Maine Pyar Chaha Tha | Teen Auratien Teen Kahaniyan

560
نہیں جانتی باپ کی شفقت کیا چیز ہوتی ہے لیکن بڑے بھائی نے ہمارے سروں پر اپنے پیار کا سایہ کردیا۔ ہم نے باپ کی محبت بھی انہی سے پائی تحفظ کا احساس ہمیں پروان چڑھانے تک بھائی جان سے ملا۔ ہماری کفالت کرتے ان کی عمر 36سال ہوگئی تو ماں کو بیاہ کی فکر لاحق ہوئی۔ وہ کہتے تھے جب تک بہنوں کو ان کے گھر کا نہ کرلوں شادی نہ کروں گا۔ مگر ہم بہنیں ہی پیچھے پڑ گئیں کہ بھائی ہمیں اپنے گھر میں پیاری سی بھابی دیکھنے کی چاہ ہے۔ بالآخر ہماری ضد سے انہوں نے ہار مان لی اور امی بڑے چائو سے بہو کو بیاہ لائیں۔
ہم بہنوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ چاند سی بھابی گھر لانے کا شوق کس کو نہیں ہوتا اور بھائی بھی ایسا کہ جس کے گن ہیروں جیسے ہوں۔ ذکیہ بھابی بہت خوبصورت تھیں۔ سلیقہ شعار، ہنس مکھ، ملنسار۔ ان کے آنے سے گھر میں چاندنی سی بھرگئی۔ رات کے اندھیرے میں بھی گھر میں دن کا اجالا محسوس ہوتا تھا۔ بہت جلد انہوں نے ہمارے دلوں میں گھر کرلیا۔
ہم نندوں کو وہ اپنی چھوٹی بہنیں سمجھتی تھیں۔ اور امی جان کو ماں کی جگہ جانتی تھیں۔ بھیا کی خدمت اور پیار و محبت کا اس قدر خیال رکھتی تھیں کہ میرے بھائی بھابی میں کھو کر گویا سارے جہان کو بھول جانا چاہتے تھے۔
بھائی ہمہ وقت بیوی میں کھوئے رہنے لگے۔ پہلے ان کا معمول تھا جب گھر آتے سیدھے امی جان کے کمرے میں آتے۔ اب آتے ہی اپنے کمرے کا رخ کرتے۔ جہاں بھابی بیٹھی ہوتیں۔ تنخواہ آدھی سے زیادہ دلہن کے چائو چونچلوں میں خرچ ہونے لگی۔
اب کھانے کی میز پر ہم سب بیٹھتے تو ہمیں نظر انداز کرکے بس ذکیہ ذکیہ کی رٹ لگا دیتے۔ امی کبھی کہتیں کہ اشعر بیٹا ذرا آپے میں رہو ایسے بیوی کے دیوانے بنوگے تو لوگ زن مرید کہنے لگیں گے۔ سارے خاندان میں تمہاری بردباری اور سمجھ داری مشہور ہے۔ رشتے دار اس حال میں تمہیں دیکھیں گے تو سو طرح کی باتیں بنائیں گے۔
مگر بھائی جان پر تو اپنی دلہن کا ایسا جادو چل گیا تھا جو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ انہیں اپنا ہوش رہا اور نہ ہمارا۔ ذرا ذرا سی بات پر بیوی کی خاطر ہم بہنوں سے الجھنے لگے۔ کئی بار امی جان سے گستاخی کر ڈالی۔ ان باتوں سے ہمارا دل بھابی جان سے برا ہوگیا۔ حالانکہ ہمیں ان سے تو کوئی شکایت نہ تھی۔ وہ ہمارے ساتھ اخلاق اور محبت سے پیش آتی تھیں۔ ہمارا بہت خیال رکھتی تھیں۔ کبھی انہوں نے امی جان کے سامنے زبان نہ کھولی۔ گھر میں کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ جب کبھی بھائی ان کو شاپنگ کے لئے لے جاتے ہمارے لئے بھی کچھ نہ کچھ ضرور خرید کر لاتیں… لیکن ہم کیا کرتے، جب بھائی کا رویہ ہم سے بدل گیا اور ہم پیار کے دو بول سننے کو بھی ترس گئے۔ تب ان سے جی برا ہونا ہی تھا۔
رفتہ رفتہ گھر میں کھنچائو بڑھنے لگا۔ بھابی جان اپنے دل میں ہمارے لئے محبت کا جام بھر کے لاتیں، ہم منہ پھیر لیتے۔ وہ حیرت سے ہماری طرف دیکھتیں اور میں سوچتی کتنی چالاک عورت ہے۔ خود اچھی بنی ہوئی ہے اور ہمارے بھائی کو ہم سے چھین لیا ہے۔ اس طرح کہ بھیا ہماری نظروں میں برے بن کر رہ گئے ہیں۔
وہ بھائی کہ جن کی محبت کا ہم دم بھرتے تھے۔ بھلا ان کے لئے ہمارے دل میں برائی آسکتی تھی۔ برائی آئی تو بھابی کی طرف سے ہی ہمارے دلوں میں آئی۔ تبھی سب نے بھابی کا ’’سوشل بائیکاٹ‘‘ کر ڈالا۔ یہی نہیں ان کے ساتھ بدسلوکی ہونے لگی۔ جس کا بس چلتا طعنے سے کام لیتا لیکن ذکیہ بھابی نے ہر کسی کا سلوک تحمل سے برداشت کیا۔
اندر ہی اندر ہمارے دل جل کر کوئلہ ہو کر رہ گئے۔ ہمیں بھائی کی پہلے جیسی محبت اور توجہ نصیب نہ رہی تھی۔ آخر ہم بہنوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب تک بھائی کا دل بھابی کی طرف سے میلا نہ ہوگا۔ وہ کسی صورت ہمارے نہ بن سکیں گے۔ جلد ہی ہمیں اسی منصوبے پر عمل پیرا ہونے کا موقع بھی ہاتھ آگیا۔
انہی دنوں ایک روز بھابی کے چچازاد بھائی ان کے میکے سے ایک سندیسہ لے کر آئے۔ جس وقت وہ آئے بھیا آفس جانے کے لئے تیار ہوچکے تھے۔ کہنے لگے، ذکیہ اپنے مہمان کی اچھی طرح خاطر مدارات کرنا۔ میں آفس سے واپس آکر محمود بھائی سے گپ شپ کروں گا۔ ابھی میں جلدی میں ہوں۔ یہ کہہ کر بھائی جان، محمود کو چھوڑ کر چلے گئے۔
بھابی کے کزن محمود کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا وہ انہوں نے ذکیہ بھابی کو دیا اور بولے چھوٹی بہن کی شادی کا بلاوا ہے ضرور آنا ہوگا۔ بھابی نے وعدہ کرلیا۔ وقت کم تھا محمود، اشعر بھائی کی واپسی کانتظارکئے بغیر چلے گئے۔
ذکیہ بھابی غسل خانے میں تھیں جب میں نے ان کی سنگھار میز پر لفافہ رکھا دیکھا، کھولا تو ان کی امی کی طرف سے خط تھا۔ تاکید کی گئی تھی کہ شادی میں اپنی ساس نندوں کو بھی ضرور لانا۔
میں نے وہ خط نکال لیا اور اس کی جگہ اپنی گھر آئی سہیلی سے ایک خط لکھوایا جو بھابی کے کزن کی طرف سے لکھا گیا تھا۔ اس میں ماضی کی محبت کا افسانہ تھا۔ لفافہ میں نے بھائی جان کی ایک کتاب میں رکھ کر اس کتاب کو میز کے نیچے ڈال دیا۔
یہ میز ہمیشہ بھائی جان اور بھابی کی مسہری کے داہنی جانب رکھی رہتی تھی۔ اور بھائی جان اکثر رات کے وقت لکھنے پڑھنے کا کام اسی میز پر بیٹھ کر کرتے تھے۔
وہ دن گزر گیا، بھائی کو بھابی جان نے بتایا محمود شادی کا بلاوا دینے آئے تھے۔ لفافے میں امی جان کا دستی خط بھی تھا پھر وہ خط انہوں نے میز پر سرسری طور پر ڈھونڈا بھی مگر انہیں نہیں ملا۔ دوسرے دن شام کو بھابی جان اپنی سہیلی سلمٰی کے ہاں چلی گئیں۔
بھائی کی عادت تھی شام کو چائے اپنے بستر پر نیم دراز ہوکر پیتے تھے اور کسی نہ کسی کتاب کی ورق گردانی کرتے جاتے تھے۔ شام کی چائے میں ہی انہیں دیا کرتی تھی۔ اس روز جب میں انہیں چائے دینے گئی تو پیالی ان کو تھما کر دانستہ زمین پر جھک کر کچھ ڈھونڈنے لگی… وہ بولے۔ کیا ڈھونڈ رہی ہو میں نے کہا کچھ نہیں بھابی کی لپ اسٹک گری ہوئی تھی وہی اٹھا رہی تھی۔ اسی دوران میں نے فرش پر گری کتاب اٹھاکر ان کے سامنے تپائی پر رکھ دی اور کمرے سے نکل گئی۔ وہ کتاب اٹھاکر ورق گردانی کرنے لگے۔
رات کو بھابی آئیں، حسب معمول بھائی اور بھابی نے ہمارے ساتھ کھانا کھایا۔ تاہم سبھی نے محسوس کیا کہ بھائی جان چپ چپ ہیں۔ وہ ذکیہ بھابی سے ہنسی مذاق بھی نہیں کررہے تھے۔ اندازہ کرلیا کہ تیر نشانے پر بیٹھا ہے، آج پہلی بار میرا بھائی اپنی بیوی کو بری طرح نظرانداز کررہا تھا۔
اس رات پھر جھگڑا شروع ہوگیا۔ بھائی کچھ کہے جارہے تھے اور بھابی رو رہیں تھیں۔ سسکیوں کی آواز ہم سب نے سنی مگر کوئی ان کے کمرے تک نہیں گیا۔ شادی کے بعد یہ ان کی پہلی لڑائی تھی۔ میاں بیوی کا معاملہ تھا بھلا کوئی کیوں مداخلت کرتا۔
لیکن بات یہ نہ تھی اصل بات تو یہ تھی کہ بھابی کی سسکیاں آج ہم سب کے دلوں کو راحت بخش رہی تھیں۔ اس کے بعد تو جیسے مہکتے ہوئے چمن میں آگ ہی لگ گئی، بھابی کا پھول کی طرح کھلا ہوا چہرہ مرجھا کر رہ گیا اور بھیا چپ چپ رہنے لگے۔ اب وہ دفتر سے آتے ہی سیدھے ہمارے کمرے میں آجاتے۔ ہم سے ہنستے بولتے… پہلے کی طرح امی جان کے گلے میں بانہیں ڈال دیتے۔ جونہی بھابی آجاتیں، چپ ہوجاتے۔ تیوری پر بل پڑ جاتے تو بھابی جان تلملا کر رہ جاتیں۔
میں جی ہی جی میں خوش ہوتی کہ اب آیا مزہ کہ محبت چھن جائے تو کیسی تکلیف ہوتی ہے۔ ہم سے ہمارا بھائی چھین کر ذرا بھی خیال نہ آتا تھا کہ ہمارے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔
ایک روز پھر ہنگامہ ہوا پتہ چلا کہ اشعر بھائی نے اپنی بیوی پر محمود سے ماضی میں محبت کا الزام لگایا ہے اور… شک کا کھلم کھلا اظہار کردیا ہے۔ بھابی نے قرآن پاک اٹھا کر یقین دلایا کہ یہ سب جھوٹ ہے، بہتان ہے۔ لیکن وہ یہی سوال کرتے تھے کہ پھر یہ خط کہاں سے آیا ہے مگر بھابی کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
بھابی کیسے یہ کہہ دیتیں کہ تمہاری اماں بہنوں نے ایسا کیا ہوگا… بھلا یہ بات سننی اشعر بھائی کو کب گوارا ہوتی۔ جوں توں کرکے بھابی اپنی اجڑی ہوئی خوشی کے دن تمام کرنے لگیں۔ ہزار بار قسمیں کھالیں لیکن بھائی کا دل پہلے جیسا صاف نہ ہوسکا۔
عجب اتفاق کہ انہی دنوں ناصر نے مجھے مجبور کیا میں رات کو اس سے ملوں۔ ناصر ہمارے پڑوس میں رہتا تھا۔ اس کے اور ہمارے گھر کی چھت سے چھت ملی ہوئی تھی۔ وہ بچپن سے مجھے پسند کرتا تھا اور ہمیشہ میری توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں رہتا تھا۔ بالآخر میں بھی اس کی جانب ملتفت ہو ہی گئی اور وہ مجھے اچھا لگنے لگا۔ یہاں تک کہ ہم دونوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں بھی کھائی تھیں۔ لیکن اس بارے میں ہمارے گھر والوں کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ معلوم ہو جاتا تو کم ازکم میری تو شامت آجاتی۔ دن میں تو کسی نہ کسی بہانے اپنی سہیلی کی مدد سے مل لیا کرتی تھی مگر رات کو ملنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ ناصر نے کہا کہ تم چھت پر آجانا اور میں اپنی چھت سے پھلانگ کر تمہاری چھت پر آجائوں گا۔
رات کے بارہ بجے میں چھت پر پہنچی، وہ میرا منتظر تھا۔ ہم دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی باتوں میں گم ہوگئے۔ مجھے خبر نہ ہوئی کہ کب بھابی وہاں پر آگئیں۔
ہوش تب آیا جب ہم نے انہیں اپنے سامنے پایا۔ کہنے لگیں تمہارے بھائی آرہے ہیں ناصر جلدی سے اپنی چھت پر واپس چلے جائو۔ تبھی وہ فوراً منڈیر سے دوسری جانب کود گیا۔ بھابی مجھ سے بات کر ہی رہی تھیں کہ بھائی اوپر آگئے۔ کہنے لگے آج بڑی گرمی ہے چھت پر سونے کو جی چاہتا ہے۔ مگر شبانہ تم یہاں کیسے؟ اس پر بھابی نے جواب دیا یہ جاگ رہی تھی مجھ سے بستر اٹھایا نہ جارہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ بستر لے چلو میں پانی وغیرہ لئے چلتی ہوں۔
میں تو گھبرائی سی جلدی سے نیچے آگئی۔ رات بہت دیر تک سوچتی رہی کہ اگر بھابی نے پردہ رکھ نہ لیا ہوتا تو بھائی جان میرا کیا حشر کرتے؟
صبح بھابی نے بتایا کہ تم لڑکیاں آنگن میں سو رہی تھیں تبھی ہم دونوں نے چھت پر سونے کا فیصلہ کیا تھا۔ کیا خبر تھی کہ تم اور ناصر اوپر ہو۔
میں نے ہاتھ جوڑ کر بھابی سے منت کی اور معافی مانگی۔ دل نے ان کی عظمت کو سلام کیا کہ انہوں نے میری خطا کا پردہ فاش نہیں کیا اور مجھے اپنے پیارے بھائی کی نظروں میں گرنے سے بچالیا۔ ورنہ میں عمر بھر ان کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتی۔ گوکہ بھابی جان کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ یہ خط والی حرکت بھی میری ہی تھی، پھر بھی انہوں نے تحمل سے کام لیا اور موقع ملنے کے باوجود میری اس


گری ہوئی حرکت کا بدلہ مجھ سے نہ لیا۔
یہی نہیں بلکہ بھابی نے بعد میں اپنی کوششوں سے میری شادی ناصر سے کرا دی۔ اب میرا ضمیر مجھے پریشان رکھتا تھا، تبھی ایک دن میں نے اپنی بھابی پر سے الزام دھو ڈالا اور بھائی کو صاف صاف بتادیا کہ اس دن کتاب میں خط میں نے ہی رکھا تھا۔ کیونکہ میں اپنے بھائی کی محبت حاصل کرنا چاہتی تھی۔ یہ بتاکر خوب روئی… کہ میرا ارادہ ان کا گھر اجاڑنا نہیں صرف ان کی کھوئی ہوئی محبت حاصل کرنا تھا۔
بھائی نے کہا بھابی سے معافی مانگو… جب بھابی نے معاف کردیا تو بھیا نے بھی معاف کردیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ محبت اور جنگ میں ایسا بھی ہوتا ہے۔ البتہ بھابی نے کہا تھا کہ خدا کی مہربانی تھی کہ میرا گھر اجڑنے سے بچ گیا ورنہ نادانی میں تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
سچ ہے کہ انسان کا دل شک کا گھروندا ہے۔ دل کے شیشے میں اگر ایک بار بال آجائے تو کبھی جاتا نہیں۔ خاص طور پر شوہر اور بیوی کے درمیان اعتبار کا پل اگر گر جائے تب زندگی برباد اور تباہی لازم ہوجاتی ہے۔ صد شکر کہ اللہ تعالٰی نے بھائی اور بھابی کو تحمل عطا کیا کہ وہ اجڑنے سے بچ گئے، ورنہ شاید میں خود کو کبھی معاف نہ کرپاتی۔
(ش… ملتان)