Friday, May 24, 2024

Kya Wohi Ho Tum? | Teen Auratien Teen Kahaniyan

نوشابہ میری پہلی بچی تھی۔ پیار سے ہم اس کو نوشی کہتے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت تھی اور یوں بھی ہر ماں کو اپنا بچہ دنیا کے سارے بچوں سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔ سو، میں اس کے پیار میں ایسی کھوئی کہ مجھے کسی اور بات کا ہوش نہ رہا۔ یہاں تک کہ اس کے پیار میں اپنے جیون ساتھی اکبر سے بھی غافل ہوجاتی تھی۔ تبھی وہ شکوہ کرتے کہ بیٹی نے تم کو مجھ سے چھین لیا ہے اور میں جواب دیتی کہ نوشی میری ہی نہیں تمہاری بھی تو بیٹی ہے۔
نوشی بہت معصوم صورت تھی۔ اس کی آنکھیں سبز اور بال سنہرے تھے۔ حیرت کی بات کہ سبز آنکھیں اس کے ننھیال اور ددھیال میں سے کسی کی نہیں تھیں۔ اس کی ٹھوڑی پر ننھا سا تل بہت خوبصورت لگتا تھا اور کندھے پر سرخ نشان تھا۔ جس کو بڑی بوڑھیاں ’’پدم‘‘ کا نشان کہتی تھیں۔ میری ساس کا خیال تھا کہ جس بچے کے شانے پر یہ نشان ہو، وہ بہت خوش بختی لاتا ہے۔
جب نوشی پائوں پائوں چلنے لگی تو میری مصروفیت اور بڑھ گئی کیونکہ وہ کمرے سے باہر لان میں نکل جاتی اور مجھے اس کے پیچھے جانا پڑتا۔ ہر وقت گیٹ بند کرنے کے خیال میں رہتی کہ کہیں نوشی باہر نہ چلی جائے۔
اس روز بادل چھائے ہوئے تھے اور میں کمرے میں الماری کی صفائی کررہی تھی کیونکہ شام کو اکبر کو کسی کام سے لاہور جانا تھا۔ مجھے ان کے کپڑے نکالنے تھے اور بیگ تیار کرنا تھا۔
اکبر کا بیگ تیار کرنے کے بعد کچھ دیر میں الماری کی اشیاء درست کرنے میں مگن رہی۔ دفعتاً خیال آیا نوشی لائونج میں کھیل رہی تھی۔ دیکھوں تو، اس کی آواز ہی نہیں آرہی…کہیں کھیلتے کھیلتے سو تو نہیں گئی۔
یہ خیال آتے ہی میں دوڑ کر کمرے سے باہر آئی۔ وہ لائونج میں نہیں تھی، میں نے سارا گھر چھان مارا۔ لائونج میں اس کے کھلونے پڑے ہوئے تھے۔ میں لان میں نکلی جہاں اس کی گیند گھاس پر موجود تھی مگر وہ خود وہاں بھی نہ ملی۔ اسے پکارتی میں گیٹ تک آگئی۔ چھوٹا پٹ کھلا تھا، تبھی یقین ہوگیا کہ وہ گیٹ سے باہر چلی گئی ہے۔ نہ جانے کیسے چھوٹا گیٹ کھلا رہ گیا تھا۔ حالانکہ ایسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس معاملے میں، میں بہت محتاط رہتی تھی۔
میں نے اپنے حلیے کا بھی خیال نہ کیا اور گیٹ سے نکل کر سڑک پر آگئی۔ اِدھر اُدھر دیکھا۔ بچی ہوتی تو کہیں نظر آتی۔ خیال آیا کہ بچی کھیلتے کھیلتے باہر نکلی ہے اور کوئی ظالم میری معصوم بچی کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ اس خیال کے آتے ہی میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اب تو آگے دو قدم چلنا میرے لئے دوبھر تھا۔
دوپہر کا وقت تھا اور ایسے وقت تو بنگلوں کے اطراف مکمل سناٹا ہوتا ہے راہ گیر تو کیا، کوئی ذی روح نظر نہیں آرہا تھا۔ کس سے اس معصوم کا پوچھتی… دیوانی سی اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ اتنے میں اکبر گاڑی میں آتے دکھائی دئیے۔ ان کے آفس سے لوٹنے کا وقت ہوگیا تھا۔ انہوں نے کار کو میرے قریب روک لیا اور بولے۔
کیا بات ہے رخسانہ، کیوں ایسے حلیے میں بائولی سی سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی ہو؟
میں نے کہا۔ نوشی نہیں ہے۔ چھوٹا گیٹ کھلا رہ گیا تھا، وہ باہر نکل گئی ہے۔ وہ بھی پریشان ہوگئے مگر مجھے حوصلہ دینے لگے کہ گھبرائو نہیں ابھی پتا کرتے ہیں۔ کہیں ساتھ والے کسی بنگلے میں نہ گھس گئی ہو۔
ہمارے گھر کے برابر ہی ایک پلاٹ مدت سے خالی تھا۔ لیکن کچھ روز پہلے اس پر تعمیر شروع ہوگئی تھی۔ دوپہر کے وقت مزدور کھانا کھانے چلے جاتے تھے، تبھی وہاں کوئی نظر نہ آرہا تھا۔ چوکیدار بھی دکھائی نہ دیا تو ہم دونوں میاں بیوی زیر تعمیر عمارت کے اندر چلے گئے۔ چوکیدار سوتا ملا۔ ہم نے اسے جگا کر بچی کا پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کہنے لگا… ابھی مزدور لوگ کھانا کھا کر آتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں، شاید انہوں نے بچی کو دیکھا ہو۔
مجھے صبر کہاں تھا، زیر تعمیر عمارت کے اندر گھس کر بچی کو پکارنے لگی نوشی… نوشی… اپنے دل کو بہلانے کی کوشش کرنے لگی، اس خیال سے کہ بچی یہیں آئی ہوگی اورکسی کونے کھدرے میں اسے نیند آگئی ہوگی۔
دوپہر کو وہ ہمیشہ اس وقت تھوڑی دیر کے لئے سوجاتی تھی۔ اسے پکارتے ہوئے جب میں عمارت کے عقب میں پہنچی وہاں سیمنٹ ریتی اور لکڑی کے تختے پڑے ہوئے تھے، وہاں مجھے ریت پر کچھ نشان دکھائی دئیے۔
بچے ریت اور بجری میں بہت شوق سے کھیلتے ہیں۔ جب غور سے دیکھا مجھے ریت پر نوشی کے پیروں کے ننھے ننھے نشان دکھائی دئیے۔ وہ یقیناً پچھلی جانب سے ادھر آئی تھی۔ قدموں کے یہ نشان ریت سے ہوتے اس طرف جا رہے تھے جہاں پانی کا انڈر گرائونڈ ٹینک بنا ہوا تھا۔ یہ پانی سے بھرا ہوا تھا اور اسے کھلا رکھا گیا تھا۔ تعمیر کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پانی کا وہ ٹینک کسی حوض کی مانند کھلا ہوا تھا۔
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ تیزی سے ادھر بھاگی اور جھک کر حوض کو دیکھا۔ آہ… کاش میں نہ دیکھتی۔ وہ ایسا نظارہ تھا جس کو دیکھ کر کوئی ماں زندہ نہیں رہ سکتی۔ میری معصوم نوشی اس میں ڈوب چکی تھی۔ سوا سال کی ننھی سی جان کو اس میں ڈوب کر جان دینے میں بس چند لمحے لگے ہوں گے۔
میری چیخ فلک شگاف تھی۔ اتنے میں اکبر نے مجھے جکڑ لیا ورنہ میں خود بھی پانی میں کود جاتی۔ جب مجھے گھر لائے ہوش میں نہ تھی۔
لوگ جمع ہوگئے۔ پڑوس کی عورتیں ہوش میں لانے کی تدبیریں کرنے لگیں۔ ہوش میں آئی تو دیکھا کہ نوشی کی میت سامنے رکھی ہے۔ میں اس کے کھٹولے کو پکڑ کر زار و زار رو رہی تھی۔ وہ لوگ اسے اٹھانے لگے لیکن میں نے موت کھٹولے کو اٹھانے نہ دیا۔ اس کی پٹی سے چمٹ کر بیٹھ گئی۔ وہ لوگ جو جنازہ اٹھانے آئے تھے، بے بس ہوگئے۔
اس شام میری دیوانگی کی وجہ سے بچی کو دفنایا نہ جاسکا… جلد ہی رات ہوگئی۔ شام کے آٹھ بجے تھے۔ لوگ میت اٹھانے کے منتظر تھے اور میں پٹی کو مضبوطی سے تھامے تھی کہ نہیں لے جانے دوں گی اپنی بچی کو، وہ رات کو قبر کے اندھیرے میں ڈرے گی۔
روتے روتے مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی، تبھی دیکھا کہ جاگ رہی ہوں اور نوشی زندہ ہوکر میرے سامنے کھڑی ہے۔ حالانکہ اس نے بولنا نہ سیکھا تھا مگر وہ اب بول سکتی تھی۔ وہ مجھے کہہ رہی تھی۔
امی ضد نہ کریں۔ مجھے جانے دیں۔ وعدہ کرتی ہوں میں پھر آجائوں گی۔
اس کو بولتے پاکر مجھے جھرجھری آگئی اور میری آنکھ کھل گئی۔ دیکھا کہ ایک نوشی تو کفن میں لپٹی ہوئی لیٹی ہے اور ایک اس جیسی سامنے کھڑی ہے۔ میں یہ منظر دیکھ کر پسینے سے شرابور ہوگئی۔ میں نے ہمت کرکے سامنے کھڑی نوشی کی سمت ہاتھ بڑھایا تو میرا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور اس کا ہیولا غائب ہوگیا۔
امی کی بھی آنکھ لگ گئی تھی۔ میں نے ان کا کندھا ہلایا اور بتایا کہ نوشی ابھی ابھی یہاں کھڑی تھی۔ وہ بولیں… بیٹی تمہاری ضد نے اس کی روح کو تکلیف پہنچائی ہے، اب اسے جانے دو، پھر امی جاکر مردوں کو بلا لائیں۔
اس وقت رات کے گیارہ بج گئے تھے۔ انہوں نے میت کو اٹھایا اور قبرستان چلے گئے۔ اب میری آنکھوں میں آنسو تھے اور نہ میں دھاڑیں مار کر رو سکتی تھی، بے جان بت کی طرح گم سم بیٹھی تھی۔ امی نے زبردستی مجھے پکڑ کر پلنگ پر لٹایا لیکن رات بھر سو نہ سکی۔
نوشابہ کی موت کے بعد کافی عرصے تک اس واقعے کا اثر رہا اور میں بیمار رہنے لگی۔ عجیب سا خوف دل پر طاری ہوجاتا تھا۔ اس عرصے میں اللہ تعالٰی نے یکے بعد دیگرے دو بیٹے عطا کئے۔ اب نوشی کی یاد کم کم آتی تھی۔
نوشی کی وفات کے چھ برسوں بعد ایک بیٹی ہوئی تو میں حیران رہ گئی… کیونکہ وہ بالکل نوشی جیسی ہی تھی۔ سبز آنکھیں سنہرے بال اور دائیں کندھے پر سرخ نشان، جیسا کہ نوشی کے کندھے پر تھا۔ مجھے لگا کہ وہ واپس آگئی ہے۔
جب بچی نے جنم لیا اور نرس نے مجھے اس کو دکھایا تو میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ سب سے پہلے میری نظر اس کے کندھے پر پڑی، ہو بہو ویسا ہی نشان تھا اور ٹھوڑی کے درمیان تل بھی موجود تھا۔
میرا رنگ پیلا پڑ گیا۔ میں نے بچی کو ہاتھ نہ لگایا، اسے اپنا دودھ بھی نہ پلایا۔ تین دن گزر گئے تب لیڈی ڈاکٹر نے سمجھایا کہ بچی کو اپنا دودھ پلائو، وہ کمزور ہورہی ہے۔ اسی رات کو خواب میں دیکھا کوئی بزرگ ہیں جو کہہ رہے ہیں۔
بیٹی یہ تیری اولاد ہے، اسے اپنے پیار سے محروم نہ رکھ۔ یہ بڑی بھاگوان ہے، اسے ماں کا پیار دے۔ میری آنکھ کھلی تو بچی پالنے کی بجائے میرے پہلو میں پڑی تھی۔ میں نے اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ پیار کیا اور نوشابہ ہی نام رکھا۔ مجھے یقین ہونے لگا کہ یہ میری وہی نوشی ہی ہے جو واپس آگئی ہے۔
خدا کے عجب فیصلے اور عجب راز ہیں۔ انسان اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتا مگر… اس پہلو کی سمجھ بعد میں آئی کہ جس روز نوشی فوت ہوئی تھی، اسی دن اکبر کو لاہور جانا تھا۔ جس ٹرین سے ٹکٹ بک کرایا تھا اس میں بچی کی وفات کے باعث نہ جاسکے اور دورہ ملتوی کردیا تھا۔ لیکن اسی ٹرین کو سکھر کے قریب بہت بڑا حادثہ پیش آیا تھا اور وہ کمپارٹمنٹ بالکل ہی تباہ ہوگیا تھا جس میں اکبر نے سفر کرنا تھا۔ اس حادثے میں دو سو آدمیوں سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ بچی کے وفات پانے میں یہی مصلحت تھی کہ باپ کی جان اس حادثے میں ضائع ہونے سے بچ گئی۔ باقی علم تو اس عالم الغیب کے پاس ہے، ہم تو اس کے ناچار بندے ہیں اور قیاس ہی کرتے ہیں… تاہم نوشی بہت بھاگوان ثابت ہوئی۔ اس کی پیدائش کے بعد اکبر کے کاروبار میں بہت ترقی ہوئی اور ہم دیکھتے دیکھتے دولت مندوں میں شمار ہونے لگے۔ میں نے جب بھی پرائز پونڈ خریدے، انعامات نکلے۔ لاٹری کا ٹکٹ لیا تو بھی انعام نکل آیا۔ ان دنوں امریکا کے ویزے کے لئے لاٹری فارم نکلتا تھا۔ شاید اب یہ سلسلہ بند ہوچکا ہے۔ اکبر نے ازراہ مذاق وہ فارم بھر کر بھیجا تو ہمارا وہاں مستقل قیام کا ویزا نکلا۔ ہم تو سوچ بھی نہ سکتے تھے لیکن اب ہم بلاتردد امریکی شہری تھے، وہاں جاسکتے تھے۔
ہم امریکا گئے لیکن میرے شوہر کو وہاں رہنا پسند نہ آیا۔ وہ بولے اپنے وطن سے بڑھ کر کوئی جگہ اچھی نہیں۔ جتنی محنت یہاں کرنی ہے کیوں نہ اپنے وطن میں کرلیں تو وہاں کیا کمی ہے۔
مجھے بیٹے پیارے ہیں مگر نوشی سے زیادہ نہیں۔ وہ ہماری جان ہے۔ اکبر بھی اس کو بہت پیار کرتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ ہماری خوش بخت بیٹی ہے، اسی کے نصیبوں سے ہم کو اللہ تعالیٰ نے مالا مال کیا ہے، زندگی کی ہر آسائش دی ہے۔ سچ ہے کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں اور اولاد خدا کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی مرضی جب دے، جب چاہے واپس لے لے۔ انسان کو اس کی حکمتوں پر صبر و ضبط سے کام لینا چاہیے کیونکہ سب کچھ قدرت والے کے بس میں ہے جبکہ انسان کے بس میں کچھ نہیں۔
(ف … لاہور)

Latest Posts

Related POSTS