Sunday, July 14, 2024

Kunwein Ka Raaz

راجن پور کے ایک گائوں میں ایک بہت بڑا زمیندار رہتا تھا، جس کے صرف دو بیٹے تھے لیکن بیٹی کوئی نہ تھی۔ زمیندار کی خواہش تھی کہ اس کے ہاں ایک لڑکی بھی ہو، کیونکہ بیٹی خُدا کی رحمت ہوتی ہے، وہ چاہتا تھا کہ یہ رحمت خُدا اسے ضرور عطا کرے۔ بیٹی کے لئے وہ ہر نماز کے بعد اللہ سے دُعا کرتا تھا۔ ایک دن اس کی دُعا قبول ہو گئی اور خالقِ کائنات نے اسے خوبصورت بیٹی عطا کر دی۔ اس خوشی کے موقع پر اس نے سارے گائوں کے ہر امیر و غریب کی ضیافت کی۔ ان کو بہترین کھانا کھلایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بیٹی بھی بڑی ہوتی گئی۔ وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہو۔ آنکھیں چشم آہو جیسی سیاہ اور رنگ گلابی، چہرہ چاند کی مانند دمکتا ہوا، جو ایک بار اس لڑکی کے چہرے پر نگاہ ڈالتا پھر نظر نہ ہٹاتا تھا۔ ماں باپ نے بہت لاڈ پیار سے پرورش کی۔ وہ اس کو شہزادی کہہ کر بلاتے ، پھر اس کا نام ہی شہزادی پڑ گیا۔ اس کے ایک بھائی کا نام تنویر اور دوسرے کا توقیر تھا۔ وہ دونوں بھائیوں کی بھی لاڈلی تھی۔ وہ سارا دن اپنے گھر کے بڑے سے آنگن میں کھیلتی تھی ، تاہم اس کی ماں اسے گھر سے باہر بچوں کے ساتھ کھیلنے نہیں دیتی تھی۔ اس کے بھائی بڑے تھے ، وہ اس سے پیار تو کرتے تھے مگر اس کے ساتھ کھیلتے نہیں تھے۔ وہ اکیلی ہی اپنے کھلونوں کے ساتھ دل بہلاتی رہتی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک بار ایک بزرگ زمیندار کے گھر آئے تھے اور انہوں نے شہزادی کو دیکھ کر نصیحت کی تھی کہ اس بچی کو ہمیشہ گھر کے اندر ہی رکھنا۔ اس کو باہر مت جانے دینا، ورنہ اس کو کسی کی نظر لگ جائے گی۔ جب وہ ذرا بڑی ہوئی تو اکثر باہر جانے کی ضد کرتی اور ماں سے پوچھتی کہ آپ مجھے باہر کیوں نہیں جانے دیتیں؟ ماں جواب دیتی۔ بیٹی تم خوبصورت ہو ، خوبصورت چیزوں کو نظر لگ جاتی ہے اور نظر اتنی بری چیز ہے کہ اگر یہ کسی درخت کو لگ جائے تو ہرا بھرا پیر بھی کملا جاتا ہے۔ بہر حال، اس پابندی سے بچی مرجھانے لگی اور سرسوں کا پھول ہو گئی۔ طبیب کو بلوایا گیا۔ اس نے شہزادی کو دیکھ کر کہا کہ اس بچی کو اپنی ہم جولیوں کے ساتھ ہنسنے کھیلنے کا موقع دیا جائے ، ورنہ یہ ایسے ہی مرجھا کر ایک روز ختم ہو جائے گی۔ کون چاہتا ہے کہ اس کی نور نظر تنہائی کے عذاب سے ختم ہو جائے۔ سو، زمیندار نے ایک دن بیٹی سے کہا۔ شہزادی ! تم باہر گھومنے پھرنے جانا چاہتی ہو تو تیار ہو جائو، میں آج خود تم کو کھیتوں میں گھمانے لے جائوں گا۔ یہ سنتے ہی شہزادی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور وہ جلدی جلدی تیار ہو گئی۔ تیار ہو کر وہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی۔ جب باپ اپنی جگر گوشہ کو کھیتوں کی سیر کروارہا تھا، تب شہزادی کو کنویں پر کچھ لڑکیاں پانی بھرتی نظر آئیں۔ اس نے باپ سے کہا۔ بابا جان ! وہ دیکھو، لڑکیاں کنویں پر پانی بھر رہی ہیں۔ ان کے پاس چلیں ؟ باپ نے اس کی بات مان لی۔ جب وہ لڑکیوں کے پاس پہنچی تو وہ اس کو دیکھ کر حیران رہ گئیں اور آپس میں باتیں کرنے لگیں کہ دیکھو یہ کتنی خوبصورت ہے – کیا تم مجھ سے بات کرو گی ؟ میرا نام شہزادی ہے ، میرے بابا تمہارے گاؤں کے زمیندار ہیں۔ تبھی زمیندار قریب آگیا تو شہزادی نے ان کو بتایا کہ یہ میرے بابا ہیں۔ لڑکیوں نے ادب سے جھک کر اس کے والد کو سلام کیا۔ زمیندار نے ان سے کہا کہ تم سب اپنے اور اپنے باپ کا نام بتائو۔ میر انام رجو ہے اور میر انام ہے بلو، میں زینب ہوں اور یہ ہے سمی – واہ کتنے اچھے نام ہیں تمہارے، پھر انہوں نے اپنے اپنے والد کے نام بھی باری باری بتادیئے۔ زمیندار کو تسلی ہو گئی کیونکہ وہ ان لڑکیوں کے گھرانوں کو جانتا تھا۔ تبھی شہزادی نے کہا۔ کیا تم لوگ میری سہیلیاں بنو گی ؟ ہاں ہاں، کیوں نہیں۔ وہ خوش ہو کر بولیں۔ تبھی شہزادی اُن سے گھل مل گئی۔ لڑکیاں آپس میں باتیں کرنے لگیں اور ان سے کچھ دور زمیندار اپنے آموں کے باغ میں ٹہلتا رہا۔ وہ دوبارہ لڑکیوں کی طرف کھیت میں گیا اور اپنی بیٹی سے مخاطب ہوا۔ چلو شہزادی بیٹی ، دیر ہو رہی ہے تیری ماں انتظار کر رہی ہو گی۔ بابا جان ! ایک دن میں اپنی سہیلیوں کو گھر بلالوں ؟ اس نے لڑکیوں کی جانب اشارہ کیا۔ کیوں نہیں بیٹی ، تم ان کو ضرور بلا لو اور خاطر تواضع بھی کرنا۔ یہ ہمارے مزارعوں کی بیٹیاں ہیں۔ سنو لڑکیوں ! کل تم سب ہمارے گھر آجانا۔ زمیندار نے کہا۔ باپ کی اجازت ملنے پر شہزادی بہت خوش ہوئی۔ اب اس کو اس کی کم سن ہم جولیاں مل گئی تھیں۔ زندگی بے کیف نہیں رہی تھی۔ اگلے دن یہ تینوں لڑکیاں صاف ستھرے کپڑے پہن اور خوب تیار ہو کے زمیندار کے گھر شہزادی کی دعوت پر پہنچ گئیں۔ وہ تو پہلے ہی ان کے انتظار میں تھی۔ جب سہیلیوں کا جھرمٹ اپنے گھر میں دیکھا، تو پھولے نہیں سمائی کیونکہ پہلی بار اس کی سہیلیاں گھر پر اس کو ملنے آئی تھیں۔ وہ بڑے چائو سے ان کو اپنے کمرے میں لے گئی۔ خوب کھلایا پلایا اور پوچھنے لگی۔ کیا تم روزانہ ہی کنویں پر پانی بھرنے جاتی ہو؟ میرے ساتھ سیر کرنے آموں کے باغ میں چلنا۔ بڑا مزہ آئے گا۔ وہاں تو زمیندار کا راکھی بیٹھا ہوتا ہے ، وہ کسی کو باغ میں آنے نہیں دیتا۔ رجو نے بتایا۔ ہاں ، وہ اس وجہ سے کسی کو باغ میں نہیں گھسنے دیتا تا کہ لوگ آموں کا نقصان نہ کریں۔ لیکن میں بابا سے کہہ دوں گی ، وہ ہم کو باغ میں جانے سے نہیں روکے گا بلکہ آم بھی توڑ کر دے گا۔ شہزادی کیا تم ہمارے ساتھ کھیتوں کی سیر کو چلا کرو گی اور کنویں پر آیا کرو گی ؟ کنویں کا پانی، نہر کے پانی سے ٹھنڈا ہوتا ہے، اس وجہ سے ہم یہاں سے پانی لیتی ہیں۔ نہر دور ہے اور گرنے کا بھی ڈر ہوتا ہے۔ کیا تم نے نہر دیکھی ہے؟ نہیں وہاں مجھے جانے کی اجازت نہیں ہے مگر اب کنویں پر آیا کروں گی۔ یہ تو ہمارے کھیتوں کے درمیان ہی ہے لیکن کچھ سوچ کر وہ اداس ہو گئی۔ شاید میں روز نہ آسکوں۔ شاید بابا اجازت نہ دیں۔ تبھی ساری لڑکیاں بھی اُداس ہو گئیں۔ جب لڑکیاں کافی دیر باتیں کرنے کے بعد جانے لگیں تو شہزادی کا جی چاہا کہ وہ   نہ جائیں بلکہ اس کا دل تو کرتا تھا کہ یہ ہمیشہ کے لئے یہیں ٹھہر جائیں۔ جو نہی وہ اٹھنے لگتیں، یہ کہتی تھوڑی دیر اور بیٹھو نا۔ اتنی کیا جلدی ہے ، گھر ہی تو جانا ہے ، چلی جانا۔ تب انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اپنے گھر میں بہت سا کام کرنا ہے ورنہ ڈانٹ پڑ جائے گی۔ جب وہ جا رہی تھیں تبھی زمیندار آگیا۔ بے اختیار شہزادی کے منہ سے نکلا۔ باباجان کل میری سہیلیاں کھیتوں میں سیر کو جائیں گی ، کیا میں اُن کے ساتھ جاسکتی ہوں ؟ ہاں، کیوں نہیں۔ اُن کو کہہ دو کہ جب وہ کھیت میں جانے لگیں تم کو ساتھ لیتی جائیں۔ میں ملازم کو کہہ دوں گا، وہ تم لوگوں کو آم اور جامن تو ڑ کر دے گا۔ باپ کی اجازت پا کر شہزادی خوش ہو گئی اس نے دوڑ کر لڑکیوں کو دروازے سے پکارا۔ سنو، کل تم لوگ سیر کو جانے سے پہلے میرے گھر آ جانا، میں بھی ساتھ چلوں گی۔ مجھے اجازت مل گئی ہے۔ یہ بات اس نے اس قدر زور سے کہی کہ اس کی ماں نے سُن لی۔ وہ کہنے لگی۔ بیٹی ! اب تم کیا ان لڑکیوں کے ہمراہ کھیتوں میں آوارہ پھرو گی ؟ یہ تو عام لڑکیاں ہیں، کسانوں کی بیٹیاں ہیں۔ ان کا کام ہی کھیتوں کا ہوتا ہے لیکن تم مزارع کی نہیں، زمیندار کی بیٹی ہو۔ تم کو علاقے کے لوگ کھیت میں بھاگتے دوڑتے دیکھ کر کیا سوچیں گے ؟ بیٹی ہم میں اور ان لوگوں میں زندگی گزارنے کا ڈھنگ ایک سا نہیں ہوتا۔ شہزادی کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔ باپ نے اسے روتے دیکھا تو دکھی ہو گیا۔ کہنے لگا، شہزادی کی ماں ! تم کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔ ہم اس علاقہ کے مالک ہیں۔ کھیت ہمارے ہیں، تو کیا کوئی اپنے کھیتوں میں بھی نہیں گھوم پھر سکتا؟ کیا تم کو طبیب کی بات یاد نہیں ہے کہ اس کو سہیلیوں کے ساتھ ملنے سے نہیں روکنا۔

اگلے دن لڑکیاں صبح ہی آگئیں اور شہزادی کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ شہزادی نے بہت اچھا سا لباس پہنا، ہلکا سامیک آپ کیا۔ ہلکا پھلکا زیور تو وہ پہنے ہی رہتی تھی۔ تیار ہو کر بہت اچھی لگنے لگی ۔ خوشی و مسرت کے سبب اس پر ایک نیا روپ آ گیا تھا۔ اسے خوشبو بہت پسند تھی ، وہ ہر وقت خُوشبو لگائے رکھتی تھی اور آج تو خاص عمدہ قسم کا سینٹ نکال کر خود پر چھڑک لیا تھا۔ چوڑیاں، جھمکے ، غرض وہ ایسے بن ٹھن کر جارہی تھی جیسے عید میلے میں جارہی ہو ۔ سہیلیاں اُسے لے کر کنویں کی طرف چل دیں۔ تھوڑی دیر بعد اس طرف گئیں، جہاں آموں کا باغ تھا۔ وہ وہاں دیر تک گھومتی رہیں ، آپس میں معصومیت کے ساتھ باتیں اور ہنسی مذاق کرتی جاتی تھیں۔ ذرادیر گزری تھی کہ زمیندارنی کا جی گھبرانے لگا۔ اسے گھر میں چین نہیں تھا۔ بالآخر اس نے بیٹے سے کہا۔ تنویر جائو اور کھیتوں سے بہن کو لے آئو۔ اسے گئے کافی دیر ہو گئی ہے ، بس اتنی دیر کی سیر کافی ہے۔ تنویر بہن کو بلانے آگیا۔ بولا۔ چلو شہزادی، امی نے بلایا ہے۔ وہ بھائی کے ساتھ بادل نخواستہ چل دی، حالانکہ اس کا جی نہ چاہتا تھا ابھی سے سہیلیوں سے جُدا ہو جائے۔ دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ ایک روز سہ پہر کو یہ تینوں، چاروں لڑکیاں پھر سے شہزادی کو لینے آگئیں۔ شہزادی تو جیسے ان کی راہ تک رہی تھی۔ زمیندارنی بولی۔ لڑکیو! تم بیٹھ جائو، شہزادی نہار ہی ہے۔ وہ اس کے انتظار میں بیٹھ گئیں۔ جب وہ نہا کر نکلی اور لڑکیوں کو برآمدے میں بیٹھا پایا تو خوشی سے کھل اٹھی۔ اس نے کہا۔ سنگیو ! بس ایک منٹ اور بیٹھو، میں ابھی تیار ہو کر چلتی ہوں۔ اس نے جلدی جلدی گیلے بالوں میں کنگھا کیا اور ہلکا سا میک آپ کر ، تیار ہو گئی۔ اس نے ستاروں والا کھسہ نکال کر پہنا اور خوشبو بھی لگالی تھی۔ جب یہ لڑکیاں کنویں پر گئیں تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں دو اور لڑکیاں پانی بھر رہی تھیں، جو نئی تھیں۔ ان لڑکیوں نے پہلے کبھی انہیں نہیں دیکھا تھا۔ کیا یہ کسی دوسرے گائوں سے پانی بھرنے آئی ہیں ؟ یہ یہاں کی تو نہیں ہیں۔ رجو بولی۔ ارے بھئی کسی کے گھر مہمان آئی ہوں گی۔ وہ سب آپس میں باتوں میں محو تھیں کہ وہ اچانک غائب ہو گئیں۔ کسی نے بھی ان کو غائب ہوتے نہیں دیکھا کہ کس طرف گئیں ، ہاں مگر شہزادی نے انہیں غائب ہوتے ہوئے دیکھ لیاتھا کیونکہ وہ مسلسل ان لڑکیوں پر ہی نظر جمائے ہوئے تھی۔ وہ جہاں کھڑی تھیں، وہاں ہی اچانک غائب ہو گئی تھیں، تبھی وہ کچھ پریشان ہو گئی لیکن اس نے کسی سے کچھ نہ کہا۔

اس دور میں آبادی زیادہ نہ تھی، تبھی عام طور پر جگہیں سُنسان نظر آتی تھیں۔ جس جگہ شہزادی اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھوم رہی تھی، وہ بھی سُنسان ہی تھی۔ یہاں پہلے ایک پرانا قبرستان ہوا کرتا تھا۔ وہ کافی دیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ اسی جگہ پھرتی رہی، پھر یہاں اس کا جی پریشان ہونے لگا۔ یہ سب گھوم پھر کر دوبارہ کنویں کی منڈیر پر آگئیں۔ یہاں انہوں نے رہٹ سے پانی پیا اور گھر جانے کو تیار ہو گئیں مگر شہزادی نے کہا کہ میں ابھی گھر نہیں جائوں گی ، تم لوگ جائو۔ یہ سُن کر لڑکیوں نے حیرت سے اس کو دیکھا۔ شہزادی! کیا تم اکیلی ہی یہاں بیٹھی رہو گی ؟ تم ساتھ چلو، ورنہ تمہاری امی ناراض ہوں گی۔ ہم تم کو تمہارے گھر پہنچا کر ہی اپنے گھروں کو جائیں گے ۔ میں نے کہا نا! تم لوگ چلی جائو۔ ابھی میں نہیں جائوں گی۔ کیا میں چھوٹی بچی ہوں جو اکیلی گھر نہیں جا پائوں گی اور رستے میں کھو جائوں گی۔  اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ چاروں لڑکیاں سہم گئیں اور اس کو وہاں چھوڑ کر چلی گئیں، کیونکہ شہزادی کہہ رہی تھی کہ میں نے ابھی اُن دونوں لڑکیوں سے ملنا ہے ، جوا بھی کنویں سے پانی لینے آئی تھیں۔ مجھے پتا ہے وہ یہاں دوبارہ ضرور آئیں گی۔ دیکھو تو ، ان کے چلے جانے کے بعد بھی ان کی کتنی اچھی خُوشبو یہاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ ایسی بہکی بہکی باتیں سُن کر اس کی سہیلیاں ڈر گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ جانے اس کو کیا ہوا ہے ؟ کہیں پتھر ہی اٹھا کر نہ مار دے۔ زمیندار کی لڑکی ہے ان امیر لڑکیوں کے مزاجوں کا کیا اعتبار۔ وہ سمجھدار تھیں، لہذا اپنے گھر جانے کی بجائے شہزادی کے گھر آگئیں اور اس کی ماں سے کہا۔ خالہ جی ، آپ کی بیٹی وہاں کنویں کے پاس پڑے موڑھے پر بیٹھی ہے۔ وہ ہمارے ساتھ نہیں آئی۔ کیوں نہیں آئی؟ کیا وہ تم سے ناراض ہو گئی ہے ؟ زمیندارنی نے پوچھا۔ ایسی بات نہیں، خبر نہیں وہ کیوں وہاں بیٹھنا چاہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ وہ دوسری لڑکیوں کا انتظار کر رہی ہے۔ ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ شہزادی کے والد اور بھائی بھی آگئے۔ باپ نے پوچھا۔ کیا بات ہے ، شہزادی کہاں ہے ؟ انہوں نے زمیندار سے بھی وہی کہا جو اس کی بیوی سے کہا تھا، تبھی دونوں باپ بیٹا شہزادی کو دیکھنے کنویں کی طرف چل پڑے۔ شہزادی وہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ کیا ہوا بیٹی ! یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو ؟ گھر کیوں نہیں جاتی ہو ؟ آپ لوگ کیوں آگئے مجھے لینے، میں نے ابھی نہیں جانا۔ آپ جائو، میں خود آجائوں گی۔ اس نے  کہا۔ لیکن بیٹی تمہاری سہیلیاں تو چلی گئی ہیں۔ اب یہاں تمہارا اکیلے بیٹھنا ٹھیک نہیں۔ چلو ہمارے ساتھ ۔ یہ سنتے ہی شہزادی کو غصہ آگیا اور غصیلے لہجے میں بولی۔ بابا جان جائو یہاں سے، میں نہیں جائوں گی۔ چلے جائو تم۔ وہ اس کے تیور دیکھ کر بہت پریشان ہو گئے کہ اسے کیا ہو گیا؟ لہجہ اتنا کیوں بدلا ہوا ہے اور آنکھوں میں عجب سی غضبناکی تھی، پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ بھائی نے بھی منایا کہ چلو بہنا چلو۔ وہ نہیں مانی تو دونوں نے زبر دستی اسے پکڑ کر گھر کی طرف لے جانا شروع کر دیا، لیکن اس نے قدم اُٹھانے سے انکار کر دیا۔ تب والد نے اسے اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا۔ وہ راستے میں روتی چلاتی اور ٹانگیں چلاتی جاتی تھی مگر باپ نے پروانہ کی اور گھر لے آیا۔

ماں نے بیٹی کی ایسی حالت دیکھی تو رونے لگی۔ شہزادی غصے میں خود کو باپ سے چھڑا کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ وہ کہتی جاتی تھی کہ بابا ! جانے مجھے کیا ہو رہا ہے؟ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے ، مجھ کچھ ہو رہا ہے۔ زمیندار صاحب گھبرا کر طبیب کو بلانے چلے گئے۔ طبیب صاحب بھی آگئے۔ لڑکی کو غور سے دیکھا، پھر بولے۔ دوا دے دیتا ہوں کچھ افاقہ ہو جائے گا، لیکن بات کوئی اور لگتی ہے، اور اس مرض کی دوا میرے پاس نہیں ہے۔ آپ کسی عالم کو بلوا کر دم وغیرہ بھی کروا لیجئے ، کیونکہ اس کا چہرہ اور آنکھیں بتارہی ہیں لڑکی نے کسی سخت جگہ پر پیر دھر لیے ہیں۔ یہ باتیں انہوں نے زمیندار کو گھر سے باہر آکر کہیں۔ زمیندار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ سمجھ گیا کہ طبیب کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی پر کچھ آسیب وغیرہ کا سایہ ہو گیا ہے۔ اب شہزادی کا یہ حال کہ سب نے اس کو زبردستی قابو کر رکھا تھا اور وہ تھی کہ خود کو چھڑا کر باہر کی سمت دوڑ لگانا چاہتی تھی، جیسے کوئی اسے اپنی جانب کھینچ رہا ہو۔ آخر انہوں نے نو ، دس برس کی اس بچی کو کمرے میں بند کر دیا۔ شہزادی نے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ کھولو دروازہ! وہ چلارہی تھی۔ ساتھ ہی اس کے گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھیں۔ چاروں لڑکیوں کی زبانی سارے گائوں کو اس قصے کا پتا چل گیا۔ ہر ایک کی زبان پر ایک ہی فقرہ تھا کہ زمیندار کی لڑکی پر جن آگیا ہے۔ مارے ڈر کے کوئی ان کے گھر کی طرف نہ جاتا تھا، البتہ مسجد کے امام صاحب اور ایک نیک بزرگ ان کے گھر آئے۔ لڑکی بدستور کمرے میں بند تھی۔ انہوں نے آکر دروازہ کھلوایا۔ شہزادی بے ہوش پڑی تھی۔ اس کی آنکھیں اوپر کو چڑھی ہوئی تھیں، صورت بگڑی ہوئی اور منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ ہاتھ پائوں اکڑے ہوئے، سر کے بال اجڑے ہوئے تھے۔ کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ یہ وہی خوبصورت شہزادی ہے ، وہ کسی صورت انسان نہ لگتی تھی۔ امام صاحب بولے۔ آپ نے صبح سے مغرب تک بچی کو بھوکا پیاسا قید کر رکھا ہے۔ ان کے ساتھ جو بزرگ تھے۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ عالم بھی تھے۔ ان سے کہا کہ آپ کچھ مدد فرمائیے۔ بزرگ بولے کہ آپ نے بچی کو کیوں سنسان جگہ جانے دیا۔ گھومنے کے واسطے پرانی قبروں کی طرف اور وہ بھی دوپہر کو۔ زمیندار نے کہا۔ عالم صاحب یہ اکیلی نہ تھی اور بھی لڑکیاں اس کے ساتھ تھیں۔ ان کو تو کچھ نہیں ہوا۔ وہ معمولی شکل وصورت کی ہیں اور یہ بچی خوبصورت ہے۔ آپ نے فرق نہیں جانا! وہ کافی دیر تک آیات پڑھتے رہے، پھر شہزادی کو ہوش آگیا۔ وہ سرخ سرخ انگارہ آنکھوں سے سب کو گھور رہی تھی۔  عالم صاحب ، امام صاحب کے پاس ملنے آئے تھے۔ چند روز بعد چلے گئے تو دوسرے دم درود کرنے والوں کو بلوایا گیا۔ کسی نے دم درود کیا تو کسی نے مار پیٹ اور کسی نے لوہے کا کڑا گرم کر کے گلے میں ڈالا۔ شہزادی مگر وہ ٹھیک نہ ہوئی۔ کچھ دن آرام سے گزرتے پھر دورہ پڑ جاتا۔ ڈاکٹر کہتے مرگی ہے، تو دم کرنے والے کہتے جنات کا سایہ ہے۔ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا ہے مگر شہزادی کے مکھڑے سے رنگ روپ غائب ہو چکا تھا۔ کبھی سکون سے ہوتی تو ٹھیک لگتی، کبھی بیٹھے بیٹھے چلاتی اور کنویں کی طرف دوڑ لگادیتی، جیسے کوئی اسے بلاتا ہوں۔ وہ ہنسنا بھول چکی تھی، چہرے پر وحشت رہتی تھی۔ دن بھر میں ایک دو نوالے کھاتی تھی۔ کسی سے بات چیت نہ کرتی ، لبوں پر چپ کی مہر لگ گئی تھی۔ خلا میں اور کبھی دروازے کی طرف گھورتی رہتی تھی۔

سہیلیاں بچاری ایک بار آئیں ، پھر دوبارہ نہیں آئیں۔ زمیندارنی اب ہاتھ ملتی تھی کہ کیوں بیٹی کو کھیتوں کی سیر کو بھیجا۔ جانے یہ نادان کہاں کہاں سنسان جگہوں، پرانی قبروں اور درختوں کے بیچ گھومتی پھری۔ خُدا جانے کیا بلا چمٹ گئی کہ ہنستی کھلکھلاتی بچی اپنے ہوش سے گئی۔ کئی سیانے آئے ، اپنی اپنی تدبیریں کیں مگر شہزادی کی حالت نہ بدل سکے۔ ہر کوئی پیسے لے کر چلتا بنتا اور شہزادی کی یہ حالت کہ سُوکھ  گئی۔ کئی کئی دن بھوکی رہتی اور کھانے پر آتی تو آٹھ آدمیوں کا کھانا کھا جاتی۔ سارا گائوں اس پر رحم کھاتا اور افسوس کرتا کہ خُدا نے منتوں مرادوں سے بیٹی دی بھی تو کیسی ؟ شہر لے جا کر ڈاکٹر کو دکھایا، مگر مرض کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ انہوں نے نفسیاتی مریض بتایا۔ ڈاکٹر نے دوائیاں دیں جو شہزادی کو بالکل راس نہ آئیں۔ مرض میں شدت آتی تو پھر سے دورے پڑنے لگتے۔  ایک دن یہ خوبصورت مورتی، بدصورتی کا ڈھانچہ بنی، رات کے کسی وقت گھر سے نکل گئی اور کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ دوسرے روز باپ بچارے نے بہت تلاش کیا۔ آخر کنویں کو بھی کھنگالا گیا۔ اس میں شہزادی کا بے جان جسم تیرتا ہوا ملا۔ والدین کا  بُرا حال تھا۔ شہزادی کو نہلا دھلا کر کفن پہنانے لگے تو ماں دُلہن کا جوڑا نکال لائی کہ یہ کپڑے میری بیٹی پہنے گی۔ ماں کی خواہش پر اس کو سُرخ جوڑا پہنایا گیا اور دلہن والا سنگھار کیا گیا۔ ماں شدت سے بیٹی کو شاید اس رُوپ میں دیکھنا چاہتی تھی، پھر اس پرانے قبرستان میں دفن کر دیا گیا، جہاں وہ سیر کرنے جاتی تھی۔ سہیلیوں نے جب آخری دیدار کیا تو ان کی سسکیاں نکل گئیں۔ جہاں شہزادی دفن ہوئی، وہاں زمیندار نے گلاب موتیا اور چنبیلی کا پورا باغ لگوا دیا کہ خُوشبو اس کی بیٹی کو بہت پسند تھی۔

Latest Posts

Related POSTS