Main Azeem Na Thee | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2699
میرے شوہر اسکول ٹیچر تھے، تنخواہ کم اور مہنگائی بہت! بڑی دقتوں سے وقت گزارا۔ میرے سرتاج کی آرزو تھی کہ بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ تعلیم کا لیکن اصغر کو کچھ زیادہ شوق نہ تھا۔ اس نے جوں توں ایف اے پاس کیا اور پھر الیکٹریشن کا کورس کرنے کی خواہش ظاہر کی تو ہم نے یہی بہتر جانا کہ کچھ ہنر سیکھ جائے تاکہ کل کو اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکے۔ یوں بھی اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لئے روپیہ درکار تھا جو ہمارے پاس نہیں تھا۔ دو وقت عزت کی روٹی میسر تھی، اسی پر قناعت کرلی تھی۔
ایک سرکاری ٹیکنیکل ادارے سے اصغر نے کورس مکمل کرکے ڈپلوما حاصل کیا تو انہی دنوں سعودی عربیہ میں ’’ضرورت الیکٹریشن‘‘ کا اشتہار شائع ہوا۔ یہ کسی بڑی کمپنی کی طرف سے تھا۔ اصغر نے اپلائی کردیا، خوش قسمتی سے اسے بیرون ملک جاکر ریال کمانے کا سنہری موقع مل گیا۔
بے شک اس کی جدائی شاق تھی مگر دوسرا کوئی راستہ نہ تھا۔ وطن میں رہ کر ایف اے پاس کو چپراسی کی ملازمت بھی سفارش سے ملتی تھی۔ میں نے دل پر جبر کیا اور اسے سعودی عربیہ جانے کی اجازت دے دی۔
اصغر نے خوب محنت سے کام کیا اور ہر ماہ معقول رقم گھر بھجوانے لگا۔ اس کی تنخواہ پاکستان میں زیادہ ہوجاتی تھی اور رقم کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ یوں ہمارے حالات تیزی سے بہتر ہونے لگے۔
مجھے بیٹے کی شادی کی فکر تھی، روپیہ پس انداز کرتی رہتی تھی تاکہ جب اصغر آئے تو اس کی شادی کے اخراجات موجود ہوں۔ تین سال بعد چھٹی ملی اور اس نے آمد کی خوشخبری دی۔ جب وہ آیا تو کچھ رشتے دار مبارک باد دینے آئے کہ بیٹا خیر و عافیت سے آگیا ہے۔ ان میں ایک ایسی فیملی بھی تھی جو میرے خاوند کے جاننے والے لوگ تھے۔ ان کی لڑکی نویں جماعت کی طالبہ تھی، اپنی ماں کے ہمراہ آئی تھی، اس کا نام لائبہ تھا۔ وہ مجھے پسند آگئی۔ یہ ہماری طرح کے لوگ تھے تبھی میں نے لائبہ کو بہو بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
اصغر کے آتے ہی میں نے اس کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا۔ پہلے تو وہ شرمایا۔ یہ عذر بھی دیا کہ ابھی مالی حالات اور بہتر کرنا چاہتا ہے لہٰذا شادی کا خیال فی الحال نہیں آیا ہے، لیکن میں نے اسے راضی کرلیا، یہ کہہ کر کہ لڑکی بہت اچھی ہے، اگر ہم نے دیر کردی تو اس کا رشتہ کہیں اور ہوجائے گا، پھر ایسی اچھی لڑکی نہ ملے گی۔
لائبہ کے گھر والے رشتہ دینے پر راضی ہوگئے۔ جھٹ پٹ رشتہ طے کرکے منگنی کی رسم بھی کردی اور رخصتی کے لئے ایک سال کی مہلت مانگ لی۔ ایک ماہ چھٹی گزار کر اصغر واپس سعودیہ لوٹ گیا۔
اس دوران اصغر کی تنخواہ سے میں نے اس کی ہونے والی دلہن کے لئے زیورات اور بری بنوا لی۔ اصغر نے آنے میں دیر لگا دی، جبکہ ہماری طرف سے خطوط کا تانتا بندھ گیا تھا۔ دو سال بعد وہ آگیا اور گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔
اس دوران میں مسلسل بیٹے کے سامنے لائبہ کی تعریفیں کرتی رہتی تھی کہ لڑکی بہت نیک اور نیک سیرت ہے، پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے اور ایسی لڑکی تو قسمت والوں کو ملتی ہے وغیرہ… تاکہ اس کے دل میں اپنی ہونے والی دلہن کے لئے محبت پیدا ہوجائے۔
اصغر کی چھٹی زیادہ نہیں تھی لہٰذا ایک ماہ کے اندر اندر شادی ہوگئی اور لائبہ دلہن بن کر ہمارے گھر آگئی۔ وہ ایک خوش شکل لڑکی تھی اور دلکش شخصیت کی مالک تھی۔ اصغر کو اپنی دلہن بہت اچھی لگی اور وہ اس کے پیار میں کھوگیا۔ ایک ماہ تو پلک جھپکتے گزر گیا، اصغر کے واپس جانے کا دن آگیا چونکہ وہ فوری طور پر لائبہ کو ساتھ نہ لے جاسکتا تھا، تبھی ہمارے سپرد کرکے چلا گیا اور جاتے ہوئے کہا کہ امی جان! یہ میری امانت ہے آپ کے پاس، اس کا بہت خیال رکھنا۔
اصغر، بیوی کو ہر ہفتہ فون کرتا اور ہر ماہ علیحدہ رقم بھی ارسال کرتا تھا۔ اس کے علاوہ جب اس کا کوئی دوست سعودی عربیہ سے پاکستان آتا تھا، وہ لائبہ کے لئے قیمتی تحفے بھی بھجواتا تھا۔
مجھے حیرت ہوتی کہ میں اس کی ماں تھی جس نے اسے جنم دیا، پالا پوسا، پروان چڑھایا، وہ میرے لئے کچھ بھیجنے کی بجائے سبھی کچھ لائبہ کے لئے بھجواتا تھا۔ اس پر میں کچھ رنجیدہ سی رہنے لگی تھی۔ طرفہ یہ جب اس کا فون آتا، لائبہ دوڑ کر ریسیور اٹھاتی پھر بات چیت کرکے رکھ دیتی۔ اصغر بہت کم مجھ سے بات کرتا تھا اور میں بیٹے کی اس لاتعلقی پر دل مسوس کر رہ جاتی تھی۔
ایک روز ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، در کھولا تو پوسٹ مین تھا۔ اس کے ہاتھ میں لفافہ تھا جو لائبہ کے نام تھا۔ یہ کس کا خط ہوسکتا ہے جبکہ بہو کے والدین، بھائی، بہن سب اسی شہر میں رہتے تھے۔ یہ سوال بے معنی نہ تھا، تبھی خط لائبہ کے حوالے کرنے کی بجائے میں نے چھپا لیا اور جب رات کو سب سوگئے تو تنہائی میں کھول کر پڑھنے لگی۔
یہ کسی مرد کا خط تھا جس نے لائبہ کو محبت نامہ ارسال نہیں کیا تھا بلکہ لکھا تھا کہ لائبہ کا ماضی داغ دار ہے اور یہ لڑکی پاک دامن نہیں تھی۔
خط پڑھ کر پریشان ہوگئی۔ اس دن میرے دل میں خیال آیا کہ خط بلاوجہ کسی نے تحریر نہیں کیا۔ جب تک پرَ نہ ہو، کوّا نہیں بنتا اور رائی کا پہاڑ بنانے کے لئے بھی رائی کا ہونا لازم ہے۔ خط کسی بدخواہ نے ضرور تحریر کیا تھا مگر یہ تو مانی ہوئی بات تھی کہ دال میں کچھ کالا ضرور تھا اور ماضی میں ایسا کوئی سانحہ بھی ہو گزرا تھا جس کی وجہ سے یہ خط ہمیں بھجوانے کی نوبت آئی تھی۔
اب روز صبح، شام ایک ہی بات بے سکون رکھتی کہ نہ جانے لائبہ کا ماضی کیسا ہوگا؟ کاش کہ میرے پاس جادو کا کوئی ایسا گلوب ہوتا جس میں جھانک کر میں اپنی بہو کا ماضی دیکھ سکتی۔
جوں جوں دن گزر رہے تھے، الجھن بڑھتی جاتی تھی اور میں بہو کو شک و شبے کی نظروں سے تکتی جاتی تھی، غرض یہ کہ ایک عجب سی بے سکونی نے دل میں گھر کرلیا اور میرا دماغ مائوف رہنے لگا۔
ان بیمار سوچوں نے بالآخر مجھے بھی بیمار کردیا۔ چہرے سے خوشی اور شادابی رخصت ہوگئی، وحشت سی برسنے لگی۔ پاس پڑوس سے عورتیں ملنے آتیں تو مجھے حیرت سے دیکھتی تھیں۔ وہ سمجھتی تھیں شاید کہ بہو مجھے پسند نہیں ہے یا پھر میں بہو سے ناخوش ہوں۔
ایسی بات نہ تھی۔ میری بہو سگھڑ، باادب اور بااخلاق تھی، وہ سوجھ بوجھ والی لڑکی تھی، میری عزت کرتی تھی اور شکایت کا موقع نہیں دیتی تھی لیکن میں ہی اس گمنام خط کی وجہ سے ایک ذہنی عارضے میں مبتلا ہوگئی تھی۔ ہر وقت بس یہی ایک سوال پریشان کرتا رہتا تھا کہ بہو کا ماضی کہیں داغ دار تو نہیں ہے؟
شادی سے قبل اگر کسی لڑکی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو یقینا وہ شوہر یا سسرال والوں پر کبھی اس راز کے افشا ہونے کو پسند نہیں کرتی۔ اگر کوئی دوسرا اس کے ماضی سے پردہ اٹھا دے تو بھی وہ یہی چاہے گی کہ اس کی بھول کو فراموش کردیا جائے اور اس کے راز کی پردہ پوشی رہے لیکن میں اب یہ چاہنے لگی تھی کہ لائبہ خود مجھے اپنے ماضی کے بارے میں آگاہ کردے تاکہ میرے دل سے وہم و گمان دور ہوجائیں اور میں سکھ و سکون کا سانس لے سکوں۔
میں نے کئی بار اشاروں کنایوں میں اسے کریدا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور ہر بات سنی ان سنی کرگئی۔ اب میں نے ایک اور گر آزمایا۔ اس سے غیر معمولی طور پر محبت جتلانے لگی اور ہر آئے گئے کے سامنے اس کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی۔ یہی نہیں اس کا اتنا خیال رکھتی تھی کہ بہو کو گمان ہونے لگا، اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر ہوں۔ اب اس نے پوری طرح مجھ پر اعتبار کرنا شروع کردیا، وہ ایسے گھل مل گئی جیسے کہ میں ساس نہیں اس کی سہیلی ہوں۔ دل کی ہر بات مجھے بتائے بغیر اسے چین نہیں آتا تھا۔
پھر ایک دن میں نے اسے وہ خط دکھا دیا اور
کہا کہ دیکھو لائبہ بیٹی! تمہارے ماضی میں کچھ تھا یا نہیں! لیکن یہ بات طے ہے کہ جس بدخواہ نے یہ خط ہمیں تحریر کیا ہے، وہ دوبارہ بھی ایسی حرکت کرسکتا ہے، یہ تو شکر ہے کہ اصغر یہاں نہیں ہے۔ سوچو اگر یہ خط اسے مل جاتا تو کیا ہوتا؟ عورت لاکھ بے گناہ سہی لیکن مرد کے دل کے آئینے میں بھی بال آتے دیر نہیں لگتی۔
جب میں یہ باتیں کررہی تھی، وہ پریشان سی میرا چہرہ تک رہی تھی، تبھی میں نے کہا۔ بیٹی! دیکھو تم مجھ پر اعتماد کرو کیونکہ تم مجھے بہت پیاری ہو، اگر کوئی ایسی بات ماضی میں تم سے وابستہ ہے تو مجھے بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کردو۔ میں تم پر اس قدر فدا ہوں کہ ظاہر ہے تم کو کبھی کوئی نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتی، البتہ تمہارے لئے اچھا ہوگا۔ اگر تم سچ کہو گی تو کسی انہونی کے موقع پر بچا پائوں گی، مگر یاد رکھو ایسی ویسی کوئی بات کبھی اصغر کے علم میں آگئی تو وہ تم کو ضرور طلاق دے دے گا۔
ایسی باتیں کرکے لائبہ کو نہ صرف اپنا اعتبار دلوایا بلکہ اس کو کچھ خوف زدہ بھی کردیا۔ تب وہ میرے سامنے اپنے لب کھولنے پر مجبور ہوگئی اور لرزتے کانپتے لفظوں سے یوں گویا ہوئی کہ امی جان! شادی سے ایک ماہ قبل ایسا واقعہ ہوگیا جس کو حادثہ کہنا چاہئے لیکن اس میں میرا کوئی گناہ اور کچھ خطا شامل نہیں ہے۔ میں نے ہمت دلائی کہ ہاں… ہاں کہہ دو، تمہارا راز میرے سینے میں مرتے دم تک تمہاری امانت ہوگا اور کبھی میں اس راز کو کسی پر بھی افشا نہ کروں گی۔
وہ روتے ہوئے بولی۔ ایک دن امی کے ساتھ خالہ کے گھر گئی تو انہوں نے رہنے پر اصرار کیا۔ امی مجھے ان کے پاس چھوڑ کر چلی گئیں۔ بولیں۔ ایک دو دن رہ لو، پھر آکر لے جائیں گے۔ خالہ مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ ان کے گھر رہنے پر بہت خوش تھی، نہیں معلوم تھا کہ یہ خوشی بدبختی میں تبدیل ہوجائے گی۔
دوپہر کا وقت تھا، خالہ کھانا کھا کر سو رہی تھیں اور میں اکیلی بور ہونے لگی تو زینہ چڑھ کر اوپر چلی گئی۔ وہاں چھت پر ایک کمرہ بنا ہوا تھا جس میں ایک پلنگ بھی پڑا تھا۔ میں پلنگ پر لیٹ کر رسالہ دیکھ رہی تھی کہ پتا بھی نہ چلا آنکھ لگ گئی۔
خبر نہ تھی کہ یہ کمرہ خالہ جان کے گھریلو ملازم ظفر کے استعمال میں ہے جو ان کے لئے ڈرائیوری کے فرائض سرانجام دیتا تھا۔ چھ برس قبل یہ لڑکا ان کے پاس آیا تھا اور اب بھرپور جوان تھا۔ بہرحال وہ جب کمرے میں آیا مجھے اپنے بستر پر دراز پایا، دیکھا میں گہری نیند میں ہوں، اس نے دروازے کی کنڈی چڑھا لی اور بے خبری میں میری غفلت سے فائدہ اٹھا لیا۔ مرجانا میرے بس میں نہ تھا، ورنہ مر بھی جاتی لیکن میں بزدل تھی، خالہ کو کچھ بتا سکی اور نہ مر ہی سکی۔
یہ کہہ کر لائبہ نے چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا اور روتی رہی۔ میں نے روتی ہوئی بہو کو گلے سے لگایا۔ تسلی دی کہ یہ تمہاری غفلت سے ہوا یا کہ حادثہ تھا، بہرحال تم نے جان بوجھ کر خطا نہیں کی تو اب تلخ واقعہ کو بھول جائو۔ میں بھی یقین دلاتی ہوں کہ اسے بھول جائوں گی، جیسے کہ تم نے کچھ کہا ہی نہیں اور میں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ میں تمہاری پردہ پوش ہوں اور اللہ پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔
سمجھ رہی تھی کہ اس گمنام خط سے یہ سوال شیطان نے میرے ذہن میں راسخ کردیا تھا کہ لائبہ پاک دامن نہیں ہے، اس کا ماضی داغ دار ہے لیکن اب جب راکھ کو کریدا تو اس میں دبے انگارے دہک کر نکل پڑے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بہو کے کہے کو بھلا دیتی کیونکہ اس نے مجھ پر اعتبار کیا تھا اور میں نے بھی اسے اعتبار دلایا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ میرے دل و ذہن پر اس راز کے افشا ہونے سے پہاڑ جیسا بوجھ پڑگیا جس کا سہنا اب میرے لئے مشکل ہوگیا تھا۔
جانے یہ کیسی شیطانی الجھن تھی کہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا جارہا تھا، میرے دل کا دامن کانٹوں کی باڑ میں الجھتا جاتا تھا، الجھ کر تارتار ہوتا جاتا تھا۔ اب تو یہ سوچ کر ہی ہولنے لگی کہ اگر میری بہو انہی دنوں امید سے ہوگئی تو کیا ہوگا۔ اس کی پہلوٹی کی اولاد کو میں کامل طور پر اپنا پوتا یا پوتی کہہ سکوں گی یا نہیں، کیونکہ شک کا سانپ تو مجھے ڈستا ہی رہے گا۔
مجھے لگا لائبہ کو کرید کر اور اس کا ماضی جان کر میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ میرے تو سارے خواب ہی چکناچور ہوگئے۔ جب میری ایسی حالت ہوگئی تھی کہ خدانخواستہ اگر اصغر کو کوئی یہ بات بتا دیتا تو اس کی کیا حالت ہوگی۔ ایسا سوچ کر ہی ذہن پر ہتھوڑے سے برسنے لگتے تھے۔ لائبہ کو تو کچھ نہ کہا لیکن اب میں خود اندر سے صحیح سالم نہ رہی تھی۔
تھوڑے دن ہی گزرے تو احساس ہوا بہو امید سے ہے۔ اب بوجھ میرے دل پر زیادہ ہوگیا۔ رات دن ان دیکھی آگ میں جھلسنے لگی۔ آنے والے بچے کی خوشی کا احساس شک کی تپش میں ڈھلنے لگا۔ یہی سوچنے لگی کہ یہ بچہ اگر اصغر کی بجائے اس ملازم کی نشانی ہوا جس نے میری بہو کی عفت پر شب خون مارا تھا تو کیا ہوگا۔ کیا میرا بیٹا عمر بھر کسی اور کی اولاد کو اپنی اولاد سمجھ کر پالتا رہے گا اور پیار کرتا رہے گا۔ یہ میری بہو کا گناہ نہیں بلکہ کسی حادثے کا ثمر تھا تو بھی میں اس دھوکے کو برداشت نہیں کرسکتی تھی۔
اقرار کرتی ہوں کہ مجھ میں عظمت نہ تھی، اس لئے چاہتے ہوئے بھی ایک عظیم انسان ثابت نہ ہوئی کہ اپنا وعدہ توڑ کر اصغر کو بہو کے ماضی سے آگاہ کردیا اور یوں اس نے اپنے سسر کو فون کرکے لائبہ کو ساتھ لے جانے کو کہہ دیا۔ لائبہ میکے پہنچ گئی تو بھی اسے یقین نہ تھا کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ وہ روز فون کرتی اور کہتی۔ امی جان! میرا یہاں دل نہیں لگتا، مجھے اپنے گھر آنا ہے اور میں جواب دیتی، اصغر آنے والا ہے، آئے گا تو خود تم کو لے آئے گا۔ چھ ماہ اسے دھوکے میں رکھا اور جب اصغر آیا تو اس نے لائبہ کو طلاق دے دی۔ اس نے بچے کو بھی قبول نہ کیا۔ وہ اس کی صورت بھی دیکھنے نہیں گیا۔
جانتی ہوں لائبہ پر کیا گزری ہوگی، یقین ہے اس نے مجھے معاف نہیں کیا ہوگا لیکن آج بھی جب اپنے کئے کے بارے سوچتی ہوں تو لرز جاتی ہوں۔ یقینا مجھ سے ایسی خطا سرزد ہوئی شاید جسے خدا بھی معاف نہ کرے گا۔ یہ بھی سوچتی ہوں کہ اگر وہ بچہ جس کو لائبہ نے اپنے میکے میں جنم دیا، وہ میرا پوتا ہی ہے تو کیا وہ معصوم کبھی اپنی اس گناہگار دادی کو معاف کرسکے گا۔ اصغر نے دوسری شادی کی مگر خدا نے اسے اولاد نہ دی۔ شاید یہ بھی ہمارے ہی جرم کی سزا ہو۔
(ف… ملتان)