Kiss Haal Main Ho ? | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1053
ماریہ میرے ساتھ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی تھی۔ وہاں اور بھی لڑکیاں ملازم تھیں، مگر وہ ان سب سے مختلف تھی۔ میری اس سے دوستی ان دنوں ہوئی جب وہ زندگی کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑی تھی جہاں مایوسیوں اور ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ عین ممکن تھا کہ وہ اپنی زندگی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر ڈالتی کہ میں نے دوست کے روپ میں مسیحا بن کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ جس دفتر میں وہ پہلے کام کرتی تھی وہاں ایک عمررسیدہ شخص سے اس کی سلام دعا ہوگئی۔ وہ دفتری امور میں اس کی مدد کرتا اور جہاں کام سمجھ میں نہ آتا، اس کی رہنمائی بھی کر دیتا۔ اس کا نام منہاج تھا۔ ساٹھ برس عمر تھی، اولاد جوان تھی، تبھی ماریہ کو اس سے بات کرنے میں جھجک محسوس نہ ہوتی جبکہ دفتر میں ساتھ کام کرنے والے دیگر نوجوانوں سے حجاب محسوس کرتی تھی۔ منہاج نے اس کے ساتھ اس قدر شفقت بھرا رویہ رکھا کہ وہ دل سے اس کی قدر کرنے لگی۔ یوں اس آدمی نے ماریہ کے گرد اعتبار کا ایک ایسا جال بُن دیا جس سے وہ باہر نہ نکل سکی۔
لاکھ احتیاط کرو، لوگ کہاں بخشتے ہیں۔ دفتر میں ان دونوں کے بارے میں باتیں شروع ہو گئیں۔ ہر شخص انہیں غلط نگاہ سے دیکھنے لگا۔ پھر تو بدنامیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بقول ماریہ ’’بالآخر پریشان ہو کر اس نے منہاج سے شادی کر لی۔‘‘ منہاج کو پہلی بیوی اور اس کے رشتے داروں کا خوف تھا لہٰذا انہوں نے یہ شادی ایک دوردراز علاقے میں چھپ کر کی تھی، جہاں منہاج کی بہن کا گھر تھا۔ یہ کچھ دن بہن کے گھر قیام پذیر رہے۔ شادی کرنے کے بعد واپس آ کر ماریہ نے اپنے گھر والوں پر ظاہر کر دیا کہ اس نے اپنے افسر سے نکاح کر لیا ہے مگر منہاج یہ نہ کر سکا۔ اس نے نکاح کو گھر والوں سے خفیہ رکھا۔
ماریہ کے والدین کو اس خبر سے صدمہ ہوا۔ انہوں نے بیٹی سے ناتا توڑ لیا۔ کہا کہ جب ہمیں بتائے بغیر شادی کر لی ہے تو یہاں کیوں آئی ہو۔ جائو اور جا کر اپنے شوہر کے گھر رہو۔ اب یہاں مت آنا۔ وہی ہوا جو ایسی شادیوں کا انجام ہوتا ہے۔ ایک بچے کی ولادت ہوئی جو چند ماہ زندہ رہا۔ اس کی وفات کے بعد دونوں میں اختلافات شروع ہو گئے۔ بالآخر منہاج نے ماریہ کے پاس آنا جانا چھوڑ دیا کیونکہ کسی نے اس کی پہلی بیوی کو خبر کر دی تھی۔
ان دنوں بچے کی وفات سے وہ بے حد آزردہ تھی کہ ایک دن دروازہ بجا۔ در کھولا تو سامنے ایک عورت کھڑی تھی۔ اس نے غصے سے پوچھا۔ کیا تم ماریہ ہو؟ بڑی دقتوں سے تمہارا پتا ملا ہے۔ ہاں میں ماریہ ہوں،تم کون ہو، اندر آ جائو، باہر کیوں کھڑی ہو۔ اندر تو میں آئوں گی ہی، مگر پہلے یقین تو کر لوں کہ ماریہ تم ہی ہو۔ ہاں بھئی میں ہی ہوں ماریہ، آخر بات ہے کیا؟ تمہارے شوہر کا نام منہاج ہے۔ ہاں! مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو، کیا کام ہے تمہیں ان سے۔ کیا وہ گھر پر ہیں، ضروری کام ہے۔ وہ گھر پر نہیں ہیں، جو کام ہے مجھے بتا دو۔ ابھی بتاتی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ عورت اندر آ گئی۔ اس نے اپنی گاڑی ذرا دور رکوائی تھی۔ کار میں بیٹھے دو آدمیوں کو اشارہ کیا، وہ بھی گاڑی سے اُتر کر گھر میں گھس آئے۔
یہ منہاج کی پہلی بیوی اور اس کے بھائی تھے۔ انہوں نے آتے ہی ماریہ کا گھر تہس نہس کر دیا۔ گھر کی ہر شے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، پھر گھر کی قیمتی اشیاء کو صحن میں رکھ کر آگ لگا دی اور منہاج کی پہلی بیگم یہ دھمکی دے کر چلی گئی کہ اگر میرے شوہر کا پیچھا نہ چھوڑا تو تمہیں بھی اس طرح جلا کر راکھ کر ڈالوں گی۔
وہ لوگ چلے گئے اور ماریہ دیوار سے ٹیک لگا کر نجانے کب تک گم صم رہی۔ جب حواس بحال ہوئےتو احساس ہوا کہ یہ کیا ہو گیا۔ منہاج کے برادر نسبتی بہت طاقتور اور غضبناک لوگ لگے۔ وہ واقعی بلاخوف و خطر اس کو تباہ و برباد کر سکتے تھے۔ ماریہ پچھتانے لگی، اس نے کیوں ایک شادی شدہ بال بچے دار آدمی سے شادی کر کے اپنی جان مصیبت میں پھنسا لی تھی۔ عمر رسیدہ آدمی سے عمر کا فرق اتنا تھا کہ ذہن بھی نہ ملتا تھا۔ دونوں کی سوچوں میں زمین اور آسمان کا فرق اب واضح ہو گیا تھا۔ ایک بچہ ہی ان کو ملائے رکھنے کو درمیان کی کڑی تھا، وہ بھی نہ رہا تھا۔
جب سے منہاج کی پہلی بیوی کو شوہر کے نکاح کا علم ہوا تھا، اس نے اپنے بھائیوں سے شوہر کو دہشت زدہ کر کے ایسا بندوبست کر دیا کہ وہ ماریہ کے پاس آنے سے ڈرتا تھا، وہ اکیلی کب تک اس دور دراز ویرانے میں رہتی جبکہ والدین نے بھی اس سے منہ پھیر رکھا تھا۔ ازحد پریشان تھی، رات دن روتی تھی، نوکری بھی چھوٹ گئی تھی اور خرچہ تو کجا، شوہر خبر لینے تک نہ آتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک ایسی ہی دلدل میں پھنس چکی ہے جس سے نکلنا مشکل ہے جو ایک جہنم سے کم نہیں ہے کیونکہ اس کی سوکن، اس کا سکون ہی نہیں، جینا بھی حرام کر دینے کے درپے ہے۔ اسے اپنی جان کا خوف ہے، اوپر سے فاقے ہیں۔
ماریہ نے کمپنی میں کسی کو اپنے حالات نہ بتائے تھے۔ مبادا اسے نوکری سے نکال دیا جائے، وہ اب آزادانہ گھوم سکتی تھی اور نہ کسی سے اپنے حالات کا ذکر کر سکتی تھی۔ انتہائی مجبوری کے عالم میں اسے یہ نوکری حاصل ہوئی تھی۔ والدین کے گھر کے دروازے بھی اس پر بند تھے۔ جاتی تو کہاں جاتی۔ اس نے اپنی مظلومیت کی داستان میرے ایک کزن وصی کو بھی کچھ اس انداز سے سنائی کہ وہ بھی پریشان ہو گیا۔ وصی بھی ہمارے ساتھ کام کرتا تھا، اس کے دل میں ماریہ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے۔ آخرکار کافی غور و خوض کے بعد اس نے یہ فیصلہ کیا کہ ماریہ کی مدد کرنی چاہیے اور اسے اس خوف سے نکالنا چاہیے جس میں وہ گھٹ گھٹ کر جی رہی ہے۔ وصی نے مجھے اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا تو میں نے کہا کہ سوچ سمجھ کر اس کی طرف قدم بڑھائو۔ ماریہ کو ابھی طلاق نہیں ہوئی۔ وہ شادی شدہ ہے اور تمہاری بھی منگیتر چچا کی بیٹی ہے جو تمہارا انتظار کر رہی ہے۔
اس نے کہا۔ آئندہ کی آئندہ دیکھی جائے گی، ابھی تو ہمیں ماریہ کو اخلاقی سہارا دینا چاہیے تاکہ اسے معاشرے میں پھر سے باعزت مقام مل جائے۔ میں نے ماریہ کو تسلی دی کہ اب تمہاری سوکن اور اس کے بھائی تمہیں مزید بلیک میل نہیں کر سکیں گے، ہم لوگ تمہارے ساتھ ہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ خوش ہو گئی جیسے ایک نئی زندگی مل گئی ہو۔
اس دن کے بعد اس نے وصی سے بات چیت شروع کر دی۔ دونوں کا فون پر باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد وصی نے کہا۔ اگر ماریہ اپنے شوہر سے طلاق لے لے تو وہ اسے حقیقی سہارا دینے کو تیار ہے۔ یوں وہ چھپ چھپ کر بات کرنے کی بجائے شرافت سے شادی کر کے بلاخوف و خطر زندگی گزار سکیں گے۔ وصی سے میں نے یہ سنا تو دھچکا سا لگا، کیونکہ اس کی منگیتر سے بھی ملاقات رہتی تھی، یہ ہمارے رشتے دار تھے، وہ اچھی لڑکی تھی، وصی سے محبت کرتی تھی، یقیناً اسے منگنی ٹوٹ جانے کا بہت صدمہ ہوتا۔ مجھے معلوم تھا ایسے معاملات میں پند و نصائح کام نہیں کرتے لہٰذا خاموش ہو رہی کہ ذرا وقت آگے سرکے گا، وصی پر سب واضح ہو جائے گا۔
اس بات کو چھ ماہ گزر گئے۔ ماریہ اور وصی میں دوستی بڑھتی رہی مگر وہ شوہر سے طلاق حاصل نہ کر سکی، مجھے شک گزرا، کہیں یہ غلط بیانی سے تو کام نہیں لے رہی، اگر شوہر نے اس سے دوری اختیار کر لی تھی اور خرچہ بھی نہیں دیتا تھا اور سوکن کے رشتے داروں سے جان کا بھی خطرہ تھا تو وہ ٹھوس قدم کیوں نہ اٹھا رہی تھی، تامل سے کام لے رہی تھی جبکہ وصی اسے قانونی مدد فراہم کرنے پر آمادہ تھا۔
ایک دن ماریہ کو میں نے کریدا۔ وہ بولی۔ دراصل منہاج کے پاس بہت دولت ہے، تو میں کیوں خالی ہاتھ اس کی زندگی سے نکل جائوں جبکہ اس شادی میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔ چاہتی ہوں اس سے ایک موٹی رقم اینٹھ لوں، پھر طلاق لوں۔ وہ وصی سے کہتی کہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی مگر کچھ انتظار کرو۔ میں اس دلدل سے جلد نکل آئوں گی۔ اس کشمکش میں ایک سال اور گزر گیا۔ وہ جب ملتی یہی کہتی، میرا برا حال ہے اگر آپ لوگوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تو میں مر جائوں گی۔
اب وصی زیادہ پریشان رہنے لگا۔ وہ اس مسئلے کا شریفانہ حل چاہتا تھا یعنی ماریہ اس سے کوئی ناتا نہ رکھے یا پھر شوہر سے طلاق لے کر اس کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جائے تاکہ لوگوں کو مزید ان پر انگلیاں اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ وہ ماریہ سے کوئی خفیہ تعلق نہ رکھنا چاہتا تھا، اگر دوری اختیار کرتا تھا تو وہ رونے لگتی تھی اور وہ پریشان ہو جاتا۔ انہی دنوں اس کی سوتن کے بھائی کمپنی میں آگئے ۔ انہوں نے کمپنی کے مالک سے ماریہ کے بارے میں باتیں کیں جس سے وہ مشکوک ہوگئی۔ وہ بے حد پریشان تھی، کیونکہ مشکوک چلن ہو جانے سے اس کی نوکری دائو پر لگ سکتی تھی۔
وصی نے ان لوگوں کی باتیں سن کر ماریہ کے بارے میں جاسوسی شروع کر دی، تبھی معلوم ہوا کہ وہ وصی کے علاوہ ایک اور نوجوان سے بھی ربط ضبط رکھتی ہے، وہ اس کا پرانا محلے دار تھا، اسے بھی اپنی مظلومیت کی داستان سنا کر دھوکے میں رکھا ہوا تھا کہ شوہر برا آدمی ہے۔ برائی پر مجبور کرتا ہے لہٰذا اس سے طلاق لینا چاہتی ہے۔ اس نوجوان کا نام بلال تھا۔ وصی نے ماریہ سے بلال کے بارے میں پوچھا تو وہ گھبرا گئی۔ بولی۔ تم جہاں چاہو شادی کرلو، فی الحال میری ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ سن کر وصی کو دکھ ہوا۔ وہ بلال سے جاکر ملا۔ اس نے بتایا کہ ماریہ نے اس کے ساتھ شادی کا وعدہ کر رکھا ہے، جونہی شوہر سے طلاق ملے گی وہ اسے سہارا دے دے گا۔
وصی نے مجھے بتایا تو مجھے بھی دکھ ہوا۔ مگر یک گونہ خوشی بھی ہوئی کہ وقت پر اس کی حقیقت کھل گئی اور ہمیں ایک بڑی کشمکش سے نجات مل گئی۔ خاص طور پر کمپنی میں وصی کی نیک نامی دائو پر لگی تھی۔ میں نے اپنے کزن کو سمجھایا تو اس نے ماریہ سے کنارا کر لینے میں عافیت جانی۔ ایک وقت تھا کہ ماریہ نے اسے بہت اکسایا تھا، اپنی منگنی ختم کرو۔ اس نے والدین سے بھی کہہ دیا تھا کہ وہ آئمہ سے شادی نہ کرے گا۔ آپ چچا جان کو جواب دے دیں۔ صد شکر کہ والدین نے تحمل سے کام لیا۔ لڑکی کے والدین کو منگنی ختم کر دینے کا نہ کہا تھا ورنہ آئمہ بے چاری کے اوپر قیامت بیت جاتی۔ ماریہ نے ویسے ہی شادی نہ کرنی تھی، پھر وصی اِدھر کا رہتا اور نہ اُدھر کا۔
وصی کے رویّے سے اس کے والدین دو سال پریشان رہے تھے کیونکہ اس کی منگیتر نہایت شریف اور پاکیزہ اطوار کی لڑکی تھی اور وصی محض ماریہ کی خاطر اس کو چھوڑ رہا تھا۔ اس بار جب والدین نے وصی کو سمجھایا تو وہ مان گیا اور آئمہ سے شادی کی ہامی بھر لی۔ ماں باپ خوش ہو گئے، انہیں سکون مل گیا۔
کچھ عرصے بعد ماریہ نے بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے۔ وہ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ بیرون ملک چلا گیا ہے۔ بلال نے بھی اس سے شادی نہ کی، اب پھر وہ ازحد پریشان تھی۔ مگر میں اس کے لیے کچھ نہ کر سکتی تھی کہ وہ ایک نہ سلجھنے والی گتھی بن چکی تھی۔ ایک دن اس کے بتائے ہوئے پتے پر اس کے والدین کے گھر گئی اور انہیں ان کی بیٹی کی مصیبتوں سے آگاہ کیا تو وہ ماریہ کو گھر لانے پر آمادہ ہو گئے۔ والدین جیسے بھی سخت دل ہوں، اولاد کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکتے۔ بالآخر انہوں نے بیٹی کو گھر میں رکھنا قبول کر لیا۔ یوں ایک بھٹکی ہوئی روح کو اس کا کھویا ہوا سائبان مل گیا۔ میری شادی ہو گئی تو میں نے ملازمت چھوڑ کر گھر بسا لیا۔ اس کے بعد میں کمپنی گئی اور نہ ماریہ سے مل سکی۔ مجھے نہیں معلوم وہ اب کس حال میں ہے۔ تاہم یک گونہ سکون ہے کہ والدین سے اس کی صلح ہو گئی تھی۔ (ایس… کراچی)