Monday, July 4, 2022

Maghrab Kay Bad

مغرب کے بعد جنازہ ہے ان کے بڑے بھائی کا…. یاد سے بتا دیجیے گا۔ آواز کہ کر جانے کومڑی۔
کن کا…..؟ کن کی بات کر رہے ہیں آپ …..؟ اندر سے ڈری سہمی سی آواز آئی۔ جوان ہوتی کوئل جیسی آواز ۔ جس میں پروں کی سی نرمی تھی اور جڑوں کی سی سختی۔
کیا یہ زہرہ بیگم کا گھر نہیں ہے۔؟
زہرہ بیگم نہیں … زہرہ بی بی …… اس کا ہی گھر ہے لیکن آپ کس کی بات کر رہے ہیں۔ اماں کا تو کوئی بھائی نہیں ہے۔ وہ تو اپنے والدین کی اکلوتی تھی۔ آپ کو یقینا کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
تو اندر سے آنے والی جوان آواز اس کی بیٹی کی تھی۔ بتانے والے نے چند لمحوں کے لیے ساری صورت حال پر غور کیا۔ کیا اسے آگے کچھ بولنا چاہیے؟
مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہو رہی …… میں ان کے ہی بڑے بھائی کی بات کر رہا ہوں۔ آج صبح فجر کے وقت ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ مغرب کے بعد جنازہ ہے۔ آپ بس اتنا کیجے گا کہ زہرہ بیگم آئیں تو انہیں یہ پیغام دے دیجیے گا۔
اچھا…. تذبذب میں کہا گیا۔ پھر جلدی سے اگلا سوال پوچھ لیا گیا۔ پتا کیا ہے۔ کس جگہ ہے جنازه …..؟ اس کے سوال پر باہر خاموشی سے بڑھ کر سناٹا چھا گیا۔ جیسے پیغام دینے والا سرے سے وہاں موجود ہی نہ ہو۔
کس جگہ ہے جنازه …..؟ سارا کو پھر سے سوال دہرانا پڑا۔
ہیرا منڈی…… آدمی نے جتنی ہلکی آوازسے کہا اتنی ہی تیز آواز سے ڈھائی مرلے کا ٹوٹا پھوٹا گھر سارا کے کے وجود کے اوپر آ گرا۔
*********
اماں آئی اور اس نے روز کی طرح سبزی کو تخت پر رکھا اور اپنے پرانے برقعے کی گرہ کھولنے لگی۔
زہرہ بیگم….. سارہ نے دروازہ بند کر کے پلٹ کر کہا۔ ماں نے مڑ کر اپنی ہی کوکھ جنی کو دیکھا۔ جس کا لہجہ آج اس کی کوکھ کا انداز نہ لیے ہوئے تھا۔
تیرا کوئی بھائی بھی ہے اماں …..؟
ماں کو چپ لگ گئی۔
میں نے پوچھا کہ تیرا کوئی بھائی ہے ۔آواز کٹاری کی طرح تیز تھی۔
کیا ہو گیا ہے سارا…… تجھے پتا تو ہے کہ میں اپنے والدین کی اکلوتی تھی ۔
تو پھر وہ جو ہیرا منڈی میں مر گیا ہے وہ کون ہے۔
ماں کے چہرے کے سارے سفید رنگ کافوری پڑ گئے ۔
کس نے کہا تجھ سے…..؟
ایک آدمی آیا تھا۔ کہنے لگا کہ زہرہ بیگم آئے تو یہ پیغام دے دینا انہیں ۔ بیگم پر خاص زور دے کرکہا تھا اس نے ۔
بوڑھی ماں کو پہلے تو یقین ہی نہ آیا اور جب آیا تو تیزی سے پلٹی دروازے کی طرف اور آنسوملی آواز میں چلائی۔
ویرے…..
لیکن دروازے پر پہنچ کر وہ وہاں ہی ساکت ہوگئی۔ سارہ نے دروازے پر تالا ڈال رکھا تھا۔ شک کی چابی دیسی تالے میں ڈال کر ذہن کے سارکواڑ بند کر لیے گئے تھے ۔اب زنگ جو اترا تھا تو خون کا ذرہ ذرہ پھڑ پھڑارہا تھا۔
کیا تھی تو ماں ……. کیا ہے تو …… اتنا بڑا دھوکا …… اتنا بڑا فریب ….تو طوائف زادی ہے۔
اسے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ اس طوائف زادی کا بھائی آج ہی مر گیا ہے ۔ وہ تو بس یہ سوچ رہی تھی کہ اس کی عزت کا جنازہ آج نکل گیا ہے۔
بول اماں…..
ہاں …… ماں نے وہ اعتراف کر لیا جو وہ سالوں سے چھپاتی آرہی تھی۔
پھر مجھ سے کیوں چھپایا تو نے یہ سب … میں ایک گندہ خون ہوں۔ چھی ….. گھن آرہی ہے-
مجھے خود سے اور … تجھ سے بھی….. وہ کہہ نہ سکی۔ اسی لیے……. اس کا اشارہ اس کے لہجے کی طرف تھا۔
کیا فرق پڑتا ہے۔ میرا خون تو اب بھی وہ ہی ہے ناں ……. بازاری……..
اچھا اب تجھے پتا چل ہی گیا ہے تو …… مجھے جانے دے۔کہاں….. وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
اپنے بھائی کی میت پر۔۔۔
کل تک تو تیرا کوئی بھائی نہیں تھا۔
کہاں نا جھوٹ بولتی رہی تھی میں ۔۔۔۔۔۔
پھر اس ہی جھوٹ کو اب اپنی زندگی سمجھ لے۔ میری زندگی میں تو تو وہاں جانے سے رہی۔
ایسے کیوں کہہ رہی ہے سارہ۔ وہ میرا بھائی نہیں میرا باپ تھا۔ پالا ہے اس نے مجھے۔
پھر سوچ لے۔ پالنے والے کے پاس جانا ہے ۔ یا اس کے پاس رہنا ہے جس کو تو نے پالا ہے ۔ تو چاہتی ہے کہ میں تجھے اس بدنام محلے میں جانے دوں ۔
میں منہ لپیٹ کر چلی جاؤں گی ۔
منہ لپیٹ کر جاۓ گی۔ یہاں عزت دفن ہو جاۓ گی تیرے بھائی کے ساتھ ساتھ میری…..اور میرے غیر مند پاپ کی …. دیکھ اماں …… تو نے اسے سالوں سے نہیں دیکھا ہوا۔ نہ ہی تو ملی ہے اس سے…… تو سمجھ اب بھی نہیں ہے وہ…
کیسے نہیں ہے وہ …… میں ملی نہیں اس سے، لیکن وہ زندہ رہا ہے میرے دل کے اندر….
سمجھ اب اندر بھی مر گیا ہے ۔ دیکھ اماں ۔ میں تجھ سے بھی اس بابت کچھ نہیں پوچھوں گی کہ تو کیا تھی، کبھی طعنہ نہیں دوں گی۔ لیکن اب اس مرے ہوۓ کہ پاس نہ جا۔
ساره …… وہ میرا باپ تھا۔ مجھے اپنی ماں سے بڑھ کر پیارا ہے وہ….. مجھے اس کا آخری بار دیدار تو کرنے دے-
اچھا چل …… چلی جانا ۔ قبرستان چلی جانا ۔
وہاں جا کر چہرہ دیکھ لینا اس کا …
قبرستان جاکر ….؟ جب اس کا جنازہ پڑھا جا چکا ہوگا۔ اس کے بعد کیسے دیکھو اس کا چہرہ ۔۔۔ کیسے بے حرمتی کروں اس کے چہرے کی.. ……. میں نے تو آج تک اس کے آگے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی …… ہاں سکینہ کر لیتی تھی کبھی کبھی….اور میں اسے ہمیشہ ٹو کا کرتی تھی ۔ روتی ماں ماضی میں جا کھوئی ۔ بڑا مان تھا بھائی کو مجھ پر ….. میری محبت پر… اپنی محبت کی قدر پر …… اور میں اکثر سوچتی تھی کہ جو مان بھائی کو مجھ پر ہے کیا وہ میں ساری عمر نباہ پاؤں گی؟ اور میرے دل کا ڈر ایک دن میرے سامنے آ کھڑا ہوا….. میں وہ مان نہیں نباہ پائی ساره …..اسے توڑ کر چلی آئی …..وہ سمجھتا تھا کہ میں اس کی محبت میں کسی کو شریک نہ کروں گی۔ لیکن میں نے کر دیا۔ تیرے باپ کو… سنا تھا کہ محبت ایسی چیز ہے کہ اندھا کر دیتی ہے۔ میں تو اندھی ہونے کے ساتھ ساتھ بہری بھی ہوگئی۔ بھائی کی لوریاں جو ہر وقت کانوں میں گونجتی رہتی تھیں، سب بھول گئی۔
محلے میں نئی نئی بجلی آئی تھی۔ بھائی کا دوست یاور ہمارے گھر بجلی کا میٹر لگانے آیا تھا۔ گھر میں روشنی کرتے کرتے وہ میری آنکھوں میں اندھیرا کر گیا۔ بھائی نے مجھے کبھی نہ روکا اس سے ملنے سے ….. وہ جانتا تھا کہ میں اس کو چھوڑ کر کہیں جاہی نہیں سکتی… لیکن میں چلی آئی۔
جس رات میں زیوارت کی پوٹلی سنبھالے اپنے گھر سے یاور کے ساتھ بھاگ رہی تھی ، عین اسی وقت بھائی کے کمرے کا دروازہ کھٹاک سے کھلا تھا۔ اور پھر اپنے آپ ہی بند ہو گیا تھا۔ بتی جلی تھی اور پھر بجھا دی گئی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ بھائی نے مجھے گھر سے بھاگتے ہوۓ دیکھ لیا تھا ، اور وہ خود ہی چھپ گیا تھا۔ اس نے گھر کی ساری بتیاں بند کر دیں تھیں تاکہ کوئی مجھے یہ نقب لگاتے ہوۓ دیکھ نہ سکے۔ یاور کا ہاتھ میرے ہاتھ میں نہ ہوتا تو میں تو زمین میں ہی گڑ
چکی ہوتی …. وہاں ہی ……. جیسے آج گڑ گئی ہوں۔ میں نے واپس جانا چاہا لیکن یاور نے مجھے جانے نہ دیا۔ اور مرتے وقت بھی وعدہ لے لیا کہ میں کبھی دوبارہ اپنے گھر نہ جاؤں گی۔
تواب کیوں وہ وعدہ توڑ رہی ہے۔
کیوں کہ میں خود ٹوٹ چکی ہوں۔ یاور نے بھائی کی زندگی کا وعدہ لیا تھا ۔اب تو وہ مر چکا ہے۔ ہاۓ کیسے کیسے احسان ہے اس کے اس گھر پر ….
میری پازیبیں آج بھی تین بار وہ ہی خرید چکا ہے ۔ یہ گھر بھی سستے میں اس نے دلوایا، باقی کے پیسے اس نے ادا کیے…..سمجھتا ہے کہ مجھے کچھ پتا نہیں …… جبکہ مجھے سب معلوم ہے۔ مجھے جانے دے سارہ۔ مجھے جانے دہے۔ گناہ کا تعلق نفس سے تو ہوسکتا ہے لیکن رشتے سے نہیں ۔۔۔۔۔ یہ ہی بات میں آخری دم تک یاور کو بھی سمجھاتی رہی تھی۔ خدا کے لیے تو تو سمجھ جا- میں نہیں سمجھوں گی اماں….. میں نہیں سمجھوں گی۔ میرے اندر میرے غیرت مند باپ کا خون ہے۔ میں تجھے کیسے جانے دے سکتی ہوں ۔
اس بات کی ہی لاج رکھ لے کہ ہماری غربت کو وہ کتنی بار خرید چکا ہے۔ میں نے اس کی محبت کا مان توڑا لیکن وہ اپنی محبت کے مان مرتے دم تک نبھا تا رہا…………… میں اس کے روح کا مان نہیں توڑوں گی۔ دیکھ سارہ مغرب ہونے والی ہے۔ جنازے کا وقت قریب آ چکا ہے۔
اور اگر میں نہ جانے دوں تو….
جاؤں گی تو میں ضرور…. اور آج ہر حال میں اپنے بھائی سے ملوں گی ۔
پھر گھر واپس آ کر میرا جنازہ پڑھنے کی تیاری کر لینا کیونکہ اگر تو وہاں گئی تو میں میں خود پر تیل چھڑک کر خود کو آگ لگالوں گی۔
شام رفتہ رفتہ سرکنے لگی تھی۔ دونوں ایک دوجے کو دیکھ رہی تھیں ۔
یاور سے بھی میں یہی کہتی رہ گئی تھی کہ شرمندگی گناہ سے تو ہو سکتی ہے ۔ رشتے سے نہیں… اور وہ میرا بھائی ہے۔ میرا کوئی گناہ نہیں ہے، میرا رشتہ ہے۔ تجھے بھی یہ ہی کہتی ہوں ۔ روح کے مان جسم کے مان سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ مجھے اس کی روح کا مان نباہنے دے- ورنہ تجھے میری روح کا مان نباہنا پڑے گا۔ میری قبر پر اس گھر کی مٹی ڈالنی پڑے گی۔
جب وقت آئے گا میں ڈال دوں گی۔ تو فکر نہ کر… لیکن آج میں تجھے وہاں جانے دوں گی ….. اس بات کو ذہن سے نکال دے ۔ سارہ دوٹوک کہہ کر اندر چلی گئی۔ ماں تالا لگے دروازے کی چوکھٹ پر ہی بیٹھی رہی-
اور آج میں وہاں جا کر رہوں گی۔ اپنے بھائی سے مل کر رہوں گی ۔ آنسو پونچھتی ماں بڑ بڑائی۔ نجانے یہ لمحہ کیسا تھا۔ بدشگونی یا انہوئی …… یا ماں کا مان ایسا تھا کہ اسے توڑنے کو قدرت کا بھی دل نہ چاہتا تھا۔
مغرب کا سورج رفتہ رفتہ عشاء میں بدلنے لگا تھا۔ پھر یہ رات انہی جامد لمحوں میں گزرگئی۔
سارا رات کے کسی پہر اٹھی تو اس نے چوکھٹ کے پاس بیٹھی ماں کو دیکھا، وہ قریب آئی تو دھک سے رہ گئی۔ ماں نے وہ کر دکھایا تھا جو وہ رات بھر کہتی رہی تھی۔ بنا تالا توڑ ہے وہ جا چکی تھی۔
یہ اگلے دن صبح فجر کی نماز کے بعد کی بات ہے۔ ہیرا منڈی کی صبح ساری رات جاگ کر اب سو رہی تھی ۔ ایک لڑکی جس کی لمبی شال گلی کی گرد آلود زمین کو چھورہی تھی۔ بوجھل قدم اٹھاتے ہوۓ آخر والے مکان تک جارہی تھی۔ پھر دستک دینے کے بعد دروازہ کھلا تھا، اور ایک موٹی توند والا آدمی نمودار ہوا تھا۔
جی …..؟ کیا کام ہے؟
آنگن کی مٹی چاہیے۔
کس لیے…..؟
زہرہ بیگم کی قبر پر ڈالنے کے لیے….. ……اندر بتا دیں کہ کل رات ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ آج مغرب کے بعد جنازہ ہے۔

Latest Posts

Related POSTS