Manzil Huwe Asaan | Teen Auratien Teen Kahaniyan

2367
یہ بلاک آبادی سے ذرا ہٹ کر تھا، درمیان میں ایک گندا نالا بہتا تھا جو اسے باقی شہر سے جدا کردیتا تھا۔ ہمارا گھر اسی بلاک میں آخری گلی کے سرے پر واقع تھا۔ اس گلی کو یہاں کے مکین تنگ گلی بھی کہتے تھے۔
یہ گلی اتنی بھی تنگ نہ تھی لیکن اس میں بسنے والوں کے نصیب ضرور کوتاہ تھے۔ نہیں خبر اس کو کیوں ’’تنگ گلی‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ آخری سرے پر جاکر بند ہوجاتی تھی۔ اس میں دوسری طرف نکلنے کا راستہ نہیں تھا۔
اردگرد کے تمام گھروں میں مرد کم اور عورتیں زیادہ رہتی تھیں اور یہ گھر عورتوں ہی کے ناموں سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ معلوم نہیں یہ عورتیں معاشرے کی حقارت کا شکار ہوکر یہاں آبسی تھیں یا کچھ اور عوامل تھے، تاہم سارا چکر بھوک سے اٹوٹ رشتے کا تھا۔
ہماری گلی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ دن کو سنسان رہتی تھی، جبکہ رات کو خوب رونق اور چہل پہل ہوجاتی تھی۔ رات بھر وقفے وقفے سے کاروں کے گزرنے کی سرسراہٹ اور موٹروں کے دروازے کھلنے اور بند ہونے کی آوازیں سماعت سے ٹکرا کر اس علاقے کے جاگتے رہنے کا احساس دلاتی رہتی تھیں۔
نانی کا نام گل جنت جبکہ امی کو گل یاسمین کہتے تھے… انہوں نے میرا نام گل نسترن رکھا تھا، مگر پیار سے مجھے گلابو پکارتے تھے… اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارا یہ مختصر سا خانوادہ جس علاقے میں مکین تھا وہاں دن سوتے اور راتیں جاگتی تھیں۔
میری ماں کی ایک بہن بھی تھی، جس کا نام گل فردوس تھا۔ وہ بہت خوبصورت تھی، اسی خوبصورتی کے سبب ایک دن اس کے نصیب بھی جاگ گئے اور شہر کے ایک معزز آدمی نے اس سے بیاہ کرلیا۔ وہ تنگ گلی کی مکانیت چھوڑ کر عزت دار خوش نصیبوں کے علاقے کی مکین ہوگئی۔
خالہ فردوس کے شوہر عزیز صاحب نے نکاح کے وقت یہ شرط رکھی کہ فردوس کے گھر اس کے میکے والے نہیں آئیں گے اور نہ وہ میکے جائے گی۔ نانی، ماں یا بہن سے ملاقات کرنا لازم ہوگی تو یہ نزدیکی شہر ملتان میں ملیں گے جہاں عزیز خالو کے تین مکان اور ایک کوٹھی موجود تھی۔
میکے والیوں سے ملاقات کی خاطر خالو نے ملتان کا وہ مکان مختص کردیا تھا جو نسبتاً ویران سی آبادی میں تھا اور خالی پڑا ہوا تھا۔ کافی دنوں بعد جب خالہ فردوس بہت اصرار کرتیں تو ان کے شوہر عزیز صاحب ان کو اس مکان میں لے جاتے جہاں وہ دو دن قیام کرتیں تبھی اپنی ماں اور بہن سے ملاقات کرتیں… یہ اجازت اس وجہ سے عزیز صاحب نے ان کو دی ہوئی تھی کیونکہ وہ خالہ فردوس سے محبت کرتے تھے اور ایک رحم دل آدمی بھی تھے۔
جب کبھی نانی اور امی، خالہ سے ملنے ملتان جاتیں تو میں بھی ساتھ ہوتی کیونکہ ان دنوں میری عمر چھ برس تھی۔ اکیلی گھر پر نہ رہ سکتی تھی۔ خالہ فردوس کو مجھ سے پیار تھا۔ تبھی میں بھی ان سے پیار کرتی تھی۔ جب ہم جاتے وہ میرے لئے خوبصورت کپڑے، گڑیاں، ہار بندے، غرض بہت سے ایسے تحفے دیتیں جن کی آرزو کوئی بچی کرتی ہے۔
تنگ گلی کے نزدیک جہاں ہمارا مکان واقع تھا۔ نزدیک کوئی اسکول نہ تھا۔ سارے اسکول شہر میں تھے جہاں شرفاء کی بچیاں پڑھتی تھیں اور وہاں میرا داخلہ محال تھا، جبکہ میری ماں ایک مختلف سوچ رکھتی تھیں، وہ ہر حال میں مجھے تعلیم دلوانا چاہتی تھیں۔
ایک دن جب وہ خالہ فردوس سے ملنے ملتان گئیں، انہوں نے بطور خاص اپنی اس خواہش کا ذکر کیا، خالہ نے وعدہ کیا کہ وہ عزیز صاحب سے بات کریں گی۔ جب انہوں نے خالو سے بات کی تو انہوں نے مجھے پڑھانے کی حامی بھرلی، انہی دنوں وہ ملتان میں ایک پلازہ تعمیر کروا رہے تھے۔ اپنی دوسری بیگم یعنی خالہ فردوس کے ہمراہ ملتان مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ یوں میں پڑھنے کی خاطر خالہ فردوس کے پاس ان کی ملتان والی کوٹھی میں رہنے لگی۔
ماں نے شاید وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مجھے اسکول میں پڑھانا ضروری جانا تھا، تبھی میری جدائی برداشت کی… لیکن جب میں نے میٹرک پاس کرلیا تو انہوں نے واپس بلوالیا۔ نانی کے انتقال کے بعد ماں اکیلی رہ گئی تھیں۔ گرچہ نانی کی ایک عمر رسیدہ سوتیلی بھانجی ان کے پاس رہنے لگی تھیں، لیکن ماں خود کو پھر بھی تنہا محسوس کرتی تھیں۔
ماں کی اس کزن کو جن کی عمر پچاس کے قریب ہوگی، میں دادی بلاتی تھی، کیونکہ مجھے آرزو تھی کہ میری بھی دادی ہو… جبکہ میرا کوئی ددھیال تھا ہی نہیں… اسکول میں ددھیالی رشتوں کے بارے سنتی تو حسرت کرتی۔
میں اب عمر کے اس حصے میں تھی جب آنکھوں میں بس خواب ہی خواب ہوتے ہیں جو ذہن میں ہر وقت تتلیوں کی مانند اڑتے رہتے ہیں۔ ماں عمر کے اس دور میں تھی کہ تھکن طاری ہوجاتی اور ذرا سا پیدل چلنے پر سانس پھول جاتا تھا۔ میری نوخیزی ہی ان کی ڈھلتی عمر کا سہارا بنی۔ اب مجھ کو اندازہ ہوا کہ اس تھکی تھکی ماں کو میری کتنی ضرورت تھی۔
میں ان کی اکلوتی امید تھی اور اب وہ اس اکلوتی امید کی چھائوں میں اپنی باقی ماندہ زندگی آرام و سکون سے گزارنا چاہتی تھیں… جلد ہی میں نے ماں کی خاطر ان کی والی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور ہمارے مالی حالات پہلے سے زیادہ اچھے ہوگئے۔ ماں بہت خوش تھی کہ میں ان کی امیدوں پر پوری اتری تھی اور ان کا بڑھاپا میری وجہ سے گلیوں میں رلنے سے بچ گیا تھا۔ ہمارے مہمان ہر طبقۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے تھے۔
زندگی کی گاڑی چلانے کی خاطر نصیب نے جو کام مجھے سونپا اس میں ہر طرح کے مردوں سے واسطہ پڑتا تھا۔ میرا تجربہ وسیع ہوتا گیا اور مردوں کے مزاج کو پرکھنے میں طاق ہوگئی۔ ہمارے طلب گاروں میں سب سے زیادہ تکلیف دہ لوگ وہ ہوتے تھے جو اپنا رزق بھی ہمارے رزق کے ساتھ وابستہ کرلیتے تھے، ان میں وہ پولیس والا بھی ایسا ہی شخص تھا جس کا نام افلاک تھا۔
افلاک سے میرا تعارف ایک شادی کی تقریب میں ہوا۔ جہاں ہمیں مہمانوں کا دل بہلانے کو بلوایا گیا تھا۔ یہ محفل موسیقی شادی کی تقریب میں رونق بڑھانے کی خاطر تھی۔ میں نے وہاں کچھ غزلیں گاکر اہل محفل کے دل گرما دئیے۔ یوں تو بہت سے شائقین کی نگاہیں مجھ پر ٹکی تھیں مگر جس انداز سے افلاک کی نگاہیں میرے سراپا پر گڑھ گئی تھیں، ان کی تپش جلاکر راکھ کر ڈالنے والی تھی۔ جب میں نے اس کی جانب دیکھا تو مجھ کو جھرجھری آگئی تھی۔
دوسرے دن شام کے وقت مہر صاحب کے پاس جانے کو محو سنگھار تھی کہ ان سے آج کا وعدہ تھا۔ وہ ہمارے ایسے قدر دانوں میں سے تھے کہ جن کی ہمارے گھرانے پہ بڑی مہربانیاں تھیں۔ ان کی گاڑی باہر کھڑی تھی اور ان کا ڈرائیور لینے آیا ہوا تھا، کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ افلاک صاحب کا پیام لانے والا آیا تھا، بتایا کہ انہوں نے یاد فرمایا ہے۔
افلاک صاحب سے جان پہچان کا مرحلہ ابھی نہیں آیا تھا ان کی خاطر اپنے دیرینہ کرم فرما کو ناراض کرنا محال تھا، پس میں نے عذر کیا کہ فی الحال معذرت خواہ ہوں، کیونکہ مہر صاحب میرا انتظار کررہے ہیں، البتہ کل اگر انسپکٹر صاحب تشریف لے آئیں گے تو زہے نصیب۔
دوسرے روز ابھی شام بھی نہ ہوئی تھی کہ کسی نے دروازے کو لاٹھی سے بجایا۔ دستک کے انداز سے دل میں خوف کی لہر سی دوڑ گئی۔ کل کا بلاوا یاد آگیا یقیناً ایسی لاٹھی کسی پولیس والے کی ہی ہوسکتی تھی۔ یقیناً یہ میرے کل کے انکار کا جواب تھا۔
میرا اندازہ صحیح تھا۔ باہر پولیس کی گاڑی آئی تھی، ہم کو فحاشی کے الزام میں لے گئے، وہ رات ہماری حوالات میں کٹی۔ اگلے روز اس وعدے پر گلوخلاصی ہوئی کہ اب جب بھی افلاک صاحب یاد کریں گے حکم بجا لانا ہوگا۔ نیز افلاک صاحب ہماری حفاظت کا ذمہ لیں گے مگر ہم کو ان کے محافظوں کا

خرچہ دینا ہوگا۔
یہ شرائط قبول کئے بنا چارہ نہ تھا۔ زندہ تو رہنا تھا اور دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر پالنا حماقت ہوتی۔ عرصہ تک حالات ایسے ہی چلتے رہے۔ جب بھی افلاک صاحب یاد فرماتے میں حاضر ہوجاتی۔ ستم یہ کہ اپنی آمدنی میں سے ایک طے شدہ حصہ بھی ہر ماہ اپنی حفاظت کے بدلے ان کو ادا کرنا پڑتا تھا۔
شہروں کی آبادی جب پھلتی پھولتی ہے تو وہ قبرستانوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے کوتاہ نصیبوں کی تنگ گلیوں کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے، لیکن اس طرح کا سمویا جانا ہمارے لئے بقا کی علامت نہیں ہوتا… جونہی ہمارے بلاک سے اردگرد اور کچھ آگے کی زمینیں بکنے لگیں ان پر نئی نئی ہائوسنگ سوسائٹیاں بھی بننے لگیں تب ہمارا جینا دوبھر کردیا گیا۔ گندے نالے کو مٹی سے پاٹ کر ختم کردیا گیا اور ہمارے محلے کے بارے میں لوگوں نے احتجاجی جلسے جلوس نکالے کہ ان کو کسی علیحدہ نئی آبادی میں بسایا جائے۔ کیونکہ ان کی سرگرمیوں سے ہمارا ماحول خراب ہورہا ہے۔ یوں ہم پرانے مکینوں سے گھر خالی کراکر ہم کو شہر سے کچھ اور دور ایک نئی جگہ آباد کاری کو فراہم کردی گئی۔ جن کے پاس سرمایہ تھا انہوں نے نئے گھر بنوالئے ورنہ جہاں جس کے سینگ سمائے وہ ادھر کو چلی گئیں۔
مجھ پر ان دنوں ایک ساتھ دو افتادیں پڑ گئیں۔ ایک تو علاقہ چھوڑنا پڑا تھا اوپر سے اماں فوت ہوگئیں۔ تبھی میں نے اپنے ایک کرم فرما سے عرض کی کہ نئی بستی جانا نہیں چاہتی، کہیں شہر میں گھر لے دو… تو احسان مند ہوں گی۔
مظہر صاحب مجھ سے بہت لگاوٹ رکھتے تھے، بولے۔ نادان شہر والے تم لوگوں کو نکالنے کے درپہ ہوئے ہیں، شہر میں کیسے تمہارا رہنا وہ برداشت کریں گے۔ بہتر ہے مجھ سے نکاح کرلو۔ وہ بال بچے دار آدمی تھے۔ میری خاطر اپنے لئے پریشانی کا سامان پیدا کرنے پر آمادہ تھے تو میں نے بھی ان کی اس پیش کش کو نہیں ٹھکرایا اور نکاح پر راضی ہوگئی۔ انہوں نے بھی وہی شرط رکھی کہ تم کو برائی کی زندگی ترک کرنی پڑے گی۔
میں خود اس بکائو جیون سے تھک چکی تھی، اب تو روٹی کپڑے پر راضی تھی، لہٰذا نکاح کرلیا اور شہر میں ان کے سائے میں ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں اپنی بوڑھی اماں کی کزن ’’دادی‘‘ کے ساتھ رہنے لگی۔
دو ماہ سکون سے گزرے۔ ہفتہ میں ایک بار مظہر آتے اور ایک رات ٹھہر کر چلے جاتے۔ ان کو خوف تھا کہیں ان کی بیوی کو میرے بارے میں علم نہ ہوجائے، تبھی زیادہ آنا جانا نہیں رکھتے تھے، مگر خرچہ باقاعدگی سے دے جاتے تھے۔
ایک دن جبکہ میں دوپہر کا کھانا بنا رہی تھی کسی نے دروازے کو پھر اسی طرح لاٹھی سے بجایا گیا کہ میرا دل دھڑک گیا ہو نہ ہو یہ افلاک کا ہی پیام تھا۔ خدا جانے کیسے اسے میرے ٹھکانے کا علم ہوگیا تھا۔ دروازہ کھولا تو اسے کھڑا پایا۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اب میں کسی کی منکوحہ ہوں اور شرافت کی زندگی اپنا چکی ہوں خدارا… تم بھی ادھر کی راہ بدل لو اور دوبارہ مت آنا۔ اس نے کہا… تم جھوٹ بولتی ہو لوگوں کو دھوکا دینے کو شریفوں کے محلے میں آچھپی ہو۔ بہرحال… بڑے عذابوں سے بچنے کی خاطر میں نے اسے بھتہ دینا مان لیا اس شرط پر کہ وہ دوبارہ یہاں نہ آئے گا۔
میں کسی صورت اپنے محسن مظہر کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔ عمر بھر اسی طرح روکھی سوکھی کھاکر بھی اسی کے سائبان تلے شرافت کی زندگی گزارنا چاہتی تھی مگر میری قسمت خراب تھی کہ اچانک کار کے حادثے میں اس کا انتقال ہوگیا اور میں بے سہارا ہوگئی۔ اب افلاک کے خوف نے پھر سے گھیر لیا۔ میں نے بھی قسم کھالی کہ محنت مزدوری کروں گی مگر برائی کی دلدل میں نہ گروں گی۔
ایک روز میں نے وہ محلہ چھوڑ دیا اور ملتان آگئی۔ خالہ فردوس کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ چند دن تم کو آسرا دے سکتی ہوں، پھر تمہیں کچھ اپنے بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ اب سوتن کے بچے جوان ہوچکے ہیں۔ وہ تمہارا میرے پاس رہنا گوارا نہ کریں گے۔ مجھے بھی نکال باہر کریں گے۔ خالہ فردوس نے اتنی مدد ضرور کی کہ مجھے ایک متوسط درجہ کے علاقے میں کرایہ کا چھوٹا سا مکان لے دیا۔ جس نئے محلے میں گھر ملا تھا وہاں ایک پرائیویٹ اسکول بھی تھا۔ اسکول مالکن بھی وہاں ہی رہتی تھی۔
مجھے نئی پڑوسن جان کر اس نے پلائو کی سینی بھجوائی، اگلے روز میں شکریہ ادا کرنے گئی اور باتوں باتوں میں اسے بتایا کہ میں ایک بیوہ ہوں، شوہر مرحوم کی پہلی بیوی سے بچے جوان ہیں۔ انہوں نے مجھے قبول نہیں کیا، مجبوراً یہاں گھر لیا ہے۔ بوڑھی دادی کے ساتھ رہتی ہوں۔ اگر آپ کو ٹیچر کی ضرورت ہوتو میں کم تنخواہ پر چھوٹی کلاس کو پڑھا دوں گی۔ اسکول مالکن کو ٹیچر کی ضرورت تھی اس نے مجھے دو ہزار مہینے پر رکھ لیا ان دنوں دو ہزار بھی اچھی رقم ہوتی تھی۔
یہاں لکھ نہیں سکتی کہ اس روز کتنی خوشی ہوئی تھی۔ یہ معمولی تنخواہ بھی مجھے لاکھوں کے برابر تھی کہ باعزت جینے کا سہارا ملا تھا۔ میں خوشی سے پھولی نہیں سماتی تھی، برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔
ایک روز دادی گھر کے باہر ٹھیلے والے سے آلو اور پیاز خرید رہی تھی کہ بدبختی سے افلاک کا ادھر سے گزر ہوا، وہ موٹر سائیکل پر تھا، دادی کو دیکھ کر ٹھہرگیا اور ان کے پیچھے گھر آپہنچا۔ اسے دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے میں نے فریاد کی… تم پھر آگئے… مجھے خوار کرنے… گناہ کی دلدل میں گرانے۔
اور تم… شریفوں کے محلے میں چھپ چھپ کر برائی پھیلا رہی ہو۔ میں تمہیں نہ بخشوں گا آج ہی تمہاری اطلاع کرتا ہوں، جب عمر بھر کے لئے جیل جائوگی تو پتہ چلے گا۔
جتنی میری تنخواہ تھی گزر بسر کے علاوہ مکان کا کرایہ بھی ادا کرنا تھا۔ میں کیونکر اس پولیس والے کو بھتہ دے سکتی تھی۔ وہ دو ہزار ماہانہ کا تقاضا کررہا تھا۔ تنخواہ ساری اسے ادا کردیتی تو پھر کھاتی کیا اور کرایہ کیسے ادا کرتی؟
میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے کہ اب میرا پیچھا چھوڑ دو، میں نے برائی کا رستہ چھوڑ دیا ہے۔ اور شریفانہ زندگی جینا چاہتی ہوں، وہ نہ مانا۔ اس نے کہا کہ میں محلے کے چیئرمین کو کہتا ہوں تمہاری حقیقت بلکہ سب نزدیکی گھروں میں تمہارا راز فاش کروں گا، تبھی یہ لوگ تم کو جوتے مار کر اپنے محلے سے نکال دیں گے۔
دادی بولی… تم ابھی تو اس کو اپنے کچھ زیور دے کر چلتا کرو اپنی جان چھڑائو۔ اس کے جانے کے بعد سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ میں نے زیور نکال کر اس کے حوالے کئے اور کہا کہ زبان بند رکھنا، اب جائو۔ بعد میں آنا۔ میں ہر ماہ تمہاری مطلوبہ رقم کا انتظام کردوں گی، وہ زیور جیب میں ڈال کر چلا گیا۔ تب مجھے کسی کا مقولہ یاد آگیا کہ پولیس والوں سے دوستی اچھی اور نہ دشمنی اچھی۔
اب میں بکائو مال نہ تھی، سو برائی ترک کرکے برائی کے لئے روپیہ کہاں سے لاتی جو افلاک کی نذر کرتی۔ اس نے تو ہر ماہ آکر میرا دروازہ اپنی لاٹھی سے بجانا تھا۔ مگر میں ایک بار برائی کا راستہ ترک کر ہی چکی تھی، تبھی سوچا مجھے اب یہ جگہ بھی چھوڑ دینی چاہئے… اگلے دن میں نے اسباب سمیٹا اور دادی کو لے کر اس شہر کو خیرباد کہہ دیا۔
ملتان سے نزدیک ترین شہر خانیوال تھا جہاں مجھے کوئی نہ جانتا تھا۔ یہاں میں ایک دن لاری اڈے پر سرائے میں رہی۔ جہاں مسافر عورتوں کے لئے انتظار گاہ بنی ہوئی تھی۔ پھر اڈے کے قریب ہی ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
دروازہ ایک نیک صورت عورت نے کھولا۔ میں نے کہا مجھے کام چاہئے۔ شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اور بوڑھی ساس ہمراہ ہے۔ اس نے کہا۔ اندر آجائو… سامنے برآمدے میں ایک باریش آدمی لیٹا ہوا تھا۔ صاحب خانہ خاتون نے اس کی جانب اشارہ کیا کہ… میرا شوہر عرصے سے بیمار ہے اور مکان کے برابر ہماری


دکان ہے جو بند پڑی ہے۔ مجھ کو شوہر کی تیمارداری سے فرصت نہیں ہے اور ہم بے اولاد ہیں۔ ہمارا گزارا اسی دکان پر تھا، اگر تم اس کو سنبھال سکو تو بے شک میرے پاس رہ سکتی ہو۔ سامنے کے دو کمرے خالی پڑے ہیں یہ مکان میرے سسر نے بنوایا تھا جو کافی وسیع ہے لیکن اس میں رہنے والے کم ہیں۔
اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں… میں نے فوراً حامی بھرلی۔ دکان میں بچوں کے کھلونے چوڑیاں اور منیاری کا سامان پڑا تھا، اس نیک بی بی نے جس کا نام آمنہ تھا، کہا کہ اگر کچھ سبزی وغیرہ بھی رکھ لیں تو محلے کی عورتیں ہاتھوں ہاتھ لے جائیں گی۔ مرد تو صبح محنت مزدوری یا کام کاج کے لئے گھروں سے نکل جاتے ہیں، سبزی ترکاری خرید کر لانا گھریلو بیبیوں کے لئے بڑے جوکھم کا کام ہوتا ہے۔
یہ مشورہ بھی بھلا تھا۔ گھریلو سامان کے ساتھ کچھ سبزی اور فروٹ بھی دکان پر ایک طرف رکھ دئیے۔ بوڑھی دادی نے دکان سنبھال لی اور میں پردے کی اوٹ سے حساب کتاب میں ان کی مدد کردیتی تھی۔ اس دکان پر محلے کی عورتیں اور بچے بچیاں ہی سودا لینے آتے تھے۔ مرد کم ہی ادھر کا رخ کرتے تھے۔
مالکن آمنہ بی بی کے بیمار شوہر چھ ماہ اور جیئے ان کو کینسر جیسی موذی بیماری تھی، بالآخر وہ راہی ملک عدم ہوگئے… چھ ماہ اور گزرے تو دادی بیمار پڑگئی۔ بالآخر وہ بھی چل بسی، اب ہم دو رہائشی اس مکان کے باقی رہ گئے۔ ایک مالک مکان آمنہ بی بی اور دوسری میں… جس کا سوائے خالہ فردوس کے اب اس دنیا میں اور کوئی نہ تھا۔
سوتیلے بچوں کی وجہ سے خالہ فردوس بھی اب دب کے رہتی تھیں۔ خاوند کا بڑھاپا تھا اور ان کو کچھ عرصہ قبل ہی پتہ چلا تھا کہ ان کے باپ نے دوسری شادی کر رکھی تھی۔ خالہ مجھ کو سہارا نہ دے سکتی تھیں۔
خالہ آمنہ نے جان لیا تھا میرا کوئی نہیں ہے تسلی دی اور بیٹی بنالیا۔ اب ہم دونوں ایک دوسرے کے سہارے جینے لگیں۔ شوہر کی وفات کے بعد انہوں نے مکان میں آنگن کے بیچ دیوار اٹھا کر اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا اور ایک حصہ کرائے پر اٹھا دیا۔ دکان بھی کرائے پر دے دی، اب ان کو گزر بسر کی فکر سے نجات مل گئی۔ وہ آرام سے بستر پر لیٹی رہتیں اور میں ان کے گھر کا تمام کام نمٹا دیتی۔
میں تو سمجھ رہی تھی کہ ان کو ہر فکر سے نجات مل گئی ہے لیکن ان کو میری عجب فکر تھی کہ ایک روز لیٹے لیٹے کہنے لگیں بیٹی نسترن میں تیری ماں ہوں، میں ہی تیرا بیاہ کروں گی۔ تبھی میں نے ٹھنڈی آہ بھر کر سوچا کہ یہ بے چاری نیک دل عورت اسے کیا معلوم کہ میں نے کتنے بیاہ دیکھ لئے ہیں، اب تو بیاہ کے نام سے ہی خوف آتا تھا مجھے۔
ایک دن کا ذکر ہے کہ اماں آمنہ بیمار پڑ گئیں میں ان کی دوا لینے کو قریبی دواخانے گئی کہ وہاں مجھے افلاک نظر آگیا۔ اسے دیکھ کر میرا حال ایسا ہوگیا کہ جیسے میں نے ملک الموت کو دیکھ لیا ہو۔ وہ ترنت میرے پاس آیا اور بولا توتم یہاں ہو… اس محلے میں برائی پھیلا چکیں تو اب ادھر آگئی ہو… اس خوف سے میں نے دانت بھینچے کہ اردگرد کے لوگ کہیں سن نہ لیں۔ سرگوشی کے اندازمیں بس اتنا کہہ سکی میں نے برائی چھوڑ دی ہے۔ میں وہاں سے جانے لگی تو وہ گھوم کر سامنے آگیا اور بولا… میرا تبادلہ ہوگیا ہے اس شہر میں اور وہ بھی ترقی کے ساتھ… تو اب چل میرے ساتھ۔ ہرگز نہیں میں نے کہا۔ میں نہیں جائوں گی۔
نہیں جائے گی تو جہاں تو رہتی ہے وہاں پولیس آجائے گی۔ تجھ پر یہ الزام تو ہے ہی کہ تو تنگ گلی کی عورت ہوکر شریفوں کے محلے میں رہتی اور برائی پھیلاتی ہے، میں نے اس کی بات سنی ان سنی کردی اور تیز تیز آمنہ بی بی کے گھر کی طرف چل دی، تبھی وہ بھی موٹر سائیکل پر میرے پیچھے آگیا۔
میں گھر میں داخل ہوگئی تو وہ دروازے پر ٹھہر گیا اور لاٹھی سے در کو کھٹکھٹایا… تبھی آمنہ بی بی کا کرایہ دار باہر نکلا اور پولیس والے کو دیکھ کر گویا ہوا۔ افلاک تم ادھر کیا کررہے ہو یہاں دو شریف عورتیں رہتی ہیں۔ تمہارا ان سے کیا کام ہے۔
چاچا جی آپ …وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا۔ آپ یہاں!
ہاں… ابھی کچھ عرصہ قبل میں نے یہ مکان کرائے پر لیا ہے۔ مالک مکان اور اس کی بیٹی برابر میں مقیم ہیں مگر تم کو ان سے کیا کام ہے؟
کچھ نہیں چاچا جی… بس ویسے ہی معلوم کرنا تھا یہاں کس قماش کے لوگ رہتے بستے ہیں۔
بہت شریف اور نیک بیبیاں ہیں دونوں بیوہ ہیں۔ مکان کے کرائے پر گزارا ہے اور کچھ… جی بس شکریہ چاچاجی… ابھی ڈیوٹی پر ہوں پھر آئوں گا۔ خدا حافظ۔ افلاک چلا گیا، میری جان میں جان آئی۔ شام کو میں ساتھ والے پورشن میں گئی اور چاچی سے دریافت کیا کہ پولیس والا کیوں آیا تھا اور کیا پوچھ رہا تھا۔
وہ بولیں… بیٹی وہ پولیس والا ہمارا داماد ہے اور اس کی بیوی تمہارے چاچا کی سگی بھتیجی ہے۔ ڈیوٹی پر تھا بس ویسے ہی مل کر گیا ہے۔
اس دن میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ چاچا کرائے دار کو دن رات دعائیں دیتی تھی کہ جس کی وجہ سے ایک بہت بری بلا سے مجھے نجات ملی تھی۔ آمنہ بی بی کا ایک بھتیجا شجاعت لاہور میں رہتا تھا جو ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھا، ایک روز وہ ان سے ملنے آیا تو آمنہ بی بی نے میرا احوال بتایا کہ یہ بیوہ اور بے سہارا ہے میں نے بیٹی بنایا ہے۔ سوچتی ہوں میرے مرنے کے بعد اس بے چاری کا کیا ہوگا؟
شجاعت کی بیوی وفات پاچکی تھی اور دو بیٹیاں شادی شدہ تھیں، بیٹا کوئی نہ تھا۔ وہ دوبارہ گھر بسانے کی آرزو رکھتا تھا۔ خالہ نے تجویز کیا کہ وہ میرا نکاح اس سے کرا دیں۔
میں افلاک سے اتنی خوفزدہ ہوچکی تھی کہ اب کسی شریف آدمی کی پناہ ہی مجھے اس خوف سے نجات دلواسکتی تھی۔ پس جب خالہ نے عندیہ لیا تو میں نے ہاں کہہ دی، یوں قدرت نے آمنہ بی بی کے آخری سہارے کو دنیا سے اٹھانے سے قبل مجھے شجاعت کے روپ میں سہارا دے دیا۔
شجاعت سے نکاح کے ایک ماہ بعد ہی اللہ تعالٰی نے آمنہ بی بی کو سنبھال لیا۔ وفات سے چند روز قبل انہوں نے اپنا مکان بھی اپنے بھتیجے کے نام کردیا اور وصیت میں آدھا میرے نام لکھوایا۔ کہتے ہیں نیت نیک ہو اور ارادہ پختہ ہوتو اللہ تعالٰی عاصیوں پر بھی رحم فرماتے ہیں، سو میرے رب نے مجھ پر رحمتوں کی بارش اس طرح کردی کہ شجاعت نے مجھے مکمل تحفظ کے ساتھ عزت اور محبت دی۔ ان کی بچیوں نے مجھے ماں کی حیثیت سے قبول کیا اور ان کی محبتوں کے درمیان میری زندگی اور زیادہ آسان ہوگئی۔ (گ۔ن … لاہور)