبکہ ارباب عرف بابن منہ تکتا رہ گیا۔ اس کا سونہڑاں خان کے ساتھ کیا گیا گٹھ جوڑ بھی کام نہ آسکا۔ لیکن ارباب عرف بابن نے اس بات کو اپنے لیے غیرت اور اَنا کا مسئلہ بنا لیا اور اس کے دل میں راجا کے خلاف کینہ اور بغض کے جذبات پرورش پانے لگے۔ اس نے ایک خطرناک فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اس چیلنج مقابلے میں ہنگامے متوقع ہوتے ہیں اور وہ اس ہنگامے سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ اس کے لیے اس نے ایک پستول کا بندوبست کرلیا تھا۔ اب اس مقابلے کا اسے بھی بڑی بے چینی سے انتظار تھا۔
دو روز بعد ہی مقابلے کی تاریخ اور مقام کا اعلان کردیا گیا۔ چوتھے روز ملھ چیلنج کا مقابلہ ہونا تھا۔ مقابلے کا دن جیسے جیسے قریب آرہا تھا، لوگوں میں جوش و خروش بڑھتا جارہا تھا۔ سیکورٹی کے انتظامات تین روز پہلے ہی کرلئے گئے تھے جو بہت سخت تھے۔ اس وسیع و عریض میدان کے بیچوں بیچ جہاں صوبائی شہرت یافتہ ملھ پہلوانوں شیرو جلاد اور راجا کے درمیان مقابلے کا اکھاڑا بنایا گیا تھا، اس کے گرد دائرے کی صورت میں آہنی پنجرہ نما چھ فٹ اونچی دیواریں بنا دی گئی تھیں اور وہاں سیکورٹی کے مسلح اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا تھا۔
سیکورٹی کا عملہ اس جال نما آہنی باڑھ کے عقب میں تعینات تھا۔ اس کے بعد تماشائیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ سیکورٹی والوں کا کام تماشائیوں کی مکمل جامع تلاشی لے کر انہیں سیکورٹی سرکل کے درمیانی حصے میں داخل ہونے کی اجازت دینا تھا۔ سیکورٹی عملے کو کسی تماشائی کی مشکوک حرکت دیکھ کر اسے گولی مار دینے کے سخت احکامات جاری کئے جا چکے تھے۔
تماشائیوں کے داخلے کے لیے باقاعدہ ٹکٹوں کا اجراء کیا گیا تھا جس کی آمدنی میں مقامی انتظامیہ کا بھی حصہ تھا مگر اس عظیم الشان اور سنسنی خیز ملھ چیلنج مقابلے کو دیکھنے کی ہر ایک کو آرزو تھی لہٰذا جسے ٹکٹ نہیں ملا، اس نے گورکھ ہل کی پہاڑیوں اور ان پہاڑیوں کے دامن سے گزرتی ریلوے لائن میں کھڑے ہوکر دور سے ہی یہ مقابلہ دیکھنے کی جگہ تلاش کرلی تھی۔
دونوں چوٹی کے ملھ پہلوانوں کو ڈھول تاشوں پھولوں اور نوٹوں کے ہار پہنا کر سفید گھوڑوں پر لایا گیا تھا۔ اس ملھ مقابلے کی کمنٹری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس سے شائقین میں جوش و غیظ کے جذبات بھڑکنے کا احتمال تھا۔ سونہڑاں خان اور بابن پہلوان بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔
بالآخر وہ سنسنی خیز لمحہ آن پہنچا جب دو مخالف سمتوں سے دونوں ملھ پہلوانوں کو اکھاڑے میں اتارا گیا۔ دبادبا سا شور ابھرا۔ دیکھنے والی آنکھیں یک ٹک وَا ہوگئی تھیں۔ دل جیسے دھڑکنا بھول گئے تھے۔ حواسوں کو چپ سی لگ گئی تھی۔ رگوں میں خون کی گردش سنسناہٹ بکھیر رہی تھی۔ ایک اضطراب کی لہر تھی جس میں خوں رنگ کی آمیزش سی محسوس ہوتی تھی۔
دونوں دیرینہ حریف ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آمنے سامنے ہوئے تو راجا پہلوان نے شیرو جلاد کی آنکھوں میں انانیت کے شعلوں کے علاوہ پُرغیظ نفرت کی چنگاریوں کو بھی دبے ہوئے پایا۔ اسے شیرو جلاد کے پہاڑ سے ڈیل ڈول میں طاقت کا طوفان سا بپا محسوس ہوا۔
دونوں پہلوانوں کی ستونوں ایسی ٹانگوں نے حرکت کی اور فضا جیسے ساکت ہوگئی۔ دونوں پہلوانوں کی چھاتیاں ملیں۔ گویا ڈبلائی اور گورکھ ہل کی دو چٹانیں آپس میں ٹکرائیں۔
راجا پہلوان نے اپنے کان میں شیرو جلاد کی سرسراتی ہوئی سرگوشی سنی۔ ’’نیفے پر ہاتھ ڈالے گا یا پہلے پنجے لڑائے گا؟‘‘
راجا نے بھی اسی سناٹے دار سرگوشی میں اس کے کان میں کہا۔ ’’جو تیری حسرت ہو، نکال لے آج… پھر شکایت نہ کرنا۔‘‘
راجا کی اس سرگوشی نے گویا جلتی پر تیل کا کام کیا اور شیرو جلاد نے ایک خوفناک غراہٹ کے ساتھ اس کے نیفے سے ہاتھ ہٹا لیا اور پھر دونوں، ایک دوسرے کو چھاتیوں ہی کے زور پر پیچھے دھکیلنے کے لیے اپنے پہاڑ سے وجود کی پوری قوت صرف کرنے لگے مگر کوئی بھی ایک دوسرے کو ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹا سکا۔
پھر اچانک شیرو جلاد نے دوسرا دائو کھیلا اور راجا پہلوان کے دونوں پنجوں میں اپنے پنجوں کے انگوٹھوں کی یکدم قینچی بنا کر اس کی کلائیاں موڑنے کی کوشش کی۔ راجا نے پل کے پل اپنے پنجوں کی انگلیوں سے اس کے انگوٹھوں کی قینچی توڑ ڈالی بلکہ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں موڑ کر دونوں پنجے بھی مروڑ ڈالے اور پھر یکدم ایک چکر لگا کر شیرو جلاد کو اپنے اوپر لاد کر جھکا تو شیرو کا جسم فضا میں کسی کھلونے کی طرح لہرا گیا۔
مجمع میں زور کا شور ابھرا۔
دوبارہ زمین پر آتے آتے شیرو جلاد نے اپنی مضبوط ٹانگوں کو زمین پر ’’کیل‘‘ کرکے توازن قائم کیا اور جب تک راجا پلٹتا، شیرو نے اس کی پشت کے گرد اپنے دونوں ہاتھوں کا حصار قائم کرکے گرفت جما دی اور اسے اوپر اٹھا لیا۔ پھر زوردار پھیریاں دیتے ہوئے راجا جیسے پہاڑ وجود کو پرے اُچھال دیا۔ مگر راجا نے زمین پر آتے ہی اٹھنے میں مطلق دیر نہیں لگائی۔
’’کیا یہی بچوں والے دائو کھیلنے کی پیشکش کی تھی تو نے…؟‘‘ راجا نے مسکرا کر بڑے سکون کے ساتھ کہا۔
یہ سن کر شیرو کے پورے وجود میں غیظ و غضب کی لہر سی اٹھی۔ راجا کے اس تازیانے نے اس کی انانیت کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس کے حلق سے غراہٹیں برآمد ہونے لگیں۔
شیرو جلاد نے راجا کے پہاڑ سے وجود کو جاٹھا (اوپر اٹھا کے پٹخنے کی کوشش) لگانے کی کوشش کی مگر اسی وقت راجا نے اپنی دائیں ٹانگ کا اڑنگا، شیرو کی بائیں ٹانگ پر لگایا۔ شیرو لڑکھڑایا تو راجا نے پل کے پل اپنی دونوں ٹانگوں کو میخ کی طرح زمین میں گاڑا اور اپنے دونوں ہاتھ بہ دستور پہلوان شیرو کے نیفے پر جمائے اپنے مضبوط اور ناقابل تسخیر بازوئوں کے حلقے میں اس کی چھاتی اور کاندھوں کو جکڑ کر زوردار پھیری دی جس کے باعث شیرو جلاد کے دونوں قدم زمین سے اکھڑ گئے اور وہ چاروں شانے چت ہوگیا۔
اس شاندار فتح پر راجا نے سیدھے کھڑے ہوکر فاتحانہ چیخ ماری اور اچھلتا ہوا واپس اپنی جگہ کی طرف پلٹ گیا۔
پورا پنڈال مسرت بھرے شور سے گونج اٹھا تھا۔ راجا کے ہاتھوں پہلی شکست پر پہلوان شیرو جلاد کا چہرہ ناکامی کے احساس سے بالکل مسخ ہوکر رہ گیا تھا۔ وہ اپنے قریبی ساتھیوں میں جا چکا تھا اور نئے رائونڈ کے لیے بالکل تیار تھا۔
پھر دونوں پہلوانوں کو دوسرے رائونڈ کے لیے میدان میں اتارا گیا۔ شیرو جلاد نے غراہٹ سے مشابہ آواز کے ساتھ راجا پر جھپٹا مارا۔ اس نے راجا کے نیفے پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے اس کی گردن کے گرد اپنا دایاں بازو حمائل کرتے ہوئے راجا کی گردن کے گرد گرفت مضبوط کرلی۔ پھر دوسرے ہی لمحے اپنے بھاری بھرکم وجود کا سارا بوجھ راجا کی گردن پر ڈالتے ہوئے اپنے پورے بدن کے ساتھ جھول گیا۔
یہ بے شک ملھ کے ضوابط کے خلاف تھا مگر چونکہ یہ چیلنج تھا اور دونوں حریفوں نے پیشگی فری اسٹائل کی اجازت لے لی تھی مگر پھر بھی شیرو جلاد کے اس خلاف اصول دائو لگانے پر راجا کے حمایتیوں نے شور مچایا۔ ارباب ان میں شامل تھا۔ پستول اس کے ہاتھ میں تھا جو اجرک میں چھپا ہوا تھا۔ جیسے ہی مشتعل افراد کو دبانے کے لیے کسی سیکورٹی اہلکار نے فائر کیا، ارباب نے موقع تاک کر راجا کے سر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ ارباب وہاں سے فوراً کھسک گیا۔
اس مقابلے میں جو بلوہ اور ہنگامہ ہوا، اس میں کئی افراد مارے گئے جن میں راجا بھی شامل تھا۔ اس کی لاش گوٹھ بھاگل مستی لائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ کسی کو ارباب عرف بابن کے اس جرم کا پتا نہ چل سکا۔ ہنگامے میں چلنے والی گولی سیکورٹی اہلکار کی بھی ہوسکتی تھی تاہم برائے نام تفتیش کی گئی اور راجا اور دیگر مرنے والے چند لوگوں کے خون ناحق کو ہنگامے کا شاخسانہ کہہ کر کیس داخل دفتر کردیا گیا۔
بابن اپنی سازش پر خوش تھا۔ اب اس کا میدان صاف تھا۔ اس نے فوراً حوراں کے باپ سونہڑاں خان کو گرین سگنل دے دیا۔ رقم کا لالچی سونہڑاں خان بھی راجا کے مرنے پر خوش تھا۔ حوراں، راجا کے غم میں زندہ لاش کی مثل ہوکر رہ گئی تھی۔ اسے سکتہ ہوگیا تھا۔ کسی نے اس کی حالت پر توجہ نہ دی اور ایک زندہ لاش کو ارباب عرف بابن کے ساتھ بیاہ دیا گیا۔ ارباب سے شادی کے دن ہی حوراں کا سکتہ اس کی موت نے توڑا۔ ارباب دنگ رہ گیا۔ جس کی خاطر اس نے خون کیا، وہ رائیگاں جاتے دیکھا تو اس کا اپنا دماغی توازن بھی قائم نہ رہ سکا اور پاگل ہوگیا۔
آج بھی گوٹھ کے شرارتی بچے اسے پتھر مارتے ہیں اور ارباب خود کو ان کی مار سے بچاتا بھی نہیں۔ کبھی کوئی راہ گیر ان بچوں کو ڈانٹ کر بھگا دیتا ہے ورنہ ارباب اسی طرح زخمی پڑا رہتا ہے۔ وہ اب جیسے اپنے مکافاتِ عمل کی سزا بھگت رہا تھا۔
٭…٭…٭
میندرو ابھی بابل خان سے مقابلے کی تیاریوں میں مصروف تھا کہ اچانک کھجی والے بابا کا انتقال ہوگیا۔ ان کی موت عام بات نہ تھی۔ کم ازکم میندرو کے لیے بالکل نہیں۔ اسے حلیماں کی فکر ستانے لگی کیونکہ وہ کھجی والے بابا کی موت کے بعد اکیلی ہوگئی تھی۔ اس کی ذمہ داری اب گوٹھ کی ایک ادھیڑ عمر ماسی مراداں نے سنبھال لی تھی۔ وہ خود بھی اکیلی تھی۔
میندرو نے اپنے باپ سے کہا کہ وہ حلیماں سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
’’یہ تو کیا کہہ رہا ہے پُٹ…؟ پرسوں تیرا مقابلہ ہے اور معمولی نوعیت کا بھی نہیں، صوبائی شہرت یافتہ بابل پہلوان کو تو نے چیلنج دے رکھا ہے۔‘‘ باپ نے اپنا سر پکڑ لیا۔
حاجی مکھڑوں خان اپنے بیٹے کی دھمکی سے مجبور ہوکر بالآخر ماسی مراداں کے ہاں پہنچا۔ وہ بے چاری حیران و پریشان رہ گئی۔ انکار کی وہ کیا جرأت کرتی۔ وہ خوش تھی۔ حلیماں سے عندیہ لیا اور پھر سب کچھ جھٹ پٹ ہوگیا۔
حلیماں کو اپنی پہلی اور آخری محبت کے روپ میں پا کر میندرو خان خوشی سے نہال ہوگیا تھا جبکہ اس کا باپ مکھڑوں خان متفکر رہنے لگا تھا۔ جانے کس نے اسے یہ پٹی پڑھا دی تھی کہ میندرو خان شادی کے بعد ملاکھڑے پر توجہ قائم نہیں رکھ پائے گا مگر چند روز بعد ہی میندرو نے باپ کے یہ سارے خدشات غلط ثابت کردیئے۔
شادی کے بعد وہ اور زیادہ ملاکھڑے پر توجہ دینے لگا تھا۔ پورے ذوق و شوق کے ساتھ بڑے بڑے نامی گرامی پہلوانوں سے مقابلے کئے۔ کچھ ہارے، کچھ جیتے۔
ان دنوں لاڑکانہ کے ظفر راجپوت کی شہرت ہر سو پھیل رہی تھی۔ میندرو خان نے اسے خیرپور کے اکھاڑے میں چار دوسرے پہلوانوں کے ساتھ پچھاڑا۔ پھر شکارپور میں ملاکھڑا مقابلے ہوئے۔ اس میں ملھ چیمپئنز ٹرافی رکھی گئی تھی۔ یہ بہت سخت مقابلہ تھا۔
منٹھار سولنگی اور بابل خان بھی مقابلے میں شامل تھے۔ مقابلے کی تیاریاں زوروشور سے شروع ہوگئی تھیں۔
مقابلے میں ابھی چار روز باقی تھے کہ حلیماں کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ مرض معمولی نوعیت کا سمجھا گیا اور گوٹھ کے نیم حکیم سے دوا لے لی گئی۔ عارضی طور پر آرام بھی آگیا مگر دوسرے دن پھر اس کی طبیعت بگڑی۔ تیز بخار نے آن لیا۔ دوبارہ حکیم کو دکھایا گیا۔
مقابلے میں دو روز باقی رہ گئے تھے اور حلیماں کی طبیعت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ میندرو خان کو تشویش ہوئی۔ اب تک وہ اپنے باپ کے کہنے پر حلیماں کو گوٹھ کے حکیموں کو ہی دکھا رہا تھا۔ جب اس سے افاقہ نہ ہوا تو وہ حلیماں کو لے کر لاڑکانہ آگیا اور اسے سول اسپتال میں داخل کرا دیا۔ حلیماں کی بیماری سنجیدہ نوعیت اختیار کرچکی تھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس کے پیٹ میں رسولی تھی جسے بڑے آپریشن کے ذریعے نکالنا ضروری تھا ورنہ کینسر کا خطرہ تھا۔ ماسی مراداں کو حلیماں کے ساتھ اسپتال کے جنرل وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ میندرو، حلیماں کو چھوڑ کے جانے پر رضامند نہ تھا مگر باپ کے دبائو اور اسپتال کے قوانین کے مطابق عورتوں کے جنرل وارڈ میں تیمارداری کے لیے ایک عورت کو ہی رہنے کی اجازت تھی۔ ناچار اسے لوٹنا پڑا۔
گوٹھ آنے پر باپ نے یاد دلایا کہ پرسوں کشمور میں دنگل ہے جس کے لیے کل کشمور روانہ ہونا ہے۔ اس کے باپ کو اس بات کی فکر کھائے جارہی تھی کہ اگر میندرو کا دھیان حلیماں کی بیماری کی طرف سے نہیں ہٹا تو وہ کشمور کے دنگل میں خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے گا۔
بالآخر دونوں باپ بیٹے چند خاص آدمیوں کے ساتھ ایک لاری میں سوار ہوکے کشمور جا پہنچے۔
اگلے دن مقابلہ تھا اور ادھر حلیماں کے پیٹ کا بڑا آپریشن ہونا تھا۔ مقابلہ شروع ہوا۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے ملھ پہلوان ایک دوسرے کے ساتھ نبردآزما ہوئے۔ پھر اس کے بعد دو پہلوانوں نے اپنے حریفوںکو ملھ مات دے کر پہلے درجے کے پہلوانوں کا درجہ حاصل کرلیا۔
منٹھار کا میندرو سے مقابلہ ہوا۔ دیکھنے والوں کو پوری توقع تھی کہ میندرو، منٹھار کو پہلے ہی ہلّے میں زمین بوس کردے گا مگر معاملہ ان کی توقع کے برخلاف ہوا۔ میندرو خان، منٹھار سولنگی کو بہت دیر بعد بڑی مشکلوں سے شکست دے سکا تھا اور پھر جب اس کا دیرینہ حریف بابل خان اس کے مقابلے پر آیا تو میندرو خان تینوں ہی رائونڈ میں اس سے ہار گیا۔ اسے ملھ مات ہوگئی تھی۔
میندرو خان کو دکھ تھا مگر اس کی توجہ حلیماں کی طرف تھی۔ جانے کیوں اس کا دل باربار بے کل ہوا جارہا تھا۔ اس کے باپ کا غم سے برا حال تھا۔ میندرو خان نے باپ کا سامنا نہیں کیا۔ وہ تنہا ہی کشمور سے روانہ ہوگیا اور سیدھا لاڑکانہ کے اسپتال پہنچا۔ حلیماں کے اندر رسولی نے درد کی لہریں جگانا شروع کردی تھیں اور وہ جان کنی کے عالم میں تڑپ رہی تھی۔ اس کے لبوں پر باربار میندرو کا نام آرہا تھا۔
میندرو کے پہنچتے ہی حلیماں نے کچھ سکون کا سانس لیا مگر اس کا پورا جسم تیز بخار میں پھنک رہا تھا۔ ڈاکٹر نے آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اگلے دن ہی حلیماں کا انتقال ہوگیا۔
گوٹھ کے لوگوں نے دیکھا کہ اب کھجی والے بابا کی جھونپڑی میں میندرو بیٹھنے لگا تھا۔ (ختم شد)