Friday, May 24, 2024

Larki Lawaris Thi | Teen Auratien Teen Kahaniyan

ہماری کفالت امی جان نے کی۔ وہ ایک اسکول ٹیچر تھیں۔ والد صاحب کے بعد انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا، جیسی میری والدہ تھیں۔ ایسی ماں کی مثال نہیں ملتی۔
بھائی، تاجدار مجھ سے تین برس بڑے تھے۔ نیک لائق اور محنتی تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بینک میں آفیسر لگے تو ہمارے بھی دن پھر گئے۔ میں نے بی اے کرلیا تھا۔ امی مجھے اپنے گھر کا کرنا چاہتی تھیں، مگر میں نے کہا پہلے بھائی کی شادی ہونی چاہئے تاکہ میری رخصتی کے بعد والدہ اکیلی نہ رہ جائیں۔
آس پڑوس کی عورتوں نے بھی امی کو یہی صلاح دی۔ بلکہ ایک محلے دار خاتون نے تو رشتہ بھی ڈھونڈ لیا۔ اصرار کرکے امی کو لڑکی دکھانے لے گئیں کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب ہے۔ دوبارہ ایسا رشتہ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے گا۔
میرے کہنے پر والدہ لڑکی دیکھنے چلی گئیں۔ پڑوسن نے سچ کہا تھا واقعی وہ لڑکی چندے آفتاب چندے ماہتاب ہی تھی۔ چراغ تو کیا، سورج لے کر بھی ڈھونڈو تو ایسی لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔
لڑکی کا نام حسن افروز تھا۔ پہلی نظر میں میری ماں کو بھاگئی۔ یوں چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔ بھائی کے سہرے کے پھول کیا کھلے، دلہن پاکر وہ ہر وقت گلاب کے پھول کی طرح کھلے کھلے رہنے لگے۔
یہ شادی گرچہ امی جان کی پسند سے ہوئی تھی، مگر جب دلہا دلہن نے ایک دوسرے کو دیکھا تو یوں لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک دوسرے کے لئے ہی بنایا تھا۔
کہتے ہیں جہاں خوشیاں پھولوں کی طرح نچھاور ہوتی ہیں وہاں غم بھی تاک میں رہتے ہیں۔ بھابی، تاجدار بھائی سے بہت محبت کرتی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے سے پل بھر کو جدا رہنا گوارا نہ کرتے تھے۔ مگر خوشیوں کا یہ عرصہ مختصر تھا، دوسرے بچے کو جنم دیتے ہوئے حسن افروز بھابی نے اس جہاں کو ہی خیرباد کہہ دیا۔ زندگی ہی شاید اتنی تھی اور موت و حیات پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ انہوں نے چھ سال بھائی جان کی رفاقت میں گزارے اور اپنی دو نشانیاں عامر اور شنیلا کے روپ میں ہمارے پاس چھوڑ کر راہیٔ ملک عدم ہوگئیں۔
بھائی تو اپنی بیوی سے اتنی محبت کرتے تھے کہ دوبارہ شادی نہ کرنے کا عہد کرلیا۔ بھابی کی وفات کو چار برس بیت چکے تھے۔ اس عرصہ میں کون سا دن ہوگا جب انہوں نے، ان کی یاد میں نیر نہ بہائے ہوں۔
والدہ اور میں نے مل کر ان کے بچوں کو سنبھالا، پالا پوسا… لیکن کب تک… امی کو میری شادی کی فکر تھی اور وہ خود بوڑھی ہو رہی تھیں، پہلے جیسی طاقت نہ رہی تھی۔ پوتے اور پوتی کی خاطر میری شادی کو اتنا عرصہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔
انہوں نے بیٹے کے کان کھانے شروع کردیئے کہ اب تم دوسری شادی کرلو تاکہ عالیہ کو اس کے گھر کا کرسکوں۔ تمہاری بیوی آجائے گی تو گھر بار کے ساتھ بچوں کو بھی سنبھال لے گی۔
بھائی جان گرچہ، دوسری شادی پر راضی نہ تھے، ماں کے اصرار سے مان گئے۔ تاہم ایک شرط رکھ دی کہ کسی بے سہارا لڑکی کو سہارا دیں گے جو لاوارث ہوگی، تاکہ اللہ تعالیٰ اس نیکی کے صدقے ان کے بچوں کی زندگی میں خوشیاں عطا کرے اور وہ سوتیلی ماں کے ستم کا شکار نہ ہوں۔
ان کا ارادہ نیک تھا، مگر سوال یہ تھا کہ اب ایسی لاوارث اور بے سہارا لڑکی کہاں سے ڈھونڈی جائے… جو ایسی خصوصیات کی مالک بھی ہو کہ، ان کے بچوں کو سگی ماں جیسا پیار دے سکے۔
لاوارث اور بے سہارا لڑکی کی تلاش میں ہم کچھ فلاحی اداروں میں گئے، لیکن مطلب کی لڑکی نہ ملی۔ کئی لوگوں سے بھی کہہ رکھا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب ڈھونڈو تب مراد ملتی نہیں لیکن اکثر بن مانگے مل جاتی ہے۔ تلاش میں دو سال اور نکل گئے۔ میرے سر میں چاندی کے بال چمکنے لگے تو اماں گھبرا گھبرا کر ہر ایک سے کہنے لگیں۔ لڑکی کی عمر نکلی جاتی ہے، مگر میرے بیٹے کو ہوش نہیں خدا اسے ہوش کے ناخن دے۔ بہن بوڑھی ہوچلی ہے اور یہ ابھی تک اس سے اپنے بچے پلوا رہا ہے۔
عامر اب تیرہ سال کا ہوچکا تھا اور شنیلا میٹرک میںتھی۔ بھائی بھی عمر رسیدہ دکھائی دینے لگے تھے۔ یار دوستوں نے سمجھایا۔ میاں کس چکر میں پڑگئے ہو، کسی شریف گھرانے سے ر شتہ تلاش کرلو جو ضرورت مند ہوں۔ غریب اور یتیم بچیاں محض دولت نہ ہونے کے باعث غیرشادی شدہ رہ جاتی ہیں۔ کسی غریب گھر کی لڑکی کو بغیر جہیز بیاہ لانا بھی تو نیکی ہی ہوگی۔
انہی دنوں بھائی کے ایک بچپن کے دوست دبئی سے تشریف لائے۔ وہ بہت پیسہ کما کر لائے تھے۔ ایک روز ملنے آئے، بھائی کا مسئلہ سنا تو ان کو ایسی جگہ لے گئے، جہاں لاوارث لڑکیاں تو تھیں، مگر ان کے سودے ہوتے تھے۔
دوست کا نام طارق تھا۔ طارق نے کہا… سہارا ہی دینا ہے تو ایسی کسی لڑکی کو عزت دو جو عزت کی زندگی اور جینے کو ترس رہی ہو، مگر زبردستی گناہ کی دلدل میں دھکیل دی گئی ہو۔ اس سے بڑی نیکی اور کوئی نہیں ہوسکتی اور اس نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس ضرور گراں مایہ ہوگا۔ مجھے اس امر کا یقین ہے۔
طارق نے خود بھی ایک مظلوم اغوا شدہ لڑکی سے شادی کرکے اسے عزت کی زندگی دی تھی۔
طارق کی بات میرے بھائی کو متاثر کرگئی، وہ اس کے ساتھ اس بازار میں عیش و نشاط کی خاطر نہیں بلکہ کوئی مظلوم اور لاوارث لڑکی تلاش کرنے کو جانے لگے… کہ جو عزت کی زندگی بسر کرنے کی تمنائی ہو۔
ایک روز ان کو دلال نے ایک لڑکی دکھائی جو میرے بھائی کو بھلی لگی… وہ سترہ برس کی دوشیزہ تھی۔ گناہ گاروں کی بستی میں رہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر فرشتوں جیسی معصومیت تھی۔
جب تنہائی میسر آئی، بھائی نے نرمی سے کلام کیا… کسی شریف گھرانے کی لگتی ہو… نام کیا ہے تمہارا؟
آپ کو نام سے کیا کام… اس نے بے دلی سے جواب دیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کب سے یہاں آئی ہو اور کب تک روتی رہوگی، ایسے تو آنکھیں کھودوں گی… بھائی نے ہمدردی سے بات کی مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
دعا کرو… خدا تم پر رحم کرے…
اب تو آپ کے رحم و کرم پر ہوں۔
ٹھیک ہے بولو کیا چاہتی ہو؟
آپ اپنے گھر ملازمہ رکھ لیں مگر میں یہ گندی زندگی نہیں گزارنا چاہتی۔
تم کہاں سے آئی ہو یا لائی گئی ہو اور کس کی بیٹی ہو؟
سب یہی پوچھتے ہیں میری آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر مگر مقصد وہی پورا کرتے ہیں جس مقصد کے لئے لاتے ہیں۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں تم میرا یقین کرو… آرام سے بیٹھو اور بھروسے سے بات کرو میں تمہارے بھروسے کو ٹھیس نہیں پہنچائوں گا۔
تم سے قبل بھی اس کانے دلال نے مجھے تین لڑکیاں دکھائیں۔ بہت خوبصورت تھیں، مگر مجھے پسند نہیں آئیں۔ جبکہ تم مجھے پہلی نظر میں اچھی لگی ہو۔
آپ کی مہربانی ہے۔ اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
تمہارے حالات جاننا چاہتا ہوں اور تمہارا نام…
حالات میں نہ بتائوں گی… نام انہوں نے نوشین رکھا ہے۔ لیکن میرا نام طیبہ ہے۔ طیبہ ہی پیارا نام ہے جو تم پر جچتا ہے۔ حالات نہیں بتائوگی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ یہاں اسی غرض سے آیا ہوں۔ کسی مظلوم لڑکی کا ہاتھ تھامنا چاہتا ہوں اس کو عزت دار زندگی دینا چاہتا ہوں۔
کیوں کیا کسی عزت دار گھرانے سے لڑکی نہیں ملتی ؟
ملی تھی مگر موت نے اس کو مجھ سے چھین لیا، یہ ایسا گھائو ہے جو بھرتا ہی نہیں۔ اب میرے پاس اس کی امانت دو بچے ہیں جن کو ماں کی ضرورت ہے۔ میری اپنی ماں بوڑھی ہے وہ اب ان کی ذمہ داریاں نہیں نباہ سکتی۔ اس نے بہت غور سے بھائی کی بات سنی۔ پھر تاسف سے بولی۔
اب کیا ہوسکتا ہے؟
وہ سب کچھ ہوسکتا ہے، جس کی تمنا ایک عورت کو ہوتی ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تم سے نکاح کرلوں گا اور تمہاری قیمت ادا کرکے یہاں سے لے جائوں گا۔
آپ کے گھر والے کیسے برداشت کریں گے مجھ کو؟
یہ شادی میں والدہ کی اجازت سے کروں گا… اگر تم کو شرافت کی زندگی قبول ہے تو میں ان لوگوں سے بات کرتا ہوں۔ بھائی کی بات سن کر لڑکی کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اور وہ خوشی سے رونے لگی… تبھی بھائی نے درمیان والے آدمی سے رابطہ کیا۔ وہ تھوڑی دیر میں آگیا اور سوال کیا… کیوں بائوجی کیا ہوا؟ معلوم تھا کہ یہ چھوکری ضرور بین کرے گی۔ ماتم کا ماحول بنا دیتی ہے اور گاہک کا دل خراب ہوجاتا ہے۔
ایسی بات نہیں ہے، منے میاں… لڑکی نے ماحول خراب نہیں کیا ہے اس نے ماحول بنایا ہے یہ ہمارے مطلب کی ہے۔ اب تم بتائو… کہ اگر ہم اس کو خرید کر نکاح کرنا چاہیں تو کتنی رقم ادا کرنا پڑے گی۔
یہ میں بائی جی سے پوچھ کر ہی بتا سکتا ہوں۔ کانے دلال نے جواب دیا…تو ابھی جاکر پوچھو اور آکر بتائو۔
وہ ترنت چلاگیا اور ایک گھنٹہ کے بعد لوٹ آیا۔ ساتھ ایک ادھیڑ عمر عورت بھی تھی۔ ٹھسے دار، ظاہر ہے یہی ’’بائی جی‘‘ تھی۔
بائی جی… آپ کو منے میاں نے ہمارا مدعا بیان کردیا ہوگا۔ آپ کیا کہتی ہیں۔ ہم تو صاحب اس چھوکری سے پہلے دن سے تنگ ہیں، ناک میں دم کردیا ہے اس نے ہمارا ، ہم خود چاہتے تھے کہ کسی طرح اس کو کوئی خرید ہی لے جائے تاکہ ہمارے وہ دام تو وصول ہوجائیں جو ہم نے اس پر ضائع کردیئے ہیں… ہم نے اس کو ایک لاکھ میں خریدا تھا۔
اچھا تو بائی اب کام کی بات کرو۔ کتنے روپے لوگی؟
دولاکھ میں… مگر نکاح بھی ہمارے سامنے ہوگا… ہم نہیں چاہتے آگے کوئی اس سے زبردستی دھندا کرائے۔ کیونکہ جب ہم کسی لڑکی کو خرید لاتے ہیں، وہ ہماری اولاد کی طرح ہوجاتی ہے، اچھی نکلے یا برُی… کما کردے یا لگایا ہوا روپیہ غارت جائے۔ وہ ہماری بیٹی بن جاتی ہے۔ اور خراب اولاد کو بھی کوئی کنویں میں نہیں دھکیلتا۔
ٹھیک ہے بائی جی… آپ رقم لیں جو شرط رکھیں، مگر ہماری بھی ایک شرط ہے کہ جب ان کا نکاح ہمارے ساتھ ہو جائے گا، تب آپ سے ان کا رابطہ ختم ہو جائے گا۔ آپ کا پھر ان سے کچھ ناتا واسطہ نہ رہے گا۔ اگر آپ کو یہ بات منظور ہے تو ان کی اچھی زندگی کی دعا کیجئے ۔ ہم سے رقم لیجئے اور ناتا ختم سمجھئے۔
درست ہے میاں… ہم کو منظور ہے۔ اس کی یاد تو دل میں رہے گی، مگر اس کی اچھی زندگی بھی مدنظر ہے۔کیونکہ ہم نے اس پر کوئی ظلم کیا اور نہ چاہتے ہیں کہ اس پر کوئی ظلم کرے۔ ہم نے اس کو اغوا کیا ہے اور نہ کرایا ہے۔ ہم نے تو صرف خریدا تھا… کیونکہ اس منڈی میں یہی رواج ہے۔ کچھ یہاں طوائف زادیاں ہوتی ہیں اور کچھ شریف زادیاں ہوتی ہیں کہ جن کو حالات یہاں لاپھینکتے ہیں۔ ہم ان پھولوں کو سنبھالتے ہیں۔ ان کی آب یاری کرتے ہیں۔ ان کی ناز برداریاں کرتے ہیں اور انہیں تکلیف میں دیکھ کر خود ہمارا اپنا دل بھی اداس ہوجاتا ہے۔
بہرحال آج تکلیف میں لگتی ہیں، مگر کل نہیں ہوں گی۔ ہم ان کو اچھی طرح اور خوش رکھیں گے آپ ہمارا یقین کریں۔ بائی جی … اچھے دل کی عورت تھی، معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوگیا۔ طارق نے اسی دم دولاکھ کا انتظام کردیا۔ رقم بائی جی کی ہتھیلی پر رکھ دی اور طیبہ کو انہوں نے بھائی کے سپردکردیا۔
میرے بھائی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نکاح میں ’’بائی جی‘‘ کو ضرور شامل کریں گے۔ تاکہ ان کو سکون رہے کہ لڑکی کو کسی غلط مقصد کے لئے نہیں بلکہ صحیح مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔
طیبہ کو طارق اپنے گھر لے گیا اور بیوی کے سپرد کردیا کیونکہ بھائی اس کو بغیر نکاح گھر نہیں لانا چاہتے تھے۔ امی جان کو بھی تو تمام صورت حال سے آگاہ کرنا تھا۔
حیرت کی بات کہ طیبہ کے بارے سن کر امی جان نے اس کو بہو بنانے سے صاف انکار کردیا۔ بولیں۔ بیٹا تاجدار کان کھول کر سن رکھو اگر تم نے اپنی مرضی سے اسے بیوی بنا بھی لیا تو میں یہاں اسے نہ آنے دوں گی۔ اس بازار کی عورت میری پوتی اور پوتے کی ماں کہلوائے، مجھ سے برداشت نہ ہوگا۔
بھائی نے کافی منتیں کیں… میں نے بھی کہا… امی جان آپ اس کو طارق کے گھر جاکر ایک نظر دیکھ تو لیں کیا پتہ اس کی مظلومیت ہی آپ کے دل پر اثر کر جائے۔ وہ اپنی مرضی سے تو طوائف نہیں بنی… مگر میری ماں نے تو بس ایک ہی رٹ لگادی کہ میرے گھر بہو آئے گی تو کسی شریف گھرانے کی لڑکی… اس بازار کی طوائف کو ہرگز قبول نہ کروں گی۔
امی کے سخت رویہ سے دلبرداشتہ ہوکر بھائی تاجدار اس قدر دلگرفتہ ہوئے کہ ان کا دل ٹوٹ گیا اور مسہری پر گر پڑے۔ کئی دن تک کچھ کھایا نہ پیا۔ جب بھائی کی ایسی حالت دیکھی تو ماں کی ممتا نے جوش مارا…مجھ سے بولیں تم بھی چلو طارق کے گھر جاکر ’’اس‘‘ کو دیکھ آتے ہیں۔
ہم طارق کے گھر آئے۔ طارق کی بیوی تو پہلے ہی طیبہ کی طرح مظلوم لڑکی تھیں مگر انہوں نے عزت دار زندگی کو نعمت سمجھ کر خود کو ایک اچھی بیوی ثابت کردیا۔ اب وہ طارق بھائی کے تین بچوں کی ماں تھیں۔ بہرحال طیبہ کو دیکھا تو ایک اَنّی سی دل میں لگی۔ وہ واقعی معصوم اور مظلوم دکھائی دی۔ والدہ نے کچھ سوچا اور پھر گھر آکر تاجدار بھائی سے کہا۔ مجھے تمہارا فیصلہ منظور ہے، مگر اس لڑکی کا ہمیشہ ساتھ دینا ہوگا کیونکہ لوگ کبھی نہ کبھی باتیں ضرور کریں گے تب سب باتوں کو برداشت کرنا۔ دوبارہ ماضی میں نہ دھکیل دینا۔ امی جان وعدہ کرتا ہوں لوگ جو بھی کہیں، میں طیبہ کا زندگی بھر ساتھ نبھائوں گا۔
طیبہ کو میں نے اور بیگم طارق نے دلہن بنایا اور نکاح بھی ان کے گھر پر ہوا۔ طارق بھائی نے سارا انتظام کیا تھا۔ بھائی کے دونوں بچے امی کے پاس تھے۔ نکاح کے بعد دو روز تاجدار بھائی نے اپنی منکوحہ طیبہ کے ساتھ طارق بھائی کے گھر گزارے جہاں اوپر کی منزل پر انہوں نے کمرہ سجادیا تھا۔ تیسرے روز بھائی اور طیبہ بھابی سادہ کپڑوں میں گھر آئے تو امی نے عامر اور شنیلا سے ان کی نئی ماں کا تعارف کرایا۔
طیبہ ہماری سوچ سے بڑھ کر اچھی ثابت ہوئی۔ وہ سگھڑ اور ہمدرد دل رکھتی تھی۔ آتے ہی گھر کو سنبھال لیا۔ بچوں کو مانوس کیا اور ان کو اس قدر پیار دیا کہ وہ پروانہ وار اس کے گرد منڈلاتے تھے۔ بھائی بھی خوش تھے ان کو فخر تھا کہ ان کا انتخاب صحیح تھا۔
طیبہ امی جان کا بہت خیال رکھتی ، ان کی خدمت کرتی اور مجھے بھی عزت و احترام دیتی تھی۔ کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتی گویا کہ اس کو عزت کی زندگی کی شدید آرزو تھی اور اب وہ اس نعمت کو کسی صورت نہ کھونا چاہتی تھی۔
برسوں بعد میں نے اپنے بھائی کو خوش و خرم اور ہنستے مسکراتے دیکھا وہ ہر دم چہکتے مہکتے تھے۔ وہ گھر جو حسن افروز بھابی کے بعد سونا ہوگیا تھا وہاں اب بھائی اور بچوں کے قہقہے گونجتے سنائی دیتے تھے۔
طیبہ کی ذات سے ہمارے گھر میں خوشحال گھرانے کا احساس دوبارہ جاگ اٹھا تھا اور دل و ذہن نے سکون کی ٹھنڈک کو محسوس کیا تھا۔ واقعی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی ذات سے آپ ٹھنڈک کا احساس پاتے ہیں۔
بھائی کو بھی طیبہ سے یہی امید تھی کہ وہ زمانے کی ٹھکرائی ہوئی ہے تو گھر کو سکون کا گہوارہ بنادے گی۔ وہ نازک سی خوب صورت لڑکی اگر نیک اطوار تھی تو میرے بھائی میں بھی کوئی کمی نہ تھی۔ خوب رو، تعلیم یافتہ اور آفیسر تھے۔ بیوی کا بہت خیال رکھنے والے گھر اور بچوں سے پیار کرنے والے انسان تھے۔
طیبہ ہمارے ساتھ اچھی تھیں لہٰذا ہم لحاظ کے مارے ان سے ماضی کے بارے میں پوچھتے نہ تھے ۔ ایک روز خود ہی انہوں نے اپنے بارے میں بتایا۔ جو کچھ انہوں نے بتایا، ان ہی کی زبانی سنئے۔
ایک روز امی صحن میں جھاڑو لگا رہی تھیں کہ ان کو بچھو نے ڈس لیا۔ یہ کالے رنگ کا بڑا سا بچھو تھا۔ فوراً زہر چڑھ گیا۔ شدید تکلیف کے عالم میں ان کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے لیکن افاقہ نہ ہوا اور بخار کے عالم میں ان کی وفات ہی ہوگئی۔
امی کی وفات کے وقت باجی اٹھارہ برس کی اور میں پندرہ سال کی تھی۔ امی کی جدائی نے ہمارے گھر کی خوشیوں اور سکون کو متاثر کیا۔ لوگوں نے والد کو مشورہ دیا کہ جلدی دوسری شادی کرلو کیونکہ گھر میں جوان بچیاں ہیں۔ ان کا بغیر ماں کے اکیلے رہنا ٹھیک نہیں۔
والد کی شادی پھوپی نے اپنے سسرال میں ایک دور کی عزیزہ سے کرادی۔ یہ عورت طلاق یافتہ تھی ایک بیٹی اور ایک بیٹا پہلے خاوند سے تھا جن کو وہ ہمراہ لے آئی۔
وہ خود اتنی برُی نہ تھی مگر اس کے دونوں بچے شیطان صفت تھے۔ انہوں نے ہم بہنوں کا جینا دوبھر کردیا۔ ابو سے بھی شکایت نہ کرسکتے تھے کہ وہ سوتیلی ماں کے گن گانے لگے تھے۔
پھپھو اکثر آتی تھیں انہوں نے جو ایسا ماحول دیکھا ، اپنے بیٹے کے لئے باجی کا ہاتھ ابو سے مانگ لیا۔ یوں میری بہن ان کی بہو بن کر پھوپھو کے گھر چلی گئی مگر عذاب جھیلنے کو میں اکیلی رہ گئی۔
نئی ماں اور اس کے بچوں نے مجھے نوکرانی بنالیا۔ وہ مجھ پر حکم چلاتے اور سارا کام کراتے۔ اس پر امی کو خدا نے ایک بیٹا دے دیا۔ ماں تو گھر کے سیاہ و سفید کی مالک ہوگئی۔
میں ان کا بیٹا بھی کھلاتی اور گھر بھر کا کام بھی کرتی۔ پھپھو میری حالت پر کڑھتیں۔ پڑوسنیں بھی امی کو کہتیں کہ بچی کی شادی کردو… کب تک اس سے خدمت لوگی۔ ان باتوں سے چڑ کر میری سوتیلی ماں نے اپنے ایک دور کے رشتہ دار سے میری شادی کرادی مگر یہ شادی کیا تھی خانہ بربادی ہی تھی۔
یہ شخص اوباش اور جواری تھا۔ نشہ کرتا تھا اور اس کے روابط بازار حسن سے تھے جہاں یہ اکثر جایا کرتا تھا۔ وہ نشہ میں مجھے مارتا پیٹتا ۔ مارپیٹ سے ایک روز میری حالت خراب ہوگئی تو ساس ڈاکٹر کے پاس لے گئی اس نے بتایا کہ تمہاری بہو اب کبھی ماں نہ بن سکے گی۔
اس انکشاف پر ساس مجھ سے جان چھڑانے کی سوچنے لگی۔ گھر میں ساس کا بھانجا آیا کرتا تھا، اس کا نام عطار تھا وہ مجھ سے ہمدردی کرتا تو میں اس کی ہمدردی میں سکون تلاش کرنے لگی۔
ایک دن پولیس آئی اور میرے شوہر کو گرفتار کرکے لے گئی۔ ان کو جیل ہوگئی۔ عطار اب ساس کے پاس آتا اور ضرورت کی اشیاء جیل میرے خاوند کو پہنچاتا۔ ایک روز ساس نے مجھے ایک کاغذ دیا کہ جبار نے جیل سے طلاق لکھ کر تم کو بھیجی ہے اب تم جہاں چاہے جاسکتی ہو۔ ساس سے میں نے کہا کہ ایسے گھر سے نہ جائوں گی میرے والد کو بلائو تاکہ وہ خود آکر مجھے لے جائیں۔
کچھ دن بعد ساس بولی۔ تمہارا باپ تو نہیں آسکتا… کہو تو میں تم کو خود میکے پہنچادوں؟
جیسی آپ کی مرضی … میںنے جواب دیا۔ ظاہر ہے اب ساس کے بس میں تھی جبکہ والد نے تو نئی شادی کرکے مجھے بھلا ہی دیا تھا۔ میکے میں بھی کب کوئی میرا خیال رکھنے والا تھا سوتیلی ماں اور اس کی اولاد وہاں پر براجمان تھی۔ یہ لوگ مجھ سے خدمت لیتے اور طرح طرح سے ذہنی اذیت دیتے۔ ایک دن گزر گیا۔ ساس نے بتایا کہ تمہارے باپ کو دوبارہ فون کیا ہے مگر وہ جواب نہیں دے رہا۔ تم تیار ہوجائو۔ ہم تم کو تمہارے والد کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔
ناچار میں تیار ہوگئی تو ساس کہنے لگی… عطار میرے گردے میں درد ہے تم ہی اس کو اس کے والد کے وہاں پہنچا کر آجائو۔ جب میں عطار کے ساتھ جارہی تھی گھر سے جاتے ہوئے روتی جارہی تھی تب وہ مجھے جھوٹی تسلیاں دینے لگا۔ کہا اگر تمہاری والدہ نے تم کو قبول نہ کیا یا تمہارے ساتھ برُا سلوک کیا تو میں تمہارے والد کو رشتہ کا پیغام دوں گا اور شادی کرلوں گا رو مت۔ ابھی تو عدت کی مدت پوری کرنی ہوگی اس لئے تمہارا میکے جانا ضروری ہے۔ لیکن وہ مجھے والد کے گھر پہنچانے کی بجائے ’’بائی باجی‘‘ کے کوٹھے پر لے آیا اور میرے دام کھرے کرکے چلاگیا۔
اب میں ان لوگوں کے رحم و کرم پر تھی جو میرا رابطہ میرے والد سے نہیں کراتے تھے۔ انہوں نے مجھ کو اچھا کھلایا اور پیار بھی دیا مگر مجھے سکون نہ تھا۔
روح تو پہلے مرچکی تھی۔ اب جسم کو بھی مردہ سمجھ لیا۔ ایک سال کا یہ عرصہ قیامت بن کر مجھ پر گزرا۔ پھر تاجدار فرشتہ رحمت بن کر آئے اور میری سب دعائیں قبول ہوگئیں۔
طیبہ کی کہانی بہت دل سوز تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ اپنے والدین سے رابطہ کرے۔ مگر اس نے منع کردیا۔ کہا کہ مجھے ایسے ماں باپ کی ضرورت نہیں ہے جن کی بے حسی نے مجھے کنویں میں گرایا۔ اب مجھے منزل مل گئی ہے اور اسی چہاردیواری میں مروں گی۔
تاجدار بھائی طیبہ بھابی کا بہت خیال رکھتے تھے اور وہ بچوں کے ساتھ خوش تھیں۔ خود ماں نہیں بن سکتی تھیں اس بات کا ضرور ان کے دل کو ملال ہوگا۔ لیکن میرے بھائی کے دو بچے موجود تھے۔ لہٰذا امی اور بھائی کو اس بات سے فرق نہ پڑا کہ بھابی بانجھ ہیں۔
جب تک امی زندہ رہیں ، بھابی نے ان کا بہت خیال رکھا امی نے بھی طیبہ کا ساتھ دیا۔ میری شادی کے چند برس بعد امی جان کی وفات ہوگئی۔
بھائی کو بینک کی طرف سے دبئی بھیج دیا گیا۔ بھابی اور بچے وہاں چلے گئے۔ بھائی نے باقی سروس پوری کی اور پھر کینیڈا سکونت اختیار کرلی۔
عامر اور شنیلا کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ وہ کینیڈا میں خوش و خرم ہیں۔ بھابی کا کبھی کبھی فون آتا ہے تو خیریت کی اطلاع مل جاتی ہے۔ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ بھابی کو خوش رکھے ۔ میرے بھائی کو تو نیکی کا ثمر مل گیا ہے اور وہ وہاں بہت خوش ہیں۔
(ع… لاہور)

Latest Posts

Related POSTS