Friday, July 12, 2024

Main Bhut Khush Hoon | Teen Auratien Teen Kahaniyan

یہ تو نہیں کہوں گی کہ مجھے بچپن سے ٹی وی پر کام کرنے کا شوق تھا لیکن… جب اچھے ڈرامے چلتے تو لڑکیوں کو معیاری اداکاری کرتے دیکھتی تو ان کرداروں میں کھو جاتی۔ تب جی چاہتا کاش میں ان کی جگہ ہوتی۔ معاشرے میں شہرت اور عزت ملتی اور میں فنکارہ کہلاتی۔ یہ لڑکپن کا زمانہ تھا، سوچیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ لڑکیاں گلیمر پسند کرتی ہیں۔ طرح طرح کے خواب دیکھتی ہیں۔ شوبز کی دنیا بھی ان کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ اس فیلڈ میں بلاشبہ بڑی کشش ہے۔
جب تک والد حیات رہے یہ ایک امر محال تھا لہٰذا صرف سوچ کر رہ گئی… تعلیم کی طرف توجہ رکھی اور کبھی ایسا خیال بھی آتا کہ نامور فنکارہ بنوں تو اس خیال کو فوراً جھٹک کر دل سے نکال دیتی تھی۔ جانتی تھی والد کتنے سخت ہیں وہ تو سوچ پر بھی پہرہ بٹھا دیتے۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان دنوں کی اپنی مظلومیت اور معصومیت یاد کرتی ہوں تو رونا آتا ہے۔ اصل میں غربت ہوتی ہی مصیبت ہے، کتنوں کو اجاڑتی ہے اور کس کس طرح انسان کو ذلیل کرتی ہے۔
والد کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مالی حالات خراب ہوتے گئے اور نوبت فاقوں تک آ پہنچی۔ مجھے اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی خاطر گھر سے باہر قدم رکھنا پڑا۔ گریجویشن کرچکی تھی۔ ملازمت کیلئے کئی جگہ درخواستیں دیں، کوشش کی… نہ ملی تو سخت مایوسی ہوئی۔
ایک روز ایک بڑے سے شاپنگ مال میں جاگھسی اور ریڈی میڈ ملبوسات کی دکان پر چلی گئی، یونہی غم غلط کرنے کو ہینگر میں لٹکے ہوئے لباس الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی، معلوم نہ تھا کہ مالک اسٹور میں موجود ہے۔ جی میں آیا یہاں ملازمت کے لئے معلوم کروں۔ اتنا بڑا شوروم ہے اور کئی لڑکیاں یہاں خصوصی لباس پہنے گاہکوں کو ملبوسات دکھا رہی ہیں، ان کو ملازمت کرنے میں عار نہیں تو مجھے کیوں… عزت سے روزی کمانا تو انسان کا حق ہے۔ یہ سوچ کر کائونٹر کی طرف بڑھی۔ وہاں مالک اپنے ملازمین کی کارکردگی چیک کرنے کے لیے بیٹھا ہوا تھا۔
میں نے اسے مخاطب کیا اگر آپ کو یہاں سیل گرل کی ضرورت ہو تو مجھے ملازمت چاہیے۔ اس نے بغور میری طرف دیکھا اور کہا۔ آپ کی تعلیم کیا ہے۔ میں نے کہا، بی اے ہوں۔ اس نے پوچھا۔ ملازمت کیوں کرنا چاہتی ہیں۔ میں نے کہا۔ اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کی کفالت کیلئے۔ اس نے پوچھا۔ آپ کے والد کیا کام کرتے ہیں۔ میں نے بتایا، ان کی وفات کو دو سال ہوگئے ہیں۔ وہ بولا۔ اچھا ٹھیک ہے۔ آپ کو عارضی طور پر کچھ عرصہ کام کرنا ہوگا۔ اگر آپ اچھی ورکر ثابت ہوئیں تو مستقل رکھ لیں گے۔
تنخواہ کیا ’’ڈیمانڈ‘‘ کرتی ہیں۔ جو آپ دوسروں کو دیتے ہیں۔ وہ بولا۔ مختلف لوگوں کی مختلف تنخواہ ہے یہاں… اچھی کارکردگی پر اچھی سیلری مع بونس… جو سینئر ہیںان کو جونیئر سے زیادہ ملتی ہے۔ آپ کارکردگی جانچنے کے بعد میری تنخواہ مقرر کردیجیے گا۔ اس نے میرے جوابات کو پسندکیا اور اسی وقت اپنے منیجر سے کہا کہ ان سے درخواست لے لیں۔ کل لیٹر دے دینا۔
دوسرے روز صبح نو بجے میں پہنچی تو میری تقرری کا لیٹر تیار تھا۔ تنخواہ صرف ایک ہزار تھی جو میرے لیے بہت تھی، کیونکہ ان دنوں ایک ہزار ہمارے لیے دس ہزار سے بھی بڑھ کر رقم ہوتی تھی۔ اسی روز سے میں نے وہاں کام شروع کردیا۔ ہماری ڈیوٹی آٹھ گھنٹے کی تھی۔ کبھی کبھی دس گھنٹے بھی کام کرنا پڑتا تھا۔ عید کے دنوں میں یہ ڈیوٹی بارہ گھنٹوں پر چلی جاتی تھی۔ بہرحال میں اپنی مجبوریوں کے حصار میں گھری تھی۔ گھر میری ہی تنخواہ سے چلتا تھا۔ بہن بھائی والدہ سب سکون میں آگئے تھے۔
ایک سال بعد تھکنے لگی۔ کام زیادہ اور اجرت کم معلوم ہونے لگی۔ ایک روز کچھ افسردہ سی بیٹھی تھی تو میرے ایک سینئر سیلزمین نے کہا شبانہ کیوں ایسی شکل بنا رکھی ہے۔ وجہ معلوم کرسکتا ہوں۔
طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ کاظم کو مختصر جواب دیا۔ اس نے پیچھا نہ چھوڑا، بولا۔ کوئی بات ضرور ہے۔ مجھ سے مت چھپائو۔ ایک اسٹور پر کام کرتے ہیں تو ایک کنبے کی طرح سے ہیں، کوئی مسئلہ ہے تو بتائو۔ میں تمہاری مدد کروں گا۔
کاظم… یہ لوگ کیسے ہیں۔ اتنی محنت کرتے ہیں ہم لوگ، سارا دن کھڑے رہ کر گاہکوں کے ساتھ سر کھپاتے ہیں، یہ تنخواہ نہیں بڑھاتے۔ اس تنخواہ میں اب گزارہ نہیں ہوتا۔ میرے بہن بھائیوں کی فیسیں بڑھ گئی ہیں۔ دن بہ دن مہنگائی بھی ترقی کررہی ہے۔ تم نے باس سے کہا ہوتا، ان سے نہیں کہتی۔ ان سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ باس سے بات کرتے ہوئے… حق کی بات کرنے میں ڈر کیسا۔ ان کو تو اسی وقت تمہاری تنخواہ بڑھا دیناچاہیے تھی جب تم کو مستقل کیا تھا۔
وعدہ کیا تھا انہوں نے مگر پھر اس بارے میں کوئی توجہ نہیں کی۔ بس کام چلا رہے ہیں اپنا… یہ مالکان ایسے ہی کام چلاتے رہتے ہیں، جب تک ان سے بات نہ کرو گی تنخواہ میں اضافہ نہیں کریں گے۔ یہاں کوئی اصول و قواعد کی پروا نہیں کرتا۔ حق مانگنا پڑتا ہے۔
تم مدد کرو نا۔ اچھا میں منیجر سے بات کروں گا۔ منیجر صاحب میری بات سنتے ہیں اور باس ان کی بات سنتا ہے۔ واقعی یہاں کاظم کی بات سنی جاتی تھی کیونکہ وہ ایک بہت محنتی اور ایماندار سیلزمین تھا۔ اسے معقول تنخواہ کے علاوہ کمیشن، بونس سب ملتا تھا۔ یہاں کام کرتے ہوئے دس برس ہوچکے تھے اور یہ عرصہ کسی شعبہ میں اپنا مقام بنانے کے لیے بہت ہوتا ہے۔
ایف اے کے بعد مجبوراً یہاں ملازم ہوا تو بس یہیں کا ہوکر رہ گیا۔ زندگی کے مسائل نے پہلے فرصت نہ دی۔ پھر اسٹور کے مالک نے اس کو عزت و قدر سے نوازا تو اب اس کا جی نہ کرتا تھا ان لوگوں کو چھوڑ کر کہیں اور جائے۔ حالانکہ اس دوران اس کے مراسم بڑے بڑے لوگوں سے ہوچکے تھے مگر کم اجرت کے باوجود بھی اس جگہ کو چھوڑ کر نہ گیا۔
کاظم نے منیجر سے کہہ کر میری درخواست باس تک پہنچا دی اور انہوں نے میری اچھی کارکردگی کی رپورٹ دیکھ کر تنخواہ میں اضافہ کردیا، لیکن بہت تھوڑا سا اضافہ کیا، صرف دو سو روپے۔
اس اضافے پر میرا دل ٹوٹ گیا۔ سوچا اب کہیں اور ملازمت کرنا چاہیے۔ باس کو تو احساس ہی نہیں کہ کوئی کتنا محنتی اور ایماندار ہے۔ ان کو بس اپنے بزنس کو ترقی دینے سے غرض رہتی ہے۔ بہرحال میں کاظم کی اس دن سے بہت مشکور رہنے لگی تھی جس نے کم از کم میری سفارش تو کی۔
کاظم بہت خوش پوشاک تھا۔ اچھی شکل و صورت تھی۔ جلد ہی ہر کسی کا دل موہ لیتا تھا۔ سب اسے پسند کرتے تھے۔ دوسروں کے کام آتا تھا۔ اسے بات کرنے کا ڈھنگ آتا تھا تب ہی میں بھی اسے پسند کرنے لگی۔
میری یہ عادت تھی کسی سے فری نہ ہوتی، بہت سے لڑکوں نے قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی، کسی کو لفٹ نہ دی۔ بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔ میرے ساتھ کام کرنے والے لڑکے کہتے، بڑی مغرور ہے نجانے خود کو کیا سمجھتی ہے۔ سب نے کوشش کی۔ مجھے اپنی جانب ملتفت کرنے کی لیکن ناکام رہے مگر کاظم کامیاب ہوگیا۔ اب میں اس سے بات کرنے لگی۔ جب اسٹور پر رش نہ ہوتا ہم فارغ بیٹھے ہوتے وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتا… ہم باتیں کرنے لگتے، بالآخر میں نے اسے اپنے حقیقی حالات بتا دئیے۔
رفتہ رفتہ ہمدردیاں محبت کے پاک جذبے میں تبدیل ہوگئیں۔ وہ کہتا۔ فکر مت کرو جلد والدین کو رشتے کے لیے تمہارے گھر بھیجوں گا مگر ایک شرط ہے تم یہاں کی ملازمت چھوڑ دو۔
میں کہتی کاظم ملازمت فی الحال میری مجبوری ہے۔ جب تک میرا بھائی تعلیم مکمل نہیں کرلیتا۔ وہ ملازمت کرے گا تو میں چھوڑ دوں گی۔
ٹھیک ہے ملازمت کرو مگر یہاں نہیں کسی اور جگہ۔ ملازمت ملے گی تب نا… اسے کیسے چھوڑ دوں۔ گھر کیسے چلے گا۔ ایک روز اس نے کہا کہ تم کو اس سے اچھی ملازمت دلوا دیتا ہوں۔ وہاں کام زیادہ نہیں تنخواہ یہاں سے اچھی ملے گی۔ ٹھیک ہے دلوا دو۔
اگلے دن میں مذکورہ پتے پر جا پہنچی۔ حیرت ہوئی اس نے مجھے کہاں بھیجا تھا۔ یہ ایک اشتہار بنانے کی کمپنی تھی جس کا مالک کاظم کا دوست تھا۔
دفتر میں اس کا دوست موجود تھا مگر کاظم نہیں آیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی آگیا۔ کس نوعیت کا کام ہے، میں نے پوچھا۔ اشتہار بنانا ہے ایک مشہور برانڈ کی کمپنی کا۔ اس میں ایک دو منٹ بولنا ہے۔ کریم کی تعریف میں دو تین فقرے بولنے ہوں گے اور بس… معاوضہ کتنا ملے گا، جتنی تمہیں سال بھر کی تنخواہ ملتی ہے۔
کیا مجھے اشتہار میں کام کرنا ہے… لیکن لوگ دیکھیں گے۔ امی تو بالکل اجازت نہ دیں گی۔ وہ کیوں اجازت نہ دیں گی؟ تم ایک معیاری کمپنی کے اشتہار میں کام کرو گی۔ صاف ستھرا اشتہار ہے۔ اسٹور پر ساری زندگی کھڑے رہ کر آٹھ دس گھنٹے کی محنت کا معاوضہ آخر کیا ملے گا۔ عمر عزیز ضائع ہوجاتی ہے ایسی سروس میں… یہاں جوں جوں مشہور ہوتی جائوگی معاوضہ دگنا چوگنا ہوتا جائے گا۔ کوئی کام برا نہیں ہوتا۔ انسان کو خود اچھا ہونا چاہئے۔ اپنا ایک فوٹو سیشن کروا لو…
کچھ دیر سوچ کر میں نے کہا ٹھیک ہے امی سے ذرا پوچھ لوں۔ بھائی بھی کہیں پریشان نہ ہوجائے۔ ان کے کانوں سے بات نکال دوں تو کل آکر فوٹو سیشن کروا لوں گی۔
ٹھیک ہے۔ کاظم میرے ساتھ باہر آگیا۔ بولا۔ دراصل تمہارا چہرہ بہت فوٹو جینک ہے۔ ایسی ہی صورت کی لڑکیاں یہاں کامیاب ہوتی ہیں۔ خوش شکل مگر معصوم صورت … بس کل ذرا ٹھیک ٹھاک کپڑے پہن کر آنا اور ہلکا سا میک اَپ کرلینا تاکہ فوٹو اچھے آئیں۔ میرے من میں کاظم سے شادی کا خواب سجا ہوا تھا۔ اس کی ہر بات مانتی گئی۔ دوسرے روز دوبارہ وہاں چلی گئی۔
اس کے دوست نے ’’ویلکم ‘‘ کہا۔ ایک چائے منگوائی پھر فوٹوگرافر کے روم میں بھیج دیا۔ چند فوٹو اتر گئے اور میں واپس کاظم کے دوست کے دفتر میں آگئی۔ تب ہی وہاں ایک اور شخص آگیا۔ اس نے بتایا کہ ٹی وی کے ڈرامے میں مرکزی کردار کے لیے ایک لڑکی کی تلاش ہے۔ جو خوبصورت مگر معصوم صورت ہو… تب ہی اس کی نظر مجھ پر ٹک گئی۔ ارے بھئی… واہ… مجھے تو اسی طرح کے چہرے کی تلاش تھی۔ کیا آپ میرے ڈرامے میں کام کریں گی۔ میں آپ کو مرکزی کردار دوں گا۔
اس کی اچانک آفر پر میں بوکھلا گئی۔ مگر میں نے تو کبھی اداکاری نہیں کی۔ مجھے اداکاری نہیں آتی۔ میں آپ کو سکھا دوں گا۔ اداکاری کوئی مشکل کام نہیں۔ ہم رہنمائی کرتے ہیں تو اناڑی بھی اداکاری کرنے لگتے ہیں۔ میں نے بہت سے اناڑیوں کو مشہور اداکار بنا دیا ہے۔
اس بات کی آپ فکر نہ کریں۔ بس ’’ہاں‘‘ کہیے اور معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔ میں نے کاظم کی طرف پریشان نظروں سے دیکھا۔ اس نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ
ہاں کہہ دو۔ لگا جیسے آنکھوں آنکھوں میں کہہ رہا ہو۔ نادان لڑکی ایسا موقع مت گنوانا۔ ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے۔
اچھا۔ میں کاظم سے مشورہ کرلوں۔ آپ کو کل بتا دوں گی۔ اپنا فون نمبر دے دیں۔ آفس سے ہم باہر نکلے تو کاظم نے کہا۔ عجیب بے وقوف لڑکی ہو۔ آفر پر آفر ہورہی ہے اور تم پاگل ہو کہ بھری تھالی کو ٹھوکر مار رہی ہو۔ بے وقوف لاکھوں میں کھیلو گی شہرت الگ۔ تم فلموں میں تو کام کرنے نہیں جارہیں، جہاں تم کو ڈانس کرنا پڑے۔ پہلے ڈرامے کا اسکرپٹ پڑھ لینا۔ اگر رول پسند آئے تو ہاں کردینا… ورنہ منع کردینا۔ ٹھیک ہے میں نے مری ہوئی آواز میں جواب دیا۔ کاظم ٹھیک ہے مگر تم نے پھر اپنا وعدہ پورا کرنا ہے۔ کون سا وعدہ؟ اس نے پوچھا۔ مجھ سے شادی کا اور کون سا… کروں گا وعدہ پورا ۔
تین دن میں نئی ملازمت کے چکر میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہی۔ کاظم نے کہا تھا کہ وہ منیجر سے کہہ کر بات سنبھال لے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ چوتھے دن اسٹور پر پہنچی تو مجھے ملازمت سے فارغ ہونے کا پروانہ مل گیا۔ بہت پریشان تھی۔ ایک طرف کاظم کے چکر میں عجیب طرح کی پیشکش اور دوسری جانب… نوکری چلی گئی۔
اب کیا ہوگا کاظم… کل تم جاکر معاہدہ سائن کرلینا۔ یہاں سے نوکری چھوڑو گی تو کسی اور جگہ کام کرسکو گی۔
ناچار کمپنی گئی۔ آج کاظم ساتھ نہیں تھا۔ اس کے دوست کے آفس میں ایک ہی شخص موجود تھا جس نے خود کو ڈائریکٹر بتایا تھا۔ اس کا نام شارق سمجھ لیں۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ بولا۔ چلو اچھا ہوا تم آگئیں، تمہارے لیے ہی نصرت صاحب سے بات کرنے آیا تھا۔ کمال ہے نصرت ابھی تک نہیں آیا۔ اسی کا انتظار کررہا ہوں۔ تھوڑی دیر گزر گئی… تب ہی اس نے میری جانب معنی خیز نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔ میں کچھ گھبرا گئی۔ ایک اجنبی کے ساتھ تنہا کمرے میں بیٹھنا نہ چاہتی تھی۔ جانے کو اُٹھ کھڑی ہوئی اور کہا مجھے اس شعبے میں کام نہیں کرنا۔ میں جارہی ہوں۔
ارے سنو تو… تم خواہ مخواہ گھبرا رہی ہو۔ تھوڑا سا رکو… نصرت سے تو بات کرتی جائو۔ میں چائے منگواتا ہوں، تب تک چائے پی لیتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ جلدی سے دروازے کی طرف لپکا… ابھی کچھ سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ اس نے کھٹ سے دروازے کو اندر سے بند کردیا۔ مجھے جانے دو، دروازہ کیوں بند کردیا ہے؟ کوئی ایرا غیرا نہ آ جائے یہاں ہر وقت طرح طرح کے لوگ آتے رہتے ہیں۔ میں تمہارے ساتھ سکون سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں۔
میرا دل دھڑک رہا تھا۔ پسینے میں شرابور تھی، خوفزدہ کھڑی تھی۔ تب ہی در پر دستک ہوئی۔ نصرت نے کہا، دروازہ کھولو بھئی… جلدی سے شارق نے دروازہ کھول دیا۔
کیا ہورہا ہے۔ دروازہ کیوں بند کیا۔ کچھ نہیں… بار بار لوگ آرہے تھے، یہ گھبرا رہی تھیں، سوچا کہ ڈرامے کے بارے ان کے ساتھ سکون سے گفتگو کرلوں۔ ان کو قائل کرنا چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کام کرنا منظور کرلیں۔
ٹھیک ہے اس بارے ان سے بات کرکے تم کو فون پر اطلاع کردوں گا۔ اب تم جائو۔ مجھے ان سے اپنے اشتہار کے بارے بات کرلینے دو۔ شارق چلا گیا۔
نصرت نے کہا۔ بی بی تم تو کانپ رہی ہو، پسینے پسینے ہورہی ہو۔ اتنی خوفزدہ کیوں ہو۔ ارے بھئی ایسا کچھ نہیں جیسا تم سمجھ رہی ہو۔ شارق ٹھیک آدمی ہے لیکن… ایک بات غور سے سن لو۔ کاظم ٹھیک آدمی نہیں ہے۔ اسے تمہاری عزت کا کوئی پاس نہیں ہے۔ وہ صرف دولت مند ہونا چاہتا ہے تمہارے ذریعے۔ اس لیے وہ تم کو یہاں لایا ہے۔ وہ تم سے شادی بھی نہیں کرے گا۔ بہت سوچ سمجھ کر اس کے ساتھ چلنا۔ یہ سن کر میں رو پڑی۔ میرے تو خواب میں بھی نہ تھا کہ کوئی کاظم کے لیے ایسا کہے گا۔
اس نے کہا… میں اس کا دوست ہوں۔ دراصل بچپن میں ہم ایک محلے میں رہا کرتے تھے اور میں نے اس کے ساتھ میٹرک تک پڑھا تھا۔ وہ آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکا مگر مجھے اپنے دل کی ہر بات بتاتا ہے۔ تمہارے بارے میں وہ مخلص نہیں ہے۔ تم سے شادی کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے اس کا… ہاں… یہ ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہاری غفلت سے فائدہ اٹھا کر تمہاری محبت کے پاک جذبے کو خاک میں ملا دے۔ یقین نہیں ہے میری بات کا تو تم کو فون سنا دیتا ہوں اس کا جو تمہارے بارے اس کی رائے ہے۔
اس نے کاظم کو فون کرکے اسپیکر کھول دیا۔ ہاں بھئی تمہاری معشوقہ آگئی ہے کیا ارادہ ہے اب۔ ابھی نہیں آسکتا۔ لنچ ٹائم میں تھوڑا سا آف ملا ہے۔ کل اسے بلائو، کل آئوں گا… اس پری وش سے ملنے… یار کچھ کام وام دو اسے تاکہ پھنسی رہے۔ اچھی قسمت ہوگی تو کامیاب رہے گی، ہمارے تمہارے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ ورنہ روتی رہے اپنی قسمت کو … ہم کیا کریں۔
غرض دو چار ایسی باتیں کہیں جو یہاں لکھ نہیں سکتی۔ آنسو میری آنکھوں سے بہنے لگے۔ نصرت نے فون بند کرکے بغور میرے چہرے کی طرف دیکھا۔
میں یہاں کام نہیں کروں گی۔ کوئی شوق نہیں مجھے شوبز کا، کسی اسکول میں کم تنخواہ پر ٹیچر ہوجائوں گی۔ یہ کہہ کر کرسی سے اٹھنے لگی تو وہ بولا۔ ذرا ٹھہرو، بات سن لو، پھر چلی جانا۔ گویا تم شوق کے لیے شوبز میں نہیں آئیں۔
میں ایک مجبور لڑکی ہوں۔ ملازمت کے لیے آئی تھی۔ آپ کی بھی کوئی بہن ہوگی اسی کا واسطہ مجھے جانے دیں۔ میرے لہجے کی کپکپاہٹ اور چہرے پر بے چارگی دیکھ کر وہ بولا، تو مجھے یقین آگیا ہے تم سچ کہتی ہو۔ تم ایک اچھی لڑکی ہو مگر نادان ہو۔ اس شاطر کے دھوکے میں آگئیں۔ میں تم کو بہن تو نہیں بنا سکتا البتہ ایک پیشکش ہے میری طرف سے، گھر جاکر سنجیدگی سے سوچنا اور فون کردینا، میں اپنی والدہ کو لے کر آ جائوں گا۔ تمہاری والدہ سے بات کریں گی تم سے شادی کروں گا۔ یہ دنیا بری جگہ ہے۔ دفتر دفتر بھٹکنے سے بہتر ہے گھر بسا لو۔ میں تمہاری والدہ اور بہن بھائیوں کو سنبھال لوں گا، جب تک تمہارے بھائی کمانے کے لائق نہیں ہوجاتے۔ مجھے ادراک ہوا کہ اس شخص کا ضمیر زندہ ہے۔ اس کی آنکھوں میں انسانیت کی چمک اور چہرے پر ضمیر کے زندہ ہونے کی گواہی دیکھی۔
جی… کہہ کر آگئی۔ امی سے تذکرہ کیا، وہ بولیں۔ مجھے نمبر دو میں بات کرتی ہوں اس سے۔
امی نے نصرت سے فون پر بات کی۔ اگلے دن وہ اپنی والدہ کو لے کر آگیا۔ امی نے چند باتیں کیں اور رشتے کی بات طے ہوگئی۔
مجھے نصرت نے فون کرکے مبارکباد کہی۔ بہت اچھا فیصلہ کیا ہے تم نے… کیسے کرلیا ایسا دانائی والا فیصلہ۔
جب آپ نے کہا کہ میں تم کو بہن تو نہیں بنا سکتا مگر اس لفظ کی لاج رکھتے ہوئے نصیحت کرتا ہوں کہ ابھی گھر لوٹ جائو، کیونکہ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ ابھی تم نے کچھ نہیں کھویا مگر آگے جاکر بہت کچھ گنوا دو گی۔ کاظم جان بوجھ کر نہیں آیا، وہ تمہیں میرے حوالے کر گیا ہے۔ اب تمہاری مرضی میری آفر کو قبول کرو یا نہ کرو… کل سوچ کر بتا دینا۔
آپ کے آفس سے نکلتے ہوئے میرے دل نے کہا۔ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ مجھے لگا آپ ٹھیک آدمی ہیں ورنہ مجھے کاظم کی طرح دھوکے میں رکھنے کے لیے ہزار باتیں بناکر سبز باغ دکھا سکتے تھے۔ امی کو تمام حالات بتائے۔ انہوں نے آپ سے بات کرنے کی خواہش کی اور یوں میں نے ان کے مشورے کے بعد ہاں کہہ دی۔
شکر کہ عقل سے کام لیا ورنہ تم جیسی لڑکیاں جو دوسروں کی باتوں میں آجاتی ہیں عموماً عقل سے پیدل ہوتی ہیں۔ لیکن تم عقل سے پیدل نہیں ہو ورنہ میرے حق میں اتنا اچھا فیصلہ نہ کرتیں۔
آج میں نصرت کی بیوی ہوں۔ ہماری شادی کو پندرہ برس ہوچکے ہیں۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ اچھے برے کی پہچان رکھتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ بہت خوش ہوں۔
(ن۔ ش۔ کراچی)

Latest Posts

Related POSTS