Thursday, February 22, 2024

Will You Marry Me

کیا آپ مرنا چاہتی ہیں آئی مین خود کشی وغیرہ جیسا کوئی سین ؟ انوار نے اپنے مشہور زمانہ ہیٹ کو سر پر گولائی میں چکر دیتے ہوئے از راہ ہمدردی پوچھنے کا تکلف کر لیا تھا اور اگر وہ آئندہ آنے والے دنوں میں ذرا بھی پیش آنے والے واقعات کا اندازہ کر لیتے تو مر کر بھی اپنی چلبلاتی ہوئی زبان کو زحمت دینا گوارا نہ کرتے، حلیمہ نے سر اٹھا کر غضب ناک آنکھوں سے مقابل کو دیکھا تھا۔ میں کسی کو مارنا چاہتی ہوں ۔ تیور کے ساتھ ساتھ آواز بھی ، انوار جی کی سٹی کم کر گئی تھی۔ میرا مطلب یہ تھا کہ ؟ ساری زندگی انہیں اپنی صفائی پیش کرنا ہی تو نہیں آیا تھا ۔ اب بھی ایسا گھبرائے کہ زبان تالو سے چپک کر رہ گئی تھی۔ زندگی اکثر اوقات انہیں یوں ہی شرمندہ کرنے پہ تلی رہتی تھی فرق بس اتنا سا تھا کہ وہ اس کے عادی نہیں ہو پائے تھے جانے قصور وار کون تھا۔ وہ یا پھر زندگی؟ آنسوؤں کے مٹے مٹے نشانوں کو دوپٹے کے پلو سے پونچھ کر وہ میدان میں آگئی تھیں۔

کیا مطلب تھا آپ کا – آپ کی نظر میں ہر روتا ہوا انسان مرنا چاہتا ہے؟ اور آپ مدر ٹریسا بنے اسے خود کشی کرنے کے ایک سو ایک طریقے کتاب دینے پہنچ جاتے ہیں۔ ہونہہ جہاں کوئی خوب صورت لڑکی دیکھی بس آ گئے رعب جھاڑنے آپ جیسے بڈھوں کو اس کے علاوہ آتا ہی کیا ہے۔ انوار جی کو اس سارے مکالمے میں اگر اعتراض تھا تو صرف دو باتوں پر ، پہلی بات وہ کوئی نوجوان حسین دوشیزہ نہیں تھیں اور دوسری بات کہ وہ بڈھے تو کم از کم نہیں تھے۔ ان کی گریس فل اور چارمنگ پرسنالٹی کا تو زمانہ مداح تھا اور تو اور جب کبھی بھی وہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس نظر آتے تو جوانوں کو بھی مات دیتے ہوئے نظر آتے اور سامنے کھڑی خاتون نما لڑکی نے انہیں بڑی آسانی سے بڈھوں کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔ ہیٹ اتار کر دائیں ہاتھ میں پکڑتے وہ حلیمہ کے سامنے آن کھڑے ہوئے تھے۔ اس دن ڈاکٹر یونس بٹ کی شیطانیاں پڑھتے ہوئے آپ کے قیقے تو ساتوں آسمانوں کو ہلا رہے تھے اور آج بغیر کسی کتاب کے دوپٹے بھگونا کیا معنی رکھتا ہے، انسان ہونے کے ناتے یہ پوچھنا آپ کو تو برا لگ گیا ۔ آئی ایم سوری خوب صورت لڑکی صاحبہ- جتنا وہ انہیں سادہ سمجھ رہی تھیں وہ ایسا حلوہ بھی نہیں تھے۔ یہ ان کی خامی تھی کہ وہ کبھی بھی کسی انسان کو جج نہیں کر سکی تھیں۔ پارک کے درختوں کی چھایا تلے دونوں اکٹھے کھڑے تھے اور دونوں میں ایک چیز مشترک تھی تنہائی، حلیمہ دوپٹہ برابر کرتی اپنی پالتو بلی کو آوازیں دینے لگی تھیں جو باغ جناح کی خود رو جھاڑیوں میں چوہے ڈھونڈنے کے مشن پر روانہ ہوئی تھی اور ہر بار ہی منہ لٹکائے خالی ہاتھ واپس آتی- کیٹی کیٹی، کدھر ہو میری غریب بلی! میری واپس آجاؤ ، آج بھی چوہے تمہیں دیکھ کر بلوں میں جا گھسے ہیں۔ واپس جاتے ہوئے ان کا دوپٹہ ہوا کی چھیڑ سے لہرا رہا تھا اور بغور اسے دیکھتے انوار ہنس دیے تھے اک بے وجہ سی ہنسی!
☆☆☆

دادو اصل زندگی اور پریوں والی زندگی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ ناسٹیلجیا کے عروج پہ حلیمیہ کو پوتی کی آواز حال میں زندہ کر گئی تھی۔ وہ ہمیشہ دقیق سوالوں کے ساتھ حاضری دینے آتی تھی۔ باقی تو یہ زحمت بھی نہیں کرتے تھے۔ زندگی نے سارے رشتوں سے اس ڈھنگ اور پھرتی سے چادر کھینچی تھی کہ پیر اور سر ننگا ہو چکا تھا۔ حلیمہ ابصار کی زندگی خواب ہو چکی تھی اور تنہائی دھمال ڈالتی حقیقت، جب تک ابصار زندہ تھے تو رنگ قہقہے اور خوشیاں تھیں ۔ زندگی شروع کرنے اور اس کے بعد جانے انہوں نے کتنے ہی خواب بنے تھے اور زندگی موت کی تانتوں میں الجھ کر رہ گئی تھی۔ ماضی اب بھی دیواروں پر سینما اسکرین ہو جاتا تھا۔ حلیمی تمہارے ساتھ زندگی بسر کرنا میرا اولین خواب تھا۔ بہت محبت ہے مجھے تم سے وہ اقرار حلیمہ انصار کو اڑن کھٹولے پر بٹھا دیتا تھا۔ رس بھری کھاتے ہوئے وہ خوب ہنستی تھی۔ ناں جی زیادہ فلمی مت ہوا کریں ۔ سب جانتی ہوں میں زیادہ معصومیت دکھانے کی ضرورت نہیں۔ سنا ہے مال روڈ پر کھڑے ہو کر آپ خوب صورت لڑکیوں میں لو لیٹرز تقسیم کیا کرتے تھے ۔ وہ بھی آگے ذہین وفطین تھی۔ وہ دھکتی رگ پکڑتی کہ وہ مرغ بسمل کی طرح پھڑ پھڑانے لگتے تھے۔

دونوں اپنی زندگی میں خوش، مطمئن تھے جیسے زندگی تو سیدھی سڑک ہی تھی کوئی گڑھا نہیں ہموار مگر وہ غلط تھی۔ تین بیٹوں کی پیدائش کی ذمہ داری اکیلی حلیمہ پر آن پڑی تھی۔ ابصار صاحب تو چپ چپاتے دنیا سے اگلے جہان ہوئے تھے۔ زندگی کا سرکس ان کے لیے مشکل ترین تماشے کا اہتمام کر رہا تھا تین بیٹوں کی شادیاں کیں اور تینوں ہی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گم ہو گئے اور وہ اکیلی تنہائی کی فصل سینچ رہی تھیں۔ بیٹے چھت ، کھانا پینا دے رہے تھے مگر وقت؟ یہ نہیں تھا ان کے پاس حلیمہ نے اپنے آپ کو کتابوں کی دنیا میں گم کر لیا تھا اکثر وہ ٹیرس پر ٹہلتی ہوئی سوچتی تھیں۔ شکر ہے کہ یہ دنیا کتابوں سے بھری ہوئی ہے کتابیں پڑھنے والے اور کتابیں لکھنے والے زندہ ہیں۔ وہ دونوں کے زندہ ہونے کی دعا کیا کرتی تھیں۔ فجر پڑھ کر تلاوت کرتیں، پھر ناشتہ دوپہر کو کھانے کی حاجت نہ رہتی تھی کتاب لے کر بیٹھ جاتی تھیں یا ابصار والا ریڈیو آن کر کے کھڑکی میں کھڑی ہو جاتیں سامنے والے گھروں کے ٹیرس پر ہلتی الہڑ لڑکیاں اور ان کے قہقہے تک سے وہ واقف تھیں۔ بیٹے آفس سے تھکے ہارے گھر آتے تو بیویوں کے ساتھ کمروں میں بند ہو جاتے تھے۔ لیکن کبھی کبھار کندھے پر کوٹ لٹکائے ماں کی طرف آ نکلتے۔ کیسی ہیں آپ؟ ٹھیک ہوں بیٹا ۔ جانے کتنے دن ہو جاتے تھے انہیں بیٹوں کو دیکھتے ہوئے ۔ وہ تو گنتی بھول جاتی تھیں۔ شاهین ، نورین کے ساتھ مل کر گپ شپ . کیا کریں۔ تھوڑا دماغ تازہ ہوگا ۔ وہ ہولے سے ہنس دیتی تھیں۔ وہ آج کل کے زمانے کی بہوئیں تھیں جن کے لیے ساس ایک اولڈ فیشن کے سوا کچھ بھی تو نہیں تھی۔ نہیں رحمان ! بس میں اپنے کمرے میں خود کو زیادہ پرسکون محسوس کرتی ہوں ، اولا د کتنی جلدی مطمئن ہو جاتی ہے ناں۔

ڈسٹ الرجی کی وجہ سے استھیما بگڑ جاتا تھا۔ وہ انہیلر چوبیس گھنٹے بیگ میں رکھتی تھیں، کتابوں کے علاوہ حلیمہ اپنے آپ کو ہمیشہ سنوارے رکھتی تھیں۔ وہ بلا کی نفیس اور صفائی پسند تھیں ۔ گریس فل اور چار منگ پرسنالٹی کی مالک تھیں۔ پوتی کے سوال پر وہ کہیں کھو سی گئی تھیں ۔ اصل زندگی میں انسان بار بار ٹوٹتا جڑ تا رہتا۔ ہے اور پریوں والی زندگی میں ایسے کوئی عوامل نہیں ہوتے ہوں گے ۔ وہاں تنہائی نہیں ہوتی ہوگی ، اکیلے چائے نہیں پینا پڑتی ہوگی۔ جب سانس کی رفتار بگڑتی ہوگی تو کوئی انہیلر لیے پاس ہی کھڑا ہوتا ہوگا۔ وہاں شاید ڈاک سے ہرماہ کی پہلی کو ادب اور فکشن کی کتابیں موصول ہوتی ہوں گی – حراشٹل اٹھاتے آگے بڑھ گئی تھی، جانے وہ جواب اس کی سمجھ میں آیا تھا بھی یا نہیں. مگر پھر آنے والے دنوں میں چائے کے وقت وہ ان کے پاس آ موجود ہوتی تھی۔ شوگر پاٹ اس کے قبضے میں ہوتا تھا احتیاط سے کانچ کی پیالی میں چینی گھول کر اسٹیل کے چمچے سے ہلاتی جاتی۔ اب اس نے ایک انہیلر لے لیا تھا جب بھی حلیمہ کے پاس آتی تھی۔ انہیلر اس نے ہاتھ میں تھاما ہوا ہوتا تھا۔ ہر ماہ کی پہلی کو حلیمہ کو ڈاک سے کتابیں بھی موصول ہونے لگی تھیں۔ ٹارزن اور بار بی عمر و عیار اور کان کٹا جن ،شہزادی فیروزہ اور کبڑا جن- اس دن حلیمہ اتنا ہنسی تھیں کہ آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔ کچھ چھوٹی چھوٹی محبتیں آنکھوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں !

باغ جناح میں سیر کے دوران حلیمہ نے انوار صاحب کو اپنی طرف متوجہ دیکھا تھا۔ اس عمر میں انہیں اس بوڑھے کے لچھن ذرا بھی نہ بھائے تھے۔ وہ تلملا کر رہ گئی تھیں ۔ انوار صاحب جامن اور آم کے درختوں کی گنتی کرتے مگن سے نظر آتے تھے۔ ہاتھ میں اٹھائی تھیلی سے دانا اٹھا اٹھا کر باغ جناح کے پرندوں کی کھلے عام دعوت کرتے تھے۔ اب تو شاید پرندے بھی اس دعوت بلکہ شاہی دعوت کے اتنے عادی ہو چلے تھے کہ انوار صاحب کی آمد سے پہلے ہی مقررہ پوائنٹ پر قطاریں باندھے جمع ہو جاتے تھے۔ یہی وہ واحد سرگرمی تھی جس کی وجہ سے حلیمہ آنے والے دنوں میں انوار سے تھوڑی بہت متاثر ہوتی نظر آئی تھیں۔ حلیمہ کی بلی کیٹی ان کے ساتھ ہی سیر کو آتی تھی مگر بے چاری کو بھی بھی اپنی خوراک نہیں ملی تھی۔ ہر بار واپسی پر وہ مونچھوں کو تاؤ دیتی حلیمہ کو ناراضی سے دیکھا کرتی تھی۔ موسمی اثرات کے زیر اثر حلیمہ کو بخار نے آ لیا تھا اور وہ کئی دنوں تک باغ جناح سے غیر حاضر رہی تھیں ان کے فیملی ڈاکٹر نے انہیں گھر پر رہ کر آرام کرنے کو کہا تھا۔ وہ وہ سیلی سیلی سی اک دو پہر تھی جب شرفو نے انہیں کسی مہمان کے آنے کی اطلاع دی تھی ۔ وہ چادر ٹھیک کرتی مہمان خانے میں آئی تھیں ۔ سفید لباس میں سلیقے سے تیار انوار کھڑے تھے۔ آپ ؟” وہ حیران ہوئی تھیں۔ دونوں کے درمیان چائے کی بھاپ سے دیوار کھڑی ہوگئی تھی – وہ جیسے کسی اضطراب کی سی کیفیت میں تھے۔ وہ کبھی کبھی انسان کوئی منظر دیکھنے کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اس منظر میں چھوٹی سی تبدیلی بھی بہت بری طرح محسوس ہوا کرتی ہے۔ مجھے بھی وہ چھوٹی سی تبدیلی بہت شدت سے محسوس ہو رہی ہے باغ جناح اب مجھے آپ کے بغیر ویران اور ادھورا لگتا ہے۔ پلیز آج یہ منظر پورا کرنے ضرور آئیے گا، میں منتظر رہوں گا ۔“

چائے کے دو کپ وہیں گلاس ٹیبل پر پڑے رہ گئے تھے۔ بھاپ کی تنی ہوئی آڑ گرپڑی تھی ۔ گھڑیال پر نظریں گاڑے کیٹی کے بغیر ہی وہ ادھورا منظر مکمل کرنے چلی آئی تھیں۔ بوڑھے چھتنار کے گہرے اندھیرے میں روشنیاں جل اٹھیں تھیں۔ بھیگی گھاس پر وہ ننگے پاؤں کھڑی تھیں۔ بھی دور تک پھیلے لیمپ پوسٹ ملگجا اندھیرا ، ، خوراک کی تھیلی پکڑے سفیدے کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑا وہ ادھر ہی متوجہ کھڑا تھا۔ ” مجھے یقین تھا کہ آپ آئیں گی۔ اور اگر میں نہ آتی ؟” وہ ہولے سے بہنے تھے۔ ”میں تب بھی منتظر رہتا – انتظار کرنے کی عادت ہے آپ کو ؟“ نہیں، شوق ہے مجھے۔“ اکا دکا پرندے دانا چگنے آ پہنچے تھے۔ حلیمہ دلچسپی سے انہیں دیکھنے لگی تھیں۔ کیا کرتے ہیں آپ؟“ ایک کنال کے گھر میں اکیلا رہتا ہوں۔“ لہجے میں ہوک سی تھی ۔ وہ انداز تو آشنا سا تھا ۔ وہ بر لہجہ۔ وہ تنہائی ۔ حلیمہ کو برف باری ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ آپ کی بیوی، بچے؟ بیوی اگلے جہاں چلی گئی تھی ،مجھے اکیلا چھوڑ کر ۔ کینسر تھا اسے بچوں کے معاملے میں اللہ نے ہمیں خالی ہاتھ رکھا۔ وہ لہجہ حلیمہ کو رویا رویا سا لگ تھا، ہینڈ بیگ سے انہوں نے ٹشو کھینچ کر ان کی طرف بڑھایا تھا، سوں سوں کر کے ٹشو سے گیلی آنکھیں پونچھتا وہ شخص حلیمہ کو بچہ ہی تو لگا تھا۔ گھاس کی مہک میں ایک سوچ بکھری تھی۔ بڑھاپے کی طرف گامزن انسان پھر دوبارہ سے بچہ بن جاتا ہے۔ بچوں کی طرح روتا ہے، رونق چاہتا ہے، کوئی ساتھ کوئی تو بولنے والا ہمہ وقت ساتھ ہو، کوئی تو ہو۔ آپ کل آئیں گی ناں ؟ انوار نے ” ٹشو کو سامنے والی جیب میں محفوظ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ شال برابر کرتی سر اثبات میں ہلاتی وہ آگے بڑھ گئی گئی تھیں۔ بوڑھے چھتنار درختوں میں اندھیرا سو رہا تھا اور جگنو انگڑائیاں لیتے ہوئے بیدار ہو رہے تھے۔

آنے والے دنوں میں وہ قریب آتے گئے تھے۔ باغ جناح میں چہل قدمی کرتے، پرندوں کو خوراک کی تھیلی سے اناج نکال کر بکھیرتے ، زندگی ،رشتوں، جذبوں پر بحث کرتے آپ کے تو بیٹے اور بہوئیں آپ کا بہت خیال رکھتے ہوں گے؟ انہوں نے پوچھا تھا۔ وہ وحشت سے پھیکی ہنسی کے ساتھ بولی تھیں ۔ انوار خیال رکھنا کیا ہوتا ہے، نوکروں کے ہاتھ تین پہر کا کھانا بھجوا دیا۔ گاہے بگا ہے گرین ٹی اور چائے بھجوانا – دوائیاں دے کر غائب ہو جانا ، ہاں خیال رکھتے ہیں ۔ شاید وہ اپنی جگہ ٹھیک ہوں ان کی لغت میں ضروریات کی فراہمی ہی خیال ہو۔ کبھی تو میں سوچنے لگتی ہوں کہ ہم بوڑھے ہوتے ہی زیادہ توقعات رکھ لیتے ہیں، ورنہ ہم لوگ تو عرف عام میں بور ہوتے ہیں ناں..دن گزر جاتا ہے مگر رات ؟” باغ جناح کی خودرو گھاس میں آنسو گم ہوا تھا۔ انوار کے ہاتھ سے ٹشو لے کر آنسو پونچھ کر انہوں نے ٹشو اپنے ہینڈ بیگ میں محفوظ کر لیا تھا۔ راتوں کو خوف کے بھوت دیواروں پر ناچتے تالیاں پیٹتے ہیں۔ سر چھپا کر رونے کو تکیے کم پڑ جاتے ہیں۔ حرا کبھی آجاتی ہے مگر تمہیں پتا ہے انوار کہ وہ سائنس کی طالبہ ہے استھما کے بارے میں جانتی ہے۔ جراثیم اڑ کر لپٹ جاتے ہیں، چمٹ جاتے ہیں۔ اور جوان لوگ کوئی بیماری نہیں چاہتے۔ انہیں زندگی جینی ہوتی ہے یہ تو ہم بوڑھے ہوتے ہیں جو عمر کی نقدی ختم کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور بیماری گھر بن جاتے ہیں ۔

درختوں کی شاخیں ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی رہیں۔ انوار صاحب کو وہ پہلی حلیمہ یاد آئی تھی۔ تیوریاں چڑھاتی غصے ہوتی، انسان بھی کتنا گہرا ہوتا ہے، سمندر کے جیسا راز رکھنے والا ! سب ٹھیک ہو جائے گا۔” جیسے تسلی دے رہے ہوں ۔ وہ سر کو ہلا گئی تھیں۔ زندگی سب ٹھیک ہو جائے گا ،کی تسلی ، دلاسے ہی کا تو نام ہے۔ اس سوال کے جواب میں گزر جاتی ہے، یہی کافی ہے۔ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑے انوار تو جیسے گم صم ہو گئے تھے۔ “میرا گھر بہت بڑا ہے حلیمہ مگر خالی ہے۔ یہ میں اکیلا دیواروں سے کیسے باتیں کر سکتا ہوں۔ میرے بہن بھائی دوسرے شہروں میں اپنے بچوں، بیویوں کے ساتھ سکون کی زندگی جی رہے ہیں ۔ میں تو شاید ان کے منظر سے کب کا گم ہو چکا ہوں ۔ کبھی کبھی بھولے سے دو، چار منٹ کی کال ریسیو ہو جاتی ہے اور بس۔“ ول یو میری می ؟ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟ وہ سہہ پہر بادلوں بھری تھی اور ہوا میں خنک سی تھی ۔ باغ جناح کے درخت جھول رہے تھے۔ انوار صاحب نے بغیر کی تمہید کے حلیمہ کو پتھر کے سانچے میں بدل دیا تھا۔ وہ زندگی میں دوبارہ کبھی بھی اس سوال کی توقع نہیں کر سکتی تھیں اور زندگی یہی تو ہوتی ہے۔ زیرک ، چالاک ہماری توقعات سے کہیں آگے کی چیز ٹھٹھے لگاتی ۔ مسکاتی حلیمہ کی آواز گم ہو گئی تھی۔

شش شادی آپ نے یہ کیسے سوچ لیا ؟ وہ گرتی پڑتی چلی آئی تھیں۔ جب کیٹی ایک چوہے کا کامیاب شکار کر کے لوٹی تو اس کی مالکن غائب تھی ۔ وہ میاؤں میاؤں کرتی آخری ہلکی برستی بارش میں اپنی مالکن کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ وہ رات بجلیاں کڑکنے کی رات تھی ، خوف کے بھوت آگئے تھے اور دیواروں پر ان کے سائے لرزاں تھے۔ حلیمہ تکیوں میں سمٹ گئی تھیں ۔ ان کا وجود خوف سے تر ہو گیا تھا، سانس گھٹ گئی تھی ، زندگی جیسے ختم ہونے کو تھی ۔ وہ تو بے بسی کی انتہا پر تھیں۔ کوئی بھی ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ گھٹی گھٹی چیخوں کے ساتھ بیٹوں کے نام لیتی رہیں۔ انہیں یقین تھا ہمیشہ ان کے پاس سوال لے کر آنے والی حرا ضرور ان کی پکار پر واپس آئے گی۔

کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ اگلی صبح انوار آ گئے تھے ۔ سارے بیٹے اوربہوؤں کے سامنے انہوں نے مدعا رکھ دیا تھا۔میں حلیمہ جی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ” بیٹے بپھر گئے تھے۔ خون جوش میں آ گیا تھا۔ لیکن ماڈرن اور لبرل بہوؤں نے آخر کار اپنے شوہروں کو راضی کر لیا تھا ان کے سر سے بوجھ ہٹنے والا تھا۔ ممی کو اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے۔ ڈیڈی کے جانے کے بعد ان کی زندگی ختم نہیں ہوئی۔ انہیں اس عمر میں سہارے کی ضرورت ہے ۔“ حلیمہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا تھا۔ رات یاد آ گئی تھی ۔ اپنی صدا میں یاد آئی تھیں ۔ ۔ سارے اجنبی لگ رہے تھے۔ ان کے لبوں نے جنبش کی تھی۔ انوار وہ ہلکی پکار، دھیمی سرگوشی ہرگز ہرگز بے کار نہیں گئی تھی۔ وہ سرعت سے اٹھ کر حلیمہ کے پاس آ گئے تھے۔ بھورے رنگ کی چادر میں ملبوس وہ حزن وملال کی دیوی انوار صاحب کو دل کے بہت پاس لگی تھیں۔

انوار ! تمہارے گھر کی لائبریری کے شیلفوں میں میری کتا بیں پوری آجائیں گی ناں ؟“ میری کیٹی کے لیے ، ایک چھوٹا سا پیٹ ہاؤس بنا دو گے ناں ؟ انوار روتے ہنستے اثبات میں سر ہلاتے رہے تھے۔ اگلے روز سفید چادر میں ملبوس کیٹی کو تھامے وہ انوار صاحب کے ساتھ اس گھر سے رخصت ہوئی تھیں ۔ کتابوں کے بنڈل انوار صاحب کے ہاتھوں میں تھے بہو، بیٹے اور پوتی گھر کے باہر الودائی ہاتھ لہراتے نم آنکھوں کے ساتھ ان دونوں بوڑھوں کو جاتا دیکھ رہے تھے جو ایک دوسرے کے لیے ضروری تھے –

Latest Posts

Related POSTS