Tuesday, July 14, 2020
Home Urdu Short Stories Mera Naam o Nishan Mile | Episode 1

Mera Naam o Nishan Mile | Episode 1

پورے گھر میں صف ماتم بچھا تھا. بھانت بھانت کی آوازیں.. لوگ رو رہے تھے. افسوس بھرے جملوں کا تبادلہ ہو رہا تھا.
بہت سی عورتیں اسکے ساتھ لپٹ کر رو رہی تھیں. مگر وہ یک ٹک باپ کے چہرے سے نظر نہیں ہٹا پا رہی تھی. اسکے بازوؤں کے ایک گھیرے میں یمنی اور دوسرے گھیرے میں مصطفی تھا.
وہ ایک ہی دن میں اپنی ماں اور بہن بھائ کے لئے چھاؤن بن گئ تھی. اسکی سوچ اپنے ساتھ قسمت کے ہونے والے ستم سے بڑھ کر اب اپنی فیملی کی کفالت پر ٹک گئ تھی.
آنسو.. ماتم وہ سب بھول گئ تھی. بے یقینی کی کیفیت تھی. کل تک تو بابا بالکل ٹھیک تھے.. اور صبح فجر کی نماز کے دوران ہی ایسا ہارٹ اٹیک ہوا. کہ پہلی بار میں ہی وہ انکی جان لے گیا. اور ان سب کو تپتی دھوپ میں لا کھڑا کیا.
باپ کا جنازہ اٹھتے ہی وہ لوگ جو بلک بلک کر انکے غم میں شریک ہونے کے دعوے دار تھے. اب بریانی کی بوٹیوں اور چاولوں سے انصاف کر رہے تھے.
زندگی کی حقیقت بس اتنی ہی ہے. انسان کے مرتے ہی سب اپنی اپنی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں سوائے ان کے جن کا سب سے قریبی رشتہ ان سے جدا ہو جاتا ہے. اور آج ولیہ, یمنہ, مصطفی اور سائرہ کے علاوہ اس دکھ سے کسی کا تعلق اتنا گہرا نہیں تھا.
………………..
صداقت اور سائرہ کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا. صداقت بینک میں کلرک کی نوکری کرتا تھا. دونوں کے تین بچے تھے. ولیہ بڑی تھی. اسکے بعد یمنہ اور مصطفی سب سے چھوٹا تھا. ولیہ نے حال ہی میں پرائیوٹ گریجویشن کیا تھا. یمنہ ابھی ایف اے کے فرسٹ ائیر میں تھی جبکہ مصطفی نویں جماعت میں تھا. تینوں میں دو دو سال کا فرق تھا. بڑی مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی. پھر بھی دونوں نے کوشش کرکے اپنے بچوں کو جیسے تیسے پڑھانے کا بیڑا سر لے لیا تھا. ولیہ بی اے کے بعد چھوٹی موٹی نوکری ڈھونڈ رہی تھی. مگر آجکل ملک کے جو حالات ہیں اس میں ایم اے اور ایم فل پاس جوتیاں چٹخا رہے ہیں. اسکے بی اے کو کس نے پوچھنا تھا. ابھی وہ اس تگ و دو میں تھی کہ صداقت کی اچانک طبیعت خراب ہوئ. تین دن ہاسپٹل میں رہنے کے بعد چوتھے دن وہ زندگی کی بازی ہار گیا. سر میں درد طبیعت کی خرابی کا باعث بنی. ہاسپٹل لے جانے پہ پتہ چلا اسے ٹیومر ہے. ابھی وہ لوگ اسی کشمکش میں تھیں کہ اسکے علاج کے لئے پیسے کہاں سے لائے جائیں کہ زندگی نے اسے علاج کی مہلت ہی نہ دی. اپنے پیچھے تین بچوں اور بیوی کو لاوارث چھوڑ کے چلا گیا. رشتے داروں نے غربت کی وجہ سے بہت پہلے ان سے ملنا جلنا چھوڑ رکھا تھا. ہاں مگر اللہ نے محلے دار رشتے داروں سے بڑھ کر اچھے دئیے تھے. اب بھی انہوں نے ان چاروں پر چھاؤں کر رکھی تھی. وہ سب تو غم میں نڈھال تھے ادھر ادھر والے ہی مہمانوں اور کفن دفن کا انتظام کر رہے تھے.
……………….
“اماں آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں یہ سب بے حد ضروری ہے” ولیہ نے بے بس نظروں سے ماں کو دیکھا. صداقت کی وفات کو بیس دن گزر چکے تھے. اسکے بینک والوں نے تھوڑے بہت روپے انہیں دے دئیے تھے مگر وہ مکمل طور پر ان چاروں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر چکے تھے. دو لاکھ انکے کتنے دن کام آ سکتے تھے.
ولیہ اس وقت ماں کے پاس بیٹھی کپڑے سلائ کرنے کی اجازت مانگ رہی تھی.
سائرہ بھی کپڑے سلائ کرتی تھی. بچیوں کو اس نے سکھایا بھی تھا مگر اپنے ساتھ اس کام کو کرنے نہیں دیا تھا.
“تو کوئ نوکری ڈھونڈ ولیہ. میں نے تم لوگوں کو اس لئے تو نہیں پڑھایا لکھایا تھا کہ میری طرح اپنی کمر جھکا لو اور آنکھوں کو اس کام کے پیچھے لگ کر خراب کر لو” سائرہ نے مایوسی سے کہا.
” اماں آپکے سامنے میں نے کتنی جگہوں پہ اپلائ کیا ہے. مگر بے روزگاری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مجھے کہاں سے نوکری ملے گی. اور جو آس پڑوس کے سکولوں میں ملتی ہے تو وہ چھ سات ہزار سے آگے دینے کی بات نہیں کرتے. اماں اس مہنگائ میں چھ سات ہزار سے ہم کیسے گزارا کریں گے” وہ ہر ممکن طور پہ ماں کو قائل کرنا چاہ رہی تھی.
سائرہ جانتی تھیں وہ غلط نہیں کہہ رہی.
“پھر میرے پاس ایک اور آپشن ہے” اس نے پراوچ انداز میں ماں کو دیکھتے ہوئے کہا.
” کیا”؟ سائرہ متجسس ہوئیں.
“مین سڑک پر میں ایک چھوٹا سا ہوٹل یا کھانے پینے کی دکان کھول لوں. بہت سے لوگ آتے جاتے ہیں. مزدور طبقہ ہوتا ہے. ہماری دکان چل جآئے گی. اور آپ ہی تو کہتی ہیں کہ میرے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے. تو کیوں نہ اسے بروئے کار لاؤں” اسکی بات پر سائرہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہیں.
” دماغ خراب ہے تیرا…” وہ صدمے سے چیخ کر رہ گئیں.
” تو کیا کروں پھر.. فاقے کریں. بھوک سے مریں.. بھیک مانگیں. کیا کریں پھر ہم اماں.. بتاؤ” وہ بے بسی سے رو دی.
“ابھی ہاتھ میں وہ پیسے ہیں جو ابا کے بینک والوں نے دئیے ہیں. ہم دکان کرائے پہ لے سکتے ہیں. جب یہ بھی ختم ہوگئے تو اماں سوچو کیا کریں گے” سائرہ بے بسی سے آنسو بھری آنکھوں کو میچ کر رہ گئیں. دوپٹہ منہ پہ رلھ کر بمشکل سسکیاں روکیں.
ولیہ ماں کے پاس چارپائ پر بیٹھ گئ. مصطفی اور یمنہ بھی ماں سے لپٹ گئے.
“اماں میں نے آج دلاور سے بات کی تھی. وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اور اسکے دو تین اور دوست میری مدد کو تیار ہیں. میں صرف دکان کے ایک مخصوص حصے میں پکاؤں گی. لوگوں کو کھانا دینا یہ سب وہ سنبھالیں گے. اور ابھی انہوں نے تنخواہ لینے سے بھی منع کر دیا ہے. کہہ رہا تھا باجی ایک مہینے بعد سوچیں گے. ابھی کام شروع کرو.” وہ ساتھ والے رفیق چاچا کے بیٹے کے بارے میں ماں کو بتانے لگی. رفیق چاچا حقیقت میں چچا سے بڑھ کر تھے. کہنے کو غیر مگر اپنوں سے بڑھ کر انہوں نے ان لوگوں کا ہمیشہ ساتھ دیا تھا.دلاور کو کچھ عرصہ ولیہ نے پڑھایا بھی تھا. اسی لئے بھی وہ اسکی بہت عزت کرتا تھا.
یہی حال اسکے دوستوں کا تھا. وہ سب ولیہ کی مدد کو تیار کھڑے تھے.
” اماں آج تو یہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں. کل کو یہ بھی اجنبی بن گئے تو ہم کیا کریں گے. مجھے شروع کرنے دو. اگر میری یا آپکی عزت پہ آنچ آنے کا خطرہ ہوا تو یقین کرو میں وہیں سب چھوڑ دوں گی” وہ ماں کو بازو کے گھیرے میں لئے تسلیاں دینے لگی. اور وہ سب کر بھی کیا سکتے تھے. یہ کڑوا گھونٹ تو انہیں پینا ہی تھا.
سائرہ کو مانتے ہی بنی.
…………..
آفس کا دروازہ عجلت میں کھول کے وہ اندر داخل ہوا. پیچھے پیچھے ریاض فائل تھامے اتنی ہی تیزی میں آیا.
دارم نے ٹیبل کے اس طرف اپنی ریوالوننگ چئیر سنبھالی اور ایک ہاتھ سے ریاض کو ٹیبل کے اس جانب موجود چئیر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.
“آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں رپورٹ کی کہ پاشا بلڈرز نے ہماری آفر ریجیکٹ کر دی ہے” چوڑے شفاف ماتھے پہ بل واضح تھے. ستواں ناک پہ غصے کے باعث ہلکی سی سرخی در آئ تھی.
“سر وہ.. میں نے سوچا ہم خود معاملہ ہینڈل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. اب آپ کو کیا دور بیٹھے پریشان کریں” ریاض نے سچائ سے اپنا دفاع کیا. جانتا تھا دارم کو جھوٹ سے شدید نفرت ہے.
“ریاض صاحب میں شارجہ گیا تھا.. دنیا سے نہیں چلا گیا تھا. اور کیا آپ کو میں نے یہ اتھارٹی دے رکھی ہے کہ کسی ڈیلر سے بات نہ بننے پر آپ میرے علم میں لائے بغیر اپنی مرضی سے کوششیں کرتے پھریں” وہ ریاض پہ برس اٹھا. کروڑوں کا پراجیکٹ تھا جو اسکے ورکرز تباہ کرنے پہ تلے تھے.
“میری اسی ہفتے میں ان سے میٹنگ ارینج کریں” وہ بمشکل غصہ ضبط کرکے بولا.
“جی جی سر” ریاض جانے لگا. پھر کچھ سوچ کر رکا.
“سر وہ ایک اور بات بھی بتانی تھی” اب کی بار وہ ڈرا ڈرا بولا.
” جی بتائیں” دارم اپنے سامنے لیپ ٹاپ کھول چکا تھا. ایک ہاتھ سے کوٹ کا بٹن کھول کر کوٹ اتار کر کرسی کے پیچھے رکھا.
“سر وہ کک یہ نوکری چھوڑنا چاہ رہا ہے. اسکے گاؤں میں کچھ مسئلہ ہے وہ کہہ رہا تھا میں اب یہاں نوکری جاری نہیں رکھ سکتا” ریاض کی بات پر ایک ترچھی نظر اس نے لمحہ بھر کو اس پہ ڈالی.
” بھیجیں اسے میرے پاس” نظر ہٹا کر لیپ ٹاپ پہ جماتے حکم صادر کیا.
“جی جی سر. ابھی بھیجتا ہوں” ریاض جلدی سے اسکے آفس سے بھاگنے کے سے انداز میں نکلا.
……………..
سائرہ سے اجازت ملتے ہی ولیہ نے دلاور اور رفیق چاچا کو گھر پہ بلایا. سائرہ عدت کی وجہ سے انکے سامنے نہیں آ سکتیں تھیں. لہذا انکے گھر آتے ہی وہ دوسرے کمرے میں چلی گئیں. جبکہ ولیہ., یمنہ اور مصطفی صحن میں ہی کرسیوں پہ دلاور اور رفیق کے سامنے بیٹھے تھے.
“چاچا آپ نے ڈیلر سے دکان کرائے پہ لینے کی بات کی؟” انہیں شربت ک گلاس تھماتے ولیہ نے استفسار کیا.
“ہاں بیٹا بات ہوگئ ہے. بس دو چار دن میں وہ دکان کی چابی ہمارے حوالے کر دیں گے پندرہ ہزار ماہانہ پہ دکان دینے پہ مان گئے ہیں. بل کے پیسے الگ ہوں گے. ” رفیق نے تفصیل سے بتایا.
“آپا میں نے دوست سے بات کر لی ہے. وہ سیکنڈ ہینڈ دکان سے ہمیں سب فرنیچر لا دے گا. کرسیاں اور میز میں نے ایک طرح کے اٹھوا لئے ہیں. اسکے ساتھ ہی برتنوں کا انتظام ایک اور دوست نے کر دیا ہے. اور ابھی انہوں نے پیسے لینے سے انکار کیا ہے. کہہ رہے تھے ایک دو ماہ میں آہستہ آہستہ پیسے ادا کر دینا.ایک بات کام چل پڑے تو پھر کوئ ٹینشن نہیں. میں نے سب کے پیسوں کا حساب اس ڈائری میں لکھ لیا ہے. تم یہ اپنے پاس رکھ لو. ایک کاپی اسکی میرے پاس ہوگی ایک تمہارے پاس تاکہ حساب کتاب ادھر ادھر نہ ہو” دلاور نے ایک ڈائری اسکی جانب بڑھائ جو وہ آتے ہوئے لے آیا تھا. ولیہ اسکی اس ذمہ دار بھائ کی طرح ہر ہر موڑ پہ اسکا ساتھ دے رہا تھا.
ولیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں.سائرہ کا بھی اندر بیٹھے یہی حال تھا. اللہ ایک دروازہ بند کرتا ہے تو سو دروازے کھول دیتا ہے.
“میں آپ دونوں کا شکریہ کس منہ سے ادا کروں” نم لہجے اور تشکر بھری نظروں سے وہ انہیں دیکھ رہی تھی.
“لے… جھلی نہ ہو تو.. باپ اور بھائ کو بھی کوئ شکریہ کہتا ہے. میرے اتنے حالات نہیں ورنہ میں کبھی تمہیں یہ سب نہ کرنے دیتا” رفیق اپنی جگہ سے اٹھ کر ولیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا.
” آپا آج تو یہ کہہ دیا ہے آئندہ نہ کہنا” دلاور بھی مان بھری ناراضگی سے بولا.
“بس تم مینو لکھو اور مجھے چیزیں بتاؤ جو ہم بنائیں گے” وہ اسکے لئے ایک اور کام نکال چکا تھا.
“میرا خیال ہے آغاز بریانی, پکوڑوں اور سموسوں سے کرتے ہیں. ایک بار یہ چل پڑے تو پھر اور چیزوں کا اضافہ کرلیں گے؟” اپنا خیال ظاہر کرتے اس نے رفیق اور دلاور سے پوچھا.
” بالکل صحیح ہے.. ابھی قریب کے لوگ آنا شروع کریں تو پھر ہم پمفلٹ بنوا کر گھروں میں تقسیم کرنا شروع کریں گے. ریٹ میں تمہیں بتا دوں گا کہ کس چیز کا کتنا رکھنا ہے” دلاور اور رفیق نے اسکی بات کی تائید کی. .
“ٹھیک ہے کل صبح مجھ سے سامان کی لسٹ لے جانا. کچھ چیزیں میں رات میں بنا لیا کروں گی اور کچھ وہیں مکس کرلوں گی”
“ہاں ٹھیک ہے” دلاور اور رفیق کچھ دیر مزید بیٹھ کر اسکی دکان کو ہی ڈسکس کرتے رہے پھر واپسی کے لئے اٹھ گئے. .انکے جاتے ہی سائرہ باہر آئیں.
“اللہ تمہیں کامیاب کرے میری بچی” ولیہ کو ساتھ لگاتے انکے آنسو چھلک گئے.