Friday, May 24, 2024

Mazloom Burhiya Nay Dua Di | Teen Auratien Teen Kahaniyan

فضل میرے چچازاد بھائی ہیں، ایک روز وہ ملنے آئے تو بتانے لگے کہ میں چھٹی پر آیا ہوں۔ سعودی عربیہ میں جس پاکستانی اسپتال میں میری تعیناتی ہے اس کے انچارج ڈاکٹر الطاف ہمارے شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وہاں ہیں۔ اب تک وہ آٹھ حج کر چکے ہیں۔ ایک دن میں نے ڈاکٹر الطاف سے سوال کیا کہ انہوں نے سعودی عربیہ آنے کے لیے یقیناً دُعائیں مانگی ہوں گی۔ انہوں نے جواب میں مسکرا کر کہا، میں نے ایسی کوئی دُعا نہیں مانگی، میں ہر حال میں مطمئن رہنے والا آدمی ہوں۔ جو ملا اللہ کی طرف سے ملا، میں عمرے پر جانا چاہتا تھا رقم کم تھی تو رقم کا بندوبست بڑے بھائی نے کر دیا، مگر میری کم نصیبی کہ کچھ اخراجات ایسے آپڑے نہ جا سکا۔ رقم خرچ ہوگئی۔ تب ایک دیہاتی غریب بڑھیا نے میری سفارش کی دُعا کی صورت میں، بس اُس مظلوم کی دُعا قبول ہوگئی اور میں مالامال ہوگیا۔
یہ ایک ٹھٹھرتی رات تھی، میں سول اسپتال فیصل آباد میں ڈیوٹی پر موجود تھا۔ رات بارہ بجے کے بعد ایک مریض ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا۔ یہ ایک دیہاتی نوجوان تھا جسے اس کے سگے بھائی نے چاقو کے مسلسل وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ وار دل کے قریب کئے گئے تھے۔ مسلسل خون بہہ رہا تھا۔
رات کے ایک بجے کے لگ بھگ میں نے اسپتال کالونی میں جا کر سرجن کو جگایا، انہوں نے ہمارے ساتھ مل کر اُس کی سرجری کی۔ دل کے قریب چاقوئوں کے متعدد حملوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کے دل کو محفوظ رکھا تھا۔ اس امر پر سب کو حیرت اور مسرت تھی۔
کامیاب آپریشن کے بعد جب ہم تھیٹر سے نکلے تو دیکھا کہ ایک خستہ حال دیہاتی بوڑھی عورت آپریشن تھیٹر کے باہر بیٹھی تھی۔
ہمیں دیکھ کر اُمید بھرے لہجے میں سوال کیا۔ ڈاکٹر صاحب کیا میرا پُتر بچ ویسی؟
ہاں اماں… اُس کا آپریشن کامیاب ہوا ہے، اتنا کہہ کر ڈاکٹر آگے بڑھ گئے۔ سرجن نے ایک اور ڈاکٹر کے ذمّے مریض کی دیکھ بھال کا فرض سونپا اور میں اسپتال سے گھر آکر اپنے مکان میں سو گیا۔
صبح جب میں اسپتال جانے کو تیار ہو کر گھر سے نکلا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ خستہ حال بوڑھی عورت میرے مکان کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی ہے۔ وہ بوڑھی عورت جس کی عمر ستّر سال سے اُوپر تھی رات بھر یونہی سردی میں ٹھٹھرتی رہی تھی۔ ایک بار دِل خوف کے مارے لرز گیا۔ میرے قدموں کی آہٹ سے وہ چونکی اور پہلی بات جو اُس کے منہ سے نکلی وہ یہ تھی… الطاف ڈاکٹر میرا پُتر بچ ویسی؟ (کیا میرا بیٹا بچ جائے گا)۔
اس کی آواز میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ رقّتِ قلبی کا عالم طاری ہوگیا۔ تسلی دیتے ہوئے کہا۔ اماں جی… آپ کے بیٹے کا آپریشن کامیاب ہوا ہے، فکرمت کرو، اللہ کی رحمت سے وہ بچ جائے گا… تبھی خیال آیا کہ یہ عورت رات بھر بھوکی پیاسی میرے دَر پر پڑی رہی ہے۔ یہ سوچ کر میں نے پوچھا، اماں… کیا ناشتہ کرو گی تو وہ ترنت بولی جی… ڈاکٹر پُتر… کروں گی۔
میں بوڑھی اماں کو گھر کے اندر لے آیا۔ ناشتہ کروایا اور اس کے بعد اس کو ساتھ لے کر اسپتال آ گیا تاکہ اس کے بیٹے سے ملوا دوں، جب میں اس کے ہمراہ متعلقہ وارڈ میں گیا جہاں اُس کا لخت جگر بستر پر پڑا تھا تو اُسے دیکھ کر بوڑھی اماں کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوگئیں۔ اُس نے پکارا۔ اکرام پُتر آنکھ کھول، ماں کی آواز پر نوجوان نے آنکھیں کھول دیں، جیسے اُس کو بھی ممتا کی اس پکار کا انتظار تھا۔ وہ بات نہ کر سکتا تھا، آہستہ سے ہاتھ ہلا کر گویا ماں کو تسلی دی۔ بڑھیا کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اپنے بیٹے کو زندہ پا کر وہ سکون میں آ گئی تھی۔
میں اُس کو وارڈ سے باہر لایا تاکہ اُس کا بیٹا ڈسٹرب نہ ہو، اس وقت اُس کو مکمل سکون کی ضرورت تھی۔ باہر آ کر میں نے اماں سے پوچھا… کوئی مسئلہ ہو تو بتانا۔ وہ بولی، بیٹا کل رات جب میں اپنے زخمی بیٹے کو ہمسائے کے ٹریکٹر میں یہاں تک لائی تھی۔ ہمسائے ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ تب آپ کے ڈسپنسر نے مجھ سے سارے پیسے چھین لیے اور دھمکی دی کہ اگر تم نے اس رقم کے بارے میں کسی کو بتایا تو میں تم پر اور تمہارے دُوسرے بیٹے پر ارادہ قتل کا پرچہ کٹوا دوں گا۔ تم دونوں اور تمہارے گھر والے سب جیل چلے جائیں گے۔ یہ تو دو بھائیوں کا جھگڑا تھا گھر کی عورتوں بچوں کا کیا دوش؟
اس کا بیان سُن کر میرے غصّے کی انتہا نہ رہی۔ اُسی وقت اس سنگدل لالچی ڈسپنسر کو بلوایا اور گریبان سے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا، اُسے تھپڑ مار کر کہا… جو رقم تم نے بڑھیا سے ہتھیائی ہے فوراً نکالو، ورنہ نوکری سے نکلوا دوں گا۔ اس نے جیب سے رقم نکال کر دے دی۔ میں نے رقم گن کر بوڑھی اماں کے حوالے کر دی جو وہ اپنے ہمسایوں سے اُدھار مانگ کر لائی تھی۔ چھینی ہوئی رقم اس کے حوالے کی تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ آلتی پالتی مار کر زمین پر بیٹھ گئی اور جھولی پھیلا کر نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھا دیں۔ اَشک بار آنکھوں اور لرزتے ہاتھوں کو دُعائیہ انداز میں پھیلا کر بولی… ڈاکٹر الطاف… اللہ ساہیں تیکوں ست حج کروائے۔ آمین۔
میں نے اس وقت تو اس کے کہے الفاظ پر غور نہ کیا کیونکہ حیرت کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ سوچ کر کہ کسی غریب مصیبت زدہ کے لیے یہ رقم کسی قارون کے خزانے سے کم نہ تھی۔ غضب ہے کہ اس سفاک شخص نے ایسے کڑے وقت میں بے کس عورت سے رقم چھینی۔
گھر جا کر رات کو میں نے بڑھیا کی دُعا پر غور کیا۔ شاید اس خاتون کو حج پر جانے کی شدید خواہش تھی تبھی اس نے مجھے ایسی دُعا دی تھی۔
یہ اس خاتون کی دُعا کی قبولیت کی گھڑی تھی۔ میں کافی عرصہ سے کوشاں تھا کہ عرب امارات یا کسی بیرون ملک میں مجھ کو کام کرنے کا موقع میسر آ جائے۔ کئی درخواستیں دے چکا تھا لیکن مراد بر نہ آتی تھی۔ اچانک ایک ہفتے بعد مجھے میرے اسپتال سے لیٹر ملا کہ ہم آپ کو سعودی عربیہ تین سال کے لیے بھجوا رہے ہیں۔ پھر یہ عرصہ خودبخود بڑھاتے رہے اور میں نے سات حج کر لیے اور امسال یہ آٹھواں حج کیا ہے… عجب یہ ہے کہ رُوحانی برکات و فیوض کے ساتھ ساتھ مالی فوائد بھی بڑھتے گئے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مالا مال کر دیا۔ اس بار وطن واپسی پر اسپتال جا کر میں نے گزشتہ آٹھ سالہ مریضوں کی فائلیں منگوائیں تاکہ میں اس بوڑھی اماں کے کوائف اور گھر کا پتا تلاش کرسکوں۔ اس خاتون سے رابطہ کر کے اس کا حال جان سکوں۔ مگر مجھ کو اس کے کوائف تلاش کرنے میں ناکامی ہوئی۔
میں ڈاکٹر الطاف کی باتیں دِل کے کانوں سے سن رہی تھی۔ میں نے دُعا کی کہ اللہ میرے بچے جو ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں ان کو کامیابی عطا کرنا۔ ساتھ ہی یہ دُعا بھی کی اے اللہ یہ دُعا کی قبولیت کی گھڑی ہو۔ (مسز اسلم… گوجرانوالہ)

Latest Posts

Related POSTS