Sunday, May 19, 2024

Kya Mugh Par Saaya Tha ? | Teen Auratien Teen Kahaniyan

میںعورتوں پر بلا تحقیق الزام دھرنے والوں سے صرف یہی کہوں گی کہ ہر عورت اس وقت تک پاک دامن ہے جب تک کہ اس پر بدکاری کا الزام ثابت نہ ہوجائے، ورنہ اللہ تعالیٰ نے کسی پاکدامن پر تہمت لگانے کو جرم قرار دیا ہے۔
مجھ پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا… اسی الزام کے تحت مجھے شوہر نے طلاق دے کر گھر بدر کیا تھا۔ حالات کیا تھے، شروع سے بیان کروں تو بات سمجھ میں آجائے گی کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت گناہ میں شامل نہیں ہوتی مگر ملوث کردی جاتی ہے۔
میں نے ایک دقیانوسی ماحول میں جنم لیا تھا۔ والدہ پیروں فقیروں کی بہت رسیا تھیں۔ اکثر بزرگوں کی درگاہوں پر جاکر قوالیاں سنا کرتی تھیں۔ میں بھی ان کے ساتھ جاتی، ہم عورتوں کی جانب بیٹھا کرتے۔ وہاں کافی رش ہوتا تھا اکثر عورتیں قوالیاں سنتے ہی بے حال ہوجاتی تھیں۔
وہ عجب نظارہ ہوتا، مستانیاں بال کھول لیتیں اور حال کھیلنے لگتیں۔ میرے لئے یہ چیز بڑی دلچسپی کا باعث تھی اور اسی لئے میں اماں کے ساتھ اصرار کرکے درگاہ پر جاتی تھی۔
یہ مستانیاں نہ جانے کس جوش کے ساتھ حال کھیلتیں کہ اکثر تو گھنٹوں بال کھولے جھومتی رہتیں اور پھر تھک کر بے ہوش ہوجاتیں۔ ان میں اماں جنت کا حال دیکھ کر تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔ وہ سب سے آخر میں تھکتی تھیں اور جب بھی ’’حال‘‘ کھیل کر ختم کرتیں موتیا کا ہار اپنے گلے سے اتار کر میری گردن میں ڈال دیتی تھیں۔ اس پر میری اماں خوش ہوکر کہتیں… اماں جنت میری بیٹی کو دعا دو اسے بھی ولایت مل جائے اسے تم اپنی بیٹی بنالو۔ تب مائی جی مجھے پیار کرتیں اور مٹھائی کھانے کو دیتیں… میں ماں کے اشارے پر لے لیتی… جیسے کہ بڑا مقدس تبرک ہو۔
ان دنوں میری عمر تقریباً چودہ برس کی ہوگی۔ تھوڑے عرصے کے بعد اماں جان کا حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا۔ وہ جمعرات کے دن مزار سے قوالی سن کر آئی تھیں، میں بھی ان کے ہمراہ تھی۔ آتے ہی کہنے لگیں۔
کیسی پیاری خوشبو تم سے پھوٹ رہی ہے، موتیا کے ہار نے سارے گھر کو مہکا دیا ہے۔ ایسا کہتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھا، درد کی شکایت کی۔ پھر جو چارپائی پر لیٹیں تو آنکھیں موند لیں اور قبر میں پہنچ کر نگاہوں سے ہمیشہ کیلئے اوجھل ہوگئیں۔
ان کا اوجھل ہونا تھا کہ مجھ پر برے دن آگئے۔ میرا کوئی بھائی بہن نہ تھا۔ ابو اور میں گھر میں بس ہم دو ہی رہ گئے۔ رشتہ دار امی کی وفات پر افسوس کیلئے متواتر آرہے تھے اور میرا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا۔ اس دوران درگاہ پر بھی نہ جاسکی کہ جی کو سکون مل جاتا… جاتی تو کس کے ساتھ، ماں تو چل بسی تھی۔
رفتہ رفتہ رشتہ داروں کا آنا کم ہوا۔ آخر بالکل ہی یہ سلسلہ تمام ہوگیا۔ گھر میں اکیلا پن تڑپانے لگا۔ ابا تو صبح باہر نکل جاتے، شام کو گھر لوٹتے۔ کئی بار جمعرات کے روز طبیعت میں اضطراب نے غلغلہ مچایا۔ جی چاہا درگارہ پر نکل جائوں مگر جوان لڑکی کو والد بھلا کیسے مزار پر بھیجنا گوارا کرسکتے تھے۔
انہوں نے صاف منع کردیا کہ بیٹی اب تیری ماں نہیں رہی ہے۔ اسی کے شوق سے مجبور ہوکر چپ تھا اور تم اس کے ہمراہ درگاہ پر چلی جاتی تھیں مگر اب وہاں ہرگز نہ جانا۔ میں سختی سے منع کررہا ہوں۔
ابا کی سخت ہدایت پر قدم روک لئے اور یہ خواہش دل میں دب کر رہ گئی۔ مگر درگاہ پر جو چہل پہل اور رونق ہوتی تھی وہ ہر دم نگاہوں میں پھرتی تھی۔ اکیلے پن کے سبب تو اور زیادہ یہ خواہش سر اٹھاتی تھی کہ کسی طرح جاکر قوالی سنوں۔
کئی دنوں سے اماں جنت یاد آرہی تھی، جی کرتا تھا اس سے ملوں اور اپنے دل کی گھٹن کو دور کرلوں۔ اس سے شکوہ کروں کہ کیسی اماں بنی ہو جو حال پوچھنے تک نہیں آتی ہو۔ کس کے دامن میں ممتا کا پیار ڈھونڈوں؟
جوں جوں دن گزرتے جاتے تھے۔ میرے دل میں تڑپ بڑھتی جاتی تھی۔ ہر جمعرات کو جسم میں اک سنساہٹ سی دوڑتی محسوس ہوتی۔ نہ جانے کیوں بدن ٹوٹنے لگتا۔ ایسی تھکاوٹ محسوس ہوتی کہ رگ و پے کو چور چور کر ڈالتی۔ ہلکا ہلکا درد میرے انگ انگ میں سما جاتا اور میں بے حال ہوکر فرش پر گر پڑتی۔
آہستہ آہستہ دورے کی سی یہ کیفیت بڑھتی گئی اور اب تو کبھی کبھی اس حالت میں مجھ پر ایسا نشہ چھاتا کہ بے ہوش ہونے لگی، گھر میں تنہا ہوتی تھی۔ کوئی دیکھنے والا بھی نہ تھا۔ ابا سے کیا کہتی کہ جمعرات کی شام کو میرا کیا حال ہوجاتا ہے۔ وہ تو یہی سمجھتے تھے کہ میں قوالیوں کے مزے لوٹنے کو درگاہ پر جانا چاہتی ہوں اور یہ سب اسی خواہش کی تکمیل کے بہانے ہیں سو وہ کبھی بھی جانے نہ دیتے۔
ایک روز… خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ جمعرات کی شام کو میں نیم بے ہوش ہوکر گھر کی دہلیز پر گر گئی۔ ابا اس دن اچانک گھر آگئے۔ مغرب سے چند گھڑی قبل کا سمے تھا، انہوں نے جو میری یہ حالت دیکھی پریشان ہوگئے۔ مجھ کو سہارا دے کر چارپائی تک لائے۔ منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور پوچھنے لگے۔
بیٹی… تجھے کیا ہوا ہے۔ کیوں ایسے دروازے کی چوکھٹ پر بے ہوش پڑی تھی۔ تب ہی میں نے بتایا کہ ابا… جب سے اماں فوت ہوئی ہیں، اکثر جمعرات کی شام کو میری ایسی ہی حالت ہوجاتی ہے۔
یہ سن کر ان کو بہت ملال ہوا، میری دلجوئی کرنے لگے مگر میری اس حالت کا واحد حل انہوں نے ’’شادی‘‘ سمجھا… اسی دوران میرے لئے ایک رشتہ آگیا۔ تب ہی چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کردیا اور میں شاد ی کے دو ماہ بعد اپنے خاوند کے ہمراہ دبئی آگئی۔
دبئی میرے شوہر اپنے ایک دوست کے توسط سے آئے تھے۔ جن کا نام کلیم تھا۔ کلیم نے ہی ویزے کا بندوبست کیا۔ دبئی میں ملازمت دلوائی اور رہائش کا مسئلہ بھی اسی نے حل کیا، اپنے گھر کا ایک حصہ ہم میاں بیوی کو رہنے کیلئے عنایت کردیا۔
کچھ دن تو ٹھیک ٹھاک گزرے، ایک روز پھر میری ویسی ہی حالت ہوگئی۔ یہ جمعرات ہی کا دن تھا۔ شوہر مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اس نے کوئی خاص مرض تشخیص نہیںکیا۔ البتہ سکون کی دوا دے دی۔ وہ سمجھ رہا تھا مجھے کچھ ذہنی پریشانی ہے لہٰذا سو جانے سے حالت نارمل ہوجائے گی۔
مرض موجود ہو تو دوا کی حاجت ہوتی ہے مگر میرا تو عجب مرض تھا جس میں دوا کا کوئی کام نہ تھا۔ اکثر ایسی حالت ہوجاتی کہ ڈاکٹر بھی کچھ سمجھ نہ پاتے، بس وہ مجھے سکون کی دوا دے کر سلادیتے تھے۔
میں اس صورتحال سے تنگ آگئی۔ ایک روز کلیم کی بیوی جس کو میں فرزانہ بھابی کہتی تھی، اپنا احوال بتا دیا۔ درگاہ کی باتیں اور اماں جنت کا قصہ بھی گوش گزار کردیا۔
فرزانہ بھابی نے تحمل سے میری بات سنی اور تسلی دی کہ پریشان مت ہو۔ پردیس میں ہم ہی تمہارے سب کچھ ہیں۔ میرے میاں کلیم صوفی منش ہیں اور کچھ عملیات جانتے ہیں لیکن اپنا مقام کسی پر ظاہر نہیں کرتے۔ کسی کو بتاتے نہیں ہیں۔ پہلے تعویذ دیا کرتے تھے لیکن جب سے پاکستان چھوڑا ہے اور دبئی آئے ہیں، یہ کام بھی چھوڑ دیا ہے۔ تمہارے لئے کہوں گی تو ضرور مدد کریں گے اور پھر تم ٹھیک ہوجائو گی انشا اللہ…
فرزانہ بھابی کی تسلی سے میرا دل بڑا ہوگیا۔ اگلے روز جب میری کیفیت اس نے اپنے شوہر کو بتائی تو کلیم صاحب نے کہا کہ جمعرات آنے دو، دیکھوں گا کہ کیا معاملہ ہے۔
جمعرات کے روز کلیم صاحب نے چھٹی لے لی اور جب مقررہ وقت پر میں بے ہوش ہوکر گرنے لگی تو آگے بڑھ کر مجھے تھاما اور بستر پر لٹا دیا۔ کچھ پڑھنے لگے، پھر بیوی سے کہا کہ اس پر سایہ ہے۔ باقاعدہ عمل کرنا پڑے گا۔ ان کا علاج نئے چاند کی پہلی جمعرات سے ہوگا۔ ان سے کہنا عطر کی شیشیاں اور اگر بتیاں منگوا کر رکھ لیں۔
نوچندی جمعرات کے روز اتفاق سے میرے شوہر کسی ضروری کام سے مسقط چلے گئے، وہ پہلے بھی جاتے رہتے تھے۔ ادھر فرزانہ بھابی کی امی کا فون آگیا، وہ بے حد علیل تھیں۔ بھابی فوراً پاکستان روانہ ہوگئیں۔
چاند کی یکم تاریخ آگئی تھی اورکلیم صاحب نے میرا علاج شروع کردیا۔ میں ایک سعادت مند بچی کی طرح ان کی اطاعت کرنے لگی۔ پہلے روز سامنے بٹھا کر وہ پاس بیٹھ گئے۔ اگربتی جلالی اور عطر میرے اوپر پھینکا۔ کچھ دیر تک منہ ہی منہ میں پڑھتے گئے اور مجھ پر پھونکیں مارتے رہے اور پھر بولے اب کل باقی عمل ہوگا۔
اگلے روز بعد نماز عصر بلایا اور میرے سامنے سر ڈھک کر بیٹھ گئے۔ عطر لگانے کا طریقہ بھی بدل گیا۔ آج خود اپنے ہاتھ سے میرے کپڑوں پر عطر لگایا۔ کچھ پڑھ کر دم کیا… اب روز شام کو یہی عمل کرتے مگر خوشبو لگانے کا طریقہ بدلتا جارہا تھا کہ میں شرم سے پانی پانی ہوجاتی تھی۔
اپنی تکلیف کو دور کرنا چاہتی تھی۔ تب ہی ان باتوں کو برداشت کررہی تھی اور ان کے طرز عمل کو اس عجیب و غریب طریقۂ علاج کا حصہ جان رہی تھی۔
اب کی جمعرات آئی تو ابھی عمل جاری تھا کہ مغرب کے وقت مجھے پلنگ پر دراز ہونے کا کہا۔ میرے بدن میں وہی ہلکا ہلکا درد شروع تھا جس سے تنگ آکر میں نے عمل کرانا قبول کرایا تھا۔ میرے پیروں کے ناخنوں میں درد شدید ہونے لگا اور مجھ کو محسوس ہوا کہ جیسے کوئی مجھے اپنے دونوں بازوئوں کے شکنجے میں لے کرکستا چلا جارہا ہو۔
میں نے کلیم صاحب سے اس تکلیف کی شکایت کی، بولے بس خاموشی سے لیٹی رہو۔ آج جمعرات ہے اور وقت بھی مناسب ہے، سائے کو پکڑنے اور بے بس کرنے کا یہ اچھا موقع ہے۔
ذرا دیر میں وہ کپڑے تبدیل کرکے آگئے، ہاتھ میں اگربتی تھی جس کو سلگا کر لائے تھے۔ ہرا چوغہ پہن لیا تھا۔ ملنگ جیسے لگ رہے تھے، ہاتھ میں عطر کی شیشی لئے میرے پاس آئے بولے… ہلنا جلنا مت ورنہ سایہ بھاگ جائے گا اور میرے ہاتھ نہیں آئے گا، تب اور تم کو نقصان پہنچائے گا۔ میں ڈر کر بے حس و حرکت لیٹی تھی۔
میرے بدن کو ہاتھ لگا کر پوچھتے تھے کہ جہاں درد زیادہ معلوم ہو بتانا وہیں سایہ ہوگا۔ میں پکڑ لوں گا، گرچہ سائے کو پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر میں نے بہت چلّے کاٹے ہیں۔ مجھ سے یہ بچ نہ پائے گا لیکن تمہارا تعاون بہت ضروری ہے۔ گھبرا کر عمل کو بیچ میں نہ رکوا دینا الٹا پڑ گیا تو ہم دونوں ہی مارے جائیں گے۔
وہ مجھے عطر لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے، جہاں درد ہو بتانا۔ یہ دوران خون کے ساتھ ساتھ بدن میں بہتا رہتا ہے۔ وہ میرے وجود کے مختلف حصوں پر ہاتھ رکھنے لگے۔ ساتھ ساتھ میری ناک سے کوئی شے چھوتے جاتے تھے جس سے مجھ پر غنودگی طاری ہوتی جارہی تھی۔
اب حالت یہ تھی کہ ہوش تو باقی تھا۔ سب دیکھ سکتی تھی مگر ان کا ہاتھ نہ روک سکتی تھی۔ میں نے جب دیکھا کہ عمل خطرناک حدوں کو چھونے لگا ہے تو اٹھ کر مزاحمت کرنے کی کوشش کی مگر جسم بے جان ہوچکا تھا۔ نہ جانے انہوں نے مجھے کیا سنگھا دیا تھا کہ ہاتھ بھی نہ ہلاسکتی تھی۔
اپنی آنکھوں سے اپنی دنیا لٹتے دیکھ رہی تھی اور ہلنے کی سکت نہ تھی۔ ذہن سلگ رہا تھا۔ دماغ میں طوفان اٹھ رہے تھے۔ دل میں نفرت کا دریا ابل رہا تھا مگر میں اس کا اظہار بھی نہیں کرسکتی تھی۔
کاش کوئی میری بے بسی کا اندازہ لگا سکتا۔ کلیم نے عامل کے روپ میں وہ ظلم مجھ پر کیا کہ فریاد بھی نہ کرسکی۔ میرے معصوم شوہر کو کیا معلوم کہ جس دوست پر وہ بھروسہ کرگئے تھے اس کا اصل روپ کتنا گھنائونا تھا۔
صد شکر کہ اگلی جمعرات کے آنے سے پہلے میرے شوہر لوٹ آئے۔ مجھ کو ایسا غم لگا تھا کہ انہوں نے میرا اترا چہرہ دیکھا تو بھانپ لیا کہ میرے ساتھ کچھ برا ہوگیا ہے۔ قسم دے کر پوچھا سچ بتا دو کہ کیا ہوا ہے… تب میں سچ بتائے بغیر نہ رہ سکی۔ سوچا اگر آج نہ بتایا تو کل پھر اس شخص کے رحم و کرم پر ڈال دی جائوں گی اور اپنی عصمت گنواتی رہوں گی۔
لیکن سارا ماجرا سن کر بجائے مجھ سے ہمدردی کرنے کے شوہر صاحب نے مجھ ہی کو مورد الزام ٹھہرایا اور فوراً پاکستان روآنہ کردیا۔ گھر پہنچی تو طلاق کا پروانہ بھی آگیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ریاض نے کلیم کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ میں تو سکتے میں آگئی تھی کہ سچ بتانے کی ایسی کڑی سزا ملی تھی۔
رنگ روپ میں افضل تھی مگر قسمت کی کیسی نکلی… شادی کم عمری میں ہوگئی اور ناکام رہی۔ جب دیکھا کہ اپنے محافظ نے ہی سزا سنا دی ہے تو غم سے بیمار پڑ گئی۔ ابا تو پہلے ہی بیمار تھے… گھر میں دو ناتواں اور بیمار افراد اور تسلی دینے والا بھی کوئی نہ رہا تھا۔
ایک روز بھولے بھٹکے سے میری بزرگ استانی صاحبہ آ نکلیں جنہوں نے مجھے قرآن پاک پڑھایا تھا۔ انہوں نے مجھ پر آیات پڑھ کر دم درود کیا اور نماز باقاعدگی سے پڑھنے کی ہدایت بھی کی۔
استانی جی کی تلقین پر میں نے نماز باقاعدگی سے پڑھنا اور سجدوں میں گر گر کر دعائیں مانگنا شروع کردیں۔ اس دوران استانی جی برابر آکر میرا احوال دریافت کرتی تھیں اور آیات پڑھنے کی ہدایت کرتی رہتی تھیں۔ وہ میرے لئے استخارہ بھی کرتی تھیں۔
خدا کی قدرت ایک ماہ بعد ہی میرے حالات پلٹے۔ بدن کے درد اور ناخنوں کے درد میں کمی آنے لگی اور میرے وجود میں جو سرسراہٹ ہوتی تھی وہ غائب ہوگئی۔ پھر استانی جی کے توسط سے ہی نکاح ثانی ان کے ایک نیک اور شریف رشتہ دار سے ہوگیا جو پابند صوم و صلٰوۃ بھی تھے۔ وہ نکاح کے بعد مجھے مکہ مکرمہ لے آئے۔
یہاں آکر میری خوشیوں کی انتہا نہ رہی۔ روضۂ مبارکہ کی زیارت میری دلی آرزو تھی۔ ہم نے اس مقدس سرزمین پر مستقل رہائش اختیار کرلی۔ میں تمام نمازیں حرمین شریف میں ادا کرنے کی کوشش کرتی۔ کبھی مکہ مکرمہ میں اور کبھی مدینہ منورہ میں… اس مالک کی بے حد شکر گزار تھی کہ ارض مقدس کے اس قدر پاکیزہ ماحول میں تھی۔
آٹھ برس تک خوش و خرم رہنے کے بعد بیوہ ہوگئی تو واپس پاکستان لوٹ آئی کہ وہاں تنہا نہ رہ سکتی تھی۔
وطن لوٹی تو ہم وطنوں نے بہت عزت دی۔ وہ مجھ سے دعائیں کرانے آتے اور میں صرف استخارہ کرتی، پردہ کی پابندی کرتی تھی لیکن ایک روز جبکہ شدید بخار نے آلیا تو مجبوراً ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ ڈاکٹر ہوکر وہ مجھ پر نظر بد رکھے گا، حالانکہ عمر میں، میں اس سے کافی بڑی تھی۔ تب ہی میں نے اس کے پاس جانے اور علاج سے کنارہ کیا… اور دوبارہ مکہ مکرمہ کا قصد کرلیا۔
اب جانا کہ دراصل ہمارے وطن کے عوام سیدھے سادے ہیں جو دین اسلام کی روح کو نہیں سمجھتے۔ دین میں فطرت کے خلاف باتیں تلاش کرتے ہیں کہ کسی کا سونا اور نوٹ دگنے ہو جائیں۔ جن بھوت قبضے میں ہوں۔ کسی کی طرف انگلی کرو اور وہ پھڑک کر گر پڑے۔ نگاہ بھر کر دیکھو تو جل کر خاک ہوجائے، وغیرہ وغیرہ۔
عدت کے بعد کچھ لوگوں نے مجھے شادی کے پیغامات دئیے لیکن میں ارض مقدس چلی گئی اور حرمین شریف کی چوکھٹ کی ہورہی۔ مسلسل بیس سال یاد الٰہی میں سکون قلب حاصل رہا۔ کسی نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور نہ حسن کی تعریف کی۔ ہر سال حاجی صاحبان ہمارے وطن سے آتے تھے اور میں ان کی بھرپور خدمت بجا لاتی تھی۔ وہ اس کے صلے میں مالی مدد سے نوازتے تو بہت اچھا گزارا ہوجاتا تھا۔
جب بڑھاپے نے میری جانب قدم بڑھائے تو پھر پاکستان آگئی اور اب پیرانہ سالی میں محلے کی بچیوں کو قرآن پاک پڑھا کر گزر بسر کرتی ہوں۔
ان دنوں میری عمر ستر سال ہے، سچ کہتی ہوں کہ جس قدر سکون مذہب کی اصل روح کو سمجھ کر زندگی بسر کرنے میں ہے اور کسی شے میں نہیں ہے۔ وہ لوگ بہت بڑے فریب میں مبتلا ہیں جو جادو ٹونے اور پیری فقیری کے چکروں میں جعلی عاملوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، اپنا وقت اور روپیہ برباد کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خسارہ یہ کہ اپنا ایمان خراب کرلیتے ہیں۔
انسان کو چاہئے کہ وہ پاک صاف رہے، اللہ پر کامل یقین رکھے اور عبادت الٰہی کا پابند ہوجائے تو ہرطرح کا مرض خواہ روحانی ہو، ذہنی یا جسمانی، اس سے شفایابی اللہ تعالیٰ کی ذات سے عطا ہوجائے گی۔ صرف دعائیں ہی وہ وسیلہ ہیں کہ دل سے مانگی جائیں تو اثر رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کی خوب سنتا ہے۔ مایوسی کفر ہے، میں نے تو اپنے مرض کا علاج اللہ پر کامل یقین کرکے پایا ہے۔ (ن۔ ملتان)

Latest Posts

Related POSTS