Mazaq Nay Jaan Lay Li | Teen Auratien Teen Kahaniyan

3346
ہم نسبتاً ترقی یافتہ گائوں میں رہا کرتے تھے جہاں ہائی اسکول اور لڑکیوں کا کالج بھی تھا۔ اسکول اور کالج کے علاوہ ہمیں کہیں جانے کی اجازت نہ تھی۔ چچا ہمارے ساتھ رہتے تھے، ان کی بیٹی شگفتہ سے میری گہری دوستی تھی۔ ہم ساتھ کالج جاتی تھیں۔
علاقے میں ہمارا گھرانا عزت دار تھا۔ دونوں بھائی اعلیٰ افسر تھے اور لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ باجی کی شادی بھی لاہور میں ہوگئی۔ شگفتہ کا ایک بھائی تھا جو کالج میں پڑھتا تھا، اس کی بہن سے نہیں بنتی تھی، وہ تنہائی محسوس کرتی، تب ہی اس تنہائی کے احساس نے ہم دونوں کو دوستی کے رشتے میں پرو دیا۔
ان دنوں میں اور شگفتہ فرسٹ ایئر کی طالبات تھیں، ہم دونوں اپنی چھوٹی سی دنیا میں مگن تھیں۔ سال اوّل کے امتحان ختم ہوئے تو چھٹیاں ہوگئیں، فراغت کے دنوں میں ہم باجی کے پاس لاہور جایا کرتے تھے لیکن اس بار وہ ہمارے پاس آ گئیں اور ہمارا بڑے شہر میں جا کر چھٹیاں گزارنے کا خواب دھرا کا دھرا رہ گیا۔ ان ہی بوریت بھرے دنوں میں ہم سے وہ غلطی ہو گئی جس پر آج بھی دل بے سکون ہو جاتا ہے۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے شگفتہ کو جانے کیا سوجھی اس نے ایک نمبر ملا دیا جو کسی لڑکے کا تھا۔ اس نے فون اٹھایا۔ شگفتہ نے بات کی پھر تو ایک مشغلہ اس کے ہاتھ لگ گیا۔ میں سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنی کسی ہم جماعت لڑکی سے بات کر رہی ہے تب ہی کوئی خاص توجہ نہ دی۔
جلد ہی احساس ہوا یہ کسی رانگ نمبر پر بات کرتی ہے کیونکہ کئی بار اس کو رات کو چپکے چپکے فون پر باتیں کرتے سنا۔ ایک رات میں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ قسم دی کہ بتائو کیا ماجرا ہے، کس سے بات کرتی ہو؟ بتانا تو نہ چاہتی تھی مگر میں سر ہو گئی تب بتانا ہی پڑا۔اس وعدے پر گویا ہوئی کہ میں کسی کو یہ راز کبھی نہ بتائوں گی۔ ظاہر ہے میں کیوں بتاتی، کیا میں نے مار کھانی تھی۔
ایک لڑکا ہے، بہت اچھی باتیں کرتا ہے، میرا دل بہل گیا ہے۔ تمہاری بھی اس سے بات کرائوں گی۔ اس کا نام آصف ہے۔ اس کے بعد ہم دونوں پابندی سے آصف کے ساتھ باتیں کرنے لگیں۔
شروع میں وہ مجھے اور شگفتہ کو ایک ہی لڑکی سمجھتا تھا۔ یہ سلسلہ کافی دنوں تک چلتا رہا۔ ایک روز جذباتی ہو کر میں نے اس کو اپنا نمبر بتا دیا۔ بعد میں احساس ہوا کہ کتنی بڑی غلطی کر دی ہے۔ سوچ سوچ کر اپنی اس غلطی پر پریشان رہنے لگی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ شگفتہ بھی پریشان تھی کیونکہ وہ بھی اب ہمیں فون کرتا۔ گھر میں باجی آئی ہوئی تھیں، وہ فون اٹھا سکتی تھیں۔ غرض کسی کو علم ہو جاتا تو طوفان آ جاتا۔ مجھ کو اور شگفتہ کو جس بات کا ڈر تھا، آخر وہ ہو گئی۔
ایک شام کو باجی ٹی وی لائونج میں بیٹھی ہوئی تھیں، اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے ریسیور اٹھا لیا۔ آصف کا فون تھا۔ اس نے شگفتہ سمجھ کر بات کی۔ باجی غصّے میں آپے سے باہر ہو گئیں۔ انہوں نے اس کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کر فون بند کر دیا۔اس کے بعد بھی فون کا سلسلہ نہ تھما۔ باجی چوکنی ہو چکی تھیں، اب جب گھنٹی بجتی وہی ریسیور اٹھا لیتیں، وہ ان کو شگفتہ سمجھ کر بات کرتا کیونکہ باجی کی آواز ہم دونوں سے بہت ملتی تھی۔
باجی کا شک یقین میں بدلنے لگا۔ انہوں نے ہم سے پوچھا اور ہم نے مکرنا چاہا۔ انہوں نے ڈانٹا اور والد سے شکایت کرنے کی دھمکی دی تو ہمیں سچ بتانا ہی پڑا۔ اس کے بعد ہمارے فون اٹھانے پر پابندی لگا دی گئی۔میں اور شگفتہ بہت پریشان تھیں۔ آصف سے کسی طرح ہمارا رابطہ نہ ہو رہا تھا جبکہ وہ مسلسل فون کئے جا رہا تھا۔ ڈر تھا کہیں وہ انتقاماً کسی کو ہمارا نمبر نہ بتا دے۔ ہمارا تعلق قدامت پسند گھرانے سے تھا، ایسی صورت میں ہمارا قتل ہو جانا لازم تھا، اب ہم اس کو کیسے منع کرتیں جبکہ باجی نے فون اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بڑی بہن کا خوف ایسا تھا اگر ریسیور اٹھانے کا موقع مل بھی جاتا تب بھی آصف سے بات نہ کرتی اور ہیلو سن کر فون بند کر دیتی تھی۔ یوں بھی اب معاملے کو آگے بڑھانا ’’آ بیل مجھے مار‘‘ والی بات تھی۔ ہم آصف کے ساتھ سنجیدہ کب تھیں، یہ محض بوریت دور کرنے کا ایک بہانہ تھا۔ معلوم نہ تھا کہ اَن دیکھی بلا پیچھے پڑ جائے گی۔
سچ بات یہ ہے کہ وہ ایک صحیح لڑکا تھا کیونکہ ہم اس سے جھوٹ بولتی تھیں اور وہ ہم سے سچ کہتا تھا۔ جب اس کو علم ہوا کہ شگفتہ اور میں ایک نہیں بلکہ الگ الگ لڑکیاں ہیں تو وہ مجھ میں سنجیدہ ہو گیا۔ تاہم میرے دل میں اس کے لیے کوئی جذبہ نہ تھا۔
کالج کھل گیا۔ ہم پڑھائی میں مصروف ہو گئے۔ اب آصف ہمارے لیے ایک غیر اہم شخصیت ہو گیا، کسی فالتو شے کی طرح۔ باجی کے بچوں کے اسکول بھی کھل گئے تھے، وہ لاہور چلی گئیں۔ ہم کو نصیحتیں کر کے اور فون پر پابندی ختم ہو گئی۔اب ہم ریسیور اٹھا سکتی تھیں لیکن جب بھی اٹھاتیں اور آصف کی آواز آتی تو بات نہ کرتیں اور فون بند کر دیتیں۔ ایک روز جب میں کالج