Mera Kaha Maaf Karna | Teen Auratien Teen Kahaniyan

1608
ان دنوں میں غیر شادی شدہ تھی گریجویشن کے بعد تعلیم کا سلسلہ ختم ہوگیا تھا، کوئی دوسرا مشغلہ نہ تھا۔ گھر کے کام کاج میں خود کو مصروف کرلیا جو وقت بچتا رسالے وغیرہ پڑھنے میں گزار دیتی۔ میری کوئی سہیلی نہ تھی، کالج کی سہیلیاں کالج میں رہ گئیں، محلے میں کوئی ایسی لڑکی نہ تھی جس کو دوست بناتی، تبھی ہمارے گھر کوئی لڑکی نہ آتی اورنہ ہی میں کسی کے یہاں جاتی تھی۔ خوشی غمی میں امی جان ہی محلے داری کو نباہتی تھیں۔
ایک دن صحن میں بیٹھی موسم سرما کی کومل دھوپ سے لطف اندوز ہو رہی تھی کہ اچانک ایک لڑکی ہمارے گھر آ گئی۔ اسے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یوں بے دھڑک آتے دیکھا تو حیرت ہوئی۔ یہ کون ہے۔ میں سرتاپا سوالیہ نشان بن چکی تھی۔
میں نیما ہوں پورا نام نعیمہ ہے، آپ بھی نیما کہہ سکتی ہیں۔
کچھ لوگ بڑے بے باک اور نڈر ہوتے ہیں، پہلی ملاقات میں کھل جاتے ہیں، اس کے اندازِ تخاطب میں بھی کمال اپنائیت تھی جیسے مجھے برسوں سے جانتی ہو۔
آئو بیٹھو … میں نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بے تکلفی سے براجمان ہو گئی۔ آپ کے سامنے والا گھر لیا ہے۔ برائے فروخت تھا نا۔
ہاں کافی عرصے سے بکنے کو تھا۔ چلو اچھا ہوا کہ آپ لوگ آگئے۔ کتنے لوگ ہیں۔
ہم کافی لوگ ہیں۔ یعنی امی ابو اور پانچ بہن بھائی…!
واہ، پھر تو خوب رونق رہے گی۔ہماری گلی کب سے سونی پڑی تھی۔ وہ ہنس دی۔ اتنے میں امی آ گئیں۔ میں نے نیما کا تعارف کرایا وہ بھی خوش دلی سے پیش آئیں۔ بولیں نیا پڑوس ہے۔ اچھے پڑوسی ہوں تو جگہ جنت بن جاتی ہے ورنہ جہنم۔
آنٹی فکر مت کریں۔ ہم آ گئے ہیں تو یہ مقام جنت جیسا ہی لگے گا آپ کو… جہنم کو بھول جایئے ہم آزار دینے والے لوگ نہیں ہیں۔
ہاں بیٹی …شکر ہے… نیما کو چائے تو پلائو ساجدہ۔ امی نے مجھ سے کہا۔ نہیں آنٹی جی۔ میں چائے نہیں پیتی۔ تکلف نہ کروبیٹی، میں تکلف کرنے والی نہیں۔ سچ کہتی ہوں، جب سے پیدا ہوئی ہوں آج تک چائے چکھی بھی نہیں ہے۔ امی ابو ہم بچوں کو چائے سے منع کرتے ہیں۔ کہتے ہیں دودھ جتنا مرضی پیو… مگر چائے نہیں۔ ورنہ رنگت کالی ہو جائے گی۔
ٹھیک کہتے ہیں۔ بچوں کو چائے نہیں پینی چاہئے۔ میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ لیکن مجبوری ہے کہ ہمارے یہاں جو دودھ والا،دودھ کے نام پر سفید پانی لاتا ہے۔ اسے پینے کو کس کا دل چاہے گا۔
خاطر داری رہنے دو، آپی جی۔ آج تو ویسے ہی آ گئی پھر آئوں گی تو کچھ کھا پی کر جائوں گی… وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر چلی گئی مگر اپنا خوشگوار تاثر چھوڑ گئی تھی۔
اس نے مجھے آپی کہا تھا، تو صحیح کہا تھا۔
میں اب اٹھائیس سال کی ہو چکی تھی جبکہ وہ ایف اے کی طالبہ تھی۔ بہت جلد ہم میں انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی۔ عمر میں چھوٹی تھی مگر دوستوں کی طرح ملتی تھی۔ یوں تو کافی شوخ و چنچل تھی لیکن سوچ پختہ تھی، تبھی ہماری ذہنی ہم آ ہنگی ہوگئی۔
وہ تقریباً روز ہی آنے لگی۔ بڑی بہن سے اس کی نہ بنتی تھی، بھائی بھی بڑے تھے۔ شاید تنہائی محسوس کرتی تھی، میرے ساتھ وقت گزار کر خوش ہوتی، مجھے بھی اچھی لگنے لگی اور دل اس کے ساتھ لگ گیا۔ نیما خوبصورت نہ تھی مگر اس کی شخصیت دلکش تھی، پراعتماد اور خوش گوار باتونی لڑکی، نقوش تیکھے تھے، مگر رنگت سانولی، اسے خود کو بنانے سنوارنے کا بھی شوق تھا۔ آتے ہی کہتی آج نیا اسٹائل دیکھا…آئو جوڑا بنا کر دکھائوں …پھر بال بنانے لگتی۔
کالج سے آ کر اپنے گھر کھانا کھاتی اور بس تھوڑی دیر ہی آرام کرتی پھر میرے پاس آ جاتی۔ کالج میں کیسے گزرا دن۔ وہ بتاتی تو اس کی باتیں سن کر لطف آتا، میں اپنے طالب علمی کے زمانے کو یاد کرنے لگتی۔ اس کا انداز گفتگو شگفتہ تھا، بوریت دور ہو جاتی تھی۔
نیما کی عمر کی لڑکیوں میں ایک خاص موضوع بہت مقبول ہوتا تھا۔ وہ بھی اکثر کسی نہ کسی لڑکی کی محبت کا قصہ مزے لے لے کر سناتی اور پھر ان لڑکیوں پر ہنستی۔ جو محبت کے چکروں میں خوار ہوتی تھیں۔
یہ لڑکیاں نری احمق ہیں۔ جب پڑھائی سے جی چرانا ہو تو محبت میں مبتلا ہو کر آہیں بھرنے میں قیمتی وقت برباد کر دیتی ہیں۔ نفرت ہے مجھے ایسی لڑکیوں سے۔ یہ ماں باپ کے ساتھ کہاں کا انصاف ہے آپی ؟
ٹھیک کہتی ہو نیما، میں بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتی۔ محبت کا مارا بس ایک قیدی ہوتا ہے۔ اپنی سوچوں کا قیدی، محبت انسان کو بے کار کر دیتی ہے۔ یہ آدمی کو اذیت دیتی ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہوں گے جن کو محبت راحت دیتی ہوگی، پھر بھی یہ احمق جان پر کھیل جاتے ہیں۔
تہیہ کر لیا ہے میں نہ کبھی کسی سے محبت نہ کروں گی۔ میں اس کو چھیڑتی اور وہ روٹھ کر اٹھ جاتی۔ ایک دن کالج سے آئی تو خاموش خاموش تھی اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتی اس نے از خود بتا دیا۔
آپی … آج بہت برا دن تھا، پتا ہے کیا ہوا، ایک لڑکی سونیا جو کچھ دنوں سے میرے ساتھ بیٹھتی تھی۔ میں نے انگلش کے پیریڈ میں اس کی کتاب اٹھائی تو اچانک اس میں سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ گرگیا، میں نے وہ اٹھا کر کھول لیا جانتی ہیں کیا تھا؟
وہ ایک لڑکے کا خط تھا، اسے ستانے کو میں نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے وہ خط پڑھنا شروع کر دیا، ساری کلاس نے خوب قہقہے لگائے اور اس کامذاق بنایا۔ وہ روہانسی ہو رہی تھی کہ ایک بدتمیز لڑکی نے خط میرے ہاتھ سے جھپٹ لیا اور جا کر میڈم کو دے دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ سونیا کی تو پرنسپل کے سامنے پیشی ہو گئی اور بعد میں پتا چلا کہ اسے کالج سے نکال دیا گیا ہے، وہ بہت روئی، تب مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ مجھ سے کیسی خطا سر زد ہو گئی، اس کو میری وجہ سے کالج سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ جاتے ہوئے میرے پاس آئی اور بولی ۔ نیما …خدا کرے تیرے ساتھ بھی ایسا ہو۔ اور تو بھی پورے کالج میں بدنا م ہو۔ اس نے بددعا دی تو میرا دل کانپ گیا۔
سبھی کہتے ہیں کہ دکھے ہوئے دل سے نکلی ہوئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ تبھی پریشان ہوں… کہیں خدانخواستہ اس کی بددعا مجھے لگ جائے تو میرا کیا ہو گا آپی …؟
چھوڑ نیما۔ جو ہونا تھا ہوگیا، تمہارا ارادہ اس کو کالج سے نکلوانے کا تو نہ تھا۔
آپی… وہ لڑکی بہت اچھی تھی۔ اگر اس کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو میرے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، یہ سوچ کر دل کانپ رہا ہے۔
میرے لئے یہ ایسی بات نہ تھی جس کو اپنے ذہن پر سوار کرتی، لیکن نیما کو پریشان دیکھ کر مجھ پہ انجانا سا خوف طاری ہوگیا۔ نیما نے آج کے واقعے کا بہت گہرا اثر لیا تھا۔ وہ کہتی تھی کہ محبت کی قدر کرنے والے اور اس کو زندہ رکھنے والے احمق ترین لوگ ہوتے ہیں۔آج ایک لڑکی کی دل آزاری پر آنسو بہاتے ہوئے خود بھی احمق لگ رہی تھی۔ میرے سنبھالنے پر بھی اس نے اپنا موڈ ٹھیک نہ کیا اور افسردہ سی گھر چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد کافی دیر تک میں سوچتی رہی اور کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی کیونکہ بات مجھ سے متعلق نہ تھی تو میرے لئے اتنی زیادہ اہم بھی نہیں تھی۔
اس بات کو کافی دن گزر گئے، وقت نے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے میرے اور نیما کے ذہن سے اس یاد کے تمام نشان مٹا دیئے، ہم پہلے کی طرح ہنسی مذاق کرنے لگے لیکن تقدیر نے شاید کچھ اور ہی فیصلہ کر لیا تھا۔
کچھ ماہ بعد یوں ہوا کہ یکدم اس نے ہمارے گھر آنا بند کر دیا، جبکہ مجھے نیما کے چٹکلوں کی عادت پڑگئی تھی، روز شام کو اس کا انتظار رہتا تھا، ایک روز ہماری پڑوسن آئی تو بتایا کہ نیما کے گھر کے ساتھ والا مکان جو برائے فروخت تھا وہ بک گیا اور یہ گھر نیما کی پھوپھی نے خریدا ہے۔ نیما اپنی پھپھو کے ساتھ ان کا گھر سیٹ کروانے میں لگی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی پھپھو کے گھر زیادہ جانے لگی۔ وہاں اس کی ہم عمر کزن تھیں، غالباً ان سے دل لگ گیا تھا۔ انہی لڑکیوں سے گھل مل گئی اور مجھے بھلا دیا۔
یہ پہلی بار ہوا تھا کہ وہ آٹھ دن بعد آئی، تھوڑی دیر کے لئے میں نے شکوہ کیا ۔ یہ ہے تمہاری وفا اور دوستی، اپنوں کو پا کر ہم کو بھلا دیا۔
نہیں آپی، اس نے نہایت گرم جوشی سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا، ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ دراصل وہ فیصل آباد سے آئے ہیں نا …تبھی۔ نہیں آپائی… وہ ہمارے مہمان تھے… گھر تو اب سیٹ ہوا، پہلے تو صفائی ستھرائی ہوتی رہی، رنگ و روغن فرش پر پھیلا ہوا تھا، امی جان سب کا کھانا بناتی تھیں اور مجھے بھی مدد کرنی پڑتی تھی، اسی وجہ سے فرصت نہیں مل رہی تھی۔
نیمانے پھر سے باقاعدگی کے ساتھ آنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کے لئے سہی…وہ اپنی پھوپھی زاد کزنوں کی باتیں ہمراہ لاتی۔ ایک روز اپنی پھپھو کو بھی لائی۔ ایک ہی گلی میں گھر تھا اس نسبت سے وہ بھی ہماری پڑوسن ہو گئی تھیں۔ ان کا نام زرینہ تھا ۔
آنٹی زرینہ محبت کرنے والی اور بہت سلجھی ہوئی خاتون تھیں، امی کے ساتھ دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی تھیں، غیرشادی شدہ بیٹیاں کالج میں پڑھتی تھیں اور بیٹا مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا جس کا نام ذوالفقار تھا۔
رفتہ رفتہ آنٹی زرینہ اور امی کی دوستی ہو گئی، اور امی بھی ان کے گھر آنے جانے لگیں۔ وہاں میں نے ان کے بیٹے ذوالفقار کو دیکھا جو خوبصورت اور سنجیدہ سا نوجوان تھا اور گھر والے اس کو زلفی پکارتے تھے۔
نیما کئی بار مجھے اصرار کر کے اپنی پھپھو کے گھر لے گئی۔ تبھی میں نے محسوس کیا کہ اس کا کزن اس کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتا ہے لیکن نیما ان باتوں سے بے نیاز تھی، وہ الہڑ سی لاابالی لڑکی تھی، اس کی نظروں کے مفہوم کو نہ جانتی تھی، میںنے نیما کو سمجھانے کی کوشش کی مگر واضح الفاظ میں نہ کہہ سکی کہ تمہارا کزن تم کو کن نگاہوں سے دیکھتا ہے اور اس کی آنکھیں تم سے کیا سوال کرتی ہیں۔
کچھ عرصے بعد بالآخر زلفی نے نیما سے اظہار محبت کردیا۔ نیما نے اس بات کو نظر انداز کردیا کیونکہ وہ محبت کرنے والوں کو خاطر میں نہ لاتی تھی اور ان کو فضول شمار کرتی تھی۔ اس نے اپنے کزن کی چاہت کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دی۔ کیونکہ وہ خود کو احمقوں میں شمار نہیں کرانا چاہتی تھی۔
اب وہ جب بھی آتی، زلفی کے تذکرے پر ناک بھوں چڑھاتی، میں اس کو سمجھاتی کہ اچھا لڑکا ہے اور تمہاری پھپھو تم کو چاہتی ہیں اگر یہ رشتہ ہو جائے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ کہتی کہ میں محبت کی شادی کا داغ ماتھے پر نہیں لگوانا چاہتی، تبھی زلفی سے بات کرنا بند کر دی ہے۔ آگے جو بڑوں کی مرضی دیکھی جائے گی۔ مگر محبت اف مجھے اس لفظ سے چڑ ہے۔ آپی…
اتنی بھی انتہا پسند مت بنو … میں نے سمجھایا، محبت انسان کی روح کا فطری تقاضا ہے۔ اور کوئی بھی اس جذبے کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ محبت ایک ایسی بند گلی کی مانند ہے جو انسان کے دل میں ہر وقت موجود رہتی ہے، جب کبھی باد صبا کا گزر دل کے دریچوں سے ہوتا ہے تو یہ کلی کھل کر پھول بن جاتی ہے اور اپنی خوشبو سے من آنگن کو مہکا دیتی ہے۔ زلفی نے لاکھ کوشش کی وہ اس سے بات کر لیا کرے مگر ناکامی ہوئی وہ نیما کو رام نہ کرسکا، بلکہ اور پریشان ہو گیا۔
جس روز اس کے کزن نے نیما سے اظہار پسندیدگی کیا تھا وہ سیدھی میرے پاس آئی تھی، جیسے میں اس کی گائیڈ تھی۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی، وجہ پوچھی تو میرے گلے لگ کر رونے لگی۔ اس وقت وہ اپنی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر تھی، اس کو زلفی سے کوئی پرخاش نہ تھی اسے وہ برا نہ لگتا تھا، مگر محبت کے بارے میں اپنی کہی ہوئی باتوں سے خجل ہو رہی تھی۔
اسے یاد آتا جب وہ لڑکیوں کی محبت کے بارے میں باتیں سن کر ہنسا کرتی تھی اورر ان کا مذاق اڑایا کرتی تھی تو خود سے شرمندہ ہو جاتی تھی۔
میں نے پوچھا کیا ہوا نیما… کیا تم کو محبت کا بخار ہوا ہے… اس نے میری اس بات سے اہانت محسوس کی اور رونے لگی۔ میں اسے روتا دیکھ کر پریشان ہو گئی۔
اس کی رنگت اڑی ہوئی تھی، جیسے اس نے کزن کی محبت کو دل سے مان لیا ہو مگر اب کسی کے سامنے ہار ماننے پر تیار نہ ہو۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اس کے ہاتھ ٹھنڈے یخ ہو رہے تھے اور سارا وجود خزاں زدہ پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ میں سمجھ گئی کہ کوئی انہونی اس کے دل پر بیت گئی ہے۔ نیما کو ٹھنڈا پانی لا کر دیا اور پیار سے پوچھا، کس بات کا اتنا اثر لے لیا ہے۔ مجھے کچھ بتائو … تب وہ بولی، کہ زلفی نے کہا ہے، وہ اس سے محبت کرتا ہے اگر وہ بھی اقرار کر لے تو اپنی ماں کو رشتے کے لئے کہے گا ورنہ نہیں۔
میں بے اختیار ہنس دی، ارے بے وقوف لڑکی تو اس میں ایسی کون سی انوکھی بات ہے جو تم اس قدر گھبرا رہی ہو۔ تم تو بڑی بہادر بنتی تھیں، ذرا سی بات پر ہاتھ پائوں پھول گئے۔ سیدھی سی بات ہے اگر وہ تم کو اچھا لگتا ہے تو اسکو ’’ہاں‘‘ کہہ دو اور اگر اچھا نہیں لگتا تو سختی سے منع کردو کہ تم اس کو پسند نہیں کرتیں، لہٰذا شادی کا نہ سوچو وہ پھر بھی نہ سمجھے تو دیکھ لیں گے۔
نیما نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر بغیر کچھ بولے چلی گئی۔ چند دن نہ ملی، میں اس کے گھر گئی تو آنٹی نے بتایا کہ اس کی طبیعت خراب ہے، میں اس کے کمرے میں پہنچی تو دیکھا بستر پر پڑی ہے۔ مجھ کو دیکھ کر اٹھ بیٹھی۔ لگا جیسے کسی بڑی کشمکش کا شکار ہے۔
کیا ہوا ہے تمہیں بھئی، میں نے اپنائیت سے ڈانٹا، آپا… ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائی، اسے ہاں کہوں نہ کہوں، زلفی نے یہ خط لکھا ہے اور کل تک جواب مانگا ہے۔
میں نے خط پڑھا … زلفی نے لکھا تھا۔ مجھ کو پسند نہیں کرتیں تو بتا دو میں کبھی تم سے رشتے کے بارے میں نہ سوچوں گا۔ چاہے جان چلی جائے۔ نیما نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا جیسے پوچھتی ہو… ہاں کہوں، یا نہ، کہہ دوں، صاف ظاہر تھا وہ زلفی کا دل نہ توڑنا چاہتی تھی اور اپنے کہے ہوئے دعوئوں کو روند ڈالنے سے بھی ہچکچا رہی تھی۔
میں خاموش ہو گئی، یہ ان کا خاندانی مسئلہ تھا اور اس کے دل کا معاملہ تھا۔ اگلے دن وہ روتی ہوئی آئی اور بتایاکہ اس کے ساتھ آج کالج میں بہت بری بیتی ہے۔
کیا ہوا ہے… ؟میں نے سوال کیا، کچھ بتائو گی تو پتا چلے گا نا۔
میں نے زلفی کے خط کا جواب لکھ کر اپنی بک میں رکھ دیا تھا۔ بھولے سے وہی بک میڈم کو دے دی۔ انہوں نے خط پرنسپل کودے دیا، پھر میرے ساتھ بھی وہی بیتی جو میری ہم نشست سونیا پر بیتی تھی۔پرنسپل نے مجھے آفس میں بلا لیا اب میں کل سے کالج نہیں جائوں گی۔ اب احساس ہوا ہے کہ کسی کی بددعا کتنا بڑا عذاب ہے۔ میں نے گھر میں اس واقعہ کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا بس یہی کہا ہے کہ مجھے اب اور نہیں پڑھنا۔
سنا تھا کہ کوئی وقت قبولیت کا ہوتا ہے، اندازہ نہ تھا سونیا کی بددعا پوری ہو جائے گی۔ اسے تسلی دینے کے سوا کیا کر سکتی تھی۔
دوسرے دن وہ آئی، میں نے زلفی کے بارے میں بات چھیڑ دی، بولی جس کام کی ابتدا میں ہی اتنی ذلت اور رسوائی ہو جائے تو اس کو آگے بڑھانے کو جی نہیں چاہتا۔
اسی روز رات کے پچھلے پہر محلے میں شور سنا، چھت سے جھانکا ایمبو لینس آئی ہوئی تھی، اور آنٹی زرینہ کے گھر سے کسی کو لے کر جا رہے تھے۔ صبح دس گیارہ بجے کے قریب اطلاع مل گئی کہ زلفی نے خودکشی کی کوشش کی ہے رات اسی کو اسپتال لے جا رہے تھے۔
ہم سب سکتے میں تھے، امی ان کے گھر گئیں، اسپتال سے فون آیا کہ خدا کا شکر ہے کہ زلفی کی جان بچ گئی ورنہ ماں باپ جیتے جی مر جاتے۔ اسی وقت نیما بھی آ گئی، بہت پریشان تھی، رات بھر جاگتے رہنے سے اس کی آنکھیں سرخ تھیں جب پتا چلا کہ زلفی کی حالت خطرے سے باہر ہے، اس کی سانس میں سانس آئی۔
زلفی ٹھیک تھا مگر ابھی تک اسپتال میں تھا، تب وہ ہمارے گھر آئی۔ بولی، آپی میں تو سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ وہ جان پر کھیل جائے گا،میں نے تو بس ویسے ہی ’’نہ‘‘ کہہ دیا تھا۔ اس نے ضد کی کہ مجھے اسپتال لے چلو امی سے نہیں کہہ سکتی، جانے وہ کیا سوچیں گی۔ ابو بھی کچھ ایسا ویسا محسوس نہ کریں اس کی پریشانی دیکھ کر میں اور امی زلفی کو پوچھنے اسپتال گئے تو اس کو ساتھ لے گئے۔ زلفی کو ٹھیک دیکھ کر نیما جی اٹھی، اور زلفی نے بھی اس کو دیکھا تو بستر علالت پر چہرہ گلابی ہوگیا جیسے نئی زندگی مل گئی ہو۔
اس کہانی کولکھنے کا یہ مقصد نہیں کہ اگر محبوب یا محبوبہ ’’نہ ‘‘ کہہ دے تو ضرور خود کشی کا ہتھیار استعمال کیا جائے۔ لیکن یہ مقصد ضرور ہے کہ بات منہ سے نکالتے وقت پہلے سوچ لینا چاہئے ایسا نہ ہو آج کوئی بات شدو مد سے کی جائے اور کل اپنے ہی کئے ہوئے دعوے کو جھٹلانا پڑ جائے۔
نیما کے ہاں کہنے پر پھپھو نے رشتہ مانگا تو نیما کے والدین نے بسم اللہ کہہ کر ہاں کر دی وہ تو پہلے ہی زلفی کو اپنا داماد بنانے کی سوچوں میں تھے، ان کا کہنا تھا کہ اتنا اچھا اور قابل لڑکا نیما کے لئے اور کون مل سکتا ہے۔
آج نیما ذوالفقار کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے جب بھی ملتی ہے مسکرا کر کہتی ہے آپی واقعی محبت بڑی چیز ہے ۔
(س۔ ڈیرہ غازی خان)