Saturday, April 13, 2024

Mazboot Qilah

سلطان قزل ارسلان سلجوقی کے پاس ایک زبردست قلعہ تھا۔ جو پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایسے محفوظ مقام پر واقع تھا کہ خواہ کیسا ہی دشمن حملہ کرے اس کو سر نہ کر سکتا تھا۔ اس قلعہ کے اندر پانی کے چشمے جاری تھے اور سرسبز باغ لہلہاتے تھے۔ اس میں مقیم لشکر سال ہا سال تک اپنی ضرورتیں خود پوری کر سکتا تھا اور باہر سے کسی امداد کا محتاج نہ تھا۔ سلطان کو اس قلعہ پر بڑا ناز تھا۔ ایک دن سلطان کے دربار میں لوگ اس قلعہ کی تعریفیں کر رہے تھے کہ ایک صاحب دل وہاں آگیا۔ اس نے لوگوں کی باتیں سنیں تو ہنس کر کہا بادشاہ سلامت! یہ قلعہ مبارک ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ اتنا مضبوط ہے کہ آپ کی حفاظت کر سکے۔ اس قلعہ میں آپ جیسے بہت سے آئے اور چند دن ٹھہر کر رخصت ہو گئے۔ اس قلعہ پر بھروسا کرنے کی بجائے خدا کے کرم پر بھروسہ کیجئے۔ اینٹ اور پتھر کا قلعہ ایک دن فنا ہو جائے گا ہاں اگر کچھ باقی رہ جائے گا تو وہ آپ کا نیک نام ہو گا۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کیجئے۔ اور یاد رکھیے کہ نیک نام ایسا مضبوط قلعہ ہے جو ہمیشہ آپ کے کام آئے گا۔

انسان کے نزدیک دنیا تنکا ہے کہ ہر زمانہ میں دوسرے کی جگہ ہے۔

Latest Posts

Related POSTS