Mera Bacha ro Raha hai | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1286
رب العزت کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے، وہ جب چاہے جس کو نواز دے۔ یہ ایسا واقعہ ہے کہ یقین نہیں آتا۔ ایک معجزہ ہی لگتا ہے۔ غزالہ نے میرے ساتھ میٹرک کیا۔ وہ ہونہار اور ذہین طالبہ تھی۔ بردبار اور باوقار شخصیت کی مالک تھی وہ بہت ہردلعزیز لڑکی تھی۔
غزالہ تحریری مقابلوں اور مباحثوں میں حصہ لیتی تھی۔ ہمیشہ اوّل پوزیشن لیتی جس سے ہمارے کالج کا نام روشن ہوتا۔ کالج میں وہ ایک نمایاں طالبہ تھی جس کی وجہ سے مجھے بھی خاص اہمیت حاصل تھی کہ میں اس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔
گریجویشن کے بعد ہم دونوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ بڑی مشکل سے ایم اے کرنے کی اجازت ملی تھی۔ یونیورسٹی اکٹھے جاتے، پہلے وہ ہمارے گھر کم آتی، اب اکثر آنے لگی۔ میری والدہ سے باتیں کرتی رہتی۔ امی جان پر اس کے گن کھلنے لگے۔ ایک روز مجھ سے کہا۔ کیوں نہ ہم غزالہ کا رشتہ خالد کے لیے مانگ لیں؟ میں نے کہا۔ ہاں… امی جان! میں بھی یہی چاہتی ہوں، بہت اچھی لڑکی ہے۔ میری والدہ ان دنوں خالد بھائی کے لیے لڑکی دیکھ رہی تھیں مشکل یہ تھی کہ جو لڑکی ان کو پسند آتی… خالد بھائی اسے رد کردیتے۔ گویا فیصلہ اب خالد بھائی نے کرنا تھا، لیکن وہ اپنی جاب کے سلسلے میں بہت مصروف رہتے تھے۔
انہی دنوں آپی کی شادی ہوئی۔ غزالہ بھی مدعو تھی۔ خالد بھائی نے اسے مہندی والے دن دیکھا۔ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ انہوں نے سوچ لیا کہ اسی کو شریکِ زندگی منتخب کریں گے۔ من ہی من میں وہ غزالہ کو چاہنے لگے، مگر مجھ سے اور امی سے اپنی چاہت کا اظہار نہ کیا۔ ہمارے سالانہ امتحان ہونے والے تھے کہ بھائی کمپنی کی طرف سے ٹریننگ پر بیرون ملک چلے گئے۔
عادل ہمارا کلاس فیلو تھا۔ وہ غزالہ کا رشتے میں کزن تھا اور اتفاق سے ہمارا ڈپارٹمنٹ ایک تھا۔ تبھی ہم لوگ نوٹس وغیرہ کے لیے اس سے مدد لیا کرتے تھے۔
عادل اچھا لڑکا تھا۔ ہم کو اس کے ساتھ لائبریری میں بیٹھ کر نوٹس تیار کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔
ایم اے فائنل کے سالانہ پرچے ہوگئے تو ہمارا یونیورسٹی جانا بھی ختم ہوگیا۔ اب غزالہ سے روز کی ملاقات نہ رہی۔ کبھی کبھار مل پاتے۔ تاہم میرے دل میں اس کو بھابی بنانے کی تمنا موجود تھی۔ ایک دوبار والدہ سے کہا کہ غزالہ کے گھر چلیے تاکہ خالد بھائی کے رشتے کی بات کرلیں مگر وہ نہ گئیں، چونکہ بیٹا بیرونِ وطن تھا اور وہ بغیر خالد کی مرضی کے کسی لڑکی کے گھر رشتہ طلب کرنے جانا نہ چاہتی تھیں۔
وہ دن بھی آگیا جب خالد بھائی ٹریننگ مکمل کرکے وطن لوٹ آئے۔ آتے ہی ماں کی قدم بوسی کی۔ امی نے دعا دی اور میں نے ارزاہِ مذاق کہا۔ بھائی جان…! آپ تو اکیلے آگئے، بھابی کہاں ہیں؟ نِگو… کیا کہہ رہی ہو؟ شادی تو میں اپنی ماں کی پسند سے ہی کروں گا۔ امی نے کئی لڑکیاں بتائیں، آپ کو پسند نہ آئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب آپ پسند بتائیں گے۔ تبھی اماں رشتہ مانگنے جائیں گی۔ انہوں نے کہا۔ ہاں یہ تو ہے۔ بات مذاق میں رہ گئی۔ کچھ دنوں کے بعد بیٹے کے آجانے کی خوشی میں والدہ نے قریبی عزیز و رشتے داروں کی دعوت کی۔ میں نے غزالہ کو بھی مدعوکرلیا۔ کافی عرصے سے ملاقات نہ ہوئی تھی۔ سوچا اس بہانے ملاقات ہوجائے گی۔
اس دعوت میں جب خالد بھائی نے غزالہ کو دیکھا تو آنکھوں میں چمک آگئی۔ میں سمجھ گئی کہ یہ میری سہیلی کو پسند کرتے ہیں۔ امی کو یاد دلایا۔ غزالہ کے گھر رشتے کے لیے جانا ہے۔ خالد سے پوچھ لوں، پھر چلیں گے۔ انہوں نے جواب دیا۔
یہ دعوت امی نے اسی لیے کی تھی کہ سارے خاندان کی لڑکیاں مدعو کرلیں۔ چاہتی تھیں خالد ان میں سے کسی کو پسند کرلے تو بات آگے چلائیں، مگر بھائی نے والدہ سے کہا کہ وہ ان میں سے کسی لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتے بلکہ شادی غیر خاندان میں کریں گے۔
دعوت کے اختتام پر جب سب مہمان چلے گئے۔ میں نے امی کو جتلایا کہ بھائی غزالہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ان کی بات کو سمجھیے۔ اچھا، آج کل میں چلتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ایک بار میں خالد سے پوچھ لوں۔ امی نے خالد سے پوچھا۔ بھائی نے رضامندی دے دی۔ دو روز بعد میں اور امی غزالہ کے گھر رشتہ مانگنے کی نیت سے گئے۔ ہم اس یقین کے ساتھ گئے تھے کہ اس کے والدین انکار نہ کریں گے کہ دونوں گھرانوں میں برسوں سے اچھے تعلقات چلے آرہے تھے اور وہ بالکل ہمارے اپنوں جیسے تھے۔ لیکن آنٹی کا جواب سن کر میں بجھ گئی۔ آپ لوگوں نے بہت دیر کردی۔ اس کی منگنی تو عادل سے ہوگئی ہے۔ ایم اے کا نتیجہ آنے سے پہلے ہی ان لوگوں نے اس کا ہاتھ مانگ لیا تھا۔ اب تو رسم بھی ہوگئی ہے۔
آنٹی کی بات سن کر مجھ کو حیرت ہوئی۔ غزالہ میری بچپن کی دوست تھی۔ ہم کبھی ایک دوسرے سے کوئی بات نہ چھپاتے تھے۔ پھر یہ کیسے ہوگیا، اس نے مجھے اس معاملے کی ذرّہ بھر بھی ہوا لگنے نہ دی، حتیٰ کہ منگنی میں بھی نہ بلایا۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ ہمیں مایوس اور اداس دیکھ کر آنٹی بار بار معذرت خواہانہ انداز میں کہہ رہی تھیں۔ کاش آپ لوگ پہلے خالد کے لیے غزالہ کا رشتہ مانگ لیتے تو میں ہرگز انکار نہ کرتی۔ میں تو ان کے بچپن سے ہی خالد کو داماد بنانے کی آرزومند تھی مگر کبھی ایک بار بھی آپ نے اس بارے میں کوئی تذکرہ نہ کیا۔
امی اور میں پچھتا رہے تھے کہ واقعی قصور ہمارا ہے، پہلے ہی آنٹی کو اشارہ کردیتے تو وہ انتظار کرلیتیں۔ مگر اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت…!
میں نے غزالہ سے شکوہ ضرور کیا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا کہ عادل اور تم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو؟ اس نے قسم کھائی کہ میں نے عادل کو پسند نہیں کیا۔ اس نے مجھے پسند کیا اور والدین کو رشتے کے لیے بھیج دیا۔ والد صاحب نے سوچا کہ شادی تو کرنی ہے لڑکا اچھا ہے، قرابت داری ہے اس لیے منظور کرلیا۔ منگنی بھی اتنی جلدی ہوئی کہ تم کو بتا نہ سکی۔
غزالہ ایسی لڑکی نہ تھی کہ اپنی من مانی کرتی۔ اس کو والدین کی عزت اور بھرم کا پاس تھا۔ ہم لوگ اس روز منہ لٹکا کر گھر پہنچے تو خالد بھائی کو بے چینی سے منتظر پایا۔ ہمارے بجھے ہوئے چہرے دیکھ کر بولے۔ جان گیا ہوں کہ انکار ہوا ہے۔ ہاں بھیا…! تم نے دیر سے بتایا جبکہ غزالہ کی منگنی ہوچکی ہے، اے کاش کچھ دن پہلے بتا دیا ہوتا۔
اس لیے نہ بتایا کہ ٹریننگ مکمل کرنا چاہتا تھا۔ یہ بھی سوچتا تھا تم کیا خیال کرو گی، تمہاری سہیلی تھی تو ایسی بات کہتے حجاب آتا تھا۔ ارادہ تھا کہ ٹریننگ کے بعد ترقی ملتے ہی امی جان کو بتا دوں گا۔ خیر بھائی! بتانے میں بہت دیر کردی۔ میں نے امی سے کئی بار کہا تھا وہ بھی سستی کرجاتی تھیں۔
اس کی بِنا مرضی کے کیسے رشتہ مانگنے چلی جاتی؟ یہ انکار کردیتا تو ہمارے برسوں کے تعلقات خراب ہوجاتے۔ امی نے اپنی صفائی پیش کی۔ سانپ نکل گیا لکیر پیٹنے سے فائدہ… میں نے روہانسی ہوکر کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ آج مجھے غزالہ کو کھو دینے کا شدید دکھ ہوا تھا۔
دو ماہ بعد غزالہ کی شادی عادل سے ہوگئی، شادی میں ہمیں بھی بلایا تھا۔ امی نہ گئیں مگر مجھے جانا تھا۔ وہ میری بیسٹ فرینڈ جو تھی۔
دلہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی اور میں اس کے پہلو سے جڑی بیٹھی تھی۔ کچھ خواتین کمرے میں آئیں، ان میں دولہا کی چچی بھی تھیں۔ انہوں نے بغور مجھے دیکھا اور اپنی بہو بنانے کا ارادہ کرلیا۔ پھر ایک روز یہ خاتون آنٹی کے ساتھ ہمارے گھر آگئیں اور امی جان سے اپنے بیٹے فخر کے لیے میرا رشتہ طلب کیا۔
امی نے والد صاحب سے مشورہ کیا۔ فخر نیک طینت اور اچھے انسان تھے۔ اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ غزالہ کے والدین کے توسط سے رشتہ طے ہوگیا۔ یوں میری شادی فخر سے ہوگئی۔ غزالہ ہمارے گھر کی بہو نہ بن سکی۔ میں عادل کے چچازاد بھائی کی شریکِ حیات ضرور بن گئی۔
غزالہ اور عادل کبھی کبھار اپنے چچا کے گھر لاہور آتے۔ ہم دیرینہ سہیلیاں ملتیں بہت خوشی ہوتی، مگر میرے دل میں اب بھی یہ حسرت… خلش جگاتی تھی کہ کاش غزالہ میری بھابی ہوتی۔
وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ میں چار بچوں کی ماں بن گئی مگر خدا نے عادل اور غزالہ کو اولاد کی خوشی سے محروم رکھا۔ یہ خالق کی مرضی جس کو چاہے جو نعمت دے، تاہم غزالہ کے ساس سسر اس محرومی پر رنجیدہ رہتے تھے۔ وہ بیٹے پر دبائو ڈالتے کہ تم دوسری شادی کرلو، اگر تمہاری بیوی بانجھ ہے تو ہم کبھی پوتے پوتی نہ دیکھ سکیں گے۔ عادل کو بیوی سے محبت تھی۔ اس نے والدین کی یہ آرزو پوری کرنے سے معذرت کرلی۔ اب یہ اللہ کو معلوم کہ کس وجہ سے اولاد نہ ہوئی۔ میاں بیوی نے کبھی کسی کو اس بارے میں نہ بتایا کہ دونوں میں سے نقص کس میں ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلحت…!
یہ چھٹی کا دن تھا اور ہم سیر و تفریح کا پروگرام بنا رہے تھے کہ اچانک غزالہ کے سسر کا فون آگیا۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد آتے ہوئے عادل کی کار کو حادثہ پیش آگیا… دونوں زخمی ہیں اور اسپتال میں ہیں۔ ہم لوگ یہاں سے روانہ ہورہے ہیں۔
ہم نے سیر کا پروگرام ملتوی کردیا اور فوراً اسپتال چلے گئے۔ دونوں بے ہوش تھے اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں تھے چونکہ ایکسیڈنٹ لاہور سے قریب ہوا تھا۔ ہم روزعیادت کو جاتے۔ انکل اور آنٹی کی حالت بری تھی۔ میں اور فخر ان کو تسلی دیتے تھے کہ اللہ نے چاہا دونوں ٹھیک ہوجائیں گے، آپ بس دعاگو رہیے۔
ایک دن بعد عادل کو ہوش آگیا مگر کافی مضروب تھے۔ ٹانگ ٹوٹ گئی اور سینے پر چوٹ آئی تھی۔ جبکہ غزالہ کے سر پر چوٹ لگی تھی وہ ابھی تک بے ہوش تھی، شاید کوما میں چلی گئی تھی۔
حادثے کے ساتویں روز میں خاوند کے ہمراہ اسپتال ڈھیر ساری دعائوں کے ساتھ غزالہ کو دیکھنے گئی۔ وہ بدستور بے ہوش تھی۔ میں نے اپنے تین ماہ کے بیٹے نہال کو سامنے پڑے خالی بیڈ پر لٹا دیا اور نرس سے کہا۔ بے بی کا خیال رکھنا ہم ڈاکٹر صاحب سے مل کر ابھی واپس آرہے ہیں۔ ہم لوگ غزالہ کے بارے میں معلومات چاہتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب سے بات کرنے کے بعد جب کمرے میں واپس آئے تو عجب نظارہ دیکھا۔ غزالہ نے آنکھیں کھول دی تھیں اور وہ نرس کو اشارے سے کہہ رہی تھی کہ بچے کو مجھے دے دو۔ نرس نے نہال کو اٹھا لیا اور اس کے قریب لے گئی تو وہ بولی۔ اس کو میرے اوپر لٹا دو۔ یہ ابھی چپ ہوجائے گا۔ اس وقت نہال رو رہا تھا۔ میں نے نرس سے نہال کو لے لیا اور غزالہ کے اوپر لٹا دیا۔ بولی جانے کب سے میرا منا روئے جارہا تھا، اسے چپ کیسے کرائوں، اٹھ تو سکتی نہیں۔ میں چپ کرا دیتی ہوں۔ اسی لمحے میں نے نہال کو دوبارہ اٹھا لیا۔ میری بانہوں کا لمس پاتے ہی وہ چپ ہوگیا۔ سسٹر اسی وقت بھاگتی ہوئی گئی اور ڈاکٹر کو بلا لائی کیونکہ مریضہ کو ہوش آگیا تھا۔
بعد میں نرس نے ہمیں بتایا کہ جونہی آپ لوگ باہر گئے، بچہ رونے لگا۔ بے بی کے رونے کی آواز کانوں میں پڑی تو مریضہ نے آنکھیں کھول دیں جیسے اس آواز میں کوئی جادو تھا جس نے ان کو نئی زندگی بخش دی اور وہ ہوش میں آگئیں۔
سسٹر میرا بچہ کب سے رو رہا ہے۔ لائو مجھے دو… شاید بھوکا ہے۔ میں اسے دودھ پلا دوں۔ یہ تھے غزالہ کے الفاظ ہوش میں آتے ہی۔
ڈاکٹر نرس کی بات سن کر حیران تھے کہ ہفتے کی کوشش کے بعد وہ مایوس ہوچکے تھے۔ انہیں ڈر تھا شاید مریضہ اب کبھی ہوش میں نہیں آئے گی، لیکن ممتا کی پیاسی روح میں ایک ننھے منے کی آواز نے ارتعاش پیدا کردیا۔ غزالہ کے لاشعور میں اس آواز کے ترنم نے زندگی کی گھنٹیاں بجا دیں اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ یہ ایک معجزہ ہی لگتا ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہا تھا۔
رفتہ رفتہ غزالہ تندرست ہوگئی۔ اسے چھٹی مل گئی اور گھر آگئی لیکن عادل بھائی چھ ماہ بستر پر پڑے رہے۔ ان کی ٹانگ اور ٹخنے کے فریکچر نے ٹھیک ہونے میں کافی دن لیے۔
اللہ نے دونوں کو نئی زندگی دی تھی۔ اس خوشی میں عادل کے والد نے خیرات کی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حیات معمول پر آنے لگی۔ تبھی ایک روز یہ خوشخبری بھی سننے کو مل گئی کہ غزالہ امید سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مدت بعد اس کو اولاد کی خوشی سے نوازا تھا۔
پہلے بچے کی پیدائش پر بہت خوشی منائی گئی۔ سال بعد وہ پھر امید سے ہوگئی۔ اب تو بچوں کی لائن لگ گئی۔
آج اس کے چار بچے ہیں۔ گھر آنگن ان بچوں کی چہکاروں سے گونجتا رہتا ہے۔ سچ ہے اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔ بس انسان کو صبر کرنا چاہیے۔ اولاد نہ بھی ہو تو اس کی رضا کے آگے سرتسلیم خم کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے ہر کام میں مصلحت اور انسان کے لیے بہتری ہوتی ہے۔ والدین کو اللہ نے بچوں کی خوشی دکھائی۔ اس رب کا شکر ہے۔ حادثے کی وجہ سے عادل کی ایک ٹانگ میں لنگ پیدا ہوگیا ہے، وہ اب لنگڑا کر چلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید لنگڑا اسی وجہ سے ہوا ہوں کہ اللہ نے اولاد کی صورت میں بیساکھیاں دینی تھیں۔ یہ بیساکھیاں کتنی پیاری اور قیمتی ہیں یہ کوئی میرے دل سے پوچھے۔ (سمیرا … دھاروکے)