Kissi ANkh Say Ansoo Na Gira | Teen Auratien Teen Kahaniyan

4547
میرا شوہر ایک پولیس والا تھا جو پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔ بیوہ ہوجانے کے بعد کوئی یارومددگار نہ رہا۔ چار بچوں کے ہوتے میں خود بے یارومددگار رہ گئی۔ ایف ا ے پاس تھی، ڈیل ڈول سے اچھی تھی۔ سر سے چادر اتر گئی تو زمانے کی بری نظروں سے بچنے کی خاطر اپنے شوہر کی ایک رشتے دار کے پاس گئی اور استدعا کی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دے۔
روشن میرے شوہر کی کزن تھی۔ جب وہ بیوہ ہوئی تو سسرالی رشتے داروں نے اس کا جینا حرام کردیا۔ تب روشن ایک دن غربت اور زمانے سے تنگ میرے شوہر کے پاس امداد اور مشورہ لینے کی غرض سے آئی تھی۔ وہ میٹرک پاس تھی۔ میرے سرتاج منیر نے اس کو پولیس میں نوکری دلوا دی۔ اس طرح اس کو رہنے کا ٹھکانہ اور روزی روٹی کا ذریعہ میسر آگیا تھا۔ وہ میرے شوہر کی بہن بنی ہوئی تھی، میری بھی بہن بن گئی۔ دراصل اس کا دنیا میں کوئی ایسا رشتہ دار نہ تھا جس کو وہ اپنا کہہ سکتی، جس پر مان کرسکتی۔ واحد منیر ہی ایسے تھے جو اس کے غمگسار تھے اور اسے برے دنوں میں سہارا دیا تھا۔
وہ جب آتی، اس کی عزت اور خاطر تواضع کرتی۔ اپنے شوہر کی منہ بولی بہن اور دور کی کزن جان کر میرے اچھے برتائو پر وہ بہت مسرور اور مشکور ہوتی تھی۔ نہیں معلوم تھا کہ کبھی مجھے اس کے در پر جاکر امداد کیلئے جھولی پھیلانی پڑے گی۔ جانتی تو اس کے ساتھ اور زیادہ اچھا برتائو اور عمدہ سلوک کرتی۔
جب تک شوہر زندہ تھے، رشتہ دار بھی ملتے تھے، عزت تکریم کرتے۔ ان کے مرتے ہی سب نے آنکھیں پھیر لیں تو آنکھوں پر پڑا پردہ بھی ہٹ گیا۔ ’’دنیا مطلب کی ہے یار‘‘ والی کہاوت اچھی طرح سمجھ میں آگئی۔ جب سرکاری کوارٹر خالی کرنے کے نوٹس آنے لگے تو حددرجہ پریشان ہوگئی۔ ان سبھی کے در پر گئی جن سے سہارے کی امید تھی لیکن کسی نے سہارا نہ دیا۔ ہر ایک نے آنکھیں پھیر لیں تو دل کا شیشہ چور چور ہوگیا۔ تب اس وقت روشن آپا کا خیال آیا کہ ایک دن وہ بھی اسی طرح پریشان حال اور خانماں برباد ہمارے در پر آئی تھیں۔
میں نے جب روشن آپا کو بپتا کہہ سنائی تو انہوں نے حیلوں بہانوں سے کام نہیں لیا بلکہ تسلی اور تشفی دی۔ خرچے کیلئے ہزار روپیہ بھی دیا اور کہا کہ جب تک مستقل ذریعہ روزگار کے بارے سوچوں، تم یہ رقم رکھو اور بچوں کیلئے راشن لو۔ میں نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ تو اب روزگار کے ساتھ رہائش کا ہے کیونکہ سرکار اپنا دیا ہوا گھر خالی کرانے کے درپے ہے۔
بچوں کو لے کر تم میرے پاس آجائو۔ اپنا سامان بھی لے آئو۔ میرے کوارٹر کا ایک کمرہ خالی پڑا ہے، اس میں رہو۔ میں تو ڈیوٹی پر صبح کی گئی شام کو آتی ہوں۔ گھر کو تالا لگا کر جاتی ہوں۔ اچھا ہے تم اور تمہارے بچے رہیں گے تو گھر کو تالا نہیں لگانا پڑے گا۔ روشن آپا نے ناامیدی کے ان دنوں میں میری امید سے بڑھ کر آسرا دیا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے روشن آپاکے دل میں رحم ڈال دیا تھا ورنہ منیر کی نیکی بھی آج کام نہ آتی اگر آپا ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ والی مثال پر کاربند ہوجاتیں۔ جلد ہی آپا نے مجھے پولیس میں بھرتی ہوجانے پر آمادہ کرلیا۔ میرے لئے یہ نوکری حاصل کرنا سہل تھا۔ ایک تو ایف اے پاس تھی، دوسرے میرے شوہر دورانِ ڈیوٹی جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی بیوہ کو آپا روشن کی کوشش سے نوکری مل گئی۔
میں خالصتاً ایک گھریلو خاتون خانہ تھی۔ پولیس کی نوکری سے گھبرا رہی تھی مگر آپا نے ہمت بندھائی۔ بولیں کہ اپنے ساتھ ڈیوٹی لگوایا کروں گی۔ فکر نہ کرو، جلد ہی تھانے کے ماحول کی عادی ہوجائو گی۔ جن دنوں میری ٹریننگ تھی، آپا نے چھٹی لے لی اور میرے بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ بعد میں ایک عورت کو رکھ لیا جس کو جیل سے چھڑوانے میں مددگار رہی تھیں۔ اس عورت کا کوئی نہ تھا، اسے بھی رہنے کا ٹھکانہ درکار تھا۔ پس وہ ہمارے ساتھ پولیس کالونی کے کوارٹر میں رہنے لگی۔ میرے بچوں کو دیکھتی اور کھانا وغیرہ پکا دیتی۔ آپا اور میں مل کر اس کی تنخواہ دیتے اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ اس عورت کو ہم اماں رحمت کہہ کر بلاتے تھے۔ نہیں جانتی اس کا اصل نام رحمت یا کچھ اور تھا لیکن اس نے یہی نام بتایا تھا۔
روشن آپا کی رہنمائی میں رفتہ رفتہ مجھے بھی پولیس والیوں کے گُر آگئے اور میں بااعتماد ہوتی گئی۔ بالآخر پوری پکی پولیس والی بن گئی۔ اب مردوں سے گھبراہٹ نہیں ہوتی تھی، لہجہ بھی درشت اپنا لیا۔ حق بات تو یہ ہے کہ جب وردی میں گھر سے نکلتی تو پاس سے گزرتے ہوئے مردوزن مجھ کو کن انکھیوں سے دیکھتے اور مرعوب ہوجاتے تھے۔ ہماری کبھی کہیں اور کبھی کسی جگہ ڈیوٹی لگتی۔ میری کوشش ہوتی کہ گھر سے نزدیک اور دن کی ڈیوٹی لگے چونکہ بچے ابھی چھوٹے تھے۔
وقت گزرتا گیا، بچے باشعور ہوگئے۔ وہ اسکول، کالج جانے لگے اور میں بھی اب ادھیڑ عمر کی تجربہ کار ہوگئی تھی، لہٰذا اس بار میری ڈیوٹی نیپئر تھانے کی طرف لگی۔ میرا کام تھا اس بازار کی عورتوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا اور ان کے مسئلے مسائل دیکھنا کہ جن کو عرف عام میں بازار حسن کی مکین کہا جاتا تھا۔ وہاں ایک بار دو طوائفوں کے بیچ جھگڑا ہوا تو چند مرد پولیس والوں کے ہمراہ مجھے بھی فساد زدہ جگہ جانا پڑا جہاں میری ملاقات گوہر نامی عورت سے ہوئی۔ میں پہلی بار اس عورت سے متاثر ہوئی۔ اس میں بلاکی کشش تھی مگر زنانہ حسن میں مردانہ وجاہت چھپی ہوئی تھی۔ اس کا جھگڑا جس طوائف سے ہوا، وہ ایک کمسن لڑکی کو کسی کے پاس جانے پر مجبور کررہی تھی جبکہ لڑکی اس امر پر آمادہ نہ ہورہی تھی۔ تبھی اس طرح دار سے جھگڑا ہوگیا جس نے کمسن کی حمایت کی تھی اور وہ گوہر تھی۔
میرے بیچ بچائو پر معاملہ تھانے نہیں گیا بلکہ اسی مقام پر حل ہوگیا۔ جب میں نے گوہر کے دلائل سنے تو میں اس کی قائل ہوگئی۔ وہ واقعی دلیر ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین اور فطین بھی تھی۔ کچھ ہی ماہ گزرے کہ اطلاع ملی گوہر نے زہر آلود گولیاں پھانک لی ہیں اور اب وہ بے ہوش پڑی ہے۔ جب تھانے فون پر اطلاع آئی تو میں وہاں موجود تھی اور میری ڈیوٹی تھی۔ سو پولیس گاڑی میں جائے وقوع گئی تو وہ واقعی بے ہوش تھی۔ یہ وہی گوہر تھی جس کی بہادری پر اس کی محلے دار اور سہیلیاں فخر کرتی تھیں۔ آج وہ مٹی کا ڈھیر بنی مردہ خانے لے جائی جانے والی تھی۔ ایمبولینس میں پولیس ساتھ گئی۔ سول اسپتال کے مردہ خانے میں بینچ پر پوسٹ مارٹم کیلئے آنے والے پولیس سرجن کے انتظار میں اب گوہر بے یارومددگار پڑی تھی۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھیں حسرت سے پتھرائی ہوئی تھیں جو مردہ خانے کی چھت پر نجانے کیا ڈھونڈ رہی تھیں۔ باہر اس کی ادھیڑ عمر ماں اور سوتیلا باپ بے چینی کے عالم میں ٹہل رہے تھے۔ آج گوہر کی رگوں میں ذرا سی بات پر کھول اٹھنے والے گرم خون کی جگہ خطرناک نشہ آور گولیوں کا سیال مرکب بھی منجمد ہوتا جارہا تھا مگر پولیس سرجن کے آنے میں دیر تھی۔ ادھر بازار حسن کی سب سے مشہور عمارت ’’بلبل ہزار داستان‘‘ بلڈنگ کے فلیٹوں پر سوگوار سناٹا چھایا ہوا تھا۔ لڑکیاں کسی انجانے خوف سے سہمی بیٹھی تھیں۔ شاید وہ سوچ رہی تھیں کہ وہ دن کو اب آزادی سے سڑک پار نہیں کرسکیں گی۔ گوہر ان کی حمایت کو کسی آوارہ منش سے نہیں ٹکرائے گی اور کوئی انہیں کسی پولیس والے کی بلیک میلنگ سے بچانے نہیں آئے گا۔
میری گوہر سے پہلی ملاقات برسوں قبل اس وقت ہوئی تھی جب ٹریننگ کے دوران ایک بار میں نیپئر تھانے گئی تھی۔ جہاں وہ حوالات میں تھی اور اس پر ارادئہ قتل کا الزام تھا۔ وہ حوالات کے جنگلے کی سلاخوں سے ہر آنے جانے والے کو شک و شبہ سے بھری نگاہوں سے گھور رہی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ کسی بدمعاش نے گانا سننے کے دوران اس سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی تو اس نے اسی کا خنجر چھین کر اسی کو گھونپ دیا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ سال بعد وہ ضمانت پر رہا ہوکر لوٹی تو سارا بازار حسن ہی اس کا منتظر تھا۔ اب وہ اپنے علاقے کی ہیروئن بن چکی تھی اور بعض ٹھیکیداروں کو اس کی رہائی سے خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ جبکہ یہاں کی مجبور لڑکیوں کے دلوں پر اس کا راج قائم ہوگیا تھا۔
آتے ہی اس نے اعلان کردیا کہ اب کوئی بھی شخص کسی لڑکی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکے گا۔ یہ سن کر تہلکہ مچ گیا۔ اس سے قبل بااثر و ر سوخ افراد جب چاہتے جس لڑکی کو چاہتے زبردستی کھینچ کر لے جاتے تھے۔ تھانے کے افسران دل ہی دل میں خوش تھے کہ اس علاقے میں امن و امان رکھنے کیلئے مفت کی پولیس والی مل گئی تھی۔ مگر زیرحراست رہ کر اس کو مرد ذات سے نفرت ہوگئی۔ جیل سے آکر تنہائی کی زندگی اس نے خود پر پوری طرح مسلط کرلی۔ اسے تنہائی سے پہلے تو محبت ہوئی پھر یہی تنہائی اسے ستانے لگی۔ ہر مرد اسے ایک ہی روپ میں نظر آتا۔ ہوس پرستوں اور لٹیروں کے علاوہ اس کا واسطہ بزدلوں سے بھی پڑتا تھا۔ اس کا آئیڈیل تو شاید کوئی اور ہی تھا اور ایسے لوگ غالباً بازار حسن کا رخ بھی نہیں کرتے۔ لاشعوری طور پر وہ جس شخص کی تلاش میں تھی، وہ اسے نہیں مل سکا۔ اگر ملا بھی تو وہ اسے حاصل نہ کرسکی، جس کی خاطر وہ اس بازار کو بھی چھوڑنے پر تیار تھی پھر اس نے راہ فرار ڈھونڈ لی۔
کئی بار نشہ کرنے پر میں نے اسے گرفتار کیا، نقصِ امن کے اندیشے کے تحت۔ حالانکہ اس نے شور کیا اور نہ غل غپاڑہ کیا مگر مخالفوں نے تھانیدار سے آکر شکایت کی تو اسے تھانے لانا پڑا۔ کئی گھنٹے مجھ سے باتیں کرتی۔ شراب پھر چرس پھر اسپرٹ اور راکٹ کیپسول، مینڈریکس کی گولیاں… افسوس وہ بدترین منشیات کی خطرناک حد تک عادی ہوتی جارہی تھی۔ دن رات نشے میں ڈوبی رہنے کے باعث وہ حددرجہ جھگڑالو ہوگئی۔ ہر وقت اپنی ماں، بھائی، بہنوں اور سوتیلے باپ سے الجھتی۔ پہلے تو اس کی ماں اس کے رنگ روپ کی سلامتی کیلئے دعائیں مانگتی تھی۔ جب وہ جوان ہوئی تو واقعی اپنے بے پناہ حسن کے باعث ماں کیلئے سونے کی کان بن گئی۔ مگر سرکشی کا دور شروع ہوتے ہی اس کی ماں بھی اس سے خائف رہنے لگی تھی۔
گزشتہ رات ماں سے لڑ کر ہی گوہر نے مبینہ طور پر مینڈریکس کی نشہ آور گولیاں کھا لیں جس سے حالت بگڑ گئی۔ تبھی گھر والوں نے تھانے فون کیا اور اس کو سول اسپتال پہنچا دیا گیا جہاں کئی گھنٹوں تک موت سے پنجہ آزمائی کے بعد وہ شکست مان کر ساکت ہوگئی۔
اس بازار کی روایات زمانہ قدیم سے ایک ہی روش پر گامزن چلی آتی تھیں۔ یہ روایات کیسے تبدیل ہوسکتی تھیں۔ گوہر جیسی باغی کا اس راہ سے ہٹ جانا ہی اس کا مداوا تھا۔ اس کے مقدمات ختم ہوگئے کیونکہ وہ زندگی کا مقدمہ بھی ہار گئی۔ آج اس کی لاش پر کوئی رونے والا تھا اور نہ قبر پر پھول چڑھانے والا… حتیٰ کہ اس کے اپنے بھی کہ جن کو اس نے نوٹوں کی بوریاں کما کما کر دی تھیں۔ اس کی ماں تک کی آنکھوں میں آنسو نہ تھے پھر کسی اور کا کیا شکوہ… اگر کسی آنکھ سے چند آنسو گرے تو وہ صرف میری آنکھیں تھیں کیونکہ میں اس کا دکھ سمجھتی تھی۔
ایک بار اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ ماں اس کی سگی ماں نہیں ہے اور باپ بھی اس کا سگا باپ نہیں ہے۔ لہٰذا دیکھ لینا وہ میرے مرنے پر آنسو نہیں بہائیں گے بلکہ خوش ہوں گے۔ میں ان کیلئے اب کمانے کی مشین نہیں رہی نا، بلکہ دردسر بن گئی ہوں۔ وہ آئے دن میرے جھگڑوں سے تنگ رہنے لگے ہیں۔ چاہتے ہیں مجھے کسی طرح جیل ہوجائے۔ تبھی روز میری شکایات کے ٹیلیفون تھانیدار صاحب کو کرا دیتے ہیں۔ تم ہی بتائو میں مجرم ہوں یا کہ یہ لوگ جنہوں نے مجھے پاکیزہ سے گوہر بنا دیا اور پھر کنکر کی طرح اپنے پیروں میں روند ڈالا۔ یا پھر مجرم ہے تمہارا معاشرہ، تمہارا انصاف اور تمہارا قانون۔
اس دن جو اس کے جی میں آیا، وہ بکتی رہی تھی کیونکہ یہ حوالات میں اس کا آخری پھیرا تھا۔ پولیس والوں کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے مجرم بھی آتے ہیں جو دراصل مجرم نہیں ہوتے ساری عمر ملزم ہی رہتے ہیں۔ (س… کراچی)