Sunday, May 19, 2024

Kiss Jurm Ki Saza | Teen Auratien Teen Kahaniyan

اس روز ہم پنڈی سے اسلام آباد جارہے تھے۔ آگے کوہ مری جانے کا بھی پروگرام تھا۔ دراصل مجھ کو سیر کرانے کی خاطر محمود نے چھٹیاں لی تھیں کیونکہ بہت دنوں سے میں ان سے مری چلنے کی فرمائش کررہی تھی۔ موسم بہت اچھا تھا۔ میں کافی عرصے سے گھر سے نہ نکلی تھی، تبھی طبیعت ’’ڈل‘‘ سی ہورہی تھی۔
بتاتی چلوں کہ میرے شوہر ایک اعلیٰ افسر تھے اور سرکاری امور کی وجہ سے کافی مصروف رہتے تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے میرے لئے وقت نکالا تھا۔ یہ جاتی گرمیوں کے دن تھے، موسم میں خوشگوار سی خنکی گھلی ہوئی تھی۔ میں نے ایک کی بجائے دو شالیں رکھ لیں کہ اگر شام کو کوہ مری میں زیادہ ٹھنڈ ہوئی تو اوڑھ لوں گی۔
سارا دن ہم اسلام آباد میں رہے۔ محمود کو ایک دو کام بھی کرتے تھے۔ مجھے انہوں نے ایک دوست عاطف کے گھر بٹھایا کہ ان کی بیوی سے گپ شپ کرلو تب تک کام نمٹا کر جلدی آتا ہوں۔
دوپہر کا کھانا ہم نے عاطف کے گھر کھایا، پھر یہ چلے گئے۔ تین گھنٹے کا کہہ کر گئے اور مغرب کے بعد لوٹے۔ میں نے بڑی مشکل سے ضبط کیا کہ مسز عاطف محسوس نہ کرلیں، تاہم اتنی دیر تک وہاں بیٹھے میں بور ہوچکی تھی۔
محمود آئے تو خشمگیں نگاہوں سے ان کو دیکھا۔ وہ جھینپ گئے۔ کہنے لگے۔ سوری…! ایک پرانا دوست اتفاق سے مل گیا جو امریکا سے آیا ہوا تھا، اسے ڈنر کرانے لے گیا، تبھی دیر ہوگئی۔ اب چلو…!
مسٹر و مسز عاطف خوشدلی سے دروازے تک چھوڑنے آئے لیکن جونہی میں گاڑی میں بیٹھی، منہ پھلا لیا۔ وہ معذرت کرتے رہے۔ کہنے لگے۔ آج کسی اچھے سے ہوٹل میں ٹھہر جاتے ہیں، کل صبح مری کے لئے نکل چلیں گے۔ رات کو مری کا سفر محفوظ نہیں ہے۔ ناچار ہم ایک قریبی ہوٹل کی جانب ٹھہرنے کی نیت سے گئے۔
ابھی گاڑی سے نکلے ہی تھے کہ قریب ہی ایک عورت کے کراہنے کی آواز سنائی دی۔ محمود نے قریب جاکر دیکھا۔ عورت ہوٹل کے عین سامنے پارک کے جنگلے کے پاس پڑی درد سے کراہ رہی تھی۔ پہلے تو ہم نے سمجھا شاید کوئی گاڑی اس کو ٹکر مار کر نکل گئی ہے لیکن جب محمود نے ٹارچ کی روشنی اس پر ڈالی تو انہوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ مجھ سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی چادر ہے؟
ہاں… ایک شال گاڑی میں پڑی ہے۔ وہ بولے۔ تم اس کے پاس رکو، میں شال لاتا ہوں۔
وہ گاڑی سے شال اٹھا کر لائے اور کہنے لگے۔ اس کو اچھی طرح اڑھا دو۔ اس کا لباس بری طرح پھٹ گیا ہے۔ انہوں نے شال اور ٹارچ میرے ہاتھ میں تھما دیں۔
میں نے ٹارچ کی روشنی میں خوب اچھی طرح اس عورت کے بدن کو ڈھک دیا اور پوچھا۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ کہنے لگی۔ بہن…! میرے سر سے خون بہہ رہا ہے، مجھے سہارا دے کر اٹھائو اور کسی اسپتال لے چلو۔ میں ادھر سے گزر رہی تھی ایک موٹرسائیکل تیزی سے آئی اور مجھ کو ٹکر مارتی نکل گئی۔ میرا سر پارک کے جنگلے سے ٹکرا کر زخمی ہوگیا ہے۔
اس وقت میں اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ یہ نہ سوچا اس عورت کا لباس اتنا زیادہ پھٹا ہوا ہے کہ بدن ظاہر ہورہا ہے، ایسا کیونکر ہوا ہوگا۔ بہرحال وقت ہمارے پاس نہ تھا۔ سر سے خون بہنے کی وجہ سے عورت پر نقاہت طاری تھی۔ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اس کو سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا اور اسپتال لے آئے۔
اعلیٰ افسر ہونے کے باعث محمود کو اسپتال میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ ڈاکٹر کو عورت نے یہی بتایا کہ موٹرسائیکل سوار کی ٹکر سے زخمی ہوئی ہے۔ بہرحال ضروری کارروائی کے بعد انہوں نے گھائل خاتون کو داخل کرلیا۔
اس دوران محمود نے مجھے گاڑی میں بٹھائے رکھا اور اسپتال کے اندر جانے نہیں دیا کہ تم خواہ مخواہ اس جھگڑے میں مت پڑو۔ انسانیت کے نکتہ نظر سے جو ضروری کام تھا، وہ میں نے کردیا ہے۔
اس واقعہ کا دل پر گہرا اثر ہوا۔ اگلے روز صبح سات بجے ناشتے کے بعد ہم نے ہوٹل چھوڑ دیا اور مری چلے گئے، مگر میرے ذہن پر اس عورت کا واقعہ حاوی رہا۔ باربار اس کا خیال آتا رہا اور میں پوری طرح سیر و تفریح کو انجوائے نہ کرسکی۔
ایک اور بات جو قابل ذکر ہوئی، یہ کہ عورت کا پرس ہماری گاڑی میں ہی رہ گیا جو اسے واپس لوٹانا تھا۔ لہٰذا مری سے واپسی پر ہم دوبارہ اسپتال گئے۔
میں نے محمود سے کہا کہ مجھے بھی اس کے پاس لے چلئے، اس کا پرس اسے اپنے ہاتھ سے دوں گی، کیونکہ جب وہ ہماری گاڑی میں بیٹھی تھی، اس نے پرس میرے ہاتھ میں دے کرکہا تھا۔ اس کو آپ رکھئے، جب ٹھیک ہوجائوں گی تو لے لوں گی۔
محمود مجھے اس کے پاس نہیں لے جانا چاہتے تھے لیکن میرے اصرار پر بالآخر لے گئے۔ اب میں نے اس کو ٹھیک طرح سے دیکھا۔ تقریباً اٹھائیس سال کی تھی اور خوشحال گھرانے سے لگتی تھی۔ میں نے خیریت دریافت کی اور نام پوچھا۔ اس نے شاہ بانو بتایا۔ بہت خوبصورت تھی، مگر نقاہت ابھی باقی تھی، جبکہ بلڈ لگایا جارہا تھا۔ میں نے پرس دیا کہ تمہاری امانت ہے، اسے سنبھال لو۔ وہ بولی ٹھیک ہوجائوں، اسپتال سے چھٹی مل جائے گی تو لے لوں گی۔ میں نے پرس کو کھولا نہ تھا۔ اصرار کیا کہ اپنی چیزیں ایک بار دیکھ لو، پھر میں تمہاری امانت رکھ لوں گی۔
اس نے کہا۔ پرس کھولئے اور بتایئے اس میں کیا ہے۔ اس کے سامنے میں نے پرس کھولا۔ بیس ہزار کی رقم کے علاوہ ایک سونے کا لاکٹ اور انگوٹھی تھی اور بھی کچھ چھوٹی موٹی اشیاء تھیں۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے رقم میں سے پانچ ہزار مجھے دے دیں، باقی سب کچھ پرس میں ڈال کر میری امانت رکھ لیں۔ یہاں چوری کا خطرہ ہے، مجھے تو نیند کی گولی دے کر سلا دیتے ہیں۔
جاتے ہوئے میں نے اپنے میاں کا کارڈ اس کو دیا کہ ٹھیک ہوجانا تو ہمارے گھر آجانا۔ اس کارڈ پر آفس کا فون نمبر اور گھر کا نمبر بھی لکھا ہوا تھا۔
اس کے سر پر ٹانکے لگے تھے، ہاتھ پر بھی چوٹ آئی تھی اور پٹی بندھی تھی۔ میں نے اس حالت میں زیادہ سوالات مناسب نہ جانے بس اتنا پوچھا۔ آپ کے گھر والے تو آئے ہوں گے؟
ہاں! اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ محمود کو جلدی تھی، مجھے انہوں نے زیادہ دیر وہاں ٹھہرنے نہ دیا۔ اس کے بعد وہ مجھے دوبارہ شاہ بانو کے پاس نہ لے گئے بلکہ جب بھی اس کے بارے میںسوالات کرتی، وہ جواب دینے سے پہلوتہی کرتے۔ ایک بار غصے سے بولے۔ بھاڑ میں ڈالو اس کو… ٹھیک ہوگئی ہوگی اور اس کے گھر والے اسپتال سے لے گئے ہوں گے۔ اب میں اس کا پیچھا تو کرنے سے رہا اور بھی سو کام ہوتے ہیں۔
محمود کے رویئے سے اندازہ ہوگیا کہ وہ شاہ بانو کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے لیکن میں سخت متجسس تھی کہ کون تھی، کہاں رہتی ہے اور یہ کہ میرے شوہر اس کی مدد کریں، اگر اسے کسی کی مدد کی ضرورت ہے تو…! لیکن محمود نے اس کے تذکرے سے ہی گریز کیا۔
ایک اہم بات یہ تھی کہ اس عورت کا پرس میرے پاس تھا۔ اب چار ماہ گزر چکے تھے اور وہ ابھی تک اپنی امانت لینے نہیں آئی تھی۔ حالانکہ میں نے اس کو اپنے میاں کا کارڈ اسی لئے دیا تھا کہ ان پر درج فون نمبر سے وہ رابطہ کرسکے۔ محمود تھے کہ اس کا نام لینے سے بھڑک جاتے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں ہے اس عورت کے بارے میں معلومات کے علاوہ… اسے ضرورت ہوگی تو خود کرلے گی رابطہ…! مجھے کیا معلوم کہاں رہتی ہے جو پرس دینے جائوں۔
چھ ماہ بعد اچانک وہ آگئی۔ ایک لمحے کو میں اس کو پہچان ہی نہ سکی۔ اس نے نہایت عمدہ لباس زیب تن کررکھا تھا، صحت مند ہوکر وہ کہیں زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی۔ اسے دیکھ کر خوش ہوگئی کہ جس کا انتظار تھا، وہ آگئی تھی۔ چائے وغیرہ سے تواضع کی۔
بہت انتظار کرایا شاہ بانو تم نے… تمہاری امانت میرے پاس ہے، اسی لئے پریشان تھی۔
پرس اس کے حوالے کرکے کہا۔ برا نہ مانو تو اس دن کے بارے میں تفصیل سے بتائو اور یہ بھی کہ تم کون ہو، کہاں رہتی ہو، کس نے دشمنی میں تم کو ٹکر مار کر زخمی کیا یا کہ یہ اتفاقیہ حادثہ تھا؟ اس عورت میں بڑی کشش تھی۔ ہنستی تھی تو بہت اچھی لگتی تھی، بات بھی اپنائیت سے کرتی تھی۔ میرے سوالات کا اس نے خاطرخواہ جواب نہ دیا۔ بولی۔ ابھی جلدی میں ہوں، کسی روز دوبارہ آئوں گی تو جو پوچھیں گی، بتا دوں گی۔ جب وہ ہمارے گھر سے نکلی میرے ڈرائیور نے اسے دیکھ لیا۔ مجھ سے پوچھا۔ بی بی جی…! کیا آپ اس کو جانتی ہیں؟ ہاں! میں نے جواب دیا۔ مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو؟
اس لئے کہ یہ عورت ٹھیک نہیں ہے۔ اگر آپ صاحب کو نہ بتائیں تو آپ کو کچھ بتائوں…؟ قسم کھاتی ہوں عارف! میں ہرگز صاحب کو نہ بتائوں گی۔ تم جو جانتے ہو، بتا دو۔
عارف ہمارا بہت پرانا ڈرائیور تھا، نمک حلال اور وفادار تھا۔ محمود سے ڈرتا تھا۔ جب میں نے ہر طرح سے اطمینان دلایا کہ صاحب کو نہ بتائوں گی، تب وہ لب کشا ہوا۔
ممتاز بی بی…! یہ عورت اکثر صاحب کے پاس آتی ہے، ان کے آفس میں بیٹھی رہتی ہے، ان کے ساتھ گاڑی میں گھومتی ہے، شاپنگ کرتی ہے۔
اپنے صاحب کے ساتھ…؟ میں نے حیرت سے سوال کیا۔ جی ہاں…! محمود صاحب کے ساتھ مگر صاحب کو میرا نہ بتانا ورنہ وہ میرا حشر کردیں گے۔
مجھے اپنے خیرخواہ ڈرائیور عارف کا خیال نہ ہوتا تو میں شاید اسی وقت میاں کے دفتر چلی جاتی، مگر ایک غریب وفادار ملازم سے وعدہ کرچکی تھی۔ اس کو اس کی وفاداری کا اتنا برا صلہ نہ دینا چاہتی تھی کہ صاحب اس کو جیل کرا دیں۔ میں نے شاہ بانو کو فون کیا۔ میری آواز سن کر خوشدلی سے بولی۔ جی مسز محمود! خوشی ہوئی کہ آپ نے یاد کیا۔ میں نے تمہارا نمبر اپنے صاحب کے پی۔اے سے لیا ہے۔ چاہتی ہوں تم جلد ہی میرے پاس آجائو، کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔
وہ بڑی دانا تھی، سمجھ گئی کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔ بولی خاطر جمع رکھیں، کل صبح حاضر ہوجائوں گی جب آپ کے سرتاج دفتر گئے ہوں گے۔ یہ کہہ کر فون رکھ دیا۔
شاہ بانو نے کسی قسم کی ہیرپھیر سے کام نہیں لیا۔ اس نے صاف صاف بتایا۔ میں نے ایک طوائف کے کوٹھے پر جنم لیا تھا۔ میری ماں نے میٹرک تک تعلیم دلوائی تاکہ میں بات چیت کی تمیز سیکھ جائوں۔ میٹرک کے بعد اس نے مجھے اپنے راستے پر چلانا چاہا، جبکہ دین کی تعلیم کے باعث مجھے اس ماحول کی برائی سمجھ آچکی تھی اور میں شادی کرکے شریفانہ زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ جو پہلا گاہک ماں نے میرے لئے ڈھونڈا، اس کو میں اس درجہ بھائی کہ اس نے ماں سے سودا کرلیا کہ اگر وہ مجھے اس کے تحفظ میں دے دے تو وہ ماں کو ہر ماہ معقول رقم دے گا، بشرطیکہ میں اسی شخص کی تحویل میں رہوں گی۔ ماں سے یہ سودا منظور کرلیا اور کہا کہ جب دل بھر جائے، اس کو مجھے واپس لوٹا دینا۔
ایک سال اطہر خان کے ساتھ رہی۔ اس دوران اس نے مجھ سے نکاح کرلیا۔ بیٹی پیدا ہوگئی تب اس نے ماں کو منع کردیا کہ وہ ہمارے گھر آئے گی اور نہ ہم سے رابطہ رکھے گی۔ رقم البتہ اس کو ملتی رہے گی۔ دو سال بعد ایک اور بیٹی نے جنم لیا۔ اطہر خان نہیں چاہتا تھا کہ مجھ پر یا اس کی بچیوں پر میری ماں کے ماحول کا سایہ بھی پڑے۔
ماں کچھ عرصے اپنے وعدے پر قائم رہی پھر وہ ہر پندرہ روز بعد ماموں کو بھیجنے لگی کہ رقم چاہئے۔ اطہر موجود نہ ہوتے تو میں رقم دے دیا کرتی، مگر تلقین کرتی کہ باربار یہاں مت آیا کرو، اگر اطہر کو علم ہوگیا تو وہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔
اب اطہر کو شک گزرنے لگا کہ میں ان کی غیر موجودگی میں ماں سے رابطہ رکھتی ہوں۔ نجانے کیسے انہیں یہ شک ہوا تاہم وہ بری طرح پیش آنے لگے۔ بات بات پر طعنے دیتے کہ تم کس ماں کی بیٹی ہو، تم جیسی عورتیں باوفا نہیں ہوسکتیں۔ تمہارے ماحول کی پروردہ صرف دولت سے محبت کرتی ہیں، مجھے تمہارا اعتبار نہیں ہے۔
ان کی باتیں میرے دل کو زخمی کرتی رہتی تھیں۔ انہی دنوں ماں بیمار ہوگئی، تب ایک روز وہ ماموں کے ہمراہ میرے گھر آگئی بولی۔ میں کینسر کی مریضہ ہوں، زندگی کا بھروسہ نہیں۔ چاہتی تھی ایک بار تم سے مل لوں، پھر ملنا نصیب میں ہو کہ نہ ہو۔
اس روز اطہر دورے پر گئے تھے لہٰذا میں نے ماں کو فوراً چلے جانے کو نہیں کہا۔ دل میں ڈر تو تھا پھر بھی ماں تھی۔ کھانا لا کر سامنے رکھا اور کہا۔ ماں! جلدی سے کھا کر چلی جائو، ایسا نہ ہو اطہر کو تمہارے یہاں آنے کا کسی ذریعے سے علم ہوجائے۔ ابھی ہم یہ بات کر ہی رہے تھے کہ اطہر کی گاڑی کا ہارن بجا۔ خدا جانے کیسے وہ گھر آگئے، جبکہ مجھے دوسرے شہر جانے کا بتا کر گئے تھے۔ بس پھر کیا تھا۔ بھروسے کا شیشہ ایک بار ٹوٹ جائے پھر نہیں جڑ سکتا۔
میں تو تہہ دل سے شریفانہ زندگی گزارنا چاہتی تھی، مگر یہ میرا نصیب کہ وہاں جا پہنچی جس دلدل میں جانا میرے لئے موت کے منہ میں جانے ایسا تھا۔
اطہر نے الزام لگایا کہ میں اب بھی چپکے چپکے ماں کے بتائے راستے پر چل رہی ہوں۔ اس نے مجھے طلاق دے دی۔
اس واقعہ کے ہفتہ بعد ماں فوت ہوگئی۔ بچیاں کم سن تھیں۔ اطہر نے ماموں سے کہا۔ اگر یہ کسی شریف محلے میں کرائے کا مکان لے کر رہے تو جب تک بچیاں چھوٹی ہیں، ماں کے پاس رہیں گی اور میں خرچہ دوں گا لیکن جب یہ بڑی ہوجائیں گی میں ان کو لے جائوں گا، تاہم اب میں شاہ بانو کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا کیونکہ طلاق دے چکا ہوں۔
میرے ماموں نے میرے اصرار پر ایک شریفانہ محلے میں کرائے کا مکان لے لیا اور میں بچیوں کے ہمراہ وہاں رہنے لگی لیکن ماموں کی نیت ٹھیک نہ تھی۔ وہ مجھے اسی راہ پر چلانا چاہتا تھا، پہلے تو اعتبار جمایا پھر ایک روز یہ کہہ کر گھر سے لایا کہ اگر اپنے پائوں پر کھڑی ہو کر شریفانہ زندگی بسر کرنا چاہتی ہو تو بیوٹی پارلر کا کورس کرلو۔ وہ مجھے بیوٹی پارلر کی مالکہ سے ملانے لے گیا تھا، جس کا پارلر اسی ہوٹل کے پاس تھا جہاں میں آپ کو زخمی حالت میں ملی تھی۔ جب ہم اس جگہ پہنچے تو اس نے کہا کہ اوپر ہوٹل چلو کیونکہ بیوٹی پارلر کی ملکہ ہوٹل کے کمرے میں رہتی ہے۔
جب میں اس ہوٹل کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی تو جس کمرے میں ماموں لے گیا، وہاں بیوٹی پارلر کی مالکہ نہ تھی بلکہ دو اوباش مرد بیٹھے ہوئے تھے جو شراب نوشی کررہے تھے۔ انہوں نے مجھے دبوچ کر قابو کرنا چاہا لیکن میں نے سخت احتجاج کیا۔ اس کشمکش میں میرے کپڑے پھٹ گئے۔ جب میں نے چیخنا شروع کیا تو وہ سمجھ گئے کہ شور پر ہوٹل والے آجائیں گے، تب انہوں نے میرا سر زور سے دیوار پر مارا، پھر مجھے گھسیٹ کر سیڑھیوں سے نیچے لائے اور پارک کے جنگلے پر پھینک کر خود گاڑی میں فرار ہوگئے، ماموں بھی ان کے ہمراہ غائب ہوگیا۔ شاہ بانو یہ کہانی سنا کر رو رہی تھی۔ میرے دل میں اس کے لئے جو غصہ اور شدید نفرت کے جذبات تھے، دب گئے، تب میں نے کہا۔ اب مجھے محمود کے بارے میں سچ سچ بتا دو تو میں تم کو معاف کردوں گی۔
بولی۔ ضرور سچ ہی بتائوں گی کیونکہ آپ میری محسن ہیں۔ آپ کے شوہر مجھے اسپتال لائے، سارا انتظام انہوں نے کیا، ایک بار آپ کو بھی لائے لیکن خود صبح، شام مجھے دیکھنے آتے تھے، انہوں نے مالی مدد بھی کی۔ میری بچیاں میرے ماموں کی تحویل میں تھیں، ان کو ماموں کے چنگل سے نکلوایا اور پھر مجھے مستقل سہارا دینے کی پیشکش کی۔
میرے لئے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ ان کی پیشکش قبول کرلوں۔ وہ اطہر کو بھی جانتے تھے، ان کی مہربانی سے مجھے گھر مل گیا۔ محمود صاحب کا تحفظ بھی مل گیا، آپ خفا نہ ہوں، مرتے ہوئے انسان کو زندہ رہنے کا سہارا بھی تو چاہئے ہوتا ہے۔ اگر محمود صاحب جیسے نیک انسان مدد نہ کرتے تو میری بچیوں کا کیا بنتا، وہ تو میرے ماموں کے لئے مستقبل کی انشورنس پالیسیاں تھیں۔
شاہ بانو قصہ سنا کر چلی گئی۔ میری ہنستی مسکراتی دنیا میں آگ لگا کر! اگر وہ اپنی جگہ مظلوم تھی تو نجانے مجھے کس جرم کی سزا ملی۔ محمود سے پوچھا تو جواب ملا۔
انسانی ہمدردی کے باعث اس کی مدد کی تاکہ معاشرہ اس کو پھر سے برائی کی طرف نہ دھکیل دے۔ کیا میں نے گناہ کیا…؟
لوگ کہتے ہیں انہوں نے شاہ بانو سے نکاح کیا ہوا ہے، مگر وہ خود مانتے نہیں۔ کہتے ہیں لوگ جھوٹ بولتے ہیں، میں نے دوسری شادی نہیں کی لیکن مرد دوسری شادی بھی کرتے ہی ہیں۔ اس طرح کے حالات ہوں تو مرد کے لئے دوسری شادی کرنے میں کیا برائی ہے؟
(مسز اعجاز … لاہور)

Latest Posts

Related POSTS