Mamta Ki Laaj | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2239
وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب میں سات برس کی تھی اور اسکول جایا کرتی تھی، اسی اسکول میں میرے ماموں کا بیٹا نواز بھی ہمارے ساتھ پڑھا کرتا تھا، پھر وہ لوگ شہر سے گائوں چلے گئے۔ اب صرف گرمیوں کی چھٹیوں میں ہی ملاقات ہوتی جب ہم چھٹیاں گزارنے نانی اماں کے گھر گائوں جاتے۔
وقت گزرتا رہا، میں اور نواز بڑے ہوگئے۔ اب جب اس سے سامنا ہوتا میں نظریں جھکالیتی، وہ بہت خوبصورت نوجوان کا روپ دھار چکا تھا اور میں اس سے شرمانے لگی تھی۔ بظاہر اس سے چھپتی لیکن دل سے التفات برتنے لگی۔
ماموں جان شہر میں ملازمت کرتے تھے۔ گائوں میں تھوڑی سی زمین پر گزارا تھا… کھیتی باڑی میں نواز باپ کا ہاتھ بٹاتا تھا، تب ہی آٹھویں کے بعد اس کو تعلیم چھوڑنی پڑی۔ گھریلو حالات کی وجہ سے وہ شہر آکر ایک فیکٹری میں ملازم ہوگیا۔
ایک سال تک ہمارے گھر نہ آسکا، ایک روز آیا تو امی جان نے بہت خوشی سے اس کا سواگت کیا اور خوب آئو بھگت کی۔
میں اس کو دیکھ کر خوشی سے نہال تھی، جیسے برسوں کا انتظار آج ختم ہوگیا ہو۔
امی نے مجھے کھانا پکانے کی ہدایت کی اور خود اس سے باتیں کرنے لگیں۔ میں نے کان دھرے تو سنا، وہ کہہ رہی تھیں… بیٹا مجھے گل بانو کی شادی کی بڑ ی فکر ہے۔ جانے کب اچھا بر ملے اور کب اس کی شادی ہو، وغیرہ وغیرہ ۔
میں نے دیکھا وہ امی جان کی باتیں بڑے غور سے سن رہا ہے، جیسے کوئی کسی کا کہا دل کے کانوں سے سنتا ہے، وہ سمجھ گیا تھا کہ امی کیا پیغام اس کو دینا چاہتی ہیں۔ لڑکی کی ماں اور اس سے زیادہ کیا کھلے لفظوں میں کہہ سکتی تھی۔
گھر جاکر اس نے اپنی ماں سے تذکرہ کیا کہ وہ پھوپھی کے گھر گیا تھا اور پھوپھی اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتی ہیں، اس نے ماں سے کہا… اماں تم دیر نہ کرو اور فوراً جائو… میری شادی گل بانو سے طے کردو… اب میں برسر روزگار ہوں۔
جب ممانی نے بیٹے کے منہ سے یہ الفاظ سنے تو وہ آگ بگولہ ہوگئیں، بولیں… ہرگز نہیں مجھے تیری پھوپھی پسند ہے اور نہ ہی اس کی بیٹی گل بانو۔ میں تیری شادی اپنی بھانجی پروین سے کروں گی۔
پروین… فیاض کو قطعی پسند نہ تھی لہٰذا وہ خاموش ہورہا اور کچھ روز ماں کے پاس رہ کر واپس شہر اپنی ملازمت پر آگیا۔ جب ممانی ہمارے گھر کافی دن نہ آئیں تو ماں خود ہی ایک روز ان کے گھر گئیں اور پوچھا کہ کیا تم نے بیٹے کا رشتہ کرنا ہے میری گل بھی بڑی ہوگئی ہے اور میں اس کی شادی کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔
امی جان کی بات سن کر ممانی کی تیوری پر بل پڑگئے۔ کہنے لگیں… تم اپنی بیٹی کی شادی جہاں چاہے کردو میں نواز کی شادی اپنی پروین سے ہی کروں گی، تم ادھر کی آس مت رکھنا۔ خواہ مخواہ وقت ضائع کرو گی۔
مایوس ہوکر امی لوٹ آئیں، اپنی بھابی سے ان کو اس جواب کی امید نہ تھی لیکن ٹکا سا جواب سن کر انہوں نے فوراً دوسرے رشتے کی تلاش شروع کردی۔
جلد ہی امی کو میرے لئے ایک رشتہ مل گیا اور انہوں نے شادی کی تاریخ رکھنے میں دیر نہیں کی۔ پل بھر میں تاریخ طے ہوئی، پھر چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگیا۔
شادی کے روز میں اتنا روئی کہ بے ہوش ہوگئی۔ مجھے خبر نہ رہی کہ میری شادی ہورہی ہے… اسی حال میں ایک بے جان مورتی کی طرح سجا سنوار کر مجھے رخصت کردیا گیا…یہ اتفاق کہ جس شخص سے میری شادی ہوئی وہ اسی فیکٹری میں منیجر تھا، جہاں ایک ادنیٰ ورکر کی حیثیت سے نواز کام کرتا تھا۔
نوازکو خبر نہ تھی کہ میرا شوہر اس فیکٹری میں کام کرتا ہے، وہ اس کو نہیں پہچانتا تھا کیونکہ کبھی آمنا سامنا نہ ہوا تھا۔ ایک روز میں اپنے شوہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر فیکٹری کے نزدیک جارہی تھی کہ نواز نے مجھے دیکھ لیا… وہ ٹھٹھک گیا۔ میں بھی حیران اور گم صم اس کو دیکھ رہی تھی کہ میرے شوہر عاصم نے سوال کیا… گل کیا دیکھ رہی ہو۔ میں نے کہا کہ یہ میرے ماموں کا بیٹا ہے، اسی فیکٹری میں کام کرتا ہے، اسی کو دیکھ رہی تھی… یہ سن کر عاصم اس کے پاس گئے دعا سلام کی خیریت دریافت کرنے کے بعد اپنے گھر آنے کو کہا۔
ہمارا گھر فیکٹری کے نزدیک ہی تھا لہٰذا وہ اس کو ساتھ ہی لے آئے۔ مجھے کہا کہ کھانا بنائو تمہارا عزیز ہمارے گھر آیا ہے… میں کچن میں جاکر کھانا بنانے لگی۔ دل میں خوش بھی تھی کہ میرے شوہر نے میرے رشتے دار کو اتنی عزت دی ہے اور اداس بھی ہوگئی کہ اتنے دنوں بعد اپنے من چاہے انسان کو دیکھا تھا۔
اس روز عاصم اور نواز دوستانہ انداز میں باتیں کرتے رہے ۔ کھانا تیار ہوگیا تو میں نے کھانا لگا دیا۔ دونوں نے کھایا اور پھر نواز دوبارہ آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔
اب مجھے اس کا انتظار رہنے لگا… ایک روز یونہی میں خاموش اپنے خیالوں میں گم بیٹھی تھی۔ عاصم نے آواز دی میں نہ سن پائی۔ اس نے دوبارہ پکارا جب جواب نہ ملا تو اس نے چیخ کر کہا کس کے خیالوں میں کھوئی ہو… کہ اس دنیا میں نہیں ہو مجھے جواب کیوں نہیں دے رہی ہو…!
چونک کر میں نے شوہر کی طرف دیکھا، اس کی نگاہیں خشمگیں تھیں۔ بہرحال پھر بات آئی گئی ہوگئی… لیکن اس واقعہ کے دو ہفتے بعد ایک روز عاصم چھٹی کے وقت گھر آئے تو نواز ان کے ہمراہ تھا، اچانک بے اختیار نواز کو سامنے دیکھ کر میری آنکھوں میں خوشی کی چمک آگئی۔ عاصم نے محسوس کرلیا کہ فیاض کے آنے سے مجھے دلی خوشی ہوتی ہے۔ بس یہی وہ خطرناک لمحہ تھا جو میرے جیون ساتھی نے پکڑلیا۔ یہ لمحہ ایک نوکدار کانٹے کی طرح اس کے دل میں چبھ کر رہ گیا تھا۔
اب وہ روز ہی کسی نہ کسی بہانے نواز کا ذکر نکال لیتا اور پھر سوال کرتا، سچ کہو شادی سے پہلے تم کو کسی سے لگائو تھا؟ کسی کا خیال دل میں بسایا تھا بس ایسی ہی باتیں کرکرکے اس نے مجھے پاگل اور خود کو نفسیاتی مریض بنا دیا۔
میں اس دن کو کوسنے لگی جب اچانک نواز کا ہمارا سامنا ہوا تھا اور عاصم ان کو گھر لائے تھے۔ ایسا ہوتا اور نہ میری اچھی بھلی پرسکون زندگی کو گھن لگتا… برے دنوں کو آنا ہو تو آجاتے ہیں، کوئی ان کو روک نہیں سکتا۔
ایک دن عاصم نے کسی بات پر مشتعل ہوکر مجھے تھپڑ مار دیا اور خود گھر سے چلا گیا۔ میں چولہے کے پاس بیٹھی رو رہی تھی کہ اسی وقت اچانک نواز آ گیا۔ آتے ہی اس نے عاصم کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، آنسو گرنے لگے۔ وہ گھبرا گیا پوچھا تم کو کیا ہوا ہے، کیوں رو رہی ہو…
کچھ نہیں… میں نے جواب دیا… بس یونہی امی کی یاد آرہی تھی۔
وہ اصرار کرنے لگا… سچ بتا دو کیا بات ہے، اتنے میں میری ساس کمرے سے باہر آئی۔ نواز کو دیکھا تو خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورنے لگی اور پھر خواہ مخواہ صلواتیں سنا دیں… اس صورتحال سے نواز گھبرا گیا اور الٹے قدموں لوٹ گیا۔
اس دن کے بعد میرا جی بے کل رہنے لگا، اب کسی پل چین نہیں آتا تھا۔ سوچتی تھی آخر یہ کیا ہوا، آخر میرا کیا قصور ہے جس کی سزا مل رہی ہے۔
بے شک میں نواز سے محبت کرتی تھی، وہ بھی مجھ کو پسند کرتا تھا مگر ہمارا یہ رشتہ اور تعلق بالکل پاک و صاف تھا اور اس رشتے کا کسی کو علم نہ تھا۔ سوچتی تھی اے کاش ممانی مجھ پر رحم کرتیں اور میری شادی نواز سے ہوجانے دیتیں تو آج مجھے جنت مل جاتی مگر اس عورت کی ضد نے ہم دو دلوں کی خوشیوں کو پورا نہیں ہونے دیا تھا۔
اب شادی شدہ تھی مجبور تھی، لیکن اپنے گھر کو کسی طور پر برباد نہ کرنا چاہتی تھی۔ تب ہی سوچتی تھی کہ نوازکو منع کردوں کہ وہ ہمارے گھر نہ آیا کرے… اس کا آنا اب میرے لئے سخت نقصان اور بربادی کا سبب بھی ہوسکتا تھا۔ نواز بھی ان دنوں کچھ بے چین سا تھا، مجھے روتا دیکھ کر وہ پریشان رہنے لگا تھا۔ تب ہی ایک دن دوبارہ اس وقت آیا جب عاصم فیکٹری میں کام میں مصروف تھا۔
اس دن ساس نے مجھے برا بھلا کہا تھا اور میں میلے کپڑوں میں ملبوس بیٹھی چولہے کی راکھ کرید رہی تھی۔ اچانک نواز کو دیکھ کر ضبط نہ کرسکی اور رو پڑی وہ اور پریشان ہوا، پوچھنے لگا سچ بتائو کیا بات ہے، اس روز بھی میں آیا تو تم رو رہی تھیں اور آج بھی… آخر معاملہ کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ عاصم اور اس کی ماں مجھ پر شک کرنے لگے ہیں۔ بات بے بات الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں اور برا سلوک روا رکھتے ہیں… وہ پاس پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا… کہا… تو تم ان لوگوں سے فیصلہ لے لو… ایسی اذیت بھری زندگی گزارنے کا کیا فائدہ ہے۔
خدا کے لئے تم چلے جائو نواز، میں نے ہاتھ جوڑ دئیے۔ پہلے ہی تمہاری وجہ سے میری زندگی جہنم بنی ہوئی ہے، اگر تم بار بار آتے رہے تو سچ مچ مجھے ساس طلاق دلوا دے گی۔ اس کو تمہارا یہاں آنا بالکل پسند نہیں ہے۔
وہ کہنے لگا اگر یہ ظالم لوگ تمہیں بے قصور طلاق دینے پر تلے ہوئے ہیں تو دے دیں… میں تمہیں اپنا لوں گا فکر مت کرو… ظلم سہنے سے بہتر ہے کہ ان سے جان چھڑالو۔
ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ عاصم آگیا اور اس نے نواز کے یہ جملے سن لئے۔وہ سخت طیش میں آگیا اس نے کہا نواز تمہیں معلوم تھا کہ اس وقت میں ڈیوٹی پر تھا تو میری غیر موجودگی میں تم نے یہاں آنے کی جرأت کیوں کی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پاس پڑی ہوئی لکڑی اٹھا لی اور مجھے بے تحاشا پیٹنے لگا… بولا… اصل میں تم ہی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ میری غیر موجودگی میں اپنے عاشق کو بلاتی ہو، آج میں تمہیں ختم کردوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے چھڑی چھوڑ کر چھری اٹھا لی۔
اس سے پہلے کہ عاصم مجھ پر چھری سے وار کرتا نواز نے اس کی کلائی پکڑ کر مروڑ دی اور چھری زمین پر گر گئی۔ تب عاصم مجھے بے تحاشا لاتوں اور مکوں سے مارنے لگا، اس نے دوبارہ لپک کر چھری اٹھانا چاہی مگر نواز نے اس کے ارادے کو ناکام بنا دیا، اس چھینا جھپٹی میں نواز نے اپنے بچائو کی خاطر چھری کا وار کردیا۔ چھری عاصم کے پیٹ میں لگی اور جگر میں گھپ گئی، یہ پہلا وار ہی اتنا کاری تھا کہ وہ زمین پر گرا اور ڈھیر ہوگیا۔ یہ سب کچھ اچانک اور آناً فاناً ہوگیا… میرے اوسان خطا ہوگئے اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا… نواز بھی بھاگ نکلنے کی بجائے چارپائی پر بیٹھ کر ہانپنے لگا … میری ساس نے شور مچا کر سارے محلے والوں کو اکٹھا کرلیا اور پھر لوگ نواز کو پکڑ کر تھانے لے گئے۔ وہاں اس نے تمام احوال بتا کر اقرار جرم لیا اور اس کو حوالات میں بھیج دیا گیا، پھر مقدمہ چلا اور اسے عمر قید ہوگئی جبکہ والدین کی بھاگ دوڑ اور اچھے وکیل کی پیروی سے میں سزا سے بچ گئی اور بری ہوگئی۔ ساس نے مجھ پر نواز کے ساتھ مل کر قتل کا مقدمہ کرا دیا تھا مگر تفتیش کے دوران ثابت ہوگیا کہ یہ سب اتفاق اور وقتی اشتعال کا نتیجہ تھا۔
جب تک نواز جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا۔ میں نے نہایت کرب سے دن گزارے۔ عاصم کی وفات سے دو ماہ پہلے میں امید سے ہوگئی تھی، میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا… اور بہت مشکلات سہہ کر اس کی پرورش کی، جب وہ آٹھ سال کا تھا، نواز سزا پوری کرنے کے بعد جیل سے باہر آیا… اس نے مجھ کو شادی کی پیشکش کی مگر میں نے اس کی پیشکش کو رد کردیا۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ جو الزام صحیح نہیں تھا لوگ اس کو صحیح سمجھیں… سب یقینا میرے بیٹے سے یہی کہتے کہ میں نے نواز سے شادی کی خاطر اپنے شوہر کو قتل کرایا اور اب اپنی آرزو پوری کی ہے… اس طرح میرا بیٹا مجھے غلط عورت جان کر کبھی معاف نہ کرتا۔
میں نے ممتا کی لاج رکھنے کی خاطر یہ قربانی اس لئے دی کہ میں ماں کے مقدس رتبے سے گرنا نہیں چاہتی تھی۔ میں چاہتی تھی چاہے ساری دنیا کی نظروں سے گر جائوں مگر میرا بیٹا مجھے اپنے باپ کا قاتل نہ گردانے اور میں اپنے بیٹے کی نظروں سے نہ گر جائوں۔ آج یہ قربانی رنگ لائی ہے اور میرا بیٹا مجھے عزت و احترام کے ساتھ ماں کہہ کر پکارتا ہے تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ ایک ماں کو بھلا اس سے زیادہ کیا چاہیئے! (آسیہ بی بی… ملتان)